Sunday, January 20, 2019

itni mohbbat karo na (season 2) episode 23

🌹: Itni mohbat karo na 2
By zeenia sharjeel
Epi # 23

"ہاں سعد جبران نے اپنا منہ کھولا" معاویہ نے پولیس اسٹیشن میں آتے ہی  مصروف انداز میں انسپکٹر سعد سے پوچھا

"سر جی کافی تواضع تو میں نے اس کی ابھی تھوڑی دیر پہلے کی ہے،،، بس تھوڑی دیر میں آپ کو انفارمیشن نکلوا کر دیتا ہوں"
انسپکٹر سعد نے تابعیداری دکھاتے ہوئے کہا

"کتنی دفعہ کہا ہے سعد سیدھی انگلی سے صرف ایک بار گھی نکالا کرو اس کے بعد اگر گھی نہ نکلے تو اس انگلی کو کاٹ دو"
معاویہ نے دوسرے کیس کی فائل دیکھتے ہوئے سعد کو مشورہ دیا

"مطلب سر جی" انسپکٹر سعد نے گڑبڑاتے ہوئے پوچھا

"مطلب میں ٹائم ویسٹ نہیں کرو،،،اگر وہ منہ نہیں کھول رہا تو جاو جاکر اس کی ایک ایک کر کے انگلیاں کاٹ دو اور میں ایک کام کے سلسلے میں جارہا ہوں جب تک میں واپس آؤ تو میری ٹیبل پر پوری انفارمیشن موجور ہونی چاہیے"
معاویہ نے فائل بند کرکے ٹیبل پر رکھی اور گاڑی کی کیز اٹھا کر باہر نکل گیا

****

"کیا ہوا چپ چپ کیو ہوں خیریت ہے سب"
بلال آفس پہنچا تو کافی دیر سے زین کو چپ اور غائب دماغ دیکھ کر، آخر کار بلال نے زین سے سوال کیا

بے شک منگنی ختم ہو چکی تھی مگر اس وجہ سے ان کی دوستی میں کوئی فرق نہیں آیا تھا البتہ زین ہادی سے بات نہیں کرتا تھا اور ہادی بھی زین کو سلام کے علاوہ مخاطب نہیں کرتا تھا۔۔۔۔ جب کہ وہ جانتا تھا زین کی اس میں کوئی غلطی یا قصور نہیں تھا۔۔۔۔ ایک باپ ہونے کے ناطے اس دن جو زین نے کیا کوئی اور اسکی جگہ پر ہوتا وہ یہی کرتا مگر اسے غصہ حیا پر تھا جو کسی صورت کم نہیں ہو رہا تھا

"ہاں سب خیریت ہے"
زین نے ڈالنے والے انداز نے بلال کو کہا 

اب وہ کل رات والی بات بلال سے کیا شیئر کرتا،،، شیئر تو اس نے یہ بھی نہیں کیا تھا کہ خضر نے اپنے بیٹے کا رشتہ حیا کیلئے ڈال کر گیا ہے

"مجھے محسوس ہو رہا ہے ہادی اور حیا کا رشتہ ختم ہونے کی وجہ سے ہمارے اتنے سالوں کی دوستی میں فرق آ گیا ہے جو تم اپنی پرابلم اب مجھ سے شئیر کرنا ضروری نہیں سمجھ رہے ہو اور پلیز یہ مت کہنا کہ تمہیں کوئی پرابلم نہیں ہے۔۔۔ میں ہر کسی سے بےخبر رہ سکتا ہوں مگر تمہارا چہرہ دیکھ کر مجھے اندازہ ہو جاتا ہے کہ کوئی بات ضرور ہے"
بلال نے زین کو دیکھتے ہوئے کہا

"میری اور تمہاری دوستی اتنی ہلکی کبھی نہیں رہی ہے بلال کے ہم بچوں کے پیچھے اپنے دل ایک دوسرے سے خراب کریں،،، دو دن سے ایک عجیب سی الجھن میں پڑ گیا ہو اس دن تمہیں بتایا تو تھا کہ خضر آیا تھا"
زین نے بلال کو یاد دلایا

ہاں صلح ہو گئی ہے تم دونوں کی،، بہت خوشی کی بات ہے اس عمر میں دل برے کرکے ان میں رنجشیں رکھ کر کیا کرنا ہے"
بلال زین سے بولا

"یار اس دن خصر حیا کے لئے معاویہ اپنے بیٹے کے رشتے کے لئے کہہ کر گیا ہے اور کافی اصرار کر کے گیا ہے"
زین نے ابھی بھی کل رات والی بات گول کر کے رشتے والی بات بلال کو بتائی۔۔۔ جس پر بلال ایک پل کے لیے خاموش ہو گیا کتنا ارمان تھا اسے حیا اس کے گھر آتی

"پھر تم نے کیا جواب دیا اور بھابھی ان کے کیا خیالات ہیں اس بارے میں"
بلال نے زین سے پوچھا

"یار حور کو تو اس رشتے میں کوئی برائی نہیں لگتی، مگر مجھے کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا، پتہ نہیں کیا الجھن ہے میں اندر سے مطمئن نہیں" زینب نے اپنی پریشانی شیئر کی

"تم مطمئن کیوں نہیں ہو زین"
بلال نے زین سے سوال کیا

"یار مجھے خضر کی نیت پر کوئی شک نہیں ہے اس نے بے شک نیک نیتی سے حیا کو اپنے بیٹے کے لیے مانگا ہے،، مگر حیا کا تمہیں پتا ہے وہ کس طرح ایڈجسٹ کرے گی اور سب سے بڑی بات اس کا بیٹا معاویہ پتہ نہیں کس نیچر کا مالک ہے اور حیا کو کیسا رکھے ویسے بھی شکل سے بھی کافی پراؤڈ اور سیریز سا لگا بس یہی سب سوچ کر الجھن کا شکار ہو"
زین نے کرسی سے ٹیک لگا کر آنکھیں بند کرتے ہوئے کہا، اس کی آنکھوں کے آگے وہی منظر گھوم گیا کہ جب حیا اور معاویہ ایک دوسرے کے قریب کھڑے تھے جس سے وہ الجھ گیا تھا 

"زین تم نے حیا سے پوچھا وہ کیا چاہتی ہے۔۔"
بلال کے سوال پر زین نے چونک کر بلال کو دیکھا

"اس میں اتنا چونکنے کی کیا بات ہے حیا سے تم نے اس کی مرضی پوچھنی چاہیے آخر کو آگے زندگی اسی نے گزارنی ہے"
اب زین کو کل رات والا منظر آنکھوں کے سامنے گھوم گیا حیا کے روم میں کیک پھولوں کی پتیاں اور وہ کون ہوسکتا تھا بھلا، وہ کل رات سے ہی سوچ رہا تھا۔۔۔ ابھی وہ سوچ ہی رہا تھا اس کی سیکرٹری کی کال آئی

"سر کوئی معاویہ مراد آپ سے ملنا چاہتے ہیں"

"ٹھیک ہے انہیں اندر بھیج دیں"
زین نے کہتے ہوئے فون رکھا

"خضر کا بیٹا آیا ہے معاویہ"
زین نے بلال کو بتایا

"ٹھیک ہے تم اس سے بات کرو میں باہر کا راوئڈ لگا کر آتا ہوں"
بلال نہ چیئر سے اٹھتے ہوئے کہا اور روم سے باہر نکل گیا

****

"اسلام علیکم انکل" زین معاویہ کے آفس میں داخل ہوا آگے ہاتھ بڑھاتا ہوا بولا

"وعلیکم السلام بیٹھو"
زین ہاتھ ملا کر کرسی کی طرف اشارہ کیا

"خیریت کہو کیسے آنا ہوا"
معاویہ کے چیئر پر بیٹھتے ہی زین نے معاویہ سے سوال کیا

"آپ سے کچھ ضروری بات کرنی تھی اپنے اور حیا کے متعلق"
معاویہ نے زین کو دیکھتے ہوئے کہا،
معاویہ کی جملے پر زین کا ماتھا ٹھنکا

"جو بھی بات ہو بہت سوچ سمجھ کر کرنا یہ ذہن میں رکھ کر کہ حیا میری بیٹی ہے"
زین نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر تنبہی والے انداز میں کہا

"دراصل انکل میں بات کو گھما پھرا کر کرنے کا عادی نہیں ہوں، بات سمپل سی ہے میں حیا کو لائیک کرتا ہوں اور اس سے شادی کا خواہشمند ہوں"
معاویہ نے بغیر گھبرائے یا نروس ہوئے زین کی آنکھوں میں دیکھ کر اس سے اپنی خواہش کا اظہار کیا

زین کو وہ سیریز اور پراوٹ تو پہلے ہی لگا تھا لیکن آج کانفیڈنٹ کے ساتھ ساتھ تھوڑا بےباک بھی لگا

"تمہیں ایک باپ کے سامنے اس کی بیٹی کے لیے اس طرح بات کر رہے ہو"
زین نے معاویہ کو شرم دلائی

"کسی کو پسند کرنا یا اس سے شادی کی خواہش کرنا میرا خیال نہیں کہ یہ معیوب بات ہے"
اور شرم کبھی معاویہ کو چھو کر نہیں گزری تھی

"اور اگر میں اس رشتے سے انکار کردوں تو"
زین معاویہ کو بغور دیکھتے ہوئے کہا

"آپ دھمکی دے رہے ہیں یا صاف انکار کررہے ہیں"
معاویہ نے سنجیدگی سے زین کو دیکھ کر پوچھا

"نا دھمکی نہ انکار جسٹ ایک کوئیچٹن پوچھا ہے میں نے"
زین نے ناپنا چاہا وہ کتنے پانی میں ہے

"لیکن مجھے پھر بھی لگتا ہے کہ شادی تو میری حیا سے ہی ہوگی"
زین نے اس کی چیلنج کرتی ہوئی آنکھوں کو غور سے دیکھا

"اتنا کونفیڈنس کس بات پر ہے تمہیں"
زین نے جانچھتی ہوئی نظروں سے اس کو دیکھا

"سر مجھے خود پر ہمیشہ سے ہی کانفیڈینس رہا ہے" معاویہ نے ٹیبل پر رکھے ہوئے پیپرویٹ کو گھماتے ہوئے کہااور پھر ایک نظر زین پر ڈالی

"کل رات تم میرے گھر آئے تھے حیا کے روم میں کھڑکی کے راستے"
زین نے گھومتے ہوئے پیپرویٹ کو روک کر کہا نگاہیں اب بھی اس کی معاویہ کے اوپر تھی اتنے عرصے میں پہلی بار چونکنے کی باری معاویہ کی تھی۔۔۔۔ معاویہ بناء جواب دیئے خاموشی سے زین کو دیکھتا رہا

"پولیس میں ہو کر یوں چوروں کی طرح آدھی رات کو کسی کے گھر آنا کافی گھٹیا حرکت ہے"
زین نے دوبارہ معاویہ کو شرم دلائی زین سمجھا کہ وہ اس بار شرم دلانے میں اسے کامیاب ہو گیا ہے شاید وہ شرمندہ بھی تھا

"تو آپ یہ سمجھے کے میں آج یہاں پر آپ سے کھڑکی کی بجائے دروازے سے اندر آنے کی پرمیشن لینے آیا ہوں"
معاویہ کافی دیر چپ رہنے کے بعد بولا،،، زین کو اب وہ بےباک ہونے کے ساتھ ساتھ کافی ڈھیٹ بھی لگا

"حیا کی انولومنٹ  کتنی ہے"
زین نے ایک اور سوال کیا مگر نظریں اس کی کھڑکی کی طرف تھی

"وہ آپ سے خود سے بات نہیں کرے گی مگر اس رشتے کے لئے انکار بھی نہیں کرے گی"
معاویہ کے کہنے پر زین نے معاویہ کو دیکھا پہلی دفعہ وہ نظر جھکا گیا

"ٹھیک ہے جو بھی میں اور حور ڈیسائڈ کریں گے، وہ حور فون کر دے گی"
زین نے بات نمٹاتے ہوئے کہا

"اوکے انکل میں یہاں سے اچھی امید لے کر جا رہا ہوں" معاویہ نے اٹھتے ہوئے کہا مگر زین نے اپنی رائے کا اظہار نہیں کیا معاویہ خدا حافظ کہہ کر چلا گیا

****

"ہادی مجھے تم سے ضروری بات کرنی ہے میرے روم میں آو"
آفس میں ہی زین نے ہادی کو اپنے روم میں بلایا

"جی بولیے کیسے یاد کیا"
ہادی نے روم میں آتے ہوئے کہا

"بیٹھو کچھ پوچھنا ہے تم سے"
زین نے چیئر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا

"منگنی ختم کرنے کی وجہ بتاؤ"
زین نے ڈائریکٹ سوال کیا

"بڑی جلدی خیال نہیں آ گیا ویسے انکل"
ہادی نے طنزیہ لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا

"جو پوچھا ہے اس کا جواب دو"
زین نے اس کا طنز اگنور کرتے ہوئے کہا

"کیا سننا چاہتے ہیں آپ۔۔۔ سچ سننے کی سکت ہے اپ میں" ہادی نے استہزائیہ ہنستے ہوئے کہا

"میں نے تمہیں یہاں تمہاری بات سننے کے لئے ہی بلایا ہے تم بولو میں سن رہا ہوں"
زین نے ہادی کو دیکھتے ہوئے کہا

"میں زیادہ کچھ آپ کو نہیں کہوں گا،، بس حیا اور معاویہ ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں"
ہادی نے چیئر سے اٹھتے ہوئے کہا

جو بھی تھا وہ حیا کے بیڈروم میں معاویہ کی موجودگی کا زین کو نہیں بتا کر شرمندہ نہیں کر سکا اجازت لیتے ہوئے وہاں سے چلا گیا

****

"کیا ہوا کافی چپ ہوا آج"
رات میں جب حور بیڈ روم میں آئی تو اس نے زین سے پوچھا

"نہیں کوئی ایسی خاص بات نہیں ہے ایسا کروں خضر کو کال کرکے اس کی فیملی کے ساتھ اسے انوائٹ کرلو"
زین نے کچھ سوچتے ہوئے حور سے بولا

"خضر بھائی کو فیملی کے ساتھ" حور نے حیرت سے بولا

"ہاں اس دن تم کہہ رہی تھی اس رشتے میں برائی کیا ہے پھر غیروں سے تو بہتر ہے اپنوں میں بیٹی کو بیایا جائے" زین نے حور کی بات کو دہراتے ہوئے کہا 

"ہاں یہ سب میں نے کہا تھا مگر ہمیں حیا سے بھی پوچھ لینا چاہیے"
حور نے اپنی راۓ دی

"نہیں اس کی ضرورت نہیں ہے وہ رازی ہوگی اس رشتے کے لئے، تم ایسا کرو خضر کو اس کی فیملی کے ساتھ انوائٹ کرو کل رات کا ڈنر ہمارے ساتھ کرے اور یہ لائٹ بند کر دو پلیز میں سونا چاہتا ہوں"

جاری ہے

0 comments:

Post a Comment