Tu kitni masoom he..🌷
By Aymen Nauman
Epi 31
Do not Copy Paste Without My Permission ۔..
حمدان نے فرش پر گری ہوئی اپنی متاۓ جان کو بازوں کی مضبوط گرفت میں بھر کر کسی کی بھی پروا کیے بغیر ۔۔
سیدھا لاؤنج میں اٹھا کر لایااور صوفے پر لٹا کر اس کو ہوش میں لانے کی انتھک کوشش کرنے لگا۔
۔۔
اسرا اٹھو آنکھیں کھولو کیا ہوا ہے ۔۔؟؟؟
وہ اس کے گال کو بار بار سہلا رہا تھا ۔۔
جب کہ سمیر میں فوری ڈاکٹر کو کال کرکے بلوا لیا تھا۔۔
ماما بوکھلائیں تو تھی مگر ان کو یہ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ ہمدان اس طرح سے آسرا کو لے کر بیہیو کیوں کر رہا ہے ۔۔؟!؟
پانی لائیں پلیز ۔۔
وہ دو زانو بیٹھ کر اسرا کے ہاتھ پاوں سہلاتے ہوئے سامنے پریشان سی کھڑی اریج سے گویا ہوا ۔۔۔
جب کہ بابا نے بہت عجیب سی نظروں سے ہمدان کو دیکھا ۔۔
ان کی نظروں میں کئی سوال تھے جو باقاعدہ طور پر ماما کو نظر آ رہے تھے ۔۔۔
وہ ان سے نظریں چرا گئیں۔ ۔
وہ خود پریشان تھیں حمدان کے اس عجیب و غریب سے رویے پر ۔۔
سمیر ڈاکٹر کو لے کر ہال کمرے میں سیدھا آیا ۔۔۔
اسراء کو ہمدان کی کوششوں سے اب ہلکا ہلکا ہو ش آچکا تھا ۔۔
ڈاکٹر جمیل نے اس کو دیکھنے کے بعد پرسکرپشن لکھ کے پرچہ سمیر کی طرف بڑھایا ۔۔
تھینکیو میں دیکھ لیتا ہوں ۔۔
جو سمیر کے لینے سے پہلے ہی ہمدان نے اچک لیا اور ڈاکٹر سے بولا ۔۔
صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی تھی ۔ ۔
ڈاکٹر صاحب سب خیریت ہے نا یہ اس طرح کیوں بیہوش ہوئی ہے اچانک سے ؟؟؟
ماما کے لہجے میں بہت سارے اندیشے بول رہے تھے جو بابا سمیت بشر نے بھی محسوس کر لیے ۔۔۔
جی جی سب خیریت ہے اس کنڈیشن میں یہ سب ہونا معمولی سی باتیں ہیں پریشانی کی کوئی بات نہیں ہے ۔۔
ڈاکٹر کی بات پر سوائے ہمدان کے باقی سب کے پائوں تلے سے زمین نکل گئی تھی ۔۔۔
ماما اور باباحق دک کھڑے تھے ۔۔
ماما اچانک ملنے والی اس جان لیوا خبر کو سن کے ساتھ پڑھی کرسی پر ڈھ سی گئیں۔ ۔۔
جب کہ بابا غصے سے مٹھیاں بھیجتے ہوئے خاموشی سے کمرے سے باہر نکل گئے ۔۔
ڈاکٹر صاحب کس کنڈیشن میں ؟؟؟
ماما کو اپنی آواز کسی گہرے کنویں سے آتی محسوس ہوءی ۔۔
ان کا دل اندر سے ڈوب سا رہا تھا انہوں نے ایک پرشکوہ نظر روتی ہوئی آسرا پر ڈالیں ۔۔۔
کاش وہ جو سمجھ رہی ہیں وہ صرف ان کی خام خیالی ہو وہ ان کا وہم ٹھہرے ۔۔۔
وہ اس امید کو لے کر ایک دفعہ پھر ڈاکٹر سے سوال کر گئی تھیں ۔۔۔
او شاید آپ کو علم نہیں ہے شی از" ایکسپیکٹنگ"۔
میں کچھ ٹیسٹ لکھ کر دے رہا ہوں یہ کروا لیے گا اور ان کی خوراک کا خاص خیال رکھیں ان کو بالکل بھی ویکنس نہ ہونے پائے اور ہاں ان کو کسی بھی قسم کا اسٹریس اور ڈپریشن سے دور رکھے گا ۔۔
یہ پریگنینسی کے حساب سے کافی میں ہیں ۔۔۔
اسراء ڈاکٹر کی بات سن کر پتھرا سی گئی اس کو اپنی سماعتوں پر یقین نہیں آ رہا تھا ۔۔۔
سمیر اس سب صورتحال کی باریکی کو محسوس کرکے خاموشی سے ڈاکٹر کے ساتھ کمرے سے باہر نکل گیا ۔۔
اور پھر تھوڑی دیر بعد ڈاکٹر کو چھوڑ کر واپس آیا اور اریج سے کہا ۔۔
اریج آرزو بہت رو رہی ہے شاید وہ پریشان ہو رہی ہے کہیں درد تو نہیں ہے ذرا دیکھ لینا پلیز۔ ۔۔
سمیر نے جان کر اس کو بھی منظر سے ہٹ آیا ۔۔۔
وہ خود بھی وہاں سے جانا چاہ رہی تھی وہ اپنے آپ کو اس وقت اس صورتحال پر ا ن فٹ محسوس کر رہی تھی مگر سمجھ نہیں پارہی تھی کہ کس طرح اس وقت وہ ادھر سے جائے ۔۔۔
سمیر نے گویا اس کی مشکل آسان کردی تھی ۔۔۔
اب کمرے میں پانچ نفوس موجود تھے کمرے میں ماتم کا سا سماں بن چکا تھا ۔۔
ماما صوفے پر اپنا سرتھام کر بیٹھی تھیں ان کے پاس بولنے کے لئے کچھ بچا ہی نہیں تھا ۔۔
کیوں کیا تم نے میرے ساتھ ایسا حجاب کو لگا جیسے وہ کسی ٹرانس میں سے نکلی ہو ۔
حمدان اسراء کی صفائی دینے کے لئے لب کھول ہی رہا تھا جب حجاب نے کچھ بھی سوچے سمجھے بغیر بشر کا گریبان پکڑ کر ہزیانی انداز میں چیختے ہوئے بولی ۔۔
بشر حیران پریشان سا صورت حال کو سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا کے حجاب کو ایسا کیا ہوا جو وہ اس طرح سے اس کا گریبان پکڑے چیخ چلا رہی تھی ۔۔۔
ہمدان اور ماما کا بھی یہی حال تھا ۔۔
کیوں کیا تم نے ایسا کیوں دیا تم نے مجھے دھوکا بتائو کیا کمی رہ گئی تھی میری محبت میں ۔۔۔
حجاب اپنے حواسوں میں نہیں تھی جو اس کے منہ میں آ رہا تھا وہ بس بول رہی تھی ۔۔۔
وہ چیخ رہی تھی زاروقطار رو رہی تھی ۔۔
حجاب بس کرو کیا ہوگیا ہے تمہیں ۔۔
بشر ہمدان اور اسراء کے سامنے شرمندہ سا ہو کر حجاب کو جھنجوڑ تے ہوئے بولا ۔۔۔
اسرا خاموش تماشائی بنے اپنی موت کی دعائیں کر رہی تھی ۔۔
تم نےمجھے کہیں کا نہیں چھوڑا میں نے تم سے کہا تھا نہ کہ تم میرے لئے مزید مشکلات کھڑی کر دو گے مگر تم نہیں مانے اور آج دیکھ لو میں کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں۔۔۔
تم نے میرے چند ہی بچے کچھے رشتوں کے سامنے مجھے ان کی کیا اپنی ہی نظروں سے گرادیا ۔۔۔
وہ اپنے دل و دماغ سے جنگ لڑ تی سسکیاں بھر رہی تھی ۔۔
اس کا وجود زلزلوں کی زد میں تھا وہ ہولے ہولے کانپ رہی تھی ۔۔
حجاب اور چیختے ہوئے بولی کہ۔ ۔
بتاؤ کیا تعلق ہے تمہارا اور اس کا؟!؟؟
جو ڈاکٹر ابھی انکشاف کرکے گیا ہے تم جانتے تھے نا !؟؟؟
تم نے اس کے ساتھ ناجائز ۔۔۔۔
ابھی وہ کچھ اور بھی بولتی اور بشر کا ھاتھ اٹھتا دیکھتے ہوئے ۔۔
ہمدان کی نےآواز حجاب کے الفاظوں کو واپس حلق میں جانے پر مجبور کر دیا تھا ۔۔۔
بس میں اب کوئی بھی فضول بات نہیں سنوں گا ۔۔۔
وہ سسکتی ہوئی اس راہ کے پاس بیٹھ کر اس کا یا بستہ ہاتھ اپنے ہاتھ میں تھامتے ہوئے بولا ۔۔
ما مانڈھال سی ھوکر حجاب کو تو کبھی ہمدان کو دیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔۔
ان کو اپنا دل بند ہوتا محسوس ہونے لگا ۔۔
بشر نے ایک جھٹکے سے حجاب کو خود سے دور کرتے ہوئے ایک نفرت بھری نظر اس پر ڈالی اور کہنے لگا ۔۔
ہمدان میں ڈیل کرتا ہوں نا تم پریشان مت ہو ۔۔
نہیں بشر تو کچھ نہیں جانتا بس اب وقت آ گیا ہے ۔۔
اسرانے کبوتر کی طرح سختی سے آنکھیں بند کرلیں ۔۔۔
اف اتنی رسوائی اس دن کو دیکھنے سے پہلے میرے رب تو نے مجھے اپنے پاس کیوں نہ بلا لیا میری سانسیں کیوں چل رہی ہیں ابھی تک ۔۔۔
اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ خود کو ختم کردے یا کہیں غائب ہو جائے جہاں کوئی بھی اس تک پہنچ نہ سکے ۔۔۔
میں سب کچھ جانتا ہوں ۔۔۔
مجھے بی اماں نے اپنے جانے سے ایک دن پہلے سب کچھ بتا دیا تھا جب میں تجھ سے ملنے آیا تھا ۔۔
بشر نے ہمدان اور آسرا کے سر پر دھماکہ کیا ۔۔
کیا جانتے ہو تم بشر ۔۔؟!
ماما اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے بولیں۔ ۔
دیکھو جو بھی ہے مجھے سچ بتا دو میرے اندر اب مزید برداشت نہیں ہے میرا دل ڈوب جائے گا میرے ساتھ مزید یہ آنکھ مچولی مت کھیلو ۔۔۔
حجاب بس خاموش تھی اس کو بس اپنا شوہر سرخرو چاہیے تو اس کی نظروں میں بھی کئی سوال تھے ۔۔
میں بتاتا ہوں آنٹی ۔۔
حمدان اٹھ کر کھڑا ہو گیا اور ان سے تھوڑا فاصلہ قائم کرتے ہوئے کہنے لگا کہ ۔
دانی رک جامیں۔ ۔۔۔
بشر نے اس کو روکنے کے لئے لب کھولے ہی تھے جب ۔۔۔
ہمدان نے ہاتھ کے اشارے سے اس کو خاموش رہنے کا کہا ۔۔۔
"اسرا میری بیوی ہے "۔۔۔
حجاب اور ماما ہمدان کی اس بات کو سن کر ہکا بکا سی رہ گئیں۔ ۔۔
ماما سکتے کی حالت میں تھیں اس انکشاف پر ۔ ۔
جب کہ حجاب کو لگا جیسے حمدان نے کہا کچھ اور ہے اور اس کو سنائی کچھ اور دیا گیا ہے ۔۔
یہ کیسے ممکن ہے ؟؟؟
ماما خود کو سکتے کی کیفیت سے بہت مشکل سے نکال کر گویا ہوئیں ۔۔
اسرا ابھی تک اپنی آنکھیں بند کئے رو رہی تھی آنسو تواتر سے اس کی آنکھوں سے بہ رہےتھے۔۔
یہ حقیقت ہے کہ یہ میری بیوی ہے ۔۔
اور ساتھ ہی میری سگی چچازاد بھی ۔۔
وہ دھماکوں پہ دھماکے کر رہا تھا ۔۔
ہمارا نکاح آج سے بہت سال پہلے ہوگیا تھا ۔۔
حجاب ہمدان کی بات سن کر اپنا سر تھام کر بیٹھ گئی ۔۔۔
جبکہ ماما کو اپنے دل میں تھوڑا سکون سا محسوس ہوا کہ ان کی بھانجی نے کچھ غلط نہیں کیا ان کی بہن کی تربیت میں کوئی کمی ہو ہی نہیں سکتی تھی ۔۔۔
ان دونوں نے ایک جائز رشتے کے تحت تعلق قائم کیا ہے مگر کچھ باتیں وہ ہمد ان سے پھر بھی کرنا چاہتی تھیں۔ ۔۔
میں اسراہ کو لے کر جا رہا ہوں ۔۔
میرانہیں خیال ہے کہ اب کسی کو اعتراض ہو گا اس کو لے جانے پر میرے یہاں سے ۔۔۔
وہ آسرا کے اوپر ایک جتاتی ہوئی نظر ڈال کر گویا ہوا ۔۔
حجاب بھابھی بشر صرف آپ کا ہی ہے اور آپکا ہی رہے گا وہ حجاب کے سر پر ہاتھ رکھ کے بولا ۔۔
مگر آپ اپنے شریک سفر پہ اعتبار کریں کیونکہ یہ رشتہ محبت کے علاوہ اعتماد اور اعتبار کا بھی ہے ۔۔
حجاب کو خود سے اس وقت قراہیت سی محسوس ہو رہی تھی کہ وہ کیسےایک پاکدامن لڑکی کے دامن پر کیچڑ اچھال گئ؟؟؟
اور کیوں کر اس نے اپنے اتنے پیارے محبوب شوہر کو شک کی نظروں سے دیکھا ۔۔
چلو اسراء تمہارے کہنے پر میں نے تمہیں تمام معاملات ٹھیک کرنے کا وقت فراہم کیا تھا اب جب کہ تمام تر حالات درست ہو چکے ہیں اب تمہیں میں تمہارے شوہر کی حیثیت سے لے جا سکتا ہوں۔۔۔
حمدان کے لہجے میں کسی قسم کی لچک نہیں تھی ۔۔۔
آج وہ آ ریا پار کرنے پر تلا ہوا تھا ۔۔
غصے اور ذلت سے اس کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھی دماغ کی رگیں تن سی گئی تھی ۔۔۔
وہ آسرا کو اٹھا کر سہارا دیتے ہوئے گویا ہوا ۔۔
جب ایک دم حجاب کو ہوش آیا اور وہ آسرا کے پاس جا کر اس کے سینے سے جا لگی ۔۔۔
اسراءپلیز مجھے معاف کر دو مجھ سے بہت بڑا گناہ ہو گیا ہے میں نے تمہارے پاک دامن پر ۔۔۔
وہ بلاگ لکھ کر اس کے سینے سے لگی رو رہی تھی ااسرا بھی اس کے اسطرح بکھرنے پر ششدر سی رہ گئی۔۔
اسراء میں معافی کے قابل تو نہیں ہوں مگر پلیز مجھے معاف کر دو ۔۔
حمدان بشر کے پاس جا کر کھڑا ہو گیا تھا ۔۔
بشر لاتعلق سا ہوا وا تھا حجاب سے ۔۔
بشر حجاب بھابھی کا دل بالکل کورے کاغذ کی طرح ہے صاف شفاف۔۔
ان کو جیسے ہی اپنی غلطی کا احساس ہوا انہوں نے کسی کی بھی پرواہ کئے بغیر سب کے سامنے معافی مانگی۔ ۔
جس طرح سب کے سامنے تم سے سوال کیا تھا اسی طرح سب کے سامنے ہی معافی کی بھی طلب گار ہیں ۔۔
وہ ان گنے چنے لوگوں میں سے ہیں جو غلطی کرکے اس سے سبق لے کر اپنی زندگی کو بہتر سے بہتر بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔۔۔
معافی مانگنا اور اپنا گناہ تسلیم کرنا بہت دل گردے کا کام ہوتا ہے ورنہ وہ چاہتیں تو اکیلے کمرے میں بھی اسراء سے معافی مانگ لیتی۔۔
یا نہیں بھی مانگتی اور یہ کہہ دیتی کہ جس طرح کےحالات تھے تو وہ یہی اخذ کرسکیں ۔۔۔
اور یہ ان کا ری ایکشن اس بات کا گواہ ہے کہ وہ تمہیں ٹوٹ کے چاہتی ہیں ۔
میں جانتا ہوں ۔۔۔
بشر اس کی پوری بات سن کر بس اتنا ہی کہہ سکا اور اسراہ کے پاس گلے شکوے دور کرتی حجاب کو الگ کرتے ہوئے اپنے بازو کے حصار میں لیتے ہوئے اسراء سے کہنے لگا کہ ۔۔۔
کیا تم میری چھوٹی سی معصوم سی بیوی کو معاف کر سکتی ہو یہ لڑکی عقل سے پیدل ہے بالکل ہی ۔۔۔
مگر یار جیسی بھی ہے اب تو تمہاری بھابھی ہے نا ؟؟؟
وہ ماحول میں تاری غمگین فضا کو تھوڑا ہلکا پھلکا کرنے کی کوشش کرتے ہوئے بولا ۔۔
جب کہ حجاب حیران تھی بشر کے رویے پر اس کو تو یقین ہی نہیں آ رہا تھا وہ تو یہ سمجھ رہی تھی کہ بشر اب اسکو بخشے گا نہیں ۔۔
مگر حجاب کو آج صحیح معنوں میں پتہ چلا تھا کہ ایک بہترین مرد وہی ہے جو عورت کی عزت کرے نہ کے اس پہ ہاتھ اٹھائے یا پھر بھری محفل میں اس کی بےعزتی کرے۔۔۔
ایک عظیم مرد وہی ہے جو وقت پڑنے پر جب عورت کو اس کی ضرورت ہو اور عورت حق پے ہو ۔۔
تب وہ اس کی ڈھال بن کے کھڑا ہوجائے ایسے کہ کوئی اس کی طرف نظر تو کیا بڑ بھی نہ سکے ۔۔۔۔
بلکہ اس کا غصہ اور ناراضگی اب ساری زندگی اس کے حصے میں آ ئے گی ۔۔۔
میں بشر تمہارے کہنے کے باوجود بھی اس کو معاف نہیں کروں گی اور تمہیں بھی ۔۔
تم نے اتنی بڑی بات جانتے پوچھتے بھی مجھ سے چھپائی ۔۔
وہ خفا خفا سی بشر سے گویا ہوئی ۔۔
ماما بہت خاموشی سے سب کو سن رہی تھی ان کا ذہن کچھ اور ہی لائحہ عمل تیار کرچکا تھا ۔۔
مگر آسرا ۔۔۔
حمدان نے کہا ۔۔
بشرا سرا کا جواب سن کر مایوسی سے خاموش ہو گیا جبکہ حجاب مزید زار و قطار رو پڑیں ۔۔
ٹھیک ہے میں تم دونوں کو معاف کرتی ہوں مگر میری ایک شرط ہے ۔۔
وہ بشر اور حجاب کو محبت بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے بولی اس کے پاس اب یہی تو کچھ رشتے باقی رہ گئے تھے اور وہ ان کو بھی ناراض نہیں کرنا چاہتی تھی ۔۔۔
مخلص لوگ بہت کم ملتے ہیں اور جو ملتے ہیں ہمیں ان کی قدر کرنی چاہیے ۔۔۔
کیا پلیز تم جو کہو گی میں کروں گی لیکن تم ایک دفعہ بس مجھے معاف کردو اور اپنا دل میری طرف سے صاف کرو پلیز صرف ایک دفع ۔۔۔
ٹھیک ہے میں نے تمہیں معاف کیا لیکن ۔۔۔
پوری طرح معافی اسی وقت ملے گی جب تم دونوں مجھے پھپو کے رتبے پر فائز کر دو گے ۔۔
اسراء کی بات پر بشر اور ہمدان نے بے ساختہ کہہ کا لگایا جبکہ حجاب حیاءسے لال ٹماٹر ہوکر بشر کے پیچھے جاچھپی ۔۔۔
چلیں اسراہ۔۔
وہ اسراہ کے قریب آ کر بولا ۔۔
خالہ ۔۔۔
وہ دو زانو ں سختی سے مٹھیاں بھیچیں خالہ کے پاس بیٹھ گئی ۔۔
آپ کو سب کچھ سچ بتانے ہی والی تھی مگر ۔۔
مگر کیا کیوں چھپایا سب تم نے ۔۔؟؟؟
ان کا لہجہ ہر قسم کے جذبات سے عاری تھا ۔۔
چہرے پر غم و غصے کے واضع تاثرات تھے ۔۔
اسراء ان کو چند ہی منٹوں میں شروع سے لے کر آخر تک کی تمام روداد سنا گئی ۔۔
انہوں نے بڑے تحمل سے اس کی بات سنی اور پھر جب وہ بولی تو سب کو سانپ سونگھ گیا ۔۔
میں تمہیں اس کو لیجانے نہیں دو نگی جو کچھ بھی میری بہن کے ساتھ ہوا اسکے بعد میں اپنی بہن کی آخری نشانی کو جان بوجھ کر اندھی کھائی میں ہرگز بھی تھکی ل نہیں سکتی ۔۔
مگر خالہ ۔۔
تم خاموش رہو ۔۔
جو تم لوگوں نے کرنا تھا وہ تم لوگ کر چکے ۔۔
مزید کوئی حماقت میں تمہیں اب نہیں کرنے دوں گی آسرا ۔۔
حمدان ٹھیک ہے یہ تمہاری بیوی ہے اپنے سب بڑوں کو دادی سمیت لے کر آؤ اور نکاح نامہ یا پھر گواہ ساتھ لاؤ اور اگر یہ بھی نہیں کرسکتے تو میں پھر دوبارہ سے تم دونوں کا نکاح کروائونگی ۔۔
وہ بھی اس صورت میں جب تمہاری دادی اس نے کام شریک ہوگی ۔۔
اپنے گھر والوں کو لاؤ طریقے سے ساری دنیا کے سامنے اس کو رخصت کروا کے لے کر جاؤ مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے ۔۔
وہ سختی سے گویا ہوئیں ۔۔
اور ان سب کے لئے تمہارے ساتھ صرف پندرہ دن کا ٹائم ہے اور اگر ان پندرہ دنوں میں تم یہ سب نہیں کرسکے تو پھر تم اس طرح کے ساتھ اپنے اس بچے کو بھی بھول جانا میں اس کا عبورٹ کروا دوں۔۔۔
گی ۔۔۔
ان کا لہجہ کسی بھی قسم کی رعایت سے عاری تھا ۔۔
مگرماما یہ کیسے ممکن ہے ۔۔
بشر نے مداخلت کی ۔۔
وہ اس کی بیوی ہے ہم نہیں روک سکتے اس کو ۔۔
تمہارے پاس ثبوت ہے کہ یہ حملہ ان کی بیوی ہے لاؤ مجھے دکھاؤ میں ابھی اور اسی وقت اس کو عزت سے رخصت کردیتی ہوں اور اپنی بہن کے آگے سرخرو ہو جاتی ہوں ۔۔
جب کہ عصر اور ہمدان بے بسی سے خالہ کو دیکھ رہے تھے ہمدان کی آنکھیں اسے کی زیادتی سے صرف ہو رہی تھی اس کو اسراء کی اوپر شدید غصہ آ رہا تھا یہ تمام تر حالات صرف اس کی بیوقوفیوں سے ہی پیدا ہوئے تھے ۔۔
جن کا سامنا آج ان دونوں کو ہی کرنا پڑا تھا ۔۔
وہ سمجھ رہا تھا کہ خالہ کی بات اپنی جگہ بالکل ٹھیک ہے ۔۔
بغیر کسی ثبوت کے اسراف و نہیں لے جاسکتا ۔۔
وہ خاموشی سے ہال کمرے کا دروازہ عبور کرکے جانے والا تھا جب ماما کی نے مزید کہا ۔۔۔
اور یاد رکھنا جب تک تمہاری دادی خوشی سے اس راگ کو رخصت کرانے نہیں آۓ گی میں اس کو تمہارے ساتھ نہیں بھیجوں گی ۔۔۔۔
ان کے رویے میں چٹانوں کی سی سختی اور چکی تھی ۔۔۔
Tuesday, December 18, 2018
Subscribe to:
Post Comments (Atom)

0 comments:
Post a Comment