Sunday, January 20, 2019

itni mohbbat karo na (season 2) episode 15

🌹Itni mohhbat karo na
By zeenia sharjeel
Epi # 15

"یہ سب کیا ہے, اتنا سامان کیوں لے کر آئیں تم" 
حور نے فضا سے گلے ملتے ہوئے مٹھائی کے ٹوکرے اور گفٹ پیک دیکھتے ہوئے پوچھا

"نہیں ایسا کچھ خاص نہیں ہے، حیا کے لئے کچھ چیزیں لی تھی کہاں ہے وہ نظر کیوں نہیں آ رہی ہے"
 فضا نے حور سے پوچھا

"اپنے روم میں ہے بلاتی ہو اسے تم بیٹھو"
حور نے اٹھتے ہوئے کہا

"کیا ہوا ڈاکٹر کو نہیں دکھایا تم نے" بلال نے زین کو دیکھ کر کہا

"ارے نہیں موسمی بخار ہے معمولی سا ٹھیک ہو جائے گا" زین نے بلال کو جواب دیا
آج صبح سے ہی اس کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی وہ ہلکا سا بخار محسوس ہو رہا تھا

*****

"حیا کیا ہوا ابھی تک ریڈی نہیں ہوئی"
حور نے روم میں آتے ہوئے حیا کو دیکھ کر کہا وہ کسی سوچ میں گم تھی ایک دم چونکی

"جی بس میں ریڈی ہو"
حیا نے دوپٹہ اوڑھتے ہوئے حور سے کہا
نیوی بلو کلر کے فراک میں وہ نظر لگ جانے کی حد تک خوبصورت لگ رہی تھی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اسطرح کی ڈریسنک کم کرتی تھی

"بہت پیاری لگ رہی ہے میری بیٹی سب لوگ آ گئے ہیں فضا پوچھ رہی ہے تمہارا چلو سب انتظار کر رہے"
حور نے اس کو پیار کرتے ہوئے بولا

حیا حور کے ساتھ ڈرائنگ روم میں پہنچی سب کو سلام کیا تو بلال اور فضا نے اس کو اپنے بیچ میں بٹھا لیا ہادی کی نظریں بار بار حیا پر اٹھ رہی تھی مگر حیا دماغی طور پر جیسے وہاں موجود نہیں تھی

"آج تم سب کے سامنے جاکر اس رشتے کے لیے منع کروں گی"
اسے معاویہ کے کہے ہوئے جملے بار بار یاد آ رہے تھے

"نہیں وہ بکواس کر رہا تھا مجھے ڈرا رہا تھا"
وہ اپنے خیالوں سے چونکی جب فضا میں اسکو آگے ہاتھ بڑھانے کو کہا اسے پتہ ہی نہیں چلا کہ کب بلال اٹھا اور اس کی جگہ پر ہادی بیٹھ گیا اس نے ایک نظر اپنے سامنے بیٹھے ہوئے زین اور حور کا چہرہ دیکھا جو اسی کو دیکھ کر مسکرا رہے تھے پھر حیا کی نظر ہادی کے اوپر پڑی وہ بھی اسی کو دیکھ رہا تھا آنکھوں میں بھر پور چاہت کے رنگ سجائے اس نے سارے ڈر اور خوف کو ایک طرف رکھکر مسکرا کر ہادی کی طرف ہاتھ بڑھایا جس میں ہادی نے اس کو رینگ پہنائی سب نے ان دونوں کو پیار کیا منہ میٹھا کرایا مبارکباد دی اور پھر کھانے کا دور چل پڑا وہ اپنے روم میں آ گئی

"ایسے کب تک چلے گا مجھے بابا کو سب بتا دینا چاہیے وہ سمجھیں گے میری بات کو اور خود سنبھال لیں گے۔۔۔ اس گھٹیا انسان کی وجہ سے میں اپنی خوشی بھی انجوائے نہیں کرسکی بس اب مجھے سب کے جانے کے بعد بابا سے بات کرنی ہے"
حیا نے اپنے کمرے میں ٹہلتے ہوئے سوچا ہادی اس کے روم میں آیا

"کیا ہو رہا ہے روم میں کیوں آگئی"
وہ اس کے سامنے آکر بولا

"بس ویسے ہی"
 حیا نے غائب دماغی میں کہا

"ویسے ہی کیسے ہی، تم شرما ورما تو نہیں رہی ہاہاہا سیریسلی حیا تم شرما رہی ہو"
ہادی ہنستا ہوئے حیا سے پوچھنے لگا

"تمہیں کیا لگ رہا ہے میں اور تم سے شرماؤ گی"
حیا اپنی کمر پر دونوں ہاتھ رکھ کر بولی

"یعنی تمہیں شرماتا ہوا دیکھنے کی میری حسرت ہی رہ جائے گی"
ہادی نے اسکے ہاتھ تھامتے ہوئے کہا

"یہ کیا بدتمیزی ہے"
ہادی کے ہاتھ پکڑنے پر ہی اس نے جھینپتے ہوئے کہا

"بہت پیاری لگ رہی ہو آج"
حیا کی بات اگنور کرکے ہادی نے اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا

"اچھا تو میں تمہیں پیاری بھی لگتی ہو"
اس نے کبھی بھی پہلے اس طرح حیا کی تعریف نہیں کی تھی حیا نے ہاتھ چھڑاتے ہوئے کہا

"جبھی تو تمہیں آنٹی اور انکل سے مانگ لیا ہے ہمیشہ کے لئے"
ہادی دھیرے سے مسکرایا 

"ہادی میں تم سے ایک بات شیئر کرنا چاہتی ہوں"
اسنے معاویہ کے بارے میں ہادی سے بات کرنے کا سوچا، اب وہ بھی اس کی زندگی کا حصہ بننے جا رہا تھا تو اسے بھی معلوم ہونا چاہیے تھا

"تم مجھ سے ایک بات کرنا چاہتی ہوں اور میں تم سے ڈھیر ساری باتیں شیئر کرنا چاہتا ہوں جو پہلے کبھی نہیں کی ہمیشہ اپنے دل میں رکھی"
ہادی نہ حیا کو دیکھتے ہوئے کہا

"ہادی میں سیریس ہو"
حیا نے اس کو شوخ ہوتا دیکھ کر کہا

"وہ بھی تم آج ہوئی ہو اور میں تو پتہ نہیں کب سے سیریس تھا"
ہادی نے کاوچ پر بیٹھتے ہوئے کہا

"یعنی تمہارا کوئی ارادہ نہیں ہے میری بات سننے کا"
حیا نے بیڈ پر بیٹھتے ہوئے کہا

"میرا ارادہ ساری زندگی ہی تمہاری باتیں سننے کا ہے بالکل ویسے ہی جیسے میری مما میرے بابا کو باتیں سناتی ہیں"
ہادی نے دوبارہ بات کو مذاق کا رنگ دیتے ہوئے کہا

"تم سے تو بات کرنا ہی فضول ہے مجھے بابا سے ہی بات کرنی پڑے گی"
حیا نے جھنجھلاتے ہوئے کہا

"اچھا آب ناراض مت ہو جانا بتاؤں کیا کہہ رہی تھی" ہادی نے اسے مزید تنگ کرنے کا ارادہ ترک کرتے ہوئے پوچھا

"ہادی تمہیں یاد ہے وہ جو اس دن کار پارکنگ میں ہمہیں ملا تھا معاویہ"
حیا نے اس کو یاد دلانا چاہا

 کون وہی جس نےاس دن ان لڑکوں کو بھی مارا تھا؟ مگر تم اس کا نام کیسے جانتی ہوں" ہادی نے حیرت سے پوچھا

"دراصل ہادی"
حیا نے ابھی بات کا آغاز کیا تھا

"حیا بی بی سب بلا رہے ہیں آپ دونوں کو"
نسیمہ نے اچانک روم میں آکر حیا سے کہا تو وہ چپ ہو گئی

"اوکے شاید مما بابا جانے کے لیے بلا رہے ہوگے میں رات میں تمہیں کال کرتا ہوں پھر تفصیل سے بات کریں گے"
ہادی نے کاوچ سے اٹھتے ہوئے کہا تو حیا کا دل بجھ سا گیا

سب سے مل کر وہ روم میں آئی اور اپنا ڈریس چینج کیا زین سے بات کرنے کا ارادہ کرتی ہوئی زین اور حور کے بیڈ روم میں گئی

"شش آرام سے ابھی سوئے ہیں تمھارے بابا"
حور نے آہستہ آواز میں اسکو بولا

"اتنی جلدی سوگئے مجھے تو ان سے بہت ضروری بات کرنی تھی"
حیا نے بے دلی سے زین پر نظر ڈالی اور حور سے بولا

"حیا طبیعت ٹھیک نہیں تھی شاہ کی میڈیسن دے کر سلایا ہے ابھی تم بھی جاؤ اور ریسٹ کرو کل کرلینا جو بھی بات کرنی ہے" حور بھی تھکی ہوئی لگ رہی تھی حیا سست قدموں سے اپنے بیڈ روم میں واپس آگئی اور ڈور بند کیا

"حیا بی بی"
نسیمہ کی آواز آئی

"تم گھر نہیں گئی ابھی تک"
حیا نے دروازہ کھولا سامنے نسیمہ دودھ کا گلاس لے کر کھڑی تھی

"باجی تھکی ہوئی تھیں میں نے سوچا سارا پھیلاؤ سمیٹ کر جاو۔۔۔ بس جانے ہی لگی تھی، یہ دودھ آپ کے لئے لے کر آئی ہوں کھانا بھی اپنے تھوڑا سا کھایا تھا آپ نے" نسیمہ نے اس کو دودھ کا گلاس تھماتے ہوئے کہا

"چلو یہ اچھا کیا تم نے میں پی لیتی ہوں اب تم جاؤ" حیا نے کلاس تھامتے ہوئے کہا اور دروازہ بند کرلیا دودھ پی کر وہ سونے کے لیے لیٹ گئی
اس کی نظر کھڑکی پر پڑی تو یاد آیا آج اس نے کھڑکی بند نہیں کی تھی وہ کھڑکی بند کرنے کے لیے اٹھنا چاہتی تھی مگر اس کی آنکھوں میں نیند کا غلبہ چھانے لگا اور وہ نیند کی وادیوں میں اتر گئی

****

رات کا دوسرا پہر تھا جب وہ اس کے روم میں کھڑکی سے اندر داخل ہوا اور کھڑکی بند کر کے پردے برابر کیے اس کے بعد اس نے روم کا دروازہ لاک کیا سر پر سے ہڈ اتارا، تو وہ سامنے بیڈ پر دنیا جہاں سے غافل نیند کی وادیوں میں گم تھی۔۔۔ حیا کا چہرہ دیکھتے ہوئے اس کی نظر بیڈ کے سائیڈ پر دودھ کے خالی گلاس پر گئی

"گڈ جاب نسیمہ"
اپنی شرٹ کے بٹن کھولتے ہوئے معاویہ نے کہا اور حیا کے قریب بیڈ پر آکر بیٹھا

حیا نے جو اپنا ہاتھ سینے پر رکھا ہوا تھا معاویہ نے اسے تھام کر اپنے ہاتھ میں لیا اس کی نظر ہاتھ کی انگلی میں موجود رینگ پر پڑی تو معاویہ کے ماتھے پر شکنیں ابھری

"بہت ضدی اور نادان ہو تم میرے لاکھ سمجھانے پر بھی تمہیں سمجھ میں نہیں آئی کہ تم صرف معاویہ کی ہو"
معاویہ اس کے ہاتھ سے اپنا گال سہلاتا ہوا بولا پھر اس نے رینگ اس کی انگلی سے اتار دی اور دور اچھالی جو کہ روم کے ڈسٹبن کے پاس جاکر گری

اب وہ حیا پر جھک کر اس کے چہرے کو بہت قریب سے دیکھ رہا تھا،، جذبات کا طوفان تھا جو کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا تھا معاویہ نے ہلکی سی پھونک حیا کے ماتھے پر ماری جس سے ماتھے پہ آئے ہوئے بال سائڈ پر ہوئے،،، معاویہ کی آنکھیں حیا کے چہرے کا طواف کرنے میں مصروف تھی وہ اس کے ایک ایک نقش کو اپنی آنکھوں کے رستے سے اپنے دل میں اتار رہا تھا۔۔۔۔ اس نے آگے ہاتھ بڑھا کر اپنی انگلیوں سے حیا کی بند آنکھوں کو چھوا اب اس کی انگلیاں حیا کے رخسار کو نرمی سے سہلا رہی تھی،،  جیسے ہی انگلیوں نے اس کے ہونٹوں کو چھوا معاویہ کو اپنا دل جو زور سے دھڑکتا ہوا محسوس ہوا اس نے فورا اپنے ہاتھ پیچھے کیے۔۔۔ مگر دل تھا کہ بے ایمانی کرنے پر اکسا رہا تھا صحیح وقت پر اسے موقع سے فائدہ اٹھانا اچھی طرح آتا تھا اس وقت 'موقع' تھا مگر افسوس 'وقت' صحیح نہیں تھا اس نے اپنے سر چڑھتے  جذبات کو مشکل سے قابو میں کیا، جو کہ اس کے لیے کٹھن مرحلہ ثابت ہوا،،،، ویسے بھی وہ اسی کی تھی اور اسی کے پاس ہمیشہ کے لیے اسے آنا تھا معاویہ نے اپنے دل کو سمجھایا

وہ جس کام کے لئے آیا تھا بس اسے وہ پوری ایمانداری کے ساتھ کرنا تھا اور وہاں سے چلے جانا تھا یہ سوچ کر معاویہ نے بہت نرمی سے حیا کی کمر کے نیچے اپنا ہاتھ رکھ کر اسے اٹھانے کی کوشش کری۔۔۔۔ جتنی سختی سے وہ مجرموں کے ساتھ پیش آتا تھا اتنی ہی نرمی وہ اس کے ساتھ برت رہا تھا، جس نے سب سے بڑا جرم کیا تھا (اس کا دل چرانے کا) 
حیا کی ڈھلکے ہوئے سر کو  اپنے شولڈر پر رکھا اور چہرے پر آئے ہوئے بالوں کو اس کے کان کے پیچھے کیے

ایک دم سے حیا کے موبائل پر کال آنے لگی اسکرین پر موجود نمبر دیکھ کر اس کے چہرے پر مسکراہٹ آئی حیا کو واپس اپنی جگہ پر ارام سے لٹا کر اس نے کال ریسیو کی

جاری ہے

0 comments:

Post a Comment