Tuesday, December 18, 2018

tu kitni masoom hai episode 34 by aymen nauman

tu kitni masoom he ..💕
By Aymen Nauman
Epi34..
Do not Copy Paste Without My Permission

حجاب صبح کے وقت  شاور لے کر ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے بیٹھی بال سلجھا  رہی تھی ۔
بن بتوڑی ذرا مجھے اٹھا کر واش روم تک پہنچا دو یار ۔۔۔
وہ منڈی مندی آنکھوں سے دیکھتے ہوئے جمائی لے کر بولا ۔۔
کیوں کیا آپ کی بنائی رخصت ہوگئی ہے ؟؟؟
رات میں تو آپ کو ہر چیز بہت وعزہ نظر آتی ہے ۔۔
بلکہ رات میں تو آپ کی آنکھیں چار ہو جاتی ہے ۔۔۔۔
وہ چڑھ کر بولی ۔۔
حجاب اس کی شرارت اچھی طرح سمجھ رہی تھی اس لئے لہجے میں مصنوعی غصہ سمو کر بولی ۔۔

یاراندھاتومیں اسی دن ہو گیا تھا۔۔
کس دن۔ ؟
حجاب اچھنبے سے بولی۔ ۔۔
 جس دن تمہارا خوفناک چہرہ پہلی دفعہ دلہن کے روپ میں بیڈ کے اوپر  گلی ڈنڈا کھیلتے دیکھا تھا ۔۔۔
ہییںننننننن۔ ۔
کیا کہا میرا خوفناک چہرہ ؟؟؟؟؟
حجاب غصے سے چڑھ کر ہاتھ میں پکڑا برش اٹھا کراسکی کٹ لگانے دوڑھی ۔۔
بشر نے اپنی باتوں کی نمائش کی وہ حجاب ہوں تب آنے میں جو کامیاب ہوچکا تھا ۔۔
حجاب اس کے سر پر کھڑی تھی اور غصے سے گول گپے کی طرح پھولی پورا ا f - 16 طیارہ لگ رہی تھی ..
Have you ever seen yourself???
 look exactly like Strawberry...

او واقعی میں اسابری جیسا ہوں ؟؟؟
وہ ابرو اچکا کر بولا ۔۔
ھاھاھا۔۔
 جاو آئینے میں کبھی سہی سے اپنا چہرہ تو دیکھو ۔۔۔۔
حجاب فخریہ بولی جیسے بشر کو واقعی حیرانی ہو ۔۔
ویسے غالباً  تمہیں اسٹابری ملک شیک بہت پسند ہے ۔۔
ہیں نا صحیح کہہ رہا ہونا ؟؟؟
وہ حجاب کو کچھ بھی بولنے کا موقع دیئے بغیر بیڈ پر دھکیلتے ہوئے بولا ۔۔۔
ہاں ہے مجھے پسند لیکن شیک۔ ۔
وہ آپ کے چہرے میں سے نکلنے سے رہا ۔۔۔
حجاب میں بھی حساب برابر کرنا چاہا اور خود کو چھڑا کر اٹھنے کی کوشش کرنے لگی ۔۔
مگر وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ وہ بغیر سوچے سمجھے کیا بھول گئی ہے ۔۔
ہو یعنی تمہیں ابھی ملک شیک پینا ہے ؟؟؟
وہ معنی خیزی سے حجاب کے لبوں کو فوکس کرتے ہوئے بولا ۔۔
اور کہتے کے ساتھ ہی حجاب کے اوپر جھک کر اس نرم و گدازگلابی ہونٹوں پر اپنے لب رکھ دیئے ۔۔
حجاب غصے میں اپنے ناخنوں سے اسکی پوری کمر خھرچ ڈالتی ہے ۔۔۔
جنگلی بلی ۔۔۔
ظالم شیرنی ۔۔
بشر نے بلبلا کر دور ہٹ کے اپنا چہرہ صاف کرنے لگتا ہے اور پھر پوچھتا ہے اس سے کہ۔ ۔۔
ہاں تو ظالم حسینہ کیسا لگا نیچرل اسٹابری کا جوس ؟؟!
حجاب اپنی تیز ہوتی دھڑکنوں کے ساتھ بشر کو دوبارہ خود پر جھکتادیکھ کر اندر اندر ہی کھول ہی رہی ہوتی ہے۔۔
 جب دروازہ ناک ہونے پر وہ بشر کو زور دار جھٹکا دے کر بیڈ سے جمپ لگانے کے انداز میں اترتی ہے ۔۔
اور بھاگتے ہوئے اس کو ٹھینگا دکھا تی دروازہ کھولنے کے لئے بڑھ جاتی ہے ۔۔۔

💕💕💕

حجاب جیسے ہی دروازہ کھولتی ہے اسراءکو کمرے کے باہر کھڑا دیکھ کر وہ اس کو اندر آنے کے لئے کہنے ہی والی تھی کہ ۔۔
یار کون ہے ؟؟!
جلدی دیکھو اور واپس آؤ میرے پاس آئو۔۔
 سارا ٹیمپو ٹوڑ کے رکھ دیا ہے۔ ۔۔
وہ جھنجھلاتے ہوئے بولا ۔۔
بشر کو لگا کہ کوئی ملازمہ جگانے کے لئے آئی ہوگی ۔۔
کیونکہ صبح کے وقت کوئی نہیں آتا تھا ان دونوں کو ڈسٹرب کرنے ۔۔۔
باہر کھڑی اسراء اور کمرے کے اندر کھڑی حجاب دونوں ہی بشر کی بات پر سٹپٹا گئیں۔ ۔
حجاب سے تو خفت کے مارے کچھ بولا  ہی نہیں جا رہا تھا ۔۔
اسراء بھی اس وقت آکر پچھتائی ۔۔

آواز نہیں آ رہی کب سے بلا رہا ہوں ؟؟
مزید انتظار نہیں ۔۔۔۔
وہ آنکھیں رگڑتا ہوا باہر آ رہا تھا جب سامنے کھڑی سٹپٹائی سی آسرا اور حیاء اور خفت  سے سرخ پڑھیں حجاب کو دیکھ کر اس کے الفاظ منہ میں ہی رہ گئے ۔۔
جی آپ کیا کہہ رہے تھے ؟؟؟
حجاب کو تو گویا حساب برابر کرنے کا موقع مل چکا تھا ۔۔۔
وہ بشر کو شرم دلانے کو بولی ۔۔
ہاں تو یہ آسرا کی غلطی ہے کہ وہ غلط وقت پر آئی ۔۔
خوامخواہ ہمارا رومانس خراب کیا ۔۔
وہ ڈھٹائی سے کہتا اپنی جھنپ مٹانے لگا ۔۔
نہیں مجھے تو کچھ بات کرنا تھی ۔۔
اسرا اپنی شرمندگی چھپاتے ہوئے بولی ۔۔
ہمدان سے یہ بھی نہیں سیکھا تم نے کہ۔ ۔
وہ حجاب کو اس کی غصے سے گرتی ہوئی آنکھوں کی پرواہ کیے بغیر بولا ۔۔۔
اسره کا تو مآ نو بشر کی باتوں پر خون خشک ہونے لگا تھا ۔۔
وو بےوقت اکر پچتائی تھی بری طرح  ۔
میں بعد میں آجائونگی۔ ۔
یہ کہے کر وہ سر پٹ ڈور لگا گئی۔ ۔
پیچھے حجاب نے بشر کو بآ تھروم میں بھگ کر لوک لگاتے دیکھ کر اپنے دانت پیسے تھے ۔  💜

Tu itni masoom he...💕
By Aymen Nauman
Epi 34(part 2)

سمیر فریش ہو کے صبح کے وقت ناشتے کے لئے ڈائننگ ٹیبل پر آ کر بیٹھا ۔۔
بوااس کے لئے ٹیبل پر ناشتہ لگا رہی تھیں۔ ۔

جب وہ اریج اور آرزوکی کمی کو محسوس کرکے بوا سے پوچھ بیٹھا نہ چاہتے ہوئے بھی ۔
۔
بوا آرزو کہاں ہے اور اریج نے کر لیا ناشتہ ؟؟
اس نے بادل ناخواستہ کہا ۔۔

جی سمیر بابا چھوٹی بی بی آپ کے اٹھنے سے ایک گھنٹہ پہلے ہی سوئی ہیں۔ ۔
۔
 میں جب اپنے کوارٹر سے صبح آئی تھی  تب اریج بی بی آرزو بیٹیاکو گود میں لیے لانچ میں ٹہلا رہی تھیں۔ ۔
آرزوکی طبیعت تو ٹھیک ہے ؟؟؟
کو ناشتے سے ہاتھ روک کر بولا ۔۔۔

جی بابا طبیعت تو ٹھیک ہے ۔۔
مگر گڑیا کے شاید پیٹ میں درد تھا اس لئے بہت روروکر سوئی ہے ۔۔
سمیر سے بیٹی کا حال جان کر اس کو دیکھے بغیر رہا نہ گیا ۔۔

وہ اٹھ کر سیدھا اریج کے کمرے کی طرف آیا ۔۔

پہلے اس کے دل میں آئی کے نوک کرے۔ ۔

مگر پھر آرزوکی نیند کے خیال سے آہستہ سے یہ سوچ کر ہینڈل پر ہاتھ رکھا کہ اگر کھلا ہوا تو آرزو کو ایک جھلک دیکھ لوں گا اور اگر لاکھ ہوا تو پھر آہستہ سے ناک کرلونگا ۔۔
وہ ہینڈل پر ہاتھ رکھ کر گھماتا ہے ۔۔
کمرہ اندر سے لاک نہیں تھا ہینڈل گھمانے سے دروازہ کھلتا چلا گیا ۔۔
اس کو تھوڑا آکوٹ تو فیل ہوا تھا اس طرح اریج کی بغیر اجازت کے کمرے میں جانا مگر پھر اپنی بیٹی کی محبت غالب آ گئی ۔۔

وہ اندر داخل ہوکر جیسے ہی آرزو کو دیکھتا ہے اس کے سونے کے انداز پرسمیر کے لب بے ساختہ مسکرا اٹھتے ہیں ۔۔
وہ بڑے مزے سے اریج کے سینے پر الٹی لیٹی بڑے پرسکون انداز میں سو رہی تھی ۔۔

آریج نے اس کو دونوں ہاتھوں سے اپنے۔۔ خود میں چھپایا ہوا تھا ۔۔

سمیر کو یہ منظر بہت حسین لگا تھا کتنا مکمل لگ رہے تھے وہ دونوں ایک ساتھ ۔۔
۔
سمیر نے بلینکٹ کھول کر دونوں پر ڈھانپ دیا اور لائٹ آف کر کے باہر آ گیا ۔۔
اس کو اپنا بہت پرسکون لگا بہت تویل عرصے کے بعد۔ ۔
💜Tu kitni masoom he ..💕
By Aymen Nauman
Epi 34(part 3)end..

حمدان سب کے ساتھ حویلی کے بڑے ہال کمرے میں بیٹھا تھا  ۔۔
دادی اپنے تخت پر اور اماں حمد ان کے پاس رکھے صوفے تک اپنی ویل چیئر لے آئی تھیں۔۔

 جبکہ بابا بہت خاموش تھے آج وہ ہمدان کو اپنی اپنی عمر سے مزید کئی سال بوڑھے لگ رہے تھے ۔۔

ارے یہ دیکھو ہمارے ہاتھوں کا لڑکا ہم پر ہی زبان درازی پر اتر آیا ہے ۔۔

ہم پر یعنی  اپنی دادی پر الزام لگا رہا ہے شرم نہیں آئی اس کو؟؟؟؟ ۔۔۔

میرے پوتے اس میں تیرا کوئی قصور نہیں ہے۔۔

 اس میں قصور اس ڈائن کی ہی بیٹی کا ہے اسی نے
تجھے ورغلا آیا ہے۔۔
 نا گن کی بیٹی جو ٹھہری ۔۔۔
بس۔۔۔۔۔
 دادی میں اب آپ کا احترام کر رہا ہوں میرے ضبط کو مزید نہ آزمائیں ۔۔۔

آپ کو اپنی ہی پوتی جو کہ آپ کے بیٹے کا خون ہے۔۔۔
 اسی سے نفرت ہے چڑھ ہے ۔۔
خیر حیرت ہے کس طرح کا دل ہے آپ کا ۔۔؟؟؟

مجھے کوئی پرواہ نہیں ہے کسی کی۔۔۔
 سچے دل سے میری شادی میں شرکت ہونا ہے تو ٹھیک ہے ۔۔
نہیں ہونا تو آپ کی مرضی ہے ۔۔
میں ویسے بھی اپنی بیوی کو اس حویلی سے دور رکھوں گا اور میں آج خود ابھی اور اسی وقت آخری دفعہ آپ کو یہاں نظر آ رہا ہو اس کے بعد میں آپ کو حویلی تو کیا اس گاؤں میں بھی نظر نہیں آؤں گا ۔۔

اے میرا پترا تو کیسے اتنی بڑی بات پر سکتا ہے ۔۔؟؟

تو جیسا کہے گا۔۔
 جو کہے گا۔۔
 بالکل ویسا ہی ہو گا۔۔
 دادی کا طنطنہ منٹوں میں ہمدان نے مٹی میں ملایا تھا ۔۔

ہاں۔۔
 اس طرح راضی نہیں ہوئیے گا جس طرح چاچا کی شادی کے وقت ہوئی تھیں ۔
 اور پھر اس بے بس عورت کو نکال باہر کھڑا کیا تھا ۔۔۔
ہمدان سے آج مزید قسمت نہیں ہو پا رہا تھا ۔
آج وہ صحیح معنوں میں دادی کو چھوٹا ہو کر بھی بہت کچھ سمجھا گیا تھا ۔۔

اسی طرح کیا گیارنٹی ہے کہ میری بیوی کو بھی میرے کچھ ہو جانے کے بعد ۔۔

اماں ایک دم سے ہمدان کے منہ پر ہاتھ رکھ گئیں۔۔۔

 بیٹے کی بات پر ان کا کلیجہ منہ کو کھنچا چلا آیا تھا ۔۔
نہیں میرے پتر جو ہوا وہ ماضی تھا ۔۔

اسے بھول جا بتا کب چلنا ہے تیری ووہٹی کو لینے ۔؟؟؟
۔
ہمدان نے ایک نظر وہاں موجود تمام نفوسو پر ڈالی اور پھر بہت ٹھہر کر بولا ابھی اور اسی وقت ۔۔۔


جاری ہے۔ ۔

0 comments:

Post a Comment