🌹: Itni mohhbat karo na
By zeenia sharjeel
Epi # 21
"حور حیا کہاں پر ہے نظر نہیں آرہی اس کو بلاؤ" ناعیمہ نے حور کو دیکھ کر کہا، صنم کو بھی بہت اشتیاق تھا حیا کو دیکھنے کا،،، معاویہ نے ایک نظر حور کو دیکھا جیسے اس کے جواب کا منتظر ہوں
"اپنے روم میں ہے اسٹیڈیز کر رہی ہے دراصل پیپر ہونے والے ہیں اس کے، خیر کافی دیر سے پڑھ رہی ہے میں بلا کر لاتی ہوں"
حور کہہ کر وہاں سے اٹھ گئی نسیمہ سے رات کے کھانے کا کہا اور حیا کے روم میں آ گئی
"اسلام و علیکم"
حیا نے دھیمے لہجے میں سلام کیا اور حور کے پاس ہی بیٹھ گئی خضر ناعیمہ اور صنم اس کو بہت اشتیاق سے دیکھ رہے تھے معاویہ نے ایک نظر حیا کو دیکھا اور موبائل پر نظر جھکا لی۔۔۔ خضر اور زین اپنے آفس سے متعلق باتیں کر رہے تھے، ناعیمہ اور حور اپنے خاندان کی باتوں میں لگی ہوئی تھی۔۔۔ معاویہ مسلسل اپنے موبائل میں جھکا ہوا تھا، صنم اپنی ریزرو نیچر کے باوجود حیا سے بات کرنے کی کوشش کر رہی تھی حیا اس کی ایک دو باتوں کا سرسری جواب دے کر خاموش ہوگئی اور مسلسل اپنی بیزاری شو کرنے لگی منہ پر نو لفٹ کا بورڈ لگالیا جسے دیکھ کر صنم چپ ہوگئی۔۔۔ بڑوں کے درمیان برف کی جمی ہوئی دیوار آئستہ آئستہ پگھل رہی تھی،،، حور نے سب کو ڈنر کے لئے روک لیا تھا حیا نے جب یہ لمبا پروگرام دیکھا تو ایکسکیوز کرکے اسٹیڈیز کے لیے اٹھ گئی ویسے بھی حور اس کو زبردستی یہاں منتیں کر کے لائی تھی کہ برسوں بعد اس کے کزن اپنی فیملی کے ساتھ آئے ہیں، وہاں حیا نے معاویہ کی فیملی کو دیکھ کر چونکی اور سوچنے لگی 'پتہ نہیں اب یہ شخص کیا ڈرامہ کرنے لگا ہے، مگر کل پیپر کی وجہ سے وہ اور کچھ بھی سوچنا نہیں چاہ رہی تھی۔ ۔۔ تھوڑی دیر بعد معاویہ ضروری کال کرنے کے لئے اٹھا اور لان میں آ کر موبائل پر بات کرنے لگا بات مکمل کرنے پر وہی سگریٹ نکال کر اسموکنگ کرنے لگا اور بل ڈوک کے پاس آیا حیا جو وہاں سے گزر رہی تھی اسموکنگ کی اسمیںل محسوس کرتے ہوئے اس کا موڈ خراب ہوا لان کی طرف آئی تو اس کے ماتھے پر شکنیں پڑگئی،،، معاویہ اسموکنگ کرتا ہوا بل ڈوک کی کمر ایک ہاتھ سے سہلا رہا تھا اور بل ڈوگ جو صرف گھر والوں کو پہچانتا تھا باقی سب کو دیکھ کر بھاگتا تھا زبان باہر نکالے ہوئے اپنے نئے مالک سے پیار وصول کر رہا تھا یہ منظر دیکھ کر حیا کا دل چاہا کہ اس غدار بل ڈوک اور اس کے نئے مالک دونوں کو وہ گولی سے اڑا دے۔۔۔۔ حیات دانت پیستی ہوئی معاویہ کے پاس آئی اور اس کے منہ سے سگریٹ نکال کر دور پھینکی
"نفرت ہے مجھے سگریٹ پینے والوں سے اور اس کی اسمیل سے الرجی ہے تم یہ یہاں نہیں پی سکتے"
حیا نے گھورتے ہوئے معاویہ سے بولا
"بے بی یہ تمہاری ہی بدتمیزی ہے جسکو میں برداشت کر لیتا ہوں ورنہ اور کوئی دوسرا یہ حرکت کرتا تو اب تک اس کا ہاتھ توڑ کر دوسرے ہاتھ میں پکڑا چکا ہوتا۔۔۔۔ ویسے آئندہ تم بھی خیال رکھنا"
معاویہ نے حیا کو وارننگ دی
"نہ ہماری عادتیں ملتی ہیں، نہ مزاج، نہ پسند اور ایسے انسان کو بھی ایک ساتھ زندگی نہیں گزار سکتے"
حیا نے معاویہ کو جتایا
'بےفکر رہو تمہاری ساری عادتیں، مزاج، پسند میں اپنی نیچر کے مطابق ڈھالنے کا فن جانتا ہوں،،، بس تمہیں میرے بیڈروم میں آنے کی دیر ہے" معاویہ نے سنجیدگی سے بولا مگر اس کی آنکھوں میں ناچتی ہوئی شرارت دیکھ کر حیا کا دل جل گیا
"اور تم کتنا پچھتانے والے ہو یہ تمہیں شادی کے بعد پتا چلے گا"
حیا نے انگلی اٹھا کر اس کو کہا معاویہ نے اپنی انگلی میں اس کی انگلی اٹکا کر نیچے کی
"بری بات انگلی نیچے کرو لگتا ہے شادی کے بعد بہت کچھ سیکھا نہ پڑے گا تمہیں اور ویسے میں تم سے شادی کر کے ساری زندگی پچھتانے کے لئے تیار ہوں۔۔۔۔ سنو شادی جلدی ہو گی ہماری اس بات کو لے کر کوئی بھی ایشو اٹھنا نہیں چاہیے"
معاویہ کا اب لہجہ شوخ تھا مگر آنکھیں وارننگ کرتی ہوئی تھی
'میں تمہیں چھوڑو گی نہیں"
حیا نے غصہ میں غراتے ہوئے کہا
'میں بھی تو یہی چاہتا ہوں تم مجھے بالکل نہیں چھوڑو"
معاویہ نے حیا کے دونوں ہاتھ اپنی کمر پر باندھ کر اس کا چہرہ تھامتے ہوئے کہا
زین جو کہ بیڈ روم میں جانے کے لئے ہال سے گزر رہا تھا کھڑکی سے اس کی نظر معاویہ اور حیا پر پڑی جو کہ بات کر رہے تھے وہ چونک کر لان میں آیا حیا اور معاویہ کو اتنا قریب دیکھ کر اسے حیرت کا شدید جھٹکا لگا
"حیا وہاں کیا کر رہی ہو"
زین نے اچانک حیا سے کہا زین کی آواز پر وہ دونوں موڑے اور ایک دم معاویہ حیا سے دو قدم پیچھے ہوا
"کچھ نہیں بابا ویسے ہی لان میں آئی تھی"
زین ان دونوں کو غور سے دیکھ رہا تھا تو حیا سے کچھ بات نہیں بنی
"جاو اپنے روم میں اور اسٹیڈیز کرو" زین نے حیا کو دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے کہا حیا وہاں سے چلی گئی تو زین نے دوبارہ معاویہ کو دیکھا اور اپنے روم میں چلا گیا
"لگتا ہے باپ پر مزاج گیا ہے بیٹی کا"
معاویہ سوچتے ہوئے دوبارہ سگریٹ سلگانے لگا
****
زین روم میں آیا اسے بار بار وہ منظر یاد آرہا تھا ہے حیا اور معاویہ اتنے قریب اس کی پیشانی پر شکنوں کے جال ابھریں
"شاہ یہاں کیوں آگئے ہو، ڈنر ریڈی ہے"
حور زین کو بلانے آئی
"میں تھکا ہوا ہوں تھوڑی دیر ریسٹ کروں گا ڈنر کا موڈ نہیں ہے"
تھوڑی دیر پہلے والی مہمان نوازی اور گرمجوشی ختم ہو چکی تھی، اس نے حور کو سنجیدگی سے جواب دیا
"مگر ایسے کتنا برا لگے گا ابھی تھوڑی دیر پہلے تو تم ٹھیک تھے کیا ہوا کچھ برا لگا ہے کیا"
حور نے پریشانی سے زین کو دیکھ کر کہا
"یار مجھے یہ خضر کا بیٹا۔۔۔ میرا مطلب ہے،،،،، تم نہیں سمجھو گی"
زین کو خود نہیں سمجھ میں آیا وہ کیا سمجھے اور حور کو کیا سمجھائے جب حیا وہاں سے اسٹڈیز کا کہ کر اٹھی تھی تو وہ لان میں کیا کررہی تھی
"اچھا جو بھی بات ہے وہ ہم بات میں ڈسکس کر لیں گے، تم پلیز میری خاطر کھانے کے لئے آجاؤ کتنا اکورڈ لگے گا ایسے، ،،، ویسے بھی حیا نے آنے کے لئے منع کردیا کم سے کم تم تو اس طرح نہیں کرو"
حور نے بے بسی سے کہا
"حیا کو آنا بھی نہیں چاہیے اسے فورسز نہیں کرنا، تم چلو میں آرہا ہوں"
زین نے حور سے کہا کھانا خاموشی کے ماحول میں کھایا گیا حور سب کو سرو کرنے میں لگی ہوئی تھی
"زین آج میں بہت خوش ہوں تمہارے اس طرح پازیٹیو رسپانس نے میرے اوپر سے بوجھ اتار دیا ہے جو برسوں سے میرے دل پر تھا، تم بڑے ظرف کے مالک کو اس میں کوئی شک نہیں۔۔۔۔ میں ہم دونوں کے رشتے کو اور بھی مضبوط کرنا چاہتا ہوں"
خضر کے بولنے پر حور ناعیمہ معاویہ صنم بھی اس کی طرف متوجہ ہوئے
"مطلب میں سمجھا نہیں"
زین نے الجھن بھری نظر خضر پر ڈالی
"میں معاویہ اور حیا کی شادی کی صورت ہمارا رشتہ مضبوط بنانے کی بات کر رہا ہوں، معاویہ اور حیا کی شادی سمجھو میری دلی خواہش ہے، میں حیا کو بہو نہیں بیٹی بنا کر اپنے گھر میں لانا چاہتا ہوں"
خضر نے بات مکمل کی جس پر زین اور حور کو چپ لگ گئی سب لوگ ان کے جواب کے منتظر تھے زین نے ایک نظر معاویہ کو دیکھا جو اسی کو دیکھ رہا تھا جیسے زین کے جواب کا انتظار کر رہا ہوں۔۔۔ زین کو دوبارہ لان والا منظر یاد آیا
"دراصل حیا کی شادی کا میں نے اتنی جلدی سوچا نہیں ہے ابھی اس کی اسٹیڈیز بھی کمپلیس نہیں ہوئی ہیں میں اتنی جلدی ارادہ نہیں رکھتا ہے حیا کی شادی کا" زین کو ان ڈائریکٹ منع کرنا بہتر لگا
"اسٹیڈیز کا کیا ہے زین، وہ تو شادی کے بعد بھی کمپلیٹ ہوسکتی ہے، انسان اپنے فرض سے جلد سے جلد سبکدوش ہوجائے تو ہی اچھا رہتا ہے۔۔۔۔ ہاں میں تمہاری پوزیشن سمجھ سکتا ہوں اگر تمہارے دل میں ایسی کوئی بات یا وہم دل میں ہے کہ حیا وہاں جاکر کیسی رہے گی یا ماضی کے حوالے سے۔۔۔۔۔ تو اس کو بالکل اپنے دل سے نکال دو میں نے ابھی تھوڑی دیر پہلے بولا تھا حیا کو میں بہو نہیں اپنی بیٹی بنا کر لے جاؤنگا اس بات کا تم دونوں بالکل اطمینان رکھو"
خضر نے یقین دلانے والے انداز میں کہا
"خضر مجھے تمھاری بات پر"
زین نے بولنا چاہا
"خضر بھائی ہم آپ کو تھوڑے دنوں بعد جواب دیں گے فون پر" حور نے زین کی بات کاٹ کر بات سنبھالتے ہوئے کہا
"ٹھیک ہے میں انتظار کروں گا اور امید رکھوں گا یہ جواب میری خوشی کے مطابق ہوگا"
خضر مسکرا کر بولا
اس پورے عرصے تک ناعیمہ نے آنکھوں ہی آنکھوں میں کڑی تنبیہ سے معاویہ کو کچھ بھی بولنے سے باز رکھا
****
"حور تم نے یہ کیوں بولا کہ ہم سوچ کر جواب دیں گے"
سب کام نمٹاکر حور بیڈ روم میں آئی تو زین ایک دم بول اٹھا
"تو اور کیا بولنا چاہیے تھا شاہ،،، جس طرح تم بات کر رہے تھے بات طول پکڑ رہی تھی" حور نے زین کو دیکھ کر جواب دیا
"یار میں بات نہیں بڑھا رہا تھا خضر ہی پیچھے پڑ گیا۔۔۔۔ اور دیکھو میری بات سنو ،صحیح ہے خضر نے پہل کی دوستی کا ہاتھ بڑھایا میں نے بھی اس کا پوزیٹو انداز میں رپلائی کیا ڈیٹس انف۔۔۔۔ حور دوستی کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ میں اپنی بیٹی کا ہاتھ اس کے بیٹے کے ہاتھ میں پکڑا دو"
زین نے جھنجلاتے ہوئے کہا
"ویسے اس میں برائی بھی کیا ہے تمہیں اپنی بیٹی کا ہاتھ کسی کے ہاتھ میں تو پکڑانا ہے نا۔۔۔۔ آئی مین ہمہیں اپنی بیٹی کی شادی تو کرنی ہے کسی نہ کسی سے"
حور نے تحمل سے سمجھانے کے انداز میں زین کو جواب دیا، جس پر زین حیران ہوگیا
"حور مطلب کیا ہے تمہارا کہنے کا، تمہارا مطلب ہے میں اپنی بیٹی کی شادی خضر کے بیٹے کے ساتھ کردو آر یو سیریز"
زین کو جیسے شاک لگا
"اس میں ایسی انہونی والی کون سی بات ہے شاہ، یہ زیادہ اچھا نہیں ہے کہ ہم اپنی بیٹی کا ہاتھ دیکھے بھالے لوگوں میں دیں۔۔۔۔ غیروں سے تو بہتر ہے اور ہم نے بلال بھائی کے ہاں بھی حیا کا ارادہ اس لیے بنایا تھا کہ وہ اپنے ہیں"
حور نے دوبارہ زین کو سمجھانے کی کوشش کی
"یہاں پر بلال کا کیا ذکر بھلا۔۔۔۔ بلال اور خضر میں بہت فرق ہے اور دیکھے بھالے لوگ۔۔۔ جن کا اتنے سالوں سے کچھ علم نہیں کہا ہے اچانک ایک دن سامنے آگئے دوسری ملاقات میں رشتہ بھی مانگ لیا ایکسیلنٹ"
زین نے تپ کر کہا
"مجھے معلوم ہے بلال بھائی اور خضر بھائی نے بہت فرق بتانے کی ضرورت نہیں ہے، ظاہری بات ہے دوستی تو تم نے خضر بھائی سے اول ٹالنے کے لئے کی ہے، دل تو تمہارا قیامت تک صاف نہیں ہوگا" حور کو زین کا اسطرح سے کہنا برا لگا
"حور اب تم غلط بات کر رہی ہوں، میں نے صاف دل سے اور کھلے دل سے اس کو گلے لگایا ہے،،،، مگر بیٹی اس کے گھر میں دینا الگ بات ہے۔۔۔ مجھے خضر کی نیت یا خلوص پر کوئی شک نہیں ہے"
زین نے تیز لہجے میں کہا
"اوکے شاہ تم جیتے میں ہاری اس بات کو یہی ختم کرو کیونکہ اس ٹاپک پر بات کم ہوگی ہماری بحث زیادہ"
حور واڑڈروب سے کپڑے لے کر ڈریسنگ روم میں چلی گئی
جاری ہے
Sunday, January 20, 2019
Subscribe to:
Post Comments (Atom)

0 comments:
Post a Comment