🌹: Itni mohbbat karo na 2
By zeenia sharjeel
Epi # 26
"ناظرین آج کی اہم خبر سے ہم آپ کو آگاہ کر رہے ہیں یہ جو سامنے ٹی وی اسکرین پر آپ کو مناظر نظر آ رہے ہیں یہ شہر سے دور ایک سنسان عمارت کے ہیں جس میں تھوڑی دیر پہلے ایس۔پی۔معاویہ مراد اپنے پولیس اہلکار کے ساتھ 25 اغواء شدہ لڑکیوں کو بازیاب کرانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔۔۔ناظرین آپ کو بتاتے چلیں ان لڑکیوں کو تین مہینے سے مختلف جگہوں سے اغوا کیا جا رہا تھا اور اس سنسان عمارت میں رکھا جارہا،،، 2ملزم کو زیر حراست میں لے لیا گیا ہے باقی فرار ہوچکے ہیں مگر ان کی تلاش جاری ہے،،، اہم ذرائع سے یہ اطلاعات بھی سامنے آرہی ہیں اس کے پیچھے کسی بڑی پارٹی کا تعلق ہے اور ان اغوا شدہ لڑکیوں کو دوسرے ممالک بھیجا جا رہا تھا باقی کی اپ ڈیٹز آپکو وقفے وقفے سے ملتی رہے گی اب وقت ہوا جاتا ہے ایک بریک کا"
"کیسے پہنچی یہ پولیس وہاں پر کون ہے خبری ہمارا۔۔۔۔ میں نے کہا تھا نا اس کام میں احتیاط کی ضرورت ہے پھر یہ سب کیسے ہوا"
اویس شیرازی ریموٹ سے ٹی وی بن کرتے ہوئے حامد پر گرجا
"سر کام بہت احتیاط سے کیا جارہا تھا مگر یہ نیا اے۔ایس۔پی ہاتھ دھو کے پیچھے پڑ گیا، مگر آپ فکر نہیں کریں۔۔۔ کہیں بھی آپ کا نام نہیں آئے گا پولیس کے پہنچنے سے پہلے ہی سارے ثبوت لڑکوں نے ہٹا دیے تھے اور خود بھی فرار ہوگئے تھے اور جو پکڑے گئے ان سے پولیس کچھ نہیں اگلوا سکتی۔۔۔ بس اتنا وقت نہیں مل سکا کہ لڑکیوں کا ٹھکانہ بھی تبدیل کیا جاتا اس سے پہلے ہی پولیس نے وہاں ریڈ مار لی"
حامد اویس شیرازی کے سامنے ہاتھ باندھ کر مہذبانہ انداز اختیار کرتے ہوئے بولا
"ہہہمم یہ وہی اے۔ایس۔پی ہے نا جو ساحر پر بھی ہاتھ اٹھا چکا ہے۔۔۔۔ میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ اس اے۔ایس۔پی کی ایمان کی قیمت کا پتہ لگاؤ"
اویس شیرازی نے گھور کر حامد کو دیکھتے ہوئے یاد دلایا
"سر میں نے معلوم کیا تھا مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے یہ واقعی ایماندار ہے"
"جوانی اور ایمانداری کا نشہ چڑھا ہوا ہے اور جن کو یہ نشہ لاحق ہوجائے تو پھر ان کی قیمت کا پتہ نہیں لگایا جاتا بلکہ ان کی کمزوری کا پتہ لگایا جاتا ہے،،، جاؤ اس معاویہ مراد کے بارے میں پوری معلومات حاصل کرکے مجھے بتاو"
اویس شیرازی نے حامد کو ہاتھ کی اشارے سے جانے کا حکم دیا
****
صنم کا موبائل کافی دیر سے بج رہا تھا وہ ابھی بھی ناعیمہ کے ساتھ شاپنگ سے فارغ ہو کر گھر آئی تھی،،، صنم نے بیڈ روم میں آکر کال رسیو کی
"ظالم لوگوں کا یہی انداز ہوتا ہے پہلے وہ سیدھے سادے انسان کو اپنی طرف متوجہ کراتے ہیں،، جب سیدھا سادہ انسان کسی کام کا نہیں رہتا تو اور پھر اپنا عادی بنا کر لا پروا ہو جاتے ہیں"
ہادی کا شکوہ موبائل سے ابھرا
"سوری ہادی مام ساتھ تھی میرے، ان کے سامنے تو بات نہیں ہو پاتی نہ آپ سے مگر آپ یہ تو نہیں بولیں پلیز کہ پروا نہیں کرتی میں آپکی
صنم نے کال نہ اٹھانے کا جواز پیش کیا
"مگر ہو تو تم ظالم ہی"
موبائل سے ہادی کی آواز ابھری
"آپ ایسا کیوں کہہ رہے ہیں"
ہادی کے شکوے کو صنم نے محسوس کرتے ہوئے کہا
"ظالم نہیں ہوں تو پھر اور کیا ہوں،،،، میرے دل و دماغ پر بری طرح قابض ہو گئی ہوں،،،نہ بندہ سو سکتا ہے نہ کچھ سوچ سکتا ہے یہ ظلم نہیں ہے تو اور کیا ہے"
ہادی کی ایسی باتوں پر صنم کے چہرے پر مسکراہٹ آئی
"اب چپ کیوں ہو کچھ بولو گی نہیں، بات کرو مجھ سے موبائل سے تمہاری آنکھوں کی بولی بالکل نہیں سمجھ سکتا میں"
ہادی نے مسکراتے ہوئے کہا
"ایک سوال پوچھوں آپ سے ہادی۔ ۔۔مگر جواب آپ کو پوری ایمانداری سے دینا ہوگا"
"اوکے کرو سوال، میں پوری ایمانداری سے تمہارے سوال کا جواب دوں گا"
ہادی نے کہا
"آپ ہمیشہ مجھ سے اتنی ہی محبت کریں گے"
صنم نے ہادی سے پوچھا
"تمہیں کیا لگتا ہے" ہادی نے الٹا اس سے سوال کیا
"مجھے لگتا ہے آپ ساری زندگی مجھ سے ایسے ہی محبت کریں گے"
صنم نے شرمیلی مسکراہٹ کے ساتھ اپنے دل کی بات بتائی
"پھر تو بہت خوش فہم ہے آپ کا دل مس صنم"
ہادی کی سنجیدہ آواز ابھری
"کیا مطلب آپ کا" صنم کی مسکراہٹ ایک دم لبوں سے جدا ہوئی
"مطلب صاف ہے تم نے غلط اندازہ لگایا میں تمہیں اتنی محبت کر ہی نہیں سکتا،،،، میں تمہیں اس سے بھی زیادہ محبت کروں گا"
ہادی کی بات پر صنم کی رکھی ہوئی سانس بحال ہوئی
"مگر رپلائی میں مجھے بھی ہمیشہ تمھاری محبّت کے ساتھ ساتھ تمہارا ساتھ زندگی کے ہر موڑ پر ہر قدم پر چاہیے ہوگا، بولو دوں گی زندگی بھر میرا ساتھ"
ہادی نے صنم سے پوچھا
"میں زندگی کے میں ہر قدم پر ہر موڑ پر آپ کا ساتھ دوں گی، یہ میرا وعدہ ہے آپ سے"
صنم نے اس کو اپنی محبت کا یقین دلاتے ہوئے کہا
"یہ تو میرے صنم نے بہت بڑا وعدہ کر لیا،،،، چلو وقت آنے پر دیکھتے ہیں کتنا اپنا وعدہ نبھاتی ہو"
ہادی مذاق اڑانے والے انداز میں مسکرایا
"اس طرح مسکرائے نہیں آپ،،، ہمیشہ مجھ کو زندگی میں ثابت قدم ہی پائے گے"
صنم نے دوبارہ اس کو یقین دلاتے ہوئے کہا
"چلو وقت آنے پر یہ بھی دیکھ لیں گے،،، اچھا یہ بتاؤ صبح سے کہا بزی تھی" ہادی نے صنم سے پوچھا
"میں نے آپ کو بتایا ہے نا بھائی کی شادی ہونے والی ہے بس اسی کے سلسلے میں شاپنگ کرنے گئی تھی"
صنم نے ہادی کو جواب دیا
"صنم میں چاہتا ہوں ہماری شادی بھی جلدی ہو میرا مطلب ہے میں اپنے پیرنٹس کو تمہارے گھر بھیجنا چاہتا ہوں۔۔۔۔ یہ بتاؤ تمہارے پیرنٹس ایکسپٹ کریں گے میرا پرپوزل"
ہادی نے صنم سے پوچھا
"اس کے بارے میں اب میں کیا کہہ سکتی ہوں ہادی،،، بھائی کے علاوہ تو میں کسی سے اتنی کلوز بھی نہیں۔۔۔۔ان سے آپ کے بارے میں بات کروں گی تو وہ مام ڈیڈ کو ایگری کرلیں گے"
صنم کو ایک ہی راستہ دکھا
"پھر تو سمجھو ہو گیا ہمارا رشتہ اور ہوگئی ہماری شادی،، میری ایک بات ذہن میں رکھو صنم تمہارا بھائی ہم دونوں کی شادی پر رضامندی کبھی بھی ظاہر نہیں کرے گا" ہادی سنجیدگی سے صنم کو بولنا
"کیوں کیا آپ نے میرے بھائی کی کوئی قیمتی چیز چرائی ہے"
صنم نے مذاق اڑانے والے انداز میں بولا
"الٹا بول رہی ہو صنم تمھارے بھائی نے میری قیمتی چیز چرائی ہے،،، پولیس والا ہو کر بھی چوری اس نے کی" ہادی نے سنجیدگی سے کہا
"میں سمجھی نہیں آپ کیا کہنا چاہ رہی ہیں"
صنم نے الجھتے ہوئے ہادی سے پوچھا
"سارے مطلب ایک ہی دفعہ میں نہیں سمجھائے جاتے وقت کے ساتھ ساتھ سارے مطلب تمہیں خود سمجھ میں آجائیں گے، ابھی اپنے دماغ پر زور نہیں ڈالو اور اپنے بھائی کی شادی کو خوشی خوشی انجوائے کرو، اوکے فون رکھتا ہوں بعد میں بات کرتے ہیں" ہادی نے کال ڈسکنکٹ کرکے موبائل پاکٹ میں رکھا
****
"کیا کر رہے تھے تم" فضا نے کافی کا مگ بلال کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا
"کچھ خاص نہیں اخبار کی سرخیوں پر نظر ڈال رہا تھا" بلال نے اخبار فولڈ کرتے ہوئے جواب دیا
"دنیا بھر کی خبروں پر تم نظریں ڈالو،،،، پر اپنے گھر کی کچھ خبر نہیں لینا فضا نے افسوس بھری نظر بلال پر ڈالی
کیا ہوا ہے گھر میں،، گھر کی کیا خبر لینی ہے سب ٹھیک تو ہے"
بلال نے کافی کا سپ لیتے ہوئے مطمئن انداز میں کہا
عدیل تو چھوٹا ہے اپنی پڑھائی میں گم،،، اس کو چھوڑو مگر بلال ہادی کی شادی کے بارے میں کیا سوچا ھے تم نے۔۔۔۔ وہ کب تک ایسے ہی زندگی گزارے گا"
فضا نے بلال سے متفکر انداز میں کہا
"سوچا تو تھا اس کے بارے میں مگر اس کو خود ہی عزت راس نہیں آئی،، اگلے ہی دن منگنی توڑ کر آ گیا اب خود ہی بتاؤ تم، ایسے انسان کے بارے میں دوبارہ کیا سوچا جائے جس نے اپنی زندگی کو خود ہی مذاق بنایا ہوا ہے"
بلال کو ابھی تک ہادی پہ غصہ تھا
"آپ دونوں یہاں بیٹھے ہوئے ہیں۔ ۔۔ مجھے آپ دونوں سے ضروری بات کرنی ہے"
ہادی وہی چیئر پر بیٹھتے ہوئے بولا
"وہ سب چھوڑو تم اپنے آگے کے مستقبل کے بارے میں بتاؤ تم نے کچھ سوچا ہے یا ہم تمہارے لئے سوچیں"
فضا کو آجکل ہادی کی ٹینشن سر پر سوار ہو گئی تھی
"اسی سلسلے میں آپ دونوں سے بات کرنے آیا ہوں۔۔۔ صنم اچھی لڑکی ہے آپ دونوں کو پسند آئے گی آپ دونوں اس کے گھر جاکر اس کے پیرنٹس سے بات کر لیں"
اپنی بات کہہ کر وہ خاموش ہوگیا بلال اور فضا کے چہرے کے تاثرات دیکھنے لگا جو کہ اس کی سوچ کے عین مطابق تھے
"چلو یہ بھی اچھا ہوا تمہارے سوگ کی مدت ختم ہوئی اور تم نے خود ہی کوئی دوسری لڑکی پسند کی یہ تو اچھی بات ہے بلکہ بہت اچھی بات ہے"
بلال نے داد دینے والے انداز میں ہادی کو کہا
"نہیں تو اگر آپ چاہتے ہیں میں ساری زندگی کے لئے سوگ منا لیتا ہوں" ہادی نے ناراض ہوتے ہوئے بلال کی طرف دیکھا
"بلال وہ صحیح تو کہہ رہا ہے ہر انسان زندگی میں آگے بڑھتا ہے اب کب تک وہ یونہی رہے گا۔۔۔۔ تم بتاؤ ہادی کون ہے صنم، کیسی فیملی ہے آفس کی ہے کیا"
فضا نے دلچسپی لیتے ہوئے ہادی سے سوال کیا
مما اور بابا آپ دونوں ہی صنم کو دیکھ چکے ہیں بلکہ ان کی فیملی کو بھی جانتے ہیں" تھوڑا توقف کے بعد ہادی بولا
"پہلیاں مت بجھاو اصل بات پر او" بلال نے سیریس انداز اپناتے ہوئے کہا
حیا کی جس سے شادی ہو رہی ہے معاویہ۔۔۔ اسی کی بہن ہے صنم"
ہادی کو اب بھی اندازہ تھا کہ اس بات پر بھی ان دونوں کے فیس ایکسپریشن کیا ہونگے اور رزلٹ توقع کے عین مطابق تھا دونوں ہی ہادی کو ایسے دیکھ رہے تھے جیسے انھیں سکتا ہو گیا ہوں
****
"مام آپ سے ایک بات کہنی تھی بہت امپورٹنٹ بات ہے آپ پلیز میری بات پوری سنیئے گا اور مجھے غلط سمجھنے کی بجائے مجھے سمجھنے کی کوشش کریئے گا"
صنم نے روانی سے بناء سانس لیے اپنی بات مکمل کی
"صبر کا دامن تو پکڑو صنم ایسی کیا بات ہے بولو"
نائمہ کے کہنے پر اس نے پہلے ہونٹ زبان سے تر کیے پھر آنکھیں بند کرکے کھولیں
"مام ہادی اپنے پیرنٹس کو لانا چاہتے ہیں ہمارے گھر پر، آپ پلیز کسی بھی طرح اس رشتے کے لئے ڈیڈ اور بھائی سے بات کریں اور ان کو راضی کریں، ہادی بہت اچھے ہیں بہت ڈیسنڈ، ڈیڈ کو پسند آئیں گے اور آپ کو بھی۔۔۔۔۔ آپ سمجھ گئیں نا میری بات"
بغیر بریک لگائے صنم نے ایک بار پھر اپنی بات کا آغاز کیا اور آخر کے چار لفظ اٹک اٹک کر بولی
ناعیمہ پوری آنکھیں کھولے اسے دیکھ رہی تھی
"اوکے میں چلتی ہوں"
یہ کہہ کر صنم جلدی روم سے نکل گئی
*****
حیا کی پیپرز ختم ہو چکے تھے شادی کی تیاریوں کا آغاز ہوگیا تھا حور فضا کے ساتھ بازاروں کے چکر روز لگا رہی تھی،،، حیا نے اس دن کے بعد معاویہ سے بات نہیں کی نہ ہی ان دونوں کی ملاقات ہوئی،،،، معاویہ فون بھی کرتا تو حیا ہمیشہ کی طرف کی کال ریسیو نہیں کرتی
*****
"اور سناو تیاریاں کیسی چل رہی ہیں" زین آفس پہنچا تو بلال نے زین سے پوچھا
"ہاں تقریبا ساری ارینجمنٹس ہو گئے ہیں" زین نے چیئر پر بیٹھتے ہوئے جواب دیا
"ہادی نے اپنے لیے لڑکی پسند کی ہے" بلال نے زین کو بتایا
"اچھا یہ تو بہت اچھی بات ہے جلدی شادی کر دو اس کی اچھا ہے نا ہادی شادی سے فضا کا بھی اکیلا پن دور ہو جائے گا"
بلال کی بات سن کر پہلے تو زین چونکا پھر اس نے نارمل انداز اختیار کرتے ہوئے بلال کو مشورہ دیا
"اور چند دنوں بعد حور بھابھی کتنی اداس ہوا کریں گی" بلال کے منہ سے بے ساختہ نکلا
"میری بیگم کیوں اداس ہونے لگی میں ہوں نہ اس کے پاس، دو منٹ لگتے ہیں اس کی ناراضگی اس کی اداسی بھگانے میں،، ہاں البتہ حیا کہ جانے سے میں بہت اداس ہو جاؤں گا"
زین کی باتوں کے ساتھ لہجے میں بھی افسردگی اتر گئی
"تم بہت حوصلے والے ہو زین۔ ۔۔ میں نے تمہیں بہت کم اس طرح دیکھا ہے مگر بیٹیوں کو تو ایک نہ ایک دن جانا ہی ہوتا ہے"
بلال نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا
"دیکھو نا بلال کل کی بات لگتی ہے جب حیا میرے اور حور کے پاس ہماری زندگی میں آئی تھی کتنی جلدی وقت گزر گیا پتہ بھی نہیں چلا۔۔۔۔ خیر تم بتاؤ ہادی کا کیا بتا رہے تھے کون ہے لڑکی کیسی فیملی ہے "
زین اپنا لہجہ فریش کرتا ہوا بولا
"یار ہادی نے خضر کی بیٹی صنم کے لیے بات کی ہے"
جاری ہے
Sunday, January 20, 2019
Subscribe to:
Post Comments (Atom)

0 comments:
Post a Comment