Sunday, January 20, 2019

itni mohbbat karo na (season 2) episode 17

🌹: Itni mohbat karo na 2
by zeenia sharjeel
Epi # 17

 "اے۔ایس۔پی معاویہ مراد حیا کا نیا عاشق"
ہادی نے اوپر سے لے کر نیچے تک معاویہ کا جائزہ لیتے ہوئے کہا

"مسٹر ہادی مسعود حیا کا ایک دن کا منگیتر"
معاویہ بھی اسی کے انداز میں ہادی سے بولا

"ایسی لڑکیاں تو اس لائق بھی نہیں ہوتی ہیں کہ ان سے ایک بھی دن رشتہ قائم رکھا جائے"
ہادی نے معاویہ کو دیکھ کر دانت پیستے ہوئے کہا

"بس اب آگے سے ایک بھی لفظ نہیں کہنا ورنہ میرا یقین کرو تم بہت پچھتاؤ گے"
معاویہ نے تنبیہی کے انداز میں ہادی سے کہا

"مجھے کوئی شوق بھی نہیں ہے تمہاری محبوبہ کے بارے میں کوئی بھی تبصرہ کرنے کا میرے راستے سے ہٹو"
ہادی نے معاویہ سے کہا اور اپنی گاڑی کی طرف بڑھنے لگا

"ایک منٹ رکو۔۔۔ کیا تم نہ حیا پر ہاتھ اٹھایا تھا"
معاویہ نے ہادی کو گاڑی کی طرف جاتا  دیکھ کر اسے روک کر پوچھا

"میں تمہارے آگے کسی بھی بات کا جواب دہ نہیں"
ہادی دوبارہ معاویہ کے قریب آ کر معاویہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا

"سیریس ہادی تم نے اچھا نہیں کیا، حیا پر ہاتھ اٹھا کر"
یہ بولنے کے ساتھ ہی معاویہ نے زور دار تھپڑ ہادی کے منہ پر مارا
اس سے پہلے ہادی پلٹ کر اس کو مارتا معاویہ اس کا ہاتھ پکڑ چکا تھا

"مجھ پر ہاتھ اٹھانے کی غلطی بالکل مت کرنا، یہ تھپڑ تمہاری سزا کے لئے بہت کم ہے مگر اس کو میری وارننگ سمجھنا۔۔۔ آئندہ حیا پر ہاتھ اٹھانا تو دور کی بات اس کی طرف بھٹکنے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔ حیا میری ہے یہ بات اپنے دل اور دماغ میں اچھی طرح فیڈ کر لو"
اس کا ہاتھ چھوڑتا ہوا معاویہ اپنی گاڑی کی طرف بڑھا اور گاڑی میں بیٹھنے لگا

"اس تھپڑ کو اب تم نہیں بھولنا معاویہ، تمہارے اس تپھڑ کا جواب مجھ پر ادھار ہے اور یہ جواب میں تمہیں وقت آنے پر سود سمیت دو گا"
ہادی نے معاویہ کو دیکھتے ہوئے کہا

"ابھی وہ ہاتھ پیدا نہیں ہوا ہے جو معاویہ مراد کے گال کو چھو بھی سکے تھپڑ مارنا تو بہت دور کی بات ہے۔۔۔۔ ویسے ابھی تم رو لو تمہارا وقت ہے " ہادی کی بات پر معاویہ نے مڑ کر دیکھا اور استہزائیہ  ہنسی ہنستے ہوئے اس کا جواب دیا

"اور بہت جلد تمہارے رونے کا بھی وقت آنے والا ہے انتظار کرو"
ہادی معاویہ سے کہتا ہوا اپنی گاڑی میں بیٹھ گیا
معاویہ اس کی بات پر سر جھٹک کر اپنی گاڑی میں بیٹھا اور وہاں سے گاڑی نکال کر لے گیا

*****

"کہاں سے آرہے ہو تم ہادی"
ہادی گھر میں داخل ہوا تو بلال نے پوچھا

"ضروری کام سے گیا تھا"
ہادی جواب دیتے ہوئے اپنے کمرے میں جانے لگا

"روکو یہی بات کرنا ہے مجھے تم سے" بلال نے اس کو جاتا دیکھ کر کہا

"تم آج زین کے گھر جا کر کیا کر کے آئے ہو"
بلال نے اس کے سامنے آکر پوچھا فضا بھی روم سے نکل کے آ گئی

"جب آپ کو سب معلوم ہو گیا ہے تو مجھ سے کیا پوچھ رہے ہیں"
اسے نئے سرے سے غصہ آنے لگا

"ہادی زین بھائی بول رہے تھے تم نے حیا پر ہاتھ اٹھایا ہے۔۔۔ بیٹا مجھے بتاؤ کیا ہوا ہے تم ایسا کیسے کر سکتے ہوں"
فضا نے آگے بڑھ کر ہادی سے پوچھا

"آپ کو یہ نہیں پتہ کہ اس نے میرے ساتھ کیا کیا ہے" ہادی نے تیز لہجے میں کہا

"کیا کیا ہے ایسا اس نے جو تم نے اس پر ہاتھ اٹھایا ہے"
بلال نے اس کا رخ اپنی طرف موڑ کر  غصے میں کہا

"کیا بتاؤں میں آپ کو مجھے تو اپنے منہ سے بولتے ہوئے شرم آ رہی ہے، میں ایسی لڑکی کے ساتھ رشتہ نہیں رکھنا چاہتا جو رات کے وقت اپنے بیڈروم میں کسی دوسرے مرد کے ساتھ"

"خاموش آگے سے ایک لفظ نہیں بولنا تم"
بلال نے چیختے ہوئے ہادی سے کہا فضا آنکھیں پھیلائے ہوئے ہادی کی بات سن رہی تھی

"تمہیں اندازہ ہے تم حیا کے بارے میں کیا بول رہے ہو، اس کے کردار کے بارے میں بات کر رہے ہو تم۔۔۔ وہ زین کی ہی نہیں میری بھی بیٹی ہے تم کیسے بول سکتے اس کے بارے میں ایسا" بلال نے چیخ کر کہا

"یہی تو بات ہے ساری کہ میری بات پر کوئی یقین نہیں کرے گا تو پھر مجھے روک کر سوال جواب کیوں کر رہے ہیں آپ"
ہادی چیختا ہوا اپنے روم میں چلا گیا

"ہادی میری بات سنو بیٹا"
فضا اس کے پیچھے روم میں گئی

"نہیں مما مجھے کسی سے بات نہیں کرنی ہے، نہ کسی کی بات سنی ہے پلیز آپ مجھے اکیلا چھوڑ دیں اس وقت،"
ًہادی نے فضا سے کہا فضا چپ کرکے اسے دیکھتی رہی پھر روم سے نکل گئی

****

"ڈیڈ مام مجھے آپ دونوں سے کچھ امپورٹنٹ بات کرنی ہے"
معاویہ آج خلافِ توقع جلدی گھر آگیا تھا ڈنر کے بعد اس نے خضر اور نائمہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا

"بولو کیا کہنا چاہتے ہوں"
خضر نے اس کی طرف دیکھے بغیر اسکرین پر نظریں جمائے ہوئے کہا

"ایسے نہیں یا تو آپ میری بات سنیں یا پھر یہ ٹالک شو دیکھ لیں"
معاویہ نے سنجیدگی سے کہا

"بولو"
خضر نے ایک نظر اپنے بیٹے کو دیکھا پھر ٹی وی بند کرتے ہوئے بولا نائمہ بھی اس کی طرف متوجہ ہوئی

"میں چاہتا ہوں آپ دونوں کل ہی حیا کے گھر جائیں اس کے پیرنٹس سے رشتے کی بات کرنے کے لئے"
معاویہ نے لفظوں کو ترتیب دے کر اپنی بات کا آغاز کیا

"کون حیا"
خضر نے گلاسس اتارتے ہوئے معاویہ کو دیکھا

"وہی جس سے میں شادی کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔ ۔۔۔ آپ لوگ پھر کل جا رہے ہیں اس کے پیرنٹس سے بات کرنے کے لئے"
معاویہ کے بولنے پر خضر اور نائمہ نے ایک دوسرے کو دیکھا

"تمہیں ایسا کیوں لگ رہا ہے کہ میں تمہاری پسند کی لڑکی سے تمہاری شادی کرواں گا جبکہ میری پسند تم ریجیکٹ کرچکے ہو"
خضر نے اس کو یاد دلاتے ہوئے کہا

"ڈیڈ میں نے اس لئے آپ سے حیا کے گھر جانے کے لیے کہا ہے کیونکہ مجھے خوشی ہوگی میری شادی میں آپ شریک ہوں"
 معاویہ نے دوبارہ سنجیدگی سے خضر کو بولا

"واہ انداز دیکھو ہمارے صاحبزادے کے، باپ سے کیسے بات کر رہے ہیں یعنی تم مجھے دھمکا رہے ہو اگر میں تمہارا رشتہ لے کر نہیں کیا تو تم میرے بغیر خود شادی کر لو گے"
خضر نے معاویہ کو گھورتے ہوئے کہا

"ڈیڈ میں آپ کو دھمکا نہیں رہا ہو میں نے پہلے ہی کہا مجھے خوشی ہوگی اگر آپ سب کام میں شریک ہوں" معاویہ نے ہنوز سنجیدگی برقرار رکھی ہوئی تھی

"پتا نہیں کون ہے، کیسا خاندان ہے، کیا کرتا ہے اس لڑکی کا باپ"
خضر نے جیسے نیم رضامندی ظاہر کی تو معاویہ کے دل میں اطمینان سا ترا

"یہ سب تو آپ کو جب پتہ چلے گا جب آپ دونوں حیا کے گھر جائیں گے،، کل شام میں آپ دونوں کو لے جاؤں گا حیا کے گھر"
معاویہ نے خود ہی آگے کا پلان بنایا۔۔۔ خضر نے ناعیمہ کو دیکھا ناعیمہ نے مسکرا کر سر نیچے جھکا لیا

"ٹھیک ہے جاو روم میں اب ریسٹ کرنا ہے مجھے"
خضر نے معاویہ سے کہا

"اوکے گڈ نائیٹ اینڈ تھینکس"
معاویہ روم میں آیا تو اس کو سکون ہوا سب کچھ ٹھیک جا رہا تھا بس مسئلہ صرف حیا کا تھا اس کو کیسے راضی کرنا ہے لیکن یہ بھی کوئی اتنا بڑا مسئلہ نہیں تھا، اس کا بھی حل اس نے سوچا ہوا تھا 

جب وہ ہادی سے بات کرکے واپس آ رہا تھا تب اس کا دل چاہ رہا تھا وہ حیا کو ایک نظر دیکھے مگر اپنے دل کی خواہش کو دبا کر وہ گھر کی طرف آگیا۔۔۔ یہی سوچتے ہو اس نے سیل فون پاکٹ سے نکالا حیا کا نمبر ملایا مگر بیل جاتی رہی اس نے کال ریسیو نہیں کی

"اوکے مس حیا تم اس وقت اپنی آواز  سنانے کے موڈ میں نہیں ہو۔ ۔۔۔ کل پھر روبرو بات کرنے کے لیے تیار رہو"
اس نے مسکرا کر سوچا اور آنکھیں بند کرلی

****

حیا صبح سو کر اٹھی تو اسکا کالج جانے موڈ نہیں ہوا ناشتہ بھی اسے حور نے زبردستی کرایا۔۔ ۔  زین آفس کے لئے نکل چکا تھا حیا نے ایک بار پھر ہادی سے بات کرنے کا سوچا یہی سوچ کر وہ گھر سے نکل کر بلال کی طرف چلی گئی

****

"ارے حیا بیٹا ہو کیسی ہو تم"
فضا نے حیا کو دیکھ کر خوشی سے کہا

"کیسی لگ رہی ہوں آپ کو"
حیا نے فضا سے پوچھا

"واقعی اس کا چہرہ کملا سا گیا تھا،، بجھا بجھا چہرہ دیکھ کر فضا کو دکھ ہوا

"آنٹی مجھے ہادی سے بات کرنی ہے کیا وہ گھر پر ہے" حیا نے فضا سے ہادی کا پوچھا

بلال تو صبح آفس چلا گیا تھا مگر ہادی نے کل رات سے ہی اپنے آپ کو کمرے میں بند کیا ہوا تھا

"اپنے روم میں ہے" فضا نے حیا کو بتایا،، مگر چاہ کر بھی وہ کچھ نہیں پوچھ پائی اسے نہیں سمجھ آیا کہ ہادی نہ حیا کے بارے میں آخر اتنی بڑی بات کیسے کہی

"میں اس سے بات کرنا چاہتی ہوں آنٹی"
حیا نے فضا کو دیکھتے ہوئے کہا

"کیوں نہیں جاؤں جو بھی بات کرنی ہے کر لو بلکہ جو بھی تم دونوں کے بیچ غلط فہمی ہے اس کو دور کرلو وہ  تمہیں بہت چاہتا ہے حیا، تم اس سے آرام سے سمجھاؤ گی،،، اس سے بات کروں گی وہ سمجھ جائے گا"
فضا نے حیا کا ہاتھ تھام کر کہا، حیا ہادی کے روم کی طرف چلی گئی اور روم کا ڈور ناک کیا۔۔۔۔ تھوڑی دیر بعد دروازہ کھلا

"کیا کرنے آئی ہوں یہاں پر"
ہادی نے دروازہ کھولا تو سامنے حیا کہ چہرہ دیکھ کر اس سے پوچھا

"مجھے تم سے بہت ضروری بات کرنی ہے"
حیا نے اس کو دیکھ کر کہا

"مگر اب مجھے تم سے کوئی بھی بات نہیں کرنی"
ہادی نے دوبارہ دروازہ بند کرنا چاہا

"ہادی ایک دفعہ میری بات سنو پلیز" حیا نے دروازے پر ہاتھ رکھ کر روکتے ہوئے کہا

"مجھے نہ تم سے بات کرنی ہے نہ تمہاری کوئی بات سننی ہے سمجھ نہیں آرہا تمہیں جاؤ یہاں سے"
ہادی زور سے چیخا

"ہادی کیا طریقہ ہے بات کرنے کا، وہ کیا کہنا چاہتی ہے سن تو لو اس کی بات" فضا نے ہادی کو چیختے ہوئے دیکھ کر کہا

"اس سے کہیئے یہاں سے چلی جائے، میں اس کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتا"
ہادی نے فضا کو دیکھتے ہوئے کہا

"ٹھیک ہے میرا قصور بتاؤ پھر میں چلی جاتی ہو اور پھر کبھی پلٹ کر نہیں آؤں گی"
حیا نے اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا

"قصور تمہارا نہیں قصور میرا ہے کہ میں نے تم جیسی بدکردار لڑکی کو اپنے دل میں جگہ دی،،،، اب نکلو میرے گھر سے اور اپنی شکل آئندہ مجھے کبھی مت دکھانا"
یہ کہنے کے ساتھ ہی ہادی نہ حیا کا ہاتھ پکڑ کر گھر سے باہر نکال دیا
فضا پیچھے سے آوازیں دیتی رہی مگر اسے رہ رہ کر حیا اور معاویہ دونوں پر غصہ آ رہا تھا جو کہ پتہ نہیں کب سے اس کو پاگل بنا رہے تھے

حیا نے ایک نظر بے یقینی سے اپنے اوپر بند ہوتے ہوئے دروازے کو دیکھا اس کے کانوں میں بدکردار لفظ ایک بار پھر گونج اٹھا وہ اپنے آنسو صاف کر کر گھر واپس آ گئی

****

"حیا کیسی ہے کالج گئی تھی آج"
زین ابھی آفس سے آیا تو اس نے حور سے حیا کا پوچھا

"نہیں آج کالج نہیں گئی میں نے کہا بھی تو کہہ رہی تھی کل سے جاؤگی،،، اپنے روم میں ہی ہے رکو میں بلا کر لاتی ہوں"
حور نے فکرمندی سے کہا

جو کچھ ہوا وہ اچھا نہیں ہوا تھا زین اور حور حیا کو دیکھ کر پریشان تھے۔۔۔۔ حور اور فضا کی بھی بات ہوئی تھی مگر وہ دونوں بھی چپ تھی جیسے بات کرنے کے لیے کوئی بچا نہ ہو،،، آفس میں بھی زین اور بلال نے دوبارہ اس موضوع پر بات نہیں کی،، ہادی آفس گیا ہی نہیں، زین نے اس کا پوچھا بھی نہیں

"نہیں رہنے دو میں خود جاتا ہوں حیا کے پاس، تم اچھی سی چائے بنواو رات کو ہم لوگ ڈنر باہر کریں گے"
زین میں اٹھتے ہوئے خود ہی اپنا پروگرام بنایا وہ حیا کو اس طرح بالکل نہیں دیکھ سکتا تھا

"صاحب جی وہ کچھ مہمان آئے ہیں"
نسیمہ نے روم کا ڈور ناک کر کے زین اور حور کو بتایا

"کون آگیا تم نے پوچھا نہیں"
حور نے نسیمہ سے پوچھا

"میں نہیں جانتی پہلے کبھی نہیں دیکھا۔۔۔۔ ڈرائنگ روم میں بٹھا دیا ہے، وہ لوگ آپ لوگوں کا پوچھ رہے تھے"
نسیمہ نے زین اور حور کو دیکھ کر جواب دیا

"ٹھیک ہے تم جاو چائے کا ارینج کرو" حور نے نسیمہ سے کہا۔۔۔ نسیمہ سر ہلا کر کچن میں چلی گئی

"کون آسکتا ہے چلو دیکھتے ہیں"
زین اور حور دونوں ہی ڈرائنگ روم کی طرف گئے

مگر جن چہروں پر ان کی نظر پڑی وہ دونوں ہی وہی رک گئے دوسری طرف بھی یہی حال تھا خضر اور ناعیمہ صوفے پر برجمان تھے، وہ زین اور حور کو دیکھ کر اٹھ گئے معاویہ نے بھی ماں باپ کی پیروی کی اور کو کھڑا ہو گیا

زین اور حور اپنے گھر میں آج اتنے سالوں بعد خضر کو دیکھ رہے تھے دوسری طرف خضر بھی شاک کے عالم میں ان دونوں کو ہی دیکھ رہا تھا ناعیمہ حور کو پہچان چکی تھی حور بھی نائمہ کو خضر کے ساتھ دیکھ کر سمجھ گئی تھی فاطمہ تائی کی خواہش بھی تو بہت تھی نائمہ کو بہو بنانے کی مگر جس بات نے حود کو زیادہ چونکایا وہ ان دونوں کے ساتھ اس لڑکے کی موجودگی نے تھا حور معاویہ کو بھی پہچان چکی تھی

جاری ہے

0 comments:

Post a Comment