Sunday, January 20, 2019

itni mohbbat karo na (season 2) episode 16

🌹: Itni mohbat karo na
By zeenia sharjeel
Epi # 16

"ہاں بولو ہادی فون کیوں کیا ہے اس ٹائم"
کال رسیو کرکے معاویہ نے ایسے کہاں جیسے وہ کافی بزی ہو

"کون بات کر رہا ہے"
پہلے تو ہادی نے اسکرین کو غور سے دیکھا اس نے حیا کا ہی نمبر ملایا ہے یا پھر کسی اور کا

"میں معاویہ بات کر رہا ہوں پتہ نہیں حیا نے تمہیں میرے بارے میں کچھ بتایا بھی ہے کہ نہیں خیر یہ بتاؤ تم نے فون کس لیے کیا" معاویہ نے اس سے ایسے بات کر رہا تھا جیسے کوئی پرانا دوست ہو

"حیا کا فون تمہارے پاس کیا کر رہا ہے" ہادی کو سمجھ میں نہیں آیا تو اس سے پوچھا

"حیا کا فون ہی نہیں حیا بھی یہیں موجود ہے"
معاویہ نے ہادی کو جواب دیا

"حیا سے بات کراو میری"
ہادی کو کچھ صورتحال سمجھ میں نہیں آرہی تھی کہ کیا کہیے، اتنی رات کو حیا معاویہ کے پاس کیا کر رہی تھی اس لیے اس نے حیا کا پوچھا

"تھوڑی دیر پہلے فون کرتے تو اس سے بات ہو سکتی تھی لیکن وہ ابھی ابھی سوئی ہے آپ مجھے اسے ڈسٹرب کرنا مناسب نہیں لگ رہا"
معاویہ نے سوئی ہوئی حیا کہ بالوں میں اپنی انگلیاں پھیرتے ہوئے کہا

"حیا کہاں پر ہے اس وقت"
ہادی کو سمجھ میں نہیں آ رہا تھا وہ کیا پوچھے

"آف کورس اپنے گھر میں اپنے بیڈروم میں"
معاویہ نے بیڈ کے گراؤن سے ٹیک لگا کر سگریٹ سلگاتے ہوئے جواب دیا

"اور تم۔۔۔۔ میرا مطلب ہے تم کہاں پر ہو"
جو وہ سمجھ رہا تھا وہ کیسے زبان پر لا سکتا تھا

"فنی کوئیسٹن، ابھی میں نے تمہیں بتایا تو ہے حیا اپنے گھر پر ہے یہی میرے برابر میں سو رہی ہے اور میں اس کے موبائل سے تم سے بات کر رہا ہوں تو میں کہاں ہو سکتا ہوں"
معاویہ نے ہنستے ہوئے کہا

"تو تم حیا کہ بیڈ روم میں کیا کر رہے ہو"
ہادی نے غصے میں معاویہ سے کہا

"یہ تو کافی پرسنل سوال ہے میں اپنی پرسنل باتیں اور چیزیں کسی دوسرے کے ساتھ شیئر نہیں کرتا۔۔۔ حیا نے تم سے شاید بات نہیں کی ہو یا وہ تمہیں کھل کر نہیں کہنا چاہ رہی ہوں مگر یہ جو بھی آج ڈراما ہوا ہے اس کو ختم کر دو یقین جانو اس میں ہی ہم تینوں کے لئے بہتری ہے"
معاویہ نے ہادی کو مخلصانہ مشورہ دیا ہادی نے بغیر کوئی جواب دئیے کال ڈسکنکٹ کردی

"ناراض نہیں ہونا جانم میں نے تمہیں پہلے ہی کہا تھا بعد میں جو ہوگا وہ تمہیں اچھا نہیں لگے گا"
معاویہ نے برابر میں لیٹی ہوئی حیا کے گال پر انگلی پھیرتے ہوئے کہا اور بچا ہوا سگریٹ کا ٹکڑا وہی پھینکا اور جس مقصد کے لئے آیا تھا وہ کام کرنے لگا
 
****

صبح جیسی حیا کی آنکھ کھلی سامنے گھڑی میں ٹائم دیکھا تو اس کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئی اف اتنی دیر کیسے سوگئی میں،،، کالج کا ٹائم ہی نکل گیا آج تو اس نے سوہنی اور فری کو بھی ہادی اور اپنی انگیجمینٹ کے متعلق بتانا تھا۔۔۔۔یہ سوچ آتے ہیں اس کے چہرے پر دلفریب مسکراہٹ آئی اپنی انگلی پر نظر پڑی تو وہاں پر رینگ موجود نہیں تھی

"کہاں جا سکتی ہے رات کو تو انگلی میں ہی تھی"
وہ ابھی خود سے مخاطب ہوئی تھی کہ اس کے روم کا دروازہ زور سے کھلا اور ہادی اندر داخل ہوا

"کیوں کیا تم نے ایسا میرے ساتھ" ہادی نے حیا کو دونوں بازو سے تھام کر غصے میں پوچھا بکھرا ہوا حلیہ سرخ آنکھیں رات بھر جاگنے کی چغلی کھا رہی تھی

"کیا ہو گیا ہے کیا کر دیا میں نے"
حیا کو اتنا سنجیدہ کبھی بھی نہیں لگا نہ اسے اس کی بات سمجھ آئی۔۔۔ ہادی کی نظر ڈسٹبن کے پاس پڑی ہوئی رینگ پر گئی اس نے لب بینچ کر وہ رینگ اٹھائی

"جب تمہیں یہ رشتہ قبول نہیں تھا تو کیوں مذاق بنایا تم نے میرے جذبوں کا میرے ماں باپ کا اور کیوں یہ کل ڈرامہ رچایا"

"تم اس رینگ کو لے کر مجھ سے ناراض ہو رہے ہو یہ تو کل رات کو گر گئی تھی لاؤ مجھے دو میں پہن لیتی ہوں"
حیا نے اس کے ہاتھ سے رینگ لینی چاہی

"تم اس قابل نہیں ہوں کے یہ رینگ واپس تمھیں پہنائی جائے"
ہادی نے حیا کا ہاتھ جھٹکتے ہوئے کہا

"تم مجھ سے اس طرح بات کرکے میرا دل دکھا رہے ہو ہادی، جو بات بری لگی ہے وہ بولو مگر اس طرح کی باتیں نہیں کروں مجھ سے"
اب حیا رو دینے والی ہوئی

"تو پھر بتاؤ کل رات کو کون تھا بیڈ روم میں تمہارے ساتھ"
ہادی نے حیا پر نظریں گاڑھتے ہوئے پوچھا

"ہادی تمیز سے بات کرو یہ کیا بکواس ہے"
حیا اس کی بات سن کر تڑپ اٹھی وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی ہادی اس کے بارے میں ایسا سوچ سکتا ہے

"میری باتیں بکواس لگ رہی ہے تمہیں اور جو بکواس کل رات کو تمہارے عاشق نے میرے ساتھ کی ہے وہ کیا"
حیا کو ہادی وہ ہادی نہیں لگ رہا تھا جسے وہ جانتی تھی

"تم میرے اوپر الزام لگا رہے ہو ہادی" حیا کی آنکھوں میں آنسو آنے لگے

"میں الزام لگا رہا ہوں تم پر تو پھر یہ کیا ہے"
ہادی نے بیڈ کے پاس پڑا ہو سیگرٹ کا ٹکڑا اٹھایا اور حیا کے منہ پر زوردار تھپڑ مارا اس سے پہلے وہ غصے میں حیا کو دوسرا تھپڑ مارتا

"ہادی"
 زین کی دھاڑ سے ہادی کا ہاتھ وہی ہوا میں رک گیا۔۔۔ حیا نے بھی مڑ کر دیکھا زین غصے میں اس کے بیڈروم میں آیا

"تمہاری ہمت کیسے ہوئی میری بیٹی پر ہاتھ اٹھانے کی"
اتنے سالوں بعد زین آج پہلے کی طرح غصے میں آیا تھا اس نے ہادی کا گریبان پکڑ کر چیختے ہوئے ہادی سے کہا

"آپ کی بیٹی اسی سلوک کی مستحق ہے"
ہادی حقارت بھری نظر حیا پر ڈال کر بولا جس سے زین کے غصے کو مزید ہوا ملی

"تمہارا لحاظ میں نے صرف بلال کی وجہ سے کیا ہے ورنہ میں تمہیں بتاتا کہ تم کس سلوک کے مستحق ہوں تم اس لائق نہیں ہو میری بیٹی کے۔ ۔۔ تم ابھی اور اسی وقت میرے گھر سے نکلو"
زین نے ہادی کا گریبان پکڑ کر اسے باہر کی طرف دھکا دیا

زین کی چیخوں کی آواز سن کر حور بھی بھاگتی ہوئی روم سے باہر آئی جو کہ ابھی ابھی شور کی آواز سن کر  جاگی تھی۔۔۔۔ نسیمہ بھی کچن سے باہر کھڑی ہو کر تماشہ دیکھ رہی تھی

"شاہ کیا ہوگیا ہے تمہیں، یہ کیا کر رہے ہو تم" حور نے گھبرا کر قریب آتے ہوئے ہادی کی طرف بڑھتے ہوئے زین سے کہا

"وہی رک جاو حور اور تم دفع ہو جاؤ میرے گھر سے،،، دوبارہ میں تمہیں اپنے گھر میں نہیں دیکھو"
زین غصے میں ہادی پر چیختے ہوئے بولا

"مجھے بھی شوق نہیں ہے آپ کے گھر دوبارہ آنے کا ورنہ آپ کی بیٹی سے کوئی رشتہ رکھنے کا"
ہادی اپنا گریبان ٹھیک کرتا ہوا وہاں سے نکل گیا

حور نے دونوں ہاتھ منہ پر رکھے اور نفی میں گردن ہلانے لگی زین وہاں سے دوبارہ حیا کے روم میں چلا گیا۔۔۔۔ وہ بیڈ پر بیٹھی ہوئی رو رہی تھی زین نے آگے بڑھ کر اسے گلے لگایا،،، اپنی بیٹی کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر اس کا دل تڑپ اٹھا

"نہیں میری جان کوئی ضرورت نہیں ہے رونے کی"
حیا اب زین کے گلے لگ کر رو رہی تھی تو زین نہ حیا کو چپ کراتے ہوئے کہا

"آخر یہ سب ہوا کیا ہے کوئی مجھے بھی تو بتاؤ۔۔۔۔ حیا میں جبھی تم سے کہتی ہوں تم ذرا اپنی زبان کم چلایا کرو دیکھا آج کیا ہو گیا"
حور کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کل رات تک تو سب ٹھیک تھا صبح اچانک کیا ہوگیا

"حور تمہیں دکھ نہیں رہا وہ پہلے ہی پریشان ہے جو پانی لے کر آؤ اس کے لیے"
زین نے گھورتے ہوئے حور کو کہا اور حور وہاں سے چلی گئی

"بابا ہادی مجھے بہت غلط سمجھ رہا ہے وہ ایسا کیسے بول سکتا ہے میرے بارے میں"
حیا زین کے گلے لگ کر مسلسل روتے ہوئے کہہ رہی تھی

"وہ اس لائق نہیں ہے کہ اس کی بات کی جائے، بس اس ٹاپک کو اور رشتے کو یہی ختم کردو۔۔۔ بہت اچھا ہوا اس کی نیچر اور اس کی اصلیت ابھی دکھ گئی میں بلال سے بات کرتا ہوں" زین نے حیا کو چپ کراتے ہوئے کہا

"کیسی باتیں کر رہے ہو شاہ،، رشتے اس طرح ختم نہیں ہوتے مذاق لگ رہا ہے تمہیں یہ سب کچھ جو کل ہوا ہے۔۔۔۔ وہ لوگ اسے انگوٹھی پہنا کر گئے ہیں ہادی کے نام کی اور تم آج کہہ رہے ہوں کہ رشتہ ختم کردو" پانی لاتی ہوئی حور  نے زین کی بات سن کر کہا

"تو تمھیں میری بیٹی مذاق لگ رہی ہے۔۔۔۔ ہادی میرے گھر میں آکر میری بیٹی پر ہاتھ اٹھا کر چلا گیا حور۔۔۔ میری حیا کو مارا ہے اس نے، میری بیٹی کو" زین مزید غصے میں چیخ کر بولا

"ہادی نے حیا پر ہاتھ اٹھایا ہے"
حور نے بے یقینی سے زین کو دیکھا زین غصہ میں روم سے باہر نکل گیا۔۔۔۔ حور نے روتی ہوئی حیا کو اپنے گلے لگا لیا

****

"ایسا کیسے ہوسکتا ہے زین، ہادی ایسا کیسے کر سکتا ہے مجھے تو بالکل یقین نہیں آرہا ہے"
بلال نے بے یقینی سے زین کو دیکھتے ہوئے کہا

"تو تمہیں کیا لگ رہا ہے میں جھوٹ بول رہا ہوں بلال۔۔۔ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اس نے حیا کے منہ پر تھپڑ مارا ہے اور بلال یقین کرو یہ تھپڑ اس نے حیا کے منہ پر نہیں بلکہ یہاں مارا ہے"
زین نے شہادت کی انگلی سے اپنے دل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا،، اب کے بلال کچھ نہیں بولا بس چپ کر کے زین کو دیکھتا رہا

"بلال تم جانتے ہو نہ حیا میرے لیے کیا ہے، جان ہے اس میں میری اور میں نے اپنی بیٹی کی آنکھ میں آج ہادی کی وجہ سے آنسو دیکھے ہیں،،،، اس کا رونا مجھے تکلیف دے رہا تھا بلال اور میں نہیں چاہتا کہ یہ تکلیف وہ زندگی بھر برداشت کرے اس لیے آج میں ہادی اور حیا کا رشتہ ختم کرتا ہوں" زین نے ضبط کر کے اپنا جملہ مکمل کیا

"یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ زین بھائی،، ایسے کیسے رشتہ ختم ہوگیا ہادی بہت پیار کرتا ہے حیا سے۔۔۔۔ ضرور کوئی غلط فہمی ہوئی ہوگی، وہ اجائے گا تو پوچھوں گی بلکہ اس کے کان پکڑ کر پوچھوں گی مگر آپ پلیز ایسے مت کہیں،،، بلال تم چپ کیوں ہو کچھ بولو نا"
فضا جو کہ کافی دیر سے چپ کھڑی ہوکر ساری باتیں سن رہی تھی، زین کے رشتے ختم ہونے والی بات پر ایک دم بیچ میں بولی

"تم اور بلال میرے لیے اہم ہو شاید یہی وجہ ہے کہ آج ہادی پر میرا ہاتھ نہیں اٹھ سکا مگر میں ساری زندگی کے لئے اپنی بیٹی کو ایسے شخص کو نہیں دیا سکتا جو اسکی قدر نہ کر سکے"
زین بول کر رکا نہیں وہاں سے چلا گیا

****

"سر جی اعظم کے بیان کے مطابق اس کام کے پیچھے کون ہے کس کا ہاتھ ہے وہ خود نہیں جانتا ہے نہ ہی اس نے نہیں دیکھا اس شخص کو،،، جب یہ لوگ لڑکی ان لوگوں کے حوالے کرتے ہیں تو ایک آدمی ماسک پہن کر اس کام کی رقم دیتا ہے اور کوئی ایک مخصوص جگہ بھی نہیں ہے ملاقات کی۔۔۔۔۔ یہ لوگ اس آدمی کی بتائی گئی جگہ پر لڑکی وہاں پر ان کے حوالے کر دیتے ہیں اور اپنی رقم لے کر آ جاتے ہیں اس سے زیادہ اسے کچھ نہیں معلوم"
انسپیکٹر سعد نے معاویہ کو تفصیل دیتے ہوئے پوری بات بتائی

"اس کام کے پیچھے کوئی چھوٹا موٹا آدمی نہیں ہے یقینا کوئی بڑا نیٹ ورک پر جو یہ کام چلا رہا ہے"
لائیٹر سے شعلا جلاتے ہوئے معاویہ نے سوچتے ہوئے کہا

"جی سر جی مجھے بھی بالکل ایسا ہی لگ رہا ہے پھر آپ بتائے اگلا قدم کیا اٹھانا ہے آپ حکم کریں"
انسپیکٹر سعد نے معاویہ سے پوچھا

"اگلا قدم ایسے ہی نہیں اٹھانا ہوگا بہت سوچ سمجھ کر اٹھانا ہوگا۔۔۔۔۔ سعد یہ ساری انفارمیشن تمہارے تک محدود رہنے چاہیے اور  دو تین قابل اعتماد بندوں کو اپنے ساتھ شامل کرو اگلا لائحہ عمل کیا ہو گا وہ میں تمھیں ایک دو دن میں بتاؤں گا" معاویہ نے سگریٹ سلگاتے ہوئے سعد سے کہا

"سر جی اب اس کی فکر نہ کریں انسپیکٹر فراز اور کانسٹیبل نظیر دونوں ہی اعتماد کے بندے ہیں اور انسپیکٹر سعد بھی ہر قدم پر آپ کا ساتھ دے گا"
انسیکٹر سعد نے کھڑے ہو کر اجازت لیتے ہوئے بولا

"تھینکیو سعد مجھے تمہارے خلوص پر پورا یقین ہے اور اس بات پر بھی کہ تم ایمانداری سے اپنا فرض نبھاو گے"
معاویہ نے سعد کو دیکھتے ہوئے کہا

"انشاءاللہ سر جی اپنی آخری سانس تک"
انسپیکٹر سعد سلوٹ مار کر وہاں سے چلا گیا
معاویہ کے موبائل پر نسیمہ کی کال آنے لگی

"ہاں نسیمہ بولو"
معاویہ کال ریسیو کر کے بولا

"صاحب جی آج صبح صبح بڑا ہنگامہ ہوا ہے حیا بی بی بہت رو رہی تھی جی۔۔۔۔ ہادی صاحب نے حیا بی بی پر ہاتھ بھی اٹھایا ہے، ہمارے صاحب تو بہت غصے میں تھے انہوں نے تو جی ہادی صاحب کو پکڑ کر گھر سے باہر نکال دیا اور باجی بھی کافی پریشان ہیں جی صبح سے" 
معاویہ ساری باتیں تحمل سے سن رہا تھا لیکن اس کا دماغ اس بات پر اٹک گیا کیا ہادی نے حیا پر ہاتھ اٹھایا ہے، ضبط سے اس نے اپنے ہاتھ کی مٹھی بند کی کال ڈسکانٹ کر کے وہ اٹھا اور ضروری کام کا کہہ کے باہر نکل گیا

****

"ہاری صاحب ہیں گھر پر"
معاویہ نے گھر کے چوکیدار سے پوچھا 

"نہیں جی وہ تو صبح سے نکلے ہوئے ہیں ابھی تک گھر نہیں آئے مگر بڑے صاحب ہیں ان کو بلاؤ"
چوکیدار نے معاویہ کو پولیس یونیفارم میں دیکھ کر ادب سے پوچھا

"نہیں اس کی ضرورت نہیں ہے،، کب تک آئے گا تمہارا ہادی صاحب"
معاویہ نے چوکیدار سے پوچھا

"اس کا تو علم نہیں ہم کو صاحب" چوکیدار نے جواب دیا

"ٹھیک ہے"
معاویہ نے کہا اور واپس مڑ کر اپنی گاڑی میں بیٹھنے لگا

تو سامنے سے ہادی اپنی گاڑی میں آتا ہوا دکھائی دیا،،، معاویہ اپنی گاڑی کا دروازہ بند کرکے اس کی گاڑی کے سامنے آیا
ہادی نے بھی معاویہ کو دیکھا گاڑی روکی اور اتر کر اس کے سامنے کھڑا ہوا

جاری ہے

0 comments:

Post a Comment