Itni mohhbat karo na
By zeenia sharjeel
Epi # 10
"اب جاکر تمہیں فرصت ملی ہے یہ دیکھنے کی کہ میں زندہ ہوں یا پھر اس دنیا سے کوچ کر گئی"
ہادی کو دیکھ کر حیا کی طبیعت پر خوشگوار اثر پڑا اور وہ اپنے ڈر اور خوف کو بھول کر واپس اپنے اسٹائل میں آگئی
"یار آتے ہی گولا باری شروع کر دی سانس تو لینے دیا کرو"
ہادی نے مسکراتے ہوئے بیڈ کے پاس رکی ہوئی چئیر پر بیٹھ کر کہا
"یعنی کل تک میں سارا دن بخار میں پھکتی رہی اور تم نے خبر لینا تو دور کی بات ایک فون کرنا تو ضروری نہیں سمجھا بس اتنا ہی احساس ہے تمہیں میرا"
حیا نے اداس ہوتے ہوئے کہا
"حیا انکل نے تمہاری طبیعت کا بتایا ہی نہیں مما نے آنٹی کو فون کیا تو انہوں نے اپنا اور تمہارا بتایا جبھں بابا اور مما میں تم سے ملنے آئے ہیں"
بلال انکل اور فضا آنٹی بھی آئے ہیں اور تم نے مجھے بتایا نہیں"
حیا نے بیڈ سے اترتے ہوئے کہا
"ارے روکو تو بات تو سنو"
حیا اٹھ کر باہر جانے لگی ہادی جلدی سے بولا
"کیا ہے بولو"
حیا نے احسان کرنے والے اسٹائل میں کہا
"کیا آج رات ہم دونوں باہر دنر کریں"
ہادی نے مدھم لہجے میں بہت امید سے حیا کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
"کس خوشی میں" حیا کا دل تو چا رہا تھا ہادی کے ساتھ باہر جانے کا مگر جلدی اسے خوش نہیں کرنا چاہتی تھی
"کچھ اسپیشل بتانا ہے تمہیں"
ہادی نے بغور اس کا چہرہ دیکھتے ہوئے کہا
ایک پل ہادی کی بات سن کر حیا کا دل زور سے دھڑکا مگر پھر اندر سے شرارت پڑکی
"ڈنر کا آئیڈیا اتنا برا تو نہیں ہے مگر کیا ہے نہ میرا موڈ نہیں ہو رہا"
حیا مسکراہٹ دبا کر روم سے باہر چلی گئی
****
"تم نے آفس میں بتایا نہیں کہ حیا کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے"
بلال میں صوفے پر بیٹھتے ہوئے سے زین سے شکوہ کیا
"پرسوں رات میں آیا تھا تو شاید خواب میں ڈر گئی تھی اسی وجہ سے فیور ہو گیا اب تو ماشاء اللہ ٹھیک ہے" زین نے بلال کو بتایا
"اور تمہیں یہ کیا ہوگیا یہ سر پر" فضا نے حور کے سر پر سنی پلاسٹ دیکھ کر پوچھا
"کل گلوسری کرنے کے لئے جا رہی تھی، ایک لڑکے نے بیگ چھیننے کی کوشش کی اور دھکا دے دیا تو سر پر چوٹ لگ گئی"
حور نے کل والا واقعے یاد کر کے کہا
کل واپسی آنے کے بعد زین اس سے الک خفا ہوا تھا کہ اکیلے باہر نکلنے کی کیا ضرورت تھی
"تمہاری جگہ میں ہوتی نہ جوتی اتار کر سڑک پر اس لڑکے کی توازہ کردیتی"
فضا نے غصہ کرتے ہوئے کہا
"آج کل کے بچوں کو ذرا تمیز تہذیب نہیں ہے نہ بڑوں کا لحاظ"
بلال نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا
"سب ایک جیسے نہیں ہوتے ہیں بلال بھائی اب کل کی ہی بات دیکھ لیں، جب اس لڑکے نے میرا بیگ چھین کر مجھے دھکا دیا تبھی دور سے ایک اور لڑکا آیا اس نے اپنی کار روک کر نہ صرف لڑکے کو پکڑنے کی کوشش کی بلکہ مجھے بھی سہارا دے کر اٹھایا اور گھر تک وہیں چھوڑ کر گیا۔۔۔ بہت تہذیب والا لڑکا تھا اور لگ رہا تھا کہ اس کے والدین نے اس کی پرورش بہت اچھے اقدار پر کی ہے"
حور بلال کو بتا رہی تھی تو زین نے چونک کر اسے دیکھا کیوکہ حور نے اس کو یہ بات نہیں بتائی تھی
"ارے واہ آگئی میری بیٹی کیسی طبیعت ہے بیٹا"
روم میں داخل ہوئی تو بلال نے مسکراتے ہوئے حیا سے پوچھا
"انکل اب تو کافی بہتر ہے طبیعت، آپ کو دیکھ کر تو کافی فریش فیل کررہی ہوں خود کو" حیا نے مسکراتے ہوئے بلال سے کہا
اتنے میں ہادی بھی روم میں آیا ہلکی پھلکی باتوں کے ساتھ چائے سے لطف اندوز ہو رہے تھے کہ اچانک ہادی نے حیا کو دیکھتے ہوئے کہا
"حیا ریڈی ہو جاؤ ورنہ واپسی لیٹ ہوگئی پھر"
ہادی کی بات پر حیا نے گھور کر ہادی کو دیکھا
"کیوں کہیں کا پروگرام ہے تم دونوں کا"
بلال نے ہادی سے پوچھا
"جی بابا وہ حیا کہہ رہی تھی آج ڈنر باہر کرنے کا موڈ ہو رہا ہے تو میں نے کہا میں لے چلتا ہوں"
ہادی نے شرارت سے حیا کو دیکھتے ہوئے کہا اور حیا نے اس کو حیرت سے گھور کر دیکھا
"کوئی ضرورت نہیں ہے باہر ڈنر کرنے جانے کی آج ہی طبیعت سنمبھلی ہے اور تمہیں چسکے لگ گئے باہر کھانا کھانے کے ہیں۔۔۔ہر وقت ہادی کو تنگ مت کیا کرو"
سب کے سامنے ہی حور نے حیا کی کلاس لے لی جس پر اس کا منہ بن گیا
"ارے نہیں آنٹی پریشانی کیسی مجھے کوئی پریشانی نہیں ہے" ہادی جلدی سے بولا
"ہاں حو جانے دو بچوں کو، اچھا ہے حیا کی طبیعت فریش ہو جائے گی ایک دن میں مرجھا سا گیا ہی اس کا چہرہ"
فضا نے حور کو بولا
"ابھی جائے گے تو پھر کب آئے گیں حالات بھی ٹھیک نہیں ہے"
حور کو پریشانی ہونے لگی
"ہادی ساتھ ہی تو ہے پھر کیا فکر ہے بیٹا آپ لوگ جلدی آ جانا"
زین نے اس بار کہا
حیا مسکرا کر تیار ہونے چلی گئی
"اوکے میں چینج کرکے آتی ہوں"
تھوڑی دیر میں حیا کیپری اور ٹاپ پہن کر سب کو خداحافظ کہنے آئی
"جیکٹ بھی لو حیا باہر سردی ہے"
حور نے حیا سے کہا
حیا نے جیکٹ لی پھر ہادی کے ساتھ باہر نکل گی
*****
"اچھا نہ موڈ ٹھیک کرو اپنا ہادی ڈرائیونگ کرتے ہوئے حیا کا پھولا ہوا منہ دیکھ کر مسکرا کر بولا
"کیا بول رہے تھے تو وہاں پر کے میرا دل چاہ رہا ہے باہر ڈنر کا"
حیا نے آنکھیں سکھیڑ کر کہا
"تو اس بات پر موڈ خراب ہے تمہارا"
ہادی نے مسکراتے ہوئے کہا
"پتہ ہے آب مما کا واپسی میں کتنا لمبا لیکچر دینا ہے مجھے اچھی خاصی کلاس ہوگی میری"
حیا نے ہادی کو گھورتے ہوئے کہا
"اوکے میں واپسی میں انٹی کو کہہ دوں گا کہ میں لے کر گیا تھا حیا کو، حیا کا تو بالکل دل نہیں چاہ رہا تھا"
ہادی نے حیا کو دیکھتے ہوئے کہا
"یہ کیا ہے میٹ کے نیچے حیا کو گاڑی میں کوئی چمکتی ہوئی چیز نظر آئی اس نے جھگ کر اٹھایا تو وہ بریسلیٹ تھا
"یہ تو کسی لڑکی کا بریسلیٹ ہے اور تمہاری کار میں کیا کر رہا ہے"
حیا کے اندر کا جاسوس جاگا
"ارے یہ تو شاید اسی لڑکی کا ہے جسے دو دن پہلے میں نے کار میں لفٹ دی تھی ہادی کو صنم کی یاد آئی
"اچھا تو اب یہ کام بھی شروع کر دیا ہے تم نے"
حیا نے تپ کر کہا
"کیا کام"
ہادی نے ناسمجھی سے حیا کو دیکھا
"یہی لڑکیوں کو لفٹ دینے کا کام"
حیا نے کہا
"ارے یار وہ بیچاری پریشان تھی سمجھو بس میں نے اس کی مدد کی اور گھر چھوڑ کر ایا
ہادی نے اصل بات کو گول کرتے ہوئے حیا کو بتایا
"اور تمھیں ابھی تک اس بیچاری سے بڑی ہمدردیاں ہو رہی ہیں"
حیا نے شیشے سے باہر دیکھتے ہوئے کہا
"حیا کیا تم جیلس ہو رہی ہو"
ہادی نے مسکراہٹ دباتے ہوئے کہا
"میں کیوں جیلس ہو گئی اس بریسلیٹ والی سے مجھے بھلا کیا تم سے زندگی بھر اسے لفٹ کراتے رہو"
حیا نے بریسلٹ ڈیش بورڈ پر رکھتے ہوئے کہا جیسے ہادی نے اٹھا کر اپنی پاکٹ میں رکھ لیا
****
"زین اور حور بھابھی آج ہم دونوں آپ لوگوں سے ایک ضروری بات کرنے آئے ہیں" بلال نے ان دونوں کو دیکھ کر بات کا آغاز کیا
"ایسی کیا بات ہے بھائی جو تم دونوں اتنا سیریس ہوگئے ہو۔۔۔ اچھا بولو میں سن رہا ہوں کیا بات ہے"
زین نے مسکراتے ہوئے کہا
"یو سمجھئے زین بھائی ہمیں ضروری بات نہیں کہنی بلکہ ہم آپ سے کچھ مانگنے آئے ہیں ایک بہت قیمتی شے"
فضا نے مسکراتے ہوئے کہا
"جو بھی بات کہنی ہے یار بلا جھجھک کہو ایسے کیا پہلیاں بجھارہے ہو۔۔۔۔ تم اور اشعر ہی میری فیملی ہو"
زین نے مسکراتے ہوئے کہا
"زین ہم دونوں کی یہ دلی خواہش ہے بلکہ ہم دونوں کی ہی نہیں ہادی کی بھی۔۔۔۔ ہم ہادی کے لئے حیا کا ہاتھ مانگنے آئے ہیں پلیز انکار نہیں کرنا"
بلال نے زین اور حور کو دیکھتے ہوئے کہا
زین اور حور چپ ہو کر ایک دوسرے کو دیکھنے لگے
"بولیے زین بھائی آپ چپ کیوں ہیں"
خاموشی محسوس کرتے ہوئے فضا نے زین سے پوچھا
"کیا بولو مجھے تو کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا"
زین نے بلال اور فضا کو پھر حور کو دیکھ کر جواب دیا حور میں بالکل خاموش تھی زین کی طرح
"بلال تمہیں پتا ہے نہ حیا میرے لیے کیا ہے"
زین سوچتے ہوئے بلال سے کہا
"دیکھو زین حیا جتنی تمہیں عزیز ہے اتنی مجھے بھی عزیز ہے میں نے اسے ہمیشہ اپنی بیٹی سمجھا ہے بلکہ بیٹی ہی ہے وہ میری، میں اس وقت تمہاری اور بھابھی کی دلی کیفیت سمجھ رہا ہوں، تم پہلے حیا سے ہادی کے لئے پوچھو۔۔۔۔ اس کی مرضی بہت اہمیت رکھتی ہے اور پھر اس کے بعد ہی ہم کوئی دوسری بات کریں گے"
بلال نے سبھاو سے بات کرتے ہوئے کہا
*****
"اب کس بات پہ ناراض ہو"
ہوٹل کے خوشگوار ماحول نے حیا کی طبیعت پر اچھا اثر ڈالا تھا مگر پھر بھی وہ ہادی سے بات نہیں کر رہی تھی
"میں نے کب کہا کہ میں ناراض ہوں"
حیا نے ایک نظر ہادی کو دیکھا اور بولی
"اوکے مان لیا تم ناراض نہیں ہوں لیکن میں پھر بھی سوری کرتا ہوں اور اب آئندہ سے کبھی بھی کسی لڑکی کو کار میں لفٹ نہیں دوں گا سوری"
ہادی نے مسکرا کر حیا کو دیکھتے ہوئے کہا
"تم بار بار غلطیاں کرتے اور پھر سوری کرتے آخر ایسا کب تک چلے گا"
حیا نے ناراضگی سے پوچھا
"یہ پلان تو میرا ساری زندگی کا ہے میں چاہتا ہوں تم ساری زندگی مجھ سے ایسے ہی ناراض ہوں اور میں تمہیں مناتا رہو"
ہادی نے اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا
"ہادی"
حیا کی آنکھیں ایک پل کو جھکی
"حیا مجھے نہیں پتہ محبت کیا ہوتی ہے مگر تم تمہیں سوچنا تم سے ملنا باتیں کرنا اور تمہارے ساتھ وقت گزارنا مجھے بہت اچھا لگتا ہے۔۔۔۔ مجھے پتہ ہی نہیں چلا کب میرے احسسات تمہارے بارے میں بدلے میری خواہش ہے تم ساری زندگی میری آنکھوں کے سامنے یوں ہی ہنستی رہو مسکراتے رہو اگر واقعی اس جذبے کو محبت کہتے ہیں تو مجھے تم سے محبت ہے"
ہادی ایک جذب کے ساتھ بول رہا تھا جسے سن کر حیا کے دل کی دھڑکنیں تیز ہوگئیں۔۔۔ آگے سے اس سے کچھ بولا ہی نہیں گیا
"سنو کیا تم مجھے کرایہ دے سکتی ہوں"
ہادی نے سنجیدگی سے حیا سے کہا
"کرایہ۔۔۔ مگر کس چیز کا کرایہ"
حیا نے حیرانگی سے اس سے پوچھا
"کب سے میرے دل میں رہ رہی ہو اس چیز کا کرایہ"
ہادی نے سیریس انداز میں کہا دونوں نے ایک پل ایک دوسرے کو دیکھا پھر دونوں ہی مسکرا دیے۔۔۔۔۔مسکراتے ہوئے ہادی نے آگے ہاتھ بڑھا کر حیا کا ہاتھ پکڑا تو اس کی ہنسی کو بریک لگا۔ ۔۔۔ اپنی پاکٹ سے رنگ نکال کر پہنانے لگا تو اس کی انگلی میں پہلے سے ہی رنگ موجود تھی
"اس کو میں کیسے بھول گئی تھی"
حیا کو اپنے انگلی میں وہ رنگ دیکھ کر بہت کچھ یاد آیا
"ہے تو یہ رنگ بھی اچھی، لیکن اگر تم میری دی ہوئی رنگ پہنوگی تو مجھے زیادہ اچھا لگے گا"
ہادی نے حیا کی انگلی سے معاویہ کی انگوٹھی اتارنے کی کوشش کی مگر وہ اتر نہیں رہی تھی
"اف یہ تو اتر ہی نہیں رہی ہے تمھاری انگلی سے، چلو اپنی رینگ میں دوسری انگلی میں پہنا دیتا ہوں"
ہادی نے بیچارگی سے کہا اور حیا کی دوسری انگلی میں اپنی رنگ پہنا دی
جاری
Sunday, January 20, 2019
Subscribe to:
Post Comments (Atom)

0 comments:
Post a Comment