Itni mohhbat karo na
By zeenia sharjeel
Epi # 13
"کیا کر رہی ہے میری پرنسسز"
زین اور حور حیا کے روم میں آئے
"کل کالج جانے کی تیاری، اندر ائے وہی کیوں رک گئے آپ دونوں"
حیا نے کتابیں سمیٹتے ہوئے دونوں کو دیکھ کر کہا
"حیا تمہارے بابا کو اور مجھے تم سے بہت ضروری بات کرنی ہے"
حور نے بیڈ پر ہی حیا کے پاس بیٹھتے ہوئے کہا، زین دوسری سائیڈ پہ حیا کے پاس ہی بیٹھ گیا
"کیا ہوگیا آپ دونوں کو چپ کیوں ہیں، کیا بات کرنی ہے بولیں" حیا نے ان دونوں کے چہروں کو دیکھ کر کہا
"پرسوں جب بلال بھائی اور فضا آئے تھے تو انہوں نے تمھیں ہادی کے لیے مانگا تھا مگر انہوں نے سب سے پہلے تمہاری مرضی کو اہمیت دی ہے، اگر تم راضی ہوتی ہوں تبھی بات آگے چلی گی۔۔۔ اب بتاؤ کیسا لگتا ہے تمہیں ہادی" حور نے نرم لہجے میں ہی اسے اس کی مرضی جاننا چاہیی
"مما"
حیا نے حیرت سے حور کو دیکھا
"بلال میرے لیے بھائیوں کی طرح ہے اور اس لحاظ سے ہادی بھی مجھے بہت عزیز ہے مگر ان سب سے بڑھ کر میرے لئے میری بیٹی کی مرضی اور خوشی معنی رکھتی ہے، تم بغیر کسی دباؤ کے اپنی آمادگی کے ساتھ بتاؤ جو بھی تم چاہتی ہوں وہی ہوگا"
زین نے حیا کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتے ہوئے کہا
"بابا میں آپ دونوں کو چھوڑ کر بالکل کہیں نہیں جانے والی ہادی سے کہہ دے اپنا بوریا بستر لیکر یہی شفٹ ہو جائے ہمارے گھر" حیا نے زین کے شولڈر پر سر رکھ کر کہا
"میری بیٹی میری جان میں بہت خوش ہوں، بہت زیادہ ہادی سے زیادہ پرفیکٹ میری بیٹی کے لئے کوئی ہو ہی نہیں سکتا مجھے یقین ہے وہ میری بیٹی کو بہت خوش رکھے گا اور ماں باپ تو جیتے ہی اپنی بیٹیوں کو ان کے گھر میں خوش آباد دیکھ کر ہیں" زین حیا کے کندھے کے گرد اپنے بازو رکھ کر اس سے باتیں کر رہا تھا اس کی آواز سے ہی خوشی چھلکتی ہوئی صاف محسوس ہو رہی تھی وہ حیا کے فیصلے سے بہت خوش تھا
"چلو اب تم سو جاؤ کالج جانا ہے تمیں"
حور نے حیا کو دیکھ کر کہا اور ماتھے پر پیار کر کے خود بھی چلی گئی زین نے حور کو دیکھا وہ بھی حور کے پیچھے حیا کو گڈنائٹ کہ کر چلا گیا
****
"کیا ہوا حور تم ٹھیک ہو"
زین کی آواز پر حور نے آنکھیں صاف کرتے ہوئے وارڈروب کا دروازہ بند کیا
"مجھے کیا ہونا ہے ٹھیک ہو بالکل"
حور نے مسکراتے ہوئے کہا
"اتنے سال ہوگئے ہیں ہماری شادی کو تمہیں آج تک بات بنانی نہیں آئی ہمیشہ پکڑی جاتی ہوں، جھوٹ کیوں بول رہی ہوں یہاں میری آنکھوں کی طرف دیکھ کر کہو رو کیو رہی تھی" زین نے حور کا چہرہ تھامتے ہوئے کہا وہ زین کے سینے پر سر رکھ کر رونے لگی
"حور اب تم اس طرح کرکے مجھے پریشان کر رہی ہوں"
زین نے اس کے گرد ہاتھ باندھتے ہوئے کہا
"حیا چلی جائے گی تو گھر کتنا سونا ہوجائے گا ہمارا شاہ" حور نے روتے ہوئے کہا
"یہاں دیکھو میری طرف حور، ماں باپ ہونے کے ناطے ہم یہ سوچ پر تو اداس ہو سکتے ہیں ظاہری بات ہے ہماری اکلوتی بیٹی ہے جسے نازوں سے پالا ہے ہم نے مگر میں حیا کی رضامندی پر خوش ہوں کیونکہ میں بلال اور ہادی کو جانتا ہوں، حیا کون سا ہم سے دور جا رہی ہے جب حیا کو دیکھنے کا دل چاہا بلال کے گھر چلے جائے گے اس کے گھر کا ماحول اور ہمارے گھر کے ماحول میں کوئی فرق تو نہیں ہے، نا حیا کی نیچر عادتوں سے بھی وہ لوگ واقف ہیں سب سے بڑھ کر سب اس کو گھر میں اس کو چاہتے ہیں اور وہ خود بھی اس گھر میں پلی بڑھی ہے ایک طرح سے آرام سے ایڈجسٹ ہو جائے گی۔۔۔ سچ پوچھو تو مجھے تمہارے جیسا کوئی دکھ ہے ہی نہیں کیوکہ اگر کہیں اور اسکی شادی ہورہی ہوتی تو میں اس وقت رونے میں تمہارا ساتھ دے رہا ہوتا" زین حور کے آنسو صاف کرتے ہوئے مدھم لہجے میں اسے سمجھا رہا تھا ہمیشہ کی طرح
****
وہ بہت خوش تھی اس نے سوچا نہیں تھا ہادی اتنی جلدی بلال انکل اور فضا آنٹی کو بھیج دے گا وہ اس کے لئے کیوں نہ اپنی آمادگی ظاہر کرتی بچپن سے ہی تو وہ اس کے سامنے تھا وہ اس کو بچپن سے جانتی تھی کتنا کیئرنگ تھا اس کے لیے ہر بات مانتا تھا ہر ضد پوری کرتا تھا۔۔۔ ساری ایسی عادتیں جو حیا کو پسند ہو مہذب ڈیسنٹ فرما بردار اور سب سے بڑھ کر اس کی آنکھوں میں اپنے لیے محبت ہے، حیا چہرے پر بے ساختہ مسکراہٹ دوڑ گئی مگر جیسے ہی اپنے ہاتھ کی انگلی پر اس کی نظر پڑی تو اس نے لب سکھیڑ لیے
"اس کو میں ہر دفعہ کیسے فراموش کر دیتی ہو" حیا نے اپنی انگلی سے رنگ اتارنے کی کوشش کی جو کہ بہت مشکل سے ہی سہی اتر ہی گئی مگر انگلی کے گرد اپنے نشان چھوڑ گئی اس نے رنگ اٹھا کر سائیڈ ٹیبل پر رکھی اور اپنی انگلی سہلائی
'بس تکلیف ہی دینی ہے اس شخص نے جانے انجانے میں'
اس نے دل میں سوچا اور اپنا سر جھٹک دیا دو دن سے وہ اسے کال کر رہا تھا مگر وہ اس کا نمبر دیکھ کر مسلسل اگنور کر رہی تھی
"پتہ نہیں کون سی بری گھڑی تھی جب یہ انسان میرے پیچھے پڑ گیا اور مجھے اس سے بالکل بھی ڈرنا نہیں چاہیے اگر کبھی سامنے آیا بھی تو دو ٹوک بات کروں گی اور اس کی اوقات یاد دلاؤں گی"
حیا نے دل میں تہیہ کر لیا اور پھر اس کی نظر اپنے روم کی کھڑکی کی طرف گئی حیا نے اٹھ کر کھڑکی بند کری اور بیڈ پر لیٹ گئی
****
"بھائی کیا کر رہے ہیں آپ روم میں آجاؤ میں"
صنم نے ڈور ناک کرنے کے بعد اندر جھانکتے ہوئے کہا
"آجاؤ گڑیا کیس اسٹیڈی کر رہا تھا" معاویہ نے فائل بند کرتے ہوئے سائڈ پر رکھی
"آپ نے کھانا کھالیا" صنم نے معاویہ کے پاس کاوچ پر بیٹھتے ہوئے پوچھا
"ہاں تھوڑی دیر پہلے کھایا تھا
ساری ڈشسز مام نے میری پسند کی بنوائی ہیں آج"
معاویہ لیٹ گھر آیا تھا سب رات کا ڈنر کر فارغ ہوگئے تھے ناعیمہ بھی اس کا انتظار کرکے اپنے روم میں چلی گئی تھی
"جی ساری ڈیشسز آپ کی اور ڈیڈ کی پسند کی تھی مگر وہ کک سے نہیں بنوائی بلکہ مام نے اپنے ہاتھوں سے بنائی تھی۔۔۔۔ آپکی اور ڈیڈ کی چوائس بھی تو ایک جیسی ہے بس عادت یا مزاج مختلف ہیں باقی تو جو ڈیڈ کو پسند ہوتا ہے آپ کو بھی وہی پسند آتا ہے"
اور اس بات سے چاہ کر بھی معاویہ انکار نہیں کر سکا
"اگر تمہارا اشارہ نیناں کی طرف ہے تو مجھے معاف کر دو ایسی چوائس تو میری کبھی بھی نہیں ہو سکتی" معاویہ نے کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے کہا
"کیوں کیا برائی ہے اس بچی میں مجھے بتاؤ"
ناعیمہ جو کے کمرے میں آتے ہوئے معاویہ کی بات سن چکی تھی اس لیے اس نے معاویہ سے پوچھا
"مام پلیز اب آپ شروع نہیں ہو جائیے گا"
معاویہ نے اکتائے ہوئے لہجے میں کہا
"بھائی مام نے اپنے ہاتھوں سے کھانا بنایا ہی آپ کے اور ڈیڈ کے لئے اس لیے تھا تاکہ ڈیڈ کی ناراضگی دور کر سکے اور آپ کو اپنی بات کے لیے منواسکے"
صنم نے مسکراتے ہوئے معاویہ سے کہا
"صنم بالکل چپ کر جاؤ تم، ہاں معاویہ اب یہ بتاؤ مجھے کیا برائی ہے نیناں میں"
صنم کو گھورتے ہوئے ناعیمہ نے معاویہ سے پوچھا
"مام سہی بات تو یہ ہے مجھے اس میں کوئی برائی نظر نہیں آتی انفیکٹ میں نے تو آج تک اسے دیکھا تک نہیں ہے تو برائی کیا نظر آنی۔ہے"
معاویہ نے سیریس انداز میں کندھے اچکاتے ہوئے کہا
"تم نے نیناں کو نہیں دیکھا کیا بات کر رہے ہو معاویہ تم"
ناعیمہ نے حیرت سے کہا افضال برنی سے ان کے اچھے فیملی ٹرمز تھے
"مام اس میں حیرت کی کیا بات ہے اس کو میں نے تو کیا آج تک اس کے اپنے ماں باپ نے نہیں دیکھا ہوگا، منوں میک اپ کے نیچے تو 24 گھنٹے تو اسکا چہرا دبا رہتا ہے"
معاویہ نے بات کو مذاق کر رنگ دیا جس پر صنم ہنسنے لگی ہنی ناعمہ کو بھی آئے مگر ہنسی روک کر صنم کو دوبارہ گھورا
"بری بات ہے معاویہ اس طرح کسی کا مذاق نہیں اڑاتے ہر کسی کا الگ شوق ہوتا ہے اور اچھا لگنے کی خواہش کسے نہیں ہوتی۔۔۔۔۔ یہ کوئی ایسی بات نہیں ہے جس کو بیس بنایا جائے انکار کرنے کے لیے لئے"
ناعیمہ نے معاویہ کو سمجھانا چاہا
"مام مجھے اپنی لائف میں لائف پارٹنر چاہیے پیسٹری نہیں اور ویسے بھی نیناں کا آرٹیفیشل ہوکر منہ ٹیڑھے کر کر کے بات کرنا بہت اریٹیٹ کرتا ہے مجھے قسم سے، اور ویسے بھی مجھے ان چیزوں کو بیس بنا کر انکار کرنے کی ضرورت ہے ہی نہیں میرے پاس سولڈ ریزن موجود ہے اور وہ ہے حیا، مام مجھے انسان وہی پسند ہے جو اندر سے جیسا ہو باہر سے بھی ویسا ہی ہو چہرے پر ماسک لگا کر رکھنے والے لوگ مجھے بالکل بھی نہیں پسند" معاویہ نے سنجیدگی سے کہا
"اچھا تو اب اپنے سالڈ ریژن کے بارے میں ماں اور بہن کو بتاؤں کیسی ہے وہ دیکھنے میں"
ناعمہ کو اب حیا کے بارے میں جاننے کا تجسس ہوا
معاویہ کی آنکھوں کے سامنے حیا کا پٹر پٹر بولتا ہوا سراپا لہرایا تو اس کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی
"ہے تو وہ بھی فل چھمک چھلو ٹائپ کی کوئی چیز مگر آپ کو پسند آئے گی"
معاویہ کی بات پر ایک بار پھر صنم اور ناعیمہ دونوں کو ہنس دیں، ناعیمہ نے ہلکی سی چپت معاویہ کے گال پر لگائی
"بدتمیز"
"آئی ایم شیور بھائی آپ کی پسند مام اور مجھے ہی نہیں بلکہ ڈیڈ کو بھی ضرور پسند آئیں گی"
صنم کی بات سن کر معاویہ مسکرانے لگا
اس کی آنکھوں میں چاہت کے رنگ اور چہرے پر مسکراہٹ دیکھ کر ناعیمہ نے دل ہی دل میں اس کو ہمیشہ خوش رہنے کی دعا دی
جاری ہے
Sunday, January 20, 2019
Subscribe to:
Post Comments (Atom)

0 comments:
Post a Comment