🌹: Itni mohhbat karo na 2
By zeenia sharjeel
Epi # 25
"کیا سوچ رہے ہو شاہ"
سب کام سے فارغ ہوکر حور بیٹھ روم میں آئی تو زین کو کسی سوچ میں گم بیڈ پر بیٹھے ہوئے دیکھا جبھی اس کے پاس آکر بولی
"کیا سوچ سکتا ہو میری سوچوں کا مرکز تمہارے اور حیا کی ذات کے علاوہ اور کیا ہے بھلا"
زین نے حور کو دیکھ کر مسکراتے ہوئے کہا
"وہ تو مجھے بھی پتہ ہے مگر اس وقت کیا سوچ رہے ہو"
حور نے تکیہ سیٹ کرکے لیٹتے ہوئے کہا۔۔۔ آج سارے دن کے کاموں نے اس کو ویسے ہی تھکا دیا تھا
"اگر ہم حیا کی شادی ہادی سے کردیتے تو ہم مطمئن ہوتے مگر حیا خوش نہیں ہوتی۔۔۔ حیا نے ہماری خوشی کو دیکھتے ہوئے ہاں کی تھی مگر بچوں کی مرضی بھی ضروری ہے خضر کے گھر وہ خوش رہے گی"
زین نے حور کا ہاتھ تھامتے ہوئے اپنی راۓ کا اظہار کیا
"یہ تم کیسے کہہ سکتے ہو" حور نے حیرت سے زین کو دیکھتے ہوئے پوچھا
اب جو بات اس کو سمجھ میں آئی تھی وہ حور کو کیسے سمجھا سکتا تھا۔۔۔ حیا نے ہادی کے لئے ہاں زین اور حور کی خوشی کے لئے کی۔ ۔۔ ہادی کا سخت ری ایکشن یقینا اس بات کو لے کر ہوگا کہ حیا کسی دوسرے کو پسند کرتی ہے،، جبھی معاویہ نے آفس میں آکر اس طرح کانفیڈنس سے کہا کہ حیا انکار نہیں کرے گی ان سب باتوں سے زین نے یہی نتیجہ اخذ کیا حیا اور معاویہ ایک دوسرے کو لائیک کرتے ہیں
"کہاں کھو گئے وہ شاہ"
حور نے اس کے بازو پر ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا
"کہیں نہیں یار یہی سوچ رہا ہوں، شادی میں بہت کم دن رہ گئے ہیں ارینجمنٹس بھی کرنے ہیں۔۔۔۔ کہیں کسی چیز کی کمی نہیں رہنی چاہیے" زین نے حور کا ہاتھ اپنے ہونٹوں سے لگاتے ہوئےبات بنائی
"ارے ارینجمنٹ سے یاد آیا ناعیمہ بھابھی پرسوں کا کہہ رہی تھی کہ حیا معاویہ کے ساتھ جاگے اپنی شادی کا ڈریس اپنی پسند سے سلیکٹ کرلے۔ ۔۔ تمہیں تو کوئی اعتراض نہیں ہے نا"
حور نے زین کو دیکھتے ہوئے پوچھا
"اعتراض کیسا،، تم حیا کو بتا دینا" زین نے بیڈ پر لیٹے ہوئے کہا
*****
"سر جی جبران کے بیان کے مطابق اغواء شدہ لڑکیوں کو اس جگہ پر قید رکھا گیا ہے
انسپکٹر سعد نے تفصیلات والا پرچہ معاویہ کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا
"اور آج سے ہفتے بعد بحری جہاز کے ذریعے ان لڑکیوں کو دوبئی پہنچا دیا جائے گا"
"ٹھیک ہے انسپکٹر سعد،،، میں ڈی۔ایس۔پی افتخار سے پرمیشن لینے جارہا ہو، تم ٹیم ریڈی کروں آج رات ہی ہمہیں ایکشن لینا ہوگا"
معاویہ نے چیئر سے اٹھتے ہوئے کہا،،، وہ آج سول ڈریس میں پولیس اسٹیشن آیا تھا،،، ڈی ایس پی افتخا کو تمام تر تفصیلات سے آگاہ کر کے ان سے ریڈ ڈالنے کی پرمیشن لینی تھی اسکے بعد اسے حیا کو شادی کا ڈریس دلانے بھی لے جانا تھا آج کا دن اس کے لئے کافی ٹف تھا
"مگر سر جی اتنی جلدی رات میں ہی ریڈ ڈالنی ہے" انسپکٹر سعد نے ہچکچاتے ہوئے پوچھا
"جبران کے واپس نہ پہنچنے پر وہ لوگ چوکنا ہوگئے ہوں گے اس سے پہلے وہ اغواء شدہ لڑکیوں کو کہیں اور شفٹ کر دیں، تو اب تک ساری محنت بیکار جائے گی اس لیے جو بھی کرنا ہوگا فورا ہی کرنا ہوگا تم ٹیم تیار کرو فورا"
معاویہ نے باہر نکلتے ہوئے کہا
****
"ابھی وہ پیپر دے کر آئی تھی تو اچھی خاصی بیزاری اس کے چہرے پر چھائی ہوئی تھی
"حیا کھانا کھا لو شاباش"
حور نے حیا کو لیٹتے ہوئے دیکھکر کہا
"مما بھوک نہیں ہے، میں تھوڑی دیر سونا چاہتی ہوں"
حیا نے آنکھیں بند کرتے ہوئے کہا
"سونے کا فائدہ نہیں ہے معاویہ آرہا ہے تھوڑی دیر میں تمہیں بتایا تو تھا صبح،،،، برائیڈل ڈریس لینے کے لئے جانا ہے" حور نے حیا کو یاد دلاتے ہوئے کہا
'مما میرا کہیں جانے کا موڈ نہیں ہے پلیز آپ چلی جائیں اس کے ساتھ"
حیا نے چہرے پر تکیہ رکھتے ہوئے کہا
"یہ کیا بات ہوئی بھلا مجھے پہننا ہے کیا برائیڈل ڈریس جو میں چلی جاؤں،،، اٹھو اس طرح برا لگے گا کپڑے چینج کرو اور ٹیبل پر آو تھوڑا سا کھانا کھالو صبح ناشتہ بھی نہیں کیا تھا تم نے"
حور نے اس کے چہرے سے تکیہ ہٹاتے ہوئے کہا
وہ جھنجھلائی ہوئی اٹھی اور ڈریسنگ روم کی طرف چلی گئی
****
"کیسی ہو بیٹا ناعیمہ بھابھی اور صنم کیسی ہیں" معاویہ حیا کو لینے آیا تو حور نے معاویہ سے ناعیمہ اور صنم کے بارے میں پوچھا
"مام صنم دونوں ٹھیک ہیں آپ کیسی ہیں۔۔۔ حیا ابھی تک ریڈی نہیں ہوئی"
وہ چاہ کر بھی حور سے بے رخی نہیں برت سکا
"چینج کر کے آرہی ہے تم بتاؤ کیا لوگے چائے یا کافی وہسے تو کھانا بھی ریڈی ہے"
حور نے داماد والا پروٹوکول دیتے ہوئے معاویہ سے پوچھا
"نہیں آنٹی بہت بہت شکریہ بس ابھی لنچ کرکے ہی آرہا ہوں۔۔۔ آپ حیا کو بلادیں"
معاویہ نے گھڑی میں ٹائم دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔ حور سر ہلا کر حیا کو بلانے جارہی تھی کہ حیا سامنے سے موبائل اپنے ہینڈ بیگ میں رکھتی ہوئی آئی فٹڈ جینز کے اوپر اس نے بےبی پنک کلر کا ٹاپ پہنا ہوا تھا جو کہ کافی فٹ تھا
"حیا وہ ریڈ کلر والا اسٹول لےلو اس پر کافی سوٹ کرے گا"
حور معاویہ کی موجودگی کی وجہ سے حیا کو آنکھوں میں اس کی ڈریسنگ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ان ڈائریکٹ بولی
"مما ایسے ہی ٹھیک ہے آپ ٹینشن نہیں لیا کریں ہر بات کی"
حیا تنے ہوئے نقوش کے ساتھ بولتی ہوئی باہر نکل گئی، معاویہ کی نگاہوں نے دور تک حیا کا پیچھا کیا، پھر معاویہ نے ایک نظر حور کو دیکھا تو جھینپ مٹانے کے لئے مسکرا دی
"تھپڑ کی ضرورت تھی"
معاویہ کے کہنے پر حور کی مسکراہٹ غائب ہوئی
"بچپن میں"
معاویہ نے جملہ مکمل کیا اور مسکرانے لگا حور بھی مسکرا دی
"ویسے تو ابھی بھی وقت نہیں گزرا" معاویہ کی بڑبڑاہٹ حور نہیں سن پائی اور ناسمجھی سے معاویہ کو دیکھا
"کچھ نہیں چلتا ہوں،،، آپ اپنا خیال رکھیے گا"
معاویہ گاڑی کی طرف آیا اور نسیمہ کو کال کرکے حیا کی جیکٹ منگوائی
"بیوقوف سمجھا ہوا ہے تم نے مجھے جو میں یہاں پر تمہارا اتنی دیر سے ویٹ کر رہی ہوں کھڑے ہو کر"
حیا اس کو آتا دیکھ کر شروع ہوگی
"ریلیکس بےبی ہماری شادی کل نہیں جو تم سے صبر نہیں ہو رہا ابھی ہیں تھوڑے دن"
معاویہ نے کار میں بیٹھتے ہوئے کہا
نسیمہ جیکٹ لے آئی اور حیا کو دی
"یہ کیوں لے کر آئی ہوں تم"
حیا نے ماتھے پر بل ڈالتے ہوئے نسیمہ سے کہا
"حیا یہ پہن لو" معاویہ نے اسے دیکھے بغیر کار سٹارٹ کرتے ہوئے بولا
حیا نے کھینچ کر جیکٹ نسیمہ کے ہاتھ سے لی
"جاؤ یہاں سے" جیکٹ لیکر پیچھے سیٹ پر پھینک دی
"بہت محنت کی ضرورت ہے تم پر" معاویہ نے تاسف سے سر ہلاتے ہوئے کار اسٹار کردی
****
جتنا بیزار وہ معاویہ کو کر سکتی تھی ان تین گھنٹوں میں وہ کر چکی تھی تین گھنٹوں میں 35 سے 30 ڈریس وہ ریجیکٹ کرچکی تھی اور ابھی بھی اس کو کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا
"بےبی یہ ڈریس ہمہیں آج ہی کی تاریخ میں لینا ہے"
معاویہ نے آپ کے اس کو تیسری بار یاد دلایا
"اگر تمہیں جلدی ہے تو تم جاسکتے ہو" حیا نے ہیوی کام دار دوپٹہ اپنے اوپر رکھا سامنے آئینے میں خود کو دیکھتے ہوئے معاویہ کو جواب دیا ۔۔۔۔۔
اور کوئی دوسرا اس کو اتنا زچ نہیں کرتا تھا یہ صرف حیا کی ہی ہمت تھی اور شاید اس کے معاملے میں معاویہ کی برداشت۔۔۔۔۔ معاویہ کی نظر وہاں موجود ایک لڑکے پر پڑی جو حیا کو بہت غور سے دیکھے جارہا تھا اور حیا مگن انداز میں ہر اینگل سے دوپٹہ اپنے اوپر رکھے ہوئے شیشے میں اپنے آپ کو
لڑکے کو دیکھ کر معاویہ کے ماتھے پر شکنیں ابھری وہ حیا کی سامنے پشت کرکے دیوار بن کر کھڑا ہو گیا لڑکے نے معاویہ کو دیکھا تو وہ سٹپٹا گیا پھر معاویہ کی آنکھوں میں وارننگ کو سمجھتا ہوا مڑ کر اپنے ساتھ آئی ہوئی لیڈیز کی طرف متوجہ ہوا
"ایکسکیوز می یہ والا ڈریس پیک کر دیں"
معاویہ نے پاکٹ سے والڈ نکالتے ہوئے شاپ کیپر سے کہا
"یہ کون پہنے گا تم۔۔۔۔ میں تو ہرگز نہیں پہننے والی"
حیا نے غصے میں معاویہ کو دیکھتے ہوئے کہا
"اپنا منہ بند رکھو اور کار میں چل کے بیٹھو"
معاویہ نے سنجیدگی سے حیا کو دیکھتے ہوئے کہا
"میں یہ ڈریس نہیں پہنوں گی"
حیا نے ضدی انداز اپناتے ہوئے بولا
معاویہ نے کاؤنٹر پر بل ادا کیا شاپر ایک ہاتھ میں تھام کر دوسرے ہاتھ سے حیا کا بازو پکڑ کر شاپ سے باہر نکلا
"یہ کیا حرکت ہے اگر تمہیں اپنی مرضی ہی چلانی تھی تو لے کر ہی کیوں آئے تھے مجھے"
حیا مسلسل بولے جا رہی تھی مگر معاویہ اب بالکل ایسا ہو گیا جیسے اسے کچھ سنائی نہیں دے رہا۔۔۔ گاڑی کا لاک کھول کر اسے بٹھایا
"آئندہ تم مجھے اسطرح کی ڈریسنگ کرتی ہوئی نظر نہ آو"
کار اسٹارٹ کرتے ہیں معاویہ نے بولا
واٹ دا ہیل تم ابھی میرے ہسبینڈ نہیں بنے ہو جو یوں مجھ پر پابندیاں لگا رہے ہو اور ڈریسنگ میں کسی دوسرے کی مرضی سے نہیں کرتی ہوں،،، یہ بات اپنے مائنڈ میں رکھنا آئندہ کے لئے"
حیا نے سر جھٹکتے ہوئے کہا
"اگر تم نے دوبارہ اس طرح کے کپڑے پہنے تو میں تمہاری پوری وارڈروب میں آگ لگادوں گا اور یہ بات تم اپنے مائنڈ میں رکھنا اور ابھی فورا جیکٹ پچھلی سیٹ سے اٹھاؤ اور اسے پہنو"
معاویہ نے اسے دیکھے بغیر ڈرائیو کرتے ہوئے سنجیدگی سے کہا
"تم مجھے آرڈر دے کر ہرگز کام نہیں کروا سکتے"
حیا نے ضدی انداز اختیار کرتے ہوئے کہا
معاویہ نے ایک سائیڈ پر کار روکی اور پچھلی سیٹ سے اٹھا کر جیکٹ حیا کو تھمائی
"اسے ابھی اور اسی وقت پہنو یہ نہ ہو تم ابھی تھوڑی دیر بعد پچھتا رہی ہو کہ کاش میں بات مان لیتی"
وہ انکھوں میں سنجیدہ تاثر لیے ہوئے حیا کو دیکھ کر کہہ رہا تھا
ایک پل حیا نے اس کی آنکھوں کو دیکھا اور اس سے جھپٹنے والے انداز میں جیکٹ لی اور چپ کر کے پہن لی
معاویہ نے دوبارہ کار اسٹارٹ کردی
"آجاو کچھ کھا لیتے ہیں آنٹی بتا دی تھی تم نے تو دوپہر کا لنچ نہیں کیا"
ایک ریسٹورنٹ کے پاس کار روکتے ہوئے وہ نرمی سے حیا کا ہاتھ تھام کر بولا
"زیادہ ہیرو بننے کی ضرورت نہیں ہے، مجھے میرے گھر چھوڑو"
حیا نے معاویہ کا ہاتھ جھٹکا اور غرانے والے انداز میں اس سے بولی
معاویہ چپ کرکے اس کے تنے ہوئے چہرے کو دیکھتا رہا پھر کار سے اتر کر اس کے لئے کھانا پیک کروایا کار میں بیٹھ کر ایک سگریٹ منہ میں رکھی اور اسے سلگایا۔۔۔ حیا نے گھور کر اس کو دیکھا تو اس نے اپنے چہرے پر آئی ہوئی مسکراہٹ دبائی، جیسے اس نے سگریٹ نہیں حیا کو سلگایا ہو پھر کار اسٹارٹ کردی گھر آتے ہی حیا بنا کچھ کہے کار سے اتری اور اندر چلی گئی.... معاویہ نے شاپنگ کا سامان شیرخان کے حوالے کیا اور خود بھی چلا گیا
جاری ہے
Sunday, January 20, 2019
Subscribe to:
Post Comments (Atom)

0 comments:
Post a Comment