Wednesday, May 1, 2019

itni mohbbat karo na (season 2) episode 62 final episode

Itni mohhbat karo na
by zeenia sharjeel
❤last epi❤




"تم یہاں کیوں آئے ہوئے"
اویس شیرازی نے ساحر سے پوچھا جو کہ جیل میں ملاقات کرنے آیا تھا

"آف کورس ڈیڈی آپ سے ملنے آیا ہوں کیسے ہیں آپ، کیا حال کر لیا ہے آپ نے ایک ہفتے میں اپنا"
ساحر نے باپ حالت پر ترس کھاتے ہوئے بولا

"یہ حالت میں نے نہیں بلکہ اس اے۔ایس۔پی نے میری بنائی ہے، موقع سے فائدہ اٹھا کر بدلہ تو میں نے لیا تھا اس سے، مرا نہیں ہوگا مگر تڑپ ضرور رہا ہوگا اسپتال میں میری گولی کھا کر"
اویس شیرازی نے حقارت سے ذکر کرتے ہوئے ساحر کو بتایا

"کچھ نہیں ہوا اسے ڈیڈ قسمت اچھی ہے اس سالے کی گولی بھی چھو کر نکل گئی لیکن اب میں ایسا سبق سکھاو گا جو ساری زندگی یاد رکھے گا اور تڑپے گا"
ساحر نے بدلے کی آگ میں جل کر کہا

"تم ایسا کچھ نہیں کرو گے ساحر، کم ازکم جب تک میں باہر نہ آ جاؤ، وکیل نے ابھی تک کانٹیکٹ کیوں نہیں کیا مجھ سے بیل کے کاغذات تیار کرو آؤ اس سے"
اویس شیرازی نے ساحر کو کہا

"کینسل ہوگئی بیل آپ کی، اس سالے نے بڑی بری طرح گھیرا ہے جتنے بھی ایویڈنس ملے ہیں سب آپ کے خلاف ہیں اور کافی اس اسٹرونگ ہیں۔۔۔۔ آپ کے دوست بھی پیچھے ہٹ گئے کوئی مدد کو تیار نہیں، سب برباد کر دیا اس نے اور آپ مجھے کہہ رہے ہیں ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جاو"
ساحر نے غصے میں کہا

"ساحر تم جوش سے نہیں ہوش سے کام لو تمہارا کوئی بھی غلط قدم مجھے تو کیا تمہیں بھی مشکل میں ڈال سکتا ہے میں اپنے لیے کچھ نہ کچھ کر لوں گا تم اس وقت ملک سے باہر نکلنے کی کرو جلد از جلد"
اویس شیرازی نے اپنے جذباتی بیٹے کو مشورہ دیا وہ اپنے بیٹے کی جذباتی نیچر کو خوب سمجھتا تھا

ضبط کر لیا گیا ہے میرے پاسپورٹ جب تک آپ کے خلاف کیس چل رہا ہے ملک چھوڑ کر میں بھی نہیں جاسکتا بتایا تو ہے بہت بڑا جال بچھایا ہے اس اے۔ایس۔پی نے" ساحر بولتا ہوا وہاں سے چلا گیا

"ساحر رکو میری بات سنو ابھی کچھ غلط مت کرنا"
اویس شیرازی نے پیچھے سے آواز دے کر کہا مگر جب تک ساحر جا چکا تھا

**

"مما بابا میں آپ دونوں کو بہت مس کروں گی" حیا نے زین اور حور سے ملتے ہوئے بولا

"معاویہ ہے نہ بیٹا تمہارے پاس وہ تمہارا خیال رکھے گا اور تم اس کا خیال رکھنا"
زین نے حیا کو پیار کرتے ہوئے کہا

زین حور بلال فضا خضر اور نعیمہ گروپ کی صورت میں حج کی ادائیگی کے لیے جا رہے تھے۔۔۔ معاویہ حیا ہادی اور صنم ان کو چھوڑنے ایئرپورٹ پر آئے ہوئے تھے

"بس صنم کافی دن تم ہمارے پاس رہ لی بیٹا، اب تمہیں ہادی کے ساتھ جانا چاہیے وہ اکیلا کیسے مینیج کرے گا"
 ناعیمہ نے صنم کو پیار سے سمجھاتے ہوئے کہا

"جی مام"
 صنم نے ایک نظر ہادی پر ڈالی جو اسی کو دیکھ رہا تھا پھر نظر جھکا کر ناعیمہ کو جواب دیا

"مام ڈیڈ آپ دونوں اپنا خیال رکھیے گا، یہاں کی بالکل فکر نہیں کرئیے گا میں آفس دیکھ لوں گا ڈیڈ۔۔۔ آپ آفس کی طرف سے بالکل ٹینشن فری ہو جائے اور گھر اور آپ کی بہو کو بھی اچھے سے سنبھال لوں گا آپ فکر نہیں کریں" معاویہ کی بات پر جہاں افسردہ شکل لیے ہوئے حیا نے اس کو گھور کر دیکھا وہی خضر ناعیمہ کے ساتھ زین اور حور بھی مسکرا دئیے

"صنم بیٹا میں صرف اتنا کہوں گی تم اپنا دل صاف کر لو ہادی کی طرف سے، اس طرح زندگی نہیں گزاری جاتی رشتے مزید کمزور ہو جاتے ہیں اس طرح دوریوں سے،، ہادی کو اپنی بات کرنے کا موقع دو وہ تمہارے لئے واقعی بہت پریشان ہے پلیز اب گھر چلے جانا اس کے ساتھ"
فضا نے آہستہ آواز میں صنم کو اپنی طرف سے سمجھایا

"جی آنٹی آپ بے فکر ہو کر حج کی ادائیگی اور اپنا فریضہ انجام دیں میں ایک اچھی بیوی بن کر اپنا فرض پورا کروں گی"
صنم نے آہستہ آواز میں فضا سے بولا

"مما بابا آپ دونوں ایک دوسرے کا بہت خیال رکھیئے گا"
ہادی نے بلال اور فضا سے بولا

"اور تم اپنا اور ہماری بہو کا خیال رکھنا"
بلال نے ہادی کو دیکھتے ہوئے کہا

اناؤنسمنٹ ہوئی تو سب الوداعی کلمات ادا کر کے آگے بڑھے

"کیا ہوگیا بےبی میں ہونا تمہارے پاس اس طرح اداس ہو گئی تو پھر میرا کیا ہوگا"
معاویہ نے حیا کے شولڈر پر ہاتھ رکھ کر آہستہ آواز میں  کہا جو کہ زین اور حور کو دور جاتا دیکھ کر رونے والی ہوگئی تھی

"پھر کیا پروگرام ہے چلنا ہے گھر یا ابھی بھی میکے روکنے کا موڈ ہے"
ہادی نے صنم کو دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے پوچھا

"ایک دو دن میں بھائی کے ساتھ آ جاؤں گی"
صنم نے سر جھکاتے ہوئے کہا

معاویہ اور حیا بھی ان دونوں کی طرف متوجہ ہوئے

"صنم آئی تھینک تمہیں اب ہادی کے ساتھ اپنے گھر جانا چاہیے، ہادی اکیلا ہے اسے اور اس کے گھر کو تمہاری ضرورت ہے"
معاویہ نے صنم کو دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے کہا

"او تو اب آپ کے گھر سے میرا تعلق نہیں ہے جو مجھے اپنے گھر سے نکل جانے کے لیے کہہ رہے ہیں"
صنم نے آنکھوں میں آنسو لاتے ہوئے معاویہ کو دیکھ کر کہا

"صنم معاویہ کا یہ مطلب ہرگز نہیں تھا"
حیا نے بولنا چاہا

"آپ بیچ میں مت بولئے میں آپ سے نہیں اپنے بھائی سے بات کر رہی ہوں" صنم نے بدتمیزی سے حیا کو بولا جس پر حیا کا چہرہ ایک دم اتر گیا۔۔۔۔ معاویہ نے پہلے صنم کو حیرت سے دیکھا پھر اس کے ماتھے پر ایک شکن ابھری

"صنم یہ تم کس لہجے میں بات کر رہی ہو"
ہادی جو اتنی دیر سے خاموش تھا ایک دم صنم سے بولا

"او آپ کو تو برا لگے گا ہی"
صنم نے ہادی کو دیکھتے ہوئے کہا ہادی اس کی بات کا مفہوم سمجھ ضبط کر کے رہ گیا

"دیکھو صنم تمہیں اچھا لگے یا برا مگر حقیقت یہی ہے لڑکی کا اصل گھر اسکا میکہ نہیں سسرال ہوتا ہے اس کے شوہر کا گھر۔۔۔ مجھے نہیں معلوم تم دونوں کے بیچ کونسی ایسی بات ہوئی ہے جس کی وجہ سے تم ہادی سے ناراض ہوکر یہاں پر آگئی ہو مگر وہ تم سے بات کرنا چاہتا ہے۔۔۔ تمہیں اس کی بات سننی چاہیے بہتر یہی ہے میاں بیوی کے بیچ کا معاملہ وہ دونوں آپس میں solve کریں۔۔۔ صنم تم میکے سو دفعہ آو مگر اس طرح ہادی سے ناراض ہو کر نہیں،، تم ابھی اور اسی وقت ہادی کے ساتھ جارہی ہوں اپنے گھر۔۔۔ اور ایک بات اور حیا کا کسی بھی معاملے سے کوئی لینا دینا نہیں ہے وہ سب کے ساتھ فیئر ہے،، آئندہ اس سے اس لہجے میں بات نہیں کرنا ورنہ مجھے بہت برا لگے گا"
معاویہ کے بات کرنے پر صنم آنکھوں میں شکوہ اور نمی لیے ہوئے وہاں سے نکل گئی۔۔۔۔ ہادی اس کے پیچھے جانے لگا جب معاویہ نے اسے پکارا

"رکو ہادی"
معاویہ کے پکارنے پر ہادی نے پیچھے مڑ کر دیکھا اور چلتا ہوا معاویہ کے پاس آیا

"اگر تم دونوں کے رشتے میں میری یا حیا کی وجہ سے دراڑ آرہی ہے۔۔۔ تو تم صنم کو ساری حقیقت بتا کر اس کی غلط فہمی دور کر دو"
معاویہ نے اترے ہوئے چہرے کے ساتھ ہادی سے کہا

"اچھا اگر اسے حقیقت پتہ چل جائے گی تو پھر کیا ہوگا۔۔۔ اپنے بھائی کے کارنامے جان کر تو وہ مزید گلٹ فیل کرے گی اور میں اس کی آنکھوں میں شرمندگی نہیں دیکھ سکتا کیونکہ اس سارے معاملے میں صنم کا بھی کوئی لینا دینا نہیں۔۔۔ یہ بھی تو ہوسکتا ہے سب کچھ جاننے کے بعد وہ تم سے مزید ناراض ہوجائے۔۔۔ تمہارہ چہرہ تو ابھی سے اترا ہوا ہے۔۔۔ حقیقت معلوم ہو جائے گی تو مزید اس کی ناراضگی برداشت کر پاؤ گے"
ہادی نے معاویہ سے سوال کیا

"تم دونوں کے بیچ تو سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا نہ۔۔۔ میں چاہتا ہوں صنم تمہارے ساتھ خوش رہے"
معاویہ نے ہادی سے کہا

"اور تم دونوں کو یہ نہیں لگتا کہ تم دونوں کے بیچ بھی سب کچھ ٹھیک ہونا چاہیے، سالے بہنوئی ہو تم دونوں کس طرح ایک دوسرے کو کاٹ کھانے کو دوڑتے ہو۔۔۔ کوئی دور کا رشتہ نہیں بہت قریبی رشتہ ہے تم دونوں کا اب، سب لوگ نوٹ کرتے ہیں تم دونوں کو"
حیا نے بیچ میں مداخلت کی تو وہ دونوں نظریں چرانے لگے

"معاویہ پہل کرنے سے کوئی جھک نہیں جاتا بڑے ظرف کا کہلاتا ہے"
حیا نے معاویہ کو دیکھتے ہوئے کہا

معاویہ نے ایک نظر حیا کو دیکھا اور پھر ہادی کو، ہادی کی طرف اپنے دونوں ہاتھ پھیلائے ہادی ایک پل لگائے بغیر اس سے بغل گیر ہوا

"میں اپنے رویے کی تم سے ایکسکیوز کرتا ہوں اور تمہارا شکر گزار ہوں تم نے صنم کو خوش رکھا، اس سے میرے کیے کا بدلہ نہیں لیا پلیز آگے بھی صنم کا خیال رکھنا اس کی غلط فہمی دور کردو وہ ناراض ہے مگر چاہتی ہے تمہیں"
معاویہ نے گلے ملتے ہوئے ہادی سے کہا

"صنم میری بیوی ہے تمہیں یہ کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ میں اس کا خیال رکھو اور رہی بات بدلہ لینے کی تو میں اتنا ظالم ہرگز نہیں ہوں جو بھائی کا بدلہ بہن سے لیتا۔۔۔ اس بات کی فکر نہیں کرو میں اسے منالوں گا"
ہادی نے معاویہ سے کو دیکھتے ہوئے کہا

"ویسے تو تم دونوں ہی دو کوڑی کے انسان ہو، مگر اس طرح بات کرتے ہوئے اچھے لگ رہے ہو" حیا نے ہنستے ہوئے ان دونوں سے کہا۔۔ ہادی حیا کی بات پر ہنسا تو معاویہ نے ہنسی دبا کر حیا کو گھورا

"آوکے اب تم دونوں اجازت دو میری بیگم، یقینا گاڑی میں بیٹھی ہوئی آنسو بہا رہی ہوگی"
ان دونوں سے ملتا ہوا ہادی چلا گیا

"تو جانم چلے ہم بھی"
معاویہ نے حیا کو دیکھتے ہوئے کہا

"تھوڑی دیر روکتے ہیں یہاں پر رونق ہے یہاں"
حیا نے معاویہ کو دیکھتے ہوئے کہا

"اور میرا اس رونق میں رومینس کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔۔۔گولی کیا چھو کر گئی مجھے، تم نے میرے چھونے پر پابندی لگا دی اور جاکر خود میکے بیٹھ گئی"
معاویہ حیا کا ہاتھ پکڑ کر گاڑی کی طرف لے کر آیا

"معاویہ بابا مما اتنے دنوں کے لیے جارہے تھے اس لیے صرف دو دن ان کے پاس روکنے کے لئے گئی تھی"
حیا نے معاویہ کو جتاتے ہوئے کہا

"صرف 2 دن،، اور ان دو دنوں میں پتہ ہے مجھ میں وٹامن k کی کتنی کمی ہو گئی تھی"
معاویہ نے شکوہ کرتے ہوئے حیا سے کہا

"اور یہ ویٹامن k کس میں پایا جاتا ہے"
حیا نے معاویہ سے پوچھا

"یہ کس میں نہیں kiss میں پایا جاتا ہے"
معاویہ نے معنی خیزی سے اس کو دیکھتے ہوئے کہا

"تم واقعی دو ٹکے کے پولیس والے ہو۔۔۔ تمہیں بھی حج پر جانا چاہیے تھا سب کے ساتھ"
حیا نے اپنی ہنسی دبا کر اس کو مشورہ دیا

"چلیں گے جانم وہاں پر بھی حاضری دیں گے مگر پہلے ببلو ڈبلو چنو منو پپو گڈو پنکی شنکی کو آ لینے دو"
معاویہ گاڑی اسٹارٹ کرتے ہوئے حیا سے بولا

"یہ سب لوگ کون ہے اور کب آرہے ہیں"
حیا نے حیرانگی سے معاویہ کو دیکھتے ہوئے پوچھا

"آف کورس جانم یہ سب ہمارے بچے ہیں اور ان سب کو لانے کے لئے ہمیں آج سے ہی کوشش کرنی پڑے گی"
معاویہ نے اپنا پلان بتایا تو حیا نے گھور کر معاویہ کو دیکھا جس پر وہ ہنس دیا

**

ہادی صنم کو لے کر گھر پہنچا راستے میں دونوں میں کوئی بات نہیں ہوئی۔۔۔۔ گھر آکر وہ چپ چاپ گھر کی سیڑھیوں پر بیٹھ گئی اور سامنے لان کو دیکھنے لگی۔۔ تھوڑی دیر گزرنے کے بعد ہادی صنم کے پاس آیا وہی سیڑھی پر اس کے پاس بیٹھ گیا اور اسی کو دیکھنے لگا۔۔۔ صنم نے جیسے ہی وہاں سے جانے کے لئے پر تولے تو ہادی نے اس کا ارادہ بھانپ کر اس کا ہاتھ پکڑا

"یہ بہت غلط بات ہے صنم، کہ تم مجھے کچھ بھی بولنے کا موقع نہیں دے رہی ہوں"
ہادی نے شکوہ کرتے ہوئے صنم سے کہا

"بولنے کے لئے بچا ہی کیا ہے ہادی، مجھے کس طرح بھی وضاحت کی ضرورت نہیں میں نے آپ سے بنا کسی غرض کے بنا کسی مفاد کے محبت کی۔۔۔ آپ پر اعتبار کیا اپنے گھر والوں کا سوچے بناء اتنا بڑا قدم اپکی محبت میں اٹھایا اور بدلے میں مجھے کسی تیسرے بندے سے یہ سننے کو ملتا ہے کہ آپ حیا بھابھی سے شادی۔۔۔"
آواز لڑکھڑانے سے آگے اس سے بولا نہیں گیا

"صنم سب سے پہلے تو اپنے دماغ سے یہ فتور نکال دو کہ میں حیا سے محبت کرتا ہوں اور تمہارے بھائی سے نفرت کی وجہ حیا ہے۔۔۔ یہ ٹھیک ہے میں حیا سے شادی کا خواہشمند تھا، بچپن سے اسے جانتا تھا دیکھتا آیا تھا، اچھی لگتی تھی حیا مجھے۔۔۔۔ مجھے لگتا تھا وہ اور میں ایک ساتھ اچھی زندگی گزار سکیں گے،، مگر پھر حیا اور معاویہ کی شادی ہوگئی جس کا مجھے دکھ بھی ہوا۔۔۔ صنم میں ایک پریکٹیکل انسان ہوں صحیح ہے حیا اچھی لگتی تھی مگر میں نے ریلائز کیا کہ وہ میری قسمت میں نہیں تھی اس بات کو میں دل کا روگ بنا کر بیٹھ جاتا یا اسکی محبت میں جوگ لے لیتا اور اپنی زندگی برباد کر لیتا ایسا میرے نزدیک کمزور بے وقوف انسان کرتے ہیں۔۔۔۔۔ تم میری زندگی میں آئیں تم حیا سے مختلف نیچر اور عادت واطوار کی تھی مگر اچھی لگیں،، پھر مجھے پتہ چلا کہ معاویہ تمہارا بھائی ہے تمہیں خود سے تمہاری طرف بڑھا۔۔۔ بے شک اس وقت میری نیت ٹھیک نہ ہو کیونکہ میں بھی کوئی فرشتہ صفت نہیں مگر جب تم سے نکاح کیا میرا اللہ جانتا ہے میری نیت صاف تھی۔۔۔ یہ مت پوچھنا کے معاویہ سے میرا کیا بیر تھا وہ جو بھی تھا اب ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔۔۔ معاویہ اور حیا اپنی زندگی میں خوش ہیں اور مطمئن ہے میری دعا ہے ان دونوں کے لیے وہ ہمیشہ خوش رہیں۔ ۔ مجھے حیا پسند تھی اگر میری اس سے شادی ہوتی تو میں اس سے محبت کرتا مگر میری شادی تم سے ہوئی ہے۔۔۔۔ تم بیوی ہو میری اور میری محبت بھی کیوکہ تم اپنی محبت سے ہادی کو اپنا عادی بنانے میں کامیاب ہو چکی ہے"
ہادی جو اتنی دیر سے اس کا ہاتھ تھامے اس سے ساری باتیں کر رہا تھا آخر میں اس کا ہاتھ اپنے ہونٹوں پر رکھا

"اس دن تم نے گاڑی میں کہا تمہاری قسمت تمہاری مام کی طرح ہے،  بہت غلط بات کی تھی تم نے۔۔ تمہارے ڈیڈ کا علم نہیں مگر تمہارے شوہر کے دل میں تمہارے سوا کوئی بھی نہیں"
صنم نے ہادی کی آنکھوں میں دیکھا تو اسے ہادی کی آنکھوں میں اور لفظوں میں سچائی محسوس ہوئی۔۔۔ بدگمانی کے سارے بادل چھٹ گئے

"آئی ایم سوری ہادی میں واقعی بیوقوف ہوں جو آپ کو بھی پریشان کیا اور خود بھی پریشان رہی" صنم نے ہادی کو دیکھتے ہی اپنی غلطی کا اعتراف کیا تو وہ مسکرا دیا

"اتنے دن تم مجھ سے ناراض رہی ہوں اور مجھے پریشان رکھا، ابھی اگر میں ایک گھنٹے کے لیے تم سے ناراض ہو جاؤں تو تم سے برداشت نہیں ہوگا فورا رونے بیٹھ جاؤں گی اور میرا مسئلہ یہ ہے میں تمہیں روتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا"
ہادی کے شکوہ کرنے پر بھی صنم کو اس پر پیار آیا

"آئی لو یو ہادی" صنم نے ہادی کو دیکھتے ہوئے کہا

"اس آئی لو یو کا جواب میں یہاں نہیں بلکہ روم میں دوں گا چلو اندر"
ہادی نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا اس کی بات ہر صنم کی نظریں جھک گئی۔۔۔ ہادی نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا تو صنم اس کا ہاتھ تھامتی ہوئی سیڑھیوں سے اٹھ گئی اور دونوں گھر کے اندر چلے گئے

**

"ارے یار یہ کار کو کیا ہوا"
گھر سے تھوڑی دور گاڑی اچانک رکی معاویہ نے دوبارہ اسٹارٹ کرنے کی کوشش کی تو اسٹارٹ نہیں ہوئی

"کیا ہوگیا اچانک" حیا نے پوچھا

"پتہ نہیں بےبی رکو چیک کرتا ہوں" معاویہ اتر کر باہر نکلا اور کار کا بونٹ کھول کر دیکھنے لگا

"چل اتر گاڑی سے جلدی"
اچانک ساحر حیا کی کنپٹی پر پسٹل رکھتا ہوا بولا۔۔۔۔ کافی دنوں سے وہ ایسے ہی کسی موقع کی تلاش میں تھا جو اس کے ہاتھ میں آج آیا تھا۔ ۔۔۔ حیا نے خوف سے پسٹل اپنے اوپر دیکھی تو جلدی سے گاڑی سے باہر نکلی۔۔۔۔ کار تو ٹھیک ہوگئی تھی مگر ساحر کی آواز پر معاویہ نے جلدی سے کار کا بونٹ نیچے کیا

"وہی کھڑے رہو اے۔ایس۔پی ورنہ ساری کی ساری گولیاں اس کی کھوپڑی میں گھسیڑ دوگا"
ساحر کی دھمکی نے معاویہ کے قدم روکے

"اس کو چھوڑ دو ساحر اس نے تمھارا کچھ بھی نہیں بگاڑا"
معاویہ نے ساحر کو دیکھتے ہوئے کہا حیا کا رنگ خوف سے اڑ ہوچکا تھا

"میں نے اور میرے باپ نے تیرا کیا بگاڑا تھا ہمہیں برباد کر دیا تو نے اور یہ سالی اس نے کچھ نہیں بگاڑا دو دفعہ تھپڑ مار چکی ہے میرے منہ پر۔۔۔ تم دونوں کو تو آج میں ایسا مزا چکاو گا جو ساری زندگی یاد رکھو گے۔۔۔ ۔ اے۔ایس۔پی تم دونوں ہاتھ اوپر اٹھا کر سامنے کھڑے ہو جاؤ اور تم چل کر بیٹھو میرے ساتھ گاڑی میں"
معاویہ نے اپنے دونوں ہاتھ اوپر کیے حیا نے گھبرا کر معاویہ کو دیکھا معاویہ نے آنکھوں ہی آنکھوں میں حیا کو تسلی دی۔۔۔۔ ساحر حیا کی کنپٹی پر پستول رکھ کر اسے اپنی گاڑی کی طرف لے جانے لگا معاویہ کی نظر نیچے پڑے ہوئے پتھر پر تھی اس سے پہلے وہ اپنا سوچا ہوا قدم اٹھاتا۔۔۔ حیا نے اچانک پیچھے مڑ کر ساحر کو دھکا دیا وہ گرا تو حیا معاویہ کا نام پکار کر اس کی طرف دوڑی

"حیا وہی رکو" معاویہ چیخا

ساحر نے حیا پر فائر کیا گولی کی آواز کے بعد حیا کی چیخ فضا میں گونجی معاویہ نے پھٹی پھٹی آنکھوں سے حیا کا وجود نیچے زمین پر گرتے دیکھا

"حیا"
معاویہ چیختا ہوا حیا کہ پاس آیا

"حیا آنکھیں کھولو پلیز"
معاویہ گھٹنوں کے بل بیٹھ کر حیا کا سر اپنی گود میں رکھا معاویہ کی آواز پر اس نے آنکھیں کھولیں اور پھر دوبارہ بند کرلی

معاویہ نے سر اٹھا کر ساحر کو دیکھا اس کی آنکھوں میں خون اتر آیا۔۔۔ حیا کو واپس لٹا کر وہ ساحر کی طرف بڑھا

ساحر کا ارادہ حیا پر گولی چلانے کا نہیں تھا صرف ڈرانے کے لئے پسٹل اس کے اوپر رکھی ہوئی تھی وہ خود شاکڈ ہوگیا کہ اس سے گولی کیسے چل گئی۔ ۔۔۔معاویہ کو اپنی طرف آتا دیکھ کر وہ مزید گھبرا گیا پسٹل وہی پھینک کر اپنی گاڑی کی طرف بڑھنے لگا

"کیسے مارا تو نے اسے بول"

معاویہ نے اسے پکڑ کر  مکوں اور گھنسوں کی برسات اس پر شروع کردی 7 8 مکو کھانے کے بعد ہی وہ لاغر ہو گیا مگر معاویہ کا غصہ ٹھنڈا نہیں ہوا اس نے ساحر کا گرا ہوا پسٹل اٹھایا تین سے چار فائر ساحر کے سینے پر اور اس کے تڑپتے ہوئے وجود پر پسٹل پھینک کر دوبارہ حیا کی طرف بڑھا

"حیا آنکھیں کھولو میں تمہیں کچھ نہیں ہونے دوں گا"
حیا کی سانس بہت مدعم رفتار میں چل رہی تھی اس نے آنکھوں میں آئی نمی صاف کر کے  حیا کو اٹھا کر کار میں لٹایا

کانپتے ہوئے ہاتھوں سے کار اسٹارٹ کی کتنی بار سگنل توڑے۔۔۔ اپنی گاڑی یہاں وہاں مارتا ہوا اسپتال پہنچا

**

رات کا آخری پہر تھا اسپتال کے کوریڈور میں اس وقت سناٹا تھا۔  معاویہ وہاں تنہا بیٹھا ہوا ٹکٹکی باندھ کر آپریشن تھیٹر کی جلتی ہوئی لال بتی کو دیکھ رہا تھا۔۔۔ اس کا رواں رواں آپریشن تھیٹر کے اندر موجود حیا کے لئے دعا گو تھا

"اگر اسے کچھ ہوجائے تو۔۔۔"
یہ سوچ ذہن میں آتے ہی، معاویہ کو اپنی بھی سانسے تھمتی ہوئی محسوس ہورہی تھی وہ خود اپنے آپ کو زندگی اور موت کے بیج کسی جگہ محسوس کر رہا تھا۔۔۔اس کے کپڑے ابھی بھی خون سے رنگے ہوئے تھے، اس نے آپ اپنی پتھرائی ہوئی آنکھیں بندکیں تو کانوں میں فجر کی آذان کی آواز گونجی

"ہاں مجھے خدا سے اس کی زندگی مانگنی چاہیے بلکہ اس کی نہیں خود اپنے آپ کی زندگی"
یہ سوچ آتے ہیں معاویہ وہاں سے اٹھ گیا اور اسپتال کے پاس بنی مسجد میں چلا گیا

**

معاویہ جب مسجد سے فجر کی نماز ادا کرکے واپس لوٹا تو ڈاکٹر نے اسے حیا کی زندگی کی نوید سنائی جسے سن کر اس کی جان میں جان آئی

"ڈاکٹر صاحب نے اپنی وائف سے مل سکتا ہوں"
معاویہ نے تشکر بھری نظر سے ڈاکٹر کو دیکھتے ہوئے بےقراری سے پوچھا

"جی ابھی تھوڑی دیر میں انھیں روم میں شفٹ کر دیا جائے گا پھر آپ مل سکتے ہیں"
ڈاکٹر کے جانے کے بعد معاویہ نے ایک بار پھر خدا کا شکر ادا کیا

حیا کو روم میں شفٹ کرنے کے بعد معاویہ روم میں حیا کے پاس آیا،، حیا نے آنکھیں کھول کر اس کو دیکھا معاویہ نے اس کے ماتھے پر اپنے ہونٹ رکھے اور کافی دیر تک ویسے ہی کھڑا رہا پھر اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے تے ہوئے بولا

"تم ہمیشہ مجھے ایسے ہی پریشان کرتی ہوں تمہیں ذرا بھی کوئی احساس نہیں ہے میرا،،، جھوٹ بولتی ہو تم تمہیں کوئی پیار نہیں ہے مجھ سے،،مجھ سے پیار ہوتا نا تو یوں میری جان کو ہلکان نہیں کرتی۔۔۔ تم نے سوچا اگر تمہیں کچھ ہو جاتا تو میرا کیا ہوتا"
معاویہ حیا کا ہاتھ تھام کر تھوڑے دن پہلے اسی کے بولی ہوئی باتیں واپس  اسے بول رہا تھا فرق صرف اتنا تھا کہ آج معاویہ کی آنکھوں میں ہلکی سی نمی تھی اور حیا کے چہرے پر اس کی باتیں سن کر ہلکی سی مسکراہٹ

"ڈر گئے تھے"
حیا نے آہستہ آواز میں پوچھا

"بہت زیادہ"
معاویہ نے ایک بار پھر آنکھوں میں آئی ہوئی نمی کو صاف کیا

"اچھے نہیں لگ رہے اس طرح روتے ہوئے"
حیا اس کو دیکھتی ہوئی بولی

"جیسے تم تو بہت اچھی لگ رہی ہو اس طرح لیٹی ہوئی"
معاویہ نے اس کا ہاتھ اپنے ہونٹوں پر رکھتے ہوئے کہا

تھوڑی دیر گزرنے کے بعد ہادی اور صنم روم میں آئےے

"بھابھی یہ کیا ہو گیا آپ کو"
صنم آگے بڑھ کر حیا کے پاس آئی اس کا ہاتھ تھام کر پریشانی سے کہنے لگی

ہادی معاویہ سے ملتا ہوا ہے حیا کو دیکھ کر کہنے لگا
 
"کیا تم دونوں میاں بیوی نے ٹھیکا لے رکھا ہے ہم سب کو پریشان کرنے کا"
ہادی کے بولے گئے جملے پر حیا کے ساتھ معاویہ بھی ہلکا سا مسکرا دیا

"بھابھی آئی ایم سوری،،میں نے آپ سے بہت بدتمیزی کی بہت برا رویہ رکھا جس کے لئے میں بہت شرمندہ ہوں میں بہت بری ہوں"
صنم کو اپنی باتیں اور رویہ جو چند دنوں سے حیا کے ساتھ اختیار کیا ہوا تھا یاد آیا تو حیا سے معافی مانگی

"کیسی باتیں کر رہی ہو مجھے کوئی برا نہیں لگا تم میری بہت پیاری نند ہو"
حیا نے مسکراتے ہوئے کہا

"بھائی کیسے ہیں آپ"
صنم اٹھ کر معاویہ کے پاس آئی

"ٹھیک ہے گڑیا تم ناراض ہو مجھ سے" معاویہ نے صنم سے پوچھا

"میں آپ سے ناراض ہو سکتی ہو بھلا"
صنم معاویہ کے گلے لگتے ہوئے بولی

"کیا انٹی انکل کو بتایا تم نے"
ہادی نے معاویہ سے پوچھا

"نہیں فی الحال تو نہیں بتایا اور نہ ہی کوئی ایسا ارادہ ہے بتانے کا۔۔۔ سب لوگ وہاں پر پریشان ہو جائیں گے ان کی عبادت میں خلل پڑے گا"
ہادی کے پوچھنے پر معاویہ نے اسے جواب دیا۔۔۔ مسجد سے آنے کے بعد معاویہ نے ہی ہادی  فون کر کے رات والا واقعہ بتایا تھا

"ویسے یہ بھی اچھا ہے حیا دو دن تم نے اپنے میاں کی خدمت کی اور اب پورے ایک مہینے تک اس سے خدمت لو تم"
ہادی نے دوبارہ حیا کو دیکھتے ہوئے کہا ایک دفعہ پھر چاروں مسکرا دیے

**

 پانچ سال بعد

"گڈ مارننگ بےبی روز معمول کی طرح وہ جاگنگ سے واپس آیا تو سوئی ہوئی حیا کو اپنے انداز میں گڈ مارننگ کر کے جگایا۔۔۔ حیا نے نیند سے بھری ہوئی آنکھیں کھول کر معاویہ کو دیکھا

"بےبی کی ساری زندگی میں ہی تمہیں جو آتا رہوں گا میرا بھی دل چاہتا ہے کبھی تم بھی صبح مجھے میرے انداز میں جگاؤ"
معاویہ معنی خیزی سے کہتا ہوا مزید حیا کے اوپر جھکا

"کیا معاویہ تم رات کو بھی مجھے نہیں سونے دیتے دن میں تمہارے دونوں افلاطون مجھے خوار کرکے رکھتے ہیں۔۔۔ اور ابھی بھی مجھے جگا دیا۔۔۔۔اور ویسے بھی کچھ چیزیں تمہیں پر سوٹ کرتی ہیں لہٰذا جگانے کا کام تم ہی کیا کرو،، پیچھے ہٹو تمہاری ثپوتوں کو بھی تیار کرنا ہے اسکول بھیجنے کے لئے"
حیا نے جمائی روکتے ہوئے معاویہ سے کہا

"میرے دونوں لاج دلاروں کو ان کی دادی تیار کررہی ہیں اسکول کے لئے،، کتنی بار کہا ہے تم بس اپنے اس دو ٹکے کے پولیس والے پر دھیان دیا کرو"
معاویہ نے اسے واپس لٹاتے ہوئے کہا

پانچ سال بعد بھی معاویہ کی محبت میں حیا کے لیے کوئی فرق نہیں آیا تھا۔۔۔ البتہ چار سال پہلے ان کی زندگی میں حنان اور منان ٹوئنس کی صورت میں ضرور آئے تھے بقول خضر کہ وہ دونوں اپنے باپ سے بھی کوئی پہنچی ہوئی چیز تھے۔۔ ۔

منان حیا اور خضر کا لاڈلا تھا اور شرارتوں میں اپنے بھائی حنان سے کم مگر باتوں میں سب کا ریکارڈ توڑنے والا۔۔۔
اس نے اپنی پھپھو کو پہلے ہی بتا دیا تھا کہ منال میری ہے اور حنان کے لیے آپ ایک اور منال جیسی ڈول لے آئے

جبکہ حنان معاویہ اور زین کا چہیتا تھا اور زیادہ تر اپنے نانا نانی کے پاس پایا جاتا تھا اور حور کی ناک میں خوب دم کر کے رکھتا تھا۔۔۔ جہاں سب کی سوچ آخر ختم ہوتی وہی اس کی شرارتیں شروع ہوتی اس کو کنٹرول کرنا بھی صرف معاویہ کے بس کا کام تھا۔۔۔۔۔
جبکہ ہادی اور صنم کے پاس تین سال پہلے منال کی صورت ایک خوبصورت سی بیٹی پیدا ہوئی اور چھے ماہ پہلے گپو سے عباس نے ان دونوں کی فیملی کمپلیٹ کردی

❤The end❤

0 comments:

Post a Comment