Tuesday, December 18, 2018

tu kitni masoom hai episode 37 by aymen nauman

Tu kitni masoom he.  ..💕
By Aymen Nauman
Episode 37
(2nd last episode)

اسراء جیسے ہی سوٹ خرید کر واپس آئی تھی ۔۔
سامنے گاڑی کا شیشہ ٹوٹا دیکھ کر تیزی سے ڈرائیور اور وہ بھاگتے ہوئے گاڑی کی طرف آئے تھے۔۔۔
 اندر حجاب کو نہ پاکر اسرا شدید پریشانی کے عالم میں بشر کو فون ملا نے لگی ۔۔
ہاتھ میں اس کے وہ خط بھی تھا جو وہ دو غنڈے سیٹ پر رکھ کے چلے گئے تھے پچھلی ۔۔۔

السلام علیکم ۔۔
ہوگی شاپنگ تم لوگوں کی ۔۔؟؟
بشر نے فون اٹھاتے ہی آسرا کا نمبر دیکھ کر خوشگوار موڈ میں دریافت کیا ۔۔
بشر وہ ۔۔۔
اسراء اتنا ہی کہہ پائی کی باقی کے الفاظ اس کے حلق میں ہی رہ گئے تھے وہ بے تحاشہ رو رہی تھی ۔۔
کیا ہواتم  کیوں رو رہی ہو سب خیریت تو ہے نا ؟؟؟؟
ھجاب سےمیری بات کروائو کیا ہوا ہے؟؟؟
 جو اس طرح سے تم رورہی رہی ہو ؟؟؟
حجاب۔۔۔۔ بشر۔۔۔۔
وہ بڑی مشکل سے ٹوٹے پھوٹے لفظوں میں یہ دو نام کہہ پائی تھی ۔۔
کیا ہوا حجاب کو ٹھیک تو ہے نہ وہ ؟؟؟
وہ بیٹھے سے اٹھ گیا تھا ۔۔
اور چیخ کے اس سے دریافت کر رہا تھا ۔۔
وہ آسرا کے اس طرح سے رونے سے گھبرا گیا تھا ۔۔
حجاب نہیں ہیں گاڑی میں  ۔۔
وہ مرد بڑی ہمت مجتمع کرکے   یہ کہہ پائی۔۔۔
 تھی ۔۔۔
کیا ہوا ہے حجاب کو؟؟!
 کہا ہے حجاب۔۔۔۔؟؟؟
 لاؤ ڈرائیور کو فون دو۔۔۔
وہ چیخا تھا ۔۔۔
اسر آنے سامنے کھڑے سہمے ہوئے ڈرائیور چچا کو فون تھمایا تھا ۔۔
وہ بھی حجاب کو نہ پا کر شدید پریشانی کے عالم میں گھرے ہوئے تھے ۔
ان کے بھی چہرے کی ہوائیاں اڑھی ہوئی تھی ۔۔
کیا ہوا ہے چاچا؟؟؟
اسراء اس طرح کیوں رو رہی ہے ؟؟؟
جاب کہاں ہے؟ ؟؟
وہ سختی سے دھاڑا تھا ۔۔
جی بشر بابا میں اسرا بی بی کے ساتھ مال میں گیا تھا حجاب بی بی ضد کر کے یہی گاڑی میں ہی رک گئی تھیں۔ ۔
اور جب ہم واپس آئے تو گاڑی کا شیشہ ٹوٹا ہوا تھا اور اندر سے ایک خط ملا ہے ۔۔
ڈرائیور نے پوری تفصیل بشر کو کہہ سنائی تھی ۔۔

💕💕💕💕

وہ خالی خالی ذہن کے ساتھ پورے کمرے کا جائزہ لے رہی تھی اس کو چند منٹوں پہلے ہی خوش آیا تھا ۔۔

کمرے کی حالت بہت بری تھی پورے کمرے میں ایک عجیب طرح کی اسمیل تھی ۔۔
حجاب کو اپنا دم گھٹتا ہوا محسوس ہو رہا تھا اس کا سر بری طرح سے اس انجیکشن کی وجہ سے چکرا رہا تھا ۔۔۔
کچھ ہی دیر میں اس کو خود کے ساتھ ہوئی واردات مکمل طور پر یاد آ چکی تھی ۔۔
کیوں لائے ہو مجھے یہاں ؟؟؟
وہ پوری طرح سے روتے ہوئے چیخ رہی تھی۔۔
 فریاد کر رہی تھی ۔
مگر وہاں سننے والا کوئی نہیں تھا اس کی فریاد و کو ۔
نکالو مجھے یہاں سے ۔۔
بشر کہاں ہوں دیکھو تمہاری زندگی کے ساتھ کیا ہوا ہے ۔۔
وہ بالکل تنہا ہے ۔۔
اس کے دھاڑنے اور چیخنے چلانے سے کمرے کا دروازہ دھاڑ سے کھلا تھا اور ایک فربہی سیاہ رنگت کی عورت اندر داخل ہوئی تھی ۔۔
حجاب اس کو دیکھ کر اور زور سے چیخنے لگی تھی ۔۔
کون ہو تم کیوں لائی ہوں مجھے یہاں ؟؟؟
کیا بگاڑا ہے میں نے تمہارا بولو ؟؟؟
وہ اپنے آپے میں نہیں رہی تھی ۔۔
کون ہوں میں ؟؟؟
ہاہاہا ۔۔۔۔
میں تیرے نہ ہونے والی شوہر کی رکھیل ہوں ۔۔۔
وہ سفاکی سے بے ہنگم کہ کا لگا کر بولی تھی ۔۔

اور ساتھ ہی حجاب کے بالوں کو پکڑ کر اس کا سر دیوار میں زور سے دے مارا تھا ۔۔
حجاب کو شدید تکلیف کا احساس ہواتھا ۔۔
 ماتھے سے خون رسنا شروع ہو گیا تھا ۔۔

مجھ پر رحم کرو ۔
مجھ پر رحم کرو ۔۔۔
میں تم سے رحم کی بھیک مانگتی ہوں ۔۔
حجاب گرگڑا رہی تھی مگر اس عورت کے دل میں شاید رحم تو کیا ہمدردی بھی مر چکی تھی ۔۔

وہ عورت اب حجاب کو چھوڑ کر واپس جا رہی تھی جب حجاب نے ہمت کرکے واپس آ سورج کی طرف خود کو گھسیٹا تھا ۔۔
میرا کیا قصور ہے ؟؟؟
تم بھی تو ایک عورت ہوں؟؟؟
پھر تم کیسے اس طرح ایک عورت کے ساتھ اتنی بہ رحم ہو سکتی ہو ۔۔؟؟؟
حجاب اس کے پاؤں کے تھوڑا قریب زمین پر بیٹھی تھی۔ ۔
تیرا کیا قصور ہے واہ کیا بات کی ہے تونے جیسے تو تو نہیں دودھ پیتی بچی ہے ۔۔۔؟؟
آئے گا تیرا منگیتر اسی سے پوچھ لیو۔ ۔۔
ویسے مانگئی زوار کو بڑی اونچی جگہ ہاتھ مارا ہے اس دفعہ تو ۔۔
زوار کا نام سن کر ہی جواب پورہ ماجرا سمجھ گئی تھی ۔۔
تو گویا اس کو اریج سمجھ کے اغوا کر لیا گیا ہے ۔۔
مگر اب کیا کہتی اب تو وہ پوری طرح پھنس چکی تھی ۔۔
آریج کا بتا کر وہ عروج کو بھی مصیبت میں نہیں ڈالنا چاہتی تھی ۔۔
دیکھو تم جو کہو گی جو مانگو گی میرے گھر والے تمھیں دے دیں گے بس تم مجھے چھوڑ دو میرے شوہر اور میرے ماں باپ میرے نئے بہت پریشان ہو رہے ہوں گے ۔۔۔
وہ گڑ گڑائی تھی ۔۔
اے لڑکی جب لڑکی اغوا ہو جاتی ہے نہ کوئی تو۔۔۔
 کچھ دن گھر والے ماتم کرتے ہیں اس کا ۔۔
گھر سے اغواہ ہوئی لڑکیوں کو واپس کوئی بھی اپنے گھر کی زینت نہیں بناتا ۔۔
وہ کہتے ہوئے ٹھٹہ لگا کر ہنسی تھی ۔۔۔
کیسی سفاک عورت تھی ۔۔
کتنے آرام سے ہو یہ بات کہہ کہہ گئی تھی ۔۔
حجاب بے جان سی ہوکر اس کے آگے اپنے ہاتھ جوڑ رہی تھی جب اس عورت نے زور سے اس کے منہ پر اپنی لات رسید کی تھی ۔۔۔
حجاب کا سر پہلے ہی چوٹ لگنے کی وجہ سے درد سے پھٹ رہا تھا ۔۔
اب اس پر تضاد اس عورت کا منہ پر مارنا اس کے ہونٹ پہ سے خون نکلنا شروع ہو چکا تھا ۔۔
حجاب بے ہوش ہونے کو تھی۔۔
 وہ  بے جان سی ہو کر وہیں سر فرش پر ڈھے گئی تھی ۔۔
تھوڑی دیر بعد وہی عورت دوبارہ واپس آئی تھی۔۔

 مگر اب وہ اکیلی نہ تھی اس کے ساتھ ایک اور آدمی بھی آدمی اندر داخل ہوا تھا۔۔
 خوفناک سا لمبا تڑنگا وہ شخص حجاب کو کسی بھیڑئے کی طرح دیکھ رہا تھا انتہائی گندی نظروں سے ۔۔
اس آدمی کے چہرے پر درندگی ٹپک رہی تھی ۔۔
حجاب اپنی بند ہوتی آنکھوں کے ساتھ اس شخص کو دھندلا سا دیکھ پائی تھی اس کا زہن ان دونوں کی باتوں کو سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے ۔۔۔

وہ عورت کہہ رہی تھی اس آدمی سے کہ ۔۔
دیکھ میری بات غور سے سن اس لڑکی کو کل صبح۔۔
 باہر بیٹھی  لڑکیوں کے ساتھ روانہ کرنا ہے ۔۔
زوار کا حکم ہے کہ اس کا وہ حال کرو کہ۔۔۔
 اس کے ساتھ ساتھ باہر بیٹھی تمام لڑکیوں کی روح تک کانپ جائے اور وہ بغاوت کرنے کا انجام اچھی طرح سے دیکھ اور سمجھ لیں ۔۔۔۔

بے فکر ہو جا چندا بائی میں ر وح تو کیا اس کا پورا جسم تک نچوڑ لوں گا ۔۔
وہ اپنی ناپاک نظریں حجاب کے مقدس وجود پہ گاڑتے ہوئے بولا ۔۔
اے بات سن پہلے میری پوری ۔۔
وہ اس کی طرف ایک ترے بڑھاتے ہوئے بولی جس کے اندر چھوری ،چابک ،سگریٹ ،ماچس اور اس طرح کی کئی چیزیں تھیں جس سے تشدد کیا جاسکے ۔۔
اس کے ساتھ اپنی ہوس نہیں مٹانے کو کہاں ہے تجھ سے ۔۔
یہ لڑکی بالکل کھنچا جائے گی سے کے پاس ۔۔
زوار کا حکم ہے اس نے سیٹ سے اس کے بڑے پیسے اٹھائے ہیں ۔۔
دھت تیری۔ ۔۔
وہ اپنے غلیظ ارادوں پے پانی پھرتا دیکھ اس سے سے ٹری میں رکھا چابک اٹھا کر حجاب کی کمر پر مار کر بولا تھا ۔۔
حجاب کے بے جان ہوتے دھان پان سے وجود پر جب وہ چابک پڑا تھا اس کو لگا جیسے اس کی روح قبض ہو چکی ہے۔۔۔


وہ آدمی حجاب کی طرف بڑھتا گیا ۔۔
اور جگہ جگہ اس کے جسم پر پہلے چھری سے بری طرح کٹ مارتا گیا ۔۔
اس کے بعد چابوک سے اس کو پوری طرح دھون ڈالا تھا ۔۔۔
حجاب کی اتنی بھی ہمت باقی نہ رہی تھی کہ وہ زبان سے ایک خوش بھی نکال پاتی وہ بس بے جان سی فرش کے پڑھی خون سے لت پت کر اہ رہی تھی ۔۔
وہ آدمی واپس ٹرے کی طرف موڑا اور سگریٹ کو لائیٹر سے جلا کر جگہ جگہ حجاب کے پورے جسم پر نقش ونگار بناتا چلا گیا ۔۔
ہر اس چیز سے اس کے جسم پے ضرب لگائے گئے تھے جن سے وہ تڑپے اور چیخے۔ ۔
حجاب کی چیخیں باہر بیٹھی لڑکیاں سنکر سہم رہی تھی ۔۔
ہر لڑکی کے لفظ بے بس ایک ہی دعا تھی کہ یا اللہ ہمیں عزت کی موت دے دے۔ ۔
ادھرجاب شاید تڑپ تڑپ کے مردہ ہوچکی تھی ۔۔
اس کی چیخ نے جلنا نے اور رونے کی آوازیں اب بند ہو گئی تھی ۔۔
ہاں بھائی دیکھ لیا تم لوگوں نے انجام ؟؟؟
وہ حجاب کو رسی سے باندھ کر بہار کھینچتہہ ہوا لایا تھا ۔۔
بار بیٹھی تمام لڑکیاں چینخھیں مار مار کر حجاب کاحال دیکھ کر خوف سے رو رہی تھی ۔۔
 اس کو ہوش آئے گا اس کی دوبارہ اس سے بدتر حالت کریں گے ۔۔
وہ تمام لڑکیوں کو جتاتے ہوئے بولا تھا ۔۔
دیکھ لو یہ ہوتا ہے ضد کا انجام ۔۔۔
وہ عورت بولی تھی۔ ۔۔

💕💕💕💕

وہ سب لوگ پریشان حال ڈرائنگ روم میں بیٹھے تھے اریج سمیر اور ہمدان بھی انن فانن آچکے تھے
۔۔
ماما کا رو رو کر برا حال تھا۔۔
آریج اور آسرا کا حال بھی ماں سے مختلف نہ تھا ۔۔

مجھے پتہ ہے یہ سب زوار کا کیا دھرا ہے ۔۔
اریج روتے ہوئے بولی ۔۔
اس نے میری جگہ حجاب کو افواہ کیا ہے ۔۔۔
۔
یہ سب کچھ میری وجہ سے ہوا ہے ۔۔
اریج خود کو الزام ٹھہراتے ہوئے ہچکیوں سے زاروقطار رو رہی تھی اس کی پیاری دوست آج اس کی وجہ سے اتنی بڑی مشکل میں پھنس چکی تھی ۔۔۔
بشر گھر میں نہیں تھا وہ اپنے دوست آئی جی کے ساتھ حجاب کو مارا مارا ڈھونڈ رہا تھا ۔۔۔
حمدان اپنے ذرائع سے حجاب کو ڈھونڈنے کی پوری کوشش کر رہا تھا اس کی آنکھوں میں خون اترا ہوا تھا ۔۔۔
اس طرح سے کچھ نہیں ہو گا عرہج تم آنٹی انکل کو لے کر آؤ گاڑی میں ۔۔
ہمدان بشر اور اپنے آفیسر دوست کو بلاؤ ۔۔
مگر کہاں ؟؟
ہمدان نے سمیرکو دیکھتے ہوئے استفسار کیا ۔۔
آریج کے باپ کے گھر ۔۔
ہم سب کو ہی جا رہے ہیں ۔۔
💕💕

وہ سب لوگ اریج کے گھر پہنچ چکے تھے۔
پوری پولیس فورس ان کے ساتھ تھی ۔۔

حیدر صاحب نوکر کے بلانے پر گھبرا کر نیچے آئے تھے ۔۔
سامنے کھڑی پولیس اور باقی سب لوگوں کو دیکھ کر ان کو کسی بہت بڑی گڑبڑ کا احساس ہوا تھا ۔۔۔

کیوں آئے ہیں آپ لوگ یہاں ؟؟؟
اور آپ لوگوں کی اس طرح میرے گھر میں گھسنے کی ہمت بھی کیسے ہوئی ؟؟؟

وہ آواز کو تھوڑا دباتے ہوئے مگر شعلہ وار لہجے میں بولے ۔۔

میں بتاتی ہوں ڈیڈی کے یہ کیوں آئے ہیں سب ؟؟
اریج سمیر کی پشت کے پیچھے سے نکلتے ہوئے بولی ۔۔
اریج تم ؟؟؟
البتہ بشر ہمدان پولیس کے ساتھ پورے گھر میں دلآویز کو گھس کر ڈھونڈ رہے تھے ۔۔
حیدر صاحب بیٹی کو دیکھ کر داڑھے تھے ۔۔

کیوں آۓ ہو اپنی منہوس شکل لے کر میری عزت کو تازیانے لگانے ؟؟؟
وہ ایج کو مارنے کے لئے بڑے تھے ۔۔۔
جب سمیر نے آگے بڑھ کر اپنے مضبوط ہاتھ سے ان کا بڑا ہوا ہاتھ دبوچا تھا ۔۔۔
خبردار اگر اس کو چھوا بھی تو۔ ۔۔
تم کون ہوتے ہو؟؟؟
 میں اپنی بیٹی سے کسی بھی طرح پیش او میری مرضی  ۔۔۔
میں کون ہوتا ہوں؟؟؟
 ابھی بتاتا ہوں میں کون ہوں ۔۔۔
میں آپ کی بیٹی کا شوہر ہوں ۔۔۔
سمیر نے ان کا ہاتھ بری طرح سے جھٹکتے ہوئے کہا تھا ۔۔
وہ عریج کو اپنے بازو کے گھیرے میں لے کر خونخوار نظروں سے حیدر صاحب کو دیکھتے ہوئے بولا تھا ۔۔۔
یہ میری بیوی ہے۔۔۔
 آپ اس کے سائے تک بھی نہیں پہنچ سکتے ۔۔۔
وہ اپنی شہادت کی انگلی اٹھا کر حیدر صاحب کی طرف کرکے بولا ۔۔۔
حیدر صاحب اس انکشاف پر دنگ رہ گئے تھے ۔۔۔
آریج اس کی مضبوط پناہوں میں آ کر پرسکون ہو چکی تھی کوئی ڈر کوئی خوف باقی نہ رہا تھا ۔ 
اب سمیر دندناتا ہوا حیدر صاحب کے گھر میں گھس رہا تھا ۔۔
ارے یہ تم کہاں میرے گھر میں گھسے چلے جا رہے ہو ۔۔
حیدر صاحب غصے سے بے قابو ہو کر بولے تھے ۔۔

وہ پلٹا اور حیدر صاحب کا گریبان پکڑ کے بولا ۔۔
اگر میری بہن حجاب نہیں ملی تو یاد رکھنا میں تجھ سمیت تیرے گھر کو آگ لگادوں گا ۔۔۔
وہ ان کی شرٹ کو کھینچتے ہوئے بولا ۔۔۔

آپ چپ رہے اور ہمیں اپنی کاروائی کرنے دیں ۔۔

ایک پولیس آفیسر مداخلت کرتا ہوا ان دونوں کو الگ کرتے ہوئے سختی سے بولا ۔۔۔
بابا کو آج زندگی میں اپنا آپ جتنا بھی بس لگا تھا۔۔۔
 اس سے پہلے کبھی نہیں اتنی بے بسی انہوں نے محسوس کی تھی ۔۔۔
وہ گم سم سے بس خاموش ایک کونے میں کھڑے تھے ۔۔
ان کو حجاب کا ہنستا مسکراتا چہرہ آنکھوں میں گھومتا محسوس ہو رہا تھا بار بار ۔۔۔

یا اللہ میرے بیٹی کی حفاظت کرنا ۔۔
میں نے اگر زندگی میں کوئی ایسا کام کیا ہو جو تجھے اچھا لگاہو۔ ۔۔
تو تو میری حجاب کو دے دے واپس ۔۔
میرے رب میرے حبیب کے صدقے میں تو میری بچی کو با حفاظت ہم تک پہنچا دے۔ ۔۔
وہ اپنے رب کے حضور گڑگڑا رہے تھے ۔۔
بول بتا میری حجاب کہاں ہے ؟؟؟

بشر دلاویز کور تہ خانے میں سے کھینچتا ہوا باہر لا رہا تھا ۔۔
مجھے نہیں پتا میں کچھ نہیں جانتی وہ بلبلا کر بولی تھی ۔۔۔
وہ اس کی طرف مارنے کو بڑا تھا ۔۔۔
بشررکو اسکول لیڈی کانسٹیبل کو ہینڈل کرنے دو ۔۔۔

خاندان نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اس کو روکا تھا ۔۔
💕💕💕💕

💕💕💕💕


یہ کیا حال کیا ہے تم لوگوں نے اس کا ؟؟؟
زوار وہاں موجود عورت اور مرد پر دھارا تھا ۔۔۔
اس کی تو نفس بھی بہت ہلکی چل رہی ہے ۔۔
لیکن سر جی مجھے بائی نے یہی کہا تھا کرنے کو ۔۔۔۔

ہاں میں نے کہا تھا بائی سے مگر اتنا بھی نہیں اب کل یہ بھیجنے کے قابل بھی نہیں رہی ہے ۔۔۔
یہ زندہ بھی شاید کل تک نہ رہ پائے ۔۔
وہ حجاب کا چہرہ پلٹ کر دیکھنے لگا ۔۔
یہ دیکھو اس کے چہرے سے بھی خون رس رہا ہے ۔۔
اب کیا سیٹھ اس کا اچار ڈالے گا ؟؟
مگر سر جی میں نے اس کے ساتھ کوئی ریپ تھوڑی کیا ہے ۔۔
ریپ نہیں کیا لیکن اس کا حال دیکھو اس کو موت کے قریب پہنچا دیا ہے۔۔
 کون جواب دے گا ؟؟
 سیٹھ کو تو بھکتے گا ؟؟؟
کون لائے گا اتنی رقم جو میں نے اس سے لے لی تھی پہلے ھی؟؟؟
وہ جارحانہ انداز میں اس آدمی کی طرح بڑا تھا اور گھونسوں اور لاتوں کی بوچھاڑ کر ڈالی تھی ۔۔
حجاب کے اوپر اتنا تشدد کیا گیا تھا کہ زواریہ تک نہیں پہچان پایا تھا کہ یہ اریج نہیں بلکہ کوئی اور لڑکی ہے ۔۔
ایک دم دھڑام سے باہر کا دروازہ کھلا تھا ۔۔۔

خبردار کسی نے بھی ہلنے یا کسی کی بھی قسم کی ہوشیاری کرنے کی کوشش کی تو ادھر ہی گاڑھ دوں گا ۔۔۔
پولیس آفیسر ازجلد اور ان کے اہلکار اپنی پوزیشن سنبھال چکے تھے اور پورے فارم ہاؤس کو اپنے گھیرے میں لے لیا تھا ۔۔
بشر ہمدان اور سمیر تیزی سے آفیسر کی پوزیشن سنبھالتے ہیں اندر داخل ہو چکے تھے ۔۔
باقی سب لوگ وہی عریج کے گھر پر ہی تھے ۔۔
بتا کون ہے اس میں سے کون ہے تیرا وہ یار۔۔۔
 پولیس افسر بولا تھا ۔۔

دلاویز نے بڑی مشکل سے زوار کی طرف اشارہ کرکے بتایا تھا   ۔۔۔
زوار کو دیکھ کر بشر اس کے اوپر بھوکے شیر کی طرح ٹوٹ پڑا تھا ۔۔
بتا کہا ہے میری حجاب ؟؟؟
وہ اس کے منہ پر مکوں کی برسات کرتے ہوئے بولا تھا ۔۔
میرے پاس کوئی حجاب نہیں ہے ۔۔
وہ تڑپتے ہوئے بولا تھا ۔۔
تو اس طرح منہ نہیں کھولے گا ۔۔۔
بشر نے اپنی بیلٹ اتار کر۔۔۔
 اس کے کئی ضرب ایک ساتھ لگا ڈالے تھے ۔۔
بشر اس وقت جنونی سا ہو رہا تھا ۔۔
بشر چھوڑو اس کو ۔۔۔
سمیر نے بڑی مشکل سے اس کو چھڑواتے ہوئے کہا تھا ۔۔۔
بہار شور سن کر کمرے میں بند لڑکیوں نے فورا دروازہ پیٹنا شروع کر دیا تھا ۔۔
اہلکار نے بڑھ کر دروازہ کھولا تھا بھاگ کے ۔۔
مگر اندر لڑکیوں کو دیکھ کر وہ فوری پیچھے ہٹا تھا اور لیڈی کانسٹیبل اندر داخل ہو گئی تھی ۔۔۔
اور پھر دوسری اپنی ساتھی کانسٹیبل کو اشارہ کیا تھا گاڑی میں سے چادریں لانے کا ۔۔۔
دلاویز جب زب زبان کھولی تھی تو سب بتا دیا تھا ۔۔
لیڈی کانسٹیبل پوری تیاری سے آئی تھی ۔۔
تم لوگوں کو پتہ ہے کسی کو حجاب کے بارے میں ؟؟؟
لیڈی کونسٹیبل نے وہاں باندی بنی معصوم لڑکیوں سے نرمی سے پوچھا تھا ۔۔
سب نے ڈر کر نفی میں سر ہلا یا تھا مگر ان میں سے ایک لڑکی ہمت کرکے بولی تھی ۔۔
کہیں آپ اس لڑکی کی تو بات نہیں کر رہی جس کو ابھی ابھی ان لوگوں کا ساتھی دفنانے لے کر گیا ہے؟؟؟
کیا مطلب ؟؟
وہ تمام حجاب کے ساتھ ہوئی جارہیت کے بارے بتاتی چلی گئی۔۔۔
 اندر آتے بچھڑنے دروازے کو تھام کر بڑی مشکل سے خود کو گرنے سے روکا تھا ۔۔۔
اس نے سب سن کر زوار  کی طرف لائیٹر سے آگ لگانا شروع کی تھی ۔۔۔
بتا کہاں ہے میری حجاب کہاں لے کر گیا ہے تیرا آدمی اس کو ؟؟؟؟
بول نہیں تو تجھے ایسی جگہ تکلیف دوں گا کہ تو نہ زندوں میں شمار ہوگا نہ مردوں میں بول جلدی ۔۔۔۔۔
بتاتا ہوں ۔۔۔
اور پھر اس کو لے کر بشر اور پولیس  اس  تک پہنچ چکے تھے ۔۔

وہ فارم ہاؤس کے پچھلی طرف موجود گارڈن میں قبر کھود کر حجاب کو اندر لٹا چکا تھا اور اب اس کے اوپر مٹی ڈال رہا تھا۔۔
تمام لڑکیوں کو با حفاظت پولیس کی گاڑیوں میں بٹھا دیا گیا تھا ۔۔
اور اب وہ لوگ حجاب کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے اس تک پہنچ چکے تھے ۔۔
بشر نے آگے بڑھ کر اس کو دھکا دیا اور خود جھک کر حجاب کے اوپر سے مٹی ہٹانے لگا تھا ۔۔
وہ رو رہا تھا چیخ رہا تھا مسلسل ۔۔۔
ہمدان اور سمیر نے اس درندے آدمی کو پکڑ کر اتنا دھونا تھا کہ بس سانس بند ہونے کی کمی باقی رہ گئی تھی ۔۔
سمیر اور ہمدان بھاری قدموں سے بشر کی طرف بڑھے تھے دونوں کے دل غم سے نڈھال تھے ۔۔
بشر اس کو سینے سے لگائے بیٹھا تھا ۔۔
یار اس کی نبض ابھی چل رہی ہے جلدی کرو ہاسپٹل لے کر اس کو چلو۔۔
ہمدان نے حجاب کہ ہاتھ کو واپس چھوڑ کر کہا ۔۔
وہ بھی اس کی حالت دیکھ کر اس سے سے بےقابو ہو رہا تھا ۔۔
بشر اس کو بازوؤں میں بھر کر ہوسپٹل کے لئے نکل چکا تھا وہ پچھلی سیٹ پر اپنی گود میں لئے اس کو بیٹھا تھا ۔۔۔
💕💕💕

ڈاکٹر کیسی ہے میری وائف ؟؟؟
ڈاکٹر کو آئی سی یو سے باہر نکلتے دیکھ کر وہ ڈوڑتا ہوا ان کی طرف پہنچا تھا۔ ۔۔
دیکھے آپ کی وائف کی حالت ٹھیک نہیں ہے اوپر سے وہ ایکسپیکٹ بھی کر رہی ہیں ۔۔
یی اللہ کا کوئی معجزہ ہی ہے کہ ان کے حمل کو کوئی نقصان نہیں ہوا ہے اتنے تشدد کے باوجود ۔۔
اگلے 24 گھنٹے بہت اہم ہیں ۔۔
آپ لوگ دعا کریں ۔۔
میں آپ کو کوئی امید نہیں دلانا چاہتا پشینٹ کی حالت بہت خطرناک تھا خراب ہوچکی ہے ۔۔۔
💕
جاری ہے۔ ۔


0 comments:

Post a Comment