Sunday, January 20, 2019

itni mohbbat karo na (season 2) episode 20

🌹: Itni mohbbat karo na
By zeenia sharjeel
Epi # 20

آج صنم کے اسرار پر وہ صنم کے ساتھ شاپنگ مال تو آ گیا مگر صنم کو ہر شاپ پر روکتا دیکھ کر وہ بیزار ہونے لگا

"صنم تمہاری شاپنگ مکمل ہوجائے تو مجھے کال کر دینا" معاویہ نے صنم کو بولا

"کیا بھائی آپ مجھے اکیلا چھوڑ کر جا رہے ہیں"
صنم نے افسوس سے معاویہ کو دیکھا

"ارے نہیں کہیں نہیں جا رہا تم شاپنگ سے فارغ ہو جاؤ تو یہیں آ جانا" معاویہ نے فوڈ کورڈ کی طرف اشارہ کیا صنم گردن ہلاتی ہوئی چلی گئی۔۔۔

ایک جینٹز شاپ سے معاویہ کے لیے شرٹ لینے کا ارارہ کیا کے تو اسے وہاں ہادی دکھا۔۔۔ اس کو ہمیشہ دیکھ کر صنم کے چہرے پر مسکراہٹ آتی تھی،، وہ ہمیشہ اس کے چہرے پر مسکراہٹ کا باعث بنتا تھا

"کیسے ہیں آپ" صنم نے ہادی کے پاس جا کر اس کی خیریت پوچھی

"او صنم کیسی ہیں آپ"
ہادی جوکہ عدیل کی برتھ ڈے کے لئے شرٹ لینے آیا تھا صنم کو دیکھ کر بولا

"میں تو ٹھیک ہوں لیکن آپ مجھے ٹھیک نہیں لگ رہے" صنم نے غور سے ہادی کا دیکھ کر پوچھا

"مجھے کیا ہونا ہے میں ٹھیک ہوں آپ سنائیں یہاں کیا کررہی ہیں"
ہادی بات بدلتے ہوئے بولا

"میں یہاں بھائی کے ساتھ شاپنگ کرنے آئی ہوں تو سوچا اس شاپ سے بھائی کے لئے ایک شرٹ لے لو اور آپ"
صنم نے مسکراتے ہوئے جواب کہا

"میں بھی اپنے بھائی کے لئے شاپنگ کرنے آیا تھا"
ہادی نے مسکراتے ہوئے جواب دیا

"اپنے لئے کچھ پسند نہیں کیا آپ نے" صنم نے اس کو دیکھتے ہوئے پوچھا مگر اس کی آنکھیں جیسے کچھ اور پوچھنا چاہ رہی تھی

"اپنے لیے آیا تھا پسند، مگر میری پسند کو شاید میں پسند نہیں"
ہادی اپنی اداسی چھپا کر مسکرایا

"اگر ایسی بات ہے تو آپ اپنی پسند بدل لیں"
صنم نے مشورہ دینے  پر چونک کر ہادی نے صنم کو دیکھا

"کاش اتنا آسان ہوتا اپنی پسند بدل لینا" ہادی نے سر جھٹک کر کہا

"ایک دفعہ ٹرائے کرکے دیکھیں گئے شاید اتنا مشکل بھی نہ لگے"
صنم کے دوبارہ مشورہ دینے پر وہ مسکرایا

"صنم شاپنگ کمپلیٹ ہو گئی تمھاری"
معاویہ کی آواز پر صنم نے مڑ کردیکھا معاویہ اور ہادی دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر چونکے

"یہاں آئے بھائی میں آپ کو ہادی سے ملواتی ہو،، یہ ہادی ہے وہ جو میں نے بتایا تھا نہ آپ کو انہوں نے ہی میری ہیلپ کی تھی"
صنم نے معاویہ کو ساحر والا واقعے پر ہادی کی مدد یاد دلانی چاہی

"اور ہادی یہ ہے دنیا کے سب سے اچھے بھائی معاویہ مراد، صنم مراد کے بھائی"
صنم نے خوشدلی سے دونوں کا تعارف کروایا

"نائس ٹو میٹ یو" ہادی کے ہونٹ پھیلے اس نے معاویہ کے آگے ہاتھ بڑھایا جسے بغیر دیکھے معاویہ نے تھام لیا کیونکہ اس کی نظریں ہادی پر پھیلی مسکراہٹ پر تھی

"اوکے صنم میں لیٹ ہو رہا ہوں کسی کام سے بھی جانا ہے چلو چلتے ہیں"
معاویہ نے صنم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا اور ہادی کو دیکھتا ہوا وہاں سے نکل گیا۔۔۔۔ صنم نے بھی ہادی کو بائے کہا اور جانے لگی

"صنم سنئیے"
ہادی کے کہنے پر اس نے پلٹ کر دیکھا

"میں آپ کے مشورے پر غور کروں گا"
ًہادی نے صنم سے کہا،، صنم کی آنکھوں کے تاثر سے وہ سمجھ گیا کہ وہ اس کی بات نہیں سمجھی

آپ نے کچھ دیر پہلے کہا تھا نہ پسند بدل لینے والی بات تو میں ٹرائے کروں گا"
ہادی نے مسکرا کر کہا صنم بھی اس کی بات پر مسکرا دی اور بائے کہہ کر چلی گئی

****

حیا گھر پہنچی تو اس کا زہن سن ہو چکا تھا دماغ سوچ سوچ کر پھٹا جا رہا تھا وہ اب کیا کرے

"کیا مجھے بابا کو ساری حقیقت بتانی چاہیے وہ کریں گے میرا یقین یا پھر ہادی کی طرح ہی۔۔۔۔

اوہ ہادی کتنی ضرورت ہیں مجھے تمہاری اس وقت،، مگر تو نے میرا اعتبار ہی نہیں کیا" آنکھوں میں آئے ہوئے آنسو کو صاف کیے،،،، دماغ بھٹک کر پھر ایک بار معاویہ کی طرف چلا گیا، اگر اس کے رشتے کے لئے ہاں کردوں، تو اس کے ساتھ کیسے گزرے گی میری زندگی ایک ناپسندیدہ انسان کے ساتھ" ابھی وہ سوچ ہی رہی تھی اس کے موبائل پر کال آئی کی اسکرین پر معاویہ کا نمبر چمک رہا تھا

"بےبی میں نے یہ کال یاد دلانے کے لیے کی ہے کل میرے مام ڈیڈ آرہے ہیں"

"کوئی ضرورت نہیں ہے اپنے ماں باپ کو بھیجنے کی، میرا انکار کبھی بھی اقرار میں بھی نہیں بدل سکتا سمجھے تم۔۔۔۔"
معاویہ کی بات ختم ہونے سے پہلے وہ چیخ کر بولی

"اوکے یہ تو مجھے اندازہ تھا کہ تمہیں سیدھی طرح تو ماننا نہیں ہے بلاوجہ میں، میں نے تمہیں سمجھا کہ اپنا ٹائم ویسٹ کیا۔۔۔ ایسے ہی تو پھر ایسے ہی صحیح"
معاویہ کال کاٹ چکا تھا حیا نے بھی اپنا موبائل پھینک اور سارے خیالات جھٹک کر لیٹ گئی

"حیا اٹھو دیکھو تمھارے بابا بلا رہے ہیں"
حیا نے آنکھیں کھول کر سامنے دیکھا تو حور سامنے گھڑی اس کو پکار رہی تھی، ابھی وہ پوری دیدار بھی نہیں ہوئی تھی کہ زین اس کے کمرے میں آیا

"بابا میں انے ہی والی تھی آپ کے پاس کیا، کوئی کام تھا" حیا نے زین کو اپنے روم میں آتا دیکھ کر کہا

"یہ سب کیا ہے"
زین نے اپنا موبائل آگے کیا۔۔۔ حیا نے موبائل دیکھا تو اس میں وہی تصویریں تھیں حیا کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں

"یعنی تم نے اپنا کہا سچ کردکھایا"
حیا کو معاویہ کی حرکت پر دلی افسوس ہوا

"بابا یہ سب جھوٹ ہے"
حیا نے زین کو صفائی دینی چاہیے

"چٹاخ"
زین کے تھپڑ سے حیا کہ لفظ منہ میں ہی رہ گئے، آگے بڑھ کر موبائل حور نے دیکھا تو وہی بیٹھ گئی

"یہ صلہ دیا ہے تم نے میری محبت کا میری تربیت اور میرے اعتبار کا"
زین آنکھوں میں آنسو لائے ہوئے چیخ کر بولا

"بابا یہ سب میں نے نہیں کیا"
حیا نے روتے ہوئے بھولنا چاہا

"جھوٹ مت بولو اور اپنی گندی زبان سے بابا مت کہو مجھے تم نے آج مجھے مار دیا ہے حیا"
زین اب رو رہا تھا، حور بھی بےآواز رو رہی تھی، حیا بھی وہی بیٹھ کر اپنا سر دونوں ہاتھوں میں تھامے رونے لگی

"کون اعتبار کرے گا مجھ پر اب"
حیا یہی سوچ رہی تھی کہ حور کی آواز پر اس نے اپنا سر اٹھایا

"شاہ کیا ہورہا ہے تمہیں۔۔۔ مجھے بتاؤ کیا ہو رہا ہے"
حور ایک دم کھڑی ہو کر زین کی طرف بڑھی اور اس کو تھام کر پوچھنے لگی وہ اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر نیچے بیٹھا جا رہا تھا، تکلیف کے آثار اسکے چہرے پر نمایاں تھے، حیا کی جان نکل گئی

"بابا"
حیا ایک دم اٹھ کر بیٹھی سائیڈ ٹیبل پر رکھا لیمپ آن کیا وہ پوری کی پوری پسینے میں بھیگی ہوئی تھی "بابا" سرگوشی کے انداز میں اس کے منہ سے نکلا

"اف میرے خدا اتنا بھیانک خواب چہرہ ہاتھوں میں چھپا کر   وہ رونے لگی

"میں آپ کو کچھ نہیں ہونے دونگی بابا مگر معاویہ تم دیکھنا میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گی"
حیا نے آنسو پونچہتے ہوئے خود سے کہا

****

"حور باجی مہمان آئے ہیں جی"
نسیمہ نے آکر حور کو بتایا

"کون مہمان آگئے" حور نے ٹی وی بن کرتے ہوئے کہا

"ابھی جو تین دن پہلے آئے تھے نسیمہ نے حور کو بتایا اور کچن میں چلی گئی

حور ہال میں پہنچی تو وہاں پر خضر ناعیمہ معاویہ کے ساتھ ایک اور لڑکی موجود تھی

"کیسی ہو حور"
آج ناعیمہ نے پہل کی اور آگے بڑھ کے حور سے ملی ناعیمہ سے ملنے کے بعد خضر کو سلام کیا جس کا اس نے جواب دیا۔ ۔۔ حور کی معاویہ پر نظر پڑی ہلکی سی مسکراہٹ اس کے چہرے پر آئی جیسے اسے اپنی اور معاویہ کی پہلی ملاقات یاد آئی ہو مگر دوسری طرف معاویہ نے زبردستی مسکراہٹ سجائے سلام کیا

"یہ میری بیٹی ہے صنم"
نعیمہ نے صنم کا تعارف کرواتے ہوئے حور کو بتایا وہ خوش دلی سے صنم سے ملی۔۔۔۔ تھوڑے وقفے کے بعد کبھی ناعیمہ کوئی بات کرتی تو حور اس کا جواب دے دیتی دوبارہ خاموشی کے بعد پھر حور کچھ پوچھتی ہو ناعمہ بتادیتی اچانک خضر نے حور کو مخاطب کرتے ہوئے کہا

"زین نظر نہیں آ رہا"

"جی خضر بھائی وہ آفس سے آج لیٹ ہوگئے ہیں بس آنے ہی والے ہوں گے" خضر کے مخاطب کرنے پر حور نے خضر کو جواب دیا، اور اسے وہ وقت یاد آنے لگا جب وہ شاہ زین سے پہلے اپنے سارے مسائل اپنی ساری خوشیاں خضر کے ساتھ شیئر کرتی تھی ابھی وہ سوچ ہی رہی تھی جب زین کی آواز اس کے کانوں میں پڑی

"حور کہاں ہو یار"
جیسے ہی ہال میں زین داخل ہوا سامنے خضر کی فیملی کو دیکھ کر اس کے قدم وہی رکے، چہرے پر سنجیدگی آئی پھر اس نے حور کو مخاطب کرتے ہوئے کہا

"حور اپنے گیسٹ سے فارغ ہوجاؤ تو روم میں آنا"
یہ کہہ کر زین وہاں سے جانے لگا

"روکو زین ہم یہاں پر صرف حور سے ہی نہیں،،، تم سے بھی ملنے آئے ہیں بلکہ بہت ضروری بات کرنے آئے ہیں خضر نے اس کو جاتا دیکھ کر ایک دم کہاں، زین دوبارہ مڑا

'بولو کیا ضروری بات کرنی ہے تمہیں" زین وہی کھڑے کھڑے مخاطب ہوکر سنجیدگی سے بولا

"معاویہ نے غور سے زین کو دیکھا اس نے کچھ بولنے کا ارادہ کیا مگر نظر ناعیمہ پر پڑی اور ناعیمہ نے اسے میں آنکھوں ہی آنکھوں میں چپ رہنے کا اشارہ کیا معاویہ لب بینچے مگر کہنا ماننا اس نے سیکھا ہی کب تھا

"ضروری بات ایسے ہی کھڑے کھڑے نہیں کی جاتی انکل اگر آپ ان کمفرٹیبل ہیں تو ایزی ہو کر آ جائیں ہم آپ کا یہی ویٹ کر رہے ہیں"
معاویہ نے زین کو دیکھ کر کہا زین نے چونک کر معاویہ کو دیکھا، یہ لڑکا یقینا خضر کا بیٹا تھا جو اسے پہلی ہی نظر میں مغرور سا لگا تھا۔۔۔ زین اس کو دیکھتا ہوا روم میں آگے بڑھا اور صوفے پر بیٹھ گیا،،، روم میں دفعہ پھر خاموشی چھا گئی جسے تھوڑے وقفے سے خضر کی آواز نے توڑا

"ماضی میں ہمارے درمیان جو بھی کچھ ہوا ہے وہ سب اب ماضی بن چکا ہے، میں ان سے باتوں کو دہرا کر یہاں پر گلے مردے اکھاڑنے نہیں آیا ہوں، جو بھی میری طرف سے یا میرے والد کی طرف سے زیادتی ہوئی میں ان سب پر میں شرمندہ ہوں اور ان باتوں کو بھلا کر آج میں تمہاری طرف دوستی کا ہاتھ بڑھانے آیا ہو زین"

زین کی طرف دیکھتے ہوئے خضر نے اپنی بات مکمل کی،،، اب روم میں موجود سب کی نگاہیں زین کی طرف تھی۔۔۔ معاویہ غور سے جانچھتی نگاہوں سے زین کو دیکھ رہا تھا، حور بھی آنکھوں میں بے چینی لیے ہوئے زین کو ہی دیکھ رہی تھی جبکہ خضر کی آنکھوں میں ایک امید تھی۔۔۔۔ اب باری زین کی تھی کہ وہ اپنا ظرف دکھاتا ہے یا خضر کی طرف سے بڑھا ہوا دوستی کا ہاتھ جھٹک دیتا ہے مگر کم ظرف وہ کبھی بھی نہیں رہا،،، اس لئے اٹھ کر خضر کے پاس آیا زین کو آتا دیکھ کر خضر بھی اپنی جگہ سے اٹھ کر کھڑا ہوا خضر نے آگے ہاتھ بڑھایا زین نے اپنے دونوں ہاتھ کھول کر اس کی طرف بڑھائے،،، خضر مسکرا کر اس کے گلے لگا روم میں موجود چاروں نفوس ان ہی کو دیکھ رہے تھے حور کی آنکھوں میں ہلکی سی نمی آئی جسے وہ صاف کر کے مسکرا دی

جاری ہے

0 comments:

Post a Comment