Itni mohhbat karo na
By zeenia sharjeel
Epi # 11
ہادی اور حیا ڈنر کررہے تھے ڈنر کے دوران ان کی برابر والی ٹیبل پر تین لڑکے آکے بیٹھے جو کافی آوارہ ٹائپ لگ رہے تھے اور مسلسل حیا کو گھور رہے تھے
"چلو حیا لیٹ ہو رہے ہیں آنٹی انکل ویٹ کر رہے ہوگے" ہادی نے حیا سے کہا
اتنے میں ایک بوڑھا ویٹر ان لڑکوں کا آرڈر لے کر آیا اس کے ہاتھ میں موجود ڈرنگ ان میں سے ایک لڑکے کے اوپر غلطی سے گر گئی
"اندھا ہے تو آنکھیں نہیں ہے تیرے پاس" وہ لڑکا چلا کر بولا
"سوری سر غلطی ہو گئی"
ویٹر پریشان ہوکر کہنے لگا
"تیرے سوری کہنے سے دھل جائے گی میری ساری شارٹ خراب کردی"
لڑکا مزید بدتمیزی سے بولا
"اے مسٹر تمہیں تمیز نہیں اپنے سے بڑے عمر کے آدمی سے بات کرنے کی" حیا ایک دم کھڑی ہو کر لڑکے سے بولی
"کیوں یہ تمہارا باپ ہے جو تمہیں برا لگ رہا ہے"
اس لڑکے نے حیا سے پوچھا
"شٹ آپ جو میرے بابا کو کچھ کہا جا کر اپنے باپ کی بےعزتی کرو جس نے تمہیں کسی سے بات کرنے کی تمیز نہیں سکھائی ہے" حیا کو ایک دم غصہ آیا
"حیا کیا ہوگیا ہے تمہیں چلو یہاں سے"
ہادی فورا حیا کے پاس آیا اس کا ہاتھ کھینچ کر وہاں سے لے گیا
"کیا ضرورت تھی حیا ان لوگوں کے منہ لگنے کی"
بیسمنٹ کار پارکنگ ایریا میں پہنچ کر ہادی نے حیا سے کہا
"دیکھا نہیں تھا تم نے کتنا ظعیف انسان تھا وہ بیچارہ، وہ لڑکا ان سے بدتمیزی کر رہا تھا"
حیا ابھی باتیں کر رہی تھی جب ان دونوں کو پیچھے سے کسی اور کی موجودگی کا احساس ہوا
"کیا بول رہی تھی اوپر اب ذرا بول کے دکھاو"
وہ تینوں لڑکے بیسمنٹ میں ان دونوں کے سامنے کھڑے ہوئے تھے
****
"سر میں آپ کی بتائی ہوئی جگہ پر پہنچ گیا ہوں کہاں ہیں آپ"
معاویہ نے چاروں طرف نظر دوڑاتے ہوئے کہا
"سوری ینگ مین ایک ایمرجنسی آ گئی تھی جس کی وجہ سے میں آ نہیں سکو گا تم سے معذرت چاہتا ہوں فون کرکے بتا نہیں سکا اور تمہیں یہاں آنا پڑا"
ڈی۔ایس۔پی افتخار نے معاویہ کو کسی ضروری کام بلوایا تھا
"کوئی پرابلم نہیں ہے سر میں کل آفس میں آجاتا ہوں ہم کیس وہی ڈسکس کر لیں گے جس کے لئے آپ نے مجھے بلایا تھا"
معاویہ واپس جانے کے ارادے سے باہر نکلا
"نہیں آفس میں نہیں آنا۔۔۔۔ فل الحل تو اپنے پرسنیلٹی مسئلے کو لے کر میں شہر سے باہر گیا ہوا ہوں، واپس اکر ہی ڈسکس کرو گا میں۔۔۔ اگر آفس میں ڈسکس کرنا ہوتا تو تمہیں یہاں نہیں بلواتا میں اپنی اور تمہاری ملاقات کو کچھ آفیسرز کی نظر سے خفیہ رکھنا چاہتا ہوں خیر ایک ہفتے میں میں تم سے خود کونٹیکٹ کرتا ہوں"
ڈی ایس پی افتخار نے معاویہ سے کہا
"او کے سر جیسا آپ مناسب سمجھے"
معاویہ نے کال ڈسکنیکٹ کر کے پارکنگ ایریا کی طرف چلا گیا
****
"دیکھو بات کو زیادہ بڑھاو نہیں وہ کچھ نہیں بول رہی تھی چلو حیا یہاں سے"
ہادی ان لڑکوں سے کہتا ہوا حیا کی طرف پلٹا، اس نے ایک نظر بیسمینٹ میں نظر دوڑائی جہاں گاڑیوں کے علاوہ کوئی دوسرا انسان نہیں تھا۔۔۔ وہ حیا کو لے کر جلدی وہاں سے نکلنا چاہتا تھا
"ایک منٹ ایک منٹ اتنی بھی جلدی کیا ہے جانے سے پہلے تھوڑا انٹرٹینمنٹ ہوجائے پھر چلے جانا"
ان میں سے دو لڑکوں نے ہادی کو پکڑ کر اس کی بیلٹ نکال کر دونوں ہاتھ پیچھے موڑ کر باندھ دیے
"یہ کیا کر رہے ہو چھوڑو اسے"
حیا ہادی کی طرف جانے لگی تو تیسرے لڑکے نے اس کا بازو پکڑا
"چھوڑو اس کا ہاتھ حیا نکلو یہاں سے تم"
ہادی نے اپنے آپ کو ان دونوں لڑکوں سے چھڑانے کی پوری کوشش کی مگر ان دونوں نے ہادی کے ہاتھ باندھ کر اسے بے بس کیا اب وہ اسے کھینچ کر کار کی طرف لے کر جا رہے تھے
"چھوڑ میرا بازو ورنہ میں تمہیں جان سے مار ڈالوں گی"
حیا نے اپنا بازو چھڑاتے ہوئے اس لڑکے سے کہا
"ارے ایسے کیسے چھوڑ دو بازو پاگل ہو جو ہاتھ آیا ہوا مال ایسے ہی جانے دو"
اس نے خباثت سے حیا کو دیکھتے ہوئے کہا،،، اس کے دونوں ساتھی بھی ہادی کو کار میں ڈال کے اپنے دوست کے پاس آگئے
"کیا خیال ہے آج تو فری میں مزے کرنے کا موقع مل گیا ہے، ایٹم بھی زبردست ہے فلیٹ میں لے کر چلیں یا یہی کار میں"
ایک نے حیا کو غلیظ نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا
"پلیز چھوڑ دو مجھے کوئی مدد کرو میری"
حیا ان کی بات سن کر خوف سے کانپ گئی اور چیخ چیخ کر مدد کے لئے پکارنے لگی
"ابے منہ بن کر پہلے اس کا، یہاں نہ کوئی آجائے جلدی سے نکلو یہاں سے اس کو لے کر"
دوسرے لڑکے نے بولا مگر اس سے پہلے وہ حیا کا منہ بند کرتا ایک آواز ابھری
"اس کا بازو فورا چھوڑ دو"
وہ تینوں چونک کر مڑے حیا نے بھی مڑ کر دیکھا
"معاویہ"
حیا کے منہ سے بے اختیار اس کا نام نکلا۔ ۔۔۔ یہ آج پہلی دفعہ تھا کہ حیا نے اس کا نام اپنے منہ سے لیا تھا اور شاید آج پہلی ہی دفعہ وہ اس کو اپنے سامنے پا کر خوش ہوئی تھی
حیا کے منہ سے نام سن کر لڑکے کے ہاتھ کی گرفت حیا کے بازو پر ڈھیلی ہوئی جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حیا بھاگ کر معاویہ کے پاس آئی
"اے ہیرو چل نکل یہاں سے اور اس لڑکی کو یہیں چھوڑ دے"
ان میں سے ایک لڑکے نے پلان چوپٹ ہوتے دیکھ کر معاویہ سے کہا
"ایک منٹ تم تینوں سے بعد میں بات کرتا ہوں"
معاویہ نے ان لڑکوں کو دیکھ کر کہا اور حیا کی طرف مڑا
"یقین ان معصوموں سے بھی تم نے ہی پنگا لیا ہوگا، پی-ایچ-ڈی جو کیا ہوا ہے اس کام میں"
وہ حیا کی جیکٹ کی زپ بند کرتے ہوئے ایسے بات کر رہا تھا جیسے کسی بچے نے کوئی کام بگاڑ دیا ہو، اب اس کو سنوارنا ہے
"اے سمجھ نہیں آ رہی تجھے اس سے کیا بات کر رہا ہے، چل ڈیل کر لیتے ہیں لڑکی پہلے ہمہیں ملی تھی اس لئے پہلے ہم انجوائے کریں گے بعد میں تو کر لینا"
اس لڑکے نے اب کے معاویہ کو آفر کرتے ہوئے کہا
"ویٹ بوائیز ابھی سب مل کر انجوائے کریں گے"
معاویہ نے اس لڑکے کو بولا اور حیا کی کمر پر اپنے دونوں ہاتھ رکھ کر اسے اونچا اٹھا کر گاڑی کی چھت پر بٹھایا جس پر حیا کی ہلکی سی چیخ نکلی
"اس کار سے اترنا نہیں ہے تمھیں جب تک میں نہ بولو"
حیا نے ایسی تابعداری سے گردن ہلائی جیسے وہ ہمیشہ اس کی بات مانتی ہوں، جسے دیکھ کر معاویہ چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ ابھری
اب وہ اپنی پاکٹ سے لائٹر موبائل والٹ آئی ڈی کارڈ سگریٹ کا پیکٹ کیز ایک ایک چیز نکال کر حیا کی گود میں رکھ رہا تھا۔۔۔ اس کی ساری کاروائی حیا سمیںت وہ تینوں لڑکے بھی ہونقوں کی طرح دیکھ رہے تھے
"اب بکواس کرو کیا بھونک رہے تھے"
آستین کے کف اوپر کی طرف فولڈ کرتا ہوا وہ ان تینوں کی طرف آیا
"دیکھ اس لڑکی کو پہلے ہم"
بات مکمل ہونے سے پہلے معاویہ نے ایک زور دار کک اس کے پیٹ پر ماری تکلیف سے چیختے ہوئے پیٹ پر ہاتھ رکھ کر وہ جیسے ہی جھکا تو پوری شدت سے ایک زور دار مکہ اس کی ناک پر دے مارا جس سے اس کی ناک کی ہڈی ٹوٹ گئی اور تیزی سے ناک سے خون نکلنے لگا۔۔۔۔
دوسرا لڑکا جو صحت میں ان دونوں کے مقابلے میں اچھا تھا اس نے آگے بڑھ کر معاویہ کو پنچ مارنا چاہا معاویہ نے اس کی کلائی پکڑ کر پیچھے کی طرف موڑی اور ہاتھ کو اس انداز میں جھٹکا دیا وہ درد سے بلبلا اٹھا اور اپنا ہاتھ پکڑ کر زمین پر بیٹھ گیا اور زور زور سے چیخنے لگا۔۔۔۔
تیسرا لڑکا معاویہ کو مارنے کے لئے ادھر ادھر کوئی چیز تلاش کرنے لگا اس کی نظر ایک روڈ پر پڑی جسے اٹھا کر وہ معاویہ کے پاس آیا مگر ایک کی ناک اور دوسرے کا ٹوٹا ہوا ہاتھ دیکھ کر وہ گھبرائے ہوئے انداز میں معاویہ سے بولا
"مجھے جانے دو میں تمہیں نہیں ماروں گا اور لڑکی بھی تمہاری"
یہ کہہ کر اس نے روڈ نیچے پھینکا اور تیزی سے بھاگنے لگا مگر معاویہ نے اسکو پکڑ کر سامنے پلر پر زور سے اس کا سر مارا اور جب تک مارتا رہا جب تک اس کا سر نہیں پھٹ گیا،، جب وہ معافیاں مانگنے لگا تو اس کو بھی لا کر ان دونوں کے پاس پھینکا۔۔۔۔
نیچے پڑی ہوئی روڈ کو اٹھا کر وہ ان تینوں کے پاس آیا
"اتنی انجوائمنٹ کافی ہے یا اور انجوائے کرنا ہے"
حیا جو مزے سے منہ کھولے ہوئے ان تینوں کی پٹائی لگتے ہوئے دیکھ رہی تھی اچانک اسے یاد آیا
"ہادی"
حیا جلدی سے جمپ مارکر گاڑی سے اتری اور اس گاڑی کے پاس پہنچی جہاں ان لڑکوں نے گاڑی میں ہادی کو زبردستی ڈالا تھا۔۔ ۔ گاڑی کا ڈور کھول کر اس نے جلدی سے ہادی کے ہاتھ کھولے اور منہ سے بھرے ہوئے ٹشو نکالے
"تم ٹھیک ہو"
ہادی نے کھانستے ہوئے ہوئے حیا سے پوچھا
"ہاں میں ٹھیک ہو پر تم ٹھیک ہو"
حیا نے فکرمندی سے ہادی سے پوچھا
"ٹھیک ہے پھر ہمہیں یہاں سے نکلنا چاہیے جلدی سے اٹھو"
ہاتھ میں روڈ اٹھائے ہوئے اب معاویہ ان تینوں کی مزید تواضع کر رہا تھا جب وہ دونوں اپنی کار اسٹارٹ کر کے وہاں سے نکل گئے
ان تینوں کی چیخوں کی آواز سن کر ہوٹل کے گارڈز اور چوکیدار بیسمنٹ میں آئے تو انہوں نے معاویہ کو ان لڑکوں کی مزید درگت بنانے سے روکا
معاویہ نے گاڑی کی طرف دیکھا جہاں پر اس نے حیا کو بٹھایا تھا اب وہاں پر حیا موجود نہیں تھی معاویہ کی ساری چیزیں نیچے گری ہوئی تھی اس نے موبائل اٹھا کر انسپکٹر سعد کو کال کی
"ابھی پولیس آکر ان تینوں کو لے جائے گی جب تک ان تینوں پر نظر رکھو اپنا ای ڈی کارڈ دکھاتے ہوئے معاویہ نے گارڈ سے کہا اس نے تائید میں سر ہلایا اور معاویہ اپنی چیز سے اٹھا کر وہاں سے نکل گیا
جاری ہے
Sunday, January 20, 2019
Subscribe to:
Post Comments (Atom)

0 comments:
Post a Comment