Tu itni masoom he..💕
By Aymen Nauman
Epi 36..(3rd last epi)
میں سمجھی نہیں آپ کی بات کو؟؟
اریج حیران پریشان تھی سمیر کو دیکھتے ہوئے بولی۔۔
اوپر چلو سب سمجھاتا ہوں ۔۔
وہ کچھ بھی سننے کے موڈ میں نہیں تھا ج۔۔
جو بھی بات کرنی ہے یہی کریں ۔۔
اریج کو سمی رکا رویہ کچھ مختلف سا محسوس ہو رہا تھا ۔۔
سمیرا سکی نا نا کی تکرار پر چڑھ سہ گیا تھا ۔۔
وہ اب کچھ بھی کہے بغیر اریج کی طرف بڑھا اور آرزو کواسکی گود لیا۔ ۔
اور پھر اریج کا بازو تھام کر کھینچنے کے انداز میں اوپر کمرے کی طرف بڑھ گیا تھا ۔۔
اریج کو اپنے حواس معطل ہوتے محسوس ہونے لگے تھے وہ کھلی ہوئی سمیر کے ساتھ حواس باختہ سی اس کے کمرے میں پہنچ چکی تھی ۔۔۔
ہاں اب بولو ۔۔
رکیا کہنا چاہتی ہو؟؟؟
وہ آرزو کو بیڈ پر احتیاط سے لیٹا کر واپس اریج کی طرف متوجہ ہوا ۔۔
ساتھ ہی فون ملا کر کسی ملازم کو شاید اوپر شو پر زلانے کا آرڈر بھی دے رہا تھا ۔
یہ سب کچھ کیا ہے ؟؟؟
اریج کا ضبط جواب دے چکا تھا وہ کچھ بھی لگی لپٹی رکھے بغیر گویا ہوئی ۔۔۔
اپنے لہجے کو زرہ دھیما رکھو اور یہ مت بھولو کہ تم اپنے شوہر سے مخاطب ہوں ۔۔
سمیر اس کو وارن کرنے والے انداز میں بولا تھا ۔۔۔
شوہر ۔؟؟
وہ آنکھیں پھاڑ ے اسکا الفاظ دہرا کر بولی۔۔۔
ہاں بالکل ٹھیک سنا شوہر ۔۔
اور جتنی جلدی تم اس حقیقت کو ایکسپٹ کروں گی تمہارے لئے ہی بہتر ہے ۔۔۔
آر یوان یورسینسس؟ ؟؟؟
آپ شاید بھول رہے ہیں کہ یہ شادی ایز آ کانٹریکٹ میرج کے تحت کی گئ تھی۔ ۔
وہ اس کو باور کراتے ہوئے بولی
وہ ہوئی تھی ۔۔
مگر اب تم میری بیوی ہو ۔۔
وہ اس کی طرف بڑھتے ہوئے مزیدبولا ۔۔
اور تھی اور ہے میں بہت فرق ہوتا ہے ۔۔۔
اریج اس کے بدلتے ہوئے انداز دیکھ کر کچھ خوفزدہ ہوئی تھی ۔۔
اور الٹے قدموں پیچھے ہوتی دیوار سے جا لگی تھی ۔۔
وہ نہ فہم نظروں سے سمیر کو گھبرا کر دیکھ رہی تھی۔۔
وہ اس کو دیوار سے لگا دیکھ کر اس کے قریب ہوا اور ایک ہاتھ سے اس کی کمر کے گرد حصار بانھ کر دوسرے ہاتھ سے اس کے بالوں کو کیچر سے آزاد کرتے ہوئے گویا ہوا ۔۔
شادی تمہاری مرضی سے ہوئی تھی مگر یہ ضروری نہیں کہ ہر دفعہ تمہاری ہی مرضی چلے ۔۔
وہ تیز ہوتی دھڑکنوں اور سمیر کی حددرجہ قربت سے خائف ہو کر ۔۔
اس کے سینے پر اپنے دونوں ہاتھوں کا دباؤ ڈال کر اس کو دور ہٹانے کی بھرپور کوشش کرنے لگی ۔۔
مگر سمیر اس کو مزاحمت کرتا دیکھ کر ہلکا سا مسکرایا تھا ۔۔
اور پھر اس کو خود میں جکڑکر بولا ۔۔
ابھی تو چھوڑ رہا ہوں مگر تو چار دن سے زیادہ نہیں بس کوگی ۔۔
جو بھی خرافات ہے ذہن سے نکال باہر کرو ۔۔
عریج اس کی قید سے رہائی پا کر فوراًکمرے سے باہر جانے لگی تھی جب سمیر نے اس کا ہاتھ کھینچ کر دوبارہ خود سے قریب کیا ۔۔
وہ اس افتاد سےسنبھل نہ سکی اور سمیر کے سینے سے دوبارہ آ لگی ۔۔
اور کمرے سے باہر جانے کا تو آپ بالکل بھی نہیں سوچنا ۔۔۔
میرے ساتھ اس کمرے میں رہوں گی اب سے تم ۔۔
وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا ۔۔
یہ ممکن نہیں ہے ۔۔
اریج نے ایک دفعہ پھر سے ہمت مجتمع کر کے کہا ۔
اور اگر میں ابھی اور اسی وقت ممکن بنا دو تو ؟؟؟
اریج کو اس کی آنکھوں میں چیلنج سا نظر آیا تھا ۔۔
ٹھیک ہے یہی ہو ۔۔
کہیں نہیں جاؤں گی ۔۔
آس نے تھک ہار کر آخر کار ہتھیار ڈال ہی دیے تھے ۔۔
۔
گڈ گرل ۔۔
اچھی بات ہے ابھی سے فرمابردار بیویوں کی طرح بات ماننا جانتی ہو ۔۔
وہ اس کے گال پر اپنی شہادت کی انگلی پھیر کے پیچھے ہٹ چکا تھا ۔۔۔
وہ کچھ ہی فاصلے پر رکھا صوفہ دیکھ کر اس پہ ڈھے سی گئی تھی ۔۔
کیا یہ کوئی خواب ہے ؟؟
کیا اللہ پاک اس طرح دعاؤں کو قبول کرتا ہے ۔؟؟
وہ کل تک جو یہ سوچ کر پریشان تھی کہ۔ ۔۔
سمیر کسی بھی لمحے اس کو آزادی کا پروانہ سنا سکتا ہے۔۔۔
مگراب اس کے بدلے بدلے انداز پر اندر تک مطمئن سی ہو چکی تھی ۔۔
وہ نکاح کے بعد سے اپنے اندر آنے والی تبدیلی سمیر کے لئے نرم جذبات اور آرزو سے محبت کو محسوس کر چکی تھی ۔۔
وہ خود بھی اب اس رشتے کو ختم کرنے کا تصور بھی نہیں کر سکتی تھی ۔۔
اور سمیر نے تو آج جیسے اس کو نئی زندگی بخشتی تھی۔۔
طلاق کا داغ ایک پاکدامن لڑکی کے لیے بہت ازیت باک قسم کا دھبا ہوتا ہے ۔۔
اور وہ اپنے پاک دامن پہ کسی بھی قسم کا داغ لگتے نہیں دیکھنا چاہتی تھی ۔۔
اس وقت تووہ سمیر سے کہہ گئی تھی کے یہ شادی کچھ عرصے کے لئے کرلیں۔۔
مگر بعد میں وہ بار بار اذیت کا شکار ہو رہی تھی یہ سوچ سوچ کر کیسے اب وہ اپنے ماتھے پر طلاق کا داغ لے کر جائے گی۔۔۔
تو کیا اس وقت وہ وہی عریج ہوگی جو اپنے باپ کے گھر سے عزت بچاکر بھاگی تھی ۔۔۔؟؟؟
اور اپنے دامن میں مزید کیچر لگا کر واپس لوٹی تھی ۔۔۔
اس کو سمیر سے محبت نہیں تھی مگر سمیر اس کو بہت اپنا اپنا سا لگنے لگا تھا ۔
کریں محبت تو اس کو اتنا یقین تھا کہ نکاح کے تین بولو میں اتنی طاقت ضرور ہے کہ۔۔
دو دلوں میں محبت پیدا کرسکیے۔ ۔۔
💕💕💕
صبح کے وقتسب لوگ ناشتے سے فارغ ہوکر لاؤنج میں ہیں برجمان تھے چھٹی کا دن تھا ۔۔
بھئی ہماری بیٹیاں پر بتائینگی کہ کے برات کے ڈنرمینیو کیا ہونا چاہیے ؟؟؟
شادی کے موضوع پہ ہی ڈسکشن ہو رہا تھا جب بات پر برات کے کھانے پر آئی تو بابا نے مسکرا کر حجاب اور اسرا کی طرف دیکھ کر کہا تھا ۔۔۔
ارے واہ کیا بات ہوئی۔۔۔
انتظاماتسب میں کرو سارے اور آخر میں مین چیز یہ دونوں ڈیسائیڈ کریں ۔۔۔
بشر منہ بنا کر بولا ۔۔
ارے بھئی تم کیوں بے کر رہے ہو ؟؟؟
تم اور تمہاری ما ما مہندی کے فنکشن کو میں نے ڈیسائیڈ کرلو ۔۔۔
بابا نے فوری بشر کو منانے کے لئے حل نکالا اور مسکرا کر اس کو دیکھنے لگے ۔۔
اسراء شرمائی شرمائی سی نظریں جھکائے بیٹھی تھی ۔۔
عمامہ اس کو بہت پیار بھری نظروں سے دیکھتی سوچ رہی تھی کہ ۔۔
اللہ نے ان کی سن لی تھی۔ ۔
ان کو قدسیہ کے آگے سرخرو کر دیا تھا۔ ۔
ان کی بھانجی عزت سے اپنے گھر کو ہونے کو تھی اس کو اپنی خوشیاں ملنے والی تھی۔۔
وہ آج خود کو بہت ہلکا پھلکا محسوس کر رہی تھیں۔ ۔
ارے دیکھو بس اب میں ڈی کے فنکشن میں پانچ دن رہ گئے ہیں باقی ۔۔
تم لوگ کب شاپنگ شروع کرو گے کب مکمل ہو گی ماما نے تینوں کو کہا ۔۔
اور نہیں تو کیا ۔۔
ویسے میں کیا پہنوں بارات میں اور باقی فنکشنز میں ؟؟؟
حجاب نیں بھی ٹکڑا لگایا وہ بہت خوش اور ایک سائٹ بھی اس راہ کی شادی کو لے کر ۔۔
اسراء کی بارات والے دن اس کی اینیورسری بھی تھی پہلی شادی کی ۔۔
کچھ بھی پہن لو چوڑیل کبھی ہور نہیں بن سکتی ۔۔۔
بشیر نے حجاب کو تنگ کرنے کے لئے چھیڑا ۔۔
میں نے آپ سے نہیں پوچھا آپ تو جلتے ہیں میرے حسن سے ۔۔
حجاب نے ایک ادا سے اپنے کھلے سارے بال سمیٹ کر ایک شانے پر ڈال کے کہا ۔۔
خوش فہمی تو چیک کریں ذرا میڈم کی ۔۔
بشر نے ہاتھ کے اشارے سے حجاب کی طرف اسراء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ۔۔
حجاب ان دونوں کی لڑائی میں بچاری تھالئ کا بیگن بن کے کبھی ادھر لڑکتی تھی توکبھی ادھر لڑکتی تھی ۔۔
بس اب لڑائی جھگڑا نہیں شروع کر دینا تم لوگ ۔۔۔
اور بس آج ہی سے اپنی شاپنگ اسٹارٹ کرو ۔۔
بابا ما سکول تا دیکھ کر جلدی سے بولے اور حجاب جو دل چاہے خرید لینا تمہاری نیند کی شادی ہے ۔۔
حجاب کا چہرہ بابا کی اس بات سن کے کھل اٹھا تھا۔۔۔
او میرے پیارے بابا آپ دنیا کے سب سے پیارے بابا ہے
وہ اٹھی اور اٹھ کے بابا کے گلے لگ کے بولی تھی بڑے لاڈ سے ۔۔
اور اسراء تمہارے لئے بھی میں نے چیک بنا دیا ہے ہر چیز بہتر سے بہترین لینا ۔۔
میں اپنی پیاری بیٹی کی شادی میں کسی بھی چیز میں کمپرومائز نہیں دیکھنا چاہتا ۔۔
وہ اس کے سر پر شفقت بھرا ہاتھ رکھ کے گویا ہوئے تھے ۔۔
حجاب اور اسرا دونوں کے چہرے خوشی سے دمکنے لگے تھے
💕💕💕💕
ادھر ہمدان کے گھر میں تیاریاں بھی زور و شور سے شروع ہوچکی تھیں ہر طرف خوشیوں کا راج تھا ۔۔
بیٹا تم اسراء کو لے جاؤ اور جا کے برات اور ولیمے کا ڈریس لے اور جو بھی شاپنگ تم دونوں نے کرنی ہے وہ کر لو ۔۔
میرا بہت ارمان تھا کہ میں خود جاکر تمہاری بڑی تیار کرتی مگر میرے پیر وں نے میرا ساتھ نہ دیا ۔۔
وہ اداسی سے بولی ان کا ایک ہی تو بیٹا تھا وہ ہر طریقے سے شادی کی تیاریاں کرنا چاہتی تھیں ۔۔
ارے میری اماں آپ کی اداس ہوتی ہے میں ہوں نہ۔۔
اسی طرح آپ کی بہو کے دیدار بھی ہو جائیں گے ۔۔
وہ ان کو اداس دیکھ کر بات کو مذاق رنگ دے گیا تھا ۔۔
جیتا رہے آباد رہے میرا پتر سدا خوش رہے تو ۔۔
زندگی کی ہر خوشی نصیب ہو ۔۔
وہ اس کو دعائیں دیتیں واپس اسراءکے دوپٹے میں کرن لگانے میں مصروف ہو گئی تھی ۔۔
وہ بشر کو فون ملا نے لگاتا کہ اسراء کو لے کر شاپنگ پر آج ہی چلا جائے ۔۔
بشر کے فون اٹھانے پر اس نے سلام دعا کے بعد بےتابی سے کہا کہ ۔۔
یارا سرا کا فون بند جارہا ہے ۔۔
تو پھر ۔؟؟
بشر لہجے میں رکھائی سمو کر بولا ۔۔
تو پھر کیا مجھے اس سے بات کرنی ہے ۔۔
حمدان نیں بھی کڑک آواز میں کہا ۔۔
جو بھی بات کرنی ہے مجھے کہہ دو میں بتادوں گا اس کو ۔۔
تم سے ضائع ہو جائے گا دیکھ بات کرا میری بیوی سے ۔۔
ہمدان نے بشر کو دھمکایا ۔۔
او اچھا واقعی میں ۔۔۔
بشر نے گویا ناک پہ مکھی لڑائی ۔۔
صبر کر رک ایک منٹ ۔۔
وہ سامنے سے گزرتی آسرا کو بلاتے ہوئے بولا ۔۔
کس کا فون ہے ؟؟
اسراء نے فون تھامتے ہوئے پوچھا تھا بشر سے ۔۔
تمہارے سرتاج کا ۔۔
وہ آسرا کو فون دینے سے پہلے اسپیکر اون کرنا نہیں بھولا تھا ۔۔
اسراء اسکی شرارت پر گھور کے رہ گئی بشر کو۔۔۔
جی ۔۔
اس نے موبائل کان سے لگا کر کہا ۔۔
اس کو بشر کے سامنے بات کرنے سے ویسے ہی جھجک محسوس ہو رہی تھی۔۔
اس پر تضاد وہ سامنے ہی بظاہر آنکھیں اورکان بند کرکے کھڑا مسکرا رہا تھا ۔۔۔
کہاں غائب ہو تم لگتا ہے اپائنمنٹ لینا ہو گئی تم سے ۔۔۔
وہ جتاتے ہوئے بولا ۔۔
کوئی کام تھا ؟؟؟
یہ پوچھو کیا کیا کام نہیں ہے تم کہو تو ابھی بتا دو سارے ۔۔۔؟؟؟
نہیں نہیں ابھی نہیں ۔۔
وہ اس کو پٹری سے اتر تا دیکھ کر جلدی سے بولی ۔۔۔
اچھا وہ کل چلیں گے بارات کا ڈریس لینے ۔۔۔
جی وہ آپ لے لیں اپنی پسند سے جو بھی لینا چاہیں۔ ۔۔
بشر نے اسپیکرکھولا ہوا ہے ۔۔
وہ جلدی سے بولی تھی اور فون زبردستی بشر کے ہاتھ میں رکھ کر یہ جا وہ جا ۔۔
بشر کے بچے نہ تجھے حجاب سے پٹوایا تو میرا نام بھی ہمدان نہیں ۔۔۔
وہ سلگ ہی تو گیا تھا ۔۔
ھاھاھا ۔۔
جو کرنا ہے کر لے میں نے بھی ہاتھوں میں چوڑیاں نہیں پہن رکھیں ۔۔۔
بشر کو اس کو تپآنے میں بہت مزہ آ رہا تھا ۔۔
اور ویسے بھی ابھی تو لڑکی بھائی کے گھر ہے ۔۔۔
بشر نے مزید لقمہ لگایا ۔۔۔
💕💕💕
حجاب اور آسرا شاپنگ کرکے پارکنگ سے ذرا فاصلے پر ڈرائیور کا انتظارکر رہی تھی۔۔
یار حجاب مجھے وہ ڈریس بہت اچھا لگا تھا مگر تم نے اتنی جلد بازی کی کہ میں لے ہی نہیں پائی ۔۔
اسراء کو ایک کام دار سوٹ بہت اچھا لگا تھا مگر حجاب کے بھوک بھو ککا شور مچانے کی وجہ سے وہ خرید نہ پائی تھی ۔۔
ابھی ابھی وہ حجاب کو برگر سے انصاف کرتے دیکھ کر بولی ۔
ارے تو کیا ہوا؟؟
ابھی تو ہم یہی ہیں جو لے لو جاکر ۔۔۔
چلو پھر چلتے ہیں ۔۔
اسرانے جھٹ کہا ۔۔
ہیںننن؟ ؟؟
میں نہیں جا رہی۔۔
تو پھر میں کس کے ساتھ جاونگی ؟؟؟
وہ دیکھو ڈرائیور چاچا گاڑی لے کر آگئے ہیں ۔۔
وہ اب گاڑی میں بیٹھ چکی تھی ۔۔
کیسے جاؤں کیا ؟؟
میں گاڑی میں ہوں تم ڈرائیور چاچا کو ساتھ لے جاؤ ۔۔۔
مگر تم ادھر اکیلے ۔۔۔؟؟
ارے یار تم جاؤ میں جب تک یہ برگر سکون سے کھا لوں پیٹ میں شدید چوہے دنگل مچا رہے ہیں ۔۔۔
چلو ٹھیک ہے ۔۔
اندرسے گاڑی لاک کرلو ۔۔
اسراء نے کہا اور ڈرائیور کے ساتھ مال میں چلی گئی ۔۔
ان دونوں کو گئے ہوئے دس منٹ بھی پورے نہیں ہوئے تھے کہ کسی نے گاڑی کا شیشہ توڑ کر لو کھولا تھا ۔۔
حجاب نے خوفزدہ ہو کر چیخنا چاہا ہی تھا کہ 1 دیوہیکل سے آدمی نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ کر اس کی چیخوں کا گلا گھونٹا تھا اور دوسرے اسی کے جیسے لمبے تڑنگے آدمی نے اس کے بازو میں تیزی سے انجیکشن لگایا تھا ۔۔۔
وہ کراہ کر رہ گئی تھی ۔۔
خوف سے اس کی آنکھیں پھٹی پڑ رہی تھی ۔۔
اور پھر ان دونوں آدمیوں نے حجاب کو ساتھ موجود گاڑی میں جلدی سے منتقل کیا ۔۔۔
اور کچھ ہی دیر میں وہ گاڑی اپنی منزل کو روانہ ہو چکی تھی ۔۔
حجاب کے ہاتھوں سے بشر کے لئے چھوٹا سا اینیورسری کے لئے پیک کرایا ہوا گفٹ اور چھوٹا سا ہی کارڈ اس گفٹ پر لگاہوا تھا ۔۔
اس تمام کارروائی میں وہجاب کے ہاتھ سے اسی کی گاڑی میں کہیں لڑھک کر گر چکا تھا ۔۔۔
💕💕💕
جاری ہے۔ ۔۔
Tuesday, December 18, 2018
Subscribe to:
Post Comments (Atom)

0 comments:
Post a Comment