Wednesday, May 1, 2019

itni mohbbat karo na (season 2) episode 29

itni mohbat karo na
By zeenia sharjeel
Epi # 29


"کیا ہوا ابھی تک ہو"
برات کے فنکشن سے واپس آنے کے بعد زین نے حور کے پاس بیٹھتے ہوئے کہا جو کہ خاموشی سے صوفے پر بیٹھی ہوئی تھی

"اداس نہیں ہوں تو پھر اور کیا ہووں،، ایک ہی بیٹی تھی وہ بھی آج دور چلی گئی"
حور نے افسردہ لہجے میں کہا

"اسے تو ایک نہ ایک دن جانا تھا،، بیٹیاں جب گھر میں پیدا ہوتی ہے تو ماں باپ کو تب ہی سوچ لینا چاہیے کہ ان کلیوں کو کسی اور کا گھر مہکانا ہے"
زین نے حور کا ہاتھ تھامتے ہوئے کہا

"شاہ ہم نے بہت جلدی حیا کی شادی کردی"
حور نے اپنا سر زین کے کندھے پر رکھتے ہوئے کہا شاید وہ بہت زیادہ حیا کی کمی کو محسوس کر رہی تھی

"اگر دیر سے کرتے تو تب بھی وہ ہمہیں چھوڑ کر جاتی اور ہم تب بھی یوں ہی اداس بیٹھے ہوتے" زین نے پھیکی سی مسکراہٹ کے ساتھ حور کے گال تھپتھپاتے ہوئے کہا

"اور ویسے بھی تم ہر وقت تو اس کے پیچھے پڑی رہتی تھی اور اب جب وہ چلی گئی ہے تو اس طرح اداس ہو رہی ہو"
زین نے حور کو چھیڑتے ہوئے کہا

"پیچھے پڑی رہتی تھی اس کا یہ مطلب تھوڑی ہے کہ محبت نہیں کرتی تھی،،، جو بھی بولتی تھی اس کے بھلے کے لئے ہی بولتی تھی"
حور نے اپنا سر زین کے کندھے سے اٹھا کر اس کو دیکھتے ہوئے کہا

"ویسے میں ایک بات سوچ رہا ہوں سویٹ ہارٹ،،، ابھی تھوڑی دیر پہلے تم نے کہا ایک ہی بیٹی تھی آج وہ بھی چلے گی،، تو کیوں نہ ہم حیا کہ بہن بھائی لانے کا سوچیں"
زین نے آنکھوں میں شرارت سماتے ہوئے حور کو دیکھ کر کہا

"شاہ تم فضول انسان ہی رہنا اب ڈیسنٹ بن جاؤ تھوڑے سے"
حور نے اس کی بات پر اپنی ہنسی دباتے ہوئے کہا اور صوفے سے اٹھ گئی

اس طرح زین اپنی پری کی اداسی مٹانے میں کامیاب ہو گیا

**

"کیا ہوا تھک گئے" فضا نے بلال سے کہا جو کہ بیڈ کے کراون سے سر ٹکائے ہوئے کسی سوچ میں گم تھا

"نہیں تھکا تو نہیں مگر آج دل بہت اداس ہو رہا ہے یہ سوچ کر کہ کتنا اچھا ہوتا حیا ہمارے گھر میں آتی جب سے تم نے بتایا تھا ہادی حیا کو پسند کرتا ہے یقین جانو میں نے دل سے خواہش کی تھی کہ حیا کی ہادی سے شادی ہو جائے"
بلال نے فضا سے اپنا دل ہلکا کرتے ہوئے کہا

"سب قسمت کی بات ہوتی ہے بلال اس کا نصیب ہمارے ہادی کے ساتھ نہیں جڑا تھا اور ویسے بھی جوڑے آسمانوں پر بنتے ہیں"
فضا نے سنجیدگی سے بلال سے کہا

"ٹھیک کہ رہی ہو تم ہے،،،، کہاں پر ہادی"
بلال نے فضا سے پوچھا

"اپنے روم میں ہی ہے شام سے اپنے آپ کو بند کیا ہوا ہے اس نے بلال،،، اس کو اس طرح دیکھ کر مجھے دکھ ہوتا ہے،،، پلیز اس کے لئے کچھ سوچوں اس طرح وہ اندر ہی اندر گھل رہا ہے"
فضا نے آنکھوں سے نمی صاف کرتے ہوئے کہا

"کیا کرایا بھی اسی کا ہے خیر زین کو بتایا تھا میں نے کرتے ہیں کچھ۔۔۔ ظاہری بات ہے اولاد ہے اس کی خوشی کے مطابق ہی چلنا پڑے گا"
بلال کہتا ہوا بیڈ پر لیٹ گیا اور اپنے سائڈ کا لیمپ بند کردیا

***

"کیا نیند ہے آ رہی تھی آپ کو"
ناعیمہ نے ٹیرس میں کھڑے خضر سے پوچھا

"نہیں یہاں تو میں ویسے ہی کھڑا ہوں، آج نیند تو مجھے بہت سکون کی آئے گی"
خضر نے چاند کو دیکھتے ہوئے کہا

"تم معاویہ کی شادی سے خوش ہوں"
اب بھی دیکھ وہ چاند کو رہا تھا مگر سوال ناعیمہ سے کیا

"ظاہری بات ہے معاویہ میرا بیٹا ہے، اس کی خوشی میں کیوں نہیں خوش ہو گی۔۔۔۔ ویسے بھی صنم بالکل ٹھیک کہتی ہے آپ دونوں کی عادتیں ایک جیسی نہیں،، مگر چوائس بالکل ایک جیسی ہے"
ناعیمہ کے کہنے پر خضر نے چونک کر اس کو دیکھا

"ناعیمہ اگر تمہارا اشارہ حور کو لے کر ہے تو ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا۔۔۔ حور میرا ماضی تھا تم میرا مستقبل ہوں میری بیوی میرے بچوں کی ماں،،، اگر میں لفظوں سے یا اپنے رویے سے اگر بیان نہ کرو تو ایسا ہرگز نہیں ہے کے میں تمہاری ذات کو فراموش کیا ہوا ہے،،، تمہاری اہمیت اپنی جگہ ہے میری زندگی میں"
خضر نے ناعیمہ کو دیکھتے ہوئے کہا

"آپ نے کہا آپ کو آج سکون کی نیند آئے گی تو اتنے سالوں سے بے سکونی کی وجہ جان سکتی ہوں"
ناعیمہ نے تھوڑا ڈرتے اور جھجھکتے ہوئے خضر سے سوال کیا

"نعیمہ میں نے حور سے محبت کی تھی، مگر اس کا ساتھ میری قسمت میں نہیں لکھا تھا اور اس بات کو لے کر کہ وہ میری قسمت میں نہیں ہے میں نے سالوں اپنے اندر خود سے جنگ کی،،،، تم میری زندگی میں آئی معاویہ اور صنم آئے ۔۔۔۔ وہ جنگ جو میں خود سے لڑتا تھا خود ہی ختم کردی لیکن اس وقت تک میں نے تمہارے ساتھ ساتھ اپنے بچوں کو بھی اپنے آپ سے دور کردیا۔۔۔ مگر کہتے ہیں نہ وقت لوٹ کر واپس نہیں آتا بہت دیر لگی مجھے یہ سمجھنے میں کہ آپ دنیا میں سب سے جنگ کر سکتے ہیں مگر خدا سے نہیں۔۔۔۔ اس دن معاویہ نے کہا نیناں سے شادی کر کے وہ دوسرا خضر مراد نہیں بننا چاہتا وہ بات میرے دل کو لگی میں واقعی اسے دوسرا خضر مراد بنتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتا تھا بے شک میرے اور معاویہ کے مزاج نہیں ملتے عادتیں نہیں ملتی مگر ہے تو وہ میرا ہی خون، میرا بیٹا،، اس کی آنکھوں سے چھلکتی خوشی اور چہرے کی رونق دیکھ کر آج میں بہت خوش ہوں اور دوسری طرف زین اور حور نے بھی سب بھلا کر مجھے گلے لگایا یعنی مجھے معاف کیا۔۔۔ تو میں اپنے آپ کو بہت ہلکا پھلکا محسوس کر رہا ہوں"
خضر نے تفصیل سے ناعیمہ کو بتایا تو ناعیمہ مسکرا دی اور ٹیرس سے جانے لگی

"اور ایک بات اور ناعیمہ جو میں آج تک نہیں کہہ پایا"
خضر چلتا ہوا ناعیمہ کے پاس آیا اور اس کا ہاتھ تھام کر بولا

"میں جانتا ہوں میں کبھی کبھی تمہیں بہت ہرٹ کرتا ہوں کافی روڈ میں ہو جاتا ہوں یقینا تمہارا دل بھی دکھتا ہوگا مگر تم کبھی بھی آگے سے شکوہ نہیں کرتی مگر یہ سچ ہے کہ میں دل سے اس بات کو مانتا ہوں تم ایک اچھی ماں ہونے کے ساتھ ساتھ بہت اچھی بیوی ہو"
خضر کی بات مکمل ہونے پر ناعیمہ آنکھوں میں نمی لیے ہوئے مسکرا دی

***

بیڈ روم کا دروازہ بند کرکے وہ حیا کے پاس آیا حیا نے چاروں طرف اس کے روم کا جائزہ لیا کھلا کشادہ بیڈروم اس کا فرنیچر ترتیب سے سیٹ کر کے رکھا گیا تھا معاویہ کے منع کرنے کے باوجود زین نے حیا کو جہیز میں ہر چیز دی تھی۔۔۔ معاویہ بیڈ کے قریب آیا تو حیا بیڈ سے اٹھ کر کھڑی ہوئی اس سے پہلے وہ حیا کو مخاطب کرتا حیا نے اپنا رخ ڈریسر کی طرف کیا اور آئینے میں اپنا سراپا دیکھتے ہوئے آہستہ آہستہ انگلیوں سے اپنی رینگز اتارنے لگی معاویہ چلتا ہوا اس کے پاس آیا

"ابھی نہیں بےبی ابھی تو میں نے جی بھر کے تمہیں دیکھا تک نہیں"
معاویہ اس کے پیچھے کھڑے ہوکر آئینے میں سے اس کا چہرہ دیکھ کر مخاطب ہوا

"میں تھک گئی ہو ریلیکس ہونا چاہتی ہوں"
حیا نے چوڑیاں اتارتے ہوئے بغیر دیکھے معاویہ کو جواب دیا

"اوکے جیسے تم ایزی فیل کرو،، میں کچھ ہیلپ کرو"
یہ کہنے کے ساتھ ہی معاویہ نے اس کے مہارت سے سیٹ کیے ہوئے دوپٹے کی پنز کھولنی شروع کری۔۔۔ حیا نے ایک سنجیدہ نظر آئینے میں سے معاویہ پر ڈالی تو وہ آئینے میں حیا کے دیکھنے پر ہلکا سا مسکرایا حیا نے دوبارہ نگاہیں نیچے جھکا کر دوسرے ہاتھ کی چوڑیاں اتاری۔۔۔۔ دوپٹہ ایک طرف تہہ کر کے رکھ کر اب وہ حیا کے گلے کا نیکلس اتار رہا تھا حیا نے اپنے کانوں کو بھاری جھمکوں سے آزاد کیا جن کا بوجھ اٹھائے ہوئے اس کے کان کافی دکھ چکے تھے۔۔۔۔ معاویہ نے حیا کے شولڈر کو اپنے لبوں سے چھوا اور بازو سے پکڑ کر اس کا رخ اپنی طرف کیا

"اے خفا ہو ناں مجھ سے میں نے بہت ہرٹ کیا ہے تمہیں،، پر وہ سب کچھ تمہیں پانے کے لئے تھا، تمہیں خود علم نہیں تم نے پہلی نظر میں ہی پورا کا پورا معاویہ مراد تخسیر کر لیا تھا، اس لیے تمہیں اپنی زندگی میں شامل کرنا لازمی ہو گیا تھا۔۔۔۔ تمہیں اندازہ نہیں ہے کہ کتنی شدت سے میں نے اس گھڑی کی دعا کی ہے خدا سے کہ جب میں تمہیں پورے استحقاق سے اپنا کہہ سکوں،،، آج تم میری شدتیں دیکھ کر خود ہی اندازہ لگا سکوں گی کہ تمہیں پانے کی حاصل کرنے کی جستجو یوں ہی بے وجہ نہیں تھی۔۔۔ آج میں اپنی تشنگی دور کرنے کے ساتھ ساتھ تمہارے ساتھ کی جانے والی ہر زیادتی کا مداوا کر دوں گا"

معاویہ نے اپنا حال دل سناتے ہوئے حیا کے دونوں ہاتھ نرمی سے تھام کر اپنی شولڈر پر رکھے اور اپنے دونوں ہاتھ اسکی کمر کے گرد حائل کرتے ہوئے تھوڑا بہت رہا سہا فاصلہ بھی ختم کیا جیسے ہی وہ حیا کے ہونٹوں کی طرف جھکا حیا نے اپنے چہرے کا رخ دوسری سائیڈ پر کیا  معاویہ کی نگاہ اس کی گردن پر گئی معاویہ نے جھک کر اپنے ہونٹ حیا کی گردن پر رکھے اور اپنی محبت کی پہلی مہر پورے استحقاق سے ثبت کی۔۔۔۔ حیا نے اپنی آنکھوں سختی سے بند کی اور اپنے دونوں لب بیچے۔۔۔۔ معاویہ کے شولڈر سے اپنا ہاتھ ہٹایا تو معاویہ نے مزید اپنے بازوں کا گھیرا مضبوط کیا۔۔۔ ابھی وہ اس کی گردن پر جھکا ہوا تھا جب اس کو اپنے پیٹ پر کوئی چیز چبھتی ہوئی محسوس ہوئی معاویہ نے اپنے پیٹ کی طرف دیکھا اور  بے ساختہ اس کی نظریں حیا کے چہرے پر گئی۔۔۔ حیا سنجیدگی سے اسی کو دیکھ رہی تھی معاویہ نے اپنے ہاتھ حیا کی کمر سے ہٹائے


جاری ہے

0 comments:

Post a Comment