Wednesday, May 1, 2019

itni mohbbat karo na (season 2) episode 33

Itni mohbbat karo na 2
By zeenia sharjeel
Epi # 33


"کتنی دفعہ کہا ہے شاہ یہ اپنے آفس کے کام آفس میں چھوڑ کر آیا کرو.... بس گھر کو آفس بنا کر بیٹھ جاتے ہو تم"
حور زین کو کافی کا مگ پکڑاتے ہوئے بولی

"یہ ٹھیک ہے سویٹ ہارٹ تم سارا دن تانیہ اور فضا سے باتیں کرو، سارے ڈرامے دیکھو اور جہاں میں مصروف ہوں تمھاری شکایت شروع"
زین laptop بن کرتے ہوئے کہا

"وہ تو میرا حق ہے نا،، نہیں تو اور سارا دن کیا کرو"
حور نے زین کے گلاسز اتار کر سائیڈ پہ رکھتے ہوئے کہا

"ٹھیک ہے میں تمہارا شکوہ نظر میں رکھتے ہوئے،،، آفس تھوڑے دنوں کے لئے بلال کے حوالے کردیتا تاکہ ہم دونوں ہنی مون پر چلیں کیا خیال ہے"
زین نے کافی کا مگ سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر معنی خیزی سے کہا جس پر حور اس کو گھور کر رہ گئی

"شرم کرو شاہ اپنی بیٹی کی شادی کی ہے اور خود ہنی مون پر جانے کی بات کر رہے ہو" 
حور نے زین کو گھورتے ہوئے کہا

"تم مجھے سیریس ہی نہیں لیتی ہوں بوڑھا سمجھتی ہوں"
بیڈ کے کراؤن سی ٹیک لگا کر اس نے حور کا سر اپنے سینے پر رکھتے ہوئے کہا

"تم نہ قسم سے ابھی تک فضول انسان ہوں،، سدھر جاؤ اب"
حور نے سر اٹھا کر زین کو دیکھتے ہوئے کہا

"سدھارنے والا سین تو تھوڑا مشکل ہے"
زین نے مسکراتے ہوئے کہا

"اچھا بتاؤ حیا سے ہوئی بات آج تمہاری"
زین نے کافی کا سپ لیتے ہوئے پوچھا

"ہاں دوپہر میں آئی تھی اس کی کال دل چاہنے لگا دیکھنے کو"
حور نے ویسے ہی زین کے سینے پر سر رکھ کر کہا

"چلے چلیں گے یار ابھی تو وہ نئی شادی ہوئی ہے گھوم پھر رہے ہوں گے"
زین نے حور سے کہا

"ارے فضا بتا رہی تھی ہادی نے صنم کو پسند کیا ہے"
حور کو یاد آیا تو اس نے زین سے کہا

"ہاں بلال نے مجھے بتایا تھا حیا کی شادی سے فارغ ہونے کے بعد، ہادی کا رشتہ لے کر جائے گا خضر کی طرف"
زین نے سوچتے ہوئے بولا

"اب تم کیا سوچنے لگے"
حور نے اسے چپ دیکھ کر سوال کیا

'ویسے ہی سوچ رہا تھا، پہلے ہادی سے حیا کی منگنی ہونا، پھر معاویہ سے حیا کی شادی ہونا اور اب ہادی سے معاویہ کی بہن کا رشتہ ہونا،،،، پتہ نہیں کیوں مجھے ایسا لگتا ہے بیچ میں کوئی کڑی مسنگ ہے"
زین سوچتے ہوئے کہا

"شاہ تمہاری بات میرے سر پر سے گزر گئی"
حور نے ناسمجھی سے کہا

"میری بات کو چھوڑو یہ کافی گرم کرکے لے آؤ،،، باتوں میں ٹھنڈی ہو گئی"
زین نے حور کو کافی کا کپ تھماتے ہوئے کہا

**

سب کھانے کے وقت ڈائینگ ٹیبل پر پہنچ کر اپنی اپنی چیئر پر بیٹھ گئے

"آنٹی آپ بھی بیٹھ جائے کھانا میں سرو کرتی ہو سب کو"
حیا نائیمہ کو کہہ کر خود بھی کھانا سرو کرنے کے لئے کھڑی ہوگئی جس پر معاویہ نے اس کو ابرو اچکا کر دیکھا

"ارے نہیں بیٹا بیٹھو تم"
ناعیمہ نے حیا کو  بیٹھنے کے لیے کہا

"کوئی بات نہیں آنٹی میں آپ کی ہیلپ کرا دیتی ہوں" حیا نے سہمی ھوئی نظروں سے پہلے خضر کو دیکھا پھر معاویہ کو دیکھتے ہوئے کہا اور کھانے کی ڈش اٹھا کر معاویہ کی طرف بڑھائی۔۔۔۔ معاویہ نے اس ڈرامہ کوئین کو داد دینے والی نظروں سے دیکھا

"حیا بیٹا آپ بیٹھو،، معاویہ حیا کی پلیٹ میں کھانا نکالو"
خضر کے بولنے پر معاویہ چونکا

"میں کھانا نکال کر دو اسے" 
معاویہ نے شہادت کی انگلی سے اپنے سینے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے خضر سے پوچھا

"تو تمہاری شان گھٹ رہی ہے اپنی بیوی کو کھانا نکال کر دینے میں نکالو اس کی پلیٹ میں کھانا"
خضر کے بولنے پر معاویہ حیا کی پلیٹ میں چاولوں کا پہاڑ بنانے لگا۔۔۔ جب سے خضر نے معاویہ کی پسند سے اسکی شادی کروائی تھی تب سے یہ ہوا تھا کہ وہ خضر کی بات تابعداری سے مان لیتا تھا

"پیٹ بھر کر کھانا بہت انرجی ویسٹ ہونے والی ہے آج تمہاری"
معاویہ نے حیا کے سامنے پلیٹ رکھتے ہوئے ہلکی آواز میں سرگوشی کی۔۔۔۔ معاویہ کی بات پر اک پل کے لیے حیا کا دل زور سے دھڑکا مگر پھر خود کو مضبوط بنا کر وہ آرام سے کھانا کھانے لگی۔۔۔۔ کھانے سے فارغ ہو کر سب اٹھ کر اپنے روم میں آ گئے،،، حیا جان بوجھ کر وقت لگا رہی تھی اور  آہستہ آہستہ چھوٹے نوالے کھا رہی تھی۔۔۔ معاویہ وہی بیٹھا ہوا بڑے سکون سے اس کو کھانا کھاتے ہوئے دیکھ رہا تھا

"بےبی پانی نہیں پیو گی کیا"
معاویہ نے پانی سے بھرے ہوئے جگ کا پانی اچانک حیا کے اوپر پھینکا حیا ایک دم بوکھلا کر پیچھے ہوئی مگر اس کے سارے کپڑے بھیک چکے تھے

"یہ کیا گھٹیا پن کیا ہے تم نے"
حیا نے غصے میں گھور کر معاویہ کو دیکھا

"اووو یہ تو سارے کپڑے گیلے ہوگئے جاو شاباش جلدی سے چینج کرو ورنہ ٹھنڈ لگ جائے گی"
معاویہ فکرمندی سے بولا

"میں تمہیں دیکھ لوں گی"
حیا نے دانت پیس کر کہا اور بیڈروم میں آکر وارڈ روب سے اپنے کپڑے نکالنے لگی۔ ۔۔۔۔ معاویہ بھی اس کے پیچھے روم میں آیا اور روم کا دروازہ لاک کیا۔۔۔۔ حیا کے قریب آکر اس نے حیا کے ہاتھ کپڑے چھینے اور بیڈ پر پھینکے۔۔۔۔ اچانک حیا کو قریب کرکے اسے اپنے ایک کندھے پر ڈالا اور اسے واش روم لے گیا

"یہ کیا کر رہے ہو معاویہ اتارو مجھے نیچے"
حیا کے چیخنے کا نوٹس لئے بغیر اسے واش روم میں لے جاکر پانی سے بھرے ٹب میں (جو کہ پہلے سے انتظام کیا ہوا تھا) حیا کو ڈالا

"تم سمجھتے کیا ہو اپنے آپ کو"
حیا نے ٹب میں سے اٹھتے ہوئے بولا

"سوا سیر جانم۔۔۔ آج تمہیں اپنی کی ہوئی کاریستانی کتنی مہنگی پڑھنی والی ہے اس کا تمہیں خود تھوڑی دیر میں پتہ چل جائے گا"
معاویہ کہتا ہوا واش روم سے باہر نکل گیا اور واشروم کا دروازہ باہر سے لاک کردیا۔۔۔ جب تک حیا پانی کی ٹپ سے نکل کر باہر آئی دروازہ باہر سے لاک ہوچکا تھا

"معاویہ دروازہ کھولو ورنہ میں تمہیں شوٹ کر دوں گی"
حیا کو اس پر مزید غصہ آنے لگا

"ایک شرط پر بےبی سامنے دیوار پر دیکھو میری ساری شرٹس لٹکی ہوئی ہے جلدی سے ان کو اپنے نازک سے پیارے پیارے ہاتھوں سے فٹافٹ دھو دو،،، تب تو یہ دروازہ کھل جائے گا۔۔۔۔ نہیں تو ساری رات واش روم میں انجوائے کرو"

"میں تمہارے ڈیڈ کو سب بتادوں گی تم کس طرح کا سلوک کر رہے ہو میرے ساتھ کمرے میں"
حیا نے معاویہ کو دھمکانا چاہا

"جانم اب یہ بتانے کے لئے تمہیں اس واش روم سے باہر آنا پڑے گا۔۔۔ اب ڈیڈ تو رات کو نئے شادی شدہ جوڑے کے بیڈ روم میں انھیں ڈسٹرب کرنے کو آنے سے رہے،،، شاباش جلدی ہاتھ چلاو اور ساری شرٹز دھوں اور یاد آیا ڈرائر بھی کردینا شرٹز کو"
معاویہ کی بات سن کر حیا کا خون مزید کھولا

"میں تمہیں اس کا مزہ ضرور چکاو گی تم یاد رکھنا"
حیا نے تپ کر کہا

"میں سارے مزے چکنے کے لئے تیار ہوں بےبی۔ ۔۔ مگر تم باتیں کم کرو اور ہاتھ زیادہ چلاؤ،،، یہ نہ ہو کہ میں سو جاؤں اور ساری رات تمہیں گیلے کپڑوں میں واشروم میں ہی بیٹھنا پڑے"
حیا نے غصے میں معاویہ کی دھلی ہوئی شرٹس پر نظر ڈالی اور صاف ستھری شرٹس کو دوبارہ دھونے لگی۔
شرٹس دھو کر،،، وہ ایسے انہیں نچوڑ رہی تھی جیسے وہ شرٹس کی بجائے معاویہ کی گردن ہو۔۔۔ ایک گھنٹے کی انتھک محنت کے بعد جب اس نے ڈرائیر آن کیا تو کلک کی آواز کے ساتھ دروازہ کھلا وہ واش روم سے باہر آئی تو وہ سامنے بیڈ پر لیٹا ہوا دل جلانے والے مسکراہٹ کے ساتھ اسی کو دیکھ رہا تھا۔۔۔ دانت پیستی ہوئی حیا نے اپنے کپڑے اٹھائے اور ڈریسنگ روم میں چلی گئی۔۔۔۔ چینج کرکے واپس آئی تو وہ کافی کا مگ ہاتھ میں لیے ہوئے کھڑا اسی کو دیکھ رہا تھا

"لو کافی پی لو"
ایک دفعہ تو حیا کہ دل میں آئی کے یہ کافی کا مگ سارا کا سارا اس کے سر پر انڈیل دے مگر پھر اپنے انجام کا سوچ کر اس نے ارادہ ترک کیا اور نہ چاہنے کے باوجود اپنی انا کو تھپکی دے کر سلاتے ہوئے چپ کرکے کافی کا مگ تھام لیا ایک گھنٹے سے وہ مسلسل ٹھنڈ میں پانی میں بھیگی ہوئی تھی اس لیے چپ کر کے صوفے پر بیٹھ کر وہ چھوٹے چھوٹے سپ لیتی رہی۔۔۔ معاویہ نے بیڈ پر لیٹنے سے پہلے اپنی شرٹ کے بٹن کھول کر شرٹ اتاری

"میرے سامنے سنی لیونی بننے کی ضرورت نہیں ہے واپس پہنو اسے"
حیا نے اس کے شارٹ اتارنے پر طنزیہ انداز میں بولا

"کیوں میرے سنی لیون بننے سے تمہارے اندر کا عمران ہاشمی جاگ رہا ہے"
ہار ماننا معاویہ نے سیکھا ہی نہیں تھا

"اگر تمہیں اس طرح کمرے میں بے ہودگی مچانی ہے تو بیڈ پر سونے کی ضرورت نہیں ہے" حیا اس سے نظریں ملائے بغیر بات کر رہی تھی بغیر شرٹ کے اس کو دیکھنے میں جھجک فیل ہو رہی تھی اور اس کے فیس ایکسپریشن دیکھ کر معاویہ محظوظ ہو رہا تھا

"کیو بےبی کنٹرول نہیں ہو رہا خود پر" 
وہ چلتا ہوا حیا کے پاس آیا

"تم دو ٹکے کے پولیس والے انتہائی بےہودہ انسان ہو،،، اپنی طرح کا سمجھا ہوا ہے کیا تم نے مجھے"
اس کی بات پر حیا بری طرح جل گئی

"اوکے لڑائی بند کرو بیڈ پر چل کر لیٹو سونا ہے مجھے"
معاویہ نے حیا کے تپے تپے چہرے کو دیکھ کر کہا اور اسکو مزید تپانے کا ارادہ ترک کیا

"تمہیں سونا ہے تو جا کر سو جاؤ میرا دماغ خراب مت کرو۔۔۔ مجھے جب سونا ہوگا میں سو جاؤں گی"
تھکن کی وجہ سے وہ لیٹنا بھی چاہ رہی تھی مگر وہی انا آڑے آگئی

"باقی لڑائی بیڈ پر کرلینا"
معاویہ اس کو اٹھا کر بیڈ پر لے آیا

"اگر تم نے کوئی بھی بیہودگی کا مظاہرہ کیا"
حیا نے اس کو وارننگ دینا چاہی

"بار بار چابی دینا بند کرو اور سو جاؤ"
معاویہ نے لائٹ بند کی اور خود بھی بیڈ کے دوسرے سائیڈ پر لیٹ گیا

جاری ہے

itni mohbbat karo na (season 2) episode 32

Itni mohbaat karo na 2
by zeenia sharjeel
epi # 32



رات کو جو کچھ بھی ہوا اس کا صنم کو کافی دکھ تھا معاویہ سب پر غصہ کرتا تھا مگر آج تک صنم سے تیز لہجے میں بات تک نہیں کی تھی مگر کل رات معاویہ کی آنکھوں میں اپنے لئے غصہ دیکھ کر صنم کا دل کافی خراب ہوا اور غصہ بھی اس نے ہادی کے سامنے کیا تھا، یہ سوچ کر صنم اور زیادہ شرمندگی کا احساس ہوا۔۔۔۔ کل وہ کتنی خوش ہو گئی تھی اچانک ہادی کے آ جانے سے اور کتنا گلٹ فیل ہو رہا تھا اسے، جس طرح معاویہ نے ہادی سے بات کی۔۔۔۔ صبح کے وقت لان میں کرسی پر بیٹھی ہوئی وہ یہی سوچ رہی تھی جب معاویہ جوگنگ کر کے واپس آیا

"گڑیا یہاں کیا کر رہی ہو اکیلے بیٹھ کر"
معاویہ کے لہجے میں یا چہرے پر کل رات والی بات کا شائبہ تک نہیں تھا وہ بھی دوسری چیئر پر صنم کے پاس ہی بیٹھ گیا

"آنکھ جلدی کھل گئی تھی اس لئے یہاں آگئی اکیلے ہی بیٹھنا ہے مجھے،،، اب ویسے بھی آپ کو تو بزی ہو جانا ہے"
شاید کل کی تلخی کی وجہ سے نہ چاہنے کے باوجود صنم ایسا بول گئی

"یہ کیا بات کر دی تم نے اگر تمہارا اشارہ حیا ہوں لے کر ہے تو ایک بات اچھی طرح سمجھ لو میں ہر رشتے کو بیلنس میں رکھ کر چلنے والا انسان ہوں۔۔۔ مانا حیا میرے لئے بہت ویلیو رکھتی ہے مگر اس کا میری زندگی میں آنے سے تمہاری اور مام کی امپارٹنس کم نہیں ہوگی۔۔۔۔ ویسے بھی شیرنی زرا دوسرے مزاج کی ہے"
سنجیدگی سے بات کرتے ہوئے آخری جملہ معاویہ نے مسکرا کر بولا صنم بھی ہنس دی

"بھابھی کو بتاؤں گی آپ نے ان کا کیا نام رکھا ہے"
صنم نے ہنستے ہوئے کہا

"تو ڈرتا تھوڑی ہوں میں تمھاری بھابھی سے" 
معاویہ نے مسکرا کر اپنے اپر کی پاکٹ میں دونوں ہاتھ ڈالتے ہوئے کہا

"بھائی آپ کو کل رات کو غصہ کس بات پر آیا تھا"
صنم نے معاویہ کا فریش موڈ دے کر کل رات کے غصے کا سبب جاننے کی کوشش کی کیونکہ اس کا بھائی کنزرویٹو مائنڈ کا ہرگز نہیں تھا،،، اگر کوئی بھی میل کزن اس سے بات کرے یا پھر وہ بات کرے تو کبھی بھی معاویہ نے اسے روکا ٹوکا نہیں تھا،،، اس لئے کل رات کو وہ یہ سمجھنے سے قاصر تھی کہ معاویہ کو ایسی کیا بات بری لگی جو اس کو غصے میں مبتلا کرگئی۔ ۔۔ صنم کی بات پر معاویہ کے چہرے پر مسکراہٹ غائب ہو گئی اور سنجیدگی چھا گئی

"دیکھو صنم تم میری چھوٹی بہن ہو میں تم سے بہت پیار کرتا ہوں اور تمہارے ساتھ کچھ بھی برا ہوتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا،،، تم بہت معصوم ہو لوگوں کی پہچان نہیں تمہیں۔۔۔ اس لئے آئندہ تم ہادی سے بات نہیں کروں گی"
اس نے صنم کو نرمی سے سمجھاتے ہوئے کہا

"مگر بھائی"
صنم نے کچھ بھولنا چاہا

"شش خاموش نو اگر مگر میں اپنی بعد دوبارہ نہیں دہراوں گا،، چلو اندر چلتے ہیں سردی ہے یہاں پر کافی"
اس نے صنم کی بات کاٹ کر آواز میں نرمی رکھی مگر انداز وارن کرنے والا تھا۔۔۔۔ معاویہ اٹھ کر کھڑا ہوا تو صنم بھی بے دلی سے اٹھ گئ وہ صنم کے شولڈر کے گرد ہاتھ رکھ کر اس کے ساتھ اندر چلا گیا

**

جب وہ کمرے میں آیا تو حیا ابھی تک گہری نیند میں سو رہی تھی معاویہ نے گلے میں ڈالا ہوا چھوٹا سا ٹاول،،، جسے تھوڑی دیر پہلے اپنے چہرے اور گردن کا پسینہ صاف کیا تھا گلے سے اتارا ٹاول کا گولا بنا کر حیا کے اوپر پھینکا جس سے وہ ایک دم سے بوکھلا کر اٹھی

"یہ کیا بے ہودہ حرکت ہے"
حیا نے اپنے چہرے سے ٹاول ہٹا کر معاویہ کے اوپر پھینکتے ہوئے کہا

"اب دو ٹکے کا انسان تو بے ہودہ حرکت ہی کرے گا نا جانم۔۔۔ ویسے تم اسے جگانے کا ایک نیا اسٹائل بھی کہہ سکتی ہوں شاید خاص پسند نہیں آیا تمہیں"
معاویہ نے قدم بڑھا کر بیڈ کے پاس آتے ہوئے پوچھا

"اپنے یہ اسٹائل اپنے پاس ہی رکھو اور مجھے جگانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے جب مجھے اٹھنا ہوگا میں خود ہی اٹھ جاوں گی"
حیا دوبارہ کمفرٹر منہ تک اوڑھ کر لیٹ گئی،،، معاویہ نے اس کے چہرے سے کمفرٹر ہٹایا اور حیا کے اوپر جھک کر کل والے انداز میں اس کو گڈمارننگ کہا۔۔۔۔ جب تک حیا اس کو اپنے ناخن مارتی وہ اپنا کام کر چکا تھا،،،،

"پیچھے ہٹو جنگلی انسان"
حیا کا شرم سے اور غصہ سے چہرہ سرخ ہو گیا

"اب یہ مت کہنا کہ جگانے کا یہ اسٹائل بھی پسند نہیں آیا،،، چلو شاباش اٹھ جاو باہر سب ہمارا ناشتے پر ویٹ کر رہے ہوگے"
معاویہ بیڈ سے اٹھتا ہوا بولا

"مجھے ابھی سونا ہے میں ناشتہ بعد میں کر لوں گی جب کرنا ہوگا"
حیا نے خفت مٹاتے ہوئے دوبارہ لیٹنا چاہا

"بےبی نیند تمہیں ایسے آرہی جیسے پوری رات میں نے تمہیں جگایا ہوں۔۔۔۔ اور واپس بھی ذرا سوچ سمجھ کے لیٹنا یہ نہ ہوکہ میرا بھی ناشتے کا اور پولیس اسٹیشن جانے کا پروگرام کینسل ہوجائے"
معاویہ نے اس کو دوبارہ لیٹتا دیکھ کر دھمکی دی اور وارڈروب سے اپنا یونیفارم نکالنے لگا

"کیا مطلب ہے تمہاری اس بات کا" حیا نے تپ کر پوچھا

"مطلب تو میں تمھیں سارے سمجھاؤں گا مگر منہ سے بول کر نہیں اور جس طرح میں سمجھاؤں گا اس طرح تم نے مجھے دو ٹکے کا پولیس والا ہی بولنا ہے"
معاویہ حیا کو دیکھ کر معنی خیزی سے بولا۔۔۔ حیا بیڈ سے اتر کر پیر پٹختی ہوئی معاویہ کے پاس آئی

"اس طرح تم میرے ساتھ بالکل اچھا نہیں کر رہے معاویہ۔۔ ۔ میں اپنے آپ کو شوٹ کرلوں گی اگر تم نے دوبارہ کوئی چیپ حرکت میرے ساتھ کی"
حیا نے اس کو دھمکی دی تو،، معاویہ نے حیا کی کمر کے گرد ہاتھ باندھ کر اسے خود سے قریب کیا

"جب تمہارا اپنے آپ کو شوٹ کرنے کا ارادہ ہو تو  اپنی پسٹل مجھ سے لے لینا،،، وہ کیا ہے نہ میں تمہارے کلج سے اسی رات پسٹل نکال لیا تھا یا پھر سمپل مجھ سے کہہ دینا یہ کام، میں  زیادہ اچھا کرلوں گا۔۔۔۔ ڈریس چینج کرو فورا اور باہر چلو، سب ناشتہ ایک ساتھ ہی کرتے ہیں تمہیں بھی ہم سب کے ساتھ ٹیبل پر موجود ہونا چاہیے"
معاویہ نے اسے خود سے الگ کرتے ہوئے کہا اور یونیفارم لے کر ڈریسنگ روم کی طرف چلا گیا

"چھوڑو گی تو اب میں تمہیں بالکل بھی نہیں"
حیا نے لب بینجتے ہوئے سوچا

معاویہ جب یونیفارم  پہن کر باہر آیا تو حیا بھی ڈریس چینج کر چکی تھی اور پھولے ہوئے منہ کے ساتھ کھڑی تھی جسے دیکھ کر معاویہ کے چہرے پر مسکراہٹ آئی مگر وہ فورا چھپا گیا

"چلو"
سنجیدگی سے کہتا ہوا خود بھی روم سے نکل گیا

***

وہ دونوں ناشتے کی ٹیبل پر آئے جہاں پر خضر ناعیمہ اور صنم پہلے سے ہی موجود تھے تینوں نے ان دونوں کی طرف دیکھا تو حیا نے جھجکتے ہوئے سلام کیا۔۔ ۔  وہ کافی نروس ہورہی تھی،، کل تو زین اور حور اس کے روم سے نکلنے سے پہلے ہی وہاں موجود تھے تو اتنا نیا پن کا احساس نہیں ہوا مگر آج معاویہ کی فیملی میں اپنے آپ کو اکیلا محسوس کر رہی تھی

"وعلیکم اسلام آجاؤ بیٹا آپ کیا لوگی ناشتے میں"
ناعیمہ نے معاویہ کی طرف آملیٹ اور ٹوس بڑھاتے ہوئے حیا سے پوچھا

"تھینکیو انٹی میں لے لوں گی"
حیا نے جھجگتے ہوئے کہا

"زیادہ شرمانے کی ضرورت نہیں ہے اصلی حالت میں آجاؤ اپنی۔۔۔۔ ویسے مام یہ ناشتے میں نہار منہ تازہ خون کا بڑا سا پیالا پیتی ہے"
معاویہ نے اپنے برابر میں بیٹھی ہوئی حیا کو نروس ہوتے دیکھا تو کہا

"معاویہ"
ناعیمہ نے آنکھوں سے تنبیہ کرتے ہوئے معاویہ کو ٹوکا

"بیٹا تمہارا اپنا گھر ہے اس طرح شرمانے کی ضرورت نہیں ہے بالکل ریلیکس ہو کر ناشتہ کرو"
خضر نے اس کی جھجھک دیکھتے ہوئے کہا

"اور تم دوسرے دن ہی کہاں چل دیے ابھی نئی شادی ہوئی ہے تمہاری،، کچھ دن چھٹی لے لو، حیا کو کہیں گھمانے پھرانے لے جاؤ"
خضر نے معاویہ کو دیکھتے ہوئے مشورہ دیا

"ڈیڈ چھٹی کی تو ایسی کوئی خاص ضرورت نہیں ہے جو معرکہ طے کرنا تھا وہ تو کرلیا۔۔۔ فی الحال گھمانے پھرانے کا تو سوال پیدا نہیں ہوتا تھا،، حوالات کی سیر کروا سکتا ہوں اگر یہ راضی ہو جائے تو"
معاویہ کے بولنے کی دیر تھی حیا نے زوردار پاؤں نیچے ٹیبل سے معاویہ کے پاوں پر مارا۔۔۔ جس پر معاویہ کھانسنے  لگا تو صنم نے فورا اسے پانی دیا

"ہر وقت فضول نہیں بولا کرو معاویہ، چپ کرکے ناشتہ کرو"
خضر بولتا ہوا آفس کے لیے اٹھ کھڑا ہوا
تھوڑی دیر بعد معاویہ اور صنم بھی گھر سے نکل گئے حیا ناعیمہ سے ایک دو باتیں کر کے واپس اپنے کمرے میں آگئی

**


"کیسے ہیں آپ ہادی"
ہادی نے کال کی تو پہلی بیل پر ہی کال ریسیو کرتے ہوئے کہا وہ ابھی ابھی یونیورسٹی پہنچی تھی

"میں تو ٹھیک ہوں تم اپنی بتاؤ۔۔۔۔ مزید کلاس تو نہیں لی تمہاری اس ڈریگن نے"
ہادی نے بھی اس کی دوسرے اسٹائل میں خیریت دریافت کی

"بہت افسوس کی بات ہے آپ میرے بھائی کو ڈریگن بول رہے ہیں"
صنم نے ناراضگی سے کہا

"یار اس میں ناراض ہونے والی بات نہیں ہے کیوکہ اب ہم جب جب اس کے سامنے ملیں گیں اس نے منہ سے اسی طرح آگ اگلنی ہے"
ہادی نے اسے آرام سے سمجھاتے ہوئے کہا

"کل بھائی کے رویہ کے لیے میں آپ سے معافی چاہتی ہوں، ہادی وہ بالکل کنزرویٹیو مائنڈ کی نہیں ہیں۔ ۔۔ بس کل ویسے ہی انہیں غصہ آگیا تھا اس لیے روڈ ہوگئے تھے" صنم نے معاویہ کی طرف سے صفائی دیتے ہوئے کہا

"تم مجھے اپنے بھائی کے رویے کی وضاحت مت دو صنم میں اس کی نیچر میں اچھی طرح جان گیا ہوں" ہادی نے ٹاپک کلوز کرتے ہوئے کہا

"آپ غلط سوچ رہے ہیں بھائی کے لیے" صنم نہیں چاہتی تھی کہ معاویہ کا امپریشن ہادی کی نظر میں غلط ہوں

"اوکے نہیں غلط سوچ رہا تمہارے بھائی کے لئے۔۔۔۔ تم یہ بتاؤ اپنے مما بابا کو تمھارے گھر کب بھیجو"
ہادی کام کی بات پر آیا

"اتنی جلدی میرا مطلب ہے ابھی تو بھائی کی شادی ہوئی ہے اگر تھوڑا ٹھہر جاتے تو"
صنم نے تھوڑا ٹائم لینا چاہتا تاکہ وہ معاویہ کو منا سکے

دیکھو صنم میں بہت پریکٹیکل بندہ ہو یہ ڈیٹنگ فون پر لمبی باتیں مجھے خاص پسند نہیں۔۔۔۔تم مجھے اچھی لگی مجھے لگا میں تمہارے ساتھ اپنی لائف اچھی گزار سکتا ہوں تو تمہیں پرپوز کیا اور وہ شادی کرنے کے لئے کیا تھا اور جب شادی ہی کرنی ہے تو اس میں بلاوجہ ٹائم لینا میری سمجھ سے تو باہر ہے"
ہادی نے صنم کو کہا

"ایک بات پوچھوں صنم تم سے"
ہادی نے اپنی بات مکمل کر کے دوبارہ صنم سے خود ہی سوال کیا

"جی پوچھیے"
صنم نے کہا

تم میرے ساتھ اپنی شادی والی بات کو لے کر کتنا سیریز ہو"
ہادی نے صنم سے سوال کیا

"یہ کیسا سوال ہے ہادی کیا آپ کو میں ٹائم پاس کرنے والی لڑکی لگتی ہو"
صنم نے برا مانتے ہوئے کہا

"میں نے ایک سوال کیا ہے اور تم برا مان گئی،،، میں اس لیے پوچھ رہا تھا کہ جان سکو تم مجھے اپنی زندگی میں کتنا سیریس لیتی ہوں"

"ہادی اپ میری زندگی میں آنے والے پہلے شخص ہیں جس پر میں نے آنکھ بند کرکے اعتبار کیا ہے اور سچے دل سے پانے کی تمنا کی ہے،، زندگی میں ہر قدم پر آپ مجھے اپنے ساتھ پائیں گے میں آپ کو کبھی تنہا نہیں چھوڑ سکتی"
صنم نے ہادی کو اپنی محبت کا یقین دلاتے ہوئے کہا

"ٹھیک ہے میں تم سے امید کروں گا تم ہمیشہ اپنے فیصلے پر ثابت قدم  رہو"یہ کہہ کر ہادی نے فون رکھ دیا
صنم اپنے ڈیپارٹمینٹ کی طرف چل دی

***

"ارے بیٹا اپنے روم میں اکیلی کیا کررہی ہوں یہاں آ کر بیٹھو ہمارے ساتھ"
ناعیمہ نے ساجدہ سے کہہ کر حیا کو روم سے بلوایا تو خضر نے کہا

"جی انکل بس آنے والی تھی معاویہ کی دو شرٹز رہ گئی تھی پریس کرنے سے"
حیا نے مسکرا کر سامنے صوفے پر بیٹھتے ہوئے کہا

"مگر کپڑے تو باہر سے ڈرائے کلین ہوتے ہیں اور پریس ہوتے ہیں تم کیوں کر رہی تھی اس کے کپڑے پریس"
ناعیمہ نے حیرت سے حیا کو ریکھ کر پوچھا

"آنٹی مجھے معاویہ صبح ہی بول کر گئے تھے آج سے میں ان کے سارے کام خود اپنے ہاتھ سے کرو"
حیا نے مسکراتے ہوئے بولا تو نائمہ نے حیرت سے اسے دیکھا اور پھر خضر کو دیکھا جس کے ماتھے پر بل نمایاں ہوگئے

"یہ تم سے معاویہ نے کہا۔۔۔۔ بیوقوف تو نہیں ہے وہ جو دو دن کی آئی ہوئی بیوی کو اپنے کاموں میں لگا رہا ہے"
خضر نے غصے میں ناعیمہ کو گھورتے ہوئے کہا جیسے کہ اس میں ناعیمہ کا ہی قصور ہوں

"ارے بیٹا اس نے مذاق کیا ہوگا تمہارے ساتھ"
ناعیمہ نے حیا کو سمجھانا چاہا

"نہیں آنٹی انہوں نے بالکل اسمائل نہیں دی بہت سیریس ہو کر کہہ رہے تھے میرے کام سے فارغ ہو جاؤں تو ساجدہ کی کچن میں ہیلپ کروانہ،،، جبھی میں نے ان کے کپڑے صبح ہی دھو دیئے تھے،،،، اچھا آپ مجھے بتا دیں آج رات کے ڈنر کا مینیو پھر میں ساجدہ کے ساتھ ہیلپ کرواتی ہوں"
حیا نے سعادتمندی دکھاتے ہوئے کہا

"کوئی ضرورت نہیں ہے بیٹا تمہیں یہ سارے کام کرنے کی، جاو اپنے روم میں اور ریسٹ کرو۔۔۔ معاویہ آجائے تو میرے روم میں بھیجنا"
خضر نے حیا کو ریسٹ کرنے کا بولا اور آخر میں ناعیمہ کو آرڈر دے کر اپنے روم میں چلا گیا

**

"کیسے ہی ڈیڈ اپ۔۔ یاد کیا آپ نے" معاویہ جیسے ہی گھر آیا ناعیمہ نے فورا اسے خضر کا میسج دیا

"شادی کے دو دن بعد ہی اتر گیا تمہارے سر سے عاشقی کا بھوت" خضر نے فائل بند کرتے ہوئے معاویہ کی کلاس لی

"او ڈیڈ آپ ابھی تک صبح کی بات لے کر بیٹھے ہیں،، ابھی بہت ضروری اسائنمنٹ میرے پاس اس پر کام ختم ہو جائے تو لے جاؤں گا آپ کی بہو کو کہیں گھمانے" معاویہ نے سامنے رکھی ہوئی چیئر پر ریلکس انداز میں بیٹھتے ہوئے خضر کو جواب دیا

"معاویہ میرے سامنے آداکاری مت کیا کرو،،، میں نے پہلے ہی بتایا تھا باپ میں ہوں تمہارا،، تمہارے رگ رگ سے واقف ہو۔۔۔ اگر تم نے حیا سے کوئی بھی الٹے سیدھے کام کروائے تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا، گھر کے ماحول کو اور رشتوں کو بگاڑنے کی اجازت میں تمہیں ہرگز نہیں دوں گا"
خضر نے سنجیدہ انداز میں معاویہ سے کہا

"کیا الٹے سیدھے کام کرائے میں نے"
معاویہ کو حیرت کا جھٹکا لگا اور وہ سیدھا ہو کر بیٹھ گیا

"زیادہ معصوم بننے کی ضرورت نہیں ہے میرے سامنے ایکٹنگ نہیں کرو،،، تم نے حیا سے یہ نہیں کہا کہ وہ تمہارے کام خود اپنے ہاتھ سے کرے، ،، آج تم نے اس سے اپنے کپڑے دھلواۓ ہیں اور پریس کروائے ہیں۔۔۔۔ ان کاموں کے کروانے کے لیے شادی کی تھی تم نے اس سے۔ ۔۔۔۔ اگر مجھے پتہ ہوتا تو تمہاری شادی میں ساجدہ کی بیٹی سے کروا دیتا"
خضر نے اس پر مزید بگڑتے ہوئے کہا

"ڈیڈ پلیز یہ سب آپ کو حیا نے کہا ہے"
معاویہ نے سیریس انداز اپناتے ہوئے کنفرم کرنا چاہا

"کیوں اب کیا کرو گے جا کر اس کے ساتھ لڑو گے جھگڑو گے یا مارو کے پیٹوں گے اسے" خضر نے تیز لہجے میں کہا

"ڈیڈ پلیز"
معاویہ کو غصہ تو بہت آیا،، حیا کی کارستانی وہ اچھی طرح سمجھ چکا تھا

"معاویہ میری بات کان کھول کر سن لو یہ اپنی پولیس گری پولیس اسٹیشن میں چھوڑ کر آیا کرو،، گھر پر انسانوں کی طرح بی ہیو کیا کرو اور اگر تم نے یہاں سے جا کر حیا کو کچھ بھی کہا تو میں لحاظ نہیں کروں گا کہ اب تم شادی شدہ ہو گئے ہو"
خضر نے دوبارہ اسے وارن کیا 

"ایسے کیا دیکھ رہے ہو سمجھ میں آئی تمھیں میری بات کہ نہیں"
خضر نے ڈانٹتے ہوئے پوچھا

"جی ڈیڈ آئیندہ میں آگے سے خیال رکھو گا"
معاویہ نے چیئر سے اٹھتے ہوئے کہا

جب سے اس کی شادی کا سلسلہ چلا تھا اس کے اور خضر کے درمیان تعلقات اچھے ہوگئے تھے جس سے گھر کا ماحول بھی اچھا ہو گیا تھا مگر آج حیا کی وجہ سے خضر نے معاویہ کی اچھی طرح کلاس لی وہ اندر سے کھول کر رہ گیا

"بےبی مجھ سے پنگا لے کر تم نے آج رات خود ہی اپنی شامت بلائی ہے اب تمہیں مجھ سے کون بچائے گا"
معاویہ نے خضر کے روم سے نکلتے ہوئے سوچا

جاری ہے


Surprice epi ka shor na dale ye long epi thi....

itni mohbbat karo na (season 2) episode 31

 itni mohbat karo na 2
By zeenia sharjeel
Epi # 31


ولیمے کی تقریب اپنے عروج پر تھی فوٹو شوٹ کے لیے کیمرہ مین معاویہ اور حیا کے ساتھ ڈریسنگ روم میں موجود تھا جو کہ فل رومینٹک پوز بنواکر ان دونوں کی تصویریں لے رہا تھا،، جس پر معاویہ تو فل انجوائے کر رہا تھا اور کیمرہ مین کی ہر بات جتنی تابعداری سے مان رہا تھا اتنی تعبیداری سے زندگی میں شاید ہی پہلے کسی اور کی بات مانی ہو،،، اس کے برعکس حیا صرف گھور کر کھا جانے والی نظروں سے معاویہ کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔ وہ فوٹو شوٹ کے لیے تیار بھی نہیں تھی مگر حور نے منتیں کر کے اسے منایا تھا تاکہ تانیہ اور اشعر کو تصویریں بھیجوا سکے

"سر پلیز تھوڑا سا میڈم کے قریب ہوکر  اپنے ہیڈ کو ہلکا سا ڈاؤن کریں"
کیمرے مین نے معاویہ سے کہا

"اتنا صحیح ہے" معاویہ نے تقریبا ہی فاصلہ کم کرتے ہوئے کہا جس پر حیا صرف دانت پیس کر رہ گئی

"نہیں سر تھوڑا سا دور ہوجائے"
کیمرہ مین گڑبڑا کر بولا

"میم اب ذرا پیار سے سوری میرا مطلب ہے مسکرا کر سر کو دیکھیں"
کیمرہ مین کب سے حیا کو بولنا چاہ رہا تھا مگر اس کے تیوری پر بل دیکھ کر بول نہیں پا رہا تھا

"شٹ اپ ایک دو پوز بنواؤں اور اپنا کام ختم کرو جلدی سے"
حیا نے کیمرے مین کو گھور کر کہا

"مائنڈ نہیں کرنا یار میم نے صبح صبح ہری مرچیں چبالی تھی جس کا ذائقہ ابھی تک انہیں محسوس ہو رہا ہے" معاویہ نے کیمرہ مین سے معذرت کرتے ہوئے حیا کو دیکھ کر کہا

"اٹس او کے سر۔۔ 
سر اب آپ بیک پر جائیں اور میم آپ اسٹریٹ کھڑی رہیں  صرف گردن موڑ کر سر کو دیکھیں سر آپ اپنا ہاتھ میم کے شولڈر پر رکھیں اور نظریں تھوڑی سا جھکائے معاویہ نے حیا کے ہونٹوں کو دیکھا

"روم میں بھی مجھے کچا چبا جانے والی نظروں سے دیکھتی ہوں یہاں تو پیار سے دیکھ لو"
ہلکی سی سرگوشی حیا کے کان میں کی

"اوکے سر اب آپ میم کے سامنے آکر میم کو کمر سے ہولڈ کریں"
کیمرہ مین کے بولتے ہی حیا نے گھور کر کیمرے مین کو دیکھا

"اوکے سر رہنے دیں" کیمرہ مین حیا کی نظروں سے ڈر کر بولا

"نہیں یار آپ جاری رکھو یہ بہت اچھا پوز ہے"
معاویہ نے سنجیدہ انداز میں کہہ کر حیا کی کمر کو اپنے دونوں ہاتھوں سے تھاما،، حیا آنکھوں میں غصہ لیے ہوئے اسی کو دیکھ رہی تھی اور وہ اس کی حالت سے خط اٹھا کر معاویہ نے ہلکا سا اس کی کمر پر ہاتھ سے دباؤ ڈالا مگر چہرے پر ہنوز سنجیدگی کے اثار رکھے ہوئے حیا کو دیکھ رہا تھا

"بالکل شولا شبنم کی جوڑی لگ رہی ہے ہماری جوڑی"
معاویہ نے دوبارہ سرگوشی کی 

کیمرہ مین مختلف اینگل سے تصویریں کھینچنے میں لگا ہوا تھا

"اوکے سر، اوکے میم تھینکیو۔۔۔"
اپنا کام ختم کرتے ہوئے کیمرہ مین بولا اور روم سے باہر چلا گیا

"کیا فضول کی ہانک رہے تھے تم اس کے سامنے۔۔۔ اور بالکل اپنے جیسا ہی کوئی چھچورا ٹائپ کیمرہ مین ہائر کیا ہے تم نے"
حیا نے کیمرہ مین کے نکلتے ہی معاویہ کو گھورتے ہوئے کہا

"کیو بےبی انجوائے نہیں کیا مجھے تو بہت مزا آیا۔۔۔۔ میں تو سوچ رہا ہوں اس سے معلوم کرو کہ اگر ڈیلی کے پندرہ بیس روز اس طرح کت پوز بنوائے جائیں تو کیا چارجز ہوگے"
لائٹ پنک اور پرپل کلر کے کمبینیشن کی میکسی میں وہ بالکل گڑیا لگ رہی تھی معاویہ نے اس کے روپ کو اپنی آنکھوں میں اتارتے ہوئے کہا

"تم اپنی ان معصوم حسرتوں پر ایسے ہی آنسو بھاؤ۔۔۔۔ باہر جانا ہے مجھے فرینڈز ویٹ کررہی ہیں میرا"
حیا نے اسے تپاتے ہوئے کہا اور صوفے سے اٹھنے لگی مگر لونگ میکسی ہونے کی وجہ سے میکسی ہیل کے نیچے آئی اور اس سے پہلے وہ صوفے پر دوبارہ گرتی معاویہ نے اسے کمر سے اسے تھام لیا

"معاویہ مراد آنسو نہیں بہاتا بلکہ پنگا لینے والوں کی آنکھوں میں انسوں کا سبب ضرور بنتا ہے۔۔۔۔ صرف تمہیں وقت دے رہا ہوں اپنے مائنڈ کو میک اپ کرو اور اپنے اس بھیجے میں یہ بات بٹھاو کہ اب تمہیں میرے ساتھ رہنا ہے، میرے گھر میں، میری بیوی بن کر۔۔۔ ورنہ تمہارا نخرہ صبح دو منٹ میں نکال سکتا تھا اور نکال سکتا ہوں۔۔۔ آؤ تمھیں باہر لے چلو"
معاویہ نے حیا کی کمر سے اپنے ہاتھ ہٹا کر اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے کہا اور اسے باہر لے جاکر اسٹیج پر صوفے پر بیٹھنے میں مدد اور خود اسٹیج سے نیچے اتر گیا

سوہنی فری زرش تینوں اسٹیج پر آئی اور حیا سے ملی

"ہائے قسم سے بہت پیارے لگ رہے ہو تم دونوں تو ایک ساتھ آتے ہوئے"
فری نہ حیا سے تعریف کرتے ہوئے کہا حیا زبردستی کا مسکرا دی

"حیا ارسل بھائی کی شادی میں تم کہہ رہی تھی پولیس والے تو رومانس کے معاملے میں بالکل ٹھس ہوتے ہیں تو پھر کیسا ایکسپیرینس رہا تمھارا"
سوہنی نے دانت باہر نکالتے ہوئے پوچھا

"سوہنی تم چاہ رہی ہوں کہ میں اپنی اس سینڈل سے تمہارا میک اپ کرکے مزید منہ لال کر دو"
حیا کے بولنے پر باقی دونوں نے بھی دانت نکالے

"ارے چھوڑو یہ تو پوری چھپی رستم ہے ویسے تو اسے پولیس والے پسند نہیں تھے اور اپنے لئے خود اس نے پولیس والا چنا۔۔۔ مجھے تو اسی دن دال میں کالا لگ رہا تھا جب یہ معاویہ بھائی کا ایڈریس معلوم کر رہی تھی"
زرش کے بولنے پر ماہی اور فری بھی اس کی طرف متوجہ ہوئی

"یہ کب کا سین ہے" دونوں نے حیرت سے اظہار کیا
اور زرش نے ان دونوں کو پوری روادات سنای


***

"لوگ اتنے حسین لگ رہے ہیں انہیں فرصت ہی نہیں ہے اپنے عریب قریب بھی نظر اٹھا کر دیکھ لیں"
صنم جو کہ فریحہ کو دیکھنے کے لئے بینکویٹ سے نکل رہی تھی اچانک اسے ہادی کی آواز اپنے پیچھے سے سنائی دی

"ہادی آپ"
صنم نے آنکھوں میں ڈھیر ساری حیرت لیتے ہوئے کہا،، وہ مسکرا کر اسی کو دیکھ رہا تھا

"کیا ہوا میرا آنا کیسا لگ رہا ہے اچھا یا برا"
ہادی نے ادکی حیرت زدہ آنکھوں میں جھانک کر کہا

"بالکل ایک خواب سا"
ہادی کو اتنے دنوں بعد سامنے دیکھ کر وہ باقی دنیا کو بھول گئی

"یہاں اپنا ہاتھ دو تمہیں یقین دلاؤں کہ یہ خواب نہیں حقیقت ہے"
ہادی نے اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے کہا وہ ابھی بھی خواب کی سی کیفیت میں ہادی کو دیکھ رہی تھی

"آؤچ"
ہادی نے اس کے ہاتھ پر چٹکی کاٹی تو ہوش کی دنیا میں آئی

"یہ کیا تھا"
صنم نے ابھی بھی انکھوں میں حیرت سمائے ہوئے بولا

"یقین دلارہا تھا تمہیں کہ یہ خواب نہیں ہے"
ہادی نے مسکرا کر کہا تو وہ بھی روشن آنکھیں لیے مسکرادی

"آپ مجھ سے ناراض تو نہیں ہیں" 
صنم نے ہادی کو دیکھتے ہوئے کہا

"میرے چہرے سے یا میری آنکھوں سے تمہیں ناراضگی چھلکتی ہوئی نظر آ رہی ہے"
ہادی نے بغور اس کا چہرہ دیکھتے ہوئے صنم سے پوچھا صنم نے نفی میں گردن ہلائی

"تو پھر کیا نظر آ رہا ہے"
ہادی اب بھی غور سے صنم کو دیکھ کر پوچھ رہا تھا اس کے سوال پر وہ بلش کرنے لگی

"صنم یہاں کیا کر رہی ہو"
اچانک معاویہ کی آواز پر ان دونوں نے چونک کر معاویہ کو دیکھا جو کہ اپنے ماتھے پر لاتعداد شکنیں سجائے ہوئے ہادی کو غصے سے دیکھ رہا تھا مگر مخاطب صنم سے تھا

"ارے بھائی یہ دیکھئے ہادی میں نے آپ سے اس دن ملوایا تھا"
صنم نے معاویہ کے تاثرات پر غور سے کرے بناء ہادی کی ملاقات کا دوبارہ سے یاد کرواتے ہوئے بتایا

"میں نے تم سے یہ نہیں پوچھا ہے کہ یہ کون ہے یا پھر اس کا تعارف کراو بلکہ یہ پوچھا ہے کہ تم یہاں کیا کر رہی ہو"
معاویہ نے اب بھی غصے سے صنم کو دیکھتے ہوئے کہا جس پر صنم نے حیرت سے معاویہ کو دیکھا اسے معاویہ کا یوں بلاوجہ کا غصہ سمجھ میں نہیں آیا دوسری طرف ہادی کو معاویہ کا اس طرح غصے میں کھولنا اندر کہیں سکون دے رہا تھا

"تم صنم سے اس طرح بات نہیں کرسکتے، ایسا کچھ نہیں کر رہی تھی وہ یہاں پر جو تمہیں یوں غصہ آگیا"
ہادی نے مزید تیلی کا کام کیا

"تم اپنی زبان کو لگام دو،،، میں اپنی بہن سے بات کر رہا ہوں ہماری بیچ میں بولنے کی ضرورت نہیں ہے"
معاویہ نے اب اپنے غصے کو کنٹرول کرتے ہوئے ہادی کو دیکھ کر کہا ورنہ اس کا دل تو کر رہا تھا ہادی کو ایک اور تھپڑ لگائے مگر گیسٹ اور ایونٹ کو دیکھ کر وہ کنٹرول کر گیا

"صنم چلو یہاں سے ہو فریحہ کے پاس جا کر بیٹھو اور دوبارہ اپنی جگہ سے اٹھنے کی ضرورت نہیں ہے" معاویہ نے مڑ کر سرد تاثرات کے ساتھ صنم کو دیکھ کر کہا۔۔۔ جو آنکھوں میں نمی لائے ہوئے معاویہ کو دیکھ رہی تھی اور چپ کر کے وہاں سے چلی گئی

"میری بہن سے دور رہنا ہادی،، یہ میں تمہیں لاسٹ ٹائم منہ سے سمجھا رہا ہوں اگر اب تم مجھے صنم کے اردگرد گھومتے ہوئے نظر آئے تو تم سوچ بھی نہیں سکتے میں تمہارے ساتھ کیا کروں گا"
معاویہ کی آنکھیں غصے اور ضبط سے سرخ ہو گئی اور ہادی کو اس کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ کر بڑا مزہ آیا ہے

"ریلکس یار آج تمھارا ولیمہ ہے انجوائے کرو۔۔۔ تم تو ابھی سے رو رہے ہو"
اس سے پہلے معاویہ اس کا گریبان پکڑتا ہادی مسکراتا ہوا وہاں سے چلا گیا

اب وہ زین اور بلال سے مل رہا تھا،، زین خضر سے ہادی کا تعارف کروا رہا تھا۔۔ معاویہ کا موڈ اس کی شکل دیکھ کر اچھا خاصا خراب ہوچکا تھا وہ سر جھٹک کر اپنے کلیکس کے پاس آ گیا

**

"کونگریٹس مسسز معاویہ مراد"
ہادی نے اسٹیج پر آکر حیا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا

"تھینکس۔۔۔ تمہیں یہاں دیکھ کر خوشی ہوئی"
حیا نے ہادی کو دیکھ کر سنجیدگی سے کہا

"ہاں آنا تو تھا ہی آج وش کرنے کے لئے ایک مشورہ دوں اگر برا نہ مانو تو"
ہادی نہ حیا کو دیکھتے ہوئے کہا

"مشورہ اس قابل ہوا تو ضرور مانو گی" حیا نے مسکرا کر کہا

"تم ایک نئی زندگی کا آغاز کرنے جارہی ہوں جو کچھ بھی ہوا اس کو بھول جاؤں اور نئی زندگی کی شروعات کرو خوشی کے ساتھ"
ہادی نے حیا کو مخلصانہ مشورہ دیا

"مشورے کا شکریہ" حیا نے بغیر مسکرائے ہادی سے کہا

"تم ابھی تک گئے نہیں ہادی اپنے گھر،، کافی گیسٹ جاچکے ہیں تمہیں بھی اب نکلنا چاہیے"
معاویہ نے اسٹیج پر آتے ہوئے ہادی کہا اور حیا کے کندھے کے گرد اپنا ہاتھ رکھ کر کھڑا ہو کر اس کے جواب کا انتظار کرنے لگا

"بس جانے ہی والا تھا ویسے بھی جس کام کے لئے آیا تھا وہ ہوگیا"
ہادی نے جاتے جاتے معاویہ کو سلگایا

"باہر کا راستہ اس طرف ہے"
معاویہ نے انگلی کے اشارے سے ہادی کو بتایا۔۔۔ حیا ان دونوں کے فیس ایکسپریشن دیکھ رہی تھی معاویہ جوکہ غصہ کنٹرول کررہا تھا اور ہادی کے چہرے پر پراسرار مسکراہٹ تھی جسے حیا سمجھنے سے قاصر تھی

"وہ چلا گیا ہے اپنا ہاتھ ہٹاؤ"
حیا نے اپنے کندھے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے معاویہ کو کہا

"تو کیا ہوا بےبی دنیا تو ہماری طرف ہی دیکھ رہی ہے نا۔۔۔ آج ہمارا ولیمہ ہے تو سب کے سامنے لونگ اور ہیپی کپل کی ایکٹینگ تو کرنی ہے نا"
وہ محبت بھری نظروں سے حیا کا چہرہ دیکھ کر،، اس سے کہ رہا تھا حیا نے ایک نظر اسٹیج کے نیچے کھڑے زین اور حور کو دیکھا جو اپنی کسی بات پر مسکراتے ہوئے معاویہ اور حیا کو ہی دیکھ رہے تھے

"اتنی اسمائل ٹھیک ہے"
حیا نے بہت پیار سے مسکرا کر معاویہ کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا

"تھوڑی کم کرو یہ تو میری جان لے لے گی"
معاویہ پیار لوٹانے والی نظروں سے اس کو دیکھ کر کہنے لگا

"چھچھوری نظروں سے مجھے دیکھنا بند کرو اور مجھ سے آب اور ایکٹنگ نہیں ہورہی"
حیا نے زبردستی مسکراتے ہوئے کہا

"کیا ہوا تھکی تھکی لگ رہی ہو"
حیا کے چہرے پر تھکن کے اثرات دیکھ کر اب وہ سچ میں فکرمندی سے بولا

"اس ہیوی ڈریس اور ہیوی میک اپ میں میں فل بیزار ہو رہی ہوں"
حیا نے چڑتے ہوئے کہا

"اوکے میں ڈرائیور سے کہتا ہوں تمہیں اور صنم کو گھر چھوڑ آئے گا"
معاویہ نے گھڑی میں ٹائم دیکھتے ہوئے کہا

تقریب ویسے بھی ختم ہو گئی تھی وہ اس کانرمی سے ہاتھ تھام کر اسٹیج سے اترنے میں اسے مدد دینے لگا

جاری ہے

itni mohbbat karo na (season 2) episode 30

itni mohbbat karo na 2
By zeenia sharjeel
Epi # 30


معاویہ نے اپنے پیٹ کی طرف دیکھا اور بے ساختہ اسکی نظر حیا کے چہرے پر گئی وہ اب بھی سنجیدہ نظروں سے اسے ہی دیکھ رہی تھی معاویہ نے اپنے دونوں ہاتھ حیا کی کمر سے ہٹائے حیا نے دوسرا ہاتھ معاویہ کے سینے پر رکھ کر اسے دھکا دیا تو وہ چار قدم پیچھے ہوا

"یہ کیا فضول حرکت ہے بےبی،، اسی جہیز میں لانے کی کیا ضرورت تھی پسٹل نیچے کرو شاباش"
معاویہ نے ایک قدم اس کی طرف بڑھایا

"اپنے قدم آگے مت بڑھانا معاویہ تم نے مجھے toy سمجھا، اس کو مت سمجھنا یہ پسٹل لوڈڈ ہے اور اس کا استعمال میں اچھے سے جانتی ہوں"
حیا کر بولنے پر معاویہ نے اپنے بڑھتے قدم روکے اور داد دینے والے انداز میں تالی بجائی

"تمہیں کیا لگتا ہے میں تم سے خفا ہوں میں تم سے خفا نہیں ہوں معاویہ۔۔۔۔ میں تم سے نفرت کرتی ہوں سنا تم نے،، تمہیں لگتا ہے تم اس طرح زبردستی دھونس سے روعب جما کر مردانگی کے نام پر اپنی پاور دکھا کر مجھے حاصل کر لو گے۔۔۔ تم مجھے بلیک میل کر کے شادی کرسکتے ہوں مگر میں تمہیں اپنی ذات پر فتح کا جشن منانے کی ہرگز اجازت نہیں دوں گی سنا تم نے اور تم مداوا کرنے کی کیا بات کررہے تھے۔۔۔ تم مرکر دوبارہ زندہ ہوجاو تب بھی مداوا نہیں کر سکتے"
حیا نے غرا کر کہا

"ہوگئی تمھاری تقریر ختم لاو شاباش پسٹل مجھے دو،،، جانم تم مجھے اس پسٹل سے ڈرا رہی ہو اس پسٹل کا اور میرا دن رات کا ساتھ رہتا ہے"
معاویہ نے مسکراتے ہوئے مزید دو قدم اور آگے بڑھائے مگر اگلے ہی پل حیا نے پسٹل اپنی کنپٹی پر رکھی اور معاویہ کی مسکراہٹ اور قدم وہی تھم گئے

"یہ کیا پاگل پن ہے حیا پسٹل ہٹاؤ فورا"
معاویہ نے سنجیدگی سے کہا

"تمہیں کیا لگ رہا ہے اس پسٹل سے میں تمہیں مار کر اپنے ہاتھ خراب کروں گی۔۔۔۔ اگر تم نے میری طرف ایک قدم مزید آگے بڑھایا یا مجھے چھونے کی کوشش کی تو میں اپنے آپ کو شوٹ کر لو گی"
حیا نے معاویہ کو دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے کہا

"اوکے نہ میں تمہارے پاس آ رہا ہوں نہ تمہیں کچھ کہہ رہا ہوں مگر یہ پسٹل اپنے اوپر سے ہٹاو پلیز"
معاویہ کی نظر پسٹل کے ٹریگر پر تھی جس پر حیا نے انگلی رکھی ہوئی تھی وہ اس کی جان کے لئے کوئی بھی رسک نہیں لینا چاہتا تھا

"یہ دن میرے لئے سیاہ دن ہے اور میں اسے تمہاری شکل دیکھ کر مزید سیاہ نہیں بنانا چاہتی تم ابھی کے ابھی باہر نکلو اس روم سے"
حیا نے غصے میں معاویہ کو دیکھتے ہوئے کہا

"حیا باہر سارے گیسٹ ہیں،،، پلیز ٹرائے ٹو انڈر اسٹینڈ ائی سویر میں تمہیں کچھ نہیں کہہ رہا"
وہ اس کی ضدی فطرت کو بھی اچھی طرح جان گیا تھا اس لئے منت کرنے لگا۔۔۔ جو اس نے اج تک کسی کی بھی نہیں کی تھی

"تم یہ بتاؤ تم روم سے باہر جا رہے ہو یا نہیں"
حیا نے معاویہ کو دیکھتے ہوئے پوچھا

"اوکے میں جا رہا ہوں تم ریلیکس ہو جاؤ پلیز"
معاویہ نے ہار مان کر اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر کہا کیونکہ پسٹل لوڈڈ تھی جو ابھی تک حیا نے اپنی کنپٹی پر رکھی ہوئی تھی مگر غصہ اس کو شدید آیا تھا حیا پر۔۔۔۔ کوئی اور وقت ہوتا تو اس کا جواب وہ اچھے سے دیتا مگر ابھی اسے روم سے باہر نکلنا پڑا

معاویہ کے روم سے نکلنے کے بعد ہی حیا نے پسٹل اپنے کلج میں رکھی اور بیڈ سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی سارا دن دماغی تھکن کے باعث ہو تھوڑی دیر میں ہی بیٹھے بیٹھے سوگئی معاویہ جوکہ ناعیمہ کو ایمرجنسی کا بول کر باہر نکل گیا تھا،، دو گھنٹے بعد واپس آیا روم کا دروازہ آہستہ سے کھولا تو اس دشمن جان کو بیڈ پر بیٹھے بیٹھے سوتے پایا لمبا سانس خارج کرکے اندر آیا آہستہ آواز میں روم کا دروازہ بند کرکے اس کے قریب آیا۔۔۔۔ ایک گھوری سوتے ہوئے وجود پر ڈال کر بغیر آواز نکالے وارڈروب سے اپنے کپڑے لے کر ڈریسنگ روم کی طرف چلا گیا ڈریس چینج کر کے آیا، تو وہ ابھی بھی اسی پوزیشن میں بیٹھے بیٹھے سو رہی تھی بہت آہستہ سے اس کو سیدھا کرکے لیٹایا کمفرٹر کھل کر اس کو اڑایا۔ ۔۔ عادت کے مطابق اپنی شرٹ اتاری اور خود بھی لیٹ گیا،،، اس کا چہرہ دیکھنے لگا پہلے دل میں آیا ماتھے پر سجی ہوئی بندھیا اتار دے جو حیا سے زیادہ اس کو ڈسٹرب کر رہی تھی لیکن اگر اس شیرنی کی آنکھ کھل گئی تو۔۔۔۔۔ یہ سوچ آتے ہی اپنا ارادہ ترک کیا اور خود بھی سو گیا

**

جب سے ہادی نے اس کو ٹائم نہ دینے کا شکوہ کیا تھا تب سے وہ خیال رکھتی تھی اس کی کال ضرور رسیوو کرے مہندی اور برات والے دن بھی صنم کال کرتی رہی مگر ہادی نے کال ریسیو نہیں کی۔۔۔۔ اس ٹائم بھی وہ ہادی کو کال ملا رہی تھی اور فکرمندی سے سوچ رہی تھی

"پتہ نہیں ہادی کیوں نہیں اٹھا رہے میری کال"
اتنے میں کال ریسیو کر لی گئی تو صنم نے اطمینان کا سانس لیا

"شکر ہے ہادی آپ نے میری کال تو ریسیو کی،، اب تو یقین جانیے مجھے فکر ہونے لگی تھی" جیسے ہی ہادی نے کال ریسیو کری فورا صنم نے بولا

"او تو یہ کال تم نے شکوہ کرنے کے لئے کی ہے"
ہادی نے اس کے جواب میں چھوٹتے ہی بولا

"ارے نہیں شکوہ کیوں کروں گی آپ سے،،، مجھے تو فکر ہو رہی تھی سچی، اچھا بتائیں کیسے ہیں آپ"
صنم نے ہادی سے پوچھا

"میں جیسا بھی ہوں تمہیں اس سے کیا فرق پڑتا ہے تم خوش رہو انجوائے کرو اپنے بھائی کی شادی کے فنکشنز"
ہادی نے طنز کرتے ہوئے کہا

"آپ کیسی بات کررہے ہیں ہادی میں تو تین دن سے مسلسل کال کر رہی ہوں آپ ہی میری کال رسیوو نہیں کر رہے تھے۔۔۔ تین دن سے آپ کی آواز نہیں سنی تو شادی کے فنکشنز کیا خاک ہی انجوائے کرتی"
صنم نے ہادی کے طنز کو اگنور کر کے بولا

"تو تم نے اپنے بھائی کی شادی انجوائے نہیں کی اب اس کا گناہ بھی میرے سر آگیا ٹھیک ہے"
ہادی نے بولا

میرا وہ مطلب نہیں تھا ہادی۔۔۔ آپ کو کیا ہوگیا،، کیا کوئی بات بری لگی ہے میری"
صنم کو فیل ہوا جیسے وہ اس سے ناراض ہے

"تمہاری کوئی بھی بات بری نہیں لگی گی مجھے، اب فون رکھو سونا ہے مجھے"
ہادی نے فون رکھنا چاہا

"آپ مجھ سے ناراض ہوکر سوئیں گے ہادی۔۔۔ اوکے میں سوری کرتی ہوں اگر آپ میری وجہ سے ہارٹ ہوئے ہیں تو"
صنم نے اپنی غلطی معلوم نہ ہونے پر بھی سوری کی کیونکہ وہ ہادی کو ناراض بالکل نہیں دیکھ سکتی تھی

"تمہاری کوئی غلطی نہیں ہے صنم انسان کو کسی دوسرے سے توقعات ہی وابستہ نہیں کرنی چاہیے خیر ہے تم اپنے مہمانوں کو ٹائم نئ بھابھی کو ٹائم دو"
ہادی کی بات پر صنم اپنا سا منہ لے کر رہ گئی

"ہادی میں تو آپ کو تین دن سے کال کر رہی تھی آپ ہی میری کال کا جواب نہیں دے رہے تھے نہ ہی میرے میسجز کا  رپلائی کیا اپ نے۔۔۔ اب بھی میں نے کال کی تو آپ ایسی بات کر رہے ہیں"
صنم نے اپنی صفائی دیتے ہوئے کہا

"شٹ اپ اپنی زبان سنبھال کر بات کرو،، مجھے زہر لگتے ہیں وہ لوگ جو غلطیاں کرنے کے بعد اپنی صفائیاں دیتے ہیں"
ہادی نے تیز لہجے میں کہا

"اوکے میں اپنی غلطی پر آپ سے ایکسکیوز کرتی ہوں آپ اپنا موڈ ٹھیک کریں"
صنم نے اس سے دوبارہ معافی مانگی تاکہ ہادی کا موڈ ٹھیک ہوجائے

"آوکے ٹھیک ہے اب تم بھی کال رکھو اور ریسٹ کرو"
ہادی نے گویا اس پر احسان کیا

"ہادی آئی لو یو"
صنم نے بولا

"ہہمم گڈ نائٹ"
ہادی نے جواب دیا اور کال  ڈسکنیکٹ کی
صنم کو اطمینان ہوا کہ چلو ہادی کی ناراضگی ختم ہوئی

**

اس کی جیسی ہی آنکھ کھلی تو ایک پل انجام کمرے میں اپنے آپ کو پاکر اسے سمجھ میں نہیں آیا وہ کہاں پر ہے۔۔۔۔ پھر دماغ پر زور ڈالنے سے اسے سب یاد آیا۔۔۔ سر جھٹک کر اسکی جیسے ہی نگاہ اپنے برابر میں پڑی تو حیرت سے اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی حلق پھاڑ کر اس کی چیخ نکلی مگر آدھی چیخ پر ہی معاویہ نے اس کے نازک ہونٹوں پر اپنا ہاتھ رکھ دیا جس سے اس کی چیخ حلق میں ہی دم توڑ گئی

"اس طرح چیخ کر میرے گھر والوں پر کیا ثابت کرنا چاہ رہی ہو۔۔۔ کون سے ظلم کے پہاڑ توڑ رہا ہوں میں تم پرصبح ہی صبح۔۔۔ جب کہ کل رات کو میرے ساتھ ہونے والا ظلم مجھے ابھی تک بھولا نہیں"
وہ ادھا حیا کے اوپر جھکا ہوا کل رات کا اس سے شکوہ کر رہا تھا۔۔۔ حیا ابھی بھی پھٹی پھٹی آنکھوں سے اس کو گھور رہی تھی معاویہ نے آہستہ سے اپنے ہاتھ اس کے ہونٹوں سے ہٹائے پھر اس کا حیرت زدہ چہرہ دیکھ کر ہلکی سی اسمائل دی

"گڈ مارننگ بےبی" معاویہ بولتا ہوا اپنے ہونٹ حیا کے ہونٹوں کے قریب لایا،، تبھی حیا نے پوری طاقت سے زوردار چٹکی اس کے بازو میں بھری" وہ ایک دم پیچھے ہوا

"پیچھے ہٹو بےہودہ انسان آئے بڑے گڈ مارننگ"
حیا اٹھ کر بیٹھی،، اب وہ بیٹھا ہوا حیا کو گھور رہا تھا حیا نے اس کو دیکھا اور فورا ہاتھ اپنی آنکھوں پر رکھ لیا

"چھی شرٹ پہنو اپنی، بے شرم کہیں کے"
حیا کے اس طرح ایکٹ پر معاویہ کو ہنسی آئی وہ بیڈ پر پڑی ہوئی شرٹ پہننے لگا حیا نے ہلکا سا ہاتھ نیچے کر کے معاویہ کو دیکھا تو وہ اس کی طرف ہی مسکراتا ہوا دیکھ کر اپنی شرٹ کے بٹن بند کر رہا تھا

"تم یہاں بیڈروم میں کیا کر رہے ہو" اب حیا نے آنکھوں سے ہاتھ ہٹاتے ہوئے کہا

"ٹی ٹوئینٹی کھیل رہا تھا"
نارمل انداز میں جواب دیتا ہوا وہ واش روم چلا گیا

حیا وارڈروب سے اپنا ڈریس نکالنے لگی ڈریس لے کر وہ واش روم کی طرف گئی

"نکلو بھئی کیا واش روم میں سو گئے ہو تم۔۔۔ دو ٹکے کے پولیس والے باتھ لینا ہے مجھے جلدی نکلو"
حیا نے واش روم کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہوئے کہا

تھوڑی دیر میں وہ ٹریک سوٹ پہن کر باہر نکلا  اور سنجیدگی سے حیا کو دیکھنے لگا اس کے اس طرح دیکھنے پر حیا نے اپنا ڈریس اپنے شولڈر پر رکھا اور دونوں ہاتھ اپنی کمر پر رکھ کر ابرو اچکا کر اس سے پوچھا

"کیا ہے"
حیا کے پوچھنے پر وہ ایکدم قریب آیا حیا کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام کر اس کے گلابی ہونٹوں پر اپنے پیار کی مہر لگا کر الگ ہوا

"گڈ مارننگ"
کہہ کر روم سے باہر نکل گیا حیا منہ اور آنکھیں کھول کر اسے جاتا ہوا دیکھنے لگی

"یعنی میں اسے صحیح دو ٹکے کا پولیس والا کہتی ہوں"

جاری ہے
[10:01 PM, 5/2/2019] Nida baji: 🌹: itni mohbat karo na 2
By zeenia sharjeel
Epi # ³¹


ولیمے کی تقریب اپنے عروج پر تھی فوٹو شوٹ کے لیے کیمرہ مین معاویہ اور حیا کے ساتھ ڈریسنگ روم میں موجود تھا جو کہ فل رومینٹک پوز بنواکر ان دونوں کی تصویریں لے رہا تھا،، جس پر معاویہ تو فل انجوائے کر رہا تھا اور کیمرہ مین کی ہر بات جتنی تابعداری سے مان رہا تھا اتنی تعبیداری سے زندگی میں شاید ہی پہلے کسی اور کی بات مانی ہو،،، اس کے برعکس حیا صرف گھور کر کھا جانے والی نظروں سے معاویہ کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔ وہ فوٹو شوٹ کے لیے تیار بھی نہیں تھی مگر حور نے منتیں کر کے اسے منایا تھا تاکہ تانیہ اور اشعر کو تصویریں بھیجوا سکے

"سر پلیز تھوڑا سا میڈم کے قریب ہوکر  اپنے ہیڈ کو ہلکا سا ڈاؤن کریں"
کیمرے مین نے معاویہ سے کہا

"اتنا صحیح ہے" معاویہ نے تقریبا ہی فاصلہ کم کرتے ہوئے کہا جس پر حیا صرف دانت پیس کر رہ گئی

"نہیں سر تھوڑا سا دور ہوجائے"
کیمرہ مین گڑبڑا کر بولا

"میم اب ذرا پیار سے سوری میرا مطلب ہے مسکرا کر سر کو دیکھیں"
کیمرہ مین کب سے حیا کو بولنا چاہ رہا تھا مگر اس کے تیوری پر بل دیکھ کر بول نہیں پا رہا تھا

"شٹ اپ ایک دو پوز بنواؤں اور اپنا کام ختم کرو جلدی سے"
حیا نے کیمرے مین کو گھور کر کہا

"مائنڈ نہیں کرنا یار میم نے صبح صبح ہری مرچیں چبالی تھی جس کا ذائقہ ابھی تک انہیں محسوس ہو رہا ہے" معاویہ نے کیمرہ مین سے معذرت کرتے ہوئے حیا کو دیکھ کر کہا

"اٹس او کے سر۔۔ 
سر اب آپ بیک پر جائیں اور میم آپ اسٹریٹ کھڑی رہیں  صرف گردن موڑ کر سر کو دیکھیں سر آپ اپنا ہاتھ میم کے شولڈر پر رکھیں اور نظریں تھوڑی سا جھکائے معاویہ نے حیا کے ہونٹوں کو دیکھا

"روم میں بھی مجھے کچا چبا جانے والی نظروں سے دیکھتی ہوں یہاں تو پیار سے دیکھ لو"
ہلکی سی سرگوشی حیا کے کان میں کی

"اوکے سر اب آپ میم کے سامنے آکر میم کو کمر سے ہولڈ کریں"
کیمرہ مین کے بولتے ہی حیا نے گھور کر کیمرے مین کو دیکھا

"اوکے سر رہنے دیں" کیمرہ مین حیا کی نظروں سے ڈر کر بولا

"نہیں یار آپ جاری رکھو یہ بہت اچھا پوز ہے"
معاویہ نے سنجیدہ انداز میں کہہ کر حیا کی کمر کو اپنے دونوں ہاتھوں سے تھاما،، حیا آنکھوں میں غصہ لیے ہوئے اسی کو دیکھ رہی تھی اور وہ اس کی حالت سے خط اٹھا کر معاویہ نے ہلکا سا اس کی کمر پر ہاتھ سے دباؤ ڈالا مگر چہرے پر ہنوز سنجیدگی کے اثار رکھے ہوئے حیا کو دیکھ رہا تھا

"بالکل شولا شبنم کی جوڑی لگ رہی ہے ہماری جوڑی"
معاویہ نے دوبارہ سرگوشی کی 

کیمرہ مین مختلف اینگل سے تصویریں کھینچنے میں لگا ہوا تھا

"اوکے سر، اوکے میم تھینکیو۔۔۔"
اپنا کام ختم کرتے ہوئے کیمرہ مین بولا اور روم سے باہر چلا گیا

"کیا فضول کی ہانک رہے تھے تم اس کے سامنے۔۔۔ اور بالکل اپنے جیسا ہی کوئی چھچورا ٹائپ کیمرہ مین ہائر کیا ہے تم نے"
حیا نے کیمرہ مین کے نکلتے ہی معاویہ کو گھورتے ہوئے کہا

"کیو بےبی انجوائے نہیں کیا مجھے تو بہت مزا آیا۔۔۔۔ میں تو سوچ رہا ہوں اس سے معلوم کرو کہ اگر ڈیلی کے پندرہ بیس روز اس طرح کت پوز بنوائے جائیں تو کیا چارجز ہوگے"
لائٹ پنک اور پرپل کلر کے کمبینیشن کی میکسی میں وہ بالکل گڑیا لگ رہی تھی معاویہ نے اس کے روپ کو اپنی آنکھوں میں اتارتے ہوئے کہا

"تم اپنی ان معصوم حسرتوں پر ایسے ہی آنسو بھاؤ۔۔۔۔ باہر جانا ہے مجھے فرینڈز ویٹ کررہی ہیں میرا"
حیا نے اسے تپاتے ہوئے کہا اور صوفے سے اٹھنے لگی مگر لونگ میکسی ہونے کی وجہ سے میکسی ہیل کے نیچے آئی اور اس سے پہلے وہ صوفے پر دوبارہ گرتی معاویہ نے اسے کمر سے اسے تھام لیا

"معاویہ مراد آنسو نہیں بہاتا بلکہ پنگا لینے والوں کی آنکھوں میں انسوں کا سبب ضرور بنتا ہے۔۔۔۔ صرف تمہیں وقت دے رہا ہوں اپنے مائنڈ کو میک اپ کرو اور اپنے اس بھیجے میں یہ بات بٹھاو کہ اب تمہیں میرے ساتھ رہنا ہے، میرے گھر میں، میری بیوی بن کر۔۔۔ ورنہ تمہارا نخرہ صبح دو منٹ میں نکال سکتا تھا اور نکال سکتا ہوں۔۔۔ آؤ تمھیں باہر لے چلو"
معاویہ نے حیا کی کمر سے اپنے ہاتھ ہٹا کر اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے کہا اور اسے باہر لے جاکر اسٹیج پر صوفے پر بیٹھنے میں مدد اور خود اسٹیج سے نیچے اتر گیا

سوہنی فری زرش تینوں اسٹیج پر آئی اور حیا سے ملی

"ہائے قسم سے بہت پیارے لگ رہے ہو تم دونوں تو ایک ساتھ آتے ہوئے"
فری نہ حیا سے تعریف کرتے ہوئے کہا حیا زبردستی کا مسکرا دی

"حیا ارسل بھائی کی شادی میں تم کہہ رہی تھی پولیس والے تو رومانس کے معاملے میں بالکل ٹھس ہوتے ہیں تو پھر کیسا ایکسپیرینس رہا تمھارا"
سوہنی نے دانت باہر نکالتے ہوئے پوچھا

"سوہنی تم چاہ رہی ہوں کہ میں اپنی اس سینڈل سے تمہارا میک اپ کرکے مزید منہ لال کر دو"
حیا کے بولنے پر باقی دونوں نے بھی دانت نکالے

"ارے چھوڑو یہ تو پوری چھپی رستم ہے ویسے تو اسے پولیس والے پسند نہیں تھے اور اپنے لئے خود اس نے پولیس والا چنا۔۔۔ مجھے تو اسی دن دال میں کالا لگ رہا تھا جب یہ معاویہ بھائی کا ایڈریس معلوم کر رہی تھی"
زرش کے بولنے پر ماہی اور فری بھی اس کی طرف متوجہ ہوئی

"یہ کب کا سین ہے" دونوں نے حیرت سے اظہار کیا
اور زرش نے ان دونوں کو پوری روادات سنای


***

"لوگ اتنے حسین لگ رہے ہیں انہیں فرصت ہی نہیں ہے اپنے عریب قریب بھی نظر اٹھا کر دیکھ لیں"
صنم جو کہ فریحہ کو دیکھنے کے لئے بینکویٹ سے نکل رہی تھی اچانک اسے ہادی کی آواز اپنے پیچھے سے سنائی دی

"ہادی آپ"
صنم نے آنکھوں میں ڈھیر ساری حیرت لیتے ہوئے کہا،، وہ مسکرا کر اسی کو دیکھ رہا تھا

"کیا ہوا میرا آنا کیسا لگ رہا ہے اچھا یا برا"
ہادی نے ادکی حیرت زدہ آنکھوں میں جھانک کر کہا

"بالکل ایک خواب سا"
ہادی کو اتنے دنوں بعد سامنے دیکھ کر وہ باقی دنیا کو بھول گئی

"یہاں اپنا ہاتھ دو تمہیں یقین دلاؤں کہ یہ خواب نہیں حقیقت ہے"
ہادی نے اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے کہا وہ ابھی بھی خواب کی سی کیفیت میں ہادی کو دیکھ رہی تھی

"آؤچ"
ہادی نے اس کے ہاتھ پر چٹکی کاٹی تو ہوش کی دنیا میں آئی

"یہ کیا تھا"
صنم نے ابھی بھی انکھوں میں حیرت سمائے ہوئے بولا

"یقین دلارہا تھا تمہیں کہ یہ خواب نہیں ہے"
ہادی نے مسکرا کر کہا تو وہ بھی روشن آنکھیں لیے مسکرادی

"آپ مجھ سے ناراض تو نہیں ہیں" 
صنم نے ہادی کو دیکھتے ہوئے کہا

"میرے چہرے سے یا میری آنکھوں سے تمہیں ناراضگی چھلکتی ہوئی نظر آ رہی ہے"
ہادی نے بغور اس کا چہرہ دیکھتے ہوئے صنم سے پوچھا صنم نے نفی میں گردن ہلائی

"تو پھر کیا نظر آ رہا ہے"
ہادی اب بھی غور سے صنم کو دیکھ کر پوچھ رہا تھا اس کے سوال پر وہ بلش کرنے لگی

"صنم یہاں کیا کر رہی ہو"
اچانک معاویہ کی آواز پر ان دونوں نے چونک کر معاویہ کو دیکھا جو کہ اپنے ماتھے پر لاتعداد شکنیں سجائے ہوئے ہادی کو غصے سے دیکھ رہا تھا مگر مخاطب صنم سے تھا

"ارے بھائی یہ دیکھئے ہادی میں نے آپ سے اس دن ملوایا تھا"
صنم نے معاویہ کے تاثرات پر غور سے کرے بناء ہادی کی ملاقات کا دوبارہ سے یاد کرواتے ہوئے بتایا

"میں نے تم سے یہ نہیں پوچھا ہے کہ یہ کون ہے یا پھر اس کا تعارف کراو بلکہ یہ پوچھا ہے کہ تم یہاں کیا کر رہی ہو"
معاویہ نے اب بھی غصے سے صنم کو دیکھتے ہوئے کہا جس پر صنم نے حیرت سے معاویہ کو دیکھا اسے معاویہ کا یوں بلاوجہ کا غصہ سمجھ میں نہیں آیا دوسری طرف ہادی کو معاویہ کا اس طرح غصے میں کھولنا اندر کہیں سکون دے رہا تھا

"تم صنم سے اس طرح بات نہیں کرسکتے، ایسا کچھ نہیں کر رہی تھی وہ یہاں پر جو تمہیں یوں غصہ آگیا"
ہادی نے مزید تیلی کا کام کیا

"تم اپنی زبان کو لگام دو،،، میں اپنی بہن سے بات کر رہا ہوں ہماری بیچ میں بولنے کی ضرورت نہیں ہے"
معاویہ نے اب اپنے غصے کو کنٹرول کرتے ہوئے ہادی کو دیکھ کر کہا ورنہ اس کا دل تو کر رہا تھا ہادی کو ایک اور تھپڑ لگائے مگر گیسٹ اور ایونٹ کو دیکھ کر وہ کنٹرول کر گیا

"صنم چلو یہاں سے ہو فریحہ کے پاس جا کر بیٹھو اور دوبارہ اپنی جگہ سے اٹھنے کی ضرورت نہیں ہے" معاویہ نے مڑ کر سرد تاثرات کے ساتھ صنم کو دیکھ کر کہا۔۔۔ جو آنکھوں میں نمی لائے ہوئے معاویہ کو دیکھ رہی تھی اور چپ کر کے وہاں سے چلی گئی

"میری بہن سے دور رہنا ہادی،، یہ میں تمہیں لاسٹ ٹائم منہ سے سمجھا رہا ہوں اگر اب تم مجھے صنم کے اردگرد گھومتے ہوئے نظر آئے تو تم سوچ بھی نہیں سکتے میں تمہارے ساتھ کیا کروں گا"
معاویہ کی آنکھیں غصے اور ضبط سے سرخ ہو گئی اور ہادی کو اس کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ کر بڑا مزہ آیا ہے

"ریلکس یار آج تمھارا ولیمہ ہے انجوائے کرو۔۔۔ تم تو ابھی سے رو رہے ہو"
اس سے پہلے معاویہ اس کا گریبان پکڑتا ہادی مسکراتا ہوا وہاں سے چلا گیا

اب وہ زین اور بلال سے مل رہا تھا،، زین خضر سے ہادی کا تعارف کروا رہا تھا۔۔ معاویہ کا موڈ اس کی شکل دیکھ کر اچھا خاصا خراب ہوچکا تھا وہ سر جھٹک کر اپنے کلیکس کے پاس آ گیا

**

"کونگریٹس مسسز معاویہ مراد"
ہادی نے اسٹیج پر آکر حیا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا

"تھینکس۔۔۔ تمہیں یہاں دیکھ کر خوشی ہوئی"
حیا نے ہادی کو دیکھ کر سنجیدگی سے کہا

"ہاں آنا تو تھا ہی آج وش کرنے کے لئے ایک مشورہ دوں اگر برا نہ مانو تو"
ہادی نہ حیا کو دیکھتے ہوئے کہا

"مشورہ اس قابل ہوا تو ضرور مانو گی" حیا نے مسکرا کر کہا

"تم ایک نئی زندگی کا آغاز کرنے جارہی ہوں جو کچھ بھی ہوا اس کو بھول جاؤں اور نئی زندگی کی شروعات کرو خوشی کے ساتھ"
ہادی نے حیا کو مخلصانہ مشورہ دیا

"مشورے کا شکریہ" حیا نے بغیر مسکرائے ہادی سے کہا

"تم ابھی تک گئے نہیں ہادی اپنے گھر،، کافی گیسٹ جاچکے ہیں تمہیں بھی اب نکلنا چاہیے"
معاویہ نے اسٹیج پر آتے ہوئے ہادی کہا اور حیا کے کندھے کے گرد اپنا ہاتھ رکھ کر کھڑا ہو کر اس کے جواب کا انتظار کرنے لگا

"بس جانے ہی والا تھا ویسے بھی جس کام کے لئے آیا تھا وہ ہوگیا"
ہادی نے جاتے جاتے معاویہ کو سلگایا

"باہر کا راستہ اس طرف ہے"
معاویہ نے انگلی کے اشارے سے ہادی کو بتایا۔۔۔ حیا ان دونوں کے فیس ایکسپریشن دیکھ رہی تھی معاویہ جوکہ غصہ کنٹرول کررہا تھا اور ہادی کے چہرے پر پراسرار مسکراہٹ تھی جسے حیا سمجھنے سے قاصر تھی

"وہ چلا گیا ہے اپنا ہاتھ ہٹاؤ"
حیا نے اپنے کندھے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے معاویہ کو کہا

"تو کیا ہوا بےبی دنیا تو ہماری طرف ہی دیکھ رہی ہے نا۔۔۔ آج ہمارا ولیمہ ہے تو سب کے سامنے لونگ اور ہیپی کپل کی ایکٹینگ تو کرنی ہے نا"
وہ محبت بھری نظروں سے حیا کا چہرہ دیکھ کر،، اس سے کہ رہا تھا حیا نے ایک نظر اسٹیج کے نیچے کھڑے زین اور حور کو دیکھا جو اپنی کسی بات پر مسکراتے ہوئے معاویہ اور حیا کو ہی دیکھ رہے تھے

"اتنی اسمائل ٹھیک ہے"
حیا نے بہت پیار سے مسکرا کر معاویہ کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا

"تھوڑی کم کرو یہ تو میری جان لے لے گی"
معاویہ پیار لوٹانے والی نظروں سے اس کو دیکھ کر کہنے لگا

"چھچھوری نظروں سے مجھے دیکھنا بند کرو اور مجھ سے آب اور ایکٹنگ نہیں ہورہی"
حیا نے زبردستی مسکراتے ہوئے کہا

"کیا ہوا تھکی تھکی لگ رہی ہو"
حیا کے چہرے پر تھکن کے اثرات دیکھ کر اب وہ سچ میں فکرمندی سے بولا

"اس ہیوی ڈریس اور ہیوی میک اپ میں میں فل بیزار ہو رہی ہوں"
حیا نے چڑتے ہوئے کہا

"اوکے میں ڈرائیور سے کہتا ہوں تمہیں اور صنم کو گھر چھوڑ آئے گا"
معاویہ نے گھڑی میں ٹائم دیکھتے ہوئے کہا

تقریب ویسے بھی ختم ہو گئی تھی وہ اس کانرمی سے ہاتھ تھام کر اسٹیج سے اترنے میں اسے مدد دینے لگا

جاری ہے

itni mohbbat karo na (season 2) episode 29

itni mohbat karo na
By zeenia sharjeel
Epi # 29


"کیا ہوا ابھی تک ہو"
برات کے فنکشن سے واپس آنے کے بعد زین نے حور کے پاس بیٹھتے ہوئے کہا جو کہ خاموشی سے صوفے پر بیٹھی ہوئی تھی

"اداس نہیں ہوں تو پھر اور کیا ہووں،، ایک ہی بیٹی تھی وہ بھی آج دور چلی گئی"
حور نے افسردہ لہجے میں کہا

"اسے تو ایک نہ ایک دن جانا تھا،، بیٹیاں جب گھر میں پیدا ہوتی ہے تو ماں باپ کو تب ہی سوچ لینا چاہیے کہ ان کلیوں کو کسی اور کا گھر مہکانا ہے"
زین نے حور کا ہاتھ تھامتے ہوئے کہا

"شاہ ہم نے بہت جلدی حیا کی شادی کردی"
حور نے اپنا سر زین کے کندھے پر رکھتے ہوئے کہا شاید وہ بہت زیادہ حیا کی کمی کو محسوس کر رہی تھی

"اگر دیر سے کرتے تو تب بھی وہ ہمہیں چھوڑ کر جاتی اور ہم تب بھی یوں ہی اداس بیٹھے ہوتے" زین نے پھیکی سی مسکراہٹ کے ساتھ حور کے گال تھپتھپاتے ہوئے کہا

"اور ویسے بھی تم ہر وقت تو اس کے پیچھے پڑی رہتی تھی اور اب جب وہ چلی گئی ہے تو اس طرح اداس ہو رہی ہو"
زین نے حور کو چھیڑتے ہوئے کہا

"پیچھے پڑی رہتی تھی اس کا یہ مطلب تھوڑی ہے کہ محبت نہیں کرتی تھی،،، جو بھی بولتی تھی اس کے بھلے کے لئے ہی بولتی تھی"
حور نے اپنا سر زین کے کندھے سے اٹھا کر اس کو دیکھتے ہوئے کہا

"ویسے میں ایک بات سوچ رہا ہوں سویٹ ہارٹ،،، ابھی تھوڑی دیر پہلے تم نے کہا ایک ہی بیٹی تھی آج وہ بھی چلے گی،، تو کیوں نہ ہم حیا کہ بہن بھائی لانے کا سوچیں"
زین نے آنکھوں میں شرارت سماتے ہوئے حور کو دیکھ کر کہا

"شاہ تم فضول انسان ہی رہنا اب ڈیسنٹ بن جاؤ تھوڑے سے"
حور نے اس کی بات پر اپنی ہنسی دباتے ہوئے کہا اور صوفے سے اٹھ گئی

اس طرح زین اپنی پری کی اداسی مٹانے میں کامیاب ہو گیا

**

"کیا ہوا تھک گئے" فضا نے بلال سے کہا جو کہ بیڈ کے کراون سے سر ٹکائے ہوئے کسی سوچ میں گم تھا

"نہیں تھکا تو نہیں مگر آج دل بہت اداس ہو رہا ہے یہ سوچ کر کہ کتنا اچھا ہوتا حیا ہمارے گھر میں آتی جب سے تم نے بتایا تھا ہادی حیا کو پسند کرتا ہے یقین جانو میں نے دل سے خواہش کی تھی کہ حیا کی ہادی سے شادی ہو جائے"
بلال نے فضا سے اپنا دل ہلکا کرتے ہوئے کہا

"سب قسمت کی بات ہوتی ہے بلال اس کا نصیب ہمارے ہادی کے ساتھ نہیں جڑا تھا اور ویسے بھی جوڑے آسمانوں پر بنتے ہیں"
فضا نے سنجیدگی سے بلال سے کہا

"ٹھیک کہ رہی ہو تم ہے،،،، کہاں پر ہادی"
بلال نے فضا سے پوچھا

"اپنے روم میں ہی ہے شام سے اپنے آپ کو بند کیا ہوا ہے اس نے بلال،،، اس کو اس طرح دیکھ کر مجھے دکھ ہوتا ہے،،، پلیز اس کے لئے کچھ سوچوں اس طرح وہ اندر ہی اندر گھل رہا ہے"
فضا نے آنکھوں سے نمی صاف کرتے ہوئے کہا

"کیا کرایا بھی اسی کا ہے خیر زین کو بتایا تھا میں نے کرتے ہیں کچھ۔۔۔ ظاہری بات ہے اولاد ہے اس کی خوشی کے مطابق ہی چلنا پڑے گا"
بلال کہتا ہوا بیڈ پر لیٹ گیا اور اپنے سائڈ کا لیمپ بند کردیا

***

"کیا نیند ہے آ رہی تھی آپ کو"
ناعیمہ نے ٹیرس میں کھڑے خضر سے پوچھا

"نہیں یہاں تو میں ویسے ہی کھڑا ہوں، آج نیند تو مجھے بہت سکون کی آئے گی"
خضر نے چاند کو دیکھتے ہوئے کہا

"تم معاویہ کی شادی سے خوش ہوں"
اب بھی دیکھ وہ چاند کو رہا تھا مگر سوال ناعیمہ سے کیا

"ظاہری بات ہے معاویہ میرا بیٹا ہے، اس کی خوشی میں کیوں نہیں خوش ہو گی۔۔۔۔ ویسے بھی صنم بالکل ٹھیک کہتی ہے آپ دونوں کی عادتیں ایک جیسی نہیں،، مگر چوائس بالکل ایک جیسی ہے"
ناعیمہ کے کہنے پر خضر نے چونک کر اس کو دیکھا

"ناعیمہ اگر تمہارا اشارہ حور کو لے کر ہے تو ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا۔۔۔ حور میرا ماضی تھا تم میرا مستقبل ہوں میری بیوی میرے بچوں کی ماں،،، اگر میں لفظوں سے یا اپنے رویے سے اگر بیان نہ کرو تو ایسا ہرگز نہیں ہے کے میں تمہاری ذات کو فراموش کیا ہوا ہے،،، تمہاری اہمیت اپنی جگہ ہے میری زندگی میں"
خضر نے ناعیمہ کو دیکھتے ہوئے کہا

"آپ نے کہا آپ کو آج سکون کی نیند آئے گی تو اتنے سالوں سے بے سکونی کی وجہ جان سکتی ہوں"
ناعیمہ نے تھوڑا ڈرتے اور جھجھکتے ہوئے خضر سے سوال کیا

"نعیمہ میں نے حور سے محبت کی تھی، مگر اس کا ساتھ میری قسمت میں نہیں لکھا تھا اور اس بات کو لے کر کہ وہ میری قسمت میں نہیں ہے میں نے سالوں اپنے اندر خود سے جنگ کی،،،، تم میری زندگی میں آئی معاویہ اور صنم آئے ۔۔۔۔ وہ جنگ جو میں خود سے لڑتا تھا خود ہی ختم کردی لیکن اس وقت تک میں نے تمہارے ساتھ ساتھ اپنے بچوں کو بھی اپنے آپ سے دور کردیا۔۔۔ مگر کہتے ہیں نہ وقت لوٹ کر واپس نہیں آتا بہت دیر لگی مجھے یہ سمجھنے میں کہ آپ دنیا میں سب سے جنگ کر سکتے ہیں مگر خدا سے نہیں۔۔۔۔ اس دن معاویہ نے کہا نیناں سے شادی کر کے وہ دوسرا خضر مراد نہیں بننا چاہتا وہ بات میرے دل کو لگی میں واقعی اسے دوسرا خضر مراد بنتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتا تھا بے شک میرے اور معاویہ کے مزاج نہیں ملتے عادتیں نہیں ملتی مگر ہے تو وہ میرا ہی خون، میرا بیٹا،، اس کی آنکھوں سے چھلکتی خوشی اور چہرے کی رونق دیکھ کر آج میں بہت خوش ہوں اور دوسری طرف زین اور حور نے بھی سب بھلا کر مجھے گلے لگایا یعنی مجھے معاف کیا۔۔۔ تو میں اپنے آپ کو بہت ہلکا پھلکا محسوس کر رہا ہوں"
خضر نے تفصیل سے ناعیمہ کو بتایا تو ناعیمہ مسکرا دی اور ٹیرس سے جانے لگی

"اور ایک بات اور ناعیمہ جو میں آج تک نہیں کہہ پایا"
خضر چلتا ہوا ناعیمہ کے پاس آیا اور اس کا ہاتھ تھام کر بولا

"میں جانتا ہوں میں کبھی کبھی تمہیں بہت ہرٹ کرتا ہوں کافی روڈ میں ہو جاتا ہوں یقینا تمہارا دل بھی دکھتا ہوگا مگر تم کبھی بھی آگے سے شکوہ نہیں کرتی مگر یہ سچ ہے کہ میں دل سے اس بات کو مانتا ہوں تم ایک اچھی ماں ہونے کے ساتھ ساتھ بہت اچھی بیوی ہو"
خضر کی بات مکمل ہونے پر ناعیمہ آنکھوں میں نمی لیے ہوئے مسکرا دی

***

بیڈ روم کا دروازہ بند کرکے وہ حیا کے پاس آیا حیا نے چاروں طرف اس کے روم کا جائزہ لیا کھلا کشادہ بیڈروم اس کا فرنیچر ترتیب سے سیٹ کر کے رکھا گیا تھا معاویہ کے منع کرنے کے باوجود زین نے حیا کو جہیز میں ہر چیز دی تھی۔۔۔ معاویہ بیڈ کے قریب آیا تو حیا بیڈ سے اٹھ کر کھڑی ہوئی اس سے پہلے وہ حیا کو مخاطب کرتا حیا نے اپنا رخ ڈریسر کی طرف کیا اور آئینے میں اپنا سراپا دیکھتے ہوئے آہستہ آہستہ انگلیوں سے اپنی رینگز اتارنے لگی معاویہ چلتا ہوا اس کے پاس آیا

"ابھی نہیں بےبی ابھی تو میں نے جی بھر کے تمہیں دیکھا تک نہیں"
معاویہ اس کے پیچھے کھڑے ہوکر آئینے میں سے اس کا چہرہ دیکھ کر مخاطب ہوا

"میں تھک گئی ہو ریلیکس ہونا چاہتی ہوں"
حیا نے چوڑیاں اتارتے ہوئے بغیر دیکھے معاویہ کو جواب دیا

"اوکے جیسے تم ایزی فیل کرو،، میں کچھ ہیلپ کرو"
یہ کہنے کے ساتھ ہی معاویہ نے اس کے مہارت سے سیٹ کیے ہوئے دوپٹے کی پنز کھولنی شروع کری۔۔۔ حیا نے ایک سنجیدہ نظر آئینے میں سے معاویہ پر ڈالی تو وہ آئینے میں حیا کے دیکھنے پر ہلکا سا مسکرایا حیا نے دوبارہ نگاہیں نیچے جھکا کر دوسرے ہاتھ کی چوڑیاں اتاری۔۔۔۔ دوپٹہ ایک طرف تہہ کر کے رکھ کر اب وہ حیا کے گلے کا نیکلس اتار رہا تھا حیا نے اپنے کانوں کو بھاری جھمکوں سے آزاد کیا جن کا بوجھ اٹھائے ہوئے اس کے کان کافی دکھ چکے تھے۔۔۔۔ معاویہ نے حیا کے شولڈر کو اپنے لبوں سے چھوا اور بازو سے پکڑ کر اس کا رخ اپنی طرف کیا

"اے خفا ہو ناں مجھ سے میں نے بہت ہرٹ کیا ہے تمہیں،، پر وہ سب کچھ تمہیں پانے کے لئے تھا، تمہیں خود علم نہیں تم نے پہلی نظر میں ہی پورا کا پورا معاویہ مراد تخسیر کر لیا تھا، اس لیے تمہیں اپنی زندگی میں شامل کرنا لازمی ہو گیا تھا۔۔۔۔ تمہیں اندازہ نہیں ہے کہ کتنی شدت سے میں نے اس گھڑی کی دعا کی ہے خدا سے کہ جب میں تمہیں پورے استحقاق سے اپنا کہہ سکوں،،، آج تم میری شدتیں دیکھ کر خود ہی اندازہ لگا سکوں گی کہ تمہیں پانے کی حاصل کرنے کی جستجو یوں ہی بے وجہ نہیں تھی۔۔۔ آج میں اپنی تشنگی دور کرنے کے ساتھ ساتھ تمہارے ساتھ کی جانے والی ہر زیادتی کا مداوا کر دوں گا"

معاویہ نے اپنا حال دل سناتے ہوئے حیا کے دونوں ہاتھ نرمی سے تھام کر اپنی شولڈر پر رکھے اور اپنے دونوں ہاتھ اسکی کمر کے گرد حائل کرتے ہوئے تھوڑا بہت رہا سہا فاصلہ بھی ختم کیا جیسے ہی وہ حیا کے ہونٹوں کی طرف جھکا حیا نے اپنے چہرے کا رخ دوسری سائیڈ پر کیا  معاویہ کی نگاہ اس کی گردن پر گئی معاویہ نے جھک کر اپنے ہونٹ حیا کی گردن پر رکھے اور اپنی محبت کی پہلی مہر پورے استحقاق سے ثبت کی۔۔۔۔ حیا نے اپنی آنکھوں سختی سے بند کی اور اپنے دونوں لب بیچے۔۔۔۔ معاویہ کے شولڈر سے اپنا ہاتھ ہٹایا تو معاویہ نے مزید اپنے بازوں کا گھیرا مضبوط کیا۔۔۔ ابھی وہ اس کی گردن پر جھکا ہوا تھا جب اس کو اپنے پیٹ پر کوئی چیز چبھتی ہوئی محسوس ہوئی معاویہ نے اپنے پیٹ کی طرف دیکھا اور  بے ساختہ اس کی نظریں حیا کے چہرے پر گئی۔۔۔ حیا سنجیدگی سے اسی کو دیکھ رہی تھی معاویہ نے اپنے ہاتھ حیا کی کمر سے ہٹائے


جاری ہے