Tuesday, December 18, 2018

tu kitni masoom hai episode 32 by aymen nauman

تو کتنی معصوم ہے ۔۔🌷
از ایمن نعمان ۔
قسط نمبر 32

Do not Copy Paste Without My Permission ۔...

عریج سب لوگوں کے جانے کے بعد آرزو کو اٹھا کر اپنے کمرے میں لے جا رہی تھی ۔۔۔
روکو اریج ۔۔

وہ ذرا سی مڑی اور حیران سی سمیر کو سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی ۔۔۔

لاؤ اس کو مجھے دے دو ۔۔
سمیر کی آواز پر وہ ٹھٹک سی گئی ۔۔
آرزو  کو اٹھانے کے لئے اس کے بڑھے ہاتھ و ہیں تھم گئے ۔۔
مگر یہ تو کل بھی میرے ساتھ ہی سوئی تھی ۔۔
آپ پریشان نہ ہوں میرے پاس بہت سکون سے آرام سے رہتی ہے ۔۔۔
اس کو لگا شاید وہ اس کی پریشانی کی وجہ سے کہہ رہا ہے ۔۔
یہ میری بیٹی ہے میں اس کو بہت اچھے سے خیال رکھتا ہو تو اس کی ماں نہیں ہوں جو ۔۔۔
وہ سفاکی سے گویا ہوا ۔۔
مگر چا ۔۔۔۔
وہ چاچو بولنے والی تھی مگر پھر اپنی زبان کو دانتوں تلے دباہ کر خاموش ہو گئی ۔۔۔

میں اپنی بیٹی کو تمہارا عادی نہیں بنانا چاہتا ہوں۔۔

 وہ پہلےہی اپنی ماں کے لمس کو ترسی ہوئی ہے۔۔
 میں اس کو ایک دفعہ پھر سے اس قرب سے نہیں گزار سکتا ۔۔
۔
سمیر کے خود کے لہجے میں کئ کرب پنہاں تھے ۔
۔
اریج کو لگا جیسے اس کو کسی نے بری طرح اسے دھتکار کے رکھ دیا ہو ۔۔
وہ کل سے آرزو کے ساتھ تھی اس کو ایک دفعہ بھی اس معصوم سے الجھن یہ بیزاری محسوس نہیں ہوئی تھی بلکہ سمیر سے نکاح کے بعد تو آرزو کے لئے اس کے جذبات بہت نئے اور انوکھے سے ہو گئے تھے ۔۔
اس کو وہ ننھی سی گلگوتھنی اپنے وجود کا ہی حصہ لگنے لگی تھی ۔۔
وہ کل سے آرزو کو خود میں سمیٹے اپنے تمام دکھ اور تکلیف بھول چکی تھی ۔۔
اس بات کو بالکل ہی فرا موش کر بیٹھی تھی کہ یہ نکاح محض مجبوری کا سودا ہے اس نکاح  کا موئی مقام یا کوئی منزل نہیں ہے ۔۔۔
اس رشتے کو ایک نہ ایک دن ختم ہو جانا ہے ۔۔۔

سمیر نے اس کو بہت گہری نیند سے گویا جھنجوڑ کر اٹھا دیا تھا اور ایک ہی لمحے میں اس کو اس کی اوقات بہت اچھے سے یاد کرا دی تھی ۔
۔
وہ تنہا سی سمیر کو اور آرزو کو لےجاتا دیکھتی رہ گئی ۔۔
اتنے دنوں سے رورو کر اب تو اس کے آنسو بھی خشک ہو چکے تھے ۔۔۔

💕

مجھے اریج کے ٹھکانے کا پتہ چل چکا ہے ۔۔
وہ دلآویز سے بولا ۔۔

پتہ چل گیا تو اٹھایا کیوں نہیں اس کو ابھی تک ؟؟
اس کے باپ کے پہنچنے سے پہلے اس تک پہنچ جائو۔ ۔
اگر وہ حیدر کو پہلے مل گئی تو سمجھ لو پھر کچھ بھی ہاتھ نہیں آسکے گا بلکہ ہم دونوں جیل کی سلاخوں کے پیچھے چکی پیس رہے ہوں گے ۔۔

دلاویز کے لہجے میں لالچ اور خباثت بول رہی تھی ۔۔

کرے تو کیوں پریشان ہو رہی ہے میں ہوں نہ ؟؟؟
جب اس چڑیاں کا پتہ کرلیا ہے تو بہت جلد وہ تیرے قدموں میں ہو گی ۔۔۔
حیدر کی غیرت اسو منہوس کے بھاگنے کے بعد  سے جاگ چکی ہے میرے لاکھ ورغلانے کے باوجود بھی وہ اپنی بیٹی کے غم میں گھلا جا رہا ہے ۔۔

چاروں طرف اس نے اپنے جان پہچان اثر و رسوخ رکھنے والے پولیس آفیسرز اریج کی کھوج میں لگا دیے ہیں ۔۔

ارے میری جان من تو کیوں پروا کرتی ہے تیرا یہ عاشق ابھی زندہ ہے وہ دلعویز کو خود پر گراتے ہوئے بولا ۔۔
چپ کر جا آہستہ بول یہاں پر کسی کو بھی پتہ چل گیا کہ تو میرا یار ہے بھائی نہیں تو تیرے ساتھ ساتھ میری بھی خیر نہیں ۔۔
تو میری جان کی ٹوٹی توکیو ں دیر کر رہی ہے جلدازجلد مال سمیٹ اور نکل ۔۔۔؟؟

میں تو خود بھی یہی چاہتی ہوں مگر بڈھے نے سوائے ایک چھوٹے سے اپارٹمنٹ کے علاوہ کچھ بھی ابھی تک میرے نام ہی نہیں کیا ۔۔

وہ زوار کے شرٹ کے بٹن کھولتے ہوئے خباست سے بولی۔۔
اچھا چل سب کچھ مجھ پر چھوڑ دے آج بڑے ہی دن بعد موقع ملا ہے ۔۔
تو بڑی مشکل سے میرے ہتھے چڑھی ہے   ۔۔

وہ دونوں گندگی کے ڈھیر شیطانی کھیل میں مصروف ہو چکے تھے ۔۔۔
اور یہ بھول بیٹھے تھے کہ ہمیں اپنے اعمال کا حساب اس دنیا میں نہیں تو آخرت میں ضرور دینا ہے ۔۔۔

🍁

حمدان ساری رات غصے کی بھٹی میں جھلستا رہا ۔
۔
میری بیوی کو میں اپنے ساتھ ہی نہیں رکھ سکتا ۔۔
لعنت ہے مجھ جیسے شوہر پہ۔ ۔
زہریلی سوچیں اس کو سکون لینے نہیں دے رہی تھی وہ سگریٹ پر سگریٹ سلگائے جا رہا تھا ۔۔

اتنی بڑی خبر کے میری اولاد اس دنیا میں آنے والی ہے اور میں کیسا بدنصیب باپ ہوں کہ ۔۔
اپنے باپ بننے کی خوشی بھی نہیں منا سکا ۔۔۔
اس نے اپنی مٹھی کام کا بناکر سامنے رکھیں کہ پل پر دے مارا ۔۔
خاموشی سے اس کا دل و دماغ بھی قابو ہو رہا تھا ۔۔۔
ہمدان کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ پوری دنیا کو تباہ کردے۔ ۔
 آگ لگا دے سب کچھ تہس نہس کرکے ختم کردیے۔ ۔

سب سے زیادہ افسوس اور خار اس کو اس بات پر چڑھی ہوئی تھی کہ خالہ نے ابارشن کی بات کیسے کی ؟؟۔
وہ ہوتی کون ہیں اس کے بچے کے بارے میں اس طرح کا سوچنے والی ۔۔؟؟؟
کتنی آسانی سے انھوں نے میری اولاد کو ختم کرنے کی بات کردی ۔۔۔
15 دن کا وقت دیا ہے نہ مجھے ۔۔
میں ایک ہفتے میں اپنی بیوی کو پورے استحقاق سے لے کر آؤں گا وہ بھی پورے زمانے کی موجودگی میں ۔۔۔
اس نے پاس پڑے گلدان کو اٹھا کر سامنے رکھی ڈریسنگ ٹیبل پر دے مارا ۔۔۔۔
کانچ کے ٹکڑے کرچی کرچی ہوکر بکھر کر رہ گئے ہمدان کی وجود کی طرح ۔۔۔

💕

حجاب اسرا کیلئے دودھ گرم کر رہی تھی دواؤں کے ساتھ دینے کے لیے اس کے دل میں اسراء کا مقام سب سے اونچائی پر پہنچ چکا تھا ۔۔

احساسات بدلنے پر جذبات بھی بدل گئے تھے ۔۔

 اسراء کی شکل میں اپنی ایک بڑی بہن نظر آنے لگی تھی ۔۔

وہ اپنے کیے کی تلافی کرنا چاہتی تھی ۔۔
اس لئے دل میں سوچ لیا تھا کہ وہ اسرہ کا زیادہ سے زیادہ ہر طریقے سے خیال رکھنے کی ممکن کوشش کرے گی ۔۔۔

وہ کچن میں اپنے لئے کافی بنانے کے لئے آیا تھا۔۔۔۔

 حجاب کو اس وقت خلاف توقع کے کچن میں دیکھ کر حیران ضرور ہوا پھر خاموشی سے اپنے لیے کافی بنانے کے لئے بڑھ گیا ۔۔

حجاب اس کو مگ میں خود سے کافی بیٹ کرتے دیکھ کر کہنے لگی۔۔

 لائیں میں بنا دیتی ہوں ۔۔

بشر ا سکو ایسی نظروں سے دیکھنے لگا جیسے کہہ رہا ہو کہ۔۔
 تم صرف شک کرنا جانتی ہو اس کے علاوہ تمہیں آتا ہی کیا ہے؟؟؟ ۔۔

حجاب اپنا کافی کے لئے بڑھایا ہوا ہاتھ واپس کھینچ لیتی ہے۔۔
 اس کے دل میں چھن سے بہت کچھ ٹوٹا تھا ۔۔۔۔

💕

حجاب کمرے میں آتی ہے بشر کی اوپر ایک نظر ڈالکر ڈریسنگ روم میں چلی جاتی ہے ۔۔

بشر آنکھوں پہ بازو رکھے شاید سو رہا تھا ۔۔۔
ڈریسنگ روم میں جا کر وہ کچھ لمحے سوچتی ہے ۔۔
‏اف اللہ جی بشر تو  بہت ہی زیادہ ناراض ہو گئے ۔۔۔

اس کے دماغ میں اسراء کا دیا ہوا ایڈیا چل رہا ہوتاہے۔۔۔
وہ جب اس راگ کو دودھ کے ساتھ دوائی دینے گئی تھی تو اس وقت اسراءاس کا مرجھایا ہوا چہرہ دیکھ کر سمجھ گئی  ۔۔۔
اور اس کے پوچھنے پر حجاب سنی معصومیت سے سب کچھ کہہ سنایا ۔۔

یار تو اس کو مناونا تم اس کے لئے تیار ہو اس کو یقین دلاؤ اپنی محبت کا ۔۔
وہ وارڈروب میں سے اپنی نائٹی ۔۔۔

اور اب حجاب اس کو اپنی محبت کا یقین دلانے کے لیے تیار کھڑی تھی ۔۔


جاری ہے

0 comments:

Post a Comment