Tuesday, December 18, 2018

tu kitni masoom hai episode 33 by aymen nauman

Tu kitni masoom he..💕
By Aymen Nauman
Epi 33

Do not Copy Paste Without My Permission ....!

حجاب ڈریسنگ روم سے خوشبو سے مہکتی بہار آئی ۔۔۔
وہ بشر کو سوتا دیکھ کر سوچنے لگی کہ ۔۔
ایسے سو رہے ہیں جیسے زندگی میں پہلی بار نیند نصیب ہوئی ہو ۔۔۔
یہاں میری نیندیں اڑ گئی ہے ۔۔
اب کیا کروں اٹھاؤ ں یا نہ اٹھاؤ ں؟ ؟؟؟
ایک کام کرتی ھوں خود بھی سو جاتی ہو ۔
مگر مجھے ان کی ناراضگی سونے بھی تو نہیں دے گی ۔۔
وہ ماتھے پر ہاتھ مار کر بولی ۔۔۔
کہاں پھنسا دیا  اریج مجھے۔۔
اس کو بشر کے پاس جانا ایسا لگ رہا تھا جیسے خود کو جان بوجھ کر شیر کے منہ میں دھکیلنا ۔۔۔
چلو اللہ کا نام لے کر ایس ہٹلر کے پاس چلی جاتی ہوں ۔۔
جو ہو گا دیکھا جائے گا ۔۔۔
وہ اندر ہی اندر خوف زدہ بھی تھی کیونکہ بشر اس سے اس طرح پہلی دفعہ ناراض ہوا تھا  ۔۔
وہ ہمت کرکے بشر کے سرہانے پہنچ ہی جاتی ہے ۔۔
 ہاتھ بڑھا کر اس کو جگانے کے لئے بڑھ ہی رہی ہوتی ہے کہ ۔۔
بوکھلاہٹ میں بیڈ کے پاس رکھے میٹ اور بشر کی سلیپر سے الجھ کر آوندھی بشر کے اوپر گر پڑتی ہے ۔۔

بشر اس اچانک گرنے والے  خود پر بلڈوزر سے گھبرا کر گہری نیند سے جاگتا ہے ۔۔۔
حجاب کو ڈیپ مہرون نائٹی میں دیکھ کر وہ حواسوں میں جلدی سے واپس آتا ہے ۔۔
اوف لوگ اس قسم کی صورتحال پر حواس کھو بیٹھتے ہیں مگر میری اس چڑیل بیوی نے نیند میں میرے چودہ طبق روشن کر کے رکھ دئے ہے ہیں ۔۔
وہ غصے سے بڑبڑاتا ہے ۔۔
کیا ہوا ہے ؟؟؟؟
رات کے اس پہر تو سکون لینے دو ۔۔
یا میرے خوابوں میں بھی جھانک کر ڈھونڈ رہی ہوکہ کس لڑکی سے مل رہا ہوں اور عشق کی پینگیں بڑھا رہا ہوں،۔
وہ تپ کے چنگھاڑتے ہوئے بولا ۔۔
وہ میں آپ سے ناراض تھیں اس لئے آپ کے اوپر ھی گل گئی ۔۔۔
وہ بشر کے غصے سے خوف زدہ ہو کے الٹا ہی کہہ گئی تھی ۔،
یاالہی ۔۔۔
تو کیا میرے اوپر گرنے سے ناراضگی ختم ہو گی تمھاری ۔۔۔؟؟؟؟
وہ بھنا کر بولا ۔۔
اب کیا ساری رات ایسے ہی پڑے رہنے کا ارادہ ہے ؟؟؟
یا جب تک میں پورے طریقے سے اسٹیکر نہیں بن جاؤں گا تب تک نہیں ہٹوگی ؟؟؟
نن۔۔۔نننن نہیں تو ۔۔۔
وہ خود کو سنبھال کر اٹھنے کی کوشش کرتی ہے۔۔۔

 مگر جیسے ہی سر اٹھاتی ہے اس کے  لمبے بال بشر کی شرٹ کے بٹن میں الجھ جاتے ہیں۔۔۔
اور وہ ایک دفعہ پھر اس کے چوڑے سینے سے الگ تی ہے ۔۔۔
رات کی فصوں خیزی ۔۔
خوبصورتی سے تراشا ہوا پیکر ۔۔
جائز رشتہ ۔۔۔
استحقاق ۔۔
وہ کچھ لمحوں کے لئے اس کے سحر میں گرفتار سا ہو گیا تھا ۔۔۔
مگر جذبات پر ایک دم دوپہر والا حجاب کا کارنامہ کسی فلم کے سین کی طرح دماغ کی سلیٹ پر چل گیا تھا ۔۔۔۔
اس نے جھٹکے سے حجاب کو خود سے دور کیا ۔۔
اوچ ۔۔
اس کے بے دردی سے جھٹکنے سے حجاب کے سرکے کئ بال بشر کی شرٹ کے بٹن میں رہ گئے تھے ۔۔
جب کہ حجاب اپنے بال کھینچنے پر تکلیف سے کراہ اٹھی تھی ۔۔۔
یہ کیا میرے سامنے بیہودہ قسم کا لباس پہنا ہوا ہے ؟؟
میں تو ایک دل پھینک اؤ باش قسم کا مرد ہو اس لباس میں میں تمہاری ہی عزت نہ اتار۔ ۔۔
۔
بشرحجاب کی آنکھوں میں چمکتے موتی دیکھ کر بڑی مشکل سے خود کے غصے کو کنٹرول کر پایا تھا ۔۔۔
حجاب سے مزید اس کی ناراضگی برداشت نہ ہوئی اور وہ تیزی سے بھاگ کر بشر کے چوڑے سینے سے آ لگی ۔۔
بشر پلیز مجھے معاف کر دیں ۔۔
 مگرمیں نے آپ پر شک کیا مگر میں آپ کی محبت میں ایسا سوچ میٹھی خودغرض ہو گئی تھی  ۔۔۔
آپ کو کسی اور کے ساتھ دیکھنے کا خیال ہی میرے لئے جان لیوا تھا ۔۔
وہ اب باقاعدہ زاروقطار رو رہی تھی۔۔
 بشر نے اس کے چہرے پر آئے ہوئے بالوں کو اپنی انگلیوں کے پوروں سے کان کے پیچھے کیا اور کہا ۔۔۔

حجاب دیکھو میاں بیوی کا رشتہ جتنا مضبوط ہوتا ہے وہیں کچھ جگہوں پر آکر یہ بالکل کچے دھاگے کی مانند ہو جاتا ہے ذرا سا کینچانہیں اور ٹوٹ گیا ۔۔
وہ اس کی کمر سہلاتے ہوئے کہہ رہا تھا ۔۔۔
اور اگر شک کا بیچ ایک دفعہ اس رشتے میں آجائے تو پھر یہ رشتہ ختم ہونے کے در پہ آ جاتا ہے ۔۔
لیکن مجھے بہت اچھا لگا کہ تم نے انا اور ضد کو بیچ میں لائے بغیر ناراضگی کو دور کرنے کی کوشش کی ۔۔۔
کیونکہ اسی طرح اس رشتے میں انا کو ایک طرف رکھ کر ایک دوسرے کی غلطی کے ہونے کے باوجود بھی درگزر کر دینا۔۔
 اس رشتے کو بالکل ایسا کر دیتا ہے جیسے سچے موتی ۔۔۔
بشر میرا وعدہ ہے میں کبھی بھی آپ کو شکایت کا موقع نہیں دوں گی ۔۔۔
بشر اسکے حسین سراپے کو اپنے بازوں میں اٹھا کر
پیار بھری شرارت کر بیٹھتا ہے ۔۔۔


رات کے چار بجے کے قریب عریج کی آنکھ آرزو کے رونے کی آواز سے کھلی ،۔۔
وہ پریشان سی ہو کر اٹھ بیٹھی ۔۔
کیا ہوا ہو گاآرزو کو ؟؟؟
کیوں اس طرح رو رہی ہے ؟؟؟
وہ پریشانی سے اپنی نازک انگلیاں مروڑنے لگی ۔۔
مجھے جانا چاہیے۔۔
 پتا نہیں کہیں کوئی تکلیف تو نہیں ہے ؟؟
وہ خود ہی سے سوال جواب کر رہی تھی ۔۔
لیکن اگر ۔۔
میں گئی اور انہوںنے پھر مجھے رات کی طرح باتیں سنائیں اور میری عزت افزائی کرتی تو پھر ؟؟۔۔۔
اریج الجھن  کا شکار تھی ۔۔
سمیر کے غصے سے بھی اس کو ڈر سا لگ رہا تھا ۔۔
دوسری طرف آرزو کے رونے میں مزید شدت آ رہی تھی وہ بہت زور سے رورہی  تھی۔۔
اریج سے مزید صبر نہ ہوا اور وہ اپنے کمرے کا دروازہ کھول کر بھاگنے کے سے انداز میں سمیر کے کمرے کے سامنے پہنچی۔
۔دروازہ ناک کرنے کی اس کو ضرورت نہ پڑی وہ پہلے سے ہی وا تھا ۔۔
وہ پھر بھی ہلکا سا ناک کرکے ہمت مجتمع کر کے کمرے میں ذرا اندر داخل ہو ہی گئی تھی ۔
وہ ننھی گڑیا کو گود میں لیے ٹہل رہا تھا مگر وہ کسی صورت بھی چپ ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی اور اس کی گود میں مچل رہی تھی بری طرح ۔۔۔
سمیر اس کے کھٹکا کرنے پر پلٹا تھا۔ ۔
 عریج  کو سامنے  دیکھ کر اس کے چہرے پر واضح سکون نمودار ہوا تھا ۔۔
جس کو وہ تیزی سے سردمہری کے تاثرات میں چھپا گیا ۔۔۔
  اریج اس کے سخت اثرات کو دیکھ کر آہستہ سے گویا ہوئی ۔۔۔
یہ بہت رو رہی تھی اس لئے میں یہاں آئی تھی ۔۔
یہی وجہ تھی جو میں اس کو تمہیں نہیں دے رہا تھا یہ تمہاری عادی نہ ہو جائے ۔۔
اب دیکھ لو نتیجہ تمہارے سامنے ہے۔۔
 کس طرح  محض دو دن میں ہی یہ  ضد کرنے لگ گئی ہے ۔۔
وہ چڑھ کر بولا ۔۔
مگر بچے تو معصوم ہوتے ہیں ۔۔
انہیں تو بس تھوڑی سی محبت اور توجہ چاہیے ہوتی ہے ۔۔
ان کو ضد پہ آنے سے پہلے ہی ہمیں کسی نہ کسی طریقے سے پر سکون کر دینا چاہیے ۔۔
آرزو کے رونے نے اس کو یہ سب کہنے پر مجبور کردیا تھا ۔۔
ہاں توں میں بھگت تو رہا ہوں تمہاری تھوڑی سی محبت اور توجہ کا نتیجہ آدھی رات کو ۔
وہ غصے میں آرزو کو زور سے دھپ لگانےکے انداز میں تھپک نے لگا ۔۔
اریج نے آرزو کو یکدم سمیر کی گود سے جھپٹنے کے سے انداز میں لے لیا تھا ۔۔
آپ نے آج تو اس معصوم بچی پر یہ ظلم کر دیا ہے۔۔۔
 مگر اب جب تک میں یہاں ہوں یہ میری ذمہ داری ہے ۔۔۔
وہ شہادت کی انگلی سمیر کی طرف اٹھاتےہوئے وارننگ دینے کے انداز میں بولی ۔۔
اریج کی برداشت بس یہیں تک کی تھی ۔۔
وہ آرزو کو لیے اپنے کمرے کی طرف تیزی سے بڑھ چکی تھی ۔۔
سمیرہکا بکا سا اس کو اپنی ہی بچی چھین کر لے جاتے دیکھتا رہ گیا ۔۔۔
وہ ابھی تک حیران تھا اس کے اس طرح وارننگ دینے کے انداز پر ۔۔۔۔

صبح فجر کی کی اذانوں کی آوازیں سنتے ہی ہمدان نماز پڑھنے کے بعد اپنی جیپ کی چابی اٹھا کر سیدھا گاؤں کے لئے روانہ ہوگیا ۔۔۔
گاؤں کا بارہ گھنٹے کا طویل سفر ہمدان نے ریش ڈرائیونگ کرتے ہوئے آٹھ گھنٹے میں مکمل کرلیا تھا ۔
۔وہ ‏non stop ڈرائیو کرتا اپنے گاؤں کی حدود میں داخل ہو چکا تھا ۔۔
سلام صاحب ۔۔
راستے میں ملنے والے کئی لوگوں کا جواب وہ بس محض سر ہلا کر ہی دیتے ہوئے اپنی جیب کو اڑاتا ہوا جا رہا تھا ۔۔
کچھ ہی دیر میں وہ حویلی کے اندر داخل ہو چکا تھا ۔۔
اس کی واپسی اور برہمی کے تاثرات دیکھ کر تمام ملازمین کی روح اندر تک فنا ہو چکی تھی ۔۔۔

وہ وہ جیپ سیدھا حویلی کے کشادہ لون کے سامنے بنے حویلی کے دروازے پر ٹکر مارنے کے انداز میں کھڑی کرکے چھلانگ لگا کر نیچے آترا ۔۔۔
کہاں ہیں سب لوگ ؟؟؟
وہ ملازم سے گویا ہوا جو اس کو اندر آتا دیکھ کر فورا اس کی طرف لپک کے آیا تھا ۔۔

وہ شدید طیش کے عالم میں دندناتا ہوا سیدھا راہ داری سے گزرتے ہوئے ڈائننگ ایریا میں ملازم کے بتانے پر وحی آ گیا تھا ۔۔
وہ تینوں اطمینان سے دوپہر کا کھانا کھا رہے تھے جب ۔۔
بابا کی نظر اس کے غیض وغضب سے بھرے انداز پر پڑھی۔۔
اماں( ہمدان کی ماں)  اسکا چہرے پر جھلکتا تناؤ اور قدموں میں پائی جانے والی دہشت دیکھ کرسمجھ گئی تھی کہ ۔۔۔
کوئی نہ کوئی ایسی بات ضرور ہے جو وہ اس طرح سب کے سامنے شدید طیش کے عالم میں مٹیھاں بھینچے کھڑا ہوا ہے ۔۔
تو گویا اطمینان کی گھڑی آن پہنچی ہے ۔۔۔
بابا نے آہستہ سے کہا ۔۔
اماں نے ناسمجھی سے اپنے شوہرکی طرف دیکھا ۔۔۔۔۔
وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی تمام تر صورتحال کو ۔۔۔

وہ سلام کر کے دھاڑنے کے انداز میں ٹیبل پر بیٹھے تینوں نفوس سے گویا ہوا ۔۔
دادی کا اس کے چہرے کا تنائو دیکھ کر سارا اطمینان رخصت ہوچکا تھا ۔۔
مجھے بتائیں کہ چاچی کا کیا قصور تھا ؟؟؟
جو اس گھر سے ان کو آدھی رات میں دھکے دے کر بےرہمی کا ثبوت دیتے ہوئے نکال دیا گیا تھا ۔؟؟؟

دادی جونکہ پوتے کا غصہ دیکھ کر لاڈ کرنے کے لئے اپنی لاٹھی پکڑ کے اٹھنے کو تھیں اس کی چھنگھاڑتی آواز سن کر واپس بیٹھ گئیں۔ ۔
بیٹا یہ کس انداز میں تم اپنی دادی سے بات کر رہے ہو ؟؟
اما ں آپ کو کچھ نہیں پتا کہ انہوں نے کس طرح دو معصوم زندگیوں کے ساتھ کھیلا ہے ۔۔۔
کس طرح ان کو رات کے اندھیرے میں بے یارومددگار اس بھیڑیوں سے بھری دنیا میں دھکہے دے کر نکالا تھا ۔۔۔
ہمدان کی ماں کافی عرصے سے فالج کے اٹیک کی وجہ سے پیروں سے پیرالائز ہوچکی تھیں۔ ۔
وہ ویل چیر اس کے پاس گھسیٹتی ہوئی لائیں اور اپنے بیٹے کا ہاتھ پکڑ کر گویا ہوئیں ۔۔۔

بیٹا عزت اور احترام کا دامن اپنے ہاتھ سے  مت چھوڑو جو بھی بات ہے سکون سے کرو ۔۔
 آپ ابھی بھی مجھے عزت و احترام کی بات کہہ رہی ہیں ؟؟؟
دادی مجھ سے اتنا بتا دیں کہ چلیں آپ کی دشمنی چاچی سے تھی نہ۔ ۔
 لیکن ان کی اولاد تو آپ کے بیٹے کا ہی خون تھی نہ ؟؟
ذرا سا رحم نہیں آیا اس 7 سالہ معصوم بچی کو گھر سے نکالتے ہوئے ۔۔؟؟
کیا آپ کے خود کے جگر میں اس چیز کی اجازت دے دی ۔۔؟؟؟
وہ آپ کے بیٹے کی اکلوتی آخری نشانی تھی ۔۔
آپ کس طرح اسے اپنی خود غرض ہوگئیں؟ ؟؟
حیرت ہوتی ہے مجھے ۔۔
شاید اسی چیز کو ہی خون سفید ہونا کہتے ہیں ۔۔۔
وہ آج ہر قسم کا لحاظ بالائے طاق رکھ کر ان کو حقیقت کا آئینہ دکھا رہا تھا ۔۔
حمدان بس اب میں ایک بات بھی نہ سنوں تمہارے منہ سے ۔۔
اما ں نے تنبیہہ کی ۔
جب کہ بابا خاموش تھے ۔۔
وہ جانتے تھے کہ وقت کبھی نہ کبھی کسی کے بھی ذریعے انصاف کر لیتا ہے ۔۔
ہمدان کی ماں ایک سمجھدار خاتون تھی اپنی دیورانی سے بھی وہ بہت پیار محبت سے رہتی تھیں۔ ۔۔
 ان کو آج تک اس بات کا یقین نہ آیا تھا کہ قدسیہ اس گھر سے کسی کے ساتھ فرار ہوئی ہے ۔۔۔

0 comments:

Post a Comment