itni mohbbat karo na 2
By zeenia sharjeel
Epi # 30
معاویہ نے اپنے پیٹ کی طرف دیکھا اور بے ساختہ اسکی نظر حیا کے چہرے پر گئی وہ اب بھی سنجیدہ نظروں سے اسے ہی دیکھ رہی تھی معاویہ نے اپنے دونوں ہاتھ حیا کی کمر سے ہٹائے حیا نے دوسرا ہاتھ معاویہ کے سینے پر رکھ کر اسے دھکا دیا تو وہ چار قدم پیچھے ہوا
"یہ کیا فضول حرکت ہے بےبی،، اسی جہیز میں لانے کی کیا ضرورت تھی پسٹل نیچے کرو شاباش"
معاویہ نے ایک قدم اس کی طرف بڑھایا
"اپنے قدم آگے مت بڑھانا معاویہ تم نے مجھے toy سمجھا، اس کو مت سمجھنا یہ پسٹل لوڈڈ ہے اور اس کا استعمال میں اچھے سے جانتی ہوں"
حیا کر بولنے پر معاویہ نے اپنے بڑھتے قدم روکے اور داد دینے والے انداز میں تالی بجائی
"تمہیں کیا لگتا ہے میں تم سے خفا ہوں میں تم سے خفا نہیں ہوں معاویہ۔۔۔۔ میں تم سے نفرت کرتی ہوں سنا تم نے،، تمہیں لگتا ہے تم اس طرح زبردستی دھونس سے روعب جما کر مردانگی کے نام پر اپنی پاور دکھا کر مجھے حاصل کر لو گے۔۔۔ تم مجھے بلیک میل کر کے شادی کرسکتے ہوں مگر میں تمہیں اپنی ذات پر فتح کا جشن منانے کی ہرگز اجازت نہیں دوں گی سنا تم نے اور تم مداوا کرنے کی کیا بات کررہے تھے۔۔۔ تم مرکر دوبارہ زندہ ہوجاو تب بھی مداوا نہیں کر سکتے"
حیا نے غرا کر کہا
"ہوگئی تمھاری تقریر ختم لاو شاباش پسٹل مجھے دو،،، جانم تم مجھے اس پسٹل سے ڈرا رہی ہو اس پسٹل کا اور میرا دن رات کا ساتھ رہتا ہے"
معاویہ نے مسکراتے ہوئے مزید دو قدم اور آگے بڑھائے مگر اگلے ہی پل حیا نے پسٹل اپنی کنپٹی پر رکھی اور معاویہ کی مسکراہٹ اور قدم وہی تھم گئے
"یہ کیا پاگل پن ہے حیا پسٹل ہٹاؤ فورا"
معاویہ نے سنجیدگی سے کہا
"تمہیں کیا لگ رہا ہے اس پسٹل سے میں تمہیں مار کر اپنے ہاتھ خراب کروں گی۔۔۔۔ اگر تم نے میری طرف ایک قدم مزید آگے بڑھایا یا مجھے چھونے کی کوشش کی تو میں اپنے آپ کو شوٹ کر لو گی"
حیا نے معاویہ کو دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے کہا
"اوکے نہ میں تمہارے پاس آ رہا ہوں نہ تمہیں کچھ کہہ رہا ہوں مگر یہ پسٹل اپنے اوپر سے ہٹاو پلیز"
معاویہ کی نظر پسٹل کے ٹریگر پر تھی جس پر حیا نے انگلی رکھی ہوئی تھی وہ اس کی جان کے لئے کوئی بھی رسک نہیں لینا چاہتا تھا
"یہ دن میرے لئے سیاہ دن ہے اور میں اسے تمہاری شکل دیکھ کر مزید سیاہ نہیں بنانا چاہتی تم ابھی کے ابھی باہر نکلو اس روم سے"
حیا نے غصے میں معاویہ کو دیکھتے ہوئے کہا
"حیا باہر سارے گیسٹ ہیں،،، پلیز ٹرائے ٹو انڈر اسٹینڈ ائی سویر میں تمہیں کچھ نہیں کہہ رہا"
وہ اس کی ضدی فطرت کو بھی اچھی طرح جان گیا تھا اس لئے منت کرنے لگا۔۔۔ جو اس نے اج تک کسی کی بھی نہیں کی تھی
"تم یہ بتاؤ تم روم سے باہر جا رہے ہو یا نہیں"
حیا نے معاویہ کو دیکھتے ہوئے پوچھا
"اوکے میں جا رہا ہوں تم ریلیکس ہو جاؤ پلیز"
معاویہ نے ہار مان کر اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر کہا کیونکہ پسٹل لوڈڈ تھی جو ابھی تک حیا نے اپنی کنپٹی پر رکھی ہوئی تھی مگر غصہ اس کو شدید آیا تھا حیا پر۔۔۔۔ کوئی اور وقت ہوتا تو اس کا جواب وہ اچھے سے دیتا مگر ابھی اسے روم سے باہر نکلنا پڑا
معاویہ کے روم سے نکلنے کے بعد ہی حیا نے پسٹل اپنے کلج میں رکھی اور بیڈ سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی سارا دن دماغی تھکن کے باعث ہو تھوڑی دیر میں ہی بیٹھے بیٹھے سوگئی معاویہ جوکہ ناعیمہ کو ایمرجنسی کا بول کر باہر نکل گیا تھا،، دو گھنٹے بعد واپس آیا روم کا دروازہ آہستہ سے کھولا تو اس دشمن جان کو بیڈ پر بیٹھے بیٹھے سوتے پایا لمبا سانس خارج کرکے اندر آیا آہستہ آواز میں روم کا دروازہ بند کرکے اس کے قریب آیا۔۔۔۔ ایک گھوری سوتے ہوئے وجود پر ڈال کر بغیر آواز نکالے وارڈروب سے اپنے کپڑے لے کر ڈریسنگ روم کی طرف چلا گیا ڈریس چینج کر کے آیا، تو وہ ابھی بھی اسی پوزیشن میں بیٹھے بیٹھے سو رہی تھی بہت آہستہ سے اس کو سیدھا کرکے لیٹایا کمفرٹر کھل کر اس کو اڑایا۔ ۔۔ عادت کے مطابق اپنی شرٹ اتاری اور خود بھی لیٹ گیا،،، اس کا چہرہ دیکھنے لگا پہلے دل میں آیا ماتھے پر سجی ہوئی بندھیا اتار دے جو حیا سے زیادہ اس کو ڈسٹرب کر رہی تھی لیکن اگر اس شیرنی کی آنکھ کھل گئی تو۔۔۔۔۔ یہ سوچ آتے ہی اپنا ارادہ ترک کیا اور خود بھی سو گیا
**
جب سے ہادی نے اس کو ٹائم نہ دینے کا شکوہ کیا تھا تب سے وہ خیال رکھتی تھی اس کی کال ضرور رسیوو کرے مہندی اور برات والے دن بھی صنم کال کرتی رہی مگر ہادی نے کال ریسیو نہیں کی۔۔۔۔ اس ٹائم بھی وہ ہادی کو کال ملا رہی تھی اور فکرمندی سے سوچ رہی تھی
"پتہ نہیں ہادی کیوں نہیں اٹھا رہے میری کال"
اتنے میں کال ریسیو کر لی گئی تو صنم نے اطمینان کا سانس لیا
"شکر ہے ہادی آپ نے میری کال تو ریسیو کی،، اب تو یقین جانیے مجھے فکر ہونے لگی تھی" جیسے ہی ہادی نے کال ریسیو کری فورا صنم نے بولا
"او تو یہ کال تم نے شکوہ کرنے کے لئے کی ہے"
ہادی نے اس کے جواب میں چھوٹتے ہی بولا
"ارے نہیں شکوہ کیوں کروں گی آپ سے،،، مجھے تو فکر ہو رہی تھی سچی، اچھا بتائیں کیسے ہیں آپ"
صنم نے ہادی سے پوچھا
"میں جیسا بھی ہوں تمہیں اس سے کیا فرق پڑتا ہے تم خوش رہو انجوائے کرو اپنے بھائی کی شادی کے فنکشنز"
ہادی نے طنز کرتے ہوئے کہا
"آپ کیسی بات کررہے ہیں ہادی میں تو تین دن سے مسلسل کال کر رہی ہوں آپ ہی میری کال رسیوو نہیں کر رہے تھے۔۔۔ تین دن سے آپ کی آواز نہیں سنی تو شادی کے فنکشنز کیا خاک ہی انجوائے کرتی"
صنم نے ہادی کے طنز کو اگنور کر کے بولا
"تو تم نے اپنے بھائی کی شادی انجوائے نہیں کی اب اس کا گناہ بھی میرے سر آگیا ٹھیک ہے"
ہادی نے بولا
میرا وہ مطلب نہیں تھا ہادی۔۔۔ آپ کو کیا ہوگیا،، کیا کوئی بات بری لگی ہے میری"
صنم کو فیل ہوا جیسے وہ اس سے ناراض ہے
"تمہاری کوئی بھی بات بری نہیں لگی گی مجھے، اب فون رکھو سونا ہے مجھے"
ہادی نے فون رکھنا چاہا
"آپ مجھ سے ناراض ہوکر سوئیں گے ہادی۔۔۔ اوکے میں سوری کرتی ہوں اگر آپ میری وجہ سے ہارٹ ہوئے ہیں تو"
صنم نے اپنی غلطی معلوم نہ ہونے پر بھی سوری کی کیونکہ وہ ہادی کو ناراض بالکل نہیں دیکھ سکتی تھی
"تمہاری کوئی غلطی نہیں ہے صنم انسان کو کسی دوسرے سے توقعات ہی وابستہ نہیں کرنی چاہیے خیر ہے تم اپنے مہمانوں کو ٹائم نئ بھابھی کو ٹائم دو"
ہادی کی بات پر صنم اپنا سا منہ لے کر رہ گئی
"ہادی میں تو آپ کو تین دن سے کال کر رہی تھی آپ ہی میری کال کا جواب نہیں دے رہے تھے نہ ہی میرے میسجز کا رپلائی کیا اپ نے۔۔۔ اب بھی میں نے کال کی تو آپ ایسی بات کر رہے ہیں"
صنم نے اپنی صفائی دیتے ہوئے کہا
"شٹ اپ اپنی زبان سنبھال کر بات کرو،، مجھے زہر لگتے ہیں وہ لوگ جو غلطیاں کرنے کے بعد اپنی صفائیاں دیتے ہیں"
ہادی نے تیز لہجے میں کہا
"اوکے میں اپنی غلطی پر آپ سے ایکسکیوز کرتی ہوں آپ اپنا موڈ ٹھیک کریں"
صنم نے اس سے دوبارہ معافی مانگی تاکہ ہادی کا موڈ ٹھیک ہوجائے
"آوکے ٹھیک ہے اب تم بھی کال رکھو اور ریسٹ کرو"
ہادی نے گویا اس پر احسان کیا
"ہادی آئی لو یو"
صنم نے بولا
"ہہمم گڈ نائٹ"
ہادی نے جواب دیا اور کال ڈسکنیکٹ کی
صنم کو اطمینان ہوا کہ چلو ہادی کی ناراضگی ختم ہوئی
**
اس کی جیسی ہی آنکھ کھلی تو ایک پل انجام کمرے میں اپنے آپ کو پاکر اسے سمجھ میں نہیں آیا وہ کہاں پر ہے۔۔۔۔ پھر دماغ پر زور ڈالنے سے اسے سب یاد آیا۔۔۔ سر جھٹک کر اسکی جیسے ہی نگاہ اپنے برابر میں پڑی تو حیرت سے اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی حلق پھاڑ کر اس کی چیخ نکلی مگر آدھی چیخ پر ہی معاویہ نے اس کے نازک ہونٹوں پر اپنا ہاتھ رکھ دیا جس سے اس کی چیخ حلق میں ہی دم توڑ گئی
"اس طرح چیخ کر میرے گھر والوں پر کیا ثابت کرنا چاہ رہی ہو۔۔۔ کون سے ظلم کے پہاڑ توڑ رہا ہوں میں تم پرصبح ہی صبح۔۔۔ جب کہ کل رات کو میرے ساتھ ہونے والا ظلم مجھے ابھی تک بھولا نہیں"
وہ ادھا حیا کے اوپر جھکا ہوا کل رات کا اس سے شکوہ کر رہا تھا۔۔۔ حیا ابھی بھی پھٹی پھٹی آنکھوں سے اس کو گھور رہی تھی معاویہ نے آہستہ سے اپنے ہاتھ اس کے ہونٹوں سے ہٹائے پھر اس کا حیرت زدہ چہرہ دیکھ کر ہلکی سی اسمائل دی
"گڈ مارننگ بےبی" معاویہ بولتا ہوا اپنے ہونٹ حیا کے ہونٹوں کے قریب لایا،، تبھی حیا نے پوری طاقت سے زوردار چٹکی اس کے بازو میں بھری" وہ ایک دم پیچھے ہوا
"پیچھے ہٹو بےہودہ انسان آئے بڑے گڈ مارننگ"
حیا اٹھ کر بیٹھی،، اب وہ بیٹھا ہوا حیا کو گھور رہا تھا حیا نے اس کو دیکھا اور فورا ہاتھ اپنی آنکھوں پر رکھ لیا
"چھی شرٹ پہنو اپنی، بے شرم کہیں کے"
حیا کے اس طرح ایکٹ پر معاویہ کو ہنسی آئی وہ بیڈ پر پڑی ہوئی شرٹ پہننے لگا حیا نے ہلکا سا ہاتھ نیچے کر کے معاویہ کو دیکھا تو وہ اس کی طرف ہی مسکراتا ہوا دیکھ کر اپنی شرٹ کے بٹن بند کر رہا تھا
"تم یہاں بیڈروم میں کیا کر رہے ہو" اب حیا نے آنکھوں سے ہاتھ ہٹاتے ہوئے کہا
"ٹی ٹوئینٹی کھیل رہا تھا"
نارمل انداز میں جواب دیتا ہوا وہ واش روم چلا گیا
حیا وارڈروب سے اپنا ڈریس نکالنے لگی ڈریس لے کر وہ واش روم کی طرف گئی
"نکلو بھئی کیا واش روم میں سو گئے ہو تم۔۔۔ دو ٹکے کے پولیس والے باتھ لینا ہے مجھے جلدی نکلو"
حیا نے واش روم کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہوئے کہا
تھوڑی دیر میں وہ ٹریک سوٹ پہن کر باہر نکلا اور سنجیدگی سے حیا کو دیکھنے لگا اس کے اس طرح دیکھنے پر حیا نے اپنا ڈریس اپنے شولڈر پر رکھا اور دونوں ہاتھ اپنی کمر پر رکھ کر ابرو اچکا کر اس سے پوچھا
"کیا ہے"
حیا کے پوچھنے پر وہ ایکدم قریب آیا حیا کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام کر اس کے گلابی ہونٹوں پر اپنے پیار کی مہر لگا کر الگ ہوا
"گڈ مارننگ"
کہہ کر روم سے باہر نکل گیا حیا منہ اور آنکھیں کھول کر اسے جاتا ہوا دیکھنے لگی
"یعنی میں اسے صحیح دو ٹکے کا پولیس والا کہتی ہوں"
جاری ہے
[10:01 PM, 5/2/2019] Nida baji: 🌹: itni mohbat karo na 2
By zeenia sharjeel
Epi # ³¹
ولیمے کی تقریب اپنے عروج پر تھی فوٹو شوٹ کے لیے کیمرہ مین معاویہ اور حیا کے ساتھ ڈریسنگ روم میں موجود تھا جو کہ فل رومینٹک پوز بنواکر ان دونوں کی تصویریں لے رہا تھا،، جس پر معاویہ تو فل انجوائے کر رہا تھا اور کیمرہ مین کی ہر بات جتنی تابعداری سے مان رہا تھا اتنی تعبیداری سے زندگی میں شاید ہی پہلے کسی اور کی بات مانی ہو،،، اس کے برعکس حیا صرف گھور کر کھا جانے والی نظروں سے معاویہ کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔ وہ فوٹو شوٹ کے لیے تیار بھی نہیں تھی مگر حور نے منتیں کر کے اسے منایا تھا تاکہ تانیہ اور اشعر کو تصویریں بھیجوا سکے
"سر پلیز تھوڑا سا میڈم کے قریب ہوکر اپنے ہیڈ کو ہلکا سا ڈاؤن کریں"
کیمرے مین نے معاویہ سے کہا
"اتنا صحیح ہے" معاویہ نے تقریبا ہی فاصلہ کم کرتے ہوئے کہا جس پر حیا صرف دانت پیس کر رہ گئی
"نہیں سر تھوڑا سا دور ہوجائے"
کیمرہ مین گڑبڑا کر بولا
"میم اب ذرا پیار سے سوری میرا مطلب ہے مسکرا کر سر کو دیکھیں"
کیمرہ مین کب سے حیا کو بولنا چاہ رہا تھا مگر اس کے تیوری پر بل دیکھ کر بول نہیں پا رہا تھا
"شٹ اپ ایک دو پوز بنواؤں اور اپنا کام ختم کرو جلدی سے"
حیا نے کیمرے مین کو گھور کر کہا
"مائنڈ نہیں کرنا یار میم نے صبح صبح ہری مرچیں چبالی تھی جس کا ذائقہ ابھی تک انہیں محسوس ہو رہا ہے" معاویہ نے کیمرہ مین سے معذرت کرتے ہوئے حیا کو دیکھ کر کہا
"اٹس او کے سر۔۔
سر اب آپ بیک پر جائیں اور میم آپ اسٹریٹ کھڑی رہیں صرف گردن موڑ کر سر کو دیکھیں سر آپ اپنا ہاتھ میم کے شولڈر پر رکھیں اور نظریں تھوڑی سا جھکائے معاویہ نے حیا کے ہونٹوں کو دیکھا
"روم میں بھی مجھے کچا چبا جانے والی نظروں سے دیکھتی ہوں یہاں تو پیار سے دیکھ لو"
ہلکی سی سرگوشی حیا کے کان میں کی
"اوکے سر اب آپ میم کے سامنے آکر میم کو کمر سے ہولڈ کریں"
کیمرہ مین کے بولتے ہی حیا نے گھور کر کیمرے مین کو دیکھا
"اوکے سر رہنے دیں" کیمرہ مین حیا کی نظروں سے ڈر کر بولا
"نہیں یار آپ جاری رکھو یہ بہت اچھا پوز ہے"
معاویہ نے سنجیدہ انداز میں کہہ کر حیا کی کمر کو اپنے دونوں ہاتھوں سے تھاما،، حیا آنکھوں میں غصہ لیے ہوئے اسی کو دیکھ رہی تھی اور وہ اس کی حالت سے خط اٹھا کر معاویہ نے ہلکا سا اس کی کمر پر ہاتھ سے دباؤ ڈالا مگر چہرے پر ہنوز سنجیدگی کے اثار رکھے ہوئے حیا کو دیکھ رہا تھا
"بالکل شولا شبنم کی جوڑی لگ رہی ہے ہماری جوڑی"
معاویہ نے دوبارہ سرگوشی کی
کیمرہ مین مختلف اینگل سے تصویریں کھینچنے میں لگا ہوا تھا
"اوکے سر، اوکے میم تھینکیو۔۔۔"
اپنا کام ختم کرتے ہوئے کیمرہ مین بولا اور روم سے باہر چلا گیا
"کیا فضول کی ہانک رہے تھے تم اس کے سامنے۔۔۔ اور بالکل اپنے جیسا ہی کوئی چھچورا ٹائپ کیمرہ مین ہائر کیا ہے تم نے"
حیا نے کیمرہ مین کے نکلتے ہی معاویہ کو گھورتے ہوئے کہا
"کیو بےبی انجوائے نہیں کیا مجھے تو بہت مزا آیا۔۔۔۔ میں تو سوچ رہا ہوں اس سے معلوم کرو کہ اگر ڈیلی کے پندرہ بیس روز اس طرح کت پوز بنوائے جائیں تو کیا چارجز ہوگے"
لائٹ پنک اور پرپل کلر کے کمبینیشن کی میکسی میں وہ بالکل گڑیا لگ رہی تھی معاویہ نے اس کے روپ کو اپنی آنکھوں میں اتارتے ہوئے کہا
"تم اپنی ان معصوم حسرتوں پر ایسے ہی آنسو بھاؤ۔۔۔۔ باہر جانا ہے مجھے فرینڈز ویٹ کررہی ہیں میرا"
حیا نے اسے تپاتے ہوئے کہا اور صوفے سے اٹھنے لگی مگر لونگ میکسی ہونے کی وجہ سے میکسی ہیل کے نیچے آئی اور اس سے پہلے وہ صوفے پر دوبارہ گرتی معاویہ نے اسے کمر سے اسے تھام لیا
"معاویہ مراد آنسو نہیں بہاتا بلکہ پنگا لینے والوں کی آنکھوں میں انسوں کا سبب ضرور بنتا ہے۔۔۔۔ صرف تمہیں وقت دے رہا ہوں اپنے مائنڈ کو میک اپ کرو اور اپنے اس بھیجے میں یہ بات بٹھاو کہ اب تمہیں میرے ساتھ رہنا ہے، میرے گھر میں، میری بیوی بن کر۔۔۔ ورنہ تمہارا نخرہ صبح دو منٹ میں نکال سکتا تھا اور نکال سکتا ہوں۔۔۔ آؤ تمھیں باہر لے چلو"
معاویہ نے حیا کی کمر سے اپنے ہاتھ ہٹا کر اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے کہا اور اسے باہر لے جاکر اسٹیج پر صوفے پر بیٹھنے میں مدد اور خود اسٹیج سے نیچے اتر گیا
سوہنی فری زرش تینوں اسٹیج پر آئی اور حیا سے ملی
"ہائے قسم سے بہت پیارے لگ رہے ہو تم دونوں تو ایک ساتھ آتے ہوئے"
فری نہ حیا سے تعریف کرتے ہوئے کہا حیا زبردستی کا مسکرا دی
"حیا ارسل بھائی کی شادی میں تم کہہ رہی تھی پولیس والے تو رومانس کے معاملے میں بالکل ٹھس ہوتے ہیں تو پھر کیسا ایکسپیرینس رہا تمھارا"
سوہنی نے دانت باہر نکالتے ہوئے پوچھا
"سوہنی تم چاہ رہی ہوں کہ میں اپنی اس سینڈل سے تمہارا میک اپ کرکے مزید منہ لال کر دو"
حیا کے بولنے پر باقی دونوں نے بھی دانت نکالے
"ارے چھوڑو یہ تو پوری چھپی رستم ہے ویسے تو اسے پولیس والے پسند نہیں تھے اور اپنے لئے خود اس نے پولیس والا چنا۔۔۔ مجھے تو اسی دن دال میں کالا لگ رہا تھا جب یہ معاویہ بھائی کا ایڈریس معلوم کر رہی تھی"
زرش کے بولنے پر ماہی اور فری بھی اس کی طرف متوجہ ہوئی
"یہ کب کا سین ہے" دونوں نے حیرت سے اظہار کیا
اور زرش نے ان دونوں کو پوری روادات سنای
***
"لوگ اتنے حسین لگ رہے ہیں انہیں فرصت ہی نہیں ہے اپنے عریب قریب بھی نظر اٹھا کر دیکھ لیں"
صنم جو کہ فریحہ کو دیکھنے کے لئے بینکویٹ سے نکل رہی تھی اچانک اسے ہادی کی آواز اپنے پیچھے سے سنائی دی
"ہادی آپ"
صنم نے آنکھوں میں ڈھیر ساری حیرت لیتے ہوئے کہا،، وہ مسکرا کر اسی کو دیکھ رہا تھا
"کیا ہوا میرا آنا کیسا لگ رہا ہے اچھا یا برا"
ہادی نے ادکی حیرت زدہ آنکھوں میں جھانک کر کہا
"بالکل ایک خواب سا"
ہادی کو اتنے دنوں بعد سامنے دیکھ کر وہ باقی دنیا کو بھول گئی
"یہاں اپنا ہاتھ دو تمہیں یقین دلاؤں کہ یہ خواب نہیں حقیقت ہے"
ہادی نے اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے کہا وہ ابھی بھی خواب کی سی کیفیت میں ہادی کو دیکھ رہی تھی
"آؤچ"
ہادی نے اس کے ہاتھ پر چٹکی کاٹی تو ہوش کی دنیا میں آئی
"یہ کیا تھا"
صنم نے ابھی بھی انکھوں میں حیرت سمائے ہوئے بولا
"یقین دلارہا تھا تمہیں کہ یہ خواب نہیں ہے"
ہادی نے مسکرا کر کہا تو وہ بھی روشن آنکھیں لیے مسکرادی
"آپ مجھ سے ناراض تو نہیں ہیں"
صنم نے ہادی کو دیکھتے ہوئے کہا
"میرے چہرے سے یا میری آنکھوں سے تمہیں ناراضگی چھلکتی ہوئی نظر آ رہی ہے"
ہادی نے بغور اس کا چہرہ دیکھتے ہوئے صنم سے پوچھا صنم نے نفی میں گردن ہلائی
"تو پھر کیا نظر آ رہا ہے"
ہادی اب بھی غور سے صنم کو دیکھ کر پوچھ رہا تھا اس کے سوال پر وہ بلش کرنے لگی
"صنم یہاں کیا کر رہی ہو"
اچانک معاویہ کی آواز پر ان دونوں نے چونک کر معاویہ کو دیکھا جو کہ اپنے ماتھے پر لاتعداد شکنیں سجائے ہوئے ہادی کو غصے سے دیکھ رہا تھا مگر مخاطب صنم سے تھا
"ارے بھائی یہ دیکھئے ہادی میں نے آپ سے اس دن ملوایا تھا"
صنم نے معاویہ کے تاثرات پر غور سے کرے بناء ہادی کی ملاقات کا دوبارہ سے یاد کرواتے ہوئے بتایا
"میں نے تم سے یہ نہیں پوچھا ہے کہ یہ کون ہے یا پھر اس کا تعارف کراو بلکہ یہ پوچھا ہے کہ تم یہاں کیا کر رہی ہو"
معاویہ نے اب بھی غصے سے صنم کو دیکھتے ہوئے کہا جس پر صنم نے حیرت سے معاویہ کو دیکھا اسے معاویہ کا یوں بلاوجہ کا غصہ سمجھ میں نہیں آیا دوسری طرف ہادی کو معاویہ کا اس طرح غصے میں کھولنا اندر کہیں سکون دے رہا تھا
"تم صنم سے اس طرح بات نہیں کرسکتے، ایسا کچھ نہیں کر رہی تھی وہ یہاں پر جو تمہیں یوں غصہ آگیا"
ہادی نے مزید تیلی کا کام کیا
"تم اپنی زبان کو لگام دو،،، میں اپنی بہن سے بات کر رہا ہوں ہماری بیچ میں بولنے کی ضرورت نہیں ہے"
معاویہ نے اب اپنے غصے کو کنٹرول کرتے ہوئے ہادی کو دیکھ کر کہا ورنہ اس کا دل تو کر رہا تھا ہادی کو ایک اور تھپڑ لگائے مگر گیسٹ اور ایونٹ کو دیکھ کر وہ کنٹرول کر گیا
"صنم چلو یہاں سے ہو فریحہ کے پاس جا کر بیٹھو اور دوبارہ اپنی جگہ سے اٹھنے کی ضرورت نہیں ہے" معاویہ نے مڑ کر سرد تاثرات کے ساتھ صنم کو دیکھ کر کہا۔۔۔ جو آنکھوں میں نمی لائے ہوئے معاویہ کو دیکھ رہی تھی اور چپ کر کے وہاں سے چلی گئی
"میری بہن سے دور رہنا ہادی،، یہ میں تمہیں لاسٹ ٹائم منہ سے سمجھا رہا ہوں اگر اب تم مجھے صنم کے اردگرد گھومتے ہوئے نظر آئے تو تم سوچ بھی نہیں سکتے میں تمہارے ساتھ کیا کروں گا"
معاویہ کی آنکھیں غصے اور ضبط سے سرخ ہو گئی اور ہادی کو اس کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ کر بڑا مزہ آیا ہے
"ریلکس یار آج تمھارا ولیمہ ہے انجوائے کرو۔۔۔ تم تو ابھی سے رو رہے ہو"
اس سے پہلے معاویہ اس کا گریبان پکڑتا ہادی مسکراتا ہوا وہاں سے چلا گیا
اب وہ زین اور بلال سے مل رہا تھا،، زین خضر سے ہادی کا تعارف کروا رہا تھا۔۔ معاویہ کا موڈ اس کی شکل دیکھ کر اچھا خاصا خراب ہوچکا تھا وہ سر جھٹک کر اپنے کلیکس کے پاس آ گیا
**
"کونگریٹس مسسز معاویہ مراد"
ہادی نے اسٹیج پر آکر حیا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا
"تھینکس۔۔۔ تمہیں یہاں دیکھ کر خوشی ہوئی"
حیا نے ہادی کو دیکھ کر سنجیدگی سے کہا
"ہاں آنا تو تھا ہی آج وش کرنے کے لئے ایک مشورہ دوں اگر برا نہ مانو تو"
ہادی نہ حیا کو دیکھتے ہوئے کہا
"مشورہ اس قابل ہوا تو ضرور مانو گی" حیا نے مسکرا کر کہا
"تم ایک نئی زندگی کا آغاز کرنے جارہی ہوں جو کچھ بھی ہوا اس کو بھول جاؤں اور نئی زندگی کی شروعات کرو خوشی کے ساتھ"
ہادی نے حیا کو مخلصانہ مشورہ دیا
"مشورے کا شکریہ" حیا نے بغیر مسکرائے ہادی سے کہا
"تم ابھی تک گئے نہیں ہادی اپنے گھر،، کافی گیسٹ جاچکے ہیں تمہیں بھی اب نکلنا چاہیے"
معاویہ نے اسٹیج پر آتے ہوئے ہادی کہا اور حیا کے کندھے کے گرد اپنا ہاتھ رکھ کر کھڑا ہو کر اس کے جواب کا انتظار کرنے لگا
"بس جانے ہی والا تھا ویسے بھی جس کام کے لئے آیا تھا وہ ہوگیا"
ہادی نے جاتے جاتے معاویہ کو سلگایا
"باہر کا راستہ اس طرف ہے"
معاویہ نے انگلی کے اشارے سے ہادی کو بتایا۔۔۔ حیا ان دونوں کے فیس ایکسپریشن دیکھ رہی تھی معاویہ جوکہ غصہ کنٹرول کررہا تھا اور ہادی کے چہرے پر پراسرار مسکراہٹ تھی جسے حیا سمجھنے سے قاصر تھی
"وہ چلا گیا ہے اپنا ہاتھ ہٹاؤ"
حیا نے اپنے کندھے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے معاویہ کو کہا
"تو کیا ہوا بےبی دنیا تو ہماری طرف ہی دیکھ رہی ہے نا۔۔۔ آج ہمارا ولیمہ ہے تو سب کے سامنے لونگ اور ہیپی کپل کی ایکٹینگ تو کرنی ہے نا"
وہ محبت بھری نظروں سے حیا کا چہرہ دیکھ کر،، اس سے کہ رہا تھا حیا نے ایک نظر اسٹیج کے نیچے کھڑے زین اور حور کو دیکھا جو اپنی کسی بات پر مسکراتے ہوئے معاویہ اور حیا کو ہی دیکھ رہے تھے
"اتنی اسمائل ٹھیک ہے"
حیا نے بہت پیار سے مسکرا کر معاویہ کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا
"تھوڑی کم کرو یہ تو میری جان لے لے گی"
معاویہ پیار لوٹانے والی نظروں سے اس کو دیکھ کر کہنے لگا
"چھچھوری نظروں سے مجھے دیکھنا بند کرو اور مجھ سے آب اور ایکٹنگ نہیں ہورہی"
حیا نے زبردستی مسکراتے ہوئے کہا
"کیا ہوا تھکی تھکی لگ رہی ہو"
حیا کے چہرے پر تھکن کے اثرات دیکھ کر اب وہ سچ میں فکرمندی سے بولا
"اس ہیوی ڈریس اور ہیوی میک اپ میں میں فل بیزار ہو رہی ہوں"
حیا نے چڑتے ہوئے کہا
"اوکے میں ڈرائیور سے کہتا ہوں تمہیں اور صنم کو گھر چھوڑ آئے گا"
معاویہ نے گھڑی میں ٹائم دیکھتے ہوئے کہا
تقریب ویسے بھی ختم ہو گئی تھی وہ اس کانرمی سے ہاتھ تھام کر اسٹیج سے اترنے میں اسے مدد دینے لگا
جاری ہے
By zeenia sharjeel
Epi # 30
معاویہ نے اپنے پیٹ کی طرف دیکھا اور بے ساختہ اسکی نظر حیا کے چہرے پر گئی وہ اب بھی سنجیدہ نظروں سے اسے ہی دیکھ رہی تھی معاویہ نے اپنے دونوں ہاتھ حیا کی کمر سے ہٹائے حیا نے دوسرا ہاتھ معاویہ کے سینے پر رکھ کر اسے دھکا دیا تو وہ چار قدم پیچھے ہوا
"یہ کیا فضول حرکت ہے بےبی،، اسی جہیز میں لانے کی کیا ضرورت تھی پسٹل نیچے کرو شاباش"
معاویہ نے ایک قدم اس کی طرف بڑھایا
"اپنے قدم آگے مت بڑھانا معاویہ تم نے مجھے toy سمجھا، اس کو مت سمجھنا یہ پسٹل لوڈڈ ہے اور اس کا استعمال میں اچھے سے جانتی ہوں"
حیا کر بولنے پر معاویہ نے اپنے بڑھتے قدم روکے اور داد دینے والے انداز میں تالی بجائی
"تمہیں کیا لگتا ہے میں تم سے خفا ہوں میں تم سے خفا نہیں ہوں معاویہ۔۔۔۔ میں تم سے نفرت کرتی ہوں سنا تم نے،، تمہیں لگتا ہے تم اس طرح زبردستی دھونس سے روعب جما کر مردانگی کے نام پر اپنی پاور دکھا کر مجھے حاصل کر لو گے۔۔۔ تم مجھے بلیک میل کر کے شادی کرسکتے ہوں مگر میں تمہیں اپنی ذات پر فتح کا جشن منانے کی ہرگز اجازت نہیں دوں گی سنا تم نے اور تم مداوا کرنے کی کیا بات کررہے تھے۔۔۔ تم مرکر دوبارہ زندہ ہوجاو تب بھی مداوا نہیں کر سکتے"
حیا نے غرا کر کہا
"ہوگئی تمھاری تقریر ختم لاو شاباش پسٹل مجھے دو،،، جانم تم مجھے اس پسٹل سے ڈرا رہی ہو اس پسٹل کا اور میرا دن رات کا ساتھ رہتا ہے"
معاویہ نے مسکراتے ہوئے مزید دو قدم اور آگے بڑھائے مگر اگلے ہی پل حیا نے پسٹل اپنی کنپٹی پر رکھی اور معاویہ کی مسکراہٹ اور قدم وہی تھم گئے
"یہ کیا پاگل پن ہے حیا پسٹل ہٹاؤ فورا"
معاویہ نے سنجیدگی سے کہا
"تمہیں کیا لگ رہا ہے اس پسٹل سے میں تمہیں مار کر اپنے ہاتھ خراب کروں گی۔۔۔۔ اگر تم نے میری طرف ایک قدم مزید آگے بڑھایا یا مجھے چھونے کی کوشش کی تو میں اپنے آپ کو شوٹ کر لو گی"
حیا نے معاویہ کو دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے کہا
"اوکے نہ میں تمہارے پاس آ رہا ہوں نہ تمہیں کچھ کہہ رہا ہوں مگر یہ پسٹل اپنے اوپر سے ہٹاو پلیز"
معاویہ کی نظر پسٹل کے ٹریگر پر تھی جس پر حیا نے انگلی رکھی ہوئی تھی وہ اس کی جان کے لئے کوئی بھی رسک نہیں لینا چاہتا تھا
"یہ دن میرے لئے سیاہ دن ہے اور میں اسے تمہاری شکل دیکھ کر مزید سیاہ نہیں بنانا چاہتی تم ابھی کے ابھی باہر نکلو اس روم سے"
حیا نے غصے میں معاویہ کو دیکھتے ہوئے کہا
"حیا باہر سارے گیسٹ ہیں،،، پلیز ٹرائے ٹو انڈر اسٹینڈ ائی سویر میں تمہیں کچھ نہیں کہہ رہا"
وہ اس کی ضدی فطرت کو بھی اچھی طرح جان گیا تھا اس لئے منت کرنے لگا۔۔۔ جو اس نے اج تک کسی کی بھی نہیں کی تھی
"تم یہ بتاؤ تم روم سے باہر جا رہے ہو یا نہیں"
حیا نے معاویہ کو دیکھتے ہوئے پوچھا
"اوکے میں جا رہا ہوں تم ریلیکس ہو جاؤ پلیز"
معاویہ نے ہار مان کر اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر کہا کیونکہ پسٹل لوڈڈ تھی جو ابھی تک حیا نے اپنی کنپٹی پر رکھی ہوئی تھی مگر غصہ اس کو شدید آیا تھا حیا پر۔۔۔۔ کوئی اور وقت ہوتا تو اس کا جواب وہ اچھے سے دیتا مگر ابھی اسے روم سے باہر نکلنا پڑا
معاویہ کے روم سے نکلنے کے بعد ہی حیا نے پسٹل اپنے کلج میں رکھی اور بیڈ سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی سارا دن دماغی تھکن کے باعث ہو تھوڑی دیر میں ہی بیٹھے بیٹھے سوگئی معاویہ جوکہ ناعیمہ کو ایمرجنسی کا بول کر باہر نکل گیا تھا،، دو گھنٹے بعد واپس آیا روم کا دروازہ آہستہ سے کھولا تو اس دشمن جان کو بیڈ پر بیٹھے بیٹھے سوتے پایا لمبا سانس خارج کرکے اندر آیا آہستہ آواز میں روم کا دروازہ بند کرکے اس کے قریب آیا۔۔۔۔ ایک گھوری سوتے ہوئے وجود پر ڈال کر بغیر آواز نکالے وارڈروب سے اپنے کپڑے لے کر ڈریسنگ روم کی طرف چلا گیا ڈریس چینج کر کے آیا، تو وہ ابھی بھی اسی پوزیشن میں بیٹھے بیٹھے سو رہی تھی بہت آہستہ سے اس کو سیدھا کرکے لیٹایا کمفرٹر کھل کر اس کو اڑایا۔ ۔۔ عادت کے مطابق اپنی شرٹ اتاری اور خود بھی لیٹ گیا،،، اس کا چہرہ دیکھنے لگا پہلے دل میں آیا ماتھے پر سجی ہوئی بندھیا اتار دے جو حیا سے زیادہ اس کو ڈسٹرب کر رہی تھی لیکن اگر اس شیرنی کی آنکھ کھل گئی تو۔۔۔۔۔ یہ سوچ آتے ہی اپنا ارادہ ترک کیا اور خود بھی سو گیا
**
جب سے ہادی نے اس کو ٹائم نہ دینے کا شکوہ کیا تھا تب سے وہ خیال رکھتی تھی اس کی کال ضرور رسیوو کرے مہندی اور برات والے دن بھی صنم کال کرتی رہی مگر ہادی نے کال ریسیو نہیں کی۔۔۔۔ اس ٹائم بھی وہ ہادی کو کال ملا رہی تھی اور فکرمندی سے سوچ رہی تھی
"پتہ نہیں ہادی کیوں نہیں اٹھا رہے میری کال"
اتنے میں کال ریسیو کر لی گئی تو صنم نے اطمینان کا سانس لیا
"شکر ہے ہادی آپ نے میری کال تو ریسیو کی،، اب تو یقین جانیے مجھے فکر ہونے لگی تھی" جیسے ہی ہادی نے کال ریسیو کری فورا صنم نے بولا
"او تو یہ کال تم نے شکوہ کرنے کے لئے کی ہے"
ہادی نے اس کے جواب میں چھوٹتے ہی بولا
"ارے نہیں شکوہ کیوں کروں گی آپ سے،،، مجھے تو فکر ہو رہی تھی سچی، اچھا بتائیں کیسے ہیں آپ"
صنم نے ہادی سے پوچھا
"میں جیسا بھی ہوں تمہیں اس سے کیا فرق پڑتا ہے تم خوش رہو انجوائے کرو اپنے بھائی کی شادی کے فنکشنز"
ہادی نے طنز کرتے ہوئے کہا
"آپ کیسی بات کررہے ہیں ہادی میں تو تین دن سے مسلسل کال کر رہی ہوں آپ ہی میری کال رسیوو نہیں کر رہے تھے۔۔۔ تین دن سے آپ کی آواز نہیں سنی تو شادی کے فنکشنز کیا خاک ہی انجوائے کرتی"
صنم نے ہادی کے طنز کو اگنور کر کے بولا
"تو تم نے اپنے بھائی کی شادی انجوائے نہیں کی اب اس کا گناہ بھی میرے سر آگیا ٹھیک ہے"
ہادی نے بولا
میرا وہ مطلب نہیں تھا ہادی۔۔۔ آپ کو کیا ہوگیا،، کیا کوئی بات بری لگی ہے میری"
صنم کو فیل ہوا جیسے وہ اس سے ناراض ہے
"تمہاری کوئی بھی بات بری نہیں لگی گی مجھے، اب فون رکھو سونا ہے مجھے"
ہادی نے فون رکھنا چاہا
"آپ مجھ سے ناراض ہوکر سوئیں گے ہادی۔۔۔ اوکے میں سوری کرتی ہوں اگر آپ میری وجہ سے ہارٹ ہوئے ہیں تو"
صنم نے اپنی غلطی معلوم نہ ہونے پر بھی سوری کی کیونکہ وہ ہادی کو ناراض بالکل نہیں دیکھ سکتی تھی
"تمہاری کوئی غلطی نہیں ہے صنم انسان کو کسی دوسرے سے توقعات ہی وابستہ نہیں کرنی چاہیے خیر ہے تم اپنے مہمانوں کو ٹائم نئ بھابھی کو ٹائم دو"
ہادی کی بات پر صنم اپنا سا منہ لے کر رہ گئی
"ہادی میں تو آپ کو تین دن سے کال کر رہی تھی آپ ہی میری کال کا جواب نہیں دے رہے تھے نہ ہی میرے میسجز کا رپلائی کیا اپ نے۔۔۔ اب بھی میں نے کال کی تو آپ ایسی بات کر رہے ہیں"
صنم نے اپنی صفائی دیتے ہوئے کہا
"شٹ اپ اپنی زبان سنبھال کر بات کرو،، مجھے زہر لگتے ہیں وہ لوگ جو غلطیاں کرنے کے بعد اپنی صفائیاں دیتے ہیں"
ہادی نے تیز لہجے میں کہا
"اوکے میں اپنی غلطی پر آپ سے ایکسکیوز کرتی ہوں آپ اپنا موڈ ٹھیک کریں"
صنم نے اس سے دوبارہ معافی مانگی تاکہ ہادی کا موڈ ٹھیک ہوجائے
"آوکے ٹھیک ہے اب تم بھی کال رکھو اور ریسٹ کرو"
ہادی نے گویا اس پر احسان کیا
"ہادی آئی لو یو"
صنم نے بولا
"ہہمم گڈ نائٹ"
ہادی نے جواب دیا اور کال ڈسکنیکٹ کی
صنم کو اطمینان ہوا کہ چلو ہادی کی ناراضگی ختم ہوئی
**
اس کی جیسی ہی آنکھ کھلی تو ایک پل انجام کمرے میں اپنے آپ کو پاکر اسے سمجھ میں نہیں آیا وہ کہاں پر ہے۔۔۔۔ پھر دماغ پر زور ڈالنے سے اسے سب یاد آیا۔۔۔ سر جھٹک کر اسکی جیسے ہی نگاہ اپنے برابر میں پڑی تو حیرت سے اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی حلق پھاڑ کر اس کی چیخ نکلی مگر آدھی چیخ پر ہی معاویہ نے اس کے نازک ہونٹوں پر اپنا ہاتھ رکھ دیا جس سے اس کی چیخ حلق میں ہی دم توڑ گئی
"اس طرح چیخ کر میرے گھر والوں پر کیا ثابت کرنا چاہ رہی ہو۔۔۔ کون سے ظلم کے پہاڑ توڑ رہا ہوں میں تم پرصبح ہی صبح۔۔۔ جب کہ کل رات کو میرے ساتھ ہونے والا ظلم مجھے ابھی تک بھولا نہیں"
وہ ادھا حیا کے اوپر جھکا ہوا کل رات کا اس سے شکوہ کر رہا تھا۔۔۔ حیا ابھی بھی پھٹی پھٹی آنکھوں سے اس کو گھور رہی تھی معاویہ نے آہستہ سے اپنے ہاتھ اس کے ہونٹوں سے ہٹائے پھر اس کا حیرت زدہ چہرہ دیکھ کر ہلکی سی اسمائل دی
"گڈ مارننگ بےبی" معاویہ بولتا ہوا اپنے ہونٹ حیا کے ہونٹوں کے قریب لایا،، تبھی حیا نے پوری طاقت سے زوردار چٹکی اس کے بازو میں بھری" وہ ایک دم پیچھے ہوا
"پیچھے ہٹو بےہودہ انسان آئے بڑے گڈ مارننگ"
حیا اٹھ کر بیٹھی،، اب وہ بیٹھا ہوا حیا کو گھور رہا تھا حیا نے اس کو دیکھا اور فورا ہاتھ اپنی آنکھوں پر رکھ لیا
"چھی شرٹ پہنو اپنی، بے شرم کہیں کے"
حیا کے اس طرح ایکٹ پر معاویہ کو ہنسی آئی وہ بیڈ پر پڑی ہوئی شرٹ پہننے لگا حیا نے ہلکا سا ہاتھ نیچے کر کے معاویہ کو دیکھا تو وہ اس کی طرف ہی مسکراتا ہوا دیکھ کر اپنی شرٹ کے بٹن بند کر رہا تھا
"تم یہاں بیڈروم میں کیا کر رہے ہو" اب حیا نے آنکھوں سے ہاتھ ہٹاتے ہوئے کہا
"ٹی ٹوئینٹی کھیل رہا تھا"
نارمل انداز میں جواب دیتا ہوا وہ واش روم چلا گیا
حیا وارڈروب سے اپنا ڈریس نکالنے لگی ڈریس لے کر وہ واش روم کی طرف گئی
"نکلو بھئی کیا واش روم میں سو گئے ہو تم۔۔۔ دو ٹکے کے پولیس والے باتھ لینا ہے مجھے جلدی نکلو"
حیا نے واش روم کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہوئے کہا
تھوڑی دیر میں وہ ٹریک سوٹ پہن کر باہر نکلا اور سنجیدگی سے حیا کو دیکھنے لگا اس کے اس طرح دیکھنے پر حیا نے اپنا ڈریس اپنے شولڈر پر رکھا اور دونوں ہاتھ اپنی کمر پر رکھ کر ابرو اچکا کر اس سے پوچھا
"کیا ہے"
حیا کے پوچھنے پر وہ ایکدم قریب آیا حیا کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام کر اس کے گلابی ہونٹوں پر اپنے پیار کی مہر لگا کر الگ ہوا
"گڈ مارننگ"
کہہ کر روم سے باہر نکل گیا حیا منہ اور آنکھیں کھول کر اسے جاتا ہوا دیکھنے لگی
"یعنی میں اسے صحیح دو ٹکے کا پولیس والا کہتی ہوں"
جاری ہے
[10:01 PM, 5/2/2019] Nida baji: 🌹: itni mohbat karo na 2
By zeenia sharjeel
Epi # ³¹
ولیمے کی تقریب اپنے عروج پر تھی فوٹو شوٹ کے لیے کیمرہ مین معاویہ اور حیا کے ساتھ ڈریسنگ روم میں موجود تھا جو کہ فل رومینٹک پوز بنواکر ان دونوں کی تصویریں لے رہا تھا،، جس پر معاویہ تو فل انجوائے کر رہا تھا اور کیمرہ مین کی ہر بات جتنی تابعداری سے مان رہا تھا اتنی تعبیداری سے زندگی میں شاید ہی پہلے کسی اور کی بات مانی ہو،،، اس کے برعکس حیا صرف گھور کر کھا جانے والی نظروں سے معاویہ کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔ وہ فوٹو شوٹ کے لیے تیار بھی نہیں تھی مگر حور نے منتیں کر کے اسے منایا تھا تاکہ تانیہ اور اشعر کو تصویریں بھیجوا سکے
"سر پلیز تھوڑا سا میڈم کے قریب ہوکر اپنے ہیڈ کو ہلکا سا ڈاؤن کریں"
کیمرے مین نے معاویہ سے کہا
"اتنا صحیح ہے" معاویہ نے تقریبا ہی فاصلہ کم کرتے ہوئے کہا جس پر حیا صرف دانت پیس کر رہ گئی
"نہیں سر تھوڑا سا دور ہوجائے"
کیمرہ مین گڑبڑا کر بولا
"میم اب ذرا پیار سے سوری میرا مطلب ہے مسکرا کر سر کو دیکھیں"
کیمرہ مین کب سے حیا کو بولنا چاہ رہا تھا مگر اس کے تیوری پر بل دیکھ کر بول نہیں پا رہا تھا
"شٹ اپ ایک دو پوز بنواؤں اور اپنا کام ختم کرو جلدی سے"
حیا نے کیمرے مین کو گھور کر کہا
"مائنڈ نہیں کرنا یار میم نے صبح صبح ہری مرچیں چبالی تھی جس کا ذائقہ ابھی تک انہیں محسوس ہو رہا ہے" معاویہ نے کیمرہ مین سے معذرت کرتے ہوئے حیا کو دیکھ کر کہا
"اٹس او کے سر۔۔
سر اب آپ بیک پر جائیں اور میم آپ اسٹریٹ کھڑی رہیں صرف گردن موڑ کر سر کو دیکھیں سر آپ اپنا ہاتھ میم کے شولڈر پر رکھیں اور نظریں تھوڑی سا جھکائے معاویہ نے حیا کے ہونٹوں کو دیکھا
"روم میں بھی مجھے کچا چبا جانے والی نظروں سے دیکھتی ہوں یہاں تو پیار سے دیکھ لو"
ہلکی سی سرگوشی حیا کے کان میں کی
"اوکے سر اب آپ میم کے سامنے آکر میم کو کمر سے ہولڈ کریں"
کیمرہ مین کے بولتے ہی حیا نے گھور کر کیمرے مین کو دیکھا
"اوکے سر رہنے دیں" کیمرہ مین حیا کی نظروں سے ڈر کر بولا
"نہیں یار آپ جاری رکھو یہ بہت اچھا پوز ہے"
معاویہ نے سنجیدہ انداز میں کہہ کر حیا کی کمر کو اپنے دونوں ہاتھوں سے تھاما،، حیا آنکھوں میں غصہ لیے ہوئے اسی کو دیکھ رہی تھی اور وہ اس کی حالت سے خط اٹھا کر معاویہ نے ہلکا سا اس کی کمر پر ہاتھ سے دباؤ ڈالا مگر چہرے پر ہنوز سنجیدگی کے اثار رکھے ہوئے حیا کو دیکھ رہا تھا
"بالکل شولا شبنم کی جوڑی لگ رہی ہے ہماری جوڑی"
معاویہ نے دوبارہ سرگوشی کی
کیمرہ مین مختلف اینگل سے تصویریں کھینچنے میں لگا ہوا تھا
"اوکے سر، اوکے میم تھینکیو۔۔۔"
اپنا کام ختم کرتے ہوئے کیمرہ مین بولا اور روم سے باہر چلا گیا
"کیا فضول کی ہانک رہے تھے تم اس کے سامنے۔۔۔ اور بالکل اپنے جیسا ہی کوئی چھچورا ٹائپ کیمرہ مین ہائر کیا ہے تم نے"
حیا نے کیمرہ مین کے نکلتے ہی معاویہ کو گھورتے ہوئے کہا
"کیو بےبی انجوائے نہیں کیا مجھے تو بہت مزا آیا۔۔۔۔ میں تو سوچ رہا ہوں اس سے معلوم کرو کہ اگر ڈیلی کے پندرہ بیس روز اس طرح کت پوز بنوائے جائیں تو کیا چارجز ہوگے"
لائٹ پنک اور پرپل کلر کے کمبینیشن کی میکسی میں وہ بالکل گڑیا لگ رہی تھی معاویہ نے اس کے روپ کو اپنی آنکھوں میں اتارتے ہوئے کہا
"تم اپنی ان معصوم حسرتوں پر ایسے ہی آنسو بھاؤ۔۔۔۔ باہر جانا ہے مجھے فرینڈز ویٹ کررہی ہیں میرا"
حیا نے اسے تپاتے ہوئے کہا اور صوفے سے اٹھنے لگی مگر لونگ میکسی ہونے کی وجہ سے میکسی ہیل کے نیچے آئی اور اس سے پہلے وہ صوفے پر دوبارہ گرتی معاویہ نے اسے کمر سے اسے تھام لیا
"معاویہ مراد آنسو نہیں بہاتا بلکہ پنگا لینے والوں کی آنکھوں میں انسوں کا سبب ضرور بنتا ہے۔۔۔۔ صرف تمہیں وقت دے رہا ہوں اپنے مائنڈ کو میک اپ کرو اور اپنے اس بھیجے میں یہ بات بٹھاو کہ اب تمہیں میرے ساتھ رہنا ہے، میرے گھر میں، میری بیوی بن کر۔۔۔ ورنہ تمہارا نخرہ صبح دو منٹ میں نکال سکتا تھا اور نکال سکتا ہوں۔۔۔ آؤ تمھیں باہر لے چلو"
معاویہ نے حیا کی کمر سے اپنے ہاتھ ہٹا کر اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے کہا اور اسے باہر لے جاکر اسٹیج پر صوفے پر بیٹھنے میں مدد اور خود اسٹیج سے نیچے اتر گیا
سوہنی فری زرش تینوں اسٹیج پر آئی اور حیا سے ملی
"ہائے قسم سے بہت پیارے لگ رہے ہو تم دونوں تو ایک ساتھ آتے ہوئے"
فری نہ حیا سے تعریف کرتے ہوئے کہا حیا زبردستی کا مسکرا دی
"حیا ارسل بھائی کی شادی میں تم کہہ رہی تھی پولیس والے تو رومانس کے معاملے میں بالکل ٹھس ہوتے ہیں تو پھر کیسا ایکسپیرینس رہا تمھارا"
سوہنی نے دانت باہر نکالتے ہوئے پوچھا
"سوہنی تم چاہ رہی ہوں کہ میں اپنی اس سینڈل سے تمہارا میک اپ کرکے مزید منہ لال کر دو"
حیا کے بولنے پر باقی دونوں نے بھی دانت نکالے
"ارے چھوڑو یہ تو پوری چھپی رستم ہے ویسے تو اسے پولیس والے پسند نہیں تھے اور اپنے لئے خود اس نے پولیس والا چنا۔۔۔ مجھے تو اسی دن دال میں کالا لگ رہا تھا جب یہ معاویہ بھائی کا ایڈریس معلوم کر رہی تھی"
زرش کے بولنے پر ماہی اور فری بھی اس کی طرف متوجہ ہوئی
"یہ کب کا سین ہے" دونوں نے حیرت سے اظہار کیا
اور زرش نے ان دونوں کو پوری روادات سنای
***
"لوگ اتنے حسین لگ رہے ہیں انہیں فرصت ہی نہیں ہے اپنے عریب قریب بھی نظر اٹھا کر دیکھ لیں"
صنم جو کہ فریحہ کو دیکھنے کے لئے بینکویٹ سے نکل رہی تھی اچانک اسے ہادی کی آواز اپنے پیچھے سے سنائی دی
"ہادی آپ"
صنم نے آنکھوں میں ڈھیر ساری حیرت لیتے ہوئے کہا،، وہ مسکرا کر اسی کو دیکھ رہا تھا
"کیا ہوا میرا آنا کیسا لگ رہا ہے اچھا یا برا"
ہادی نے ادکی حیرت زدہ آنکھوں میں جھانک کر کہا
"بالکل ایک خواب سا"
ہادی کو اتنے دنوں بعد سامنے دیکھ کر وہ باقی دنیا کو بھول گئی
"یہاں اپنا ہاتھ دو تمہیں یقین دلاؤں کہ یہ خواب نہیں حقیقت ہے"
ہادی نے اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے کہا وہ ابھی بھی خواب کی سی کیفیت میں ہادی کو دیکھ رہی تھی
"آؤچ"
ہادی نے اس کے ہاتھ پر چٹکی کاٹی تو ہوش کی دنیا میں آئی
"یہ کیا تھا"
صنم نے ابھی بھی انکھوں میں حیرت سمائے ہوئے بولا
"یقین دلارہا تھا تمہیں کہ یہ خواب نہیں ہے"
ہادی نے مسکرا کر کہا تو وہ بھی روشن آنکھیں لیے مسکرادی
"آپ مجھ سے ناراض تو نہیں ہیں"
صنم نے ہادی کو دیکھتے ہوئے کہا
"میرے چہرے سے یا میری آنکھوں سے تمہیں ناراضگی چھلکتی ہوئی نظر آ رہی ہے"
ہادی نے بغور اس کا چہرہ دیکھتے ہوئے صنم سے پوچھا صنم نے نفی میں گردن ہلائی
"تو پھر کیا نظر آ رہا ہے"
ہادی اب بھی غور سے صنم کو دیکھ کر پوچھ رہا تھا اس کے سوال پر وہ بلش کرنے لگی
"صنم یہاں کیا کر رہی ہو"
اچانک معاویہ کی آواز پر ان دونوں نے چونک کر معاویہ کو دیکھا جو کہ اپنے ماتھے پر لاتعداد شکنیں سجائے ہوئے ہادی کو غصے سے دیکھ رہا تھا مگر مخاطب صنم سے تھا
"ارے بھائی یہ دیکھئے ہادی میں نے آپ سے اس دن ملوایا تھا"
صنم نے معاویہ کے تاثرات پر غور سے کرے بناء ہادی کی ملاقات کا دوبارہ سے یاد کرواتے ہوئے بتایا
"میں نے تم سے یہ نہیں پوچھا ہے کہ یہ کون ہے یا پھر اس کا تعارف کراو بلکہ یہ پوچھا ہے کہ تم یہاں کیا کر رہی ہو"
معاویہ نے اب بھی غصے سے صنم کو دیکھتے ہوئے کہا جس پر صنم نے حیرت سے معاویہ کو دیکھا اسے معاویہ کا یوں بلاوجہ کا غصہ سمجھ میں نہیں آیا دوسری طرف ہادی کو معاویہ کا اس طرح غصے میں کھولنا اندر کہیں سکون دے رہا تھا
"تم صنم سے اس طرح بات نہیں کرسکتے، ایسا کچھ نہیں کر رہی تھی وہ یہاں پر جو تمہیں یوں غصہ آگیا"
ہادی نے مزید تیلی کا کام کیا
"تم اپنی زبان کو لگام دو،،، میں اپنی بہن سے بات کر رہا ہوں ہماری بیچ میں بولنے کی ضرورت نہیں ہے"
معاویہ نے اب اپنے غصے کو کنٹرول کرتے ہوئے ہادی کو دیکھ کر کہا ورنہ اس کا دل تو کر رہا تھا ہادی کو ایک اور تھپڑ لگائے مگر گیسٹ اور ایونٹ کو دیکھ کر وہ کنٹرول کر گیا
"صنم چلو یہاں سے ہو فریحہ کے پاس جا کر بیٹھو اور دوبارہ اپنی جگہ سے اٹھنے کی ضرورت نہیں ہے" معاویہ نے مڑ کر سرد تاثرات کے ساتھ صنم کو دیکھ کر کہا۔۔۔ جو آنکھوں میں نمی لائے ہوئے معاویہ کو دیکھ رہی تھی اور چپ کر کے وہاں سے چلی گئی
"میری بہن سے دور رہنا ہادی،، یہ میں تمہیں لاسٹ ٹائم منہ سے سمجھا رہا ہوں اگر اب تم مجھے صنم کے اردگرد گھومتے ہوئے نظر آئے تو تم سوچ بھی نہیں سکتے میں تمہارے ساتھ کیا کروں گا"
معاویہ کی آنکھیں غصے اور ضبط سے سرخ ہو گئی اور ہادی کو اس کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ کر بڑا مزہ آیا ہے
"ریلکس یار آج تمھارا ولیمہ ہے انجوائے کرو۔۔۔ تم تو ابھی سے رو رہے ہو"
اس سے پہلے معاویہ اس کا گریبان پکڑتا ہادی مسکراتا ہوا وہاں سے چلا گیا
اب وہ زین اور بلال سے مل رہا تھا،، زین خضر سے ہادی کا تعارف کروا رہا تھا۔۔ معاویہ کا موڈ اس کی شکل دیکھ کر اچھا خاصا خراب ہوچکا تھا وہ سر جھٹک کر اپنے کلیکس کے پاس آ گیا
**
"کونگریٹس مسسز معاویہ مراد"
ہادی نے اسٹیج پر آکر حیا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا
"تھینکس۔۔۔ تمہیں یہاں دیکھ کر خوشی ہوئی"
حیا نے ہادی کو دیکھ کر سنجیدگی سے کہا
"ہاں آنا تو تھا ہی آج وش کرنے کے لئے ایک مشورہ دوں اگر برا نہ مانو تو"
ہادی نہ حیا کو دیکھتے ہوئے کہا
"مشورہ اس قابل ہوا تو ضرور مانو گی" حیا نے مسکرا کر کہا
"تم ایک نئی زندگی کا آغاز کرنے جارہی ہوں جو کچھ بھی ہوا اس کو بھول جاؤں اور نئی زندگی کی شروعات کرو خوشی کے ساتھ"
ہادی نے حیا کو مخلصانہ مشورہ دیا
"مشورے کا شکریہ" حیا نے بغیر مسکرائے ہادی سے کہا
"تم ابھی تک گئے نہیں ہادی اپنے گھر،، کافی گیسٹ جاچکے ہیں تمہیں بھی اب نکلنا چاہیے"
معاویہ نے اسٹیج پر آتے ہوئے ہادی کہا اور حیا کے کندھے کے گرد اپنا ہاتھ رکھ کر کھڑا ہو کر اس کے جواب کا انتظار کرنے لگا
"بس جانے ہی والا تھا ویسے بھی جس کام کے لئے آیا تھا وہ ہوگیا"
ہادی نے جاتے جاتے معاویہ کو سلگایا
"باہر کا راستہ اس طرف ہے"
معاویہ نے انگلی کے اشارے سے ہادی کو بتایا۔۔۔ حیا ان دونوں کے فیس ایکسپریشن دیکھ رہی تھی معاویہ جوکہ غصہ کنٹرول کررہا تھا اور ہادی کے چہرے پر پراسرار مسکراہٹ تھی جسے حیا سمجھنے سے قاصر تھی
"وہ چلا گیا ہے اپنا ہاتھ ہٹاؤ"
حیا نے اپنے کندھے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے معاویہ کو کہا
"تو کیا ہوا بےبی دنیا تو ہماری طرف ہی دیکھ رہی ہے نا۔۔۔ آج ہمارا ولیمہ ہے تو سب کے سامنے لونگ اور ہیپی کپل کی ایکٹینگ تو کرنی ہے نا"
وہ محبت بھری نظروں سے حیا کا چہرہ دیکھ کر،، اس سے کہ رہا تھا حیا نے ایک نظر اسٹیج کے نیچے کھڑے زین اور حور کو دیکھا جو اپنی کسی بات پر مسکراتے ہوئے معاویہ اور حیا کو ہی دیکھ رہے تھے
"اتنی اسمائل ٹھیک ہے"
حیا نے بہت پیار سے مسکرا کر معاویہ کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا
"تھوڑی کم کرو یہ تو میری جان لے لے گی"
معاویہ پیار لوٹانے والی نظروں سے اس کو دیکھ کر کہنے لگا
"چھچھوری نظروں سے مجھے دیکھنا بند کرو اور مجھ سے آب اور ایکٹنگ نہیں ہورہی"
حیا نے زبردستی مسکراتے ہوئے کہا
"کیا ہوا تھکی تھکی لگ رہی ہو"
حیا کے چہرے پر تھکن کے اثرات دیکھ کر اب وہ سچ میں فکرمندی سے بولا
"اس ہیوی ڈریس اور ہیوی میک اپ میں میں فل بیزار ہو رہی ہوں"
حیا نے چڑتے ہوئے کہا
"اوکے میں ڈرائیور سے کہتا ہوں تمہیں اور صنم کو گھر چھوڑ آئے گا"
معاویہ نے گھڑی میں ٹائم دیکھتے ہوئے کہا
تقریب ویسے بھی ختم ہو گئی تھی وہ اس کانرمی سے ہاتھ تھام کر اسٹیج سے اترنے میں اسے مدد دینے لگا
جاری ہے

0 comments:
Post a Comment