Sunday, January 20, 2019

itni mohbbat karo na (season 2) episode 27

🌹: Itni mohbat karo na
By zeenia sharjeel
Surprice epi # 27

"خضر کی بیٹی صنم اور ہادی"
زین نے چونک کر بلال کو دیکھا

"بالکل ایسے ہی میری بھی کیفیت ہوئی تھی"
بلال نے زین کو دیکھ کر کہا

"حیرت مجھے اس بات پر نہیں کہ خضر کی بیٹی کو ہادی نے اپنے لیے پسند کیا، مگر یہ لوگ آپس میں کب ملے"
زین نے سوچتے ہوئے کہا

"کل ہادی نے مجھ سے اور فضا سے بات کی ہے کہ خضر کے گھر ہم دونوں جائیں اس کا پرپوزل لے کر۔۔۔ فی الحال تو میں نے کچھ دنوں کے لیے  منع کر دیا شادی نمٹ جائے اس کے بعد دیکھا جائے گا" بلال نے زین کو بتاتے ہوئے کہا زین کچھ سوچتے کوئی سرہلانے لگا

****

مزید چند دن گزرے تو وہ دن بھی آگیا جب معاویہ اور حیا کا مایوں مہندی کا فنکشن تھا جو کہ زین نے گھر کے لان میں ہی ارینج کیا تھا اور آج ہی دوپہر میں حیا اور معاویہ کا نکاح تھا جو کہ مسجد میں ہونا طے پایا تھا۔۔۔ ایجاد وقبول کے مراحل طے ہوئے تو معاویہ نے گہرا سکون کا سانس خارج کیا

"بہت بہت مبارک ہو میری دعا ہے تم زندگی کی شروعات ایک نئے اور اچھے سفر سے کرو"
خضر نے معاویہ کو گلے لگاتے ہوئے کہا

"آئی لو یو ڈیڈ"  معاویہ نے گلے لگا خضر سے کہا معاویہ کو احساس تھا۔۔۔ خضر نے اس کی خوشی کی خاطر اپنی انا کو چھوڑ کر زین اور حور کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا

 "آج تم میری زندگی میں بہت اہم اور خاص فرد کی حیثیت اختیار کر گئے ہوں۔۔۔ کیونکہ میں نے اپنی سب سے قیمتی چیز تمہیں سونپ دی ہے، حیا سے بڑھ کر میری زندگی میں کچھ بھی نہیں ہے ہمیشہ اس کی قدر کرنا، خیال رکھنا تھوڑا بچپنا ہے اس میں اگر کچھ برا لگے تو اگنور کر دینا"
زین نے مبارکباد دیکر معاویہ کو گلے لگاتے ہوئے کہا

"میں اپنے ڈیڈ کے بعد آپ کا بھی شکر گزار ہوں آپ نے مجھے اس قابل سمجھا حیا کا ہاتھ میرے ہاتھ میں دیا میں آپ کو کبھی شکایت کا موقع نہیں دوں گا حیا میرے لیے بہت اہم ہے"
معاویہ نے زین سے کہا

****

نکاح نامے پر سائن کر کے آج اس نے اپنی زندگی ایک نا پسند انسان کے نام کر دی تھی آج سے زیادہ بے بس اس نے خود کو کبھی تصور نہیں کیا تھا تبھی اس کے موبائل پر کال آئی اسکرین پر معاویہ کا نام جگمگایا وہ خالی نظروں سے دیکھتی رہی وہ واقعی بہت ڈھیٹ تھا اس کی کال نہ ریسیو کرنے پر بھی ہمت نہیں ہارتا تھا بار بار کال کرتا رہتا تھا کچھ سوچتے ہوئے حیا نے کال ریسیو کی

"کیسی ہو مسز معاویہ مراد"
معاویہ کی آواز موبائل سے ابھری

"کیوں فون کیا ہے تم نے"
حیا نے سنجیدگی سے پوچھا

"ویلکم کہنے کے لئے،،، میری زندگی میں شامل ہونے کے لئے شکریہ کہنا چاہتا ہوں۔۔۔ آج میں بہت خوش ہوں اور دیکھو میرے جذبوں میں سچائی تھی تبھی میں نے آج تمہیں پا لیا"
معاویہ نے سرشار لہجے میں حیا سے کہا

"نہیں غلط کہہ رہے ہو تم نے مجھے پایا نہیں بلکہ کھو دیا ہے،، تم کیا لگتا ہے معاویہ تم میرے ساتھ اپنی تصویریں کھینچ کر،، مجھے بلیک میل کر کے مجھ سے شادی تو کر سکتے ہو مگر کبھی بھی پا نہیں سکتے یہ سوچ تو اپنے دل سے نکال دو معاویہ مراد حیا نے کہتے ہوئے کال کاٹ دی

اور کمرے سے باہر کھڑے ہوئے وہ وجود نے دیوار کا سہارا لیا۔۔۔ ورنہ حیا کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ اس کے لیے کسی صور سے کم نہیں تھے

*****

پورا لان روشنی میں جگمگا رہا تھا میوزک کی تیز آواز فضا میں گونج رہی تھی گلاب اور گیندے کے سجے ہوئے جھولے میں حیا اور معاویہ کو ایک ساتھ لاکر بھٹایا گیا۔۔۔۔
معاویہ کے چہرے سے آج مسکراہٹ جدا نہیں ہو رہی تھی اس کے برابر میں حیا سنجیدگی کا لبادہ اوڑھے ہوئے بیٹھی تھی اس کی دوستیں مستقل فقرے کسنے اور چھیڑنے میں مشغول تھی تھوڑی دیر بعد رسموں کا آغاز ہوا باری باری اسٹیج پر آ کر سب نے رسم کی اس کے بعد حیا نے بیزاری محسوس کرتے ہوئے تھکاوٹ کا بہانہ بنایا اور حور سے روم میں جانے کے لئے کہا،،، حور نے فری سے کہہ کر اسکو روم میں بھجوا دیا معاویہ بھی وہاں سے اٹھ کر اپنے دوستوں کے پاس بیٹھ گیا

****

فری اسکور روم میں ریسٹ کرنے کا کہہ کر خود باہر چلے گئی۔ تیز میوزک کی آواز سے اسکے سر میں درد شروع ہو چکا تھا طبیعت میں چڑچڑاپن صبح سے ہی شامل تھا۔۔۔ حیا کو روم میں آئے ہوئے 20 منٹ ہی گزرے تھے روم کا دروازہ ایک دم کھلا اور معاویہ روم میں داخل ہوا اور دروازہ لاک کیا

"تم دو ٹکے کے پولیس والے"
یہ وہ آخری شکل تھی جو اس وقت وہ نہیں دیکھنا چاہتی تھی

"اور تم دو ٹکے کے پولیس والے کی بیوی"
معاویہ نے آنکھوں میں شرارت لیے ہوئے کہا

گھونگھٹ ہونے کی وجہ سے لان میں وہ اس کا چہرہ نہیں دیکھ سکا تھا اس لیے اب وہ مہبوت سا ہو کر اس کا حسن دیکھے گیا۔۔۔۔یلو گرین کلر کے کمبینیشن میں وہ نظر لگ جانے کی حد تک خوبصورت لگ رہی تھی،، انجانے میں وہ جس چہرے سے اتنے سالوں تک نفرت کرتا آیا تھا اسے نہیں اندازہ تھا کہ ہوبہو اسی سے ملتا جلتا چہرہ اس کی زندگی میں اسطرح اہمیت کا حامل ہوجائے گا جیسے انسانی زندگی کے لئے آکسیجن۔۔۔۔ نفرت کہیں بہت پیچھے رہ گئی تھی آج محبت نے بازی مار لی تھی 

"کیوں آئے ہو یہاں میرے روم میں"
حیا نے معاویہ کو دیکھ کر ناگواری سے کہا

"اب اس سوال کا تو کوئی مطلب ہی نہیں بنتا۔۔۔۔ایک شوہر اپنی بیوی کے پاس اس کے روم میں کیوں آتا ہے"
معاویہ قدم بڑھاتا ہوا اس کے سامنے آکر بولا

"شوہر۔ ۔۔شوہر نہیں تم عذاب ہو میرے لئے جسے پتہ نہیں کب تک میرے سر پر مسلط رہنا ہے"
حیا نے اس کو دیکھ کر دانت پیس کر کہا

"ساری زندگی جانم۔ ۔۔ ساری زندگی عذاب تمھارے سر سے نہیں ٹلنے والا اس لئے اب اپنے اس چھوٹے سے دماغ میں یہ بات بٹھالو ساری عمر اس عذاب کے ساتھ رہنا ہے اور اس کو سہنا ہے"
یہ کہنے کے ساتھ ہی معاویہ نے اس کا ہاتھ کھینچ کر خود سے قریب کر لیا وہ اس کے سینے سے آ لگی۔۔۔۔ معاویہ نے اس کے گرد اپنے دونوں بازوں کا گھیرا مضبوط کیا۔۔۔۔ ایک دم اتنے قریب آ کر سینے سے لگنے سے وہ بوکھلا گئی

"چھوڑو مجھے تم جنگلی انسان پیچھے ہٹو"
حیا نے اپنا آپ اس سے چھڑانے کی کوشش کی جس میں وہ کامیاب نہیں ہوسکی
دوسری طرف معاویہ نے اس کے احتجاج کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اس کی خوشبو کو اپنے اندر اتارا ابٹن مہندی پرفیوم کی مکس خوشبو اس کے حواس پر سوار ہو رہی تھی اور پھر شوہر ہونے کا حق۔۔۔۔ یہ بات کے ذہن میں آتے ہی اس نے ایک ہاتھ سے اس کے جوڑے میں اٹکا ہوا دوپٹہ اتارا

"تم ایسا کچھ نہیں کرو گے میں مار ڈالوں گی تمہیں" حیا نے چیختے ہوئے کہا اور ایک جھٹکے سے اس سے الگ ہوئی

"اور کتنی بار ماروں گی، مار تو تم نے پہلی ہی ملاقات میں دیا تھا"
یہ کہنے کے ساتھ ہی معاویہ نے حیا کا رخ دیوار کی طرف کیا اور اسے دیوار کے ساتھ لگا کر،، اس کے دونوں ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں جکڑ کر دیوار سے لگائے اور اپنے دانتوں کی مدد سے اس کی شڑٹ کی ڈوری کھولی معاویہ کے ہونٹوں کا لمس اپنی کمر پر محسوس کر کے حیا زور سے چیخی

"چھوڑو معاویہ ورنہ میں تمہارا ہی حشر کر دونگی"
حیا کو اس شخص پر غصہ آنے لگا اپنے ہاتھ چڑھانے کے چکر میں حیا نے ہاتھ زور سے گھمائے تو معاویہ نے اس کی کلائیوں پر اپنے ہاتھوں کی گرفت اور مضبوط کردی جس سے کافی ساری کانچ کی چوڑیاں حیا کے ہاتھوں سے ٹوٹ کر نیچے گریں

حیا کو بے قابو ہوتا دیکھ کر معاویہ نے اپنے پاکٹ سے ہتھکڑی نکالی اور حیا کے ہاتھ کمر کی طرف لے جا کر اس کے ہاتھوں میں لگادی

"تم یقینا ایک مشکل ٹاسک ہوں مگر مجھے بھی مشکلوں سے کھیلنے میں ہی مزا آتا ہے"
یہ کہتے ہوئے معاویہ نے حیا کو باہوں میں اٹھا کر بیڈ پر لے گیا اور پھینکنے کے انداز میں بیڈ پر لیٹایا

"تم یہ ٹھیک نہیں کر رہے ہو تم دیکھنا میں کیا کروں گی تمہارے ساتھ"
حیا نے اس کو دھمکی دی

"ہاتھ تمہارے قابو میں آچکے ہیں اب اس زبان کی باری ہے"
معاویہ نے حیا کے اوپر جھگتے ہوئے کہا اور جس انداز میں اس کی زبان بند کی وہ احتجاج نہیں کر سکی چند منٹ کی خاموشی کو دروازے کی دستک میں توڑا

"حیا دروازہ کھولو"
اسکی فرینڈز کی آوازیں آ رہی تھی شاید وہ اس کے روم میں آنا چاہ رہی تھی

"ان سے کہو تھوڑی دیر میں آ رہی ہوں اور دوسرے روم میں جاکر ویٹ کرو جلدی بولو"
معاویہ نے اس سے الگ ہوتے ہوئے کہا

"دو منٹ یہی رکو کھول رہی ہوں دروازہ"
حیا نے فورا بولا اور معاویہ اس کو گھورتا رہ گیا اور بیڈ سے اٹھ گیا

اب کل کیا کروں گی"
معاویہ کا موڈ خراب ہوچکا تھا

"یہ تمہیں کل ہی پتہ چلے گا ہاتھ کھولو میرے"
حیا آہستہ آواز میں غرائی

معاویہ نے مسکرا کر اسے باہوں کے حصار میں لیتے ہوئے ہاتھ کھولنے سے پہلے اسکی شرٹ کی ڈوری بند کی پھر ہاتھ کھولے حیا نے اس کو گھورتے ہوئے اپنا دوپٹہ اٹھایا اور دروازہ کھول کر روم سے باہر چلی گئی

جاری ہے

0 comments:

Post a Comment