🌹: Itni mohhbat karo na
By zeenia shajeel
Epi # 22
جبران کی بتائی ہوئی جگہ پر اعظم لڑکی کو لے کر پہنچا یہ آبادی سے دور کوئی قبرستان تھا اعظم نے جبران کی گاڑی دیکھی اپنی گاڑیوں اس کی گاڑی کے قریب کھڑی کی خود گاڑی سے اتر کر لڑکی کو نکالا اور قدم بڑھاتا ہوا جبران کی گاڑی کی طرف آنے لگا وہاں جبران کے علاوہ اس کا ایک ساتھی بھی موجود تھا اور ان دونوں نے اپنا چہرہ چھپایا ہوا تھا اعظم نے لڑکی کو ان دونوں کے حوالے کیا جبران نے اعظم کو اس کے کام کا معاوضہ دیا وہ دونوں ہی لڑکی کو گاڑی میں بٹھانے کے لئے مڑے ابھی کار کا دروازہ کھولا ہی تھا فضا میں گولی کی آواز گونجی
"اپنی جگہ سے ہلنے کی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی کوئی ہوشیاری دکھانے کی ضرورت ہے پورا ایریا پولیس نے گھیرا ہوا ہے"
معاویہ پسٹل کا رخ جبران اور اس کے دوسرے ساتھی کی طرف کرتا ہوا اگے بڑھا
جبران نے جتنی تیزی سے پسٹل نکالنے کی کوشش کی، معاویہ نے اس کے ہاتھ کا نشانہ لے کر فائر کیا۔۔۔۔ دوسری فائر کی آواز پر پولیس کی کار وہاں پہنچی اور اعظم سمیت ان دونوں کو اپنے حراست میں لےکر پولیس کی گاڑی میں بٹھا کر اپنے ساتھ لے گئے
"تھینکس انسپکٹر شہلا آپ کے تعاون سے ہمارا کام آسان ہوا جس کے لئے میں آپ کا تہہ دل سے مشکور ہوں" معاویہ نے اسپیکٹر شہلا کے پاس آتے ہوئے کہا
"شکریہ کس بات کا سر یہ تو میرا فرض تھا"
انسپکٹر شہلا نے مسکرا کر کہا وہ دونوں بھی روانہ ہوگئے
****
"عماد کی کال آرہی ہے صنم میں سن کر آتی ہوں"
فریحہ نے موبائل بیگ سے نکالتے ہوئے کہا اور فاصلے پر جاکر کال سننے لگی
وہ دونوں آرٹ گیلری میں آئی ہوئی تھی اور مختلف پینٹنگز دیکھ رہی تھی۔۔۔۔ صنم ایک پینٹنگ کی طرف گئی اور غور سے اسے دیکھنے لگی
"یقینا آپ کو پسند آئی ہے یہ پینٹنگ مس صنم"
اپنے پیچھے سے آواز آئی تو اس نے مڑ کر دیکھا سامنے ہادی کو دیکھ کر اسکے لب مسکرائے
"ارے آپ یہاں،، کیسے ہیں آپ"
صنم نے خوشگوار حیرت کا اظہار کرتے ہوئے ہادی کی خیریت پوچھی
"میں ٹھیک ہو آپ کیسی ہیں"
ہادی نے اس کی آنکھوں میں جھانکا کر کہا جس میں اسے ہر وقت اداسی دیکھتی تھی لیکن آج اداسی کے ساتھ ایک خاص قسم کی چمک تھی جو شاید ہادی کو دیکھ کر اس کی آنکھوں میں آئی تھی
"میں بھی ٹھیک ہوں۔۔۔ کیا تو آپ کو بھی پینٹنگز میں دلچسپی ہے"
صنم نے خوش ہوتے ہوئے ہادی سے پوچھا
"اتنی خاص نہیں مگر جنھیں گفٹ کرنا ہے انہیں کافی دلچسپی ہے پینٹنگز میں تو سوچا کوئی خوبصورت سی پینٹنگ ہی گفٹ کردی جائے"
ہادی نے مسکرا کر کہا
"اور وہ کون ہے" صنم نے بے ساختہ پوچھا
"ہے کوئی سم ون اسپیشل"
ہادی نے بغور صنم کو دیکھتے ہوئے کہا
"اوہ اچھا"
صنم کے دل میں کچھ ٹوٹ سا گیا
"آپ پوچھیں گیں نہیں وہ سم ون اسپیشل کون ہے" ہادی اب بھی اس کو اس کی آنکھوں میں جھانکتا ہوا سوال کر رہا تھا جس میں ایک بار پھر اداسی اپنا رس گھول گئی تھی
"مجھے پہلے بھی نہیں پوچھنا چاہیے تھا سوری میں ایکدم پرسنل ہوگی" صنم کی نگاہیں اب فریحہ کو تلاش کر رہی تھی
"مگر میں تو اب آپکو اپنا اچھا دوست سمجھ کر بتانا چاہتا ہوں تاکہ پینٹنگ سلیکٹ کرنے میں آپ میری ہیلپ کرسکیں"
ہادی نے صنم سے کہا
"اوکے آپ کی ہلپ کر کے مجھے خوشی ہوگی،، کس طرح کی نیچر ہے جن کو آپ گفٹ کرنا چاہتے ہیں پینٹنگ۔۔۔ میرا مطلب ہے انسان کو اس کی طبیعت اور مزاج کے مطابق چیزیں پسند آتی ہے تو آپ مجھے تھوڑا سا بتائے تاکہ سلیکٹ کرنے میں آسانی ہوجائے"
صنم نے مسکرا کر وضاحت دی
"میری مما کو رنگوں سے بہت پیار ہے صنم"
ہادی نے جانچتی ہوئی نظروں سے صنم کو دیکھ کر کہا
"مطلب آپ یہ گفٹ اپنی مما کو کرنے والے ہیں۔۔۔۔ ائی مین وہ سم ون اسپیشل آپ کی مما ہیں" صنم نے حیرت سے کہا ایک دفعہ پھر اس کی آنکھوں میں حیرت اور خوشی کے ملے جلے تاثرات ابھرے
"کیوں میرے لیے میری مما اسپیشل نہیں ہوسکتی۔۔۔۔ دراصل ان کی انیورسری آرہی ہے تو سوچا پینٹنگ کے گفٹ کردو" ہادی نے ہلکا سا مسکرا کر جواب دیا
"پھر دیکھیں یہ پینٹنگ کیسی رہے گی اس میں چاروں طرف رنگ ہی رنگ بکھرے ہوئے ہیں" صنم نے ایک پینٹنگ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا
"بیوٹیفل آپ کی چوائس لاجواب ہے، اس میں کوئی شک نہیں اور یہ میری ماں کو پسند بھی آئے گی۔۔۔۔ اگر میں ان کے لئے پینٹنگ پسند کرتا تو وہ ان کو اتنی پسند نہیں آتی کیونکہ میری چوائس ان سے ڈفرنٹ ہے
"اور آپ کی چوائس کیا ہے"
صنم نے ویسے ہی پوچھا
"اگر میں اپنے لیے کچھ پسند کروں گا تو یہ پینٹنگ پسند کروں گا"
ہادی نے ایک پینٹنگ کی طرف اشارہ کیا جس میں ایک خوبصورت لڑکی بھرے مجمعے میں اداس آنکھوں کے ساتھ کھڑی مجمعے کو دیکھ رہی تھی
"آپ کو نہیں لگتا صنم اس پینٹنگ میں موجود یہ لڑکی آپکی شخصیت کی عکاسی کر رہی ہے، یہ بالکل آپ سے میل کھاتی ہے آپ بھی دنیا کو شاید اسی طرح آنکھوں میں اداسی سجائے ہوئے دیکھتی ہیں" ہادی نے غور سے اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا
"ارے یار سوری عماد بھی نہ اتنی لمبی بات کرتا ہے فریحہ نے ایک دم آکر کہا
صنم اور ہادی نے فریحہ کی طرف دیکھا
"ان سے ملو یہ ہادی ہیں۔۔۔۔۔۔ ہادی یہ میری بہت اچھی دوست ہے اور یونیورسٹی فیلو بھی"
فریحہ نے ہادی سے مل کر صنم سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا
"صنم وہ عماد مجھے لینے آنے والا ہے۔۔۔ اگر تم مائینڈ نہیں کرو تو اپنے ڈرائیور کو بلا لو گی وہ تمہیں آکر پک کرلے"
فریحہ کو حماد کے ساتھ نکلنا تھا اور صنم کا گھر اپوزٹ سائیڈ پر تھا تو اس نے اپنی مجبوری بتائی
"مجھے بالکل مسئلہ نہیں ہوگا تم عماد بھائی کے ساتھ جاو ریلیکس ہوکر،، میں ڈرائیور کو کال کرتی ہوں"
صنم نے فریحہ کو اطمینان دلایا
"اگر آپ کو کوئی پرابلم نہ ہو تو میں آپ کو ڈراپ کر سکتا ہوں"
ہادی نے صنم کو افر کری
"آپ کو پریشانی تو نہیں ہوگی"
صنم نہیں ججھکتے ہوئے ہادی سے پوچھا کیونکہ ڈرائیور کا ویٹ کرتی تو اسے کافی دیر ہو جاتی جبکہ فریحہ چلی گئی تھی
"نہیں کوئی پرابلم نہیں ہوگی آپ آئیے پلیز"
ہادی نے صنم کو بولا
****
آج حیا کا برتھ ڈے تھا زین افس نہیں گیا تھا اس نے آج کا دن اپنی بیٹی کے نام کیا سارا دن اس کے اور حور کے ساتھ گزارا۔۔۔۔ حیا اتنے دنوں کی اداسی اور ٹینشن کو بھلا کر خوش ہوگئی تھی اس کے ماں باپ اس کے ساتھ تھے اس کی طاقت، اس سے سچی محبت کرنے والے اس نے مسکرا کر سوچا
رات کا ڈنر کر کے وہ لوگ گھر واپس لوٹے گھڑی رات کے دس بجا رہی تھی آج کا سارا دن ہی گھومتے پھرتے گزرا تھا،،، تھکن کے باعث زین اور حور بھی اپنے بیڈروم میں چلے گئے حیا بھی اپنے بیڈ روم میں آئی جیسے ہی لائٹ ان کی بہت سارے گلاب کی پتیاں ایک دم سے اس کے اوپر آکر گری وہ ایک دم دڑ کے پیچھے ہوئی اور چیخ مارنا چاہا معاویہ نے اپنا بھاری ہاتھ اس کے نازک ہونٹوں کے رکھ دیا
"ہیپی برتھ ڈے بے بی"
وہ کان میں سرگوشی کرتے ہوئے بولا۔۔۔۔ حیا نے اس کے سینے اپنے دونوں ہاتھ رکھ کر اسے دور ہٹایا
"یہ کیا بیہودہ حرکت ہے"
ماتھے پر شکنوں کاجال سجائے ہوئے حیا نے اس سے غرا کر پوچھا
"غالبا اسے برتھ ڈے وش کرنا کہتے ہیں"
معاویہ نے حیا کو غور سے دیکھتے ہوئے کہا
"مجھے تمہاری وشسز کی ضرورت نہیں ہے اور تمہیں اس طرح میرے روم میں آنے کی ضرورت نہیں ہے"
حیا نے سخت لہجے میں کہا
"کیسے ضرورت نہیں ہے جانم۔۔۔ تمہیں گفٹ دینے، اپنا منہ میٹھا کرانے تو آنا تھا مجھے۔۔۔۔ اس طرح لینے دینے سے تو ہمارے درمیان محبت بڑھے گی" معاویہ نے آنکھوں میں شرارت سمائے ہوئے دو قدم آگے بڑھ کر کہا اس کے آگے بڑھنے پر حیا دو قدم پیچھے ہٹی
"اپنی اوقات میں رہو تم دو ٹکے کے پولیس والے۔۔۔ اگر تم یہاں سے نہیں نکلے تو میں شور مچا دوں گی"
حیا نے اس کو دھمکایا
"شوق سے اپنا شوق پورا کرو۔۔۔ میں تو چاہتا ہوں ایسے ہی سہی کچھ بات تو آگے بڑھے"
معاویہ اس کو چیلنج کرتا ہوا بولا اور اس کی ڈھٹائی پر حیا اس کو گھور کر رہ گئی
"اچھا ایسی پیار بھری نظروں سے دیکھنا بند کرو تمہارے اس طرح دیکھنے سے میرا دل اور بھی بے ایمان ہوتا ہے"
معاویہ نے نرمی سے اس کا ہاتھ تھاما اور اسے ٹیبل تک لے جانا چاہا جو کہ روم کے کونے میں رکھا ہوا تھا مگر حیا اپنی جگہ سے نہیں ہلی وہ ابھی بھی غصے میں معاویہ کو ہی دیکھ رہی تھی،، معاویہ نے جب اس کو ٹس سے مس ہوتے نہیں دیکھا تو حیا کے ہاتھ پر اپنی گرفت سخت کی اور سنجیدگی سے اس کو دیکھنے لگا جیسے آنکھوں سے اسے وارننگ دے رہا ہوں۔۔۔ حیا آئستہ قدم اٹھا کر اس کے ساتھ ٹیبل تک آئی جہاں ٹیبل پر چھوٹا سا کیک اور نایف رکھا ہوا تھا معاویہ نے نرمی سے اس کا ہاتھ چھوڑا اور اپنی پاکٹ سے ایک ہارٹ شیپ پینٹنڈ نکالا اور اسے حیا کہ گلے میں پہنایا برخلاف توقع حیا نے کسی قسم کا احتجاج کے بناء پینڈنٹ معاویہ کے ہاتھوں سے آرام سے پہن لیا تو معاویہ نے ہلکا سا مسکرا کر حیا کو دیکھا
"اسے اپنے گلے کی زینت بنائے رکھنا بےبی، رینگ کی طرح اس کو اتارنا نہیں ورنہ مجھے بالکل اچھا محسوس نہیں ہوگا"
وہ حیا کی گال پر اپنا ہاتھ رکھتے ہوئے بولا حیا بالکل چپ چاپ اس کو دیکھ رہی تھی
"چلو شاباش کیک کاٹو اب"
معاویہ نے نائف اس کے ہاتھ میں پکڑاتے ہوئے کہا جو کہ حیا نے چپ کرکے تھام لی،،، کیک کی طرف نائف بڑھاتے ہوئے اچانک حیا کو کیا ہوا ایک دم اس نے مڑ کر نائف سے معاویہ کے سینے کی طرف وار کرنا چاہا مگر اگلے ہی پل بدقسمتی سے حیا کی کلائی معاویہ کے مضبوط ہاتھ میں تھی اور معاویہ کا دوسرا ہاتھ حیا کی نازک گردن پر۔۔۔۔ معاویہ نائف والا ہاتھ موڑ کر حیا کی کمر تک لے گیا اور ایک جھٹکے سے نائف نیچے گرائی اب وہ اسے دیوار کے ساتھ لگا چکا تھا
"کیا کرنے والی تھی تم ہاں۔۔۔۔ یہ حرکت تمہیں کتنی مہنگی پڑ سکتی ہے اس کا اندازہ ہے تمہیں،،،، ابھی تک تم نے صرف پیار دیکھا تھا میرا،، اب میں تمہیں بتاتا ہوں معاویہ مراد ہے کیا چیز"
حیا کی گردن پر معاویہ کے ہاتھ کا دباؤ مزید بڑھنے لگا تو حیا نے اپنے دوسرے ہاتھ سے معاویہ کا ہاتھ اپنی گردن سے ہٹانا چاہا جس نے وہ کامیاب نہیں ہوسکی
"بتاؤ اس حرکت کے بدلے اب تمہارے ساتھ کیا سلوک ہونا چاہیے، اپنی سزا آج تم خود ہی تجویز کروں گی بولو"
حیا کی گردن اور ہاتھ پر سے اپنے ہاتھ ہٹاتے ہوئے اس نے حیا کو بیڈ پر پھینکتے ہوئے کہا۔۔۔
حیا آوندھے منہ بیڈ پر گری اور جلدی سے سیدھی ہوکر اٹھنا چاہا ابھی وہ اٹھ کر بیٹھی تھی معاویہ تیزی سے اس کے پاس آیا اور اس کو اٹھنے کا موقع دیئے بغیر حیا کے دونوں شولڈر پکڑ کر واپس اسے بیڈ پر گرایا۔۔۔۔ اپنے دونوں ہاتھ حیا کے دائیں بائیں طرف رکھے اور اپنا ایک گھٹنا بیڈ کے اوپر ٹکا کر حیا کو دیکھنے لگا
"سوری بولو" سنجیدگی سے حیا کو دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔۔ حیا کی آنکھوں میں خوف اور آنسو دیکھ کر اور اپنے انگلیوں کے نشانات اس کی گردن اور ہاتھ پر دیکھ کر وہ پیچھے ہٹا اس کے پیچھے ہٹنے سے حیا فورا بیڈ سے اٹھ کر کھڑی ہوئی
"اوکے ریلکس آنسو صاف کرو اپنے"
معاویہ نے آگے ہاتھ بڑھا کر اس کے آنسو صاف کرنے چاہے۔۔۔ جو بھی تھا وہ اس کی آنکھوں میں آنسو نہیں دیکھنا چاہتا تھا مگر حیا نے اس کا ہاتھ جھٹک دیا
"دفع ہو جاو میرے بیڈروم سے اور میری زندگی سے بھی"
انگلی سے کھڑکی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حیا چیخ کر بولی
"اوکے میں تمہارے روم سے جا رہا ہوں، مگر تمہاری زندگی سے نکلنے کے لئے تمہیں ایک دفعہ پھر ٹرائے کرنا پڑے گا مجھے مارنے کے لئے"
"کاش میری کوشش آج ہی کامیاب ہوجاتی"
حیا یہ کہہ کر رکی نہیں بلکہ واش روم کے اندر چلی گئی
معاویہ سر پر ہڈ ڈال کر کھڑکی سے باہر نکل گیا
*****
زین کو نیند میں لگا جیسے حیا کی چیخ کی آواز آئی ہے وہ اس کے روم میں گیا، ڈور کھولا تو کھڑکی سے کسی کو باہر جاتے ہوئے دیکھا جب تک وہ بھاگ کر کھڑکی کی طرف آیا تو دیوار پھیلانک کر کوئی باہر کی طرف نکل رہا تھا حیا کو تلاشنے کے چکر میں زین کی نظر واش روم کی طرف گئی واش روم کی لائٹ جلی ہوئی تھی اور پانی کرنے کی آواز آ رہی تھی اس بات سے زین نے اندازہ لگایا کہ حیا واش روم میں ہے۔۔۔۔ زین نے حیرت سے ٹیبل پر پڑے ہوئے کیک کی طرف دیکھا نیچے چھڑی پڑی ہوئی تھی کمرے میں پھول کی پتیاں بکھری ہوئی تھی۔۔۔زین نے بے یقینی سے دوبارہ کھڑکی کی طرف دیکھا اور پھر واشروم کے بند دروازے پر اسکی نظر گئی وہ واپس اپنے روم میں آ گیا مگر آپ نیند اسکی آنکھوں سے کوسوں دور تھی
جاری ہے
Sunday, January 20, 2019
Subscribe to:
Post Comments (Atom)

0 comments:
Post a Comment