Wednesday, May 1, 2019

itni mohbbat karo na (season 2) episode 31

 itni mohbat karo na 2
By zeenia sharjeel
Epi # 31


ولیمے کی تقریب اپنے عروج پر تھی فوٹو شوٹ کے لیے کیمرہ مین معاویہ اور حیا کے ساتھ ڈریسنگ روم میں موجود تھا جو کہ فل رومینٹک پوز بنواکر ان دونوں کی تصویریں لے رہا تھا،، جس پر معاویہ تو فل انجوائے کر رہا تھا اور کیمرہ مین کی ہر بات جتنی تابعداری سے مان رہا تھا اتنی تعبیداری سے زندگی میں شاید ہی پہلے کسی اور کی بات مانی ہو،،، اس کے برعکس حیا صرف گھور کر کھا جانے والی نظروں سے معاویہ کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔ وہ فوٹو شوٹ کے لیے تیار بھی نہیں تھی مگر حور نے منتیں کر کے اسے منایا تھا تاکہ تانیہ اور اشعر کو تصویریں بھیجوا سکے

"سر پلیز تھوڑا سا میڈم کے قریب ہوکر  اپنے ہیڈ کو ہلکا سا ڈاؤن کریں"
کیمرے مین نے معاویہ سے کہا

"اتنا صحیح ہے" معاویہ نے تقریبا ہی فاصلہ کم کرتے ہوئے کہا جس پر حیا صرف دانت پیس کر رہ گئی

"نہیں سر تھوڑا سا دور ہوجائے"
کیمرہ مین گڑبڑا کر بولا

"میم اب ذرا پیار سے سوری میرا مطلب ہے مسکرا کر سر کو دیکھیں"
کیمرہ مین کب سے حیا کو بولنا چاہ رہا تھا مگر اس کے تیوری پر بل دیکھ کر بول نہیں پا رہا تھا

"شٹ اپ ایک دو پوز بنواؤں اور اپنا کام ختم کرو جلدی سے"
حیا نے کیمرے مین کو گھور کر کہا

"مائنڈ نہیں کرنا یار میم نے صبح صبح ہری مرچیں چبالی تھی جس کا ذائقہ ابھی تک انہیں محسوس ہو رہا ہے" معاویہ نے کیمرہ مین سے معذرت کرتے ہوئے حیا کو دیکھ کر کہا

"اٹس او کے سر۔۔ 
سر اب آپ بیک پر جائیں اور میم آپ اسٹریٹ کھڑی رہیں  صرف گردن موڑ کر سر کو دیکھیں سر آپ اپنا ہاتھ میم کے شولڈر پر رکھیں اور نظریں تھوڑی سا جھکائے معاویہ نے حیا کے ہونٹوں کو دیکھا

"روم میں بھی مجھے کچا چبا جانے والی نظروں سے دیکھتی ہوں یہاں تو پیار سے دیکھ لو"
ہلکی سی سرگوشی حیا کے کان میں کی

"اوکے سر اب آپ میم کے سامنے آکر میم کو کمر سے ہولڈ کریں"
کیمرہ مین کے بولتے ہی حیا نے گھور کر کیمرے مین کو دیکھا

"اوکے سر رہنے دیں" کیمرہ مین حیا کی نظروں سے ڈر کر بولا

"نہیں یار آپ جاری رکھو یہ بہت اچھا پوز ہے"
معاویہ نے سنجیدہ انداز میں کہہ کر حیا کی کمر کو اپنے دونوں ہاتھوں سے تھاما،، حیا آنکھوں میں غصہ لیے ہوئے اسی کو دیکھ رہی تھی اور وہ اس کی حالت سے خط اٹھا کر معاویہ نے ہلکا سا اس کی کمر پر ہاتھ سے دباؤ ڈالا مگر چہرے پر ہنوز سنجیدگی کے اثار رکھے ہوئے حیا کو دیکھ رہا تھا

"بالکل شولا شبنم کی جوڑی لگ رہی ہے ہماری جوڑی"
معاویہ نے دوبارہ سرگوشی کی 

کیمرہ مین مختلف اینگل سے تصویریں کھینچنے میں لگا ہوا تھا

"اوکے سر، اوکے میم تھینکیو۔۔۔"
اپنا کام ختم کرتے ہوئے کیمرہ مین بولا اور روم سے باہر چلا گیا

"کیا فضول کی ہانک رہے تھے تم اس کے سامنے۔۔۔ اور بالکل اپنے جیسا ہی کوئی چھچورا ٹائپ کیمرہ مین ہائر کیا ہے تم نے"
حیا نے کیمرہ مین کے نکلتے ہی معاویہ کو گھورتے ہوئے کہا

"کیو بےبی انجوائے نہیں کیا مجھے تو بہت مزا آیا۔۔۔۔ میں تو سوچ رہا ہوں اس سے معلوم کرو کہ اگر ڈیلی کے پندرہ بیس روز اس طرح کت پوز بنوائے جائیں تو کیا چارجز ہوگے"
لائٹ پنک اور پرپل کلر کے کمبینیشن کی میکسی میں وہ بالکل گڑیا لگ رہی تھی معاویہ نے اس کے روپ کو اپنی آنکھوں میں اتارتے ہوئے کہا

"تم اپنی ان معصوم حسرتوں پر ایسے ہی آنسو بھاؤ۔۔۔۔ باہر جانا ہے مجھے فرینڈز ویٹ کررہی ہیں میرا"
حیا نے اسے تپاتے ہوئے کہا اور صوفے سے اٹھنے لگی مگر لونگ میکسی ہونے کی وجہ سے میکسی ہیل کے نیچے آئی اور اس سے پہلے وہ صوفے پر دوبارہ گرتی معاویہ نے اسے کمر سے اسے تھام لیا

"معاویہ مراد آنسو نہیں بہاتا بلکہ پنگا لینے والوں کی آنکھوں میں انسوں کا سبب ضرور بنتا ہے۔۔۔۔ صرف تمہیں وقت دے رہا ہوں اپنے مائنڈ کو میک اپ کرو اور اپنے اس بھیجے میں یہ بات بٹھاو کہ اب تمہیں میرے ساتھ رہنا ہے، میرے گھر میں، میری بیوی بن کر۔۔۔ ورنہ تمہارا نخرہ صبح دو منٹ میں نکال سکتا تھا اور نکال سکتا ہوں۔۔۔ آؤ تمھیں باہر لے چلو"
معاویہ نے حیا کی کمر سے اپنے ہاتھ ہٹا کر اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے کہا اور اسے باہر لے جاکر اسٹیج پر صوفے پر بیٹھنے میں مدد اور خود اسٹیج سے نیچے اتر گیا

سوہنی فری زرش تینوں اسٹیج پر آئی اور حیا سے ملی

"ہائے قسم سے بہت پیارے لگ رہے ہو تم دونوں تو ایک ساتھ آتے ہوئے"
فری نہ حیا سے تعریف کرتے ہوئے کہا حیا زبردستی کا مسکرا دی

"حیا ارسل بھائی کی شادی میں تم کہہ رہی تھی پولیس والے تو رومانس کے معاملے میں بالکل ٹھس ہوتے ہیں تو پھر کیسا ایکسپیرینس رہا تمھارا"
سوہنی نے دانت باہر نکالتے ہوئے پوچھا

"سوہنی تم چاہ رہی ہوں کہ میں اپنی اس سینڈل سے تمہارا میک اپ کرکے مزید منہ لال کر دو"
حیا کے بولنے پر باقی دونوں نے بھی دانت نکالے

"ارے چھوڑو یہ تو پوری چھپی رستم ہے ویسے تو اسے پولیس والے پسند نہیں تھے اور اپنے لئے خود اس نے پولیس والا چنا۔۔۔ مجھے تو اسی دن دال میں کالا لگ رہا تھا جب یہ معاویہ بھائی کا ایڈریس معلوم کر رہی تھی"
زرش کے بولنے پر ماہی اور فری بھی اس کی طرف متوجہ ہوئی

"یہ کب کا سین ہے" دونوں نے حیرت سے اظہار کیا
اور زرش نے ان دونوں کو پوری روادات سنای


***

"لوگ اتنے حسین لگ رہے ہیں انہیں فرصت ہی نہیں ہے اپنے عریب قریب بھی نظر اٹھا کر دیکھ لیں"
صنم جو کہ فریحہ کو دیکھنے کے لئے بینکویٹ سے نکل رہی تھی اچانک اسے ہادی کی آواز اپنے پیچھے سے سنائی دی

"ہادی آپ"
صنم نے آنکھوں میں ڈھیر ساری حیرت لیتے ہوئے کہا،، وہ مسکرا کر اسی کو دیکھ رہا تھا

"کیا ہوا میرا آنا کیسا لگ رہا ہے اچھا یا برا"
ہادی نے ادکی حیرت زدہ آنکھوں میں جھانک کر کہا

"بالکل ایک خواب سا"
ہادی کو اتنے دنوں بعد سامنے دیکھ کر وہ باقی دنیا کو بھول گئی

"یہاں اپنا ہاتھ دو تمہیں یقین دلاؤں کہ یہ خواب نہیں حقیقت ہے"
ہادی نے اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے کہا وہ ابھی بھی خواب کی سی کیفیت میں ہادی کو دیکھ رہی تھی

"آؤچ"
ہادی نے اس کے ہاتھ پر چٹکی کاٹی تو ہوش کی دنیا میں آئی

"یہ کیا تھا"
صنم نے ابھی بھی انکھوں میں حیرت سمائے ہوئے بولا

"یقین دلارہا تھا تمہیں کہ یہ خواب نہیں ہے"
ہادی نے مسکرا کر کہا تو وہ بھی روشن آنکھیں لیے مسکرادی

"آپ مجھ سے ناراض تو نہیں ہیں" 
صنم نے ہادی کو دیکھتے ہوئے کہا

"میرے چہرے سے یا میری آنکھوں سے تمہیں ناراضگی چھلکتی ہوئی نظر آ رہی ہے"
ہادی نے بغور اس کا چہرہ دیکھتے ہوئے صنم سے پوچھا صنم نے نفی میں گردن ہلائی

"تو پھر کیا نظر آ رہا ہے"
ہادی اب بھی غور سے صنم کو دیکھ کر پوچھ رہا تھا اس کے سوال پر وہ بلش کرنے لگی

"صنم یہاں کیا کر رہی ہو"
اچانک معاویہ کی آواز پر ان دونوں نے چونک کر معاویہ کو دیکھا جو کہ اپنے ماتھے پر لاتعداد شکنیں سجائے ہوئے ہادی کو غصے سے دیکھ رہا تھا مگر مخاطب صنم سے تھا

"ارے بھائی یہ دیکھئے ہادی میں نے آپ سے اس دن ملوایا تھا"
صنم نے معاویہ کے تاثرات پر غور سے کرے بناء ہادی کی ملاقات کا دوبارہ سے یاد کرواتے ہوئے بتایا

"میں نے تم سے یہ نہیں پوچھا ہے کہ یہ کون ہے یا پھر اس کا تعارف کراو بلکہ یہ پوچھا ہے کہ تم یہاں کیا کر رہی ہو"
معاویہ نے اب بھی غصے سے صنم کو دیکھتے ہوئے کہا جس پر صنم نے حیرت سے معاویہ کو دیکھا اسے معاویہ کا یوں بلاوجہ کا غصہ سمجھ میں نہیں آیا دوسری طرف ہادی کو معاویہ کا اس طرح غصے میں کھولنا اندر کہیں سکون دے رہا تھا

"تم صنم سے اس طرح بات نہیں کرسکتے، ایسا کچھ نہیں کر رہی تھی وہ یہاں پر جو تمہیں یوں غصہ آگیا"
ہادی نے مزید تیلی کا کام کیا

"تم اپنی زبان کو لگام دو،،، میں اپنی بہن سے بات کر رہا ہوں ہماری بیچ میں بولنے کی ضرورت نہیں ہے"
معاویہ نے اب اپنے غصے کو کنٹرول کرتے ہوئے ہادی کو دیکھ کر کہا ورنہ اس کا دل تو کر رہا تھا ہادی کو ایک اور تھپڑ لگائے مگر گیسٹ اور ایونٹ کو دیکھ کر وہ کنٹرول کر گیا

"صنم چلو یہاں سے ہو فریحہ کے پاس جا کر بیٹھو اور دوبارہ اپنی جگہ سے اٹھنے کی ضرورت نہیں ہے" معاویہ نے مڑ کر سرد تاثرات کے ساتھ صنم کو دیکھ کر کہا۔۔۔ جو آنکھوں میں نمی لائے ہوئے معاویہ کو دیکھ رہی تھی اور چپ کر کے وہاں سے چلی گئی

"میری بہن سے دور رہنا ہادی،، یہ میں تمہیں لاسٹ ٹائم منہ سے سمجھا رہا ہوں اگر اب تم مجھے صنم کے اردگرد گھومتے ہوئے نظر آئے تو تم سوچ بھی نہیں سکتے میں تمہارے ساتھ کیا کروں گا"
معاویہ کی آنکھیں غصے اور ضبط سے سرخ ہو گئی اور ہادی کو اس کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ کر بڑا مزہ آیا ہے

"ریلکس یار آج تمھارا ولیمہ ہے انجوائے کرو۔۔۔ تم تو ابھی سے رو رہے ہو"
اس سے پہلے معاویہ اس کا گریبان پکڑتا ہادی مسکراتا ہوا وہاں سے چلا گیا

اب وہ زین اور بلال سے مل رہا تھا،، زین خضر سے ہادی کا تعارف کروا رہا تھا۔۔ معاویہ کا موڈ اس کی شکل دیکھ کر اچھا خاصا خراب ہوچکا تھا وہ سر جھٹک کر اپنے کلیکس کے پاس آ گیا

**

"کونگریٹس مسسز معاویہ مراد"
ہادی نے اسٹیج پر آکر حیا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا

"تھینکس۔۔۔ تمہیں یہاں دیکھ کر خوشی ہوئی"
حیا نے ہادی کو دیکھ کر سنجیدگی سے کہا

"ہاں آنا تو تھا ہی آج وش کرنے کے لئے ایک مشورہ دوں اگر برا نہ مانو تو"
ہادی نہ حیا کو دیکھتے ہوئے کہا

"مشورہ اس قابل ہوا تو ضرور مانو گی" حیا نے مسکرا کر کہا

"تم ایک نئی زندگی کا آغاز کرنے جارہی ہوں جو کچھ بھی ہوا اس کو بھول جاؤں اور نئی زندگی کی شروعات کرو خوشی کے ساتھ"
ہادی نے حیا کو مخلصانہ مشورہ دیا

"مشورے کا شکریہ" حیا نے بغیر مسکرائے ہادی سے کہا

"تم ابھی تک گئے نہیں ہادی اپنے گھر،، کافی گیسٹ جاچکے ہیں تمہیں بھی اب نکلنا چاہیے"
معاویہ نے اسٹیج پر آتے ہوئے ہادی کہا اور حیا کے کندھے کے گرد اپنا ہاتھ رکھ کر کھڑا ہو کر اس کے جواب کا انتظار کرنے لگا

"بس جانے ہی والا تھا ویسے بھی جس کام کے لئے آیا تھا وہ ہوگیا"
ہادی نے جاتے جاتے معاویہ کو سلگایا

"باہر کا راستہ اس طرف ہے"
معاویہ نے انگلی کے اشارے سے ہادی کو بتایا۔۔۔ حیا ان دونوں کے فیس ایکسپریشن دیکھ رہی تھی معاویہ جوکہ غصہ کنٹرول کررہا تھا اور ہادی کے چہرے پر پراسرار مسکراہٹ تھی جسے حیا سمجھنے سے قاصر تھی

"وہ چلا گیا ہے اپنا ہاتھ ہٹاؤ"
حیا نے اپنے کندھے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے معاویہ کو کہا

"تو کیا ہوا بےبی دنیا تو ہماری طرف ہی دیکھ رہی ہے نا۔۔۔ آج ہمارا ولیمہ ہے تو سب کے سامنے لونگ اور ہیپی کپل کی ایکٹینگ تو کرنی ہے نا"
وہ محبت بھری نظروں سے حیا کا چہرہ دیکھ کر،، اس سے کہ رہا تھا حیا نے ایک نظر اسٹیج کے نیچے کھڑے زین اور حور کو دیکھا جو اپنی کسی بات پر مسکراتے ہوئے معاویہ اور حیا کو ہی دیکھ رہے تھے

"اتنی اسمائل ٹھیک ہے"
حیا نے بہت پیار سے مسکرا کر معاویہ کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا

"تھوڑی کم کرو یہ تو میری جان لے لے گی"
معاویہ پیار لوٹانے والی نظروں سے اس کو دیکھ کر کہنے لگا

"چھچھوری نظروں سے مجھے دیکھنا بند کرو اور مجھ سے آب اور ایکٹنگ نہیں ہورہی"
حیا نے زبردستی مسکراتے ہوئے کہا

"کیا ہوا تھکی تھکی لگ رہی ہو"
حیا کے چہرے پر تھکن کے اثرات دیکھ کر اب وہ سچ میں فکرمندی سے بولا

"اس ہیوی ڈریس اور ہیوی میک اپ میں میں فل بیزار ہو رہی ہوں"
حیا نے چڑتے ہوئے کہا

"اوکے میں ڈرائیور سے کہتا ہوں تمہیں اور صنم کو گھر چھوڑ آئے گا"
معاویہ نے گھڑی میں ٹائم دیکھتے ہوئے کہا

تقریب ویسے بھی ختم ہو گئی تھی وہ اس کانرمی سے ہاتھ تھام کر اسٹیج سے اترنے میں اسے مدد دینے لگا

جاری ہے

0 comments:

Post a Comment