Tuesday, December 18, 2018

tu kitni masoom hai episode 35 by aymen nauman

Tu kitni masoom he..
By Aymen Nauman
Epi 35.

Do not Copy Paste Without My Permission ۔.

مگر میں اسراہ کے ساتھ شہر میں ہی رہوں گا اس حویلی میں اس کو کبھی بھی نہیں لاؤں گا ۔۔۔
اور دادی آپ کی جب تک زندگی ہے اماں  بابا آپ کے ساتھ ہے۔۔
 میں ان کو اپنے ساتھ  جانے پر مجبور نہیں کر رہا ۔۔
اس کے بعد میں اپنے ماں باپ کو بھی اس زندان میں نہیں رہنے دوں گا ۔۔۔
وقت کسی کا نہیں ہوتا اور آج وقت نےبہت بڑا انصاف خود بخودکردیا تھا ۔۔
آج وہ اس ہزاروں مربعوں کی مالکان ۔۔
زندگیوں پر حکمرانی کرنے والی خود کو حاکم سمجھنے والی دوسروں کو ملظوم جاننے والی ۔۔۔

اپنے اکلوتے پوتے کے ہاتھوں بہت بری طرح سے عرش سے فرش پر اوندھے منہ گریں تھی ۔۔۔

حمدان اپنا فیصلہ سنا کر اٹھ گیا تھا ۔۔۔
اس کو اٹھتا دیکھ ماما نے اس کا ہاتھ تھام کر کہا ۔۔

بیٹا کیا اپنی ماں کو ادھر ہی چھوڑ کے چلے جاؤ گے ؟؟؟
وہ ماں کو جھک کرماتھے پر بوسہ دے کے ویلچیئر احتیاط سے گھسیٹتے ہوئے ہوںئے حویلی کے خارجی دروازے کی طرف بڑھ گیا تھا۔۔۔

ؓمکیم صاحب۔۔
اپنے شہانہ تخت پر بیٹھی دیوار سے سر ٹکائے غم کی تصویر بنی۔۔۔
 اپنی ماں پہ  ترہم بھری نظر ڈال کر بڑے افسوس سے کہنے لگے کہ ۔۔
اللہ جب تک اپنے نافرمان بندوں کی رسی دراز رکھتا ہے جب تک وہ مکمل طور پر نافرمانی کے دلدل میں اتر نہیں جاتے ۔۔۔
مگر جب وہ اپنی دراز کی ہوئی رسی کھینچتہ ہے تب  انسان برباد ہوجاتا ہے۔۔
 کہیں کا نہیں رہتا۔۔
 وہ پھر اس دلدل میں اپنے ہی گناہوں کی بدولت بری طرح دھنس کر رہ جاتا ہے ۔۔۔
میرے رب کو معصوم اور کمزور بندوں پر ظلم پسند نہیں ہے ۔۔۔
یہ کہہ کر مقیم صاحب بھی بیٹے اور بیوی کی طرف بڑھ چکے تھے ۔۔
انہوں نے ایک آخری نظر اپنی ماں اور اس حویلی کو دیکھا تھا اور جاتے جاتے رک کے اپنی ماں سے گویا ہوئے تھے۔ ۔۔
سنبھالیے اپنی جاگیر۔۔
 اب آپ کے ملازم آپ کی  جائیداد اور آپ کی حویلی آپ کے حوالے ہے ۔۔۔
یہ کہہ کر وہ باہر تیزی سے ہمدان کی جیپ کی طرف بڑھ چکے تھے ۔۔۔

💕💕💕

ڈرائنگ روم میں ہمدان اپنے والدین کے ساتھ تشریف فرما تھا ۔۔۔
حجاب ہمدان کی پیرنٹس کو دیکھ کر اپنی طرف سے ہر ممکن کوشش کر رہی تھی مہمان نوازی کی ۔۔۔
بشر کو بہت خوشگوار حیرت کا جھٹکا اپنے گھیرے میں لئے ہوئے تھا ۔۔۔
میں آپ سے ان تمام مظالم کی ہاتھ جوڑ کر معافی مانگتا ہوں جو قدسیہ بھرجائی کے ساتھ ہوئے ۔۔۔
وہ خالہ کے سامنے ہاتھ جوڑ کو تھے ۔۔
جب بشر نے بڑھ کر ان کے ہاتھ تھام لئے ۔۔
ماما بھی حیران تھیں کہ ہمدان اتنی جلدی اپنے ماں باپ کو کیسے لے کر آ گیا تھا۔؟؟؟

بھائی صاحب آپ کی امی کی اس رشتے کو دل سے مانے گی ۔۔
کیا وہ اس رشتے  قبول کریں گی ؟؟؟
میں آسرا کو اپنی بہن کی پرچھائیں نہیں بننے دینا چاہتی ۔۔۔
وہ بہت تڑپی ہے ۔۔۔
وہ پوری زندگی دکھوں کی پاداش میں گزری ہے  اسکی۔ ۔
 اور اسی سسکیوں سمیت وہ قبر میں جا سوئی ہے ۔۔
میں اپنی بھانجی کو جانتے بوجھتے کھائی میں نہیں دیکھی نہ جاتی ۔۔
بس بہن وہ معنے یا  نہ ما نیں میں ہمدان کی ماں ہوں ۔۔
آپ کے سامنے بڑی محبت سے اپنے بیٹے کی خوشیاں مانگنے آئی ہو ں۔ ۔۔
میں آپ سے بہت محبت سے آسرا کا ہاتھ اپنے بیٹے کیلئے مانگتی ہوں ۔۔۔
وہ پورے خلوص کے ساتھ گویا ہوئیں ۔۔

ان کے لہجے میں بولتی سچائی اور اپنی بات کی پختگی کو محسوس کرکے خالا پھر کچھ نہ کہہ سکیں ۔۔
اور رہی بات نکاح نامے کی تو ۔۔
تو اب یہ شادی پورے دھوم دھام سے ہوگی ۔۔
حکیم صاحب خالہ اور خالو کو نیم رضامند دیکھ کرگویا ہوئے تھے۔ ۔۔
ہمدان نے ڈرائنگ روم کے باہر ایک سنہری  آنچل لہراتا ہوا دیکھا تھا ۔۔
اس کے لبوں پے ایک مسکراہٹ سیا کر معدوم ہو گئی۔۔
وہ سمجھ گیا تھا کہ اسراء دروازے کے پیچھے گھڑی ہی چھپکے ۔۔۔
بشر مجھے اسموکنگ کرنی ہے ۔۔
وہ اپنے برابر میں بیٹھے بشر سے آہستہ سے بولا ۔۔
ہاں ہاں مجھے پتا ہے تجھے کس اسموکنگ کی کریونگ  ہو رہی ہے ۔۔
بشر بھی اسی کا دوست تھا ذومعنی لہجے میں بولا ۔۔۔
زیادہ بکواس نہ کر اور مجھے باہر لے کر جا۔۔
ہمدان نے بشر کو دھمکایا ۔۔
ویسے میں تجھے بات بتا دو تو اب اپنی بیگم سے کبھی ملے گا جب میری بیگم کی اجازت ہوگی ۔۔

اور میری بیگم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ تیری اور اسراء صاحبہ کی ملاقات اب ڈائریکٹ حجلہ عروسی پر ہی ہوگی ۔۔۔
کہو تو حجاب سے پچھوا دیتا ہوں ۔۔
بشر ڈھٹائی سے بولا ۔۔۔
خیر مجھے پتاہے مجھے کس طرح سے اپنی بیوی سے ملنا ہے ۔۔
وہ میں مل ہی لونگا تو بس اپنی خیر منا اب ۔۔۔
وہ اس کے کندھے پر دھمو کا جڑ کے بھولا ۔۔۔

💕💕💕

شام کے وقت اسرا اپنے سسرال والوں کے جانے کے بعد خالہ کے پاس ہمت کرکے ان کے کمرے میں آ ہی گئی تھی ۔۔
اس کو خالہ کے سامنے جانے سے ایک عجیب سی گھبراہٹ محسوس ہو رہی تھی ۔۔
جھجک سی آڑے آ رہی تھی ۔۔
اف۔۔۔
اللہ تعالی کیا سوچتی ہونگی خالہ میرے بارے میں؟؟؟
 اوپر سے ہمدان سے بھی بات نہیں کر پا رہی ۔۔
حجاب اور بشر سے تو  میں بعد میں نمٹونگی ۔۔
 بشرنے بڑی خاموشی سے اسراکا فون چھپا دیا تھا اور الزام حجاب کے اوپر ڈال دیا تھا ۔۔

کہ فون چاہیے تو اس سے لےلو میں تو باز آیا شہد کی مکھی کو چھیڑنے سے ۔۔
وہ صاف مقرر کیا تھا ۔۔۔
اسرا خاموشی سے دل مسوس کر رہ گئی ۔۔
خالہ کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی حجاب سے معلوم ہوا تھا ۔۔
 بی پی صبح سے ہی کافی بڈھا ہوا تھا ۔۔
وہ کمرہ اندھیرا کئے آنکھوں پر ہاتھ رکھے شاید سونے کی کوشش کر رہی تھی ۔
پیروں کی استرا بیت بتا رہی تھی کہ ان کے اندر ایک سرد جنگ چھڑی ہوئی ہے ۔۔
وہ ان کے پاس بیٹھ کر ان کے پیر دبانے لگی اس کے پیروں پر ہاتھ رکھ نے پر انہوں نے آنکھوں پر سے بازو ہٹا کر دیکھا ۔۔
اسراء کو اپنے سامنے دیکھ کر انہوں نے اپنے پیر اس کے ہاتھوں سے تھوڑے دور کر لیے۔۔۔
 گویا ناراضگی کا اظہار تھا ۔۔۔
خالا مجھے معاف کر دیں پلیز۔۔۔
 وہ دوبارہ سے ان کے پاؤں کو اپنے ہاتھوں سے آہستہ آہستہ دباتے ہوئے بولی ۔۔۔
میرا مطلب آپ کو تکلیف دینا ہرگز بھی نہیں تھا ۔۔
تو پھر کیا مطلب تھا ۔۔؟؟
وہ تھوڑی توقف کے بعد گویا ہوئیں ۔۔
مجھ سے کیوں چھپایا اپنے اور ہمدان کے نکاح کا ؟؟؟
شاید میں تمہیں ماں جیسی محبت نہ دے پائی تھی جو تم مجھ سے اپنا دکھ سکھ شیئر کرتیں؟؟؟۔۔۔
خالہ میں آپ کو سب کچھ بتانا چاہتی تھی مگر سب کچھ اس طرح سے ہو جائے گا ۔۔
میں اس سچویشن سے بہت زیادہ خوفزدہ ہو گئی تھی اس وقت ۔۔۔
وہاب خالہ کے ہاتھ پکڑ کر زاروقطار رو دی تھی ۔۔۔
پلیز خالہ ایک دفعہ معاف کر دے مجھے ۔۔۔
ماں ہیں نہ۔۔۔
 اپنی اس  نالائق بیٹی کی غلطی کو صرف ایک دفعہ درگزر کردیں۔ ۔۔
وہ آسرا کو گلے لگا کر خود بھی زاروقطار رو دی تھیں۔ ۔۔
💕💕💕

وہ کئی دنوں سے نوٹ کررہا تھا کہ اریج کے پاس کپڑوں کے نام پر صرف ایک ہی سوٹ ہے جو شاید وہ بھی حجاب نیں اس کو دیا تھا وہ نکاح کے بعد سے اسی ایک ہی جوڑے میں نظر آ رہی تھی ۔۔۔

وہ لاؤنج میں بیٹھا اپنے آفس کے مینجر سے تمام ایک سال کی پروگریس کے بارے میں معلومات حاصل کر کے آفس کے متعلق فون بند کر چکا تھا ۔۔۔

وہ موبائل سائیڈ میں رکھ کے لاؤنج میں ہی ٹی وی چلا کر بیٹھ گیا ۔۔
وہی تھوڑے فاصلے پر اریج آرزو سے اٹھکیلیاں کر رہی تھی اس کو شدت سے محسوس ہوا کہ وہ جب سے آئی ہے بس اسی ایک ہی لباس میں ہے ۔۔
وہ خود پر افسوس کرتا ہے ۔۔
اور پھر اس کے دل میں ایک خیال سا آیا تھا کہ ۔۔
اریج شب تک میرے نکاح میں ہے مجھے اس کی ضروریات کا پورا پورا خیال رکھنا چاہیے ۔ 
وہ میری بیٹی کی کتنی توجہ اور محبت سے دیکھ بھال کررہی ہے۔۔
 کیا میں اس معصوم لڑکی کے لئے اتنا بھی نہیں کر سکتا ؟؟؟۔۔۔
وہ کافی دیر سے اریج کے بارے میں سوچ رہا تھا۔۔۔۔۔۔
 اس کے لاکھ نہ چاہنے کے باوجود بھی وہ اس کے دل و دماغ میں خود بخود جگہ بناتی جا رہی تھی ۔ ۔
یہ میں کیا سوچ رہا ہوں؟؟؟؟
 کیا ایک دفعہ پھر میں عورت کے ہاتھوں خوار اور رسوا ہو نگا ؟؟؟
کیا ایک دفعہ پھر میری بیوی مجھ سے  طلاق کا مطالبہ کرے گی ؟؟؟
نہیں بالکل نہیں ۔۔۔
بس اب اور نہیں ۔۔
شادی پیا کوئی تماشا یا کھیل نہیں ہے ۔۔۔
وہ ایک فیصلہ کرکے اٹھ کھڑا ہوا تھا ۔۔۔
طائرانہ نظر وہاں موجود اپنی بیوی اور بیٹی پہ ڈال کر بغیر کچھ کیے کہے گاڑی کی چابی اٹھا کر باہر نکل گیا تھا ۔۔
💕💕💕

ہیں۔۔۔
 بڑے ہی عجیب ہیں یہ تو ۔۔۔
بیت ہی کوئی کھڑوس ٹائپ کے بندے ہیں۔۔۔
 تھوڑا سا بات چیت ہی کر لیتا ہے انسان ۔۔۔
ایسا لگتا ہے یہاں دیواروں کے ساتھ باتیں کرنی پڑے گی کچھ ہی دنوں میں ۔۔۔
مگر خیر مجھے کیا میرے پاس تو میری چھوٹی سی گڑیا آرزو ہے نہ ۔۔
وہ آرزؤں کے گالوں پر چٹاچٹ پیار کرتے ہوئے بولی ۔۔۔
شکر ہے یہ شادی ساری زندگی کے لئے نہیں ہے ۔۔
کنٹریکٹ کے مطابق کی گئی ہے نہیں تو پوری زندگی بس ایسی ہی گزرنی تھی کہ ۔۔۔
تم کہاں اور ہم کہاں ۔۔۔
کے مطابق ۔
شکر ہو گیا یہ تو ۔۔
چلو بس جلدی سے زوار کا قصہ کسی طرح ختم ہو تو میں بھی سکون کا سانس لو۔۔
 کسی کے اوپر زبردستی بوجھ بننا اریج کو بہت عجیب سا لگ رہا تھا ۔۔۔
اوپر سے سمیرکا رویہ اس کو بہت زیادہ دلبرداشتہ کر رہا تھا ۔۔۔
مگر کیا میں اس ننھی سی گڑیا کو اپنی محبت اور شفقت سے بھرپور لمس کا احساس دلاکر تنہا کرکے مطمئن رہ سکونگی؟ ؟؟
اس سوچ کے آتے ہیں وہ بے کل سی ہو گئی تھی ۔۔

💕💕💕💕💕

سمیر کافی ٹائم بعد اریج اور آرزو کے لیے شاپنگ کرکے گھر واپس آیا تھا ۔۔
گھڑی رات کے ساڑھے دس بجا رہی تھی ۔۔
بو ابھی دس بجے اپنے کواٹر میں جا چکی تھی ۔
اریج آرزو کو لے کر سب چیزیں اس کی سمیٹ کر اپنے کمرے میں ہی جانے کو تھی ۔۔۔
سمیر کا انتظار بھی تھا کیونکہ کافی دیر ہوچکی تھی اس کو گھر سے نکلے ہوئے مگر اتنی ہمت نہ ہوئی کہ فون کر کے پوچھ لیتی ۔۔۔
سمیر کی گاڑی کار پورچ میں آتے دیکھ کر اسنے سکون کا سانس لیا تھا اور آرزو کو لے کر کمرے میں جانے لگی تھی ۔۔
آریج ٹھہرو ۔۔
سمیر کی آواز نے اس کے بڑھتے ہوئے قدم روک دیے تھے ۔۔۔
جی چاچو ۔۔۔
وہ بے ساختگی میں کہہ گئی تھی ۔۔
سمیرنےاس کو گھور کر دیکھا اور پھر ملامتی انداز میں بولا ۔۔
شوہر کو تمہارا بہتر ہے کہ اسی رشتہ سے پکارا کرو ۔۔۔۔
ہیںںننننننن۔ ۔۔۔ مگر ۔۔۔!
سمیر نے تیز نظر ایک عریج پر ڈالی تھی ۔۔۔
اریج اس کی سخت نظروں سے خائف تھی ہو کر خاموش ہو گئی تھی ۔۔۔
مبادا اگر اور کچھ کہتی تو سمیر اس کو ہاتھ سے کھینچتا ہوا گھر سے ہی نہ نکال باہر کرتا ۔۔۔
جی بہتر ۔۔۔
وہ نظروں کا زاویہ آرزو کی طرف پھیر کر گویا ہوئی ۔۔۔
کھانا لگاو ۔؟؟
اس کے دل میں آیا کہ سمیر کے سامنے سےبھاگ کر غائب ہو جائے۔۔۔
 مگر پھر اس کو خود پر کیا گیا سمیر کا احسان یاد آ گیا ۔۔
اسی احساس کے تحت اس نے زمین سے کھانے کی بابت دریافت کیا تھا ۔۔
"بہت جلدی خیال آگیا میری بھوک کا "؟؟
اس کے لہجے میں ایسا کچھ ضرور تھا کہ ایک دم اریج سٹپٹائی تھی ۔۔
مگر پھر اپنا وہم جان کر سر جھٹک گئی تھی ۔۔
خیر میں کھا کر آیا ہوں ۔۔
وہ اس کے چہرے کے اتارچڑھاؤ دیکھ کر مولا ۔۔
وہ اس کا جواب سن کر پلٹنے والی تھی۔۔
 جب ایک دفعہ پھر سے سمیر کی آواز پر اس کو روکنا پڑا۔۔
یہ میں تمہاری اور آرزو کے لئے کچھ چیزیں لایا ہوں ۔۔
وہ چوکیدار سے رکھواتے ہوئے لاونج میں ڈھیر سارے شاپنگ بیگ کی طرف اریج کو اشارہ کرتے ہوئے بولا ۔۔
عریج نے شکر کا سانس لیا اور سوچا کاش اس میں میرے کپڑے ہوں۔۔۔
 وہ کپڑے نہ ہونے کی وجہ سے بہت پریشان ہوگئی تھی۔۔
 کئی دفعہ سوچا کہ حجاب سے بولے مگر پھر کیا بولتی کہ ۔۔
سمیر کیوں نہیں دلارہا ؟؟؟
یاحجاب  کے پوچھنے پر کیا جواب دے دیںتی کہ۔۔
 سمیر سے کیوں نہیں کہا کپڑے دلانے کے لئے ؟؟
بس یہی سوچ کے ہر دفعہ خاموش ہو جاتی تھی ۔۔

وہ شاپنگ بیگز اٹھا کر اپنے اور آرزو کے مشترکہ کمرے میں لے جانے لگی تھی جب سمیر کی آواز کسی ہتھوڑے کی طرح اس کی سماعتوں سے ٹکرائی تھی ۔۔
"یہاں نہیں اوپر ہمارے پیٹروم میں چلو اور یہ شو پر ز مجھے دو میں لے کر آتا ہوں تم آرزو کو لے کر جاو اوپر "۔۔۔
اس نے حکم صادر کیا  ۔۔
اریج نے سہم کر سمیر کو دیکھا تھا ۔۔
شاپر کے لیے بڑھتے ہوئے عریج کو اپنے ہاتھوں میں کپکپاہٹ سی محسوس ہوئی ۔۔
اس کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسنی سی دوڑ گئی تھی ۔۔۔
💕💕💕

وہ دونوں شام کے وقت ٹیرس میں بیٹھے خوشگوار ماحول میں خوش گپیوں میں مصروف تھے ۔۔
جب بشرحجاب کو چھیڑتے ہوئے کہا کہ ۔۔
محترمہ سات دن بعد ہماری اینیورسری ہے ۔۔۔
جی ہاں مجھے یاد ہے اس عظیم دن کے بارے میں ۔۔
حجاب بھی جتاتے ہوئے بولی  ۔۔
اچھا بتاؤ کیا پریزنٹ ہوگی مجھے ؟؟
وہ حجاب کے چہرے کو اپنی وارفتگی لٹاتی نظروں سے فوکس کر کے کہنے لگا ۔۔
جو آپ کہیں گے ۔۔
وہ بشر کے دونوں ہاتھوں کو تھام کر سیریس ہو کر بولی۔۔
حجاب مجھ سے کبھی دور نہ جانا پلیز ۔۔۔
 بشر کو نہ جانے کیوں بس حجاب کی بچکانہ حرکتوں سے بہت خوف آتا تھا کہ کہیں اس کی بیوقوف یاں اس کو کوئی بڑے نقصان سے ہمکنار نہ کر بیٹھے ۔۔
میں آپ سے دور کہاں جاؤں گی بھلا ؟؟؟
میری تو تمام صبحیں اور تمام شامیں آپ سے شروع ہو کر آپ پرھی ختم ہو جاتی ہیں ۔۔
وہ ایک جذب کے عالم میں بولی ۔۔
اور بشر کے ہاتھوں پہ اپنے نرم و گداز ہاتھوں کا دباؤ ڈال کر جھک کے اس کے ہاتھوں کا بوسہ لیا ۔۔
حجاب کئی دنوں سے میں تمہیں خواب میں بہت عجیب سے انداز میں دیکھ رہا ہوں ۔۔
کہ تم بہت زیادہ رو رہی ہو اور تمھارا پورا وجود بے جان سا زمین بوس ہوا ہے ۔۔
آف بشر ۔۔
آپ بھی نہ ہر وقت میرے بارے میں سوچتے رہتے ہیں ۔۔
اسی لیے بہت زیادہ پوزیسو ہوکر اس طرح کے خواب آپ کو آتے ہیں ۔۔
اس نے بشر کی بات کو چٹکیوں میں اڑایا تھا ۔۔
بے فکر رہیں آپ کو چھوڑ کر کہیں نہیں جانے والی اپنی سانسیں چلنے تک تو بالکل بھی نہیں ۔۔۔
 بشر خاموش نظروں سے کھویا کھویا سا اس کو دیکھتا رہا لیکن حجاب کی آخری بات میں اس کو اندر تک ہلا کر رکھ دیا ۔۔
"وہ الگ بات ہے کہ میری سانسیں تھم جائیں "۔۔
حجاب نے شرارتی انداز میں بشر کو تنگ کرنے کے لئے کہا ۔۔

"مگر کیا واقعی انسان کی کبھی کبھار  بے ساختگی میں بولی گئی بات سیدھا عر ش پر جاکر قبولیت کی سند حاصل کر لیتی ہے ؟"
💕💕💕

جاری ہے۔ ۔۔

💕

0 comments:

Post a Comment