#ایمن_نعمان 📝
ایک منٹ یہ رخصتی نہیں ہوگی ۔۔۔
عمر کیا بکواس کر رہے ہو ؟؟
جانتے بھی ہوا بھی تم نے کیا کہا ہے ؟؟
سمیرا عمر کو آتش فشاں کی طرح پھٹتا یکھ کر پریشانی میں مبتلا کر بولی تھی ۔۔۔۔
جی میں جانتا بھی ہوں اور جو کچھ بھی میں کہہ رہا ہوں بالکل اپنے حواسوں میں ہی رہ کر ہی کہہ رہا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔
عمر کے لہجے میں چٹانوں کی سی سختی نمایاں تھی وہ شفا کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں جھکڑتے ہوئے کہہ رہا تھا !!جس کو آئمہ اور سمیرا حمزہ کے کمرے میں رخصت کرنے جا رہی تھی ۔۔
جبکہ سوہا پہلے سے ہی حمزہ کے کمرے کے باہر کھڑی حمزہ اور شفا سے نیک وصول کرنے کے لئے جاپہنچی تھی ۔۔۔
شور شرابے کی آواز سن کر بھاگتی ہوئی واپس ہال کمرے میں آئی تھی ۔۔۔
عمر تم کون ہوتے یہ فیصلہ کرنے والے کہ شفا کی رخصتی ہونی ہے یا نہیں ہونی ہے ؟؟؟
اور یہ اتنی بڑی بات تم کہہ کس بنا پر رہے ہو کوئی وجہ بھی تو ہونا ہم سب کو قائل کرنے کی ۔۔تاکہ ہم بھی تمہاری بات مانے۔۔۔
رحمان صاحب بھی اب چیخے تھے عمر پہ ۔۔۔۔
ٹھیک ہے اگر وجہ میں آپ لوگوں کو بتا دوں تو پھر آپ لوگوں کی بھی یہی ڈیمانڈ ہو گی جو اس وقت میری ہے ۔۔۔۔
ایسا کیا تم جانتے ہو جس کی بنا پر تم اتنی بڑی بڑی باتیں کر رہے ہو ۔۔۔؟؟؟
سمیرا نے شفاءکو اپنی طرف کھینچنا چاہا تھا جس پہ عمر نے شفا پر اپنی گرفت مزید سخت کردی ۔۔
شفا آنسووں سے زاروقطار بھائی کے گریبان کو مضبوطی سے پکڑے رو رہی تھی ۔۔
جیسے کہہ رہی ہوں میرا بھائی تو ہی میری مدد کے لیے اللہ کی طرف سے بھیجا گیا ہے مجھے بچا لے ۔۔۔
عمر شفا کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اس کی ڈھال بن کے سب کے سامنے ڈٹ کے کھڑا ہوا تھا ۔۔۔
شفاء کو حمزہ نے بلیک میل کرکے اس شادی پر مجبور کیا ہے۔۔۔۔
اور وہ سب کچھ جو اسرات ہوا وہ بھی ہمزہ کی سوچی سمجھی سازش تھی۔۔۔
تم یہ سب کچھ کیسے جانتے ہو ؟؟
سمیرا کی آواز میں واضح لڑکھڑاہٹ تھی ۔۔۔
میں ابھی اچھی طرح سے شفا کے کمرے کے باہر شفاء سے کی گئی حمزہ کی گفتگو !!حرف بہ حرف سب سن کر آرہا ہوں ۔۔۔۔۔
یقین نہیں آتا تو ہمزہ سے آپ لوگ پوچھ سکتے ہیں ۔۔۔۔۔
کیا پوچھنا چاہتے ہو مجھ سے تم لوگ پوچھو ؟؟؟
حمزہ ابھی ابھی مصطفی کو مین گیٹ تک سی اوف کرکے اندر آیا تھا ۔۔۔
اور ہال کمرے کے داخلی دروازے کے بیچوں بیچ کھڑا دھاڑنے کے انگار انداز میں پوچھ رہا تھا ۔۔۔۔
حمزہ کا لہجہ کسی بھی قسم کے ڈر اور خوف سے عاری تھا وہ بڑے مزے سے اپنی انگلشت شہادت میں کی چین گھماتا آنکھوں میں برہمی لیے پوچھ رہا تھا ۔۔۔
عمر جو کہہ رہا ہے کیا وہ ٹھیک ہے تم نے شفا کو بلیک میل کیا ہے ؟؟؟
مجھ سے کسی انتقام کھولنے کے لئے ؟؟؟
ہاں بالکل !!!
میں نے شفا کو بلیک میل کیا ہے تبھی تو آپ کی لاڈلی چہیتی بگڑی ہوئی بیٹی راضی ہوئی ہے ۔۔۔
ویسے ماننا پڑے گا رحمان صاحب ۔۔۔!!
کیا خوب آپ نے اپنی بیٹی کو سر چڑھایا ہے مانگیا میں بھی آپ کی تربیت کو رحمان صاحب ۔۔۔۔
وہ زوردار تالی پیٹتے ہوئے طنز کے تیر چلا رہا تھا
دیدہ دلیری سے بولا ۔۔۔
چپ ہوجاؤ حمزہ میں تمہارے منہ پر تھپڑ مار دوں گی ۔۔۔میں تمہیں اپنا دودھ نہیں بخشوں گی اگر تم نے ایک لفظ بھی اور نکالا تھا ۔
ائمہ نے بیٹے کو باز رکھنا چاہا کسی بھی قسم کی بدتمیزی سے ۔۔۔
امی بہت خاموش رہے لیا 30 سال میری زندگی کو ہوگئے ہیں اس سے مزید زیادہ میں خاموش نہیں رہوں گا اب تو وقت آیا ہے بھئئ
سسر صاحب سے چھوٹے اور بڑے حساب کتاب لینے کا ۔۔۔
کون سے حساب کتاب کی بات کر رہے ہو تم ؟؟؟
میں نے ہمیشہ تمہیں اپنے سگے بیٹے سے زیادہ محبت دی ہے ۔۔
سونے کا نوالہ کھلا ہے تمہیں ۔۔۔۔۔
رحمان صاحب بھی اب شدید غصے میں آ کے چیخے تھے حمزہ پر ۔۔۔
اور آج تم کل کے لڑکے ۔۔۔!!
میرے سامنے اس طرح سینہ تان کر کھڑے ہوئے ہوں ۔۔۔
معلوم ہے مجھے یہ تم کس کی زبان بول رہے ہو ۔۔۔
رحمان صاحب نے ائمہ کی طرف کڑی نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا !!جب کہ ائمہ خاموشی سے آنسو بہانے میں مصروف تھی ۔۔۔
صحیح کہا آپ نے مجھے تو آپ نے اپنا واقعی بیٹا مانا بلکہ مجھے محبت بھی دی مگر کیا آپ نے کبھی میری ماں کو اپنی بیوی تسلیم کیا ہے ؟؟؟
بیوی تو چھوڑیئے آپ نے انسان تک نہیں تصور کیا میری ماں کو ۔۔۔
بابا یہ سب ایک سوچی سمجھی ۔۔۔۔
شفا آگے بڑھ کے کہنا چاہ رہی تھی جب عمر نے اس کو خاموش کرایا وہ خود بھی اب اس گتھی کو سلجھا نا چاہ رہا تھا جس کی بنا پر حمزہ اس قدر باغی ہو گیا تھا کہ اپنے سے جڑے رشتوں کو بھی نفرت اور انتقام کی بھٹی میں روکنے کے درپے تھا ۔۔۔۔
اس کے باپ کو برباد کرنے کی خاطر وہ کسی بھی حد تک جانے کی تیار ہو بیٹھا تھا ۔۔۔
سمیرا نے آئمہ کو سہارا دے کر بٹھایا تھا وہ خود بھی تمام تر حالات سے بہت اچھی طرح سے واقف تھی۔۔۔
ماضی جیسے ان دونوں کی آنکھوں میں ایک دفعہ پھر سے کسی فلم کی طرح گھوم گیا تھا ۔۔۔۔۔۔
بر خود دار یہ جو تم اپنی ماں کو بیچ میں لا رہے ہو نا؟؟
تو تم یہ بات نظر انداز کر رہے ہو کہ میں نے تمہاری ماں کو اس وقت سہارا دیا تھا جب تم چھوٹے سے تھے ۔۔
تمہاری ماں کو عزت بنا کے میں نے ۔۔۔۔
ہاں میری ماں کو عزت بنا کے آپ اس گھر میں لائے ضرور ۔۔
صرف اتنا ہی نہیں داد بھی خوب وصولی آپ نے لوگوں سے کہ کتنا اچھا لڑکا ہے دیکھو ایک بیوہ سے شادی کرلی ہے!! وہ بھی وہ جو ایک بچے کی ماں ہے ۔ ۔۔
کیا بات ہے آپکی رحمان صاحب۔۔۔۔۔۔
آپ تو بہت ہی نیک شریف دریا دل انسان ثابت ہوئے ہیں ماضی میں ۔۔۔۔۔
ویسے کیا خوب آپ نے میری ماں کو شادی کی پہلی رات منہ دیکھائی میں تحفہ پیش کیا تھا ۔۔۔۔۔
آپ بتاتے ہیں یہ کہ آپ نے کیا تحفہ دیا تھا یا میں بتلاؤ ؟؟؟
وہ آنکھوں میں غصے کی سرخی لیے شرارے برساتے لہجے میں بات کر رہا تھا ۔۔۔
میں کسی کو بھی کسی بھی قسم کی صفائی دینے کا پابند نہیں ہوں ۔۔
رحمان صاحب کا لہجہ کسی بھی قسم کی شرمندگی سے عاری تھا ۔ ۔۔
عمر تم جانتے ہو تمہارے باپ نے کتنا عظیم تحفہ میری ماں کو پیش کیا تھا ؟؟؟
وہ ابو عمر کی طرف گھوم کے اس سے مخاطب ہوا تھا ۔۔
میرا کمرہ برابر میں ضرور تھا مگر تمہارے باپ کی روزانہ رات میں گانے گنگنانے کی آواز مجھے بہت اچھی طرح تھی۔۔۔۔
وہ اب عمر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بول رہا تھا ۔۔
کتنا شدید قسم کا قرب اس کو حمزہ کی آنکھوں میں دیکھا تھا اس وقت ۔۔۔۔
چلو کوئی بات نہیں میں ہی بتا دیتا ہوں ۔۔۔
اور شادی کی پہلی رات ھی تمہارا یہ عظیم باپ میری دلہن بنی ماں کو پوری طرح سے مار پیٹ کر ایک طوائف کے ساتھ گزار کے آیا تھا اس کے کوٹھے پر ۔۔۔
اور آ کے میری ماں کو زمین پر پٹخ کے اس کے اوپر جوتوں کی بارش کی تھی ۔۔
میرے کانوں میں آج بھی وہ الفاظ گونجتا ہے جب آپ نے کہا تھا کہ تم اس قابل نہیں ہوں کے رحمان چغتائی تمہارے ساتھ کسی بھی قسم کا رابطہ یا تعلق قائم کرے ۔۔۔
اب تم خود ہی دیکھ لو کہ تم اور تمہاری اوقات کیا ہے ۔۔۔
میرے نزدیک تمہاری اوقات یہ ہے کہ تم طوائف سے بھی زیادہ میری نظروں میں نیچ عورت ہوں ۔۔۔
حمزہ اپنی بات مکمل کر کے چند ثانیوں کے لیے خاموش ہوا تھا ۔۔
وہاں موجود ہر ایک فرد شفاء سمیت سناٹوں کی زد میں تھا ۔۔
یاد آیا کچھ رحمان صاحب آپ کو ؟؟یامیں یاد دلاؤ ؟؟؟
میں بیشک چھوٹا تھا مگر ذہن میں بچپن میں جو چیز ایک دفعہ فیڈ ہو جاتی ہے نا ۔۔
وہ پھر کبھی بھی نہیں نکلتی اور برے واقعات تو خیر کچے ذہنوں پر بہت برا اثر چھوڑا کرتے ہیں ۔۔۔
سب کچھ بکواس ہے یہ۔۔۔
اس لیے میں نے تمہیں پال پوس کے بڑا کیا ؟؟؟تمہاری لیے قربانی دی ایک ایسی عورت سے شادی کی جو پہلے سے شادی شدہ تھی۔۔۔۔
اور تم ۔۔۔۔
تم ایسا صلہ دو گے یہ مجھے نہیں پتا تھا۔۔۔۔
صحیح کہا ہے کہ اولاد صرف اپنی ہی ہوتی ہے۔ ۔
آج مجھے پتہ چلا ہے کہ میں نے سنپولے کو دودھ پلایا ہے ۔۔۔
ارے تم تو قابل ہی نہیں تھے میرے بیجا پیار و محبت کے ۔۔۔
ہو تو آخر اس عورت کے بیٹے ہی نا ۔۔۔
میرے بھائی کا تم خون ضرور ہو مگر ۔۔۔۔
تمہاری ماں نے نس نس میں تمہارے اندر اپنا پرچھاواں بھر دیا ہے ۔۔۔۔
عمر لے کے جائو شفاء کو اس کے کمرے میں۔۔۔!!
رخصتی میں اب خود بھی ہونے نہیں دوں گا ۔۔
عمر شش و پنج کا شکار تھا جو حقیقت اس کے سامنے آچکی تھی اس کے بعد وہ فیصلہ نہیں کر پا رہا تھا کہ کیا سچ ہے اور کیا جھوٹ ہے ۔۔؟؟؟
اس کی گرفت اب شفا پہ ڈھیلی پڑ چکی تھی ۔
جبکہ لائبہ بھی ایک کونے میں کھڑی یہ سب کچھ سن اور دیکھ کر پریشان ہو چکی تھی ۔۔
شفا بھاگتے ہوئے اپنے کمرے میں جاکر بند ہو گئی اور دروازے کے پیچھے بیٹھ کے زمین پر زاروقطار رونے لگی ۔۔۔
ٹھیک ہے رحمان صاحب کوئی مسئلہ نہیں ہے بیوی تو میں آپ کی دختر نیک اختر کو بنا ہی چکا ہوں ۔۔
رخصتی میرے لئے کوئی اتنی بڑی بات نہیں ہے ۔۔۔
وہ بغیر کوئی تاثر دیے چہرے پر ایک شوخ سی سی ٹی پہ دن بجاتا ہوا ہال کمرے سے باہر چلا گیا ۔۔۔۔۔
🌹🌹🌹
فجر آنکھیں کھولو گھر آ گیا ہے ۔۔۔۔
ارمغان نے آہستہ سے فجر کو جگایا تھا نیند سے !!اس خیال کے تحت کے کہیں وہ ڈر ہی نہ جائے ۔۔
اوہ مجھے پتہ ہی نہیں چلا میری آنکھ کب لگی ۔۔۔۔
وہ اب کچھ شرمندہ سی ہو کر بولی تھی ۔۔۔
کوئی بات نہیں تم بہت تھکی ہوئی تھی شاید! ! اس لئے ہوسکتا ہے نیند غالب آ گئی ہو۔۔
وہ خاموش رہی تھی کیونکہ حقیقت بھی یہی تھی کہ آج وہ بہت تھک گئی تھی چل چل کے پہلے شفا کیلئے گفٹ لیا اور اس کے بعد پھر نکاح کا فنکشن ۔۔۔
ارمغان گاڑی سے اتر نے بعد گھوم کر فجر کی سائیڈ کا دروازہ کھولا تھا ۔۔۔
اور ہاتھ بڑھا کر اس کے سامنے اپنی ہتھیلی پھیلائی تھی۔۔
جیسے کہہ رہا ہو کہ تھام لو اس ہاتھ کو !!میں تمہارے سب ڈر وخوف دور کردوں گا ۔۔۔
کبھی کبھار ہمیں الفاظوں کی ضرورت نہیں پڑتی آنکھیں خود بخود وہ بول دیتی ہیں جو دل میں رقم ہوتا ہے ۔۔۔
اور پھر فجر میں تو اس کو اپنی گڑیا نظر آتی تھی ۔۔
نہیں میں اتر جاؤں گی ۔۔۔
فجر نے جھجک کر ہلکا سا مسکرا کر کہا ۔۔
یہ۔۔۔۔۔ یہ تو میرا گھر نہیں ہے ۔۔۔!!
ایک دم بوکھلا کر بولی تھی سامنے موجود خوبصورت سہ بنگلہ جوکہ ارمغان نے ابھی ایک ہفتہ پہلے ہی خریدا تھا کراچی کے سب سے ڈیمانڈنگ علاقے ڈیفینس میں !!کیونکہ اس نے یہاں پہ بھی اپنا آفس کھول دیا تھا ۔۔۔
جس کی بنا پر اس کا زیادہ وقت کراچی میں گزرنا تھا گاؤں بھی اس کا آنا جانا لگا ہی رہتا تھا ۔۔
ہاں مجھے پتا ہے یہ تمہارا گھر نہیں ہے تم ٹھیک کہہ رہی ہوں ۔۔۔
وہ نرمی سے کہتا آگے بڑھنے لگا ۔۔
آپ مجھے یہاں کیوں لائے ہیں ؟؟؟
آپ تو مجھے میرے گھر چھوڑنے جا رہے تھے نا ؟؟؟
فجر کے لہجے میں بے اعتباری نمایاں تھی ۔۔۔
دیکھو فجر مجھ پر بھروسہ رکھو میں تمہارے ساتھ نہ کچھ غلط کروں گا اور نہ ہی کبھی تمہارے ساتھ کچھ بھی غلط ہونے دوں گا بہت کے حالات بہت خراب ہوچکے ہیں چاہو تو اپنے ابو کو فون کر کے پوچھ لو اور ان کو بتا دو کہ تم خیریت سے ہوں ۔۔۔
میں یہ اکیلا نہیں رہتا میرے ساتھ میری دادی بھی اندر موجود ہیں ۔۔۔
کہو گی تو ان کو میں تمہارے سامنے آ بھی لے آتا ہوں ویل شیر پہ باہر تم ہر طرح سے مطمئن ہو جاؤ اور اپنے بابا کو بھی کردو دادی کی بات کر عدّو اپنے ابو سے ۔۔
میں تمہیں بہرحال ا ن ہنگامی حالات میں تنہا تو بالکل بھی نہیں کرسکتا تھا ۔۔۔
وہ اب ملازم کو اشارہ کرکے دادی کو باہر لانے کو کہہ چکا تھا ۔۔۔۔
جب کہ فجر کے چہرے پر الجھن کے آثار واضح تھے وہ فیصلہ نہیں کر پا رہی تھی کے کیا کرے نہ جوانی کیوں اس کا آسان جان شخص پہ بھروسا کرنے کا دل ہو رہا تھا ۔۔۔
اسلام علیکم دادی ۔ ۔۔۔!!
شکر اللہ کا جب جیو میرا بچہ تو ساتھ خیریت کے گھر واپس آ گیا ۔۔
میں بہت پریشان ہوگئی تھی اس ٹی وی موئے میں خبریں دیکھ کہ ہول رہی تھی ۔۔
وہ ار مغان کو دیکھ کر جیسے دوبارہ جی اٹھیں تھیں ۔۔
ارے میری پیاری دادی مجھے کچھ نہیں ہونا ۔۔
آپ کی دعاؤں کا سایہ جو میرے ساتھ ہر پل موجود ہے ۔۔
وہ اب دوزانو بیٹھ کر اپنی دادی کے دونوں ہاتھ تھام کے آنکھوں سے چومتے ہوئے کہہ رہا تھا ۔۔
فجریہ منظر بہت حسرت سے دیکھ رہی تھی اور بہت مشکل سے اپنی آنکھوں میں آئی ہوئ نمی کو خود میں دھکیلنے کی تگ و دو میں مصروف تھی۔۔
ارے یہ بچی کو ن ؟؟؟
نہیں چل دور ہٹ ۔۔۔
دادی کی نظر جیسے ہی فجر پہ پڑی انہوں نے ارمغان کو پہلی فرصت میں ایک سائیڈ پہ کیا ۔۔۔
سجی سنوری لائٹ فروزی کلر کے لباس میں سر پہ دوپٹہ اوڑھے وہ نازک سی لڑکی کسی اپسرا سے کم نہ تھی ۔۔
دادی کے چہرے پے ایک سایہ سا لہرا گیا ہے ۔۔۔السلام علیکم دادو ۔۔۔
فجر نے جھک کر سلام کیا ادب سے ۔۔
وعلیکم اسلام زندہ رہے پتری ۔۔۔۔
دادی مزید کچھ بھی پوچھے بغیر فجر کا ہاتھ پکڑ کے اس کو اندر لے آئیں گھر کے ۔۔۔
فجر دادی کے ساتھ ساتھ بڑا سا کوریڈور عبور کر کے اندر کی طرف بڑھ رہی تھی جب اچانک کسی چیز پر نظر پڑھنے کے بعد اس کے قدم جیسے ساقط سے ہو گئے آنکھیں پتھرا سی گئیں۔ ۔۔۔
🌹🌹
وہ جلدی جلدی اس کے کپڑے ایک بیگ میں بھر رہا ہوتھا ۔۔۔
الماری اس نے پوری طرح تہس نہس کر دی تھی ۔۔۔
یہ۔ ۔۔
یہ کیا کر رہے ہیں آپ رات کے اس وقت میرے کمرے میں ؟؟؟
وہ کھٹ پٹ سے یکدم بیدار ہوئی ۔۔۔
خوابیدہ آنکھیں گہری نیند کی چغلی کھا رہی تھی۔۔۔
دکھ نہیں رہا ؟؟؟
اپنی بیوی کے کپڑے رکھ رہا ہوں ۔۔
آپ شرافت سے میرے کمرے سے خود چلے جائیں ور نہ میں شور کر کے سب کو بلالونگی ۔۔۔۔۔!!!
اگر شور کرسکوں گی تو نہ ؟؟؟؟
وہ اپنا رومال جیب میں سے نکال کر اس کی طرف بڑھا تھا ۔۔۔۔۔!!!!
شفا نہ جھپٹ کے رومال اس کے ہاتھ سے چھین کے دوسری طرف پھینکا تھا ۔۔۔
تم کیوں ہمیشہ مجھے زبردستی پر اکساتی ہو ؟؟؟
اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے کہتا اپنی بیلٹ پینٹ سے کھینچتے ہوئے ہاتھ میں گھماکر لپیٹتے ہوئے کہہ رہا تھا ۔۔۔۔
شفا کی آنکھیں خوف کی زیادتی سے پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔
_______
یہ۔۔۔۔۔۔ یہ کیا کر رہے ہیں ؟؟؟
وہ اب خوف کے مارے قدرے دھیمے لہجے میں پوچھ رہی تھی۔۔
کیونکہ حمزہ اپنی پینٹ کی بیلڈ کھینچ کر اس کی طرف بڑھا تھا ۔۔۔۔
وہی جو مجھے بہت پہلے کر دینا چاہیے تھا ۔۔۔
آپ ایک انتہائی نازیبا حرکت کرنے والے ہیں ۔۔۔۔
وہ الٹے قدموں پیچھے ہٹتے ہوئے بول رہی تھی یہ دیکھے بغیر کہ اس کے ایک قدم کے فاصلے سے پیچھےاب بیڈ موجود ہے۔ ۔۔
رات کا وقت نیا نیا رشتہ اور تنہائی ۔۔!!؛
شفا کو لگا جیسے اب حمزہ چند ہی لمحوں میں اپنا استحقاق استعمال کرکے اس کو بے مایا کر چھوڑے گا ۔۔۔۔
نازیبا حرکت کی تو بات ہی نہیں کرو۔۔۔۔!!
ابھی میں نے کوئی تمہارے ساتھ ایسی نازیبا حرکت کی ہی کہاں ھے۔۔۔۔۔۔؟؟؟
تو پھر آپ کیا کرنا چاہتے ہیں میرے ساتھ اس وقت اور کیوں آئے ہیں رات کے اس پہر میرے کمرے میں ؟؟؟؟؟
وہ آہستہ سے بولی مگر لہجہ بہت برہمی لئے ہوئے تھے ۔۔۔۔
چاہوں تو رات کے اس وقت تمہارے کمرے میں ہی!! کر تو فلحال میں بہت کچھ کرسکتا ہوں اور اب تو مجھ پہ جاِئز ر شتے کا لیبل بھی لگ گیا ہے ۔۔۔
چند گھنٹوں پہلے ہی تو تم نے خود نکاح خواں اور گواہوں کے سامنے مجھے اپنا شوہر تسلیم کیا ہے ۔۔۔
کیا ہے نا ؟؟؟؟؟
کہتے کہ ساتھ ہی اس نے بیڈ پہ گرتی ہوئی شفا کو خود سے اتنا قریب کیا تھا کہ وہ شفا کی ڈری سہمی اتھل پتھل سانسوں کو بخوبی سن سکتا تھا ۔۔۔۔
یہ آپ بھی بہت اچھی طرح جانتے ہیں اور میں بھی کیے نکاح کس طرح سے سرانجام پایا گیا ہے ۔۔۔
میری اس میں ایک فیصد بھی رضامندی شامل نہیں تھی ۔۔
میں اس زور زبردستی کے رشتے کو دل سے قبول نہیں کرتی ۔۔۔
بہت شکریہ مجھے بتانے کے لئے ۔۔۔
ویسے مجھے تمہاری کسی بھی بات پر کان دھرنے کا شوق نہیں ہے میں وہی کروں گا جو میرا دل چاہے گا ۔۔۔
جیسے تمہارا باپ میری ماں کے جڑے ہوئے ہاتھوں کی پروا کیے بغیر کیا کرتا تھا ۔۔۔۔
اس کی آنکھیں اسے سے سرخ ہو رہی تھیں ۔۔۔
یہ۔۔۔۔۔۔ یہ کیا کر رہے ہیں ؟؟؟
پلیز مجھے چھوڑدیں ۔۔۔
مجھے آپ کی چھونے سے کراہیت محسوس ہو رہی ہے۔ ۔۔۔
فکر نہیں کرو۔۔۔۔!!!
تمہیں چھونے کا مجھے کوئی شوق نہیں ہے مگر اس وقت یہ میری مجبوری ہی سمجھ لو کہ مجھے یہ سب کچھ کرنا پڑ رہا ہے ۔۔۔
حمزہ نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا جہاں پہ خوف کی واضح تحریریں رقم تھیں۔ ۔
وہ اس کو خود سے قریب تو پہلے ہی کر چکا تھا اب اس کی دونوں کلائیوں کو مضبوطی سے اپنے فولادی ہاتھوں میں جکڑ کے پیچھے پشت پر لے جاکر اس نے!! وہ بیلٹ جو ابھی ابھی اتار کر بیڈ پہ پھینکی تھی جھک کر اس کے ہاتھوں پہ باندھ دی تھی ۔۔۔۔
حمزہ پلیز مجھ پر رحم کرو میرا کوئی حساب نہیں نکلتا آپ سے۔
کوئی قصور نہیں ہے میرا۔ ۔۔
میں نہیں جانتی کیا سچ ہے کیا جھوٹ مگر مجھے معاف کر دو ۔۔۔۔۔
وہ باقاعدہ اس کے آگےگڑگڑا رہی تھی ۔۔۔۔
حمزہ کو لگا جیسے اس کا دل یک دم اچھل کر ہلق میں آ گیا ہو۔۔۔۔
"اس طرف تو تم ایک اور ائمہ کو وجود میں لاو گے"۔۔
کسی کی آواز کانوں میں ثور پھونکھ گئ تھی ۔۔۔۔
اس کے پورے وجود میں بری طرح ہلچل مچا گئی تھی ۔۔۔۔
خاموش۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!
بس اب ایک لفظ اور نہ کہنا۔ ۔
حمزہ نےلینمپ کی ہلکی سی روشنی میں اس کے خوف سے زرد پڑے چہرے کو دیکھا تھا ۔۔۔۔
چھوڑو مجھے ۔۔۔۔
بچاؤ بابا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔بابا ۔۔۔۔۔
شفا کے منہ سے زور دار چیخ نکلنے ہی والی تھی جب حمزہ نے اس کے گلاب کی پنکھڑی جیسے نرم و نازک گداز لبوں پہ اپنے دہکتے ہوئے لب رکھ کر اس کے حلق سے نکلنے والی چیخوں کا بے دردی سے گلا گھونٹا تھا ۔۔۔۔
اس کے ہاتھ پشت پر بندھے ہونے کے باعث وہ چاہ کر بھی مزاحمت نہیں کر پا رہی تھیں جبکہ حمزہ کی گرفت شفاء کے نازک سے سراپے پہ کافی سے زیادہ سخت تھی ۔۔
شفاء کو لگ رہا تھا کہ اس کی پشت میں جیسے حمزہ کی انگلیاں پیوست ہوچکی ہو ۔۔
کہیں ایسا نہ ہو جو میں نہیں کرنا چاہتا وہ مجھ سے ھو بیٹھے ۔۔۔
وہ اس کے لبوں کو آزاد کرتے ہوئے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے کہنے لگا ۔۔۔۔
آپ اور کر بھی کیا سکتے ہیں ایک معصوم اور بے قصور لڑکی کو اپنی ہوس اور خود ساختہ انتقام کی بھینٹ چڑھانے کے علاوہ ۔۔۔۔؟؟؟
شاید تمھیں خود شوق ھے میری قربت کا ۔۔۔
چلو پھر میں تمھیں بتا ہی دیتا ہوں کہ میں کیا کچھ کرسکتا ہوں ۔۔۔
کہتے کے ساتھ ہی حمزہ نے ہاتھ بڑھا کے ایک چٹکی سے اسکوبیڈ پہ گرایا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ کر رہا ہوں قیدی پشت پر بندھے ہاتھ سیدھا گرنے کی وجہ سے بری طرح کمر میں چھبے تھے۔ ۔۔۔۔
تم ایسا نہیں کر سکتے ۔۔۔!!!
وہ اس کو اپنی جیکٹ تار کے سائیڈ پہ رکھتی دیکھ سراسیمہ ہو کر کہہ رہی تھی ۔۔۔
جب کہ حمزہ کی آنکھیں کسی بھی تاثر سے عاری تھی ۔۔۔
وہ بے حس سہ فرش سے کچھ اٹھا کر اس کی طرف بڑھنے لگا ۔۔۔
🌹🌹🌹
یہ ۔۔۔۔یہ کون ہے ؟؟؟؟
فجر کچھ لمحوں بڑی ہمت مجتمع کرکے خود کو سنبھال پائ تھی اورآواز میں حددرجہ لاپروائی سمو کر بولی ۔۔۔
جبکہ لہجہ اس کے الفاظ کا ساتھ بالکل بھی نہیں دے پا رہا تھا ۔۔۔
یہ میرے امی ابو ہیں ۔۔۔
ارمغان نے اپنے ماں باپ کی تصویر کو محبت اور احترام دیکھتے ہوئے جواب دیا ۔۔۔۔
اور یہ ؟؟؟؟؟
وھاب پھٹی پھٹی آنکھوں سے ایک سات سالہ بچی کی بڑی سی فریم شدہ تصویر کو دیکھ رہی تھی جو ارمغان کے ساتھ اٹھکیلیاں کرتی نظر آ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔
یہ یہ میری گڑیا ہے ۔۔۔۔۔
گڑیا ؟؟؟؟؟
ہاں یہی سمجھ لو کہ یہ میری سانسوں میں بستی تھی ۔
اور آج میرے دل میں بستی ہے ۔۔۔
بستی تھی سے کیا مراد ہے آپ کی ؟؟؟
یہ صرف وہ خود جانتی تھی کہ ۔۔۔
یہ وہ الفاظ تھے جو جیسے تہسے وہ خود پہ جبر کرکے ادا کر پائی تھی ۔۔۔۔
میری گڑیا ۔ ۔۔۔۔۔۔۔
مجھے چھوڑ کے بہت دور چلی گئی ہے آسمانوں میں ۔۔۔
اس کو آسمان کی سیر کرنے کا بہت شوق تھا اور دیکھو وہ واقعی آسمانوں کی سیر کر رہی ہے تنہا ۔۔۔۔۔۔
وہ ایسے کہہ رہا تھا جیسے خود پہ بہت مشکل سے ضبط کے بند باندھے ہوں۔ ۔۔۔
ورنہ وہ پوری طرح سے اندر سے ٹوٹ کے بکھر چکا تھا ۔۔۔۔
میں سمجھ نہیں پا رہی آپ کی بات ۔۔۔۔
وہ خود میں حوصلہ پیدا کر رہی تھی ۔۔
مطلب یہ ہے کہ میری گڑیا اب حیات نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔
وہ کئی سال پہلے اس دنیا سے اپنا تعلق چھوڑ چکی ہے ۔۔۔
ارمغان چلتا جا رہا تھا اور کہتا جارہا تھا جبکہ فجر اس کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئےخود کو بہت مشکل سے گھسیٹ رہی تھی ۔۔۔
اس کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ پھوٹ پھوٹ کے رودے۔ ۔۔۔
اب وہ دونوں لاؤنج میں آ کر بیٹھ گئے تھے جہاں سے باہر لان کا منظر شیشے کی اوٹ سے بہت خوبصورت نظر آ رہا تھا ۔۔۔۔
ہلکی ہلکی بوندا باندی بھی شروع ہو چکی تھی ۔۔۔۔
دادی نے بابا سے بات کرکے ان کو مطمئن کر دیا تھا اور اب وہ اپنے کمرے میں جا چکی تھیں ۔۔۔
تو کیا آپ کو اپنی گڑیا ابھی بھی بہت یاد آتی ہے ؟؟؟
وہ سسکنے کو تھی آنکھوں سے اشک رواں ہوچکے تھے ۔۔۔۔
ہاں ۔۔۔۔۔!!!!
میں اکثر اس سے ڈھیرساری باتیں کرنے کے لئے حویلی چلا جاتا ہوں ۔۔۔
حویلی ؟؟؟
ہاں فجر حویلی ۔۔۔۔۔!!!
ادھر گڑیا ہے میری ۔۔
وہ میرا انتظار کرتی ہیں مجھ سے باتیں کرتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تمہیں پتا ہے اگر میں کچھ دن حویلی نہ جاؤں تو مجھے ایسا لگتا ہے کہ وہ رورہی ہے فریاد کر رہی ہے مجھے بلا رہی ہے ۔۔۔۔
کیا کچھ نہ تھا ارمغان کے لہجے میں فجر کو لگا جیسے کہ وہ بہت معتبر ہوگئی ہے۔ ۔
میں آپ کی باتیں سمجھ نہیں پا رہی ۔۔۔
تمہیں ابھی عشق نہیں ہوا نہ۔ ۔ ۔ ۔۔۔!!
جس دن تمہیں عشق ہو جائے گا اس دن تم میری باتیں بغیر میرے کہے سمجھنے لگوگی۔ ۔۔
ارمغان کا لہجہ بہت گہرا تھا وہ کافی کا انتہائی گرم گھونٹ بڑھتے ہوئے کہہ رہا تھا ۔۔۔
جو چولہے سے اتار کر سیدھے ملازمہ ان کو دیکر گئی تھی ۔۔ !!!!
اگر تمہاری گڑیا تمہارے سامنے ہو تو پھر ؟؟؟؟
فجر کو اپنی آواز اجنبی سی لگی تھی ۔۔۔۔
🌹🌹🌹
مما میں نے آپ کو بتایا نہ میں نہیں شادی کرو نگی اس اکڑو کھڑوس پائلٹ سے ۔۔۔!!!!
وہ منہ بسورکے بولی ۔۔۔۔
یہ منہ مت بسوڑو بچوں کی طرح خاموشی سے اپنا ناشتہ کر کے کالج جاؤ ۔۔۔۔۔۔!!!
سمیرا چائے کے ساتھ پراٹھے کانیوالا بناتے ہوئے بولی ۔۔۔۔
ناشتہ تو میں فنش کرکے ہی جاؤں گی یہ تو آپ کو پتہ ہے یہ میں بھوک برداشت نہیں کر سکتی ۔۔۔۔۔
بس مجھے کیپٹن مصطفی سے ہر گز شادی نہیں کرنی۔ ۔۔۔۔
وہ اپنی بات پر بضد تھی ۔۔۔۔
کیوں ایسی کیا خرابی ہے اس میں؟ ؟؟؟
مجھے کوئی وجہ تو بتاؤ تاکہ میں تمہارے ابو کے سامنے انکار کر سکو اس رشتے سے۔۔!!
سمیرا نے چائے کا گھونٹ بھرتے ہوئے اس کو اس سوالیہ نظروں سے گھورا ۔۔
امی کی یہ وجہ کافی نہیں ہے کہ وہ مجھ سے عمر میں کتنے بڑے ہیں ۔۔۔؟؟؟؟؟
سولویں میں تم لگ چکی ہوں چند مہینوں میں سترہویں برس میں لگ جاؤں گی۔۔۔۔
اور خیر سے تم بچی تو ہو نہیں ۔۔۔۔
یہ میں بھی بہت اچھی طرح جانتی ہوں ۔۔۔
تمہارا یہ جو دماغ ہے نا یہ انڈین فلمیں دیکھ دیکھ کے خاصا خراب ہو چکا ہے ۔۔
سمیرا کا بری طرح سے دماغ گھوم چکا تھا وہ اسکو ڈپٹتے ہوئے بولی ۔۔
امی مجھے کچھ نہیں کہنا اور نہ ہی مجھے اس رشتے میں کوئی انٹرسٹ ہے۔۔۔۔
آپ بس پلیز مجھ پہ رہم فرمائیں اوراس رشتہ سے منع کر دیں۔۔۔
اس کے بعد آپ جس سے کہینگی میں آنکھیں بند کرکے شادی کرلو نگی ۔۔۔۔۔
وہ ماں کے آگے ہاتھ جوڑتے ہوئے شرارت سے بولی تھی ۔۔۔۔
مما آپ کو پتہ ہے میرے کالج والے ہمیں ٹرپ پہ ناران کاغان لے کر جا رہے ہیں ۔۔۔؟؟؟
تم ہرگز بھی نہیں جاؤں گی ۔۔!!!
سمیرا نے اس کے کہنے سے پہلے ہی انکار کیا ۔۔۔
ماما پلیز جانے دیں نا اور پھر ساجدہ آنٹی بھی تو ہمارے ساتھ جا رہی ہیں ۔۔!!
سوہانے سمیرا کی چچازاد بہن کا نام لیا جو کالج کی وائس پرنسپل بھی تھی اور ساتھ ہی اس کی بہترین دوست ۔۔۔۔
ٹھیک ہے اگر ساجدہ مجھ سے خد بات کر کے تمہاری ذمہ داری لے گی تو ٹھیک ہے۔۔۔! !
میں تمہیں بھیج سکو نگی ۔۔۔۔۔
واقعی مماکیا سچی؟؟؟
وہ ماں کے گلے میں بانہیں ڈال کر بولی جلدی سے ناشتہ چھوڑ کہ ۔۔۔
ہاں سچی ۔۔!!!!
مگر اس کے لئے ساجدہ کو مجھ سے پہلے پرمیشن لینی ہوگی اور ساتھ ہی تمہاری حفاظت کا وعدہ بھی کرنا ہوگا ۔۔۔۔۔!!!
سمیرا نے اپنا فیصلہ سنایا ۔۔
جبکہ سوہا بڑے مزے سے جاکر ٹی وی لاؤنج میں صوفے پر دھڑ سے بیٹھ چکی تھی ۔۔
ابھی اس کو کالج جانے میں پورا گھنٹہ باقی تھا وہ بڑے مزے سے ٹی وی کے آگے برجمان ہو چکی تھی ۔۔۔۔
فون کی بیل بجنے پر اس نے بے دھیانی میں جھنجلا کے فون ریسیو کیا تھا۔۔۔۔۔
السلام علیکم۔۔۔۔۔!!
کہیں کس سے بات کرنی ہے؟؟؟
اور ذرا پلیز جلدی بولئے گا کیونکہ اس وقت میری فیورٹ مووی تیفا ان ٹرابل آ رہی ہے ۔۔
وہ بے تکان بولنا شروع ہو چکی تھی ۔۔۔
وعلیکم السلام ۔۔۔۔!!!!
ویسے مجھے بھی کوئی شوق نہیں ہے لایعنی گفتگو کرنے کا ۔۔۔۔
میری مجبوری ہے کہ میں نے لائبہ کے لیے فون کیا ہے ۔۔۔
لائبہ آپی اپنے کمرے میں ہے اور ابھی اپنے روم میں ہیں شاید سورہی ہیں۔۔۔
ٹھیک ہے میں نے آپ کو بتا دیا اب براہ مہربانی مجھے مزید پریشان مت کریں ۔۔۔۔
اوکے اللہ حافظ ۔۔۔
روکو ایک منٹ ۔۔۔!!!!
میں نے تمھیں تو ابھی نہیں کہا فون رکھنے کے لئے ۔۔
اور جب تک میں نہ کہوں تب تک تم فون ڈسکنکٹ نہیں کر سکتی ہو ۔۔۔
کیوں کیوں نہیں کرسکتی؟؟؟؟
میرا فون ہے ۔۔۔۔
میرے ہاتھ ہے۔۔۔۔
میں جب چاہو ں فون کے ڈسپکنکٹ کر سکتی ہوں ۔۔۔
لگتا ہے تمہارا انتظام چلدہی کرنا پڑے گا ۔۔۔۔!!!
میرا انتظام کرنے کے بجائے اپنا انتظام کریں!!!
عمر دیکھیں اپنی ایسا نہ ہو پھر بیٹھے رہیں شادی کے لئے اور کوئی لڑکی کینہ ملے۔۔۔۔۔۔
وہ اس کی 30 سالہ عمر پہ چوٹ کرتے ہوئے بولی ۔۔۔۔۔
اس بات سے بے خبر کہ وہ کیا کہ بیٹھی ہے ۔۔۔۔؟؟؟؟
واقعی تمہیں میری اتنی فکر ہے ۔۔۔؟؟؟
ہاں تو ہے۔۔۔۔۔،!!!
مجھے آپ کی فکر بلکل ہے! ! آخر کو آپ میرے پھوپھی کے بیٹے جو ٹھہرے ۔۔۔۔
میرے پھوپھی زاد بھائی ۔۔۔۔۔۔۔!!!!
بھائی تو صرف میں اپنی بہن کا ہوں ۔۔۔۔۔
ہا ہا ہا۔ ۔۔۔۔ ںشوہر کے رتبے پر فائز نہیں ہوا ہوں ابھی تک!!! مگر امید اچھی ہے کہ یہ عہدہ بھی جلد ہی ملنے والا ہے ۔۔۔
وہ اپنی غصیلی عادت کے برخلاف ہلکے پھلکے لہجے میں گفتگو کر رہا تھا ۔ ۔۔۔
مجھے کیوں بتا رہے ہیں میری کوئی ذمہ داری تھوڑی ہے آپ کے سر پر سہرا سجانے کی ۔۔۔۔
یا آنکھوں میں سرمہ لگانے کی ۔۔۔
وہ چھڑکے دوبدو بولی لہجہ بالکل بچوں کی طرح معصومانہ تھا ۔۔۔۔
چلو پھر ایک ذمہ داری میں تمہیں سونپتا ہو۔ ۔۔۔
کیسی ذمہ داری ؟؟؟
جس دن میری پسند کردہ لڑکی سے میرا نکاح ہوگا ۔۔۔۔
اس دن اس لڑکی کو تمہیں بس اتنا کہنا ہوگا ۔۔۔
کیا کہنا ہوگا ؟؟؟؟
بتائیں میں کہہ دوں گی ۔۔۔!!!
وہ اب بغیر لڑے جھگڑے بہت دلچسپی سے پوچھ رہی تھی ۔۔۔
اس سے کہنا کہ مصطفی کبھی بھی تمہیں خود سے دور نہیں ہونے دے گا ۔۔۔۔۔۔
تم خاص طور پہ میرے لئے بنا کر زمین پر اتاری گئی ہو ۔۔۔۔۔
کیا؟ ؟؟؟؟
یہ کہہ کر مصطفی نے فون بند کیا تھا ۔۔ ۔
جبکہ سوہا بری طرح فون کو گھور کے رہ گئی ۔۔
یہ کیا بات ہوئی ہے بھلا؟؟؟؟
یہ خود بھی کہہ سکتے ہیں ۔۔۔۔
وہ فون کو گھورتے ہوئے بولی ۔۔
🌹🌹🌹
عائشہ اور داؤد کو اللہ تعالی نے شادی کے آٹھ سال کے مختصر سے عرصے میں دو بیٹے اور ایک بیٹی کی نعمت سے نوازا تھا ۔۔۔
داود اور عائشہ کی محبت مثالی تھی دونوں دو وجود ضرور تھے مگر روح ایک ہی تھی ۔۔۔
بڑا بیٹا شارق ،منجھلی بیٹی انایا ،اور سب سے چھوٹا باسط ۔۔۔
ان لوگوں کی ننی ننی شرارتوں سے پوری حویلی میں مہکا کرتی تھی۔۔۔۔
جبکہ حماد اور غزل کا ایک ،بیٹی اور بیٹا تھا اور وہ تھا ۔۔۔۔!!!
ارمغان سے دس سال چھوٹی بیٹی تھی سماء . . .
جو کہ انایہ کے ساتھ ۔۔
عنایہ ارمغان کی جان تھی جو اس سے نو سے دس سال چھوٹی تھی ۔۔۔
وہ اس کو پیار سے گڑیا کہہ کر بلایا کرتا تھا ۔۔۔
اور اس کی گڑیا اس کے پیچھے مان مان کہہ کر د مچھلی کی طرح اردگرد گھوما کرتی ۔۔۔۔
دادا اور دادی تو بس اپنے پوتے پوتیوں میں مصروف رہتے نہ دن کی خبر ہوتی نہ رات کا کچھ پتہ ہوتا ۔۔۔۔
اس طرح یہ گھرانہ بہت شادوآباد زندگی گزار رہا تھا مگر پھر اچانک اس ہنستے بستے گھر کو کسی کی نظر کھا گئی ۔۔
اور وہ حادثہ پیش آ گیا ۔۔
جس کے بعد ہنسی اس حویلی سے روٹھ گئی ۔۔۔۔
🌹🌹🌹
لائبہ بہت دیر سے کمرے سے ملحق ٹیرس میں کھڑی نیچے بیٹھےعمر کو تکے جا رہی تھی ۔۔۔
بے خیالی میں اس کا ذہن کہاں سے کہاں بھٹک چکا تھا ۔۔
صبح کے سات بج رہے تھے ۔۔۔
وہ فجر پڑھنے کے بعد ٹیرس میں آ کھڑی ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔
مگر پھر اس کے ذہن میں اچانک سے ایک شیطانی خیال کوندا تھا۔۔۔
اس کے لب بے ساختہ مسکرائے تھےاور وہ اب اپنا پلان تیار کرنے کو کمرے میں جا چکی تھی ۔۔
________
و ہ اس کے اوپر جھکا تھا اور کلوروفام سے بھیگا ہوا رومال!! اٹھا کر مزاحمت کرتی شفا کے منہ پر جھکتے ہوئےرکھنے کو تھا جب ۔۔!!
آپ یہ ٹھیک نہیں کر رہے میرے ساتھ ۔۔
غلط بھی تو کچھ نہیں کر رہا ۔۔۔۔۔
اپنی بیوی کو بے ہوش کر کے ہوش کی دنیا میں لانے کی ایک چھوٹی سی کوشش کر رہا ہوں۔۔۔۔!
کہتے کے ساتھ ہی اس نے شفا کاوحشت زدہ چہرہ ایک دفعہ پھر دیکھا تھا چند لمحے کیلئے حمزہ کے ہاتھ کپکپائے تھے ۔۔۔
جبکہ شفا کو لگا جیسے وہ اپنی خوں آشام نظروں سے اسکو گھورتے ہوئے آنکھوں کی زبان میں کہہ رہا ہوکہ۔ ۔۔۔۔
" یہ تو شروعات ہے "۔۔۔
وہ رومال اس کے چاند جیسے خوبصورت چہرے پہ رکھ کر چند ہی منٹ میں اس کو بےہوش کر چکا تھا ۔۔۔۔
معافی نہیں مانگونگا ہرگز اپنے کسی بھی فعل کی!! کیونکہ۔۔۔۔!!!
یہ سب کچھ تمہارے باپ کا بویا ہوا بیج ہے ۔۔۔
جو اب تمہیں کاٹنا ہو گا۔۔۔۔۔
وہ اس کو رات کے اندھیرے میں اپنے بائیں ہاتھ کے شانے پر اوندھا ڈال کر دبے پاؤں جس طرح آیا تھا اسی طرح گھر کا مین گیٹ عبور کر واپس چکا تھا ۔۔۔
🌹🌹
تو میں یہ کہوں گا کہ وہ میرے سامنے نہیں بلکہ میرے اندر۔۔۔۔
میری روح میں بستی ہے۔۔۔۔۔۔
وہ کھوئے کھوئے لہجے میں بولا تھا ۔۔۔۔۔
بارش کتنی تیز ہو رہی ہے نہ؟؟؟
ہاں بلکر جیسے ہجر کی پہلی بارش ہو۔ ۔۔۔۔۔!!!
وہ غائب دماغی سے بولا۔ ۔۔۔
میں گلاس ونڈو سے نظر آتی برسات کی بات کر رہی ہوں !! ہجر کاٹنے کا کام آپ بعد میں سرانجام دیسکتے ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔
وہ باہر رات کے دوسرے پہر برستی گرج چمک کے ساتھ بارش کو دیکھتے ہوئے کھلا کر ہنستے ہوئے بولی ۔۔۔
آپ کو بارش پسند ہے نہ بہت بارش ؟؟؟
وہ کچھ سوچتے ہوئے کافی کا آخری سپ لیتے کہہ رہی تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔
ارمغان کے ساتھ اس کی چند ایک ملاقات میں ہی نہ محسوس سی انسیت وابستہ ہوگئی تھی ۔۔۔
اس سے پہلے وہ کہاں کسی لڑکے سے یوں اس طرح بے تکلف ہوئی تھی۔۔۔
وہ اپنے آپ میں رہنے والی ایک ڈھکی چھپی سی لڑکی تھی۔ ۔ ۔۔۔
ہاں مجھے بارش بہت پسند ہے اور میری گڑیا تو اس بارش کی دیوانی تھی۔۔۔
بارش اگر رات کے چار بجے بھی ہوا کرتی تو وہ سیدھا میرے کمرے کا دروازہ بجا کر زور زور سے ہانک لگایا کرتی کہ ۔۔۔!!!؛
"مانی باہر آؤ دیکھو کتنی تیز بارش ہو رہی ہے ۔"
#ایمن_ کھوئے ہوئے لہجےمیں بولی تھی ۔
ارمغان کے بجائے اس کے منہ سے بے ساختہ نکلا تھا۔۔۔
تم کیسے کہہ سکتی ہوں یہ؟ ؟؟
وہ یہی تو کہتی تھی۔
ارمغان چونک سا گیا ۔
نہیں۔۔!!
بس ویسے ہی کیوں کہ آپ کی گڑیا کی اتنی باتیں سن چکی ہوں نہ!! تو ذہن نے خود بخود ایک جملہ بنا اور لبوں نے اس کو آواز کے سانچے میں ڈھال کر آپ کی سماعت تک پہنچا دیا ۔۔ ۔!!
وہ اب اس کا دیھان ہٹانے کو بولی تھی۔۔۔
بہت کچھ جان کر بھی اس کو ظاہر کرنے سے قاصر تھی۔ ۔ ۔
لبوں کو سی بیٹھی تھی ۔۔۔
ارمغان کے سامنے چاہ کر بھی بہت کچھ بتانا چاہتی تھی کہنا چاہتی تھی مگر کوئی طاقت تھی جو اس کو بہت سے رازوں پر سے پردہ فاش نہ کرنے دے رہی تھی ۔۔۔۔
تو پھر چلو آؤ اس برسات میں بھیگتے ہیں۔ ۔۔!
ارمغان نے اس کے آگے اپنی چوڑی ہتھیلی پھلاتے ہوئے کہا ۔۔۔
فجر نے کچھ لمحے سوچا۔۔۔
پھر سب ہی سوچوں کو جھٹک کر دل کی کہی پہ عمل کیا اور اپنا نازک سہ مر مری گلابی روئی جیسا ہاتھ اس کی پھیلی ہوئی کشادہ مضبوط ہتھیلی پہ رکھ دیا ۔۔۔۔
"ہم نہ پہچانے زندگی تجھ کو۔۔"
' جب ملی تو ملی نقابوں میں ۔۔۔"
وہ دونوں اس برستی گرجتی بارش میں اس طرح بھیگ رہے تھے جیسے کئی سالوں سے دلوں کے اندر پنپتےدکھوں کو اس برسات میں بہا دینے کا عزم کر چکے ہوں۔ ۔
فجر بہت ساری تکلیف دہ یادوں کو جھٹک کر ان میں بری طرح کھو چکی تھی۔۔۔۔
گول گول گھوم کر وہ کوئی 8 سالہ بچی کی طرح برسوں بات اس قدر خوش ہو رہی تھی ۔۔
جھوم رہی تھی ۔۔۔
گنگنا رہی تھی ۔۔۔۔
کسی قسم کا بھی ڈر خوف اس کے چہرے پہ باقی نہ رہا تھا ۔۔
ارمغان سینے پر ہاتھ باندھے لان کے بیچوں بیچ بھیگتے ہوئے بس اسی کو دیکھے جا رہا تھا ۔۔
آئے نہ آپ کیوں اتنا اداس کھڑے ہیں وہاں؟ ؟؟؟
سمجھئے آپ کی گڑیا آپ کے سامنے موجود آپ سے باتیں کر رہی ہے ۔۔
وہ بغیر سوچے سمجھے ایک ایسی بات کہہ گئی تھی۔۔
جس کا اندازہ اس کو خود بھی نہیں تھا ۔۔۔
بے خودی میں وہ بہت گہری بات کر چکی تھی ۔۔۔۔۔
آہستہ آہستہ چلتا ہوا ارمغان اس تک پہنچا تھا اور آنکھوں میں دنیا جہان کی چمک لیے وہ اس کو دیوانہ سا ہو کر بس یک ٹک تکےچلاجارہا تھا۔۔۔۔
کیا تم میری گڑیا بن کر میری زندگی کو ایک سرخ گلاب کی طرح مہکا سکتی ہوں ۔۔۔؟؟؟؟؟
ویرانیوں اور اندھیرے کو دور کرکے اجالا پھیلا سکتی ہوں ؟؟؟؟
وہ بھیگتی ہوئی خوشی سے جھومتی فجر کو شانوں سے تھام کر اس کا رخ اپنی طرف کرتے ہوئے استفسار کر رہا تھا ۔۔
کیا کچھ نہ تھا اس کی آنکھوں میں آس، مان اور۔۔۔۔۔۔
اور۔ ۔۔۔۔۔۔۔ محبت۔۔۔۔۔!!!!
یہ سب کیا ہے؟؟؟
مم۔ ۔۔۔ میں کچھ سمجھ نہیں پا رہی۔۔۔۔
وہ دھڑکتے دل کے ساتھ پوچھ بیٹھی ۔۔۔
بادل زور سے گر جاتا ارمغان کو بس اس کے ہلتے ہوئے لب نظر آئے تھے۔۔۔۔
کیا تم مجھے اپنی زندگی کا حصہ بنانا پسند کرو گی ؟؟؟؟
میں تمہیں اپنی شریک حیات کی حیثیت سے دیکھنا چاہتا ہوں ۔ ۔۔
وہ حیران و پریشان سی فجر کو دیکھتے ہوئے کہہ رہا تھا ۔۔۔
کیا تم مجھ سے شادی کروگی ؟؟؟؟
🌷🌹🌹
رحمان اب اکثوبیشتر حمزہ سے ملنے آتا رہتا تھا اس کا اخلاق سب گھر والوں کے ساتھ بہت اچھا تھا ۔۔۔۔
وہ ائمہ کو بھی عزت و احترام سے مخاطب کر کرتا تھا۔۔۔
اس کے لاکھ بدترین رویے کے باوجود بھی وہ اس سے نرمی سے ہی پیش آتا ۔۔۔۔
حمزہ آہستہ آہستہ رحمان کا عادی ہوتا چلا گیا ۔۔۔۔
ائمہ نے بھی رحمان کا حسن اخلاق دیکھ کر
پھر اس کے اورہمزہ کے ملنے میں پابندی بھی لگانا بند کردی تھی۔۔۔۔
وہ اکثر رحمان کے ساتھ پارک وغیرہ بھی آنے جانے لگا تھا۔ ۔۔۔
ایک دفعہ حمزہ نے آئمہ سے سوال کیا سب لوگ برآمدے میں بیٹھ کر شام کی چائے پی رہے تھے ۔۔
ماماجان میرے بابا کہاں ہیں ؟؟؟؟
ماما بتائیں نہ ۔۔۔
میرے اسکول میں سب کے بابا ان کو چھوڑنے اور لینے آتے ہیں۔۔۔
مگر میرے ساتھ تو نانا جاتے ہیں۔۔۔۔۔
وہ حمزہ کے اس معصومانہ سوال پر گم سم سی دیکھتی رہ گئی ۔۔
جبکہ باقی سب نفوس کو ایک دم سانپ سا سو نگھ گیا تھا ۔
"میں ہوں نا آپ کا بابا"۔۔۔۔
جب رحمان نے چائے پیتے ہوئے فرش پہ بیٹھ کر اس کے ساتھ لیڈو کھیلتے ہوئے حمزہ کو گود میں اٹھا کر کہا تھا ۔۔
🌹🌹🌹
وہ شفا کو بازو میں اٹھائے اپنے گھر لے کر آ چکا تھا گاڑی سے اتر کر لان عبور کرتے ہوئے گھر کے داخلی دروازے تک پہنچنے تک شفا خاصی بھیگ چکی تھی۔۔۔۔۔
وہ تیز تیز قدم بڑھاتا سیڑھیاں چڑھتا ہوا او پر اپنے کمرے کا رخ کر چکا تھا ۔۔
سی ۔۔۔۔۔۔۔
کی آواز کے ساتھ کمرے کا دروازہ کھلا تھا ۔۔۔۔۔
کمرے کے اندر گھستے ہی اس کے نتھنوں سے گلاب اور موتیا کی بھینی بھینی خوشبو ٹکرائی تھی ۔۔۔
یہ وہ خود رات میں آکر جان کر کے سجا کر گیا تھا ۔۔۔
اس سب کوکرنے کا مقصد صبح تک شفا کے سامنے بہت اچھی طرح واضح ہو جانا تھا ۔۔۔
ہلکی ہلکی خنکی اور ایل ای ڈی لائٹ کی مدھم روشنی کمرے کو مزید رومانیت بخش رہی تھی ۔۔۔
وہ شفا کے چہرے پر معنی خیز سی نظر ڈالتے ہوئے شاطرانہ ہنسی ہنسا تھا ۔۔۔
اس کا پورا وجود بارش کی وجہ سے بھیگا ہوا تھا حمزہ پہلے ڈریسنگ روم میں جا کر خود اپنے گیلے کپڑے چینج کرکے آرام دہ لباس زیب تن کیا۔ ۔
ہلکا پھلکا ہو کر ڈھیلے ڈھالے لباس میں وہ ڈریسنگ روم سے باہرآ کر واپس شفا کی طرف آیا تھا اور الماری کے ہولڈر پر لٹکی ہوشربہ نائٹی ہینگر میں سے نکال کر ہینگر کو وہیں صوفے پر اچھال دیا ۔۔
یہ وہ رات کوئی لے کر آیا تھا اپنی پلاننگ کے تحت ۔۔۔۔۔۔
وہ آہستہ آہستہ بے ہوش پڑی شفا تک پہنچا تھا اور اس کے سراپا کو اچٹی ہوئی نخوت زدہ نظروں سے دیکھتے ہوئے اس کا لباس تبدیل کروانے کو بڑھا ۔۔
چند منٹ میں وہ اس کا لباس تبدیل کرچکا تھا اب وہ حمزہ کے منتخب کردہ لباس میں تھی۔۔۔
بے ہوشی کی حالت میں بھی وہ اپنے ہوش ربا حسن سے کسی کو بھی زیر کر سکتی تھی ۔۔۔۔
مگر اس کی بدقسمتی تھی کہ اس کا پالا دی حمزہ جلال جیسے مرد سے پڑا تھا ۔۔
جس کے پاس دل تو تھا مگر دھڑکن صرف جینے کے لئے تھی ۔۔۔
میں گرچاہوں تو تمہارا غرور ایک لمحے میں اپنے قدموں تلے روند سکتا ہوں۔۔۔
مگر میں ایک ایمان داری سے کرنے والا کام۔۔!!
بےایمانی سے کرنے کا ہرگز بھی قائل نہیں ہوں
۔!!!!
میں اپنا حق تمہارے ہوش و حواس میں ہیں حاصل کروں گا ۔۔۔۔
بس یہ سمجھ لو کہ یہ ایک چھوٹا سا ٹریلر ہے میری محبت کی پھوار کا ۔۔۔۔۔۔
وہ اس کے وجود کے ایک طائرانہ نظر ڈالتے ہوئے بڑبڑایا ۔۔۔۔
حمزہ بیڈ پر بے سود پڑھی شفا کے اوپر تھوڑا سا جھکا تھا اور اس کی گردن پر کئی اپنے انتقام کی مہر ثبت کرکے اس کے دودھیا عریاں بازووں کو سختی سے اپنی مٹھیوں میں جکڑ کر نشان چھوڑ دینے کے بعد وہ چند لمحے اس کو گھورتا رہا ۔۔۔۔
اور پھر ایک حقارت اور نفرت بھری نظر ڈال کر اس کے پاس سے اٹھ کھڑا ہوا ۔۔۔
ابھی تو فی الحال میں نے تمہارے ہوش گم کیے ہیں کل صبح جب تم اٹھو گی تب تم سمیت تمہارے گھر والوں کے بھی اوسان خطا ہو چکے ہوں گے ۔۔۔۔
اب یہ تمہارے اوپر ڈیپینڈ کرتا ہے کہ تمہاری صبح کل دوپہر میں ہوتی ہے یا شام میں ۔۔۔۔
وہ گھڑی میں ٹائم دیکھتے ہوئے بولا جو صبح کے ساڑھے چھ بجا رہی تھی ۔۔۔۔
اب تمہیں اچھی طرح پتہ چلے گا کہ حمزہ کیا چیز ہے ۔۔۔؟؟؟
میں تمہارے ساتھ کچھ نہ کر کے بھی تمھاری نظروں میں یہی ثابت کرونگا کہ میں تمہارے وجود کو حاصل کرچکا ہوں۔۔۔۔۔
جب کہ یہ صرف اور صرف تمہاری خام خیالی ہے مجھے تمہیں چھونا تو کیا تمہیں دیکھنا بھی گوارا نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔
🌹🌹🌹
مما یہ دیکھیں آپ کی لاڈلی نے میرے بیڈروم میں کیا چھوڑا ہے میرے لئے ۔۔۔۔۔
عمر دندناتا ہوا اپنے بیڈ روم سے باہر نکلا تھا ۔۔۔
جبکہ لائبہ بس ابھی ابھی اپنے روم سے نیچے آئی تھی۔۔۔
ناشتے کے لئے کر سی کھس کا کر بیٹھی ہی تھی وہ۔۔۔۔۔۔
جب عمر غصے سے لال۔۔
اگ بگولا ہوا نیچے آیا تھا وہ ہکا بکا سی عمر کو منہ کھولے دیکھ رہی تھی۔۔۔
اس نے تو ابھی تک اپنے پلان پر عمل تک نہ کیا تھا ۔۔۔۔
پھر یہ سب کیا ہورہا تھا؟؟؟؟
وہ پریشان سی ہو گئی تھی ۔۔۔
میں نے کیا کیا ہے ؟؟؟
وہ اس کے ہاتھ میں ایک لال رنگ کا لفافہ اورپیک شدہ چھوٹا سہ گفٹ دیکھ کر بولی ۔۔۔۔
جب کہ ائمہ اور سمیرا حیران پریشان سی کبھی عمر کو تو کبھی لائبہ کو دیکھ رہی تھیں ۔۔۔۔
دکھاؤ کیا ہے اس میں۔۔۔۔؟؟؟
سمیرا نے جلدی سے بولا وہ بادہ کہیں لڑائی پانی پت والی ہی نا شروع ہوجاتی ۔۔۔
میں بتاتا ہوں اس میں کیا ہے۔۔۔
آپ کی لاڈلی نے میرے لئے لو لیٹر لکھ کے میرے بیڈروم میں رکھ دیا تھا ۔۔۔۔
کیا ؟؟؟؟؟
میں نے تمہارے روم میں لو لیٹر۔۔۔۔ !!!
رئیلی آر یو ان یور سینسس ؟؟؟؟
شکل دیکھی ہے کبھی اپنی آئینے میں لنگور بندر اور بن مانس بھی تم سے زیادہ بہتر ہیں ۔۔۔۔
بڑے آئے لو لیٹر۔۔۔۔۔
میں لکھوں گی وہ بھی تمہارے لیے؟؟؟؟
؟؟
لائبہ منہ کھولے حیران پریشان سی عمر کو دیکھتے ہوئے بولے جا رہی تھی جو اس کے منہ میں آرہا تھا بولتی چلی جا رہی تھی۔۔۔۔
اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ یہ سب کچھ کیا ہے ۔۔۔
کیا لکھا ہے اسے پڑھ کر سناؤ مجھے ؟؟؟
ائمہ نے جلدی سے بات ختم کرنے کو کہا وہ سمجھ گئی تھی کہ کوئی نہ کوئی شرارت یا تو عمر کی طرف سے یا پھر لائبہ کی طرف سے ۔۔۔
اس لیے تھوڑا غصے میں عمر سے مخاطب ہوئی ۔
جب کہ سمیرا فون پہ بجنے والی بیل کی طرف متوجہ ہو کر فون رسیو کرنے چلی گئی تھی ۔۔۔۔۔
السلام علیکم۔۔۔!!
علیکم السلام !!
کیسی ہو تم؟ ؟؟
دوسری طرف فون پر اس کی چچازاد بہن اور سوہا کے کالج کی پرنسپل موجود تھی ۔۔۔
میں ٹھیک ہوں ۔۔
اللہ کے کرم سے ۔۔۔
میں نے تمہیں اس لئے فون کیا ہے کہ کل کے بجائے آج دوپہر دو بجے ہم لوگ نکل رہے ہیں ٹرپ پہ۔ ۔
سوہان مس ذکر کیا تھا کالج جانے سے پہلے ۔۔۔
مگر اتنی جلدی کیسے ؟؟؟؟
ابھی تو سوہا کالج کو نکلی ہے ۔۔۔۔
ہاں وہ آ گئی ہے کالج۔۔۔
میں تھوڑی دیر میں اس کو واپس ڈرائیور کے ساتھ بھیج رہی ہوں۔۔۔
اس کو پیکنگ کروا کے تم میری ذمہ داری پہ اجازت دے دو ۔۔
میرا خیال ہے میرے ساتھ تو تمہیں بالکل بے فکر ہو کر بھیج دینا چاہیے ۔۔۔۔
سوہا جتنی تمہاری بیٹی ہےاس سے کئ زیادہ وہ مجھے عزیز ہے ۔۔
سمیرا کچھ دیر تک تذبذب کا شکار رہی پھر آخر کار ہاں میں جواب دے کر فون رکھ دیا ۔۔۔
_____
وہ حیران تھی ارمغان کے اظہار محبت پر سمجھ ہی نہیں پا رہی تھی کہ کیا جواب دے ؟؟؟
فطری حیا اور جھجک آڑے آ رہی تھی ۔۔۔
ارمغمان کی ہتھیلی ابھی بھی اس کے سامنے پھیلی ہوئی تھی۔۔
بارش نے اس کی ہتھیلی کو پانی کے شفاف موتیوں سے بھر دیا تھا ۔۔۔
وہ تذبذب کا شکار ہوئی بےدردی سے اپنے ہونٹوں کوکچل رہی تھی ۔۔۔۔
بہت کچھ تھا اس وقت ایسا جو اس کو جھنجوڑ کر رکھ گیا تھا ۔۔۔
وہ دل سے چاہتی تھی اس کا ہاتھ تھامنا مگرپھر کئی سال پرانی سرگوشیاں اس کے کانوں میں کسی خوفناک چیخوں کی طرح گونج اٹھیں تھی ۔۔۔۔
اس کا دماغ بہت تیزی سے ایک لائحہ عمل طے کر چکا تھا اور اس نے ایک بھی لمحہ ضائع کیے بغیر اپنا پورا پلان ترتیب دے ڈالا تھا۔۔۔۔
جب وہ سب کچھ ترتیب دے چکی تھی تب ایک بھی لمحہ ضائع کیے بغیر اس نے ارمغان کے ہاتھ کو نرمی سے تھام لیا تھا ۔۔۔
مجھے قبول ہے آپ کی ہمسفری مگر میری ایک شرط ہے ۔۔۔
وہ بہت طول طور کر برسات میں بھیگتے ہوئے گہرے لہجے میں بولی تھی ۔۔۔۔
بہتے آنسو بارش کی وجہ سے اسی کا حصہ بن کر فجر کا بھرم رکھ رہے تھے ارمغان کے سامنے۔ ۔۔
مجھے تمہاری ہر ایک شرط منظور ہے۔۔۔
وہ اپنے ایک ہاتھ کو تھامے اس کے مرمریں ہاتھ پہ اپنا دوسرا ہاتھ رکھتے ہوئے یقین دلانے والے انداز میں بولا۔۔۔
میری جو شرط ہے وہ شاید آپ کے لئے عملاً بہت کٹھن ثابت ہوسکتی ہے۔۔۔
میرے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ تم مجھے مکمل کرنے کے لیے راضی ہو گئی ہو۔۔
مجھے تمہاری ہر شرط منظور ہے دل و جان سے۔۔۔
بس اب اور کچھ مت کہنا اورچلو اندر چلو بارش بہت زیادہ تیز ہو چکی ہے اور تم بھی بری طرح سے بھیگ چکی ہو۔۔۔
وہ اس کو مزید کچھ بھی کہنے کا موقع دیے بغیر اندر کی طرف اس کا ہاتھ تھا مے بڑھ چکا تھا ۔۔۔۔
جب کہ فجر کو لگا وہ یکدم ہلکی پھلکی ہوچکی ہے اور وہ اب منزل تک بہت جلد پہچنے کو ہے۔ ۔۔۔
"عنایہ تمہیں انصاف میں ہر حال میں دلائونگی"۔ ۔۔۔
❣
ادھر رکو کیوں اتنا واویلا مچا رہے ہو؟؟؟
میں پڑھ کے دیکھتی ہوں لاؤ دو۔۔۔
اس لیٹر میں ایسا ہےکیا آخر؟ ؟؟؟
سمیرا بحث کو سمیٹنے کی غرض سے جلدی فون رکھ کر میدان میں کو دی تھیں۔ ۔۔
عمر کے ہاتھ میں موجود خوشبو سے بسا ہوا لو لیٹر اس کے ہاتھ سے جھپٹنے کے انداز میں لے کر پڑھنا شروع کیا۔۔۔۔
جبکہ لائبہ بہت اچھی طرح سمجھ چکی تھی کہ یہ سب کچھ عمر ہی کا کیا دھرا ہے ۔۔۔۔۔
جو کہ اس نے اس کو پھنسانے کے لئے سرانجام دیا ہے۔۔۔۔
ڈیئر عمر۔ ۔۔!!
میں تمہاری ان جھیل سی آنکھوں کو جب دیکھتی ہوں تو دل کرتا ہے کہ کاش ۔۔۔۔۔
میں ایک مچھلی ہوتی توتمہاری ان جھیل نین کٹور گہری آنکھوں میں غوطہ لگاتی رہتی۔ ۔۔۔
تم میرے لئے اسقدر ضروری ہو جیسے۔۔۔۔!!
چرس کے بغیر چرسی ۔۔۔
تمہارے بن میری زندگی کا ہر لمحہ ہے سونا ۔۔
میری جان ذرا کم لگایا کرو مجھے تم چو نا۔ ۔۔!!!
تم جب چھیڑتے ہو میرے دل کے تار ۔۔۔۔۔
آس پاس بجنے لگتے ہیں میرے گیٹار۔۔۔۔!!
تم مجھے پسند ہو کھیر کی طرح ۔۔۔
لگتے ہو میرے دل میں آ کر کسی تیر کی طرح۔۔۔!!
ہر دم تم سے اب رہتا ہے دل کا جہاں آباد۔ ۔
نا جانے کونسا کر دیا ہے تم نے مجھ پر جادو ٹونہ ۔؟؟؟
💍تم اس نگینہ جیسے گول ہو۔ ۔۔
جلدی سے پہنادو نہ اب مجھے نگینہ۔ ۔۔۔!!!
جیسے جیسے سمیرا پڑھتی جا رہی تھی اس سمیت ائمہ کا بھی ہنس ہنس کے برا حال تھا۔۔۔
دونوں کے فضا میں کہکہےگونجنے لگے تھے ۔۔۔۔
عمر نے بھی منہ نیچے کر کے اپنے فلک شگاف کہکہے کو ضبط کیاتھا۔ ۔۔
جبکہ لائبہ جلے پیر کی بلی کی طرح عمر پر جھپٹنے کو تھی ۔۔
جب عمرنے معصوم سا چہرہ بنا کر پورے کمرے میں کھودنا پھلانگنا شروع کردیا تھا۔ ۔۔
بڑی امی بچائو مجھے اس ایٹم بم سے۔ ۔۔
چھوٹی مما میری مدد کرو ۔۔۔۔
وہ دوڑتے کودتے مدد طلب کررہا تھا۔ ۔۔
عمر جیری کی طرح آگے آگے تھا جبکہ لائبہ ٹام کی طرح اس کے پیچھے اس کو جلتےتوے پر فرائی کرنے کے لئے تیار پکڑنے کوبھاگ رہی تھی ۔۔۔
ائمہ نے بہت مشکل سے اپنی ہنسی روکتے ہوئے سمیرا سے کہا ۔۔۔
ان دونوں کا تو کام ہی یہی ہے ۔۔۔
بڑے بڑے ڈھینگ کے ڈھینگ ہو رہے ہیں مگر مجال ہے جو کبھی اپنی ان حرکتوں سے باز آئے ہو ۔۔
آئمہ کے لہجے میں پیارہی پیار تھا ۔۔۔
ٹھیک کہہ رہی ہیں آپی آپ ۔۔
ایسا کریں آپ شفا کو اٹھا لیں اور ساتھ حمزہ کو بھی۔۔۔
مجھے حمزہ کی بہت فکر ہے نہ جانے رات بھر گھر آیا بھی ہوگا واپسی؟؟
سمیرا نے پریشانی سے کہا ۔۔
رحمان صاحب کی وجہ سے میں کل رات بہت پریشان رہی ہوں مجھے آج تک سمجھ نہیں آ سکا ان کا رویہ ۔۔۔
سمیرا افسردگی سے گویا ہوئی۔۔۔۔
شفا کو سونے دو ابھی دوپہر کے وقت اٹھا دینا کھانے سے کچھ دیرپہلے۔۔
پتہ نہیں رات ٹینشن وپریشانی سے کب اس کی آنکھ لگی ہوگی ؟؟؟
آئمہ مامتا سے چورلہجے میں بولی تھی۔۔
مگر آپی حمزہ ۔ ۔۔۔۔؟؟
حمزہ کی تو بات ہی نہیں کرو پہلے کونسا وہ کبھی گھر میں نظر آیا ہے۔۔۔
جب دماغ درست ہو گا تو خود ہی آ جائے گا ۔۔۔
ائمہ نے سمیرا کو پرسکون کرنا چاہا مگر اندر سے اس کا دل خود بھی ہول رہا تھا حمزہ کو لے کر ۔۔۔۔۔
ارے ابھی میں آتی ہوں سوہا کی پیکنگ کر کےوہ ایک ہفتے کے لئے ٹر پ پہ جا رہی ہے اسلام آباد اور مری وغیرہ ۔۔۔۔
تمہیں رکو میں کر دیتی ہوں۔۔۔
تم جاؤ رحمان صاحب کو ناشتہ کرو ائو۔ ۔۔
میں جاتی ہوں سوہا کے روم میں ۔۔
مگر آپی رحمان پہ آپکا بھی برابر کا حق ہے۔ ۔۔
آئمہ کوئی بھی جواب دیئے بغیر سوہا کے روم کی طرف بڑھ چکی تھی ۔۔۔
سمیرا اس کی پشت کو پر سوچ نظروں سے دیکھتے ہوئے کچھ دوچنے لگی۔ ۔۔
وہ خوب اچھی طرح جانتی تھی کہ آئمہ کی آنکھوں کے گوشے اس وقت نمی لیے ہوئے ہونگے ۔۔۔
💞
وہ ایک لمبی سی انگڑائی لے کر بیدار ہوئی تھی اس وقت دوپہر کے ساڑھے تین بج رہے تھے ۔۔
جب اس کی آنکھ کھلی تھی کچھ دیر تک وہ حواس بحال کرنے کی کوشش کرتی رہی ۔۔
کلوروفام کی وجہ سے اس کو اپنا پورا وجود سن سہ ہوا محسوس ہو رہا تھا۔۔
سر بری طرح درد سے پھٹنے کو تھا ۔۔
کیسی ر ہی تمہاری شادی کے بعد کی پہلی مارننگ سویٹہارٹ؟؟؟
وہ ٹانگ پہ ٹانگ رکھے پیر کو ہلاتے ہوئے بیڈ کرائون سے ٹیک لگائےنیم دراز تھا ۔۔۔
ساتھ ہی وہ شفاء کو گہری و بےباک نظروں سےگھورتےہوئےسگریٹ کا کش لےکر دھنواں کچھ فاصلے پر برجمان شفا کے چہرے پر چھوڑا تھا ۔۔۔
وہ بری طرح سے کھانس اٹھی تھی حمزہ کی اس حرکت پہ۔۔
یہ کیا بیہودگی ہے ؟؟؟
یہ حرکت بھی بھلا بے ہودگی کے زمرے میں آتی ؟؟؟
بےہودگی تو وہ تھی جو میں نے کل رات کی تھی جان حمزہ ۔۔۔۔۔۔۔
ویسے میری رات تو تمہاری ان کالی گھٹائوں جیسی زلفوں کی گھنیری چھاؤں تلے بہت شاندار گزری ۔۔۔۔
وہ لہجے کو بھرپور معنی خیز بنا کر بولا ۔۔۔۔
کیا مطلب ہے تمہارا ؟؟؟؟
حمزہ کو اس کی آواز میں واضح لڑکھڑاہٹ محسوس ہوئی تھی ۔۔۔۔
وہ اس کے بدلے بدلے لب و لہجے پہ چونک سی تھی۔۔۔۔۔
پھر اسکی نظر سامنے موجود خوبصورت ڈریسنگ ٹیبل میں آویزاں آئینے میں جھلملاتے اپنے سراپے پر پڑھی تھی ۔۔
اس کا ہاتھ بے ساختہ اپنے بازو اور گردن تک گیا تھا شفا نے خوفزدہ ہو کر اپنے ارد گرد کا جائزہ لیا یہ اس کا تو کمرہ ہرگز بھی نہیں تھا ۔۔۔
رات کا پورا منظر اسکی آنکھوں میں کسی فلم کی طرح گھوم گیا تھا ۔۔۔
ھمزہ اس کی حواس باختہ سی کیفیت دیکھ کر تلخی سے مسکرایا اور پھر بڑی دلچسپی سے شفا کو دیکھنے لگا۔۔۔۔
جو روتے ہوئے سامنے ڈریسر کےشیشے میں نظر آتے اپنے عکس کو حیرت اور بے یقینی سے دیکھتی خود کو دیوانہ وار بے بس سی کیفیت میں چھوچھو کر دیکھ رہی تھی۔ ۔۔۔
وہ ابھی کچھ بھی سوچنے سمجھنے کی حالت میں بھی نہ تھی کہ جب حمزہ نے اسکی نازک سی کلائی کو اپنے ہاتھ کی فولادی گرفت میں لے کر اس کو خود پہ گرایا تھا ۔۔۔
ابھی بھی تمہیں اپنا آپ دیکھ کر مطلب سمجھ نہیں آرہا ؟؟؟
انٹرسٹنگ ۔۔۔۔!!
ویری ویری انٹرسٹنگ۔۔۔!!!
تم مجھے بتاؤ کہ یہ سب کچھ کیا ہے ؟؟؟؟؟
وہ کسی زخمی شیر کی طرح دھاڑ رہی تھی ۔۔
ڈیئر لومڑی ۔۔۔۔!!!
اس میں نہ سمجھنے والی کون سی بات ہے ؟؟؟
پہلے تم مس تھیں۔ ۔۔۔
رائٹ؟ ؟؟؟
وہ بھنویں اچکا کر اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے مزید بولا ۔۔۔۔
اب تم آفیشلی اور فزیکلی بھی میری مسز بن چکی ہو ۔۔
چلو اگر تم ابھی بھی نہیں سمجھیں تو کوئی بات نہیں ۔۔۔۔
وہ ایسے کہہ رہا تھا جیسے معمول کی بات کر رہا ہوں لہجے کو حد درجہ ہلکا پھلکا بنا کر کہنے لگا ۔۔۔
کہو گی تو عملاً بھی بتا سکتا ہوں ۔۔!!!
وہ اس کی گردن پہ پڑھے نشانوں پہ اپنی شہادت کی انگلی پھیرتے ہوئے اس کے چہرے کے سٹپٹائے ہوئے ایکسپریشنز کو انجوائے کرتے ہوئے کہہ رہا تھا ۔۔۔
ویسے ایک راز کی بات بتاؤں؟؟؟
میں تمہارے چہرے پر رقم سوالات اور تمہاری چہرے پر لکھی ہوئی سوچ کی تمام تر تحریریں پڑھ چکا ہوں ۔۔
کک کیا پڑھ چکے ہو؟ ؟!۔
وہ گھبرا کر نظریں نیچی کرکے بولی ۔۔۔
تو محترمہ جو تم سمجھ رہی ہو نا بالکل ٹھیک سمجھ رہی ہو ۔۔۔۔!!
گزری شب تمہارے ساتھ میرا بہت بہترین وقت گزرا ہے ۔۔
بارش کی وجہ سے تمہارے کپڑے تک بھی چکے تھے ۔۔۔۔
وہ اس کے تبدیل ہوئے لباس کی طرف اشارہ کربہت کچھ جتانے والے انداز میں گویا ہوا ۔۔۔۔
شفا کی آنکھیں حیرت و صدمے کے ملے جلے تاثرات لئے پھٹی کی پھٹی رہ چکی تھیں۔
وہ خود کو بلینکیٹ سے اچھی طرح ڈھانپتے ہوئے بری طرح سے سسک اٹھی ۔۔۔۔
تو کیا تم نے میرے وجود سے اپنی ہوس۔۔۔۔؟؟؟
شفا نے اس کو گریبان اپنی مٹھیوں میں پوری قوت سےجکڑتے ہوئے پوچھا تھا ۔۔۔۔۔۔
ہاں بالکل۔۔۔۔۔!!!!
بجا فرمایا آپ نے مسز شفا حمزہ چغتائی ۔۔۔۔۔۔
وہ اس کے ہاتھ اپنے کالر سے جھٹکتے ہوئے شاطرانہ ہنسی ہنستے ہوئے بولا۔۔۔۔۔
تم گرے ہوئے تو پہلے بھی تھے یہ تو میں جانتی تھی ۔۔۔!!
مگر تم اتنا گر جاؤ گے یہ مجھے پتا نہیں تھا ۔۔۔!!!
شفا نے جس قدر نفرت اور حقارت سے کہا تھا حمزہ کو خوب اچھی طرح اندازہ ہو رہا تھا کہ یہ نفرت اس کے اندر پل رہی تھی۔۔۔۔
جو اس وقت حمزہ کی ذات کو لے کر وہ اپنے لفظوں کے ذریعے باہر انڈیل رہی تھی۔۔۔۔۔
تم نے ایک بے بس اور لاچار لڑکی کی بے ہوشی کا ناجائز فائدہ اٹھایا ہے۔ ۔ ۔ ۔
تم کیسے مرد ہو ؟؟؟؟
بے ہوشی بھی وہ جو تمہاری خود کی ہی مجھے بخشی ہوئی تھی۔
میری ذات کوتم نے ایک فالتوکھلونا سمجھ کر میری عزت نفس کو روند کر رکھ دیا ۔۔۔۔
کچل ڈالا حمزہ تم نے میرے وقار کو۔ ۔۔۔
ہو گئے تم کامیاب اپنے مقصد میں۔۔۔
بہت بہت مبارک ہو تم کو اپنی یہ کسی کی بے بسی سے فائدہ اٹھائی ہوئی جیت ۔۔۔
وہ زور زور سے ہنسی تھی ۔۔۔
شفا کو اپنے وجود سے شدید کراہیت سی محسوس ہوئی تھی۔۔۔۔
فائدہ میں نے اٹھایا ہے۔۔۔۔۔
بے شک اٹھایا ہے ۔۔۔۔۔
یہ میں ڈنکے کی چوٹ پر کہتا ہو۔۔۔۔
ہاں ہاں میں نے فائدہ اٹھایا ہے۔۔۔۔۔۔!!
بہت دیر سے خاموشی سے اس کی بکواس سنتا حمزہ اب شدید طیش کے عالم میں ایک ایک لفظ کو چبا چبا کر ادا کر تابرہمی سے شفا کو دیکھتے ہوئے جنگھاڑاتھا۔۔۔۔۔
ایک بات اپنے چھوٹے سے دماغ میں بٹھا لو کہ۔۔۔۔۔
جس کو تم ناجائز استحکاق استعمال کرنا کہہ رہی ہوں نا؟؟؟؟
ذرا ایک دفعہ پھر سے اپنے کہے پر نظرثانی کرو ۔۔۔۔
میں نے جو بھی تمہارے ساتھ کیا گزری شب۔ ۔۔۔!!
اپنا جائز حق استعمال کرتے ہوئے کیا ہے ۔۔
شفا یکدم حمزہ کی کہی بات سن کر پھوٹ پھوٹ کر روتی ہوئی! ! پوری طرح سے ٹوٹ کر بھکرچکی تھی۔۔۔۔۔
اچانک حمزہ کا دل پسیجہ تھا اس کو نہ جانے کیوں شفا کی ٹوٹی بکھری حالت پہ ترس سہ آیا تھا۔ ۔
دل کے کسی کونے میں ایک پھانس سی چبھی تھی ۔۔۔۔
باہر ہوتے بیڈ روم کے دروازے پر زور زور سے کھٹکے کی آواز سن کر وہ واپس کسی ٹرانس کی کیفیت میں سے نکلا تھا ۔۔۔
اور پھر ایک دفعہ رحمان صاحب کا چہرہ اس کی آنکھوں میں گردش کر گیا تھا۔۔۔
چند لمحے قبل والی کیفیت یکدم ہوا ہو چکی تھی ۔۔۔۔
لو آ گئے تمہارے محافظ ۔۔۔!!!
جانا چاہو تو چلی جانا۔۔۔
میری طرف سے اجازت ہے ۔۔!!
مگر پہلے اپنی ماں سے پوچھ لینا کہ وہ" اب" تمہیں لے کر جانا بھی پسند کریں گی یا نہیں ۔۔۔؟؟
حمزہ کہتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا اور دروازہ کھول کر سامنے کھڑی سمیرا کو دیکھتے ہوئے سلام کرتا اپنے گریبان کے بٹن لگاتے ہوئے آگے بڑھ گیا ۔۔۔۔
جہاں چند قدم کے فاصلے پر رحمان صاحب غیض و غضب سے بھرے اسکے مقابل کھڑے ہوئے تھے۔۔۔۔۔
بہت اچھا ہوا جو آپ لوگ آ گئے۔۔۔!!
ویسے سناہے کہ۔ ۔
بیٹی کے گھر شادی کے دوسرے دن باپ تو ہرگز بھی ناشتہ لے کر نہیں جاتا ۔۔۔
ویسے مجھے لگا تھا کہ آپ میں اتنی غیرت تو باقی ہو گی ہی ۔۔۔
او معاف کیجیے گا میں بھول ہیخ گیا تھا یہ بات کہ آپکا تو غیرت نامی لفظ سے دور دور تک کوئی لینا دینا نہیں ہے ۔۔۔
میری ریسرچ کے مطابق یہ لفظ آپ کی ڈکشنری میں ہی ندارد ہے ۔۔
وہ تمسخر اڑاتا آگے بڑھنے ہی والا تھا جب رحمان صاحب نے اس کا راستہ روکا تھا ۔۔۔۔
❣
وہ جلدی جلدی اپنے ہینڈ کیری میں کپڑے بھر رہا تھا۔۔۔
سر جی سر جی میں آپ کی کچھ مدد کرو ؟؟؟ملازم ہانپتہ کانپتہ دوڑتا ہوا مصطفٰی کے بیڑروم میں آیا تھا کمرے سے آتی اٹھک پٹخ کی آواز یں سن کر۔۔۔۔
نہیں ضرورت نہیں مجھے اپنے کام خود کرنے کی عادت ہے مجھے۔ ۔
اور تم یہ بار بار کیوں کسی بوتل کے جن کی طرح آدھمکتے ہوں میرے سر پہ؟؟؟
کتنی دفعہ کہا ہے کہ میرے ایک دفعہ کہی ہوئی بات کو کان کھول کر سن اور سمجھ لیا کرو ۔۔
وہ پیکنگ کرتا جا رہا تھا اور ساتھ ساتھ ملازم کے اوپر گرجنا بھی نہیں بھولا تھا ۔۔۔
ملازم بیچارا آکر پچھتایا مشکل یہ تھی کہ اگر اب وہ کمرے سے جاتا تو بھی اس کے مالک کی شان کے خلاف ہی ہونا تھا۔۔۔
مصطفی کےبیجاہ غصے کی وجہ سے وہ ہر وقت اسکے سامنےبوکھلایا ہوا رہتاتھا ۔۔۔
وہ اب کبھی کوئی چیز ضرورت کی تھما رہا تھا مصطفی کو تو کبھی کوئی۔۔
جی سر میں بالکل ریڈ ی ہو رہا تھا مگر کیا اتنی اہم ٹریننگ ہے کہ آپ مجھے ایک گھنٹے پہلے انفارم کر رہے ہیں ۔؟؟؟
کاینڈلی اگر آئندہ کوئی بھی ایسی ٹریننگ ہو تو چار پانچ گھنٹے پہلے مجھے انفارم کر دیا کیجیے گا ۔۔۔!!!
کہنے کو وہ اس وقت اپنے ہیڈ سے بات کر رہا تھا مگر لہجہ ابھی بھی بھاری اور سخت تھا نرمی سے عاری ۔۔
جو بھی بات اس وقت اس کے دماغ میں گردش کر رہی تھی وہ اپنے ہیڈ سے اس نے بغیر کسی خوف و خطر کے کہہ ڈالی اور پھر خدا حافظ کہہ کر فون رکھ دیا ۔۔
تیزی سے اس نے اپنی پیکنگ مکمل کی تھی ۔۔
میں ضروری ٹریننگ کے لئے اسلام آباد جارہا ہوں ہوسکتا ہے اس سے آگے بھی جانا پڑ جائے ۔۔
امی جان ابو جان کا فون آئے تو ان کو بتا دینا اور یاد رہے ان سے کہہ دینا کہ مجھے باربار فون کر کے پریشان نہ کریں ہرگز بھی ۔۔۔
جب میں فارغ ہئو نگا تو خود ہی فون کر لوں گا لائبہ کو بھی بتا دینا ۔۔
وہ ہینڈ کیری خود ہاتھ میں لئے ملازم کو حکم جاری کرتا خدا حافظ کہتا بیڈروم سے جا چکا تھا ۔۔۔
________
سمیرا بت بنی شفا کے پاس لپک نے انداز۔ میں بیڈتک پہینچی تھی ۔
آمی سب کچھ ختم کچھ بھی نہیں بچا اپکی سوہا کے پاس۔ ۔
نہ ہی عزت نہ ہی وقار ۔۔۔
وہ ماں سے چمٹ کر سسک اٹھی تھی۔ ۔
کچھ بھی نہیں ہوا ایسا شفا جس کی وجہ سے تم اتنا واویلا کھڑا کر رہی ہو۔۔۔
سمیرا نے اٹھ کر سامنے موجود وارڈراب میں سے ایک بڑا سہ لان کا دوپٹہ نکال کر شفا کے وجود پر اچھی طرح ڈھانپہ تھا ۔۔۔
امی کیامیں اب اپنی بربادی پر روُں بھی نہ چیخوں میں نہ چلا ئوںبھی نہ۔۔۔؟؟
جس کو تم اپنی بربادی تصور کر بیٹھی ہوں میرے نزدیک تو وہ تمہارا اصل میں آباد ہونا ہے ۔۔۔
ھمزہ نے کچھ ایسا انوکھا بھی نہیں کردیا جو کہ تمہاری لیے بہت ہی انوکھا سے ثابت ہو رہا ہوں ۔۔۔
ھمزہ۔۔۔۔۔ ہمزہ۔۔۔۔۔ حمزہ بس کریں آپ میرے سامنے اس درندے نما شخص کا نام لینا ۔۔
آپ میرے محسوسات نہیں سمجھ سکتی ۔۔
مجھے اس وقت اپنے وجود سے کراہیت محسوس ہو رہی ہے ۔۔
سمیرا کا ہاتھ اٹھا تھا اور دھاڑ سے روتی ہوئی شفا کے چہرے پر اپنی انگلیوں کےنشان ثبت کر گیا تھا ۔۔
غلط۔۔
ایک دم خاموش۔ ۔۔
بس آب دم خاموش ایک الفاظ بھی نہ نکلے تمہارے منہ سے ہمزہ نے جو بھی کیا بالکل ٹھیک کیا ہے وہ اپنی جگہ حق بجانب ہے ۔۔
اس نے اپنے جائز حق استعمال کیا ہے ۔۔
وہ تمہارا مزاجی خدا ہے اور اس کے حقوق کی ادائیگی تم پر فرض ہے۔۔۔
اور میرے حقوق کا کیا ؟؟؟
وہ اپنے گال پہ ہاتھ رکھے پولی تھی جہاں ابھی کچھ دیر پہلے سمیرا کا ہاتھ اٹھ چکا تھا اور اس کے گال پہ انگلیوں کے نشان چھوڑ چکا تھا ۔۔
بیبی اس نے تمہیں تمہارے حق سے ہی نوازا ہے اور آب اپنا گھر بنانا سیکھو اپنے گھر کو بسانا اور آباد کرنا اب تمہاری ذمہ داری ہے ۔۔
میں ان ماؤں میں سے نہیں ہوں جو بیٹی کی ہر جائز و ناجائز بات پہ اس کو شہہ دے کر اس کا جانے انجانے میں گھر تباہ و برباد کر دیتی دوں۔ ۔ ۔۔
چلو اب اٹھو شاورلے کے جلدی سے باہر آو میں اب تمہارا یہ ستا ہوا چہرہ نہ دیکھو۔ ۔
🌹🌹🌹
میرا خیال ہے کہ یہاں اب سوگ کے بادل چھٹ جانے چاہیے ۔۔۔
حمزہ صبح کے بعد اب رات کے 8 بجے واپس کمرے میں آیا تھا اور شفاء کو بیڈروم سے ٹیک لگائے آنکھوں پہ ہاتھ رکھے دیکھ چڑھ کر بولا تھا۔۔۔
سوگ کے یہ بادل میری زندگی میں اب ہمیشہ سائے کی طرح منڈلاتے رہیں گے ۔۔۔
جب تک آپ جیسے شخص کا سایہ میرے ساتھ ساتھ موجود رہے گا ۔۔۔
اور یہ سب آپ ہی تو عنایت ہے مجھ پر ۔۔۔
بہت شکریہ آپ کی اس کرم نوازی کاویسے یہ بتاؤں گے کہ آپ اندر بدلے کی نام نہاد آنکھ کہاں تک بجھ چکی ہے ؟؟؟؟
وہ نرم لہجے میں مگر برہمی سے بولی ۔۔۔
کھلے لمبے فل لیئرز میں تروشیدہ بال،زردی مائل خوبصورت چہرہ جو رونے کی وجہ سے مرجھا سا گیا تھا ۔۔۔
کملایا سا وجود حمزہ کو لگا جیسے وہ ایک دفعہ پھر بکھرنے کو ہے ۔۔۔۔
شفاء کا کملایا وجود مٹے مٹے سے آنسو حمزہ کو ایک عجیب سی شرمندگی میں مبتلا کر گئے تھے ۔۔۔۔۔۔
میں اس وقت کسی بھی قسم کی بحث کے موڈ میں نہیں ہوں ۔۔
اور تمہاری بہتری بھی اسی میں ہے کہ تم بھی اب یہ رونا دھونا بند کرکے اٹھو اور جاکر میرے لیے کھانا بنائو ۔۔۔
وہ لہجے میں حد درجہ کڑواہٹ گھول کے بولا ۔۔۔
میں کسی صورت بھی تمہارے لیے کھانا نہیں بناؤ نگی۔ ۔۔
میرا کوئی تعلق اور رشتہ نہیں ہے تم سے ۔۔۔
شفا کا لہجہ ہڈدھرمی لئے ہوئے تھا ۔۔
وہ سلیپرز پاؤں میں اڑس کر حمزہ کی اوٹ میں سے نکلنے کو تھی ۔۔
جب حمزہ نے اس کا رخ اپنی طرف موڑے بغیر اس کی کلائی پشت پہ مروڑ کر اس کی ہی پشت پر لے گیا اور اپنی تھوڑی شفا کی شانے پہ ٹکا دی۔۔۔


0 comments:
Post a Comment