Itni moHbaat karo na 2
By zeenia sharjeel
Epi # 14
"نسیمہ کتنی دیر کر دی آج تم نے آنے میں، جلدی جلدی کام سمیٹو اب میرا ہاتھ بٹاو"
حور نے پھیلے ہوئے کہ کچن پر نظر ڈال کر نسیمہ سے کہا
"خیریت ہے باجی کوئی خاص مہمان آ رہے ہیں یا دعوت شاوت ہو رہی ہے"
نسیمہ نے چار پانچ قسم کی ڈشسز کی تیاری دیکھ کر حور سے پوچھا
"ہاں بلال بھائی اور انکی فیملی کو انوائٹ کیا ہے رات کے کھانے پر شاہ نے۔۔۔ انہی کے لیے اہتمام کیا ہے وہ مہمان تو نہیں ہیں اپنے ہی ہیں مگر اب تو اور بھی زیادہ خاص ہو گئے ہیں ہمارے لئے"
حور نے مسکراتے ہوئے کہا
"آج تو آپ بڑی خوش بھی دکھائی دے رہی ہیں باجی" نسیمہ نے جلدی جلدی پھیلے ہوئے کچن کو سمیٹتے ہوئے حور کو دیکھ کر کہا
"ہاں خوشی کی ہی بات ہے بلال بھائی نے اپنے بیٹے کے لیے ہماری حیا کا ہاتھ مانگا ہے"
حور مسکراتے ہوئے نسیمہ سے اپنی خوشی شیئر کرنے لگی
"ارے واہ جی وہ اپنے ہادی صاحب کے لئے۔۔۔ وہ تو بہت اچھے ہیں، بہت بہت مبارک ھو باجی یعنی اب جلدی سے حیا بی بی کی شادی ہونی ہے" نسیمہ نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے حور سے سوال کیا
"ارے نہیں شادی ابھی کہاں ابھی تو حیا کی اسٹڈیز کمپلیٹ نہیں ہوئی ہے ابھی تو ان لوگوں نے ہمارے سامنے بات رکھی ہے اور ہم نے انہیں ہاں میں جواب دیا ہے اور تمہارے صاحب نے آج کھانے پر ان کی فیملی کو انوائٹ کیا ہے"
حور سویٹ ڈش کا باول فریج میں رکھتے ہوئے بولی
"یہ تو بہت اچھی بات ہے باجی اب سارا کام میں سمیٹ لوں گی آپ آرام کریں پتہ نہیں کب سے لگی ہوئی ہیں"
نسیمہ نے حور کے تھکے ہوئے چہرے کو دیکھ کر کہا
"وہ واقعی خوشی میں صبح سے ہی کچن میں کھانا بنانے لگ گئی تھی اور اب واقعی تھک گئی تھی اس لئے اپنے روم میں آرام کرنے چلی گئی
*****
"سر جی کل رات کو ہی اعظم کو پکڑ کر پولیس اسٹیشن لے آئے تھے تھوڑی دیر میں اس سے ساری انفارمیشن اگلوا کر آپ کو دیتا ہوں"
معاویہ کے آتے ہی اسپیکٹر سعد نے اعظم کے بارے میں بتایا
اس بات کا اندازہ ان لوگوں خود بھی نہیں تھا کہ وہ کتنے اندر کا آدمی ہے اور غائب ہوئی وی لڑکیوں کے بارے میں کیا کیا جانتا ہے مگر پھر بھی اس کا تعلق اسی گروہ سے تھا اور بابر نے اپنے بیان میں اس کا نام لیا تھا
"تم رہنے دو اس سے کیسے انفارمیشن نکلوانی ہے یہ میرا کام ہے تم جاؤ"
معاویہ نے چیئر سے اٹھتے ہوئے کہا
"اوکے سر جی" انسپکٹر سعد سیلوٹ مار کر وہاں سے چلا گیا
"ہاں بھئی اعظم کوئی تکلیف تو نہیں ہوئی تمہیں یہاں آنے میں"
معاویہ نے اعظم سے ایسے پوچھا جیسے گھر آئے ہوئے مہمان سے پوچھا جاتا ہے
"اے۔ایس۔پی صاحب مجھے تو سمجھ میں نہیں آ رہا آپ لوگ مجھے یہاں پر کیوں لے کر آئے ہیں میں تو کچھ جانتا نہیں ہوں"
اعظم نے اے۔ایس۔پی کے بارے میں جو کچھ سنا تھا اس سے سن کر اس کو خوف آرہا تھا اس لئے ماتھے پر سے آیا ہوا پسینہ صاف کرتے ہوئے بولا
"اعظم تم مجھے جانتے نہیں ہو جب تم مجھے جان جاؤ گے تمہیں سب سمجھ میں آجائے گا، آخری دفعہ منہ سے پوچھ رہا ہوں کس گروہ کے لئے کام کرتے ہو اور اس کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے کس کے کہنے پر یہ لڑکیاں اٹھائی جاتی ہیں"
معاویہ نے اعظم سے نرمی لیے ہوئے انداز میں پوچھا
"اے۔ایس۔پی صاحب میں واقعی کچھ نہیں جانتا مجھ پر رحم کریں"
اعظم نے ہاتھ جوڑتے ہوئے معاویہ سے کہا
"تم پر ابھی تک میں نے رحم ہی کھایا ہوا تھا اعظم مگر لگتا ہے اب تم کو خود پر رحم نہیں آرہا اب اس میں بھلا میں کیا کرسکتا ہوں"
"انسپکٹر سعد"
معاویہ سامنے رکھی ہوئی چیئر پر بیٹھ گیا اور انسپکٹر سعد کو آواز دی
"جی سر جی"
ایک دم سے انسپکٹر سعد حوالات میں نمودار ہوا
"اعظم کیلئے کچھ خاص قسم کی تواضع ہونی چاہیے جلدی سے انتظام کرو"
ٹانگ پر ٹانگ رکھتے ہوئے وہ انسپکٹر سعد سے بولا
"سر جی بس ابھی 5 منٹ میں واپس آیا"
انسپکٹر سعد حوالات سے باہر چلا گیا
اعظم اپنے سامنے بیٹھے ہوئے اس اے۔ایس۔پی کو دیکھ رہا تھا جو بہت سنجیدگی سے اعظم کو ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔ اس کے اس طرح دیکھنے سے اعظم بار بار اپنے ماتھے پر آیا ہوا پسینہ صاف کر رہا تھا
"تھوڑی دیر میں دو پولیس والے ایک برتن میں ابلتا ہوا پانی لے کر آئے جس میں سے بھاپ نکل رہی تھی"
اعظم جو پہلے ہی ڈرا ہوا تھا اب خوف سے کانپنے لگا
"مجھے معاف کر دیں اے۔ایس۔پی صاحب میں واقعی کچھ نہیں جانتا"
اعظم رو کر کہنے لگا
"اس کے جوتے اتاروں اور اس کے دونوں پاؤں پانی میں ڈال دو"
معاویہ نے وہی بیٹھے بیٹھے پولیس والوں کو حکم دیا
پولیس والے نے اس کے پاؤں کے پاس برتن رکھا ایک نے مضبوطی سے اس کو تھاما اور دوسرے نے اس کے پاؤں اس ابلتے ہوئے پانی میں ڈال دیے۔۔۔ اعظم کی دردناک چیخوں سے پورے حولات کی دیواریں لرز اٹھی
معاویہ کے دوبارہ اشارہ کرنے پر اس کے پاؤں باہر نکال لئے گئے،،، اعظم کے پاؤں کی کھال بری طرح جھلس چکی تھی
"کیا ہو اعظم مزہ نہیں آیا نہ مجھے تو بالکل بھی نہیں آیا"
معاویہ اٹھتا ہوا اعظم کے پاس آیا اور اپنا جوتا اس کے جھلسے ہوئے پاؤں پر رکھکر اس کا پاوں دبایا تو ایک بار پھر اعظم کی دردناک چیخے مارنے لگا اس کے پاؤں سے اب جگہ جگہ خون رس رہا تھا
"اب بتاؤ اعظم کیا جانتے ہو"
معاویہ نے ایک بار پھر اعظم سے پوچھا وہ آدھ مرا سا ہو کر لمبے لمبے سانس لینے لگا مگر چپ رہا
"گڈ اچھا اسٹیمنا ہے"
معاویہ نے اعظم کے شولڈر پر تھپکی دیتے ہوئے کہا
"اس کا منہ پانی میں ڈال دو"
معاویہ نے نارمل انداز میں پولیس سے کہا
"میں اپنے بچوں کے سر کی قسم کھا کر کہتا ہوں مجھے جو بھی سچ معلوم ہے وہ بتاؤں گا مگر اس کے پیچھے کون ہے یہ مجھے نہیں معلوم"
اعظم نے سسکتے ہوئے کہا
"انسپکٹر سعد اس کو جو جو معلوم ہے اس کا بیان نوٹ کرو"
یہ کہہ کر معاویہ حولات سے باہر آگیا
واپس آکر ٹیبل پر بیٹھا ہی تھا تو اس کا موبائل بلنک کرنے لگا فون نمبر دیکھ کر اس نے کال ریسیو کی اور پولیس اسٹیشن سے باہر نکل گیا
*****
حیا کالج کے گیٹ سے باہر جانے کے لئے نکلی ٹائم کے مطابق ڈرائیور اسے لینے آنے ہی والا تھا آج وہ بہت خوش تھی صبح ہی حور نے اسے بتایا تھا کہ رات کو کھانے پر بلال انکل پوری فیملی کے ساتھ آنے والے ہیں ویسے تو ویکنڈ میں ایسا ہوتا تھا کبھی وہ لوگ ڈنر کرتے تھے تو کبھی ان کی فیملی۔۔۔ مگر آج بلال انکل کا آنا اور دنوں کی بانسبت کچھ اسپیشل تھا یہ سوچ کر وہ مسکرانے لگی جب اچانک سے ایک گاڑی اس کے ایک دم قریب آکر رکی وہ ہڑبڑا کر پیچھے ہٹی ورنہ گاڑی کے ٹائر اس کے پاؤں پر ہی چڑھ جاتے
"فورا گاڑی میں بیٹھو"
معاویہ نے گاڑی کا شیشہ نیچے کرتے ہوئے کہا
"تمہارا دماغ تو خراب نہیں ہوگیا ہے میرے پاؤں توڑنے ہیں تمہیں"
حیا کو اس کی حرکت پر غصہ آیا
"اگر تم نے میری بات نہیں مانی تو واقعی تم اپنی ٹانگوں سے محروم ہو جاؤں گی جلدی سے گاڑی میں بیٹھو"
معاویہ نے رعب جمانے والے انداز میں کہا
"تمہارا واقعی دماغ کھسک گیا ہے"
حیا اس کے رعب میں آئے بغیر پلٹ کر واپس کالج کے اندر جانے لگی
معاویہ نے لب بینچ کر اس کی ہٹ دھرمی دیکھی اور ایک جھٹکے سے گاڑی کا دروازہ کھول کر باہر نکلا تیز قدم بڑھاتا ہوا اس کی طرف آیا اور اس کا بازو پکڑ کر جھٹکے سے اسے اپنی طرف موڑا
"سنائی نہیں دے رہا تمہیں کہ میں کیا کہہ رہا ہوں"
تیز لہجے میں بولتا ہوا وہ حیا کا بازو کھینچ کر گاڑی تک لایا یونیفارم میں ہونے کی وجہ سے کسی نے آگے بڑھ کر پوچھنے کی زحمت نہیں کی کہ لڑکی کو اس طرح کہاں لے کر جا رہے ہو
"ہاتھ چھوڑو میرا یہ کیا بدتمیزی ہے کہیں نہیں جانا مجھے تمہارے ساتھ تم دو ٹکے کے پولیس والے"
حیا مسلسل بولے جا رہی تھی مگر وہ ایسا ہوگیا جیسے اسے کوئی آواز نہیں آ رہی تھی
حیا کو گاڑی میں بیٹھا کر وہ خود گھوم کر آیا گاڑی میں بیٹھا اور گاڑی اسٹارٹ کردی
"تم کہاں لے کر جا رہے ہو مجھے"
حیا نے غصے میں معاویہ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
"فکر نہیں کرو نکاح کرنے کے لئے نہیں لے کر جارہا پولیس والا نے چوروں کی طرح چھپ کر نکاح نہیں کروں گا ڈنکے کی چوٹ پر سب کے سامنے لے کر جاؤں گا"
معاویہ نے ڈرائیونگ کرتے ہوئے ایک نظر حیا کے تپے ہوئے چہرے کو دیکھ کر کہا
"ہاہاہا تم پورے پاگل ہوں اور بہت خوش فہم بھی"
حیا آنے استہزائیہ ہنسی ہنستے ہوئے معاویہ سے کہا
"خوش فہم کون ہے یہ بھی بہت جلد پتہ چل جائے گا بے بی کال کیو ریسیو نہیں کر رہی تھی میری"
معاویہ نے ڈرائیونگ کرتے ہوئے حیا سے پوچھا
اس کے پوچھنے پر اچانک حیا کو یاد آیا اس نے معاویہ کی رینگ کل رات ہی اپنی انگلی سے اتاری ہے اس نے بے ساختہ اپنا ہاتھ دوپٹے کی آڑھ میں چھپایا اور اس کی یہ حرکت معاویہ کی تیز نگاہوں سے چھپی نہیں رہ سکی
"میری مرضی"
حیا نہ ہٹ دھرمی سے بولا
"ٹھیک ہے اب جب میں اپنی مرضی کروں گا تو تمہیں اعتراض نہیں ہونا چاہیے"
معاویہ نے کہتے ہوئے ایکٹ سے گاڑی موڑی جس سے حیا کے سمبھلنے کی کوشش میں بھی اس کا سر معاویہ کے شولڈر پر لگا حیا اس کو گھور کر رہ گئی
"اترو کار سے"
معاویہ نے کار سے اتر کر حیا کی طرف کا دروازہ کھولتے ہوئے کہا
"کہاں لے کر آئے ہو یہ کونسی جگہ ہے" حیا اس کے سامنے بالکل اپنا ڈر شو کرنا نہیں چاہتی تھی مگر اب اس طرح اکیلے اس کے ساتھ آنے پر وہ ڈر گئی تھی، اپنے ڈر کو چھپاتے ہوئے وہ معاویہ سے پوچھنے لگی
"تمہیں میں جو بھی بات کہتا ہوں وہ تمہاری کھوپڑی میں کیوں نہیں سماتی، تمہیں میں کار سے اترنے کے لئے کہہ رہا ہوں"
معاویہ نے سنجیدگی سے حیا کو دیکھتے ہوئے کہا اور اس کا ہاتھ پکڑ کر نیچے اتارا
"ہاتھ چھوڑو میرا میں خود چل سکتی ہوں"
حیا نے ہاتھ چڑاتے ہوئے معاویہ سے کہا
معاویہ نے اس کا ہاتھ چھوڑ دیا اور ہاتھ کے اشارے سے اسے اپنے آگے چلنے کے لئے کہا۔۔۔۔۔ وہ کوئی چھوٹا سا فلیٹ تھا جس میں آنے کے بعد حیا کو گھبراہٹ ہوئی
"یہاں کیوں لائے ہو مجھے"
حیا نے اپنے اندر کے ڈر کو دبا کر معاویہ سے پوچھا
"ڈرو نہیں رومینس کرنے نہیں لایا ہوں"
دروازہ بند کرتا ہوا معاویہ اس کے قریب آ کر بولا
"انگوٹھی کیوں اتاری تم نے"
حیا کا ہاتھ تھام کر وہ بالکل سنجیدگی سے حیا کو دیکھتے ہوئے پوچھ رہا تھا
"کیونکہ وہ مجھے پسند نہیں تھی"
حیا نے اپنا ہاتھ اس سے چھڑاتے ہوئے کہا
"پسند تو تمہیں یہ دو ٹکے کا پولیس والا بھی نہیں ہے اس کے ساتھ بھی تو رہنا ہے نہ زندگی بھر"
حیا کے چہرے پر آئی ہوئی لٹو کو وہ پیچھے کرنے لگا تو حیا نے اس کا ہاتھ جھٹکا۔۔۔۔ ہاتھ جھٹکنے کی دیر تھی معاویہ نے حیا کے بالوں کو مٹھی میں جکڑ کر اسے خود سے قریب کیا
"آآ چھوڑو میرے بال تم خود کو سمجھتے کیا ہو"
حیا نے اس کی کلائی پکڑ کر اپنے بال چھڑاتے ہوئے بولا
"بہادر، نڈر، ضدی اور تمہارا دیوانہ"
آخری جملہ بولتے ہوئے معاویہ کے لب ہلکے سے مسکرائے
"مگر میری نظر میں تم ایک بدتمیز، ڈھیٹ، اور جنگلی انسان سے زیادہ کچھ بھی نہیں ہو"
حیا کہاں چپ رہنے والی تھی
"جب کہ تم نے میری بدتمیزی ڈھیٹ پن اور جنگلی پن ابھی تک دیکھا نہیں ہے، بہت لکی ہو تم جو میں تمہاری بدتمیزی کے مظاہرے اور تمہاری اس لمبی زبان کو بہت آرام سے برداشت کرتا ہوں لیکن جس دن میں اپنی پر آگیا تو اس دن تمہارے آنسو میں کچھ نہیں کرسکیں گے یہ یاد رکھنا"
معاویہ نے ایک جھٹکے سے اس کے بال چھوڑتے ہوئے کہا حیا ابھی بھی غصے میں اس کو گھورے جا رہی تھی
"چلو یہ تو ہو گئی ادھر ادھر کی باتیں اب کام کی بات سنو"
وہ حیا کے بال پیچھے کرتے ہوئے ارام سے بول رہا تھا
"یہ جو بھی آج کل تمہارے گھر میں ڈرامہ چل رہا ہے نہ اسے جلدی سے ختم کرو، بہت جلد میرے مام ڈیڈ تمہارے گھر آئیں گے میرا پرپوزل لے کر۔۔۔ تو بےبی آج ہی تم سب کے سامنے اس رشتے سے انکار کروں گی"
وہ بالکل عام سے انداز میں حیا وہ اپنی بات سمجھا رہا تھا
"میں ایسا کچھ نہیں کروں گی کیوکہ میں ہادی کو پسند"
حیا کی بات مکمل ہونے سے پہلے معاویہ نے اس کا منہ پکڑا
"میں نے تم سے مشورہ نہیں مانگا ہے نہ تمہاری پسند پوچھی ہے جیسا میں کہہ رہا ہوں تم ویسا کرو گی، نہیں تو پھر جو میں کروں گا وہ تمہیں بالکل اچھا نہیں لگے گا اس لئے میری بات پر عمل کرو"
معاویہ نے سنجیدگی سے حیا کو اپنی بات باور کرائی
"تم مجھے دھمکی دے رہے ہو"
حیا نے اپنا چہرے سے اس کے ہاتھ اٹھاتے ہوئے کہا تو معاویہ نے اسے بازوں سے پکڑ کر خود سے قریب کیا
"نو بےبی میری وارننگ کو دھمکی بالکل نہیں سمجھنا معاویہ دھمکی نہیں دیتا بلکہ اسے جو کرنا ہوتا ہے وہ کر گزرتا ہے ویسے بھی تم نے کہاوت سنی ہوگی محبت اور جنگ میں سب جائز ہے۔۔۔ تو جانم آج سب کے سامنے جا کر تم اس رشتے کے لیے منع کروں گی اور اگر تم نے ایسا نہیں کیا تو پھر میں وہ کرونگا جو تم نے سوچا تک نہیں ہوگا"
معاویہ اس کے گال پر تھپتھپاتا ہوا پیچھے ہٹا
"چلو اب تمہیں گھر ڈراپ کر دو"
معاویہ نے ایک نظر اس پر ڈال کر باہر کا دروازہ کھولا
حیا اس کے پیچھے چل دی گاڑی میں دونوں کے درمیان خاموشی رہی معاویہ نے گاڑی حیا کے گھر کے قریب روکی حیا گاڑی سے اترنے لگی تو معاویہ نے اس کا ہاتھ تھام کر سنجیدگی سے کہا
"آج یہ قصہ ختم ہو جانا چاہیے"
حیا نے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے چھڑایا اور کار سے باہر نکل گئی
جاری ہے
Sunday, January 20, 2019
Subscribe to:
Post Comments (Atom)

0 comments:
Post a Comment