Sunday, January 20, 2019

itni mohbbat karo na (season 2) episode 12

itni mohbat karo na
By zeenia sharjeel
Epi # 12

"دیکھا آج تم نے اپنی بیوقوفی کا انجام"
ہادی نے گاڑی اسٹارٹ کرتے ہوئے حیا سے کہا

"میری بےوقوفی کیا مطلب ہے تمہارا" حیا نے ہادی سے پوچھا

"کیا ضرورت تھی تمہیں ان لڑکوں کے بیچ میں بولنے کی، تمھارے بولنے سے ان کو موقع ملا جبھی وہ ہمارے پیچھے آئے تھے"
ہادی نے ڈرائیو کرتے ہوئے حیا سے کہا

"وہ ایک بوڑھے شخص کو"
حیا نہ بولنا چاہا

"کیا یار بوڑھے شخص کو ہوٹل کا مینیجر آکر بات سنبھال لیتا، تمہیں بیچ میں کودنے کی کیا ضرورت تھی،، اگر آج وہ شخص نہیں آتا تمہیں اندازہ ہے کیا کچھ ہو سکتا تھا، میں تو شاید اپنے آپ کو بھی کبھی معاف نہیں کر پاتا۔۔۔۔ پتہ نہیں کونسی نیکی میرے کام آگئی آج"
یہ بھی آج پہلی دفعہ ہی ہوا تھا ہادی غصہ کر رہا تھا اور حیا چپ کرکے اس کی باتیں سن رہی تھی

"آنٹی بالکل ٹھیک کہتی ہے تمہارے بارے میں، واقعی تم میں عقل نام کی کوئی چیز ہی نہیں ہے، آئندہ تم مجھے کسی سے بھی لڑتی جھگڑتی یا کسی دوسرے کے معاملے میں اپنی ٹانگ اڑاتی ہوئی نظر نہ آو" ہادی نے اس کو چپ دیکھ کر مزید ڈانٹا

"ہادی اگر اب تم مجھے مزید ڈانٹو گے تو میں تم سے ناراض ہو جاؤنگی" حیا نے روٹھے ہوئے لہجے میں کہا

"یعنی ابھی بھی تم مجھ سے ناراض ہو گی مگر خود کو سدھارو گی نہیں"
ہادی نے سر جھٹکا

"اچھا نہ بابا آب نہیں پڑو گی پرائے پھڈے میں اب موڈ تو ٹھیک کرو نہ اپنا"
اس نے ہادی کا غصہ دور کرنا چاہا

"اس شخص کو کہاں دیکھا تھا پہلے میں نے" ہادی نے معاویہ کو آج دوبارہ دیکھ کر سوچا پھر سر جھٹک کر ڈرائیو کرنے لگا اور حیا کو گھر ڈراپ کرکے خود بھی اپنے گھر چلا گیا

*****

حیا گھر پہنچی تھوڑی دیر زین اور حور کے ساتھ بیٹھی آج والے پورے قصے کو گول کرکے تھوڑی سی باتیں کری اور اپنے روم میں آئی، اس کے موبائل پر معاویہ کی کال آرہی تھی وہ کشمکش میں پڑگئی کال اٹھائے یا نہیں پھر اس نے موبائل سائڈ پر رکھا اور چینج کرنے چلی گی،،، نائٹ ڈریس پہن کر آئی تو تھری مس کال شو ہو رہی تھی اور ایک میسیج آیا ہوا تھا
'پک اپ مائی کال،
اس نے سیل of کیا کھڑکی بند کر کے سونے کے لیے بیڈ پر لیٹ گئی وہ اب ہادی کے علاوہ کچھ اور نہیں سوچنا چاہتی تھی

****

"آج شام گھر جلدی آجانا"
صبح وہ چاروں بیٹھے ہوئے ناشتہ کر رہے تھے تب خضر نے معاویہ سے بولا

"کیوں کوئی خاص بات ہے آج"
معاویہ نے چائے کا کپ ٹیبل پر رکھتے ہوئے پوچھا

"ہاں کچھ ضروری گیسٹ آ رہے ہیں ان سے ملوانا ہے"
خضر بولا

"کوشش کروں گا ڈیڈ مگر پکا کچھ نہیں کہہ سکتا" معاویہ نے ٹشو سے ہاتھ صاف کرتے ہوئے کہا

"کوشش نہیں کرنی ہے معاویہ، شام میں تم جلدی گھر آ رہے ہو عام گیسٹ نہیں ہیں، میں نے افضال برنی کو ان کی فیملی کے ساتھ انوائٹ کیا ہے تم ان کی بیٹی نیناں کو دیکھ لو اور اس سے ملو، ویسے بھی آج کل ٹرینٹ ہے شادی سے پہلے لڑکا لڑکی ایک دوسرے کو اچھی طرح جان لیں"
خضر نے ناشتہ کرتے ہوئے معاویہ سے کہا

"ایک منٹ یہ کس کی شادی کا ذکر کر رہے ہیں آپ"
معاویہ نے ناسمجھنے والے انداز میں خضر سے پوچھا

"شادی کی بات تو بعد کی بات ہے لیکن افضال برنی کو اس لیے بلایا ہے تاکہ تم اور نیناں ایک دوسرے کو دیکھ لو جان پہچان بڑھا تاکہ اگے رشتے کے مراحل طے ہوسکے" خضر نے معاویہ کو سمجھایا

"نیناں وہ میک اپ کی دکان، کیا ہوگیا ہے ڈیڈ آپ کو" معاویہ نے مسکراتے سر ہلایا

"کونسا جوک سنایا ہے جو تمہیں ہنسی آرہی ہے"
خضر نے سنجیدگی سے معاویہ کو دیکھتے ہوئے کہا

"جس کی آپ بات کررہے ہیں ڈیڈ وہ تو خود کسی جوک سے کم نہیں ہے۔۔۔ اگر حیا میری زندگی میں نہیں بھی ہوتی تب بھی کم از کم نیناں کا تو بالکل چانس نہیں بنتا تھا" معاویہ نے چیئر سے اٹھتے ہوئے کہا

"اب یہ حیا کون ہے"
خضر نے ناگواری سے پوچھا

"ڈیڈ حیا آپکی ہونے والی بہو ہے،،، بہت جلدی ملواؤ گا آپ تینوں سے اسے"
معاویہ کے بالکل نارمل انداز میں بات کرنے پر خضر بری طرح سملگا

"تم میری بات کان کھول کر سن لو اور زہن نشین کرلو،  تمہاری شادی صرف نیناں سے ہوگی ماں باپ کے فیصلوں میں ہی اولاد کی بہتری ہوتی ہے"
خضر نے سنجیدگی سے کہا

"تو آپ یہ بات مانتے ہیں جو ماں باپ اولاد کے لئے فیصلہ کرتے ہیں ان میں اولاد کے لئے بھلائی ہوتی ہے"
معاویہ نے ایک نظر نائمہ پر ڈالی اور خضر سے سوال کیا

کیا مطلب ہے تمہاری بات کا"
خضر نے غصے میں کہا

"مطلب صاف ہے ڈیڈ جب آپ نے کبھی اپنے ماں باپ کے فیصلے کو دل تسلیم نہیں کیا تو آپ مجھ سے کیا توقع رکھتے ہیں۔۔۔ آفٹرال میں آپ کا ہی بیٹا ہوں۔۔۔۔ میں کیسے آپ کی مرضی سے شادی کر لوں گا،، جبکہ میں کسی اور کو پسند کرتا ہوں"
معاویہ اپنے روم میں جانے لگا

"ایک بات اچھی طرح سنتے جاو جب تم میری بات کا احترام نہیں کرسکتے،،، تو میری نظر میں بھی تمہاری خواہش اور خوشی کی کوئی ویلیو نہیں ہے۔۔۔۔ تمہاری پسند کی لڑکی اس گھر میں کبھی نہیں آئے گی"
خضر نے اب چیختے ہوئے کہا

"میری بھی یہ بات آپ اچھی طرح سن لیں اس گھر میں صرف حیا ہی بہو بن کر آئے گی اس کے علاوہ میں کسی سے شادی نہیں کروں گا اور اپ کو میری ضد کا اچھی طرح علم ہے"
معاویہ نے ایک ایک لفظ آرام سے کہا اور وہاں سے چلا گیا

"ایسی ذلیل اولاد دے کر اللہ نے مجھے میرے گناہوں کی سزا دنیا میں ہی دے دی۔۔۔۔ دھمکیاں لگا رہا ہے اپنے باپ کو، مجنوں کی اولاد،،،، دیکھتا ہوں کیسے لے کر آتا ہے اپنے پسند کی لڑکی اس گھر میں" خضر اپنا سارا غصہ
نائمہ پر نکال کر وہاں سے چلا گیا

نائمہ دونوں ہاتھوں میں اپنا سر تھام کر بیٹھ گئی جبکہ صنم ناعیمہ کے شولڈر پر ہاتھ رکھ کر تسلی دینے لگی

*****

"پھر کیا ہوا"
سوہنی اور فری ایک ساتھ چیخ کر بولی

"پھر کیا ہونا تھا معاویہ نے اس کو ایک زوردار پنچ مارا اور اس کی ناک توڑ دی دوسرے کا ہاتھ تھوڑا اور تینوں کی ایسی پھینٹی لگائی کہ ان تینوں کو چھٹی کا دودھ یاد آگیا ہوگا
فری پیریڈ میں کالج کی کینٹین میں بیٹھی حیا نے پورے ایکشن کے ساتھ دونوں کو کل والی بات بتائی

"یار یہ تو ایسا لگ رہا ہے تم کسی فلم کا سین بتا رہی ہوں"
فری نے حیرت سے کہا

"یار اس وقت تو مجھے بھی یہی لگ رہا تھا جیسے میرے سامنے بھی کوئی فلم چل رہی ہے" حیا نے ان دونوں کو دیکھتے ہوئے کہا

"یہ معاویہ وہی ہے نہ پولیس والا جو زرش کی بہن کی شادی میں ملا تھا، قسم سے مجھے تو اسی دن وہ کسی فلم کا ہیرو کے طرح لگ رہا تھا"
سوہنی نے خوش ہو کر فری اور حیا کو دیکھتے ہوئے کہا

"خیر اب ہیرو شیرو تو کہیں سے نہیں لگتا۔۔۔ وہ تو بس کل اس نے اینٹری ایسے وقت میں کی اور ان لڑکوں کی جو پٹائی کی اسی وجہ سے کہہ سکتی ہوں کہ کل مجھے اس کی شکل دیکھ کر تھوڑی بہت خوشی ہوئی مگر اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ہیرو ہی لگنے لگا دو ٹکے کا پولیس والا نہ ہو تو"
ماہی کے منہ سے معاویہ کی تعریف سن کر حیا کا حلق تک کڑوا ہوگیا، اسے وہ منظر یاد آیا جب وہ اس کے بیڈروم میں اس کے کتنے قریب آگیا تھا یہ بات تو ڈر کے مارے وہ خود سے بھی شئیر نہیں کرتی تھی

"وہ ہیرو نہیں تو کیا تمہارا وہ کزن ہیرو ہے جس کی جان تم نے خود آکر بچائی"
سوہنی نے معاویہ کی سائیڈ لیتے ہوئے کہا

"اوہ ہیلو ہادی ایک سیدھا سادا اور بہت ڈیسنٹ بندہ ہے اور اس وقت وہ تین لڑکے تھے وہ بیچارے کیا کرسکتا تھا"
حیا کو سوہنی کا یوں ہادی کے بارے میں بولنا اچھا نہیں لگا

"وہی کرتا نہ جو معاویہ نے کیا تھا۔۔۔ اور ویسے ہی ہادی تمہیں اتنا ڈیسنٹ کب سے لگنے لگا اصل بات جلدی سے بتاؤ"
فری نے اس سے پوچھا

"اب اصل بات کیا ہونی ہے جیسے تم دونوں مجھے دیکھ رہی ہو ویسا کچھ بھی نہیں ہے"
حیا نے ان دونوں کو گھور کے کہا

"شکر ہے یار ایسا نہیں ہے ویسے اگر تمہارے پاس ان دونوں میں سے چوائس ہو تمہیں کسی ایک کو چننا پڑے تو تم کس کو اپنے لیے از آ لائف پارٹنر چنو گی"
سوہنی نے اچانک سوال کیا۔ ۔۔ اس کے سوال پر حیا کی نظر اپنے ہاتھ کی دونوں رینگز پر گئی

وہ معاویہ والی رینگ اتارنا تو چاہتی تھی مگر پتہ نہیں کیوں بھول جاتی تھی شاید معاویہ نے اس وقت تنبیہی کی تھی ڈر کی وجہ سے وہ نہیں اتار پا رہی تھی

"یہی وجہ ہو سکتی ہے بھلا اور کیا وجہ ہو سکتی ہے رینگ نا اتارنے کی"
حیا نے دل میں سوچا

"لو تم تو سوچ میں ہی پڑ گئی یہ کیا اتنا مشکل سوال ہے" سوہنی نے اس کی آنکھوں کے آگے ہاتھ لہرا کر کہا

"کیا سوال"
 اس نے غائب دماغی میں پوچھا

ارے یہی کے معاویہ اور ہادی میں سے از آ لائف پارٹنر کسی ایک کو چنا ہو تو کس کو چنو گی سوہنی نے دوبارہ اپنا سوال دہرایا

"تم بتاؤ میری جگہ اگر تم ہوتی تو کس کو سلیکٹ کرتی"
حیا نے الٹا اس سے سوال کیا

"میں تو معاویہ کو سلیکٹ کرو گی"
سوہنی نے مسکراتے ہوئے کہا

"وہ کیوں بھلا"
حیا کے ماتھے پر شکنیں پڑی

"ظاہری بات ہے ایک لڑکی ہونے کے ناطے میں تو اپنے لیے ایسا بندہ ہی چنو گی نہ جو میری پروٹیکشن اچھے سے کر سکتا ہو۔۔۔۔ اب اگر کل معاویہ وہاں نہ آتا تو سوچو کیا ہوسکتا تھا"
اس کی بات سن کر حیا کو جھرجھری آئی

"یار ویسے بات میں تو دم ہے تمہاری" فری نے بھی سوہنی کا ساتھ دیا

"چلو کلاس اٹینڈ کرنے چلتے ہیں وقت ہو گیا ہے"
حیا نے بے دلی سے کہاں اور وہاں سے اٹھ گئی

*****

"پلیز اندر سے ان کو بھلا دیں جو یونیورسٹی میں پڑھتی ہیں"
ہادی کو سمجھ ہی نہیں آیا کہ وہ واچ مین سے کیا کہہ اسے صنم کا نام معلوم نہیں کہ اور بریسلیٹ گولڈ کا تھا تو اس لیے وہ صرف اسی کو دینا چاہتا تھا

"آپ صنم بی بی کی بات کر رہے ہیں" 
واچ مین نے کنفرم کیا

"ہاں جی وہی"
ہادی کو سمجھ نہیں آیا اس نے ویسے ہی بول دیا

"سعیدہ صنم بی بی کو بتا دو ان سے کوئی ملنے آیا ہے" ساجدہ جو کہ باہر کسی کام سے جا رہی تھی، واچ مین نے اس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا

"کون آسکتا ہے ملنے"
صنم سوچتے ہوئے گیٹ پر آئی، آج فریحہ یہ کو بھی یونیورسٹی نہیں جانا اس لئے اس نے بھی اف کرلیا

"ارے آپ کیسے ہیں باہر کیوں کھڑے ہیں پلیز اندر آئے"
صنم ہادی کو اپنے گھر کے گیٹ پر دیکھ کر خوش ہوئی اور اندر آنے کے لئے کہا

"ہادی کو بھی یوں کھڑے ہونا اکورڈ لگ رہا تھا اس لئے وہ اندر آگیا

"کیسی ہیں آپّ" ہادی نے پوچھا

میں ٹھیک ہوں آپ سنائیں کیسے ہیں" صنم نے خوش دلی سے پوچھا

"میں بھی ٹھیک ہوں الحمدللہ، اس دن آپ کی ایک امانت میرے پاس رہ گئی تھی آفس جا رہا تھا تو سوچا کہ آپ کو دے دو"
ہادی نے اپنے آنے کا مقصد بتایا اور بریسلیٹ نکال کر صنم کی طرف بہت بڑھایا

یہ آپ کے پاس تھا آئی مین میں سمجھی کہ شاید میں نے اسے کہیں کھو دیا ہے"
ہادی نے اداس آنکھوں کے ساتھ اس کا مسکراتا ہوا چہرہ دیکھا یہ کومبینیشن اتنا برا بھی نہیں لگ رہا تھا پہلی ملاقات میں وہ روئی تھی اور ابھی بھی شاید۔۔۔"

"جی دراصل میری کار میں گر گیا تھا کل رات ہی مجھے ملا ہے تو سوچا آپ کو دیتا جاوں اگر آپ مائنڈ نہ کریں تو آپ سے ایک سوال پوچھو"
صنم کی آنکھیں دیکھ کر اچانک اس نے منہ سے نکالا

"جی پوچھیے"
صنم نے جواب دیا

"کیا آپ کے لینس اریٹیٹ کر رہے ہیں آپ کو یا آپ کی آنکھوں میں کچھ چلا گیا ہے"
ہادی نے پوچھا

"آپ کو ایسا کیوں لگا جبکہ میں تو لینس لگائے ہی نہیں ہیں اور نہ ہی میری آنکھوں میں کچھ گیا ہے"
صنم نے حیرت سے اسے دیکھتے ہوئے کہا

"نہیں میں آگر ڈائریکٹ پوچھتا آپکی آئیز ریڈ ہو رہی ہیں آپ کیوں رو رہی تھی آپ یقینا یہی بولتی لینس اریٹیٹ کر رہے ہیں یا آنکھوں میں کچھ چلے گیا ہے" ہادی نے مسکراتے ہوئے کہا

"نہیں میں کہتی کہ ابھی ابھی پیاز کاٹ کر ائی ہو"
صنم نے بے ساختہ بولا تو ہادی مسکرایا اور صنم بی

"ایم سوری مجھے اس طرح پوچھنے نہیں چاہیے تھا مگر آپ پہلی ملاقات میں بھی اپکی آئیز ریٹ لگی اور ابھی بھی"
ہادی نے وضاحت دینا چاہیے

"آپ سوری نہیں بولیئے مجھے آپ کی بات بالکل بری نہیں لگی"
صنم نے مسکراتے ہوئے کہا ابھی تھوڑی دیر پہلے خضر معاویہ کی لڑائی پر خضر ناعیمہ کو بہت سی باتیں سنا کر گیا تھا جس پر اس کو رونا آگیا تھا اسی وجہ سے اس کی آئیز ریڈ ہو گئی تھی

"آپ پلیز بیٹھے میں چائے کا کہہ کر اتی ہوں"
صنم نے اٹھتے ہوئے کہا

"نہیں میں اب چلوں گا"
ہادی نے اٹھتے ہوئے کہا

"ابھی تھوڑی دیر اور بیٹھے تو مجھے اچھا لگتا"
بے ساختہ صنم کے منہ سے نکلا

"پھر کبھی سہی اس وقت افس جانے کے لیے لیٹ ہو رہا ہو"
ہادی نے بات بنائی

"کیا میں آپ کا نام پوچھ سکتی ہوں"
صنم نے جھکتے ہوئے ہادی سے پوچھا

"میرا نام ہادی ہے مس صنم"
اپنے نام پر صنم بے ساختہ چونکی

"وہ ابھی واچ مین نے بولا تو مجھے پتہ چلا اس کا نام"  صنم کے چوکنے پر ہادی نے وضاحت دی اور اجازت لے کر وہاں سے چلا گیا

******

"سرجی وہ جو تین لڑکے آپ نے کل رات فون پر بولا تھا ان کا کیا کرنا ہے انہیں کل رات سے ہی حوالات میں رکھا ہوا ہے"
اسپیکٹر سعد نے معاویہ سے پوچھا

"یہاں لے کر آؤں ان تینوں کو"
معاویہ نے چیئر پر بیٹھتے ہوئے کہا انسپکٹر تھوڑی دیر میں ان تینوں کو لے کر آیا وہ تینوں ٹوٹی پھوٹی حالت میں معاویہ کو یونیفارم میں دیکھ کر مزید سہم گئے

"اور بوائز کیسا فیل کر رہے ہو اب تم تینوں"
معاویہ نے ان تینوں کو دیکھتے ہوئے کہا

"سر سوری ہمیں پتہ نہیں تھا کہ آپ پولیس میں ہے ورنہ کبھی بھی آپ سے بدتمیزی نہیں کرتے آپ پلیز ہمیں معاف کر دیں"
ا میں سے ایک لڑکے نے ہمت کرتے ہوئے معاویہ سے کہا

"یعنی میری اتنی مار کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہوا تم  لوگوں پر۔۔۔۔ یہ جو کل میں نے تم لوگوں کا نقشہ بگاڑا ہے نا یہ مجھ پر ہاتھ اٹھانے کی سزا نہیں ہے بلکہ اس لڑکی سے بدتمیزی کرنے کی ایک چھوٹی سی سزا دی ہے میں نے تم تینوں کو"

سر وہ بالکل ہماری بہن کی طرح ہے آپ پلیز ہمیں چھوڑ دیں ہمارے پیرنٹس  رات سے پریشان ہوں گے اور ہمہیں ڈھونڈ رہے ہوں گے پلیز ہم کبھی کوئی غلط کام نہیں کریں گے" دوسرے لڑکے نے بھی ہمت کی اور معاویہ سے بولا

"اب تم تینوں اپنے باپ کا نام اور ایڈریس بتاؤ
سر پلیز ان کو یہاں نہیں بلوائے ہم وعدہ کرتے ہم کبھی بھی آپ کو شکایت کا موقع نہیں دیں گے"
ایک لڑکا باقاعدہ روتے ہوئے کہنے لگا

"زیادہ بات کرنے کی ضرورت نہیں ہے جتنا میں پوچھ رہا ہوں صرف اتنا جواب دو"
معاویہ نے شہادت کی انگلی اٹھاتے ہوئے ان لڑکوں سے کہا

"انسپیکٹر سعد ان تینوں سے ان کے گھر کے فون نمبر لو ان کے پیرنٹس کو بلاؤ تاکہ ان کو بھی اپنے اولاد کے کرتوتوں اور کارستانیوں کا پتہ چلے"

جاری ہے

0 comments:

Post a Comment