🌹: Itni mohhbat karo na 2
By zeenia sharjeel
Epi # 18
معاویہ نا سمجھنے والے انداز میں کبھی خضر اور ناعیمہ کو دیکھ رہا تھا تو کبھی حیا کے پیرنٹس کو۔۔۔ وہ لوگ ایک دوسرے کو دیکھے جا رہے تھے خضر بالکل سنجیدگی سے ان دونوں کو دیکھ رہا تھا،،، حور کے چہرے پر حیرت اور شاک کا عنصر نمایاں تھے جبکہ زین کے چہرے پر حیرت کے بعد سنجیدگی اور اب ہلکی ہلکی شکنیں اس کے ماتھے پر ابھرنے لگی۔۔۔ کافی دیر اس طرح کھڑے ہونے کے بعد حور نے آگے بڑھ کر پہل کی
"کیسی ہیں آپ نائیمہ بھابھی"
حور نائیمہ کی طرف بڑھ کر ملی تو نائیمہ نے بھی ایک نظر خضر پر ڈال کر حور سے ملی اور اس کو گلے لگایا
"اور آپ خضر بھائی کیسے ہیں"
اب حور خضر کو دیکھ کر پوچھنے لگی اس نے گردن ہلا کر جواب دیا
"آپ لوگ بیٹھیں پلیز"
حور نے میزبانی نبھاتے ہوئے کہا
زین بھی لگے بندھے سب سے دور ایک صوفے پر سب سے الگ جا کر بیٹھ گیا۔۔۔۔ کافی دیر سب کے درمیان محسوس کی جانے والی خاموشی تھی، جسے وہ سب ہی اچھی طرح محسوس کر رہے تھے معاویہ کو بھی عجیب سا محسوس ہو رہا تھا مگر وہ چپ ہی بیٹھا ہوا تھا زین یا خضر کے بولنے کا انتظار کر رہا تھا
"تایا تائی کیسے ہیں"
ابھی بھی حور نے نائیمہ کو دیکھتے ہوئے پوچھا
"دونوں کی ڈیتھ ہو چکی ہے دو سال پہلے"
نائیمہ نے جواب دیا اور حور نے حیرت اور افسوس سے خضر کو دیکھا جو اب حور اور زین کے علاوہ ہر چیز کو دیکھ رہا تھا۔۔۔ حور نے آنکھوں میں آئی ہوئی نمی صاف کی
"اسماء آنٹی کیسی ہیں"
آب کے نائمہ نے پوچھا
"ٹھیک ہیں ماموں کے ساتھ ہی ہوتی ہیں"
زین سب گفتگو سے لاتعلق بیٹھا تھا جیسے اسے کسی چیز سے کوئی سروکار یا لینا دینا ہی نہ ہو
حور نے اب معاویہ کی طرف دیکھا ذہن میں آیا ہوا سوال جو کہ کافی دیر سے وہ پوچھنا چاہ رہی تھی
"یہ"
حور نے اتنا ہی کہا نائیمہ اس کی بات سمجھتے ہوئے بتانے لگی
"معاویہ ہے میرا اور خضر کا بیٹا"
حور نے چونک کر دوبارہ معاویہ کو دیکھا جو کنفیوز ہوکر ان دونوں کی باتیں سن رہا تھا۔۔۔ پھر اس نے نائیمہ کو سوالیہ نظروں سے دیکھا اس کا سوال سمجھ کر نائیمہ نے بتایا
"یہ تمہارے ڈیڈ کی کزن ہے حور"
اب کے جھٹکا لگنے کی باری معاویہ کی تھی اور جھٹکے کے آثار اس کے چہرے پر نمایاں تھے
"ماما بابا آگئے آفس سے"
حیا جیسے ہی بولتی ہوئی روم میں آئی سب کی نظریں اس پر پڑی دو اجنبی چہروں کو دیکھ کر اس نے سلام کیا مگر برابر والے صوفے پر ان کے ساتھ معاویہ کو دیکھ کر وہ بھی شاک رہ گی
"یہاں آکر بیٹھو بیٹا"
پورے عرصے میں زین بولا بھی تو صرف اس نے حیا کو مخاطب کیا اور اپنے پاس سب سے الگ تھلگ ہو کر بیٹھنے کے لیے کہا
زین کی آواز سن کر وہ چونکی اور زین کے پاس ہی صوفے پر بیٹھ گئی۔۔۔ اسے سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ معاویہ اس کے گھر پر کیا کر رہا ہے اور وہ دو اجنبی چہرے جو مسلسل اس کو دیکھے جا رہے تھے وہ نروس ہونے لگی مگر چپ رہی
"یہ تمہاری بیٹی" نائمیہ نے اتنا ہی کہا ناعیہ اور خضر دونوں ہی حیا کو دیکھ رہے تھے
اور معاویہ کسی غیر مرئی نکتے کو گھور کر کچھ سوچ رہا تھا
"جی یہ میری شاہ کی بیٹی حیا ہے" حور کے بولنے پر خضر اور نائیمہ نے بے اختیار ایک دوسرے کو دیکھا پھر نائمیہ نے معاویہ کو ایک نظر دیکھا۔۔۔ جسے دیکھ کر لگ ہی نہیں رہا تھا کہ وہ وہاں موجود بھی ہے
"بہت پیاری ہے تمہاری بیٹی ماشااللہ بالکل تم پر گئی ہے"
نائیمہ نے حیا کو دیکھ کر ہلکا سا مسکراتے ہوئے کہا اور حیا اس کو دیکھ کر مسکرا بھی نہیں سکی
"آپ لوگوں کو کیسے پتہ چلا ہم یہاں رہتے ہیں"
حور پوچھنا تو کچھ اور چاہ رہی تھی کہ اتنے سالوں بعد یہاں پر کیسے آگئے مگر اس طرح پوچھ نہیں سکی
نائیمہ نے ایک نظر خضر اور معاویہ کو دیکھا
"دراصل ہم لوگ یہاں پر حیا"
نائیمہ نے آنے کا مقصد بتانا چاہا ویسے ہی معاویہ کو ہوش آیا
"مام ڈیڈ چلے میں گاڑی میں ویٹ کر رہا ہوں"
بولنے کے ساتھ ہی معاویہ وہاں رکا نہیں روم میں موجود تمام افراد نے اس کو جاتا ہوا دیکھا۔۔۔۔ اتنے میں نسیمہ چائے اور دیگر لوازمات سے سجی ٹرالی لے کر آئی
"ایسے کیسے چائے تو لیتے"
ان دونوں کو بھی اٹھتا دیکھ کر حور نے مروتا کہا
"پھر کبھی سہی نائیمہ نے حور کو کہا
خضر نے ایک نظر زین پر ڈالی اور جانے کے لیے اٹھ کھڑا ہوا زین ویسے ہی بیٹھا رہا خضر باہر نکل گیا اور اس کے پیچھے نائیمہ بھی باہر نکل گئی
****
گاڑی میں مکمل خاموشی تھی معاویہ نے سنجیدگی سے کار ڈرائیو کی اور گاڑی گھر لے آیا خضر اور نائیمہ کے کار کا دروازہ کھولنے سے پہلے وہ کار سے اترکر اندر چلا گیا اپنے روم میں آکر دروازہ لاک کر لیا۔۔۔ن خضر اور نائیمہ بھی اپنے روم میں آ گئے مگر ان دونوں میں سے کسی نے کوئی بات نہیں کی
****
"کیوں آئے تھے یہ لوگ ہمارے گھر"
زین جو اتنی دیر سے خاموش بیٹھا تھا ان کے جانے کے بعد اس نے حور سے سوال کیا
"کیا مطلب ہے تمہارا مجھ سے ایسے سوال کرنے کا مجھے کیا پتا کیوں آئے تھے۔۔۔ تم تو ایسے کہہ رہے ہو جیسے ان سے میں پہلے بھی ملی ہو یا پھر میں نے ان کو بلایا ہے"
حور کو زین کا اس طرح سوال کرنا پسند نہیں آیا
"ملی نہیں ہوں مگر مل تو رہی تھی حال حوال خیر خیریت۔۔۔ خیر چھوڑو نسیمہ سے کہو کھانا تیار کرے"
زین کا شکوہ سامنے آیا
"شاہ گھر آئے مہمان سے بندہ حال احوال ہی کرتا ہے اور کتنے سال بعد دیکھا ہے میں نے سب کو تایا تاٙئی کی ڈٹتھ کا تو پتہ ہی نہیں چلا حور نے افسردہ ہو کر کہا۔۔۔۔ برسوں بعد رشتے داروں کی سوئی ہوئی محبت جاگی
"تایا تائی نہیں عظیم تایا تائی،،، خیر جو بھی ہو اگر تمہیں ان سے تعلق رکھنا ہے۔۔۔ تو میں تمہیں نہیں رکو گا مگر حیا اور مجھے ان سب سے دور رکھنا"
زین استزائیہ ہنسی ہنستے ہوئے کہا
"شاہ تم جب سے الٹی بات کیے جا رہے ہو میں نے کب کہا کہ مجھے ان سے ملنا ہے یا کوئی تعلق رکھنا ہے۔۔۔۔ میری کیا غلطی ہے اگر وہ لوگ آگئے تو یہ سب تقدیر کا کھیل ہے۔۔۔۔جس دن وہ لڑکا میرا بیگ چھین کر بھاگ رہا اس دن معاویہ نے ہی مجھے بچایا تھا اور مجھے کیا علم تھا کہ یہ خضر بھائی کا بیٹا ہے اور وہی مجھے گھر تک چھوڑنے آیا تھا۔۔ اس نے کہا تھا میں اپنی مدر سے ملواؤں گا شاید اس وجہ سے ہی وہ لوگ ہمارے گھر آئے ہو"
حور نے یوں اچانک ان کے آنے کا جواز پیش کیا
"خضر کی وائف نے حیا کا نام لیا تھا شاید وہ حیا کے متعلق کچھ کہنا چاہ رہی تھی"
وہ جو اس وقت انجان بن کر بیٹھا ہوا تھا مگر اتنا بھی انجان نہیں تھا
"انہوں نے کیا کہنا ہوگا حیا کے بارے میں،، دیکھو شاہ وہ لوگ آئے اور اب چلے گئے اور اب شاید کبھی نہ آئے تو ضروری نہیں کہ ہم ان کے ٹاپک کو لے کر خود کو الجھائے اور بحث کریں"
حور نے نرمی سے زین سے کہا
"آئی ہوپ کہ ایسا ہی ہو وہ لوگ اب کبھی نہ آئیں"
زین حور کو بول کر روم سے نکل گیا
****
"یہ معاویہ کس کو لے کر آیا تھا کیا یہ اسکے پیرنٹس ہے"
حیا مسلسل ٹہلتے ہوئے سوچ رہی تھی
"یہ سب کیا ھو رہا ہے میری لائف میں" ٹہلتے ٹہلتے تھک گئی تو بیڈ پر بیٹھ گئی۔۔۔ اس کو سمجھ نہیں آیا اس طرح معاویہ کا اچانک اپنے پیرنٹس کے ساتھ آنا اور پھر یوں اچانک چلے جانا،،، اس کی نظر اپنے موبائل پر پڑی
آج پہلی دفعہ اسے خود معاویہ کو کال کرنے کا خیال آیا اس نے اپنی الجھن دور کرنے کے لئے معاویہ کا نمبر ملایا،،، دوسری طرف بیل جاتی رہی مگر کال نہیں اٹھائی گئی
حیا نے بیزار ہو کر موبائل واپس رکھ دیا اور وڈروب سے کپڑے نکال کر کل کالج جانے کی تیاری کرنے لگی
****
"ہادی پلیز میری بات تو سنو بیٹا" فضا ہادی کے روم میں آئی
مما پلیز آپ کو حیا کے متعلق یا اس رشتے کے متعلق بات کرنی ہے تو میں اس موضوع پر کوئی بات نہیں کرنا چاہتا اور اگر کوئی دوسری بات کرنی ہے تو آپ کریں" ہادی نے بیڈ سے اٹھ کر فضا سے کہا
"ہادی پلیز تم اس طرح کا بی ہیو حیا کے ساتھ کیسے کرسکتے ہو بیٹا۔۔۔ تم تو پسند کرتے تھے نہ،، وہ بھی تمہیں پسند کرتی ہے جو کوئی مس انڈراسٹینڈنگ تم دونوں کے بیچ میں ہوئی ہے پلیز اس کو ختم کر ڈالو۔۔۔۔ ایک دفعہ اس کی بات تو سنو۔۔۔ تم جانتے نہیں ہو کیا اسے" فضا نے آخری دفعہ ہادی کو سمجھانے کی کوشش کی
" مما مس انڈراسٹینڈنگ کچھ بھی نہیں ہوئی ہے ہمارے بیچ میں، بلکہ سب کچھ جو پہلے نظر نہیں آرہا تھا اب وہ کلیئر ہوگیا ہے اس کے بوائے فرینڈ نے مجھے خود بیچ سے ہٹ جانے کے لئے کہا ہے اور اس سے بھی زیادہ بہت کچھ بتانے کے لیے ہے میرے پاس مگر وہ سب بتانے کی میری ہمت نہیں ہے پلیز مما میں اس ٹاپک پر اب دوبارہ بات نہیں کرنا چاہتا"
ہادی نے سے کہا فضا خالی نظروں سے اسے دیکھتی رہ گئی
****
یہ کیا ہوا تھا آج اس کے ساتھ اتنا بڑا مذاق سوچ سوچ کر اس کا دماغ پھٹا جا رہا تھا۔۔۔ اتنے سالوں سے وہ بنا دیکھے جس چہرے سے نفرت کرتا آیا تھا قسمت کی ستم ظرفی ایسی تھی کہ اسے پہلی نظر میں محبت بھی اسی چہرے سے ہوئی۔۔۔۔ ہوبہو ماں جیسی، اپنی ماں کا عکس، وہ اسی عورت کی بیٹی تھی جس کی وجہ سے اس کی ماں کو زندگی میں کبھی وہ مقام نہیں ملا جس کی وہ حقدار تھی۔۔۔۔ موبائل کی ٹون نے اس کی توجہ اپنی طرف کھینچی اس نے اسکرین پر نام لکھا دیکھا تلخ مسکراہٹ سے ہنسا کوئی اور وقت ہوتا تو وہ اس کی کال اپنے موبائل پر دیکھ کر خوشی سے سرشار ہوجاتا۔۔۔۔ اس نے موبائل of کردیا دروازے پر دستک ہوئی تو اس نے غائب دماغی سے دروازہ کھولا
"صاحب بڑے صاحب اور بیگم صاحبہ آپ کو کھانے پر بلا رہے ہیں" سامنے نوکر کھڑا اسے بول رہا تھا
"اب اگر دوبارہ تم نے دروازے پر دستک دی یا مجھے ڈسٹرب کیا تو میں تمہیں جان سے مار ڈالوں گا"
یہ کہہ کر اس نے دروازہ دوبارہ بن کر دیا
جاری ہے
Sunday, January 20, 2019
Subscribe to:
Post Comments (Atom)

0 comments:
Post a Comment