Sunday, January 20, 2019

itni mohbbat karo na (season 2) episode 19

🌹: Itni mohhbat karo na
By zeenia sharjeel
Epi # 19

وہ صبح جاگنگ کرکے واپس آیا، کسی بات کو لے کر واچ مین کی شامت آچکی تھی ناشتے کی ٹیبل پر آیا تو ناعیمہ نے اسے ناشتہ  سرو کیا صنم اور خضر بھی چپ کرکے ناشتہ کر رہے تھے، صنم کو رات والا واقعہ ناعیمہ سے پتہ چل گیا جس کا سن کر وہ افسوس ہی کر سکتی تھی

"یہ کیسی کڑوی چائے بنائی ہے تم نے، چائے بنانی نہیں آتی کیا تمہیں"
چائے کا کپ دور پھینکتے ہوئے چیخ کر کہا سب نے نظر اٹھا کر معاویہ کی طرف دیکھا۔۔۔۔ آب معاویہ کے ہاتھوں ساجدہ کی شامت آچکی تھی

"چھوٹے صاحب چائے تو جیسے روز بنتی ہے ویسے ہی بنائی ہے"
ساجدہ نے ہکلاتے ہوئے معاویہ سے کہا

"ایک تو کام ڈھنگ سے کرنا نہیں آتا تمہیں، اوپر سے زبان چلاتی ہوں، فارغ کریں اس کو آپ" اب اس نے انگلی سے ساجدہ کی طرف اشارہ کر کے ناعیمہ کو دیکھ کر کہا

"چائے بالکل ٹھیک بنی ہے، شاید تمہارے منہ کا ذائقہ بدل گیا ہے یہ کڑواہٹ تمہیں کل رات سے ہی محسوس ہو رہی ہے بہتر یہی ہے کہ اپنے دماغ درست کرلو۔۔۔ چاہو تو منہ کا ذائقہ بھی بدل سکتے ہو بلکہ یہی تمہارے لئے بہتر ہوگا اور اپنا غصہ اپنے اندر ہی رکھو گھر والوں پر یہ نوکروں پر نکالنے کی ضرورت نہیں ہے"
خضر نے ناشتے سے انصاف کرتے ہوئے دھیمے لہجے میں معاویہ سے کہا

"اور اپ کی اس ساری بات کا میں کیا مطلب سمجھو" معاویہ اب بھی غصہ میں تھا

"مطلب صاف ہے اگر کرواہٹ کے باعث منہ کا ذائقہ تبدیل کرنا چاہو تو نیناں کا آپشن ابھی بھی ہے باقی آگے تم خود سمجھ دار ہو"
خضر نے چائے کا کپ ہونٹوں سے لگاتے ہوئے کہا جس پر معاویہ اچھا خاصہ بھنا چکا تھا

"ڈیڈ نیناں اتنی بری نہیں ہے مگر آپ بار بار اس کا نام لے کر مجھے مزید اس سے چڑ مت دلائے پلیز" معاویہ نے سنجیدگی اختیار کرتے ہوئے کہا

"اوکے نیناں نہیں تو پھر اور ماہم کی بیٹی کومل بھی اچھی ہے۔۔۔۔ کیوکہ اب دوبارہ وہاں جانے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا" خضر نے ناشتہ ختم کرتے ہوئے اپنی رائے دی

"ڈیڈ آپکو میری عادت کا اچھی طرح پتہ ہے اگر مجھے کوئی چیز پسند آجائے تو وہ میری  ہوتی ہے اور کسی کام کا میں ارادہ کر لو تو پیچھے ہٹنے والوں میں سے نہیں ہوں تو پھر یہ بلاوجہ کی بحث کیوں"
معاویہ نے چڑھتے ہوئے کہا

"پہلی بات تو اپنے دماغ میں اچھی طرح بٹھا لو کہ وہ انسان ہے کوئی چیز نہیں اور دوسری بات یہ کہ وہ لوگ اپنی بیٹی کا ہاتھ کبھی بھی تمہارے ہاتھ میں نہیں دیں گے اور اب میں وہاں پر دوبارہ زلیل ہونے نہیں جاونگا" خضر نے معاویہ کو دیکھتے ہوئے کہا

"یہی تو سارا مسئلہ ہے وہ چیز نہیں بلکہ انسان ہے لیکن یہ بات بھی طے ہے حیا کے پیرنٹس اس کا ہاتھ میرے ہاتھ میں دیتے ہیں یا نہیں۔۔۔ یا آپ وہاں پر جاتے ہیں یا نہیں، مگر حیا کو میں اپنی زندگی میں شامل کرکے رہو  گا چاہے کچھ بھی ہو جائے"
معاویہ نے چیئر سے اٹھتے ہوئے کہا

"کیا کرو گے تم ہاں۔ ۔۔۔ زبردستی کرو گے اس کے ساتھ یا اس کے گھر والوں کے ساتھ، طاقت کے بل بوتے پر شادی کرو گے یا بھگا کر لے جاؤ گے بولو کیا کرو گے تم" خضر چیخ کر بولا اسے کئی سال پہلے والا منظر یاد آیا جب زین نے گن پوائنٹ پر حور سے نکاح کیا تھا اور وہ نہیں چاہتا تھا کہ یہ عمل اب دوبارہ دہرایا جائے

"میں بھی ایسا کچھ نہیں کرنا چاہتا لیکن اگر آپ چاہتے ہیں کہ تاریخ دوبارہ نہ دہرائی جائے تو آپ کو مسٹر شاہ زین کے گھر دوبارہ جانا پڑے گا،، اتنا تو آپ اپنے بیٹے کے لئے کر ہی سکتے ہیں اور ویسے بھی نیناں سے پھر کسی اور دوسری لڑکی سے شادی کر کے میں دوسرا خضر مراد نہیں بننا چاہتا"
اب کے معاویہ کے لہجے میں نرمی کے ساتھ ساتھ منت کا بھی عنصر شامل تھا،، اس کی آخری بات خضر کے دل پہ لگی

"کیا حیا کی بھی مرضی شامل ہے" خضر نے معاویہ کو گھور سے دیکھ کر پوچھا

"جی"
معاویہ بس اتنا ہی کہہ سکا اور اپنے روم میں چلا گیا

"تو کیا اب دوبارہ زین اور حور کے گھر جائیں گے"
ناعیمہ نے تھوڑا ہچکچا کر پوچھا

"ظاہری بات ہے جانا ہی ہوگا اس گھر میں ایک ہی خضر مراد بہت"
خضر بھی آفس کے لئے نکل گیا

*****

"زرش رکو مجھے تم سے کچھ ضروری بات کرنی ہے"
زرش کو کلاس میں جاتا دیکھ کر حیا نے اس کو روکا

"ہاں بولو کیسی ہو تم"
زرش نہ حیا کو دیکھ کر پوچھا

"میں ٹھیک ہوں دراصل مجھے تم سے ایک کام تھا"
حیا نے ہچکچاتے ہوئے زرش سے کہا 

"ہاں بولو"
زرش نے کہا

"تمہارے بہنوئی سے معاویہ کا ایڈریس مل سکتا ہے"
حیا نے زرش سے پوچھا

"رکو میں پوچھتی ہوں ویسے تمہیں کیا کام پڑھ گیا معاویہ بھائی سے"
زرش میسج ٹائپ کرتے ہوئے حیا سے بولی

"نہیں کچھ خاص کام نہیں بس ویسے ہی"
حیا سے کچھ بات نہیں بنی

"یہ لو یہ گھر کا ایڈریس ہے اور یہ پولیس اسٹیشن کا" اس نے حیا کو موبائل تھمایا حیا نے دونوں ایڈرس اپنے موبائل میں نوٹ کیے

****

"کہو اعظم بڑے دنوں بعد یاد کیا کوئی نیا مال ہاتھ لگا ہے کہ نہیں"
اعظم کے فون سے بھاری آواز ابھری

"جی جبران بھائی اسی لئے کال کی تھی۔ ۔۔۔ یونیورسٹی کی ایک لڑکی ہے کافی دنوں سے نظر رکھی ہوئی تھی ٹائم اور جگہ بتا دیں تاکہ میں آسے اپ کی خدمت میں لے کر حاضر ہو سکو" 
اعظم نے ماتھے پر آیا ہوا پسینہ پہنچا اور سامنے بیٹھے اے۔ایس۔پی کو دیکھتے ہوئے کہا

"ٹھیک ہے دو دن بعد تمہیں خود کال کرکے وقت اور جگہ بتا دوں گا، مال اچھا ہونا چاہیے تو ہی قیمت بھی اچھی ملے گی" جبران نے اعظم سے کہا

"اس کی آپ فکر نہ کریں، میں آپ کی کال کا انتظار کروں گا"
اعظم نے کال کاٹ دی

"انسپکٹر سعد جبران کا موبائل نمبر نوٹ کرو اس پر کس کی کال آتی ہیں یا جبران کس کو کال کرتا ہے یہ ساری ڈیٹیلز مجھے کل صبح تک ٹیبل پر چاہیے۔۔۔۔ اور انسپکٹر شہلا سے کونٹیک کرو ہمیں ان کے تعاون کی ضرورت پڑے گی

****

"رکو اس سائڈ موڑو گاڑی"
حیا نے کالج سے واپسی پر ڈرائیور سے بولا

"ہاں یہی پولیس اسٹیشن کے پاس روکو گاڑی اور میرا یہی پر انتظار کرو میں ابھی آتی ہوں"
حیا نے گاڑی سے اترتے ہوئے کہا اور اسٹیشن کے اندر جانے لگی جو

معاویہ کسی کام سے باہر نکل رہا تھا اس پر نظر پڑتے ہی ایک دم چونکا، لب بینچ کر اس کے پاس آیا اور اس کا بازو تھام پولیس اسٹیشن کے بیک سائیڈ پر ایک روم میں لے گیا وہاں اس کا ہاتھ ایک جھٹکے سے چھوڑ کر دروازہ بند کیا

"یہاں آنے کا مقصد کیا ہے تمہارا"
معاویہ کو حیا کا اس طرح پولیس سٹیشن آنا اچھا نہیں لگا اس لئے ماتھے پر شکن ڈال کر اس نے حیا سے پوچھا

"میرے گھر اپنے پیرنٹس کو لانے کا کیا مقصد تھا تمہارا"
حیا نے بھی اس کے انداز میں مگر غراتے ہوئے کہا

"کیوں تم دودھ پیتی بچی ہو تمہیں نہیں پتہ کہ میں اپنے پیرنٹس کو کیوں لے کر آیا تھا تمہارے گھر"
معاویہ نے حیا کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے سنجیدگی سے کہا

"میری بات سنو معاویہ میں پہلے ہی بہت پریشان ہو اب تم میرے لیے مزید پریشانی پیدا نہیں کرو، میں تمہیں نہیں چاہتی ہوں اور تم اس طرح میرے ساتھ زبردستی نہیں کرسکتے ہو۔۔۔ اب اپنے پیرنٹس کو میرے گھر لے کر نہیں آنا ورنہ میں اپنے بابا کو سب کچھ بتادوں گی جو میں نے ابھی تک کچھ نہیں بتایا ہے،،، جس دن میں نے انہیں تمہاری حرکتیں بتا دیں تو وہ واقعی تمہیں زندہ نہیں چھوڑیں گے۔۔۔ اگر تم چاہتے ہو کہ تمہارا اور تمہارے پیرنٹس کا تماشہ نہ بنے تو آئیندہ احتیاط کرنا" حیا نے نڈر انداز میں معاویہ کو وارن کیا

"بس بول لی اپنی بات اب اپنا منہ بند کرکے اور کان کھول کر میری بات سنو اور اپنے اس بھیجے میں اچھی طرح بھٹالو میرے پیرنٹس تمہارے گھر دوبارہ میرا پرپوزل تمہارے لئے لے کر آئیں گے، وہ پرپوزل تم ایکسپٹ کرو گی چاہے تمہارے  پیرنٹس اس رشتے کو مانے یا نہیں لیکن تمہیں میرا پرپوزل ایکسپٹ کرنا ہوگا اور اپنے پیرنٹس کو یقین دلانا ہوگا کہ اس میں تمہاری خوشی، مرضی اور رضامندی شامل ہے حیا تم ایسا ہی کروں گی۔۔۔۔ اگر تم نے ایسا نہ کیا تو جو ہوگا وہ بہت برا ہوگا کیونکہ شادی تو تمہاری اور کہیں نہیں ہوگی میرے علاوہ یہ بات تو اچھی طرح جان لو"
معاویہ نے بہت سنجیدگی سے حیا کو ایک ایک بات باور کرائی

"کیا سمجھا ہوا ہے تم نے مجھے کوئی toy ہو میں جو تمہیں چاہیے انسان ہوں میں، میری مرضی میری خوشی کی اہمیت نہیں ہے۔۔۔یہ میری زندگی ہے اور مجھے اپنی زندگی میں تم نہیں چاہیے ہو"
حیا نے چیخ کر کہا

"مگر میں اپنی زندگی میں تمہیں دیکھنا چاہتا ہوں میری محبت کو محبت رہنے دو اس کو ضد نہیں بناؤ جو میں کہہ رہا ہوں شرافت سے مان جاو مجھے سختی کرنے پر مجبور نہیں کرو" معاویہ حیا کے دونوں بازو تھام کر دانت پیس کر بولا

"تمہیں جو کرنا ہے وہ تم کر لو میں تم سے ڈرنے والی نہیں ہوں"
حیا اپنے بازو چھڑا کر جانے کے ارادے سے باہر نکلنے لگی وہی معاویہ نے اس کا بازو دوبارہ پکڑا

"ایک منٹ بےبی یہ دیکھتی جاؤ"
معاویہ نے اپنی پوکٹ سے اینولپ نکال کر حیا کی طرف بڑھایا

"کیا ہے اس میں"
حیا نے پوچھا

"میرے اور تمہارے کچھ اسپیشل موومنٹ یقینا تمہیں پسند آئیں گے" معاویہ نے انولپ اسے تھماتے ہوئے کہا اور بہت غور سے اس کا چہرہ دیکھنے لگا

حیا نے انولپ کھولا تو تصویریں تھی تصویروں پر حیا کی نظر پڑی تو بے یقینی سے دیکھتی رہ گئی جیسے جیسے وہ تصویریں دیکھ رہی تھی اس کا رنگ لٹھے کی مانند سفید ہوتا جا رہا تھا جیسے کسی نے اس کے اندر سے خون نچوڑ لیا ہو۔۔۔۔ ان تصویروں میں معاویہ اور وہ بالکل قریب تھی۔۔۔ معاویہ اسکے چہرے کے آثار دیکھ رہا تھا وہ اس کے پیچھے جا کر رکا، حیا کو دونوں کندھوں سے تھام کر تھوڑا جھک کر اس کے کان میں سرگوشی کے انداز میں پوچھنے لگا

"کیسے لگے تصویروں کے پوز"
حیا نے مڑ کر بے یقینی سے معاویہ کو دیکھا وہ سنجیدگی سے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔۔ حیا کے ہاتھ سے ساری تصویریں نیچے گری اور بے ساختہ حیا کا ہاتھ اٹھا اور اس سے پہلے اس کا ہاتھ معاویہ کے چہرے پر پڑتا معاویہ نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا حیا نے بے اختیار اپنا دوسرا ہاتھ اس کے گال پر مارنا چاہا معاویہ نے حیا کا ارادہ بھانپتے ہوئے اس کا دوسرا ہاتھ بھی پکڑ لیا اور دونوں ہاتھوں کو حیا کی کمر کے پیچھے لے جاکر اسے خود سے قریب کیا حیا نے تڑپ کر اسے دیکھا ضبط سے اس کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھی

"تم نے میرے ساتھ"
حیا نے چہروں اوپر کرکے معاویہ کو دیکھتے ہوئے کہنا چاہا، حیا کے ہونٹ لرز رہے تھے مگر الفاظ اس کا ساتھ نہیں دے رہے تھے

"شش رونا نہیں، کچھ بھی نہیں کیا میں نے تمہارے ساتھ۔۔ اگر مجھے تمہارے ساتھ کچھ بھی کرنا ہوتا تو تمہاری بے ہوشی کا فائدہ اٹھا کر کچھ نہیں کرتا بلکہ جب تمہارے گھر پہلی دفعہ آیا تھا تب ہی۔۔۔ مگر میرے لئے اس سے زیادہ معنی رکھتا ہے تمہارا ساتھ اپنی زندگی میں ہمیشہ کے لئے"

معاویہ نے اس کے دونوں ہاتھ چھوڑے اور اب وہ اس کی آنکھ میں آئے ہوئے آنسو بہت نرمی سے اپنی انگلیوں کے پوروں سے صاف کر رہا تھا

"آئی نو یہ چیٹنگ ہے مگر پورا فیئر طریقہ اپنایا ہے۔۔۔ اس بے ایمانی کے کام کو پوری ایمانداری کے ساتھ کیا ہے میں نے۔۔۔۔اب جب میرے پیرنٹس آئینگے تو تم اپنی پوری رضامندی اس رشتے کے لئے دوگی۔۔۔ اور اگر تم نے ایسا نہیں کیا تو یہ تصویریں دیکھ کر تمہارے پیرنٹس ویسے بھی میری شادی تم سے کردیں گے، ،، مگر میں چاہتا ہوں کہ ہماری شادی بغیر کسی ڈرامے کے ساتھ ہوجائے۔۔۔ آئی تھنک یہ زیادہ ٹھیک رہے گا تم سمجھ رہی ہو نہ میری بات"
معاویہ اس کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں سے تھامے ہوئے بلکل نرمی سے اسے اپنی بات ایسے سمجھا رہا تھا جیسے کسی چھوٹے بچے کو سمجھائی جاتی ہے

"آئی ہیٹ یو"
حیا نے نفی میں گردن ہلاتے ہوئے کہا اور وہاں سے چلی گئی

وہ اس کا دل نہیں دکھانا چاہتا تھا اور نہ ہی یہ تصویریں کسی کو دکھانے کا ارادہ رکھتا تھا مگر اس اسے حیا کا منہ بند کرنے کے لئے یہ سب کرنا پڑا۔۔۔۔ اسے اس بات کا بھی اندازہ تھا اس کے اس عمل سے حیا اسے مزید دور ہو جائے گی اور نفرت کرنے لگے گی،،، مگر حیا کو اپنی زندگی میں شامل کرنے کے لئے اس نے یہ رسک لیا تھا

جاری ہے

0 comments:

Post a Comment