Sunday, January 20, 2019

itni mohbbat karo na (season 2) episode 15

🌹Itni mohhbat karo na
By zeenia sharjeel
Epi # 15

"یہ سب کیا ہے, اتنا سامان کیوں لے کر آئیں تم" 
حور نے فضا سے گلے ملتے ہوئے مٹھائی کے ٹوکرے اور گفٹ پیک دیکھتے ہوئے پوچھا

"نہیں ایسا کچھ خاص نہیں ہے، حیا کے لئے کچھ چیزیں لی تھی کہاں ہے وہ نظر کیوں نہیں آ رہی ہے"
 فضا نے حور سے پوچھا

"اپنے روم میں ہے بلاتی ہو اسے تم بیٹھو"
حور نے اٹھتے ہوئے کہا

"کیا ہوا ڈاکٹر کو نہیں دکھایا تم نے" بلال نے زین کو دیکھ کر کہا

"ارے نہیں موسمی بخار ہے معمولی سا ٹھیک ہو جائے گا" زین نے بلال کو جواب دیا
آج صبح سے ہی اس کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی وہ ہلکا سا بخار محسوس ہو رہا تھا

*****

"حیا کیا ہوا ابھی تک ریڈی نہیں ہوئی"
حور نے روم میں آتے ہوئے حیا کو دیکھ کر کہا وہ کسی سوچ میں گم تھی ایک دم چونکی

"جی بس میں ریڈی ہو"
حیا نے دوپٹہ اوڑھتے ہوئے حور سے کہا
نیوی بلو کلر کے فراک میں وہ نظر لگ جانے کی حد تک خوبصورت لگ رہی تھی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اسطرح کی ڈریسنک کم کرتی تھی

"بہت پیاری لگ رہی ہے میری بیٹی سب لوگ آ گئے ہیں فضا پوچھ رہی ہے تمہارا چلو سب انتظار کر رہے"
حور نے اس کو پیار کرتے ہوئے بولا

حیا حور کے ساتھ ڈرائنگ روم میں پہنچی سب کو سلام کیا تو بلال اور فضا نے اس کو اپنے بیچ میں بٹھا لیا ہادی کی نظریں بار بار حیا پر اٹھ رہی تھی مگر حیا دماغی طور پر جیسے وہاں موجود نہیں تھی

"آج تم سب کے سامنے جاکر اس رشتے کے لیے منع کروں گی"
اسے معاویہ کے کہے ہوئے جملے بار بار یاد آ رہے تھے

"نہیں وہ بکواس کر رہا تھا مجھے ڈرا رہا تھا"
وہ اپنے خیالوں سے چونکی جب فضا میں اسکو آگے ہاتھ بڑھانے کو کہا اسے پتہ ہی نہیں چلا کہ کب بلال اٹھا اور اس کی جگہ پر ہادی بیٹھ گیا اس نے ایک نظر اپنے سامنے بیٹھے ہوئے زین اور حور کا چہرہ دیکھا جو اسی کو دیکھ کر مسکرا رہے تھے پھر حیا کی نظر ہادی کے اوپر پڑی وہ بھی اسی کو دیکھ رہا تھا آنکھوں میں بھر پور چاہت کے رنگ سجائے اس نے سارے ڈر اور خوف کو ایک طرف رکھکر مسکرا کر ہادی کی طرف ہاتھ بڑھایا جس میں ہادی نے اس کو رینگ پہنائی سب نے ان دونوں کو پیار کیا منہ میٹھا کرایا مبارکباد دی اور پھر کھانے کا دور چل پڑا وہ اپنے روم میں آ گئی

"ایسے کب تک چلے گا مجھے بابا کو سب بتا دینا چاہیے وہ سمجھیں گے میری بات کو اور خود سنبھال لیں گے۔۔۔ اس گھٹیا انسان کی وجہ سے میں اپنی خوشی بھی انجوائے نہیں کرسکی بس اب مجھے سب کے جانے کے بعد بابا سے بات کرنی ہے"
حیا نے اپنے کمرے میں ٹہلتے ہوئے سوچا ہادی اس کے روم میں آیا

"کیا ہو رہا ہے روم میں کیوں آگئی"
وہ اس کے سامنے آکر بولا

"بس ویسے ہی"
 حیا نے غائب دماغی میں کہا

"ویسے ہی کیسے ہی، تم شرما ورما تو نہیں رہی ہاہاہا سیریسلی حیا تم شرما رہی ہو"
ہادی ہنستا ہوئے حیا سے پوچھنے لگا

"تمہیں کیا لگ رہا ہے میں اور تم سے شرماؤ گی"
حیا اپنی کمر پر دونوں ہاتھ رکھ کر بولی

"یعنی تمہیں شرماتا ہوا دیکھنے کی میری حسرت ہی رہ جائے گی"
ہادی نے اسکے ہاتھ تھامتے ہوئے کہا

"یہ کیا بدتمیزی ہے"
ہادی کے ہاتھ پکڑنے پر ہی اس نے جھینپتے ہوئے کہا

"بہت پیاری لگ رہی ہو آج"
حیا کی بات اگنور کرکے ہادی نے اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا

"اچھا تو میں تمہیں پیاری بھی لگتی ہو"
اس نے کبھی بھی پہلے اس طرح حیا کی تعریف نہیں کی تھی حیا نے ہاتھ چھڑاتے ہوئے کہا

"جبھی تو تمہیں آنٹی اور انکل سے مانگ لیا ہے ہمیشہ کے لئے"
ہادی دھیرے سے مسکرایا 

"ہادی میں تم سے ایک بات شیئر کرنا چاہتی ہوں"
اسنے معاویہ کے بارے میں ہادی سے بات کرنے کا سوچا، اب وہ بھی اس کی زندگی کا حصہ بننے جا رہا تھا تو اسے بھی معلوم ہونا چاہیے تھا

"تم مجھ سے ایک بات کرنا چاہتی ہوں اور میں تم سے ڈھیر ساری باتیں شیئر کرنا چاہتا ہوں جو پہلے کبھی نہیں کی ہمیشہ اپنے دل میں رکھی"
ہادی نہ حیا کو دیکھتے ہوئے کہا

"ہادی میں سیریس ہو"
حیا نے اس کو شوخ ہوتا دیکھ کر کہا

"وہ بھی تم آج ہوئی ہو اور میں تو پتہ نہیں کب سے سیریس تھا"
ہادی نے کاوچ پر بیٹھتے ہوئے کہا

"یعنی تمہارا کوئی ارادہ نہیں ہے میری بات سننے کا"
حیا نے بیڈ پر بیٹھتے ہوئے کہا

"میرا ارادہ ساری زندگی ہی تمہاری باتیں سننے کا ہے بالکل ویسے ہی جیسے میری مما میرے بابا کو باتیں سناتی ہیں"
ہادی نے دوبارہ بات کو مذاق کا رنگ دیتے ہوئے کہا

"تم سے تو بات کرنا ہی فضول ہے مجھے بابا سے ہی بات کرنی پڑے گی"
حیا نے جھنجھلاتے ہوئے کہا

"اچھا آب ناراض مت ہو جانا بتاؤں کیا کہہ رہی تھی" ہادی نے اسے مزید تنگ کرنے کا ارادہ ترک کرتے ہوئے پوچھا

"ہادی تمہیں یاد ہے وہ جو اس دن کار پارکنگ میں ہمہیں ملا تھا معاویہ"
حیا نے اس کو یاد دلانا چاہا

 کون وہی جس نےاس دن ان لڑکوں کو بھی مارا تھا؟ مگر تم اس کا نام کیسے جانتی ہوں" ہادی نے حیرت سے پوچھا

"دراصل ہادی"
حیا نے ابھی بات کا آغاز کیا تھا

"حیا بی بی سب بلا رہے ہیں آپ دونوں کو"
نسیمہ نے اچانک روم میں آکر حیا سے کہا تو وہ چپ ہو گئی

"اوکے شاید مما بابا جانے کے لیے بلا رہے ہوگے میں رات میں تمہیں کال کرتا ہوں پھر تفصیل سے بات کریں گے"
ہادی نے کاوچ سے اٹھتے ہوئے کہا تو حیا کا دل بجھ سا گیا

سب سے مل کر وہ روم میں آئی اور اپنا ڈریس چینج کیا زین سے بات کرنے کا ارادہ کرتی ہوئی زین اور حور کے بیڈ روم میں گئی

"شش آرام سے ابھی سوئے ہیں تمھارے بابا"
حور نے آہستہ آواز میں اسکو بولا

"اتنی جلدی سوگئے مجھے تو ان سے بہت ضروری بات کرنی تھی"
حیا نے بے دلی سے زین پر نظر ڈالی اور حور سے بولا

"حیا طبیعت ٹھیک نہیں تھی شاہ کی میڈیسن دے کر سلایا ہے ابھی تم بھی جاؤ اور ریسٹ کرو کل کرلینا جو بھی بات کرنی ہے" حور بھی تھکی ہوئی لگ رہی تھی حیا سست قدموں سے اپنے بیڈ روم میں واپس آگئی اور ڈور بند کیا

"حیا بی بی"
نسیمہ کی آواز آئی

"تم گھر نہیں گئی ابھی تک"
حیا نے دروازہ کھولا سامنے نسیمہ دودھ کا گلاس لے کر کھڑی تھی

"باجی تھکی ہوئی تھیں میں نے سوچا سارا پھیلاؤ سمیٹ کر جاو۔۔۔ بس جانے ہی لگی تھی، یہ دودھ آپ کے لئے لے کر آئی ہوں کھانا بھی اپنے تھوڑا سا کھایا تھا آپ نے" نسیمہ نے اس کو دودھ کا گلاس تھماتے ہوئے کہا

"چلو یہ اچھا کیا تم نے میں پی لیتی ہوں اب تم جاؤ" حیا نے کلاس تھامتے ہوئے کہا اور دروازہ بند کرلیا دودھ پی کر وہ سونے کے لیے لیٹ گئی
اس کی نظر کھڑکی پر پڑی تو یاد آیا آج اس نے کھڑکی بند نہیں کی تھی وہ کھڑکی بند کرنے کے لیے اٹھنا چاہتی تھی مگر اس کی آنکھوں میں نیند کا غلبہ چھانے لگا اور وہ نیند کی وادیوں میں اتر گئی

****

رات کا دوسرا پہر تھا جب وہ اس کے روم میں کھڑکی سے اندر داخل ہوا اور کھڑکی بند کر کے پردے برابر کیے اس کے بعد اس نے روم کا دروازہ لاک کیا سر پر سے ہڈ اتارا، تو وہ سامنے بیڈ پر دنیا جہاں سے غافل نیند کی وادیوں میں گم تھی۔۔۔ حیا کا چہرہ دیکھتے ہوئے اس کی نظر بیڈ کے سائیڈ پر دودھ کے خالی گلاس پر گئی

"گڈ جاب نسیمہ"
اپنی شرٹ کے بٹن کھولتے ہوئے معاویہ نے کہا اور حیا کے قریب بیڈ پر آکر بیٹھا

حیا نے جو اپنا ہاتھ سینے پر رکھا ہوا تھا معاویہ نے اسے تھام کر اپنے ہاتھ میں لیا اس کی نظر ہاتھ کی انگلی میں موجود رینگ پر پڑی تو معاویہ کے ماتھے پر شکنیں ابھری

"بہت ضدی اور نادان ہو تم میرے لاکھ سمجھانے پر بھی تمہیں سمجھ میں نہیں آئی کہ تم صرف معاویہ کی ہو"
معاویہ اس کے ہاتھ سے اپنا گال سہلاتا ہوا بولا پھر اس نے رینگ اس کی انگلی سے اتار دی اور دور اچھالی جو کہ روم کے ڈسٹبن کے پاس جاکر گری

اب وہ حیا پر جھک کر اس کے چہرے کو بہت قریب سے دیکھ رہا تھا،، جذبات کا طوفان تھا جو کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا تھا معاویہ نے ہلکی سی پھونک حیا کے ماتھے پر ماری جس سے ماتھے پہ آئے ہوئے بال سائڈ پر ہوئے،،، معاویہ کی آنکھیں حیا کے چہرے کا طواف کرنے میں مصروف تھی وہ اس کے ایک ایک نقش کو اپنی آنکھوں کے رستے سے اپنے دل میں اتار رہا تھا۔۔۔۔ اس نے آگے ہاتھ بڑھا کر اپنی انگلیوں سے حیا کی بند آنکھوں کو چھوا اب اس کی انگلیاں حیا کے رخسار کو نرمی سے سہلا رہی تھی،،  جیسے ہی انگلیوں نے اس کے ہونٹوں کو چھوا معاویہ کو اپنا دل جو زور سے دھڑکتا ہوا محسوس ہوا اس نے فورا اپنے ہاتھ پیچھے کیے۔۔۔ مگر دل تھا کہ بے ایمانی کرنے پر اکسا رہا تھا صحیح وقت پر اسے موقع سے فائدہ اٹھانا اچھی طرح آتا تھا اس وقت 'موقع' تھا مگر افسوس 'وقت' صحیح نہیں تھا اس نے اپنے سر چڑھتے  جذبات کو مشکل سے قابو میں کیا، جو کہ اس کے لیے کٹھن مرحلہ ثابت ہوا،،،، ویسے بھی وہ اسی کی تھی اور اسی کے پاس ہمیشہ کے لیے اسے آنا تھا معاویہ نے اپنے دل کو سمجھایا

وہ جس کام کے لئے آیا تھا بس اسے وہ پوری ایمانداری کے ساتھ کرنا تھا اور وہاں سے چلے جانا تھا یہ سوچ کر معاویہ نے بہت نرمی سے حیا کی کمر کے نیچے اپنا ہاتھ رکھ کر اسے اٹھانے کی کوشش کری۔۔۔۔ جتنی سختی سے وہ مجرموں کے ساتھ پیش آتا تھا اتنی ہی نرمی وہ اس کے ساتھ برت رہا تھا، جس نے سب سے بڑا جرم کیا تھا (اس کا دل چرانے کا) 
حیا کی ڈھلکے ہوئے سر کو  اپنے شولڈر پر رکھا اور چہرے پر آئے ہوئے بالوں کو اس کے کان کے پیچھے کیے

ایک دم سے حیا کے موبائل پر کال آنے لگی اسکرین پر موجود نمبر دیکھ کر اس کے چہرے پر مسکراہٹ آئی حیا کو واپس اپنی جگہ پر ارام سے لٹا کر اس نے کال ریسیو کی

جاری ہے

itni mohbbat karo na (season 2) episode 14

Itni moHbaat karo na 2
By zeenia sharjeel
Epi # 14

"نسیمہ کتنی دیر کر دی آج تم نے آنے میں، جلدی جلدی کام سمیٹو اب میرا ہاتھ بٹاو" 
حور نے پھیلے ہوئے کہ کچن پر نظر ڈال کر نسیمہ سے کہا

"خیریت ہے باجی کوئی خاص مہمان آ رہے ہیں یا دعوت شاوت ہو رہی ہے"
نسیمہ نے چار پانچ قسم کی ڈشسز کی تیاری دیکھ کر حور سے پوچھا

"ہاں بلال بھائی اور انکی فیملی کو انوائٹ کیا ہے رات کے کھانے پر شاہ نے۔۔۔ انہی کے لیے اہتمام کیا ہے وہ مہمان تو نہیں ہیں اپنے ہی ہیں مگر اب تو اور بھی زیادہ خاص ہو گئے ہیں ہمارے لئے"
حور نے مسکراتے ہوئے کہا

"آج تو آپ بڑی خوش بھی دکھائی دے رہی ہیں باجی" نسیمہ نے جلدی جلدی پھیلے ہوئے  کچن کو سمیٹتے ہوئے حور کو دیکھ کر کہا

"ہاں خوشی کی ہی بات ہے بلال بھائی نے اپنے بیٹے کے لیے ہماری حیا کا ہاتھ مانگا ہے"
حور مسکراتے ہوئے نسیمہ سے اپنی خوشی شیئر کرنے لگی

"ارے واہ جی وہ اپنے ہادی صاحب کے لئے۔۔۔ وہ تو بہت اچھے ہیں، بہت بہت مبارک ھو باجی یعنی اب جلدی سے حیا بی بی کی شادی ہونی ہے" نسیمہ نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے حور سے سوال کیا

"ارے نہیں شادی ابھی کہاں ابھی تو حیا کی اسٹڈیز کمپلیٹ نہیں ہوئی ہے ابھی تو ان لوگوں نے ہمارے سامنے بات رکھی ہے اور ہم نے انہیں ہاں میں جواب دیا ہے اور تمہارے صاحب نے آج کھانے پر ان کی فیملی کو انوائٹ کیا ہے"
حور سویٹ ڈش کا باول فریج میں رکھتے ہوئے بولی

"یہ تو بہت اچھی بات ہے باجی اب سارا کام میں سمیٹ لوں گی آپ آرام کریں پتہ نہیں کب سے لگی ہوئی ہیں"
نسیمہ نے حور کے تھکے ہوئے چہرے کو دیکھ کر کہا

"وہ واقعی خوشی میں صبح سے ہی کچن میں کھانا بنانے لگ گئی تھی اور اب واقعی تھک گئی تھی اس لئے اپنے روم میں آرام کرنے چلی گئی

*****

"سر جی کل رات کو ہی اعظم کو پکڑ کر پولیس اسٹیشن لے آئے تھے تھوڑی دیر میں اس سے ساری انفارمیشن اگلوا کر آپ کو دیتا ہوں"
معاویہ کے آتے ہی اسپیکٹر سعد نے اعظم کے بارے میں بتایا

اس بات کا اندازہ ان لوگوں خود بھی نہیں تھا کہ وہ کتنے اندر کا آدمی ہے اور غائب ہوئی وی لڑکیوں کے بارے میں کیا کیا جانتا ہے مگر پھر بھی اس کا تعلق اسی گروہ سے تھا اور بابر نے اپنے بیان میں اس کا نام لیا تھا

"تم رہنے دو اس سے کیسے انفارمیشن نکلوانی ہے یہ میرا کام ہے تم جاؤ"
معاویہ نے چیئر سے اٹھتے ہوئے کہا 

"اوکے سر جی" انسپکٹر سعد سیلوٹ مار کر وہاں سے چلا گیا

"ہاں بھئی اعظم کوئی تکلیف تو نہیں ہوئی تمہیں یہاں آنے میں"
معاویہ نے اعظم سے ایسے پوچھا جیسے گھر آئے ہوئے مہمان سے پوچھا جاتا ہے

"اے۔ایس۔پی صاحب مجھے تو سمجھ میں نہیں آ رہا آپ لوگ مجھے یہاں پر کیوں لے کر آئے ہیں میں تو کچھ جانتا نہیں ہوں"
اعظم نے اے۔ایس۔پی کے بارے میں جو کچھ سنا تھا اس سے سن کر اس کو خوف آرہا تھا اس لئے ماتھے پر سے آیا ہوا پسینہ صاف کرتے ہوئے بولا

"اعظم تم مجھے جانتے نہیں ہو جب تم مجھے جان جاؤ گے تمہیں سب سمجھ میں آجائے گا، آخری دفعہ منہ سے پوچھ رہا ہوں کس گروہ کے لئے کام کرتے ہو اور اس کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے کس کے کہنے پر یہ لڑکیاں اٹھائی جاتی ہیں"
معاویہ نے اعظم سے نرمی لیے ہوئے انداز میں پوچھا

"اے۔ایس۔پی صاحب میں واقعی کچھ نہیں جانتا مجھ پر رحم کریں"
اعظم نے ہاتھ جوڑتے ہوئے معاویہ سے کہا

"تم پر ابھی تک میں نے رحم ہی کھایا ہوا تھا اعظم مگر لگتا ہے اب تم کو خود پر رحم نہیں آرہا اب اس میں بھلا میں کیا کرسکتا ہوں"

"انسپکٹر سعد"
معاویہ سامنے رکھی ہوئی چیئر پر بیٹھ گیا اور انسپکٹر سعد کو آواز دی

"جی سر جی"
ایک دم سے انسپکٹر سعد حوالات میں نمودار ہوا

"اعظم کیلئے کچھ خاص قسم کی تواضع ہونی چاہیے جلدی سے انتظام کرو"
ٹانگ پر ٹانگ رکھتے ہوئے وہ انسپکٹر سعد سے بولا

"سر جی بس ابھی 5 منٹ میں واپس آیا"
انسپکٹر سعد حوالات سے باہر چلا گیا

اعظم اپنے سامنے بیٹھے ہوئے اس اے۔ایس۔پی کو دیکھ رہا تھا جو بہت سنجیدگی سے اعظم کو ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔ اس کے اس طرح دیکھنے سے اعظم بار بار اپنے ماتھے پر آیا ہوا پسینہ صاف کر رہا تھا

"تھوڑی دیر میں دو پولیس والے ایک برتن میں ابلتا ہوا پانی لے کر آئے جس میں سے بھاپ نکل رہی تھی"
اعظم جو پہلے ہی ڈرا ہوا تھا اب خوف سے کانپنے لگا

"مجھے معاف کر دیں اے۔ایس۔پی صاحب میں واقعی کچھ نہیں جانتا"
اعظم رو کر کہنے لگا

"اس کے جوتے اتاروں اور اس کے دونوں پاؤں پانی میں ڈال دو"
معاویہ نے وہی بیٹھے بیٹھے پولیس والوں کو حکم دیا
پولیس والے نے اس کے پاؤں کے پاس برتن رکھا ایک نے مضبوطی سے اس کو تھاما اور دوسرے نے اس کے پاؤں اس ابلتے ہوئے پانی میں ڈال دیے۔۔۔ اعظم کی دردناک چیخوں سے پورے حولات کی دیواریں لرز اٹھی

معاویہ کے دوبارہ اشارہ کرنے پر اس کے پاؤں باہر نکال لئے گئے،،، اعظم کے پاؤں کی کھال بری طرح جھلس چکی تھی

"کیا ہو اعظم مزہ نہیں آیا نہ مجھے تو بالکل بھی نہیں آیا"
معاویہ اٹھتا ہوا اعظم کے پاس آیا اور اپنا جوتا اس کے جھلسے ہوئے پاؤں پر رکھکر اس کا پاوں دبایا تو ایک بار پھر اعظم کی دردناک چیخے مارنے لگا اس کے پاؤں سے اب جگہ جگہ خون رس رہا تھا

"اب بتاؤ اعظم کیا جانتے ہو"
معاویہ نے ایک بار پھر اعظم سے پوچھا وہ آدھ مرا سا ہو کر لمبے لمبے سانس لینے لگا مگر چپ رہا

"گڈ اچھا اسٹیمنا ہے"
معاویہ نے اعظم کے شولڈر پر تھپکی دیتے ہوئے کہا

"اس کا منہ پانی میں ڈال دو"
معاویہ نے نارمل انداز میں پولیس سے کہا

"میں اپنے بچوں کے سر کی قسم کھا کر کہتا ہوں مجھے جو بھی سچ معلوم ہے وہ بتاؤں گا مگر اس کے پیچھے کون ہے یہ مجھے نہیں معلوم"
اعظم نے سسکتے ہوئے کہا

"انسپکٹر سعد اس کو جو جو معلوم ہے اس کا بیان نوٹ کرو"
یہ کہہ کر معاویہ حولات سے باہر آگیا

واپس آکر ٹیبل پر بیٹھا ہی تھا تو اس کا موبائل بلنک کرنے لگا فون نمبر دیکھ کر اس نے کال ریسیو کی اور پولیس اسٹیشن سے باہر نکل گیا

*****

حیا کالج کے گیٹ سے باہر جانے کے لئے نکلی ٹائم کے مطابق ڈرائیور اسے لینے آنے ہی والا تھا آج وہ بہت خوش تھی صبح ہی حور نے اسے بتایا تھا کہ رات کو کھانے پر بلال انکل پوری فیملی کے ساتھ آنے والے ہیں ویسے تو ویکنڈ میں ایسا ہوتا تھا کبھی وہ لوگ ڈنر کرتے تھے تو کبھی ان کی فیملی۔۔۔ مگر آج بلال انکل کا آنا اور دنوں کی بانسبت کچھ اسپیشل تھا یہ سوچ کر وہ مسکرانے لگی جب اچانک سے ایک گاڑی اس کے ایک دم قریب آکر رکی وہ ہڑبڑا کر پیچھے ہٹی ورنہ گاڑی کے ٹائر اس کے پاؤں پر ہی چڑھ جاتے

"فورا گاڑی میں بیٹھو"
معاویہ نے گاڑی کا شیشہ نیچے کرتے ہوئے کہا

"تمہارا دماغ تو خراب نہیں ہوگیا ہے میرے پاؤں توڑنے ہیں تمہیں"
حیا کو اس کی حرکت پر غصہ آیا

"اگر تم نے میری بات نہیں مانی تو واقعی تم اپنی ٹانگوں سے محروم ہو جاؤں گی جلدی سے گاڑی میں بیٹھو"
معاویہ نے رعب جمانے والے انداز میں کہا

"تمہارا واقعی دماغ کھسک گیا ہے"
حیا اس کے رعب میں آئے بغیر پلٹ کر واپس کالج کے اندر جانے لگی

معاویہ نے لب بینچ کر اس کی ہٹ دھرمی دیکھی اور ایک جھٹکے سے گاڑی کا دروازہ کھول کر باہر نکلا تیز قدم بڑھاتا ہوا اس کی طرف آیا اور اس کا بازو پکڑ کر جھٹکے سے اسے اپنی طرف موڑا

"سنائی نہیں دے رہا تمہیں کہ میں کیا کہہ رہا ہوں"
تیز لہجے میں بولتا ہوا وہ حیا کا بازو کھینچ کر گاڑی تک لایا یونیفارم میں ہونے کی وجہ سے کسی نے آگے بڑھ کر پوچھنے کی زحمت نہیں کی کہ لڑکی کو اس طرح کہاں لے کر جا رہے ہو

"ہاتھ چھوڑو میرا یہ کیا بدتمیزی ہے کہیں نہیں جانا مجھے تمہارے ساتھ تم دو ٹکے کے پولیس والے"
حیا مسلسل بولے جا رہی تھی مگر وہ ایسا ہوگیا جیسے اسے کوئی آواز نہیں آ رہی تھی

حیا کو گاڑی میں بیٹھا کر وہ خود گھوم کر آیا گاڑی میں بیٹھا اور گاڑی اسٹارٹ کردی

"تم کہاں لے کر جا رہے ہو مجھے"
حیا نے غصے میں معاویہ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا

"فکر نہیں کرو نکاح کرنے کے لئے نہیں لے کر جارہا پولیس والا نے چوروں کی طرح چھپ کر نکاح نہیں کروں گا ڈنکے کی چوٹ پر سب کے سامنے لے کر جاؤں گا"
معاویہ نے ڈرائیونگ کرتے ہوئے ایک نظر حیا کے تپے ہوئے چہرے کو دیکھ کر کہا

"ہاہاہا تم پورے پاگل ہوں اور بہت خوش فہم بھی"
حیا آنے استہزائیہ ہنسی ہنستے ہوئے معاویہ سے کہا

"خوش فہم کون ہے یہ بھی بہت جلد پتہ چل جائے گا بے بی کال کیو ریسیو نہیں کر رہی تھی میری"
معاویہ نے ڈرائیونگ کرتے ہوئے حیا سے پوچھا

اس کے پوچھنے پر اچانک حیا کو یاد آیا اس نے معاویہ کی رینگ کل رات ہی اپنی انگلی سے اتاری ہے اس نے بے ساختہ اپنا ہاتھ دوپٹے کی آڑھ میں چھپایا اور اس کی یہ حرکت معاویہ کی تیز نگاہوں سے چھپی نہیں رہ سکی

"میری مرضی"
حیا نہ ہٹ دھرمی سے بولا

"ٹھیک ہے اب جب میں اپنی مرضی کروں گا تو تمہیں اعتراض نہیں ہونا چاہیے"
معاویہ نے کہتے ہوئے ایکٹ سے گاڑی موڑی جس سے حیا کے سمبھلنے کی کوشش میں بھی اس کا سر معاویہ کے شولڈر پر لگا حیا اس کو گھور کر رہ گئی

"اترو کار سے"
معاویہ نے کار سے اتر کر حیا کی طرف کا دروازہ کھولتے ہوئے کہا

"کہاں لے کر آئے ہو یہ کونسی جگہ ہے" حیا اس کے سامنے بالکل اپنا ڈر شو کرنا نہیں چاہتی تھی مگر اب اس طرح اکیلے اس کے ساتھ آنے پر وہ ڈر گئی تھی، اپنے ڈر کو چھپاتے ہوئے وہ معاویہ سے پوچھنے لگی

"تمہیں میں جو بھی بات کہتا ہوں وہ تمہاری کھوپڑی میں کیوں نہیں سماتی،  تمہیں میں کار سے اترنے کے لئے کہہ رہا ہوں"
معاویہ نے سنجیدگی سے حیا کو دیکھتے ہوئے کہا اور اس کا ہاتھ پکڑ کر نیچے اتارا

"ہاتھ چھوڑو میرا میں خود چل سکتی ہوں"
حیا نے ہاتھ چڑاتے ہوئے معاویہ سے کہا

معاویہ نے اس کا ہاتھ چھوڑ دیا اور ہاتھ کے اشارے سے اسے اپنے آگے چلنے کے لئے کہا۔۔۔۔۔ وہ کوئی چھوٹا سا فلیٹ تھا جس میں آنے کے بعد حیا کو گھبراہٹ ہوئی

"یہاں کیوں لائے ہو مجھے"
حیا نے اپنے اندر کے ڈر کو دبا کر معاویہ سے پوچھا 

"ڈرو نہیں رومینس کرنے نہیں لایا ہوں"
دروازہ بند کرتا ہوا معاویہ اس کے قریب آ کر بولا

"انگوٹھی کیوں اتاری تم نے"
حیا کا ہاتھ تھام کر وہ بالکل سنجیدگی سے حیا کو دیکھتے ہوئے پوچھ رہا تھا

"کیونکہ وہ مجھے پسند نہیں تھی"
حیا نے اپنا ہاتھ اس سے چھڑاتے ہوئے کہا

"پسند تو تمہیں یہ دو ٹکے کا پولیس والا بھی نہیں ہے اس کے ساتھ بھی تو رہنا ہے نہ زندگی بھر"

حیا کے چہرے پر آئی ہوئی لٹو کو وہ پیچھے کرنے لگا تو حیا نے اس کا ہاتھ جھٹکا۔۔۔۔ ہاتھ جھٹکنے کی دیر تھی معاویہ نے حیا کے بالوں کو مٹھی میں جکڑ کر اسے خود سے قریب کیا

"آآ چھوڑو میرے بال تم خود کو سمجھتے کیا ہو"
حیا نے اس کی کلائی پکڑ کر اپنے بال چھڑاتے ہوئے بولا

"بہادر، نڈر، ضدی اور تمہارا دیوانہ"
آخری جملہ بولتے ہوئے معاویہ کے لب ہلکے سے مسکرائے

"مگر میری نظر میں تم ایک بدتمیز، ڈھیٹ، اور جنگلی انسان سے زیادہ کچھ بھی نہیں ہو"
حیا کہاں چپ رہنے والی تھی

"جب کہ تم نے میری بدتمیزی ڈھیٹ پن اور جنگلی پن ابھی تک دیکھا نہیں ہے، بہت لکی ہو تم جو میں تمہاری بدتمیزی کے مظاہرے اور تمہاری اس لمبی زبان کو بہت آرام سے برداشت کرتا ہوں لیکن جس دن میں اپنی پر آگیا تو اس دن تمہارے آنسو میں کچھ نہیں کرسکیں گے یہ یاد رکھنا"
معاویہ نے ایک جھٹکے سے اس کے بال چھوڑتے ہوئے کہا حیا ابھی بھی غصے میں اس کو گھورے جا رہی تھی

"چلو یہ تو ہو گئی ادھر ادھر کی باتیں اب کام کی بات سنو"
وہ حیا کے بال پیچھے کرتے ہوئے ارام سے بول رہا تھا

"یہ جو بھی آج کل تمہارے گھر میں ڈرامہ چل رہا ہے نہ اسے جلدی سے ختم کرو، بہت جلد میرے مام ڈیڈ تمہارے گھر آئیں گے میرا پرپوزل لے کر۔۔۔ تو بےبی آج ہی تم سب کے سامنے اس رشتے سے انکار کروں گی"
وہ بالکل عام سے انداز میں حیا وہ اپنی بات سمجھا رہا تھا

"میں ایسا کچھ نہیں کروں گی کیوکہ میں ہادی کو پسند"
حیا کی بات مکمل ہونے سے پہلے معاویہ نے اس کا منہ پکڑا

"میں نے تم سے مشورہ نہیں مانگا ہے نہ تمہاری پسند پوچھی ہے جیسا میں کہہ رہا ہوں تم ویسا کرو گی، نہیں تو پھر جو میں کروں گا وہ تمہیں بالکل اچھا نہیں لگے گا اس لئے میری بات پر عمل کرو"
معاویہ نے سنجیدگی سے حیا کو اپنی بات باور کرائی

"تم مجھے دھمکی دے رہے ہو"
حیا نے اپنا چہرے سے اس کے ہاتھ اٹھاتے ہوئے کہا تو معاویہ نے اسے بازوں سے پکڑ کر خود سے قریب کیا

"نو بےبی میری وارننگ کو دھمکی بالکل نہیں سمجھنا معاویہ دھمکی نہیں دیتا بلکہ اسے جو کرنا ہوتا ہے وہ کر گزرتا ہے ویسے بھی تم نے کہاوت سنی ہوگی محبت اور جنگ میں سب جائز ہے۔۔۔ تو جانم آج سب کے سامنے جا کر تم اس رشتے کے لیے منع کروں گی اور اگر تم نے ایسا نہیں کیا تو پھر میں وہ کرونگا جو تم نے سوچا تک نہیں ہوگا"
معاویہ اس کے گال پر تھپتھپاتا ہوا پیچھے ہٹا

"چلو اب تمہیں گھر ڈراپ کر دو"
معاویہ نے ایک نظر اس پر ڈال کر باہر کا دروازہ کھولا
حیا اس کے پیچھے چل دی گاڑی میں دونوں کے درمیان خاموشی رہی معاویہ نے گاڑی حیا کے گھر کے قریب روکی حیا گاڑی سے اترنے لگی تو معاویہ نے اس کا ہاتھ تھام کر سنجیدگی سے کہا

"آج یہ قصہ ختم ہو جانا چاہیے"
حیا نے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے چھڑایا اور کار سے باہر نکل گئی

جاری ہے

itni mohbbat karo na (season 2) episode 13

Itni mohhbat karo na
By zeenia sharjeel
Epi # 13

"کیا کر رہی ہے میری پرنسسز"
زین اور حور حیا کے روم میں آئے

"کل کالج جانے کی تیاری، اندر ائے وہی کیوں رک گئے آپ دونوں"
حیا نے کتابیں سمیٹتے ہوئے دونوں کو دیکھ کر کہا

"حیا تمہارے بابا کو اور مجھے تم سے بہت ضروری بات کرنی ہے"
 حور نے بیڈ پر ہی حیا کے پاس بیٹھتے ہوئے کہا، زین دوسری سائیڈ پہ حیا کے پاس ہی بیٹھ گیا

"کیا ہوگیا آپ دونوں کو چپ کیوں ہیں، کیا بات کرنی ہے بولیں"  حیا نے ان دونوں کے چہروں کو دیکھ کر کہا

"پرسوں جب بلال بھائی اور فضا آئے تھے تو انہوں نے تمھیں ہادی کے لیے مانگا تھا مگر انہوں نے سب سے پہلے تمہاری مرضی کو اہمیت دی ہے، اگر تم راضی ہوتی ہوں تبھی بات آگے چلی گی۔۔۔ اب بتاؤ کیسا لگتا ہے تمہیں ہادی"  حور نے نرم لہجے میں ہی اسے اس کی مرضی جاننا چاہیی

"مما"
حیا نے حیرت سے حور کو دیکھا

"بلال میرے لیے بھائیوں کی طرح ہے اور اس لحاظ سے ہادی بھی مجھے بہت عزیز ہے مگر ان سب سے بڑھ کر میرے لئے میری بیٹی کی مرضی اور خوشی معنی رکھتی ہے، تم بغیر کسی دباؤ کے اپنی آمادگی کے ساتھ بتاؤ جو بھی تم چاہتی ہوں وہی ہوگا"
زین نے حیا کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتے ہوئے کہا

"بابا میں آپ دونوں کو چھوڑ کر بالکل کہیں نہیں جانے والی ہادی سے کہہ دے اپنا بوریا بستر لیکر یہی شفٹ ہو جائے ہمارے گھر" حیا نے زین کے شولڈر پر سر رکھ کر کہا

"میری بیٹی میری جان میں بہت خوش ہوں، بہت زیادہ ہادی سے زیادہ پرفیکٹ میری بیٹی کے لئے کوئی ہو ہی نہیں سکتا مجھے یقین ہے وہ میری بیٹی کو بہت خوش رکھے گا اور ماں باپ تو جیتے ہی اپنی بیٹیوں کو ان کے گھر میں خوش آباد دیکھ کر ہیں"  زین حیا کے کندھے کے گرد اپنے بازو رکھ کر اس سے باتیں کر رہا تھا اس کی آواز سے ہی خوشی چھلکتی ہوئی صاف محسوس ہو رہی تھی وہ حیا کے فیصلے سے بہت خوش تھا

"چلو اب تم سو جاؤ کالج جانا ہے تمیں"
حور نے حیا کو دیکھ کر کہا اور ماتھے پر پیار کر کے خود بھی چلی گئی زین نے حور کو دیکھا وہ بھی حور کے پیچھے حیا کو گڈنائٹ کہ کر چلا گیا

****

"کیا ہوا حور تم ٹھیک ہو"
زین کی آواز پر حور نے آنکھیں صاف کرتے ہوئے وارڈروب کا دروازہ بند کیا

"مجھے کیا ہونا ہے ٹھیک ہو بالکل"
حور نے مسکراتے ہوئے کہا

"اتنے سال ہوگئے ہیں ہماری شادی کو تمہیں آج تک بات بنانی نہیں آئی ہمیشہ پکڑی جاتی ہوں، جھوٹ کیوں بول رہی ہوں یہاں میری آنکھوں کی طرف دیکھ کر کہو رو کیو رہی تھی" زین نے حور کا چہرہ تھامتے ہوئے کہا وہ زین کے سینے پر سر رکھ کر رونے لگی

"حور اب تم اس طرح کرکے مجھے پریشان کر رہی ہوں"
زین نے اس کے گرد ہاتھ باندھتے ہوئے کہا

"حیا چلی جائے گی تو گھر کتنا سونا ہوجائے گا ہمارا شاہ" حور نے روتے ہوئے کہا

"یہاں دیکھو میری طرف حور، ماں باپ ہونے کے ناطے ہم یہ سوچ پر تو اداس ہو سکتے ہیں ظاہری بات ہے ہماری اکلوتی بیٹی ہے جسے نازوں سے پالا ہے ہم نے مگر میں حیا کی رضامندی پر خوش ہوں کیونکہ میں بلال اور ہادی کو جانتا ہوں، حیا کون سا ہم سے دور جا رہی ہے جب حیا کو دیکھنے کا دل چاہا بلال کے گھر چلے جائے گے اس کے گھر کا ماحول اور ہمارے گھر کے ماحول میں کوئی فرق تو نہیں ہے، نا حیا کی نیچر عادتوں سے بھی وہ لوگ واقف ہیں سب سے بڑھ کر سب اس کو گھر میں اس کو چاہتے ہیں اور وہ خود بھی اس گھر میں پلی بڑھی ہے ایک طرح سے آرام سے ایڈجسٹ ہو جائے گی۔۔۔ سچ پوچھو تو مجھے تمہارے جیسا کوئی دکھ ہے ہی نہیں کیوکہ اگر کہیں اور اسکی شادی ہورہی ہوتی تو میں اس وقت رونے میں تمہارا ساتھ دے رہا ہوتا" زین حور کے آنسو صاف کرتے ہوئے مدھم لہجے میں اسے سمجھا رہا تھا ہمیشہ کی طرح

****

وہ بہت خوش تھی اس نے سوچا نہیں تھا ہادی اتنی جلدی بلال انکل اور فضا آنٹی کو بھیج دے گا وہ اس کے لئے کیوں نہ اپنی آمادگی ظاہر کرتی بچپن سے ہی تو وہ اس کے سامنے تھا وہ اس کو بچپن سے جانتی تھی کتنا کیئرنگ تھا اس کے لیے ہر بات مانتا تھا ہر ضد پوری کرتا تھا۔۔۔ ساری ایسی عادتیں جو حیا کو پسند ہو مہذب ڈیسنٹ فرما بردار اور سب سے بڑھ کر اس کی آنکھوں میں اپنے لیے محبت ہے، حیا چہرے پر بے ساختہ مسکراہٹ دوڑ گئی مگر جیسے ہی اپنے ہاتھ کی انگلی پر اس کی نظر پڑی تو اس نے لب سکھیڑ لیے

"اس کو میں ہر دفعہ کیسے فراموش کر دیتی ہو" حیا نے اپنی انگلی سے رنگ اتارنے کی کوشش کی جو کہ بہت مشکل سے ہی سہی اتر ہی گئی مگر انگلی کے گرد اپنے نشان چھوڑ گئی اس نے رنگ اٹھا کر سائیڈ ٹیبل پر رکھی اور اپنی انگلی سہلائی

'بس تکلیف ہی دینی ہے اس شخص نے جانے انجانے میں'

اس نے دل میں سوچا اور اپنا سر جھٹک دیا دو دن سے وہ اسے کال کر رہا تھا مگر وہ اس کا نمبر دیکھ کر مسلسل اگنور کر رہی تھی

"پتہ نہیں کون سی بری گھڑی تھی جب یہ انسان میرے پیچھے پڑ گیا اور مجھے اس سے بالکل بھی ڈرنا نہیں چاہیے اگر کبھی سامنے آیا بھی تو دو ٹوک بات کروں گی اور اس کی اوقات یاد دلاؤں گی"
حیا نے دل میں تہیہ کر لیا اور پھر اس کی نظر اپنے روم کی کھڑکی کی طرف گئی حیا نے اٹھ کر کھڑکی بند کری اور بیڈ پر لیٹ گئی

****

"بھائی کیا کر رہے ہیں آپ روم میں آجاؤ میں"
صنم نے ڈور ناک کرنے کے بعد اندر جھانکتے ہوئے کہا

"آجاؤ گڑیا کیس اسٹیڈی کر رہا تھا" معاویہ نے فائل بند کرتے ہوئے سائڈ پر رکھی

"آپ نے کھانا کھالیا" صنم نے معاویہ کے پاس کاوچ پر بیٹھتے ہوئے پوچھا

"ہاں تھوڑی دیر پہلے کھایا تھا
ساری ڈشسز مام نے میری پسند کی بنوائی ہیں آج"
معاویہ لیٹ گھر آیا تھا سب رات کا ڈنر کر فارغ ہوگئے تھے ناعیمہ بھی اس کا انتظار کرکے اپنے روم میں چلی گئی تھی

"جی ساری ڈیشسز آپ کی اور ڈیڈ کی پسند کی تھی مگر وہ کک سے نہیں بنوائی بلکہ مام نے اپنے ہاتھوں سے بنائی تھی۔۔۔۔ آپکی اور ڈیڈ کی چوائس بھی تو ایک جیسی ہے بس عادت یا مزاج مختلف ہیں باقی تو جو ڈیڈ کو پسند ہوتا ہے آپ کو بھی وہی پسند آتا ہے"
اور اس بات سے چاہ کر بھی معاویہ انکار نہیں کر سکا

"اگر تمہارا اشارہ نیناں کی طرف ہے تو مجھے معاف کر دو ایسی چوائس تو میری کبھی بھی نہیں ہو سکتی" معاویہ نے کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے کہا

"کیوں کیا برائی ہے اس بچی میں مجھے بتاؤ"
ناعیمہ جو کے کمرے میں آتے ہوئے معاویہ کی بات سن چکی تھی اس لیے اس نے معاویہ سے پوچھا 

"مام پلیز اب آپ شروع نہیں ہو جائیے گا"
معاویہ نے اکتائے ہوئے لہجے میں کہا

"بھائی مام نے اپنے ہاتھوں سے کھانا بنایا ہی آپ کے اور ڈیڈ کے لئے اس لیے تھا تاکہ ڈیڈ کی ناراضگی دور کر سکے اور آپ کو اپنی بات کے لیے منواسکے"
صنم نے مسکراتے ہوئے معاویہ سے کہا

"صنم بالکل چپ کر جاؤ تم، ہاں معاویہ اب یہ بتاؤ مجھے کیا برائی ہے نیناں میں"
صنم کو گھورتے ہوئے ناعیمہ نے معاویہ سے پوچھا

"مام سہی بات تو یہ ہے مجھے اس میں کوئی برائی نظر نہیں آتی انفیکٹ میں نے تو آج تک اسے دیکھا تک نہیں ہے تو برائی کیا نظر آنی۔ہے"
معاویہ نے سیریس انداز میں کندھے اچکاتے ہوئے کہا

"تم نے نیناں کو نہیں دیکھا کیا بات کر رہے ہو معاویہ تم"
ناعیمہ نے حیرت سے کہا افضال برنی سے ان کے اچھے فیملی ٹرمز تھے

"مام اس میں حیرت کی کیا بات ہے اس کو میں نے تو کیا آج تک اس کے اپنے ماں باپ نے نہیں دیکھا ہوگا، منوں میک اپ کے نیچے تو 24 گھنٹے تو اسکا چہرا دبا رہتا ہے"
معاویہ نے بات کو مذاق کر رنگ دیا جس پر صنم ہنسنے لگی ہنی ناعمہ کو بھی آئے مگر ہنسی روک کر صنم کو دوبارہ گھورا

"بری بات ہے معاویہ اس طرح کسی کا مذاق نہیں اڑاتے ہر کسی کا الگ شوق ہوتا ہے اور اچھا لگنے کی خواہش کسے نہیں ہوتی۔۔۔۔۔ یہ کوئی ایسی بات نہیں ہے جس کو بیس بنایا جائے انکار کرنے کے لیے لئے"
ناعیمہ نے معاویہ کو سمجھانا چاہا

"مام مجھے اپنی لائف میں لائف پارٹنر چاہیے پیسٹری نہیں اور ویسے بھی نیناں کا آرٹیفیشل ہوکر منہ ٹیڑھے کر کر کے بات کرنا بہت اریٹیٹ کرتا ہے مجھے قسم سے، اور ویسے بھی مجھے ان چیزوں کو بیس بنا کر انکار کرنے کی ضرورت ہے ہی نہیں میرے پاس سولڈ ریزن موجود ہے اور وہ ہے حیا، مام مجھے انسان وہی پسند ہے جو اندر سے جیسا ہو باہر سے بھی ویسا ہی ہو چہرے پر ماسک لگا کر رکھنے والے لوگ مجھے بالکل بھی نہیں پسند" معاویہ نے سنجیدگی سے کہا

"اچھا تو اب اپنے سالڈ ریژن کے بارے میں ماں اور بہن کو بتاؤں کیسی ہے وہ دیکھنے میں"
ناعمہ کو اب حیا کے بارے میں جاننے کا تجسس ہوا

معاویہ کی آنکھوں کے سامنے حیا کا پٹر پٹر بولتا ہوا سراپا لہرایا تو اس کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی

"ہے تو وہ بھی فل چھمک چھلو ٹائپ کی کوئی چیز مگر آپ کو پسند آئے گی"
معاویہ کی بات پر ایک بار پھر صنم اور ناعیمہ دونوں کو ہنس دیں، ناعیمہ نے ہلکی سی چپت معاویہ کے گال پر لگائی
"بدتمیز"

"آئی ایم شیور بھائی آپ کی پسند مام اور مجھے ہی نہیں بلکہ ڈیڈ کو بھی ضرور پسند آئیں گی"
صنم کی بات سن کر معاویہ مسکرانے لگا
اس کی آنکھوں میں چاہت کے رنگ اور چہرے پر مسکراہٹ دیکھ کر ناعیمہ نے دل ہی دل میں اس کو ہمیشہ خوش رہنے کی دعا دی

جاری ہے

itni mohbbat karo na (season 2) episode 12

itni mohbat karo na
By zeenia sharjeel
Epi # 12

"دیکھا آج تم نے اپنی بیوقوفی کا انجام"
ہادی نے گاڑی اسٹارٹ کرتے ہوئے حیا سے کہا

"میری بےوقوفی کیا مطلب ہے تمہارا" حیا نے ہادی سے پوچھا

"کیا ضرورت تھی تمہیں ان لڑکوں کے بیچ میں بولنے کی، تمھارے بولنے سے ان کو موقع ملا جبھی وہ ہمارے پیچھے آئے تھے"
ہادی نے ڈرائیو کرتے ہوئے حیا سے کہا

"وہ ایک بوڑھے شخص کو"
حیا نہ بولنا چاہا

"کیا یار بوڑھے شخص کو ہوٹل کا مینیجر آکر بات سنبھال لیتا، تمہیں بیچ میں کودنے کی کیا ضرورت تھی،، اگر آج وہ شخص نہیں آتا تمہیں اندازہ ہے کیا کچھ ہو سکتا تھا، میں تو شاید اپنے آپ کو بھی کبھی معاف نہیں کر پاتا۔۔۔۔ پتہ نہیں کونسی نیکی میرے کام آگئی آج"
یہ بھی آج پہلی دفعہ ہی ہوا تھا ہادی غصہ کر رہا تھا اور حیا چپ کرکے اس کی باتیں سن رہی تھی

"آنٹی بالکل ٹھیک کہتی ہے تمہارے بارے میں، واقعی تم میں عقل نام کی کوئی چیز ہی نہیں ہے، آئندہ تم مجھے کسی سے بھی لڑتی جھگڑتی یا کسی دوسرے کے معاملے میں اپنی ٹانگ اڑاتی ہوئی نظر نہ آو" ہادی نے اس کو چپ دیکھ کر مزید ڈانٹا

"ہادی اگر اب تم مجھے مزید ڈانٹو گے تو میں تم سے ناراض ہو جاؤنگی" حیا نے روٹھے ہوئے لہجے میں کہا

"یعنی ابھی بھی تم مجھ سے ناراض ہو گی مگر خود کو سدھارو گی نہیں"
ہادی نے سر جھٹکا

"اچھا نہ بابا آب نہیں پڑو گی پرائے پھڈے میں اب موڈ تو ٹھیک کرو نہ اپنا"
اس نے ہادی کا غصہ دور کرنا چاہا

"اس شخص کو کہاں دیکھا تھا پہلے میں نے" ہادی نے معاویہ کو آج دوبارہ دیکھ کر سوچا پھر سر جھٹک کر ڈرائیو کرنے لگا اور حیا کو گھر ڈراپ کرکے خود بھی اپنے گھر چلا گیا

*****

حیا گھر پہنچی تھوڑی دیر زین اور حور کے ساتھ بیٹھی آج والے پورے قصے کو گول کرکے تھوڑی سی باتیں کری اور اپنے روم میں آئی، اس کے موبائل پر معاویہ کی کال آرہی تھی وہ کشمکش میں پڑگئی کال اٹھائے یا نہیں پھر اس نے موبائل سائڈ پر رکھا اور چینج کرنے چلی گی،،، نائٹ ڈریس پہن کر آئی تو تھری مس کال شو ہو رہی تھی اور ایک میسیج آیا ہوا تھا
'پک اپ مائی کال،
اس نے سیل of کیا کھڑکی بند کر کے سونے کے لیے بیڈ پر لیٹ گئی وہ اب ہادی کے علاوہ کچھ اور نہیں سوچنا چاہتی تھی

****

"آج شام گھر جلدی آجانا"
صبح وہ چاروں بیٹھے ہوئے ناشتہ کر رہے تھے تب خضر نے معاویہ سے بولا

"کیوں کوئی خاص بات ہے آج"
معاویہ نے چائے کا کپ ٹیبل پر رکھتے ہوئے پوچھا

"ہاں کچھ ضروری گیسٹ آ رہے ہیں ان سے ملوانا ہے"
خضر بولا

"کوشش کروں گا ڈیڈ مگر پکا کچھ نہیں کہہ سکتا" معاویہ نے ٹشو سے ہاتھ صاف کرتے ہوئے کہا

"کوشش نہیں کرنی ہے معاویہ، شام میں تم جلدی گھر آ رہے ہو عام گیسٹ نہیں ہیں، میں نے افضال برنی کو ان کی فیملی کے ساتھ انوائٹ کیا ہے تم ان کی بیٹی نیناں کو دیکھ لو اور اس سے ملو، ویسے بھی آج کل ٹرینٹ ہے شادی سے پہلے لڑکا لڑکی ایک دوسرے کو اچھی طرح جان لیں"
خضر نے ناشتہ کرتے ہوئے معاویہ سے کہا

"ایک منٹ یہ کس کی شادی کا ذکر کر رہے ہیں آپ"
معاویہ نے ناسمجھنے والے انداز میں خضر سے پوچھا

"شادی کی بات تو بعد کی بات ہے لیکن افضال برنی کو اس لیے بلایا ہے تاکہ تم اور نیناں ایک دوسرے کو دیکھ لو جان پہچان بڑھا تاکہ اگے رشتے کے مراحل طے ہوسکے" خضر نے معاویہ کو سمجھایا

"نیناں وہ میک اپ کی دکان، کیا ہوگیا ہے ڈیڈ آپ کو" معاویہ نے مسکراتے سر ہلایا

"کونسا جوک سنایا ہے جو تمہیں ہنسی آرہی ہے"
خضر نے سنجیدگی سے معاویہ کو دیکھتے ہوئے کہا

"جس کی آپ بات کررہے ہیں ڈیڈ وہ تو خود کسی جوک سے کم نہیں ہے۔۔۔ اگر حیا میری زندگی میں نہیں بھی ہوتی تب بھی کم از کم نیناں کا تو بالکل چانس نہیں بنتا تھا" معاویہ نے چیئر سے اٹھتے ہوئے کہا

"اب یہ حیا کون ہے"
خضر نے ناگواری سے پوچھا

"ڈیڈ حیا آپکی ہونے والی بہو ہے،،، بہت جلدی ملواؤ گا آپ تینوں سے اسے"
معاویہ کے بالکل نارمل انداز میں بات کرنے پر خضر بری طرح سملگا

"تم میری بات کان کھول کر سن لو اور زہن نشین کرلو،  تمہاری شادی صرف نیناں سے ہوگی ماں باپ کے فیصلوں میں ہی اولاد کی بہتری ہوتی ہے"
خضر نے سنجیدگی سے کہا

"تو آپ یہ بات مانتے ہیں جو ماں باپ اولاد کے لئے فیصلہ کرتے ہیں ان میں اولاد کے لئے بھلائی ہوتی ہے"
معاویہ نے ایک نظر نائمہ پر ڈالی اور خضر سے سوال کیا

کیا مطلب ہے تمہاری بات کا"
خضر نے غصے میں کہا

"مطلب صاف ہے ڈیڈ جب آپ نے کبھی اپنے ماں باپ کے فیصلے کو دل تسلیم نہیں کیا تو آپ مجھ سے کیا توقع رکھتے ہیں۔۔۔ آفٹرال میں آپ کا ہی بیٹا ہوں۔۔۔۔ میں کیسے آپ کی مرضی سے شادی کر لوں گا،، جبکہ میں کسی اور کو پسند کرتا ہوں"
معاویہ اپنے روم میں جانے لگا

"ایک بات اچھی طرح سنتے جاو جب تم میری بات کا احترام نہیں کرسکتے،،، تو میری نظر میں بھی تمہاری خواہش اور خوشی کی کوئی ویلیو نہیں ہے۔۔۔۔ تمہاری پسند کی لڑکی اس گھر میں کبھی نہیں آئے گی"
خضر نے اب چیختے ہوئے کہا

"میری بھی یہ بات آپ اچھی طرح سن لیں اس گھر میں صرف حیا ہی بہو بن کر آئے گی اس کے علاوہ میں کسی سے شادی نہیں کروں گا اور اپ کو میری ضد کا اچھی طرح علم ہے"
معاویہ نے ایک ایک لفظ آرام سے کہا اور وہاں سے چلا گیا

"ایسی ذلیل اولاد دے کر اللہ نے مجھے میرے گناہوں کی سزا دنیا میں ہی دے دی۔۔۔۔ دھمکیاں لگا رہا ہے اپنے باپ کو، مجنوں کی اولاد،،،، دیکھتا ہوں کیسے لے کر آتا ہے اپنے پسند کی لڑکی اس گھر میں" خضر اپنا سارا غصہ
نائمہ پر نکال کر وہاں سے چلا گیا

نائمہ دونوں ہاتھوں میں اپنا سر تھام کر بیٹھ گئی جبکہ صنم ناعیمہ کے شولڈر پر ہاتھ رکھ کر تسلی دینے لگی

*****

"پھر کیا ہوا"
سوہنی اور فری ایک ساتھ چیخ کر بولی

"پھر کیا ہونا تھا معاویہ نے اس کو ایک زوردار پنچ مارا اور اس کی ناک توڑ دی دوسرے کا ہاتھ تھوڑا اور تینوں کی ایسی پھینٹی لگائی کہ ان تینوں کو چھٹی کا دودھ یاد آگیا ہوگا
فری پیریڈ میں کالج کی کینٹین میں بیٹھی حیا نے پورے ایکشن کے ساتھ دونوں کو کل والی بات بتائی

"یار یہ تو ایسا لگ رہا ہے تم کسی فلم کا سین بتا رہی ہوں"
فری نے حیرت سے کہا

"یار اس وقت تو مجھے بھی یہی لگ رہا تھا جیسے میرے سامنے بھی کوئی فلم چل رہی ہے" حیا نے ان دونوں کو دیکھتے ہوئے کہا

"یہ معاویہ وہی ہے نہ پولیس والا جو زرش کی بہن کی شادی میں ملا تھا، قسم سے مجھے تو اسی دن وہ کسی فلم کا ہیرو کے طرح لگ رہا تھا"
سوہنی نے خوش ہو کر فری اور حیا کو دیکھتے ہوئے کہا

"خیر اب ہیرو شیرو تو کہیں سے نہیں لگتا۔۔۔ وہ تو بس کل اس نے اینٹری ایسے وقت میں کی اور ان لڑکوں کی جو پٹائی کی اسی وجہ سے کہہ سکتی ہوں کہ کل مجھے اس کی شکل دیکھ کر تھوڑی بہت خوشی ہوئی مگر اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ہیرو ہی لگنے لگا دو ٹکے کا پولیس والا نہ ہو تو"
ماہی کے منہ سے معاویہ کی تعریف سن کر حیا کا حلق تک کڑوا ہوگیا، اسے وہ منظر یاد آیا جب وہ اس کے بیڈروم میں اس کے کتنے قریب آگیا تھا یہ بات تو ڈر کے مارے وہ خود سے بھی شئیر نہیں کرتی تھی

"وہ ہیرو نہیں تو کیا تمہارا وہ کزن ہیرو ہے جس کی جان تم نے خود آکر بچائی"
سوہنی نے معاویہ کی سائیڈ لیتے ہوئے کہا

"اوہ ہیلو ہادی ایک سیدھا سادا اور بہت ڈیسنٹ بندہ ہے اور اس وقت وہ تین لڑکے تھے وہ بیچارے کیا کرسکتا تھا"
حیا کو سوہنی کا یوں ہادی کے بارے میں بولنا اچھا نہیں لگا

"وہی کرتا نہ جو معاویہ نے کیا تھا۔۔۔ اور ویسے ہی ہادی تمہیں اتنا ڈیسنٹ کب سے لگنے لگا اصل بات جلدی سے بتاؤ"
فری نے اس سے پوچھا

"اب اصل بات کیا ہونی ہے جیسے تم دونوں مجھے دیکھ رہی ہو ویسا کچھ بھی نہیں ہے"
حیا نے ان دونوں کو گھور کے کہا

"شکر ہے یار ایسا نہیں ہے ویسے اگر تمہارے پاس ان دونوں میں سے چوائس ہو تمہیں کسی ایک کو چننا پڑے تو تم کس کو اپنے لیے از آ لائف پارٹنر چنو گی"
سوہنی نے اچانک سوال کیا۔ ۔۔ اس کے سوال پر حیا کی نظر اپنے ہاتھ کی دونوں رینگز پر گئی

وہ معاویہ والی رینگ اتارنا تو چاہتی تھی مگر پتہ نہیں کیوں بھول جاتی تھی شاید معاویہ نے اس وقت تنبیہی کی تھی ڈر کی وجہ سے وہ نہیں اتار پا رہی تھی

"یہی وجہ ہو سکتی ہے بھلا اور کیا وجہ ہو سکتی ہے رینگ نا اتارنے کی"
حیا نے دل میں سوچا

"لو تم تو سوچ میں ہی پڑ گئی یہ کیا اتنا مشکل سوال ہے" سوہنی نے اس کی آنکھوں کے آگے ہاتھ لہرا کر کہا

"کیا سوال"
 اس نے غائب دماغی میں پوچھا

ارے یہی کے معاویہ اور ہادی میں سے از آ لائف پارٹنر کسی ایک کو چنا ہو تو کس کو چنو گی سوہنی نے دوبارہ اپنا سوال دہرایا

"تم بتاؤ میری جگہ اگر تم ہوتی تو کس کو سلیکٹ کرتی"
حیا نے الٹا اس سے سوال کیا

"میں تو معاویہ کو سلیکٹ کرو گی"
سوہنی نے مسکراتے ہوئے کہا

"وہ کیوں بھلا"
حیا کے ماتھے پر شکنیں پڑی

"ظاہری بات ہے ایک لڑکی ہونے کے ناطے میں تو اپنے لیے ایسا بندہ ہی چنو گی نہ جو میری پروٹیکشن اچھے سے کر سکتا ہو۔۔۔۔ اب اگر کل معاویہ وہاں نہ آتا تو سوچو کیا ہوسکتا تھا"
اس کی بات سن کر حیا کو جھرجھری آئی

"یار ویسے بات میں تو دم ہے تمہاری" فری نے بھی سوہنی کا ساتھ دیا

"چلو کلاس اٹینڈ کرنے چلتے ہیں وقت ہو گیا ہے"
حیا نے بے دلی سے کہاں اور وہاں سے اٹھ گئی

*****

"پلیز اندر سے ان کو بھلا دیں جو یونیورسٹی میں پڑھتی ہیں"
ہادی کو سمجھ ہی نہیں آیا کہ وہ واچ مین سے کیا کہہ اسے صنم کا نام معلوم نہیں کہ اور بریسلیٹ گولڈ کا تھا تو اس لیے وہ صرف اسی کو دینا چاہتا تھا

"آپ صنم بی بی کی بات کر رہے ہیں" 
واچ مین نے کنفرم کیا

"ہاں جی وہی"
ہادی کو سمجھ نہیں آیا اس نے ویسے ہی بول دیا

"سعیدہ صنم بی بی کو بتا دو ان سے کوئی ملنے آیا ہے" ساجدہ جو کہ باہر کسی کام سے جا رہی تھی، واچ مین نے اس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا

"کون آسکتا ہے ملنے"
صنم سوچتے ہوئے گیٹ پر آئی، آج فریحہ یہ کو بھی یونیورسٹی نہیں جانا اس لئے اس نے بھی اف کرلیا

"ارے آپ کیسے ہیں باہر کیوں کھڑے ہیں پلیز اندر آئے"
صنم ہادی کو اپنے گھر کے گیٹ پر دیکھ کر خوش ہوئی اور اندر آنے کے لئے کہا

"ہادی کو بھی یوں کھڑے ہونا اکورڈ لگ رہا تھا اس لئے وہ اندر آگیا

"کیسی ہیں آپّ" ہادی نے پوچھا

میں ٹھیک ہوں آپ سنائیں کیسے ہیں" صنم نے خوش دلی سے پوچھا

"میں بھی ٹھیک ہوں الحمدللہ، اس دن آپ کی ایک امانت میرے پاس رہ گئی تھی آفس جا رہا تھا تو سوچا کہ آپ کو دے دو"
ہادی نے اپنے آنے کا مقصد بتایا اور بریسلیٹ نکال کر صنم کی طرف بہت بڑھایا

یہ آپ کے پاس تھا آئی مین میں سمجھی کہ شاید میں نے اسے کہیں کھو دیا ہے"
ہادی نے اداس آنکھوں کے ساتھ اس کا مسکراتا ہوا چہرہ دیکھا یہ کومبینیشن اتنا برا بھی نہیں لگ رہا تھا پہلی ملاقات میں وہ روئی تھی اور ابھی بھی شاید۔۔۔"

"جی دراصل میری کار میں گر گیا تھا کل رات ہی مجھے ملا ہے تو سوچا آپ کو دیتا جاوں اگر آپ مائنڈ نہ کریں تو آپ سے ایک سوال پوچھو"
صنم کی آنکھیں دیکھ کر اچانک اس نے منہ سے نکالا

"جی پوچھیے"
صنم نے جواب دیا

"کیا آپ کے لینس اریٹیٹ کر رہے ہیں آپ کو یا آپ کی آنکھوں میں کچھ چلا گیا ہے"
ہادی نے پوچھا

"آپ کو ایسا کیوں لگا جبکہ میں تو لینس لگائے ہی نہیں ہیں اور نہ ہی میری آنکھوں میں کچھ گیا ہے"
صنم نے حیرت سے اسے دیکھتے ہوئے کہا

"نہیں میں آگر ڈائریکٹ پوچھتا آپکی آئیز ریڈ ہو رہی ہیں آپ کیوں رو رہی تھی آپ یقینا یہی بولتی لینس اریٹیٹ کر رہے ہیں یا آنکھوں میں کچھ چلے گیا ہے" ہادی نے مسکراتے ہوئے کہا

"نہیں میں کہتی کہ ابھی ابھی پیاز کاٹ کر ائی ہو"
صنم نے بے ساختہ بولا تو ہادی مسکرایا اور صنم بی

"ایم سوری مجھے اس طرح پوچھنے نہیں چاہیے تھا مگر آپ پہلی ملاقات میں بھی اپکی آئیز ریٹ لگی اور ابھی بھی"
ہادی نے وضاحت دینا چاہیے

"آپ سوری نہیں بولیئے مجھے آپ کی بات بالکل بری نہیں لگی"
صنم نے مسکراتے ہوئے کہا ابھی تھوڑی دیر پہلے خضر معاویہ کی لڑائی پر خضر ناعیمہ کو بہت سی باتیں سنا کر گیا تھا جس پر اس کو رونا آگیا تھا اسی وجہ سے اس کی آئیز ریڈ ہو گئی تھی

"آپ پلیز بیٹھے میں چائے کا کہہ کر اتی ہوں"
صنم نے اٹھتے ہوئے کہا

"نہیں میں اب چلوں گا"
ہادی نے اٹھتے ہوئے کہا

"ابھی تھوڑی دیر اور بیٹھے تو مجھے اچھا لگتا"
بے ساختہ صنم کے منہ سے نکلا

"پھر کبھی سہی اس وقت افس جانے کے لیے لیٹ ہو رہا ہو"
ہادی نے بات بنائی

"کیا میں آپ کا نام پوچھ سکتی ہوں"
صنم نے جھکتے ہوئے ہادی سے پوچھا

"میرا نام ہادی ہے مس صنم"
اپنے نام پر صنم بے ساختہ چونکی

"وہ ابھی واچ مین نے بولا تو مجھے پتہ چلا اس کا نام"  صنم کے چوکنے پر ہادی نے وضاحت دی اور اجازت لے کر وہاں سے چلا گیا

******

"سرجی وہ جو تین لڑکے آپ نے کل رات فون پر بولا تھا ان کا کیا کرنا ہے انہیں کل رات سے ہی حوالات میں رکھا ہوا ہے"
اسپیکٹر سعد نے معاویہ سے پوچھا

"یہاں لے کر آؤں ان تینوں کو"
معاویہ نے چیئر پر بیٹھتے ہوئے کہا انسپکٹر تھوڑی دیر میں ان تینوں کو لے کر آیا وہ تینوں ٹوٹی پھوٹی حالت میں معاویہ کو یونیفارم میں دیکھ کر مزید سہم گئے

"اور بوائز کیسا فیل کر رہے ہو اب تم تینوں"
معاویہ نے ان تینوں کو دیکھتے ہوئے کہا

"سر سوری ہمیں پتہ نہیں تھا کہ آپ پولیس میں ہے ورنہ کبھی بھی آپ سے بدتمیزی نہیں کرتے آپ پلیز ہمیں معاف کر دیں"
ا میں سے ایک لڑکے نے ہمت کرتے ہوئے معاویہ سے کہا

"یعنی میری اتنی مار کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہوا تم  لوگوں پر۔۔۔۔ یہ جو کل میں نے تم لوگوں کا نقشہ بگاڑا ہے نا یہ مجھ پر ہاتھ اٹھانے کی سزا نہیں ہے بلکہ اس لڑکی سے بدتمیزی کرنے کی ایک چھوٹی سی سزا دی ہے میں نے تم تینوں کو"

سر وہ بالکل ہماری بہن کی طرح ہے آپ پلیز ہمیں چھوڑ دیں ہمارے پیرنٹس  رات سے پریشان ہوں گے اور ہمہیں ڈھونڈ رہے ہوں گے پلیز ہم کبھی کوئی غلط کام نہیں کریں گے" دوسرے لڑکے نے بھی ہمت کی اور معاویہ سے بولا

"اب تم تینوں اپنے باپ کا نام اور ایڈریس بتاؤ
سر پلیز ان کو یہاں نہیں بلوائے ہم وعدہ کرتے ہم کبھی بھی آپ کو شکایت کا موقع نہیں دیں گے"
ایک لڑکا باقاعدہ روتے ہوئے کہنے لگا

"زیادہ بات کرنے کی ضرورت نہیں ہے جتنا میں پوچھ رہا ہوں صرف اتنا جواب دو"
معاویہ نے شہادت کی انگلی اٹھاتے ہوئے ان لڑکوں سے کہا

"انسپیکٹر سعد ان تینوں سے ان کے گھر کے فون نمبر لو ان کے پیرنٹس کو بلاؤ تاکہ ان کو بھی اپنے اولاد کے کرتوتوں اور کارستانیوں کا پتہ چلے"

جاری ہے

itni mohbbat karo na (season 2) episode 11

Itni mohhbat karo na
By zeenia sharjeel
Epi # 11

ہادی اور حیا ڈنر کررہے تھے ڈنر کے دوران ان کی برابر والی ٹیبل پر تین لڑکے آکے بیٹھے جو کافی آوارہ ٹائپ لگ رہے تھے اور مسلسل حیا کو گھور رہے تھے

"چلو حیا لیٹ ہو رہے ہیں آنٹی انکل ویٹ کر رہے ہوگے"  ہادی نے حیا سے کہا

اتنے میں ایک بوڑھا ویٹر ان لڑکوں کا آرڈر لے کر آیا اس کے ہاتھ میں موجود ڈرنگ ان میں سے ایک لڑکے کے اوپر غلطی سے گر گئی

"اندھا ہے تو آنکھیں نہیں ہے تیرے پاس" وہ لڑکا چلا کر بولا

"سوری سر غلطی ہو گئی"
ویٹر پریشان ہوکر کہنے لگا

"تیرے سوری کہنے سے دھل جائے گی میری ساری شارٹ خراب کردی"
لڑکا مزید بدتمیزی سے بولا

"اے مسٹر تمہیں تمیز نہیں اپنے سے بڑے عمر کے آدمی سے بات کرنے کی" حیا ایک دم کھڑی ہو کر لڑکے سے بولی 

"کیوں یہ تمہارا باپ ہے جو تمہیں برا لگ رہا ہے"
اس لڑکے نے حیا سے  پوچھا

"شٹ آپ جو میرے بابا کو کچھ کہا جا کر اپنے باپ کی بےعزتی کرو جس نے تمہیں کسی سے بات کرنے کی تمیز نہیں سکھائی ہے" حیا کو ایک دم  غصہ آیا

"حیا کیا ہوگیا ہے تمہیں چلو یہاں سے"
ہادی فورا حیا کے پاس آیا اس کا ہاتھ کھینچ کر وہاں سے لے گیا

"کیا ضرورت تھی حیا ان لوگوں کے منہ لگنے کی"
بیسمنٹ کار پارکنگ ایریا میں پہنچ کر ہادی نے حیا سے کہا

"دیکھا نہیں تھا تم نے کتنا ظعیف انسان تھا وہ بیچارہ، وہ لڑکا ان سے بدتمیزی کر رہا تھا"
حیا ابھی باتیں کر رہی تھی جب ان دونوں کو پیچھے سے کسی اور کی موجودگی کا احساس ہوا

"کیا بول رہی تھی اوپر اب ذرا بول کے دکھاو"
وہ تینوں لڑکے بیسمنٹ میں ان دونوں کے سامنے کھڑے ہوئے تھے

****

"سر میں آپ کی بتائی ہوئی جگہ پر پہنچ گیا ہوں کہاں ہیں آپ"
معاویہ نے چاروں طرف نظر دوڑاتے ہوئے کہا

"سوری ینگ مین ایک ایمرجنسی آ گئی تھی جس کی وجہ سے میں آ نہیں سکو گا تم سے معذرت چاہتا ہوں فون کرکے بتا نہیں سکا اور تمہیں یہاں آنا پڑا" 
ڈی۔ایس۔پی افتخار نے معاویہ کو کسی ضروری کام بلوایا تھا

"کوئی پرابلم نہیں ہے سر میں کل آفس میں آجاتا ہوں ہم کیس وہی ڈسکس کر لیں گے جس کے لئے آپ نے مجھے بلایا تھا"
معاویہ واپس جانے کے ارادے سے باہر نکلا

"نہیں آفس میں نہیں آنا۔۔۔۔ فل الحل تو اپنے پرسنیلٹی مسئلے کو لے کر میں شہر سے باہر گیا ہوا ہوں، واپس اکر ہی ڈسکس کرو گا میں۔۔۔ اگر آفس میں ڈسکس کرنا ہوتا تو تمہیں یہاں نہیں بلواتا میں اپنی اور تمہاری ملاقات کو کچھ آفیسرز کی نظر سے خفیہ رکھنا چاہتا ہوں خیر ایک ہفتے میں میں تم سے خود کونٹیکٹ کرتا ہوں"
ڈی ایس پی افتخار نے معاویہ سے کہا

"او کے سر جیسا آپ مناسب سمجھے"
معاویہ نے کال ڈسکنیکٹ کر کے پارکنگ ایریا کی طرف چلا گیا

****

"دیکھو بات کو زیادہ بڑھاو نہیں وہ کچھ نہیں بول رہی تھی چلو حیا یہاں سے"
ہادی ان لڑکوں سے کہتا ہوا حیا کی طرف پلٹا، اس نے ایک نظر بیسمینٹ میں نظر دوڑائی جہاں گاڑیوں کے علاوہ کوئی دوسرا انسان نہیں تھا۔۔۔ وہ حیا کو لے کر جلدی وہاں سے نکلنا چاہتا تھا

"ایک منٹ ایک منٹ اتنی بھی جلدی کیا ہے جانے سے پہلے تھوڑا انٹرٹینمنٹ ہوجائے پھر چلے جانا"
ان میں سے دو لڑکوں نے ہادی کو پکڑ کر اس کی بیلٹ نکال کر دونوں ہاتھ پیچھے موڑ کر باندھ دیے

"یہ کیا کر رہے ہو چھوڑو اسے"
حیا ہادی کی طرف جانے لگی تو تیسرے لڑکے نے اس کا بازو پکڑا

"چھوڑو اس کا ہاتھ حیا نکلو یہاں سے تم"
ہادی نے اپنے آپ کو ان دونوں لڑکوں سے  چھڑانے کی پوری کوشش کی مگر ان دونوں نے ہادی کے ہاتھ باندھ کر اسے بے بس کیا اب وہ اسے کھینچ کر کار کی طرف لے کر جا رہے تھے

"چھوڑ میرا بازو ورنہ میں تمہیں جان سے مار ڈالوں گی"
حیا نے اپنا بازو چھڑاتے ہوئے اس لڑکے سے کہا

"ارے ایسے کیسے چھوڑ دو بازو پاگل ہو جو ہاتھ آیا ہوا مال ایسے ہی جانے دو"
اس نے خباثت سے حیا کو دیکھتے ہوئے کہا،،، اس کے دونوں ساتھی بھی ہادی کو کار میں ڈال کے اپنے دوست کے پاس آگئے

"کیا خیال ہے آج تو فری میں مزے کرنے کا موقع مل گیا ہے، ایٹم بھی زبردست ہے فلیٹ میں لے کر چلیں یا یہی کار میں"
ایک نے حیا کو غلیظ نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا

"پلیز چھوڑ دو مجھے کوئی مدد کرو میری"
حیا ان کی بات سن کر خوف سے کانپ گئی اور چیخ چیخ کر مدد کے لئے پکارنے لگی

"ابے منہ بن کر پہلے اس کا، یہاں نہ کوئی آجائے جلدی سے نکلو یہاں سے اس کو لے کر"
دوسرے لڑکے نے بولا مگر اس سے پہلے وہ حیا کا منہ بند کرتا ایک آواز ابھری

"اس کا بازو فورا چھوڑ دو"
وہ تینوں چونک کر مڑے حیا نے بھی مڑ کر دیکھا

"معاویہ"
حیا کے منہ سے بے اختیار اس کا نام نکلا۔ ۔۔۔ یہ آج پہلی دفعہ تھا کہ حیا نے اس کا نام اپنے منہ سے لیا تھا اور شاید آج پہلی ہی دفعہ وہ اس کو اپنے سامنے پا کر خوش ہوئی تھی
حیا کے منہ سے نام سن کر لڑکے کے ہاتھ کی گرفت حیا کے بازو پر ڈھیلی ہوئی جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حیا بھاگ کر معاویہ کے پاس آئی

"اے ہیرو چل نکل یہاں سے اور اس لڑکی کو یہیں چھوڑ دے"
ان میں سے ایک لڑکے نے پلان چوپٹ ہوتے دیکھ کر معاویہ سے کہا

"ایک منٹ تم تینوں سے بعد میں بات کرتا ہوں"
معاویہ نے ان لڑکوں کو دیکھ کر کہا اور حیا کی طرف مڑا

"یقین ان معصوموں سے بھی تم نے ہی پنگا لیا ہوگا، پی-ایچ-ڈی جو کیا ہوا ہے اس کام میں"
وہ حیا کی جیکٹ کی زپ بند کرتے ہوئے ایسے بات کر رہا تھا جیسے کسی بچے نے کوئی کام بگاڑ دیا ہو، اب اس کو سنوارنا ہے

"اے سمجھ نہیں آ رہی تجھے اس سے کیا بات کر رہا ہے، چل ڈیل کر لیتے ہیں لڑکی پہلے ہمہیں ملی تھی اس لئے پہلے ہم انجوائے کریں گے بعد میں تو کر لینا"
اس لڑکے نے اب کے معاویہ کو آفر کرتے ہوئے کہا

"ویٹ بوائیز ابھی سب مل کر انجوائے کریں گے"
معاویہ نے اس لڑکے کو بولا اور حیا کی کمر پر اپنے دونوں ہاتھ رکھ کر اسے اونچا اٹھا کر گاڑی کی چھت پر بٹھایا جس پر حیا کی ہلکی سی چیخ نکلی

"اس کار سے اترنا نہیں ہے تمھیں جب تک میں نہ بولو"
حیا نے ایسی تابعداری سے گردن ہلائی جیسے وہ ہمیشہ اس کی بات مانتی ہوں، جسے دیکھ کر معاویہ چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ ابھری
اب وہ اپنی پاکٹ سے لائٹر موبائل والٹ آئی ڈی کارڈ سگریٹ کا پیکٹ کیز ایک ایک چیز نکال کر حیا کی گود میں رکھ رہا تھا۔۔۔ اس کی ساری کاروائی حیا سمیںت وہ تینوں لڑکے بھی ہونقوں کی طرح دیکھ رہے تھے

"اب بکواس کرو کیا بھونک رہے تھے"
آستین کے کف اوپر کی طرف فولڈ کرتا ہوا وہ ان تینوں کی طرف آیا

"دیکھ اس لڑکی کو پہلے ہم"
بات مکمل ہونے سے پہلے معاویہ نے ایک زور دار کک اس کے پیٹ پر ماری تکلیف سے چیختے ہوئے پیٹ پر ہاتھ رکھ کر وہ جیسے ہی جھکا تو پوری شدت سے ایک زور دار مکہ اس کی ناک پر دے مارا جس سے اس کی ناک کی ہڈی ٹوٹ گئی اور تیزی سے ناک سے خون نکلنے لگا۔۔۔۔

دوسرا لڑکا جو صحت میں ان دونوں کے مقابلے میں اچھا تھا اس نے آگے بڑھ کر معاویہ کو پنچ مارنا چاہا معاویہ نے اس کی کلائی پکڑ کر پیچھے کی طرف موڑی اور ہاتھ کو اس انداز میں جھٹکا دیا وہ درد سے بلبلا اٹھا اور اپنا ہاتھ پکڑ کر زمین پر بیٹھ گیا اور زور زور سے چیخنے لگا۔۔۔۔

تیسرا لڑکا معاویہ کو مارنے کے لئے ادھر ادھر کوئی چیز تلاش کرنے لگا اس کی نظر ایک روڈ پر پڑی جسے اٹھا کر وہ معاویہ کے پاس آیا مگر ایک کی ناک اور دوسرے کا ٹوٹا ہوا ہاتھ دیکھ کر وہ گھبرائے ہوئے انداز میں معاویہ سے بولا

"مجھے جانے دو میں تمہیں نہیں ماروں گا اور لڑکی بھی تمہاری"

یہ کہہ کر اس نے روڈ نیچے پھینکا اور تیزی سے بھاگنے لگا مگر معاویہ نے اسکو پکڑ کر سامنے پلر پر زور سے اس کا سر مارا اور جب تک مارتا رہا جب تک اس کا سر نہیں پھٹ گیا،، جب وہ معافیاں مانگنے لگا تو اس کو بھی لا کر ان دونوں کے پاس پھینکا۔۔۔۔

نیچے پڑی ہوئی روڈ کو اٹھا کر وہ ان تینوں کے پاس آیا

"اتنی انجوائمنٹ کافی ہے یا اور انجوائے کرنا ہے"

حیا جو مزے سے منہ کھولے ہوئے ان تینوں کی پٹائی لگتے ہوئے دیکھ رہی تھی اچانک اسے یاد آیا

"ہادی"
حیا جلدی سے جمپ مارکر گاڑی سے اتری اور اس گاڑی کے پاس پہنچی جہاں ان لڑکوں نے گاڑی میں ہادی کو زبردستی ڈالا تھا۔۔ ۔  گاڑی کا ڈور کھول کر اس نے جلدی سے ہادی کے ہاتھ کھولے اور منہ سے بھرے ہوئے ٹشو نکالے
"تم ٹھیک ہو"
ہادی نے کھانستے ہوئے ہوئے حیا سے پوچھا

"ہاں میں ٹھیک ہو پر تم ٹھیک ہو"
حیا نے فکرمندی سے ہادی سے پوچھا

"ٹھیک ہے پھر ہمہیں یہاں سے نکلنا چاہیے جلدی سے اٹھو"

ہاتھ میں روڈ اٹھائے ہوئے اب معاویہ ان تینوں کی مزید تواضع کر رہا تھا جب وہ دونوں اپنی کار اسٹارٹ کر کے وہاں سے نکل گئے

ان تینوں کی چیخوں کی آواز سن کر ہوٹل کے گارڈز اور چوکیدار بیسمنٹ میں آئے تو انہوں نے معاویہ کو ان لڑکوں کی مزید درگت بنانے سے روکا

معاویہ نے گاڑی کی طرف دیکھا جہاں پر اس نے حیا کو بٹھایا تھا اب وہاں پر حیا موجود نہیں تھی معاویہ کی ساری چیزیں نیچے گری ہوئی تھی اس نے موبائل اٹھا کر انسپکٹر سعد کو کال کی

"ابھی پولیس آکر ان تینوں کو لے جائے گی جب تک ان تینوں پر نظر رکھو اپنا ای ڈی کارڈ دکھاتے ہوئے معاویہ نے گارڈ سے کہا اس نے تائید میں سر ہلایا اور معاویہ اپنی چیز سے اٹھا کر وہاں سے نکل گیا

جاری ہے