#ایمن_نعمان 📝
قسط 15
دیکھو حمزہ میری بات سنو شادی بیاہ جو ہے وہ کسی بچوں کا کھیل نہیں ہے ۔۔۔
تم کیوں بدلے اور انتقام کی آگ میں خود بھی جل رہے ہوں اور ایک معصوم لڑکی کی زندگی بھی داؤ پر لگانے کو تلے ہوئے ہو ؟؟؟
آدم بھائی یہ آپ کہہ رہے ہیں آپ تو میری زندگی کے ایک لمحہ سے واقف ہے ۔۔۔۔
میں میری شخصیت میرا وجود آپ کے سامنے کسی کھلی کتاب کی طرح روشن ہے ۔۔۔۔۔
تم ٹھیک کہہ رہے ہو مگر۔۔۔۔۔
صرف تم مجھے بس ایک جوابدے دو۔۔۔۔
کیا واقعی تمہارے یہ سب کچھ کرنے سے تمہارا ضمیر اور تمہاری روح بعد میں پھر مطمئن رہ سکے گی کبھی ؟؟
یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ۔ ۔۔
پھر تمہارے جیسا ہی کوئی شخص!!! تمہاری اگر بیٹی ہوئی تو وہ بھی تمہارا انتقام اسکے ذریعہ تم۔ سے پورا کرے۔ ۔۔۔۔۔
پھر کیا کرو گے ۔۔۔؟؟؟؟
اگر کوئی جواب ہے تو مجھے دو تاکہ میں بھی مطمئن ہوں ۔۔۔
دیکھو میں تم سے عمر میں اور تجربے میں بھی کافی بڑا ہو ۔
آدم اس کو سمجھانے کی اور اس کے دل کو موم کرنے کی تگ و دو کر رہا تھا ۔۔۔
مما تو بلاو بابا۔ ۔۔۔
بس بیٹا ابھی ماما آ رہی ہیں صبر تو کر جاؤں اب گڑیا ۔۔۔۔!!
ساتھ ساتھ وہ اپنی بیٹی کو بھی سنبھال رہا تھا ۔۔۔۔
بھائی مجھے آج تک وہ وقت یاد ہے جب میری ماں کی سسکیاں کمرے میں گونجا کرتی تھی ۔۔۔
میں برابر والے کمرے میں دبک کے بس کانوں پر ہاتھ رکھے بیٹھا رہتا تھا ۔۔۔۔
میرا دل چاہتا تھا کہ میں دروازہ توڑ کے باہر نکل کر اپنی ماں کے لیے کچھ کرسکوں ۔۔۔
دیکھو تم اپنا فیصلہ اللہ کے اوپر چھوڑ دو !!
وہ بہتر انصاف کرنے والا ہے۔۔۔۔
کیا تمہارا انصاف خدا کے انصاف جیسا ہو گا؟؟؟
ہرگز نہیں ۔۔۔۔!!؛
آدم بھائی میں آپ کو بتاؤں میرا دل کیا چاہتاہے؟ ؟؟
میرا دل چاہتا ہے میں اس دنیا کو آگ لگادوں تہس نہس کر دو ۔۔۔!!
شفا میری اب ضد کے ساتھ ساتھ جنون بھی بن چکی ہے !!میں اس کے ذریعے اس شخص کو اتنا تڑپاؤ گا اتنا تڑپاؤ گا کہ وہ تو کیا پھر کوئی بھی
دوسری آئمہ وجود میں نہیں آ سکے گی ۔۔
اس کی آنکھیں غصہ سےسرخ ہو رہی تھی ۔۔۔
واقعی تم دوسری عائمہ کو جود میں لانا نہیں چاہتے ہو ؟؟؟
تو پھر شفاء کو تم خود اپنے ہاتھوں سے دوسری آئمہ بنا رہے ہو ۔۔۔!!!اسکے بارےمیں کیا کہوگے؟ ؟
میری ایک بات سنو اور اس کو دماغ میں بھی بیٹھا لو ۔۔۔۔
ہوسکے تو اس پر غور ضرور کرنا !!عورت مرد کی ٹیڑھی پسلی سےبنی ہے ۔۔۔
اگر تم اس کو سیدھا کرنا چاہو گے تو وہ ٹوٹ توجائے گی مگر سیدھی نہیں ہوگی ۔۔۔۔!!
وہ اس کی کمر پہ تھپکی دیتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا ۔۔۔۔
ایک اور بات اگر تم نے شفا کے ساتھ کسی بھی قسم کا ظلم ڈھایا !!یاپھر اس کے او پر ہاتھ بھی اٹھایا نہ توتم میری ایک بات یاد رکھنا میرا اور تمھارا تعلق ختم ہو جائے گا ۔۔۔!!
میں شفا کو نہیں جانتا ۔۔
نہ ہی میں نے شفا کو آج تک کبھی دیکھا ہے مگر وہ ہے ۔۔!!
ایک لڑکی ایک معصوم لڑکی !!!
جو بھی ہے میری گود میں بھی بیٹی بیٹھی ہوئی ہے اور میں اتنا سنگدل ہرگز بھی نہیں ہوں کہ ایک بیٹی کا باپ ہوکر کسی معصوم لڑکی کے ساتھ ظلم وستم ہوتا دیکھ کر خاموش بیٹھا رہوں ۔۔۔۔۔
میں برداشت نہیں کرسکتا کسی بھی مرد کی بربریت ایک بے بس اور لاچار لڑکی پہ۔ ۔۔۔
اور ہوسکے تو اس کو بدلنے کے بجائے تمہیں خود کو بدلنا ہوگا ۔۔۔
مخلصانہ مشورہ ہے میرا تمہیں کہ ۔۔۔
تم اس معصوم لڑکی کی زندگی برباد کرنے کی بجائے اپنے ماضی کو بھول کر مستقبل کو بہتر سے بہترین بنانے کی کوشش کرنا ۔۔۔!!
آپ کہاں جا رہے ہیں نکاح کے بعد جائیے گا۔ ۔۔
اگر یہ واقعی محبت کا سودا ہوتا تو میں ضرور ہوتا تمہارے ساتھ ۔۔۔۔
آدم کو شدید غصہ آ رہا تھا حمزہ کی باتوں پہ وہ کیسے اتنا خود غرض ہو سکتا تھا کہ ایک لڑکی کو اپنے انتقام کی بھینٹ چڑھانے کے لیے پاگل ہوا جارہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔!!!
ایک آخری بات وہ مرد جو عورت پہ ایک دفعہ اٹھا لے تو وہ پھر کبھی بھی عورت کو عزت نہیں دے سکتا ۔۔۔۔!!
یہ کہہ کر آدم رکا نہیں تھا لمبے لمبے ڈگ بھرتا باہر جا چکا تھا ڈرائنگ روم سے۔ ۔۔
جبکہ صوفے پر بیٹھا حمزہ اس وقت شدید قسم کے طوفان کی زد میں تھا ۔۔۔۔
❤
وہ اس کو لے کر واپس چغتائی میشن پہنچ چکا تھا ان دونوں کو شام کے چھ بجے کے قریب گھر میں آتا دیکھ کر آئمہ اور سمیرا جلدی سے سجی سنوری شفاء تک پہنچی تھیں اور اس کو سہارا دے کر صوفہ پہ بٹھایا تھا ۔ ۔۔۔
ٹی پنک اور محرون کلر کے جوڑے میں وہ بہت پیاری لگ رہی تھی انوکھا ہی روپ اس پہ چڑھا تھا ۔۔۔
معصومیت اور کمسنی نے اس کے سراپے کو چار چاند لگا دیئے تھے ۔۔۔۔
چھوٹی ماما ٹھیک سے دیکھ لیں یہ آپ کی ہی بیٹی ہےنہ؟ ؟؟
وہ سمیرہ کو دیکھتے ہوئے ہنستے ہوئے بولا تھا اور ساتھ ہی موبائل پہ نمبر ملا کہ کسی سے بات بھی کرتا جا رہا تھا ۔۔۔
جبکہ پاس کھڑی ائمہ کے ماتھے پر بوسہ دے کر خود تیار ہونے اپنے روم میں جانے سے پہلے مڑا تھا۔
رحمان صاحب کدھر ہے ؟؟؟
بیٹا وہ بھی بس ابھی تیار ہونے کے لئے گئے ہیں روم میں ۔۔۔
وہ جواب سن کے بغیر کچھ بھی بولے اپنے کمرے کی سمت بڑھ چکا تھا ۔۔۔
آپی مجھے لگتا ہے ہمزہ اور رحمان کا اس نکاح کے ہونے سے تعلق بھی بہتر ہو جائے گا ۔۔۔
میری دعا ہے سمیرا ایسا ہی ہو۔۔۔!!
عائمہ پر سوچ لہجئے میں بولی تھی ۔۔۔
ماں تھی نہ بیٹے کی ایک ایک ادا سے واقفیت رکھتی تھی ۔۔۔۔
بیٹا تم فریش ہو کے آگئے کی طرح ۔۔۔۔۔؟؟
آئمہ نے سیڑھیاں اترتے مصطفی سے پوچھا تھا ۔۔
اسی نے اس کو عمر کے کمرے میں بھیجا تھا کیونکہ وہ ڈائریکٹ فلائٹ سے آرہا تھا اپنی ڈیوٹی سر انجام دے کر ۔۔۔
جی مامی میں بہت اچھی طرح سے فرش ہوا ہوں آج۔۔۔
مصطفی نے گھمبیر لہجے میں جواب دیا ۔۔۔
چلو بیٹا پھر ایک کام کرو لاؤنج میں بیٹھو میں نے شنو سے چائے بنوائی ہے!!
سکون سے پہلے چائے پی لو پھر نکاح کیلئے قاضی صاحب بھی آ جائیں گے۔۔۔
شنو سے چائے بنوائی ہے ؟۔؟
وہ چونک کر بولا تھا ۔۔۔
ہاں بیٹا اگر تمہیں شنو کے ہاتھ کی چائے نہیں پی نی ہےتو میں بنا دیتی ہوں ۔۔۔
آئمہ کو لگا تھا جیسے وہ ملازمہ کے ہاتھ کی چائے نہیں پیتا ۔۔۔۔
نہیں نہیں مامی ایسی کوئی بات نہیں میں پی لو گا ۔۔۔۔
اس نے جلدی سے اپنے لہجے اور چہرے کے تاثرات کو تبدیل کیا تھا ۔۔۔
🌷
شفاء بیٹا سائین کرو!!سمیرہ نے بیٹی کو نرمی سےکہا۔
بیٹا مولوی صاحب آپ سے بات کررہے ہیں رحمان صاحب نے قدرِ دھیمے مگر تنبیہی لہجے میں جتایا ۔
چررر ۔۔۔۔ ڈرائنگروم دروازہ دکھیلا گیا۔۔۔
اور وہ اپنے مخصوص شہانہ دل جلانے والے انداز میں مغرورانہ چال چلتا اندرداخل ہوا ۔۔۔
آپ لوگ 5منٹ دے سکتے ہیں مجھے ؟؟؟میں اکیلے میں کچھ اپنی ہونے والی بیوی سے بات کرنا چاہتا ہوں اور بے فکر رہیں اس کے بعد ایجاب و قبول کا مرحلہ بھی بہت آسانی سے طے پاجائے گا ۔۔۔۔وہ آنکھوں میں فاتحانہ چمک لئے کہہ رہا تھا ۔۔۔۔
رحمان صاحب نے ایک نظر بیٹی پہ ڈالی اور پھر ان (رحمان صاحب)کےاشارے پر سب ایک ایک کر کے ڈرائنگ روم سے باہر جا چکے تھے ۔۔۔
چلے جائیں آپ یہاں سے!! اب کیا لینے آئے ہیں؟ ؟ ۔۔۔شفاء ہذیانی انداز میں چلائی۔۔
کس بات کی اکڑ ہے تم میں ؟؟؟چھٹانک بھر کی تو تم ہو ۔۔۔وہ ہاتھ میں موجود ٹشو پیپر کے ذرےذرے کرتے ہوئے بولا جیسے کہہ رہا ہوں میرے نزدیک تمہاری وقعت اس سے زیادہ نہیں ہے ۔۔۔
ھمزہ تھوڑا اب اس پہ جھکا تھا اور اس کی کلائی بےدردی سے مروڑی۔ ۔۔
تم جیسا شخص اور کر بھی کیا سکتا ہے ؟؟؟وہ گرجی ۔۔۔
مجھ جیسا شخص کیا کیا نہیں کرسکتا یہ سوچو ۔۔۔۔۔
اس سوچ میں مت پڑو کہ میں کس حد تک جا سکتا ہوں ۔۔۔۔۔
اور کس حد تک تم کرو گے ؟؟؟؟
وہ آنکھوں میں بڑے بڑے موتی لئے رندھی ہوئی اواز میں کہہ رہی تھی ۔۔۔
شفاء تمہیں پتہ تمہارا مسئلہ کیا ہے؟؟؟
تمہیں اصل میں پیار کی زبان سمجھ میں نہیں آتی ۔۔۔۔
حمزہ سپاٹ مگر دل جلانے والے لہجے میں بولا ۔۔۔۔
تمہارا یہ طنطنہ میں چندی لمحوں میں ہوا کر سکتا ہوں ۔۔
تم جیسا کم ظرف شخص اور کر بھی کیا سکتا ہے؟؟ سوائے توڑنے کے کبھی کسی کو جوڑنا سیکھا ہی کہاں ہے ۔۔؟؟۔وہ تنفر سے گویا تھی ۔
بڑی بڑی باتیں مت کرو ایسا نہ ہو کہ منہ کی کھانی پڑے ۔۔اور تم تو اچھی طرح جانتی ہوں کہ میں کبھی بھی گری ہوئی چیز نہیں اٹھاتا ۔۔۔
اندر بھیج رہا ہوں قاضی صاحب سمیت پوری فوج کو شرافت سے تین دفعہ قبول ہے کہدینا۔ ۔۔
کسی قسم کا ڈرامہ کھڑا کیا تو تم مجھے تو بہت اچھی طرح سے جانتی ہی ہو !!آفٹراول بچپن ساتھ گزرا ہے !!میں کیا کر سکتا ہوں کیا نہیں اس کا اندازہ تو تمہیں بہت اچھی طرح سے ہوگاہی۔
ارے میرا نہیں تو !!اپنے اور میرے درمیان رشتے کا ہی مان رکھ لیتے ۔۔۔مسٹر حمزہ جلال۔۔۔
ہنہہ۔ ۔۔۔۔رشتہ۔۔۔۔۔ وہ طنزیہ مسکرایا۔۔۔۔
دس منٹ ۔۔۔۔!!!
وہ اپنی ہاتھ میں بندھی گھڑی کے شیشے پر اس کی انگشت شہادت سے ٹک ٹک کر کے بولا ۔۔۔۔
اچھی طرح دیکھ لو صرف اور صرف دس منٹ ہے تمہارے پاس میرے نکاح میں آنے کے لئے ۔۔۔۔۔
۔۔۔وہ اس کو اچھی طرح سے دھمکا کر واپس ڈرائنگ روم سے باہر جا چکا تھا ۔۔
کچھ ہی دیر بعد مبارک ہو مبارک ہو کا شور اٹھا تھا۔۔۔۔۔
تو گویا تم نے مجھے مات دے ہی دی ۔۔۔
آج میں شفا رحمان سے شفا حمزہ چغتائی بن گئی ہو ۔۔۔۔۔۔
کیا ایسے بنتے ہیں نئے رشتے ؟؟؟؟
بیٹا تمہیں بہت بہت مبارک ہو ۔۔۔۔
ائمہ اس کے پاس آکر بیٹھی تھی اور اس کو گلے سے لگا کر مبارکباد دی تھی ۔۔
بڑی امی مجھے پلیز میرے کمرے میں چھوڑنے چلیں میرے سر میں بہت بری طرح درد ہو رہا ہے میرا سر درد سے پھٹنے کو ہے ۔۔۔۔!!!!
وہ بے چارگی اور غم کی ملی جلی کیفیت میں بولی تھی ائمہ اچھی طرح سمجھ رہی تھی اس کے احساسات کو اس لئے بغیر کچھ بھی کہے سب کے بیچ میں سے اس کو اٹھا کر کمرے میں چھوڑ آئی تھی اس کے کمرے میں۔
❤
ٹھیک ہے تم جاؤ ۔۔۔
فجر نے ہاتھ ہلا کر زید سے کہا ۔۔۔
دیکھ لو تم آ جاؤ گی نہ کوئی تمہیں گھر تک چھوڑدے گانا ؟؟
زید کیا ہو گیا ہے؟ ؟؟
میں کوئی دودھ پیتی بچی تو نہیں ہو ں ۔۔
تم جاؤ آرام سے میں آ جاؤں گی ۔۔۔
مجھے اب پریشانی لاحق ہورہی ہے یار ۔۔۔۔
میں ایک کام کرتا ہوں کہ آج پھر اوف کر لیتا ہوا نہیں کرتا آج کی نائٹ ڈیوٹی ۔۔۔
میں کہہ رہی ہوں نا زید تم جاؤ میں آ جاؤں گی شفا کا ڈرائیور مجھے ڈروپ کر دے گا۔۔۔
تم کیوں پریشان ہو رہے ہو تم جاؤ اپنی ڈیوٹی کرو اور کتنی چھٹیاں ی کرو گے؟؟؟؟
پہلے ہی تین چھٹیاں تم کر چکے ہواس مہینے ۔۔۔۔ !!!
ڈپٹ کے بولی تھی ۔۔۔
یار دیکھ لو اچھا میں ایک کام کرتا ہوں میں بابا کو کہہ دیتا ہوں وہ تمہیں لے لیں گے ۔۔۔
بابا مجھے نہیں لے سکتے میں تمہیں بار بار کہہ رہی ہو! !بابا کی طبیعت آج کافی آپسیٹ ہے ان کو میں خود دوا کھلا کے آئی ہو ۔ ۔۔۔
یار تم میری بات کو بھی تو سمجھو دیکھو ابھی آتے وقت تم نے باہر کے حالات دیکھے؟ ؟
شہر کے مشہور پولیٹیشن کو زخمی کردیا ہے ۔۔
اگر وہ مرگیا تو شہر کے حالات بہت بگڑ جائیں گے ۔۔۔
زید کے چہرے پر پریشانی رقم تھی وہ کسی صورت بھی فجر کو اکیلا چھوڑنا نہیں چاہ رہا تھا ۔۔۔
تم پریشان نہیں ہوں اگر ایسے ہی حالات زیادہ خراب ہوئے تو پھر میں شفاء کے بابا کے ساتھ آ جاؤ نگی یا۔ پھر اس کے بھائی مجھے ڈراپ کردیں گے ۔۔۔
وہ کیا کہتا کہ وہ کس وجہ سے اس پر زور دے رہا ہے ؟؟؟
وہ اندر سے خوفزدہ ہو رہا تھا کیوں کہ شہر کے حالات ابھی بھی کافی حد تک بگڑ چکے تھے جگہ جگہ آنسو گیس اور گاڑیاں ٹائر وغیرہ جلائے جا رہے تھے ۔۔۔
زید کی پریشانی کی وجہ شہر کے حالات خراب ہونا نہیں تھے بلکہ فجر کا خوف تھا کہ اگر وہ آح کو دیکھ لے گی تو پھر اس کا ری ایکشن بہت ہی خطرناک قسم کا آنا تھا سب کے سامنے ۔۔۔۔
وہ لوگ شام چار بجے کے نکلے ہوئے تھے پہلے فجر نے گفٹ شاپ سے شفا کے لئے گفٹ خریدا تھا۔۔۔
اس میں ہی اس نے ڈیڑھ گھنٹہ لگا دیا تھا !!جب وہ لوگ گفٹ شاپ سے باہر نکلے اور شفا کے گھر تک پہنچنے کو تھے اس وقت اس کے ایک دوست کا فون آیا جس نے بتایا کہ مشہور پولیٹیشن وقار حسین کو گولی مارکر زخمی کردیا ہے۔۔۔۔
وقار حسین ملک کے نامور پولیٹیشنزمیں سے ایک تھا جس پر آج ساڑھے چھ بجے کے قریب قاتلانہ حملہ کیا گیا تھا ۔۔۔۔۔۔
میں کہہ رہی ہوں نہ میں دیکھ لوں گی تم جاؤ ۔۔۔
فجر اس کی اب ایک بھی سنی بغیر اندر جا چکی تھی شفا کے گھر کے ۔۔۔۔
جب کہ گاڑی میں بیٹھا زید بیچارگی سے اسکو اندر جاتا دیکھ کے رہ گیا ۔۔۔
❤
بھائی آپ مجھے چھوڑ کر نہیں جا سکتے پلیز بھائی آنکھیں کھولیں ۔۔۔۔
امی بھی چلی گئی اور اب آپ بھی چلے گئے ۔۔۔
رحمان اپنے بھائی کے جنازے کے پاس بیٹھا بری طرح سے تڑپ تڑپ کے رو رہا تھا ۔۔۔۔
صبر کرو صبر کرو بیٹا ۔۔۔۔
رحمان کے چچا نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کے تھپتھپا کے دلاسہ دیا ۔۔۔
چچا دیکھئے نہ امی میں بھی چلی گئی بھائی بھی چلے گئے مجھے کیوں چھوڑ گئے یہ دونوں ؟؟؟
بیٹا جانے والے کو کوئی نہیں روک سکتا اور تم یہ کیوں سوچ رہے ہوں کہ تم تنہا رہ گئے تمہاری بہن بھی تو ہے وہ بھی تو تمہارے ہی طرح اس کرب سے گزر رہی ہے تم بجائے اس کی ہمت بننے کے خود اس طرح سے ٹوٹ کر دیکھ رہے ہو ۔۔۔۔
ہمت کرو اور خود کو سنبھالو جلدازجلد تاکہ زینب بھی سنبھل سکے ۔۔۔
اس کا حال دیکھو وہ بالکل سکتے میں ہے پہلے ماں اور بھائی ۔۔۔
وہ ایک عورت ہے تم اس کو سنبھالو بجائے اس کے کہ تم خود ۔۔۔۔
چلو بیٹا اٹھو شاباش اپنے بھائی کے جنازے کو کاندھا دو۔ ۔
جتنا روُو گے اس کی روح کو تکلیف پہنچے گی اٹھو شاباش ۔۔۔۔۔!!!!
وہ جود پہ جبر و صبر کرکے اٹھ گیا تھا اور اپنے بھائی کو آخری آرام گاہ میں سپردخاک کر کے واپس لٹا پیٹاسہ گھر لوٹا تھا اور آتے ہی اپنے کمرے میں جا کربند ہوا تھا ۔۔۔۔
بھائی میں نہیں چھوڑوں گا میں اس عورت کو برباد کرچھوڑونگا!! جس نے میرے ہنستے بستے گھر کو اجاڑ کے رکھ دیا میری ماں اس غم میں چلی گئی ہے اور پھر میرا بھائی بھی۔۔۔۔
میرا وعدہ ہے آج آپ سے کہ میں اس عورت کو کبھی خوش نہیں رہنے دوں گا ۔۔۔
اس نے میرے بھتیجے کو میرے ہی بھائی سے نہیں ملنے دیا۔۔۔
میرے بھائی کی آخری خواہش تھی کہ وہ اپنا بیٹے کو دیکھ سکے مگر اس صورت میں وہ آخری خواہش تک نہیں نہیں ہونے دی ۔۔۔۔
اب آپ دیکھئے گا بھائی کہ وہ کس طرح ہر دن تڑپے گی اور ہر رات جئے کی ہر لمحہ مرے گی ۔۔۔۔۔۔
میں اس پر زندگی تنگ کر دوں گا ۔۔۔
وہ شدید جنونی ہو رہا تھا اور اپنے کمرے کی حالت ہر چیز ادھر سے ادھر پھینکتا توڑتا کسی بھی زاویے سے نہیں لگ رہا تھا کہ وہ ایک پڑھا لکھا باشعور شخص ہے ۔
❤
سوہا میری بات سنو ۔۔۔
سمیرا کچن میں آئی اپنی پھلجڑی صفت بیٹی سے مخاطب ہوئی۔۔
جو ایک منٹ میں دو شامی کا باپ اپنے پیٹ میں انڈیل چکی تھی ۔۔۔۔۔
جی جی بولیں میں سن رہی ہوں آپ کی بات ۔۔۔
وہاب فریج میں سے کولڈڈرنگ نکال کےمنہ لگاکر پیتے ہوئے بولی ۔۔
کتنی دفعہ کہا ہے تو میز سے گلاس میں نکال کر کیا کرو مگر تم ہو کہ چکنا کھڑا ہوں میری کسی بات کا اثر تک نہیں ہوتا تم پہ ۔۔
سمیرا کا دماغ گھوم چکا تھا ۔۔۔
ارے میری پیاری ماما آج تو مجھے معاف کردیں آئندہ ایسا نہیں کرو نگی ۔۔۔
وعدہ کا وعدہ ۔۔۔۔!!!
وہ ماں کی گالوں پہ چٹا چاٹ بوسہ دیتے ہوئے بولی ۔۔
اچھا نہ بس ٹھیک ہے زیادہ بٹرنگ کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔
سمیرا سوہا کے اس والحانہ پیار بھرے انداز پہ کچھ کچھ نرم پڑ چکی تھی ۔۔۔
اچھا اب تم میری بات سنو غور سے ذرا ۔۔۔!!!
تم کوئی بچی نہیں ہو خیر سے پچھلے مہینے ہی سولہویں برس میں لگ چکی ہو ۔۔۔۔
ماما کیا دوبارہ سے مجھے گفٹ دینے کا ارادہ ہے ؟؟؟؟
وہ ماں کے گلے میں بانہیں ڈالتے ہوئے بولی ۔۔۔
ہرگز بھی نہیں بلکہ تمہارے ہاتھ پیلے کرنے کا ارادہ ہے میرا ۔۔۔
ہیں واقعی ؟؟؟؟؟
اس نے ہیں پہ زور ڈالتے ہوئے بولا اور تھوڑا سا اٹھلآئی ۔۔۔۔
شرم کر لڑکی ماں کے سامنے کھڑی ہے اور دیدے دیکھو زرا جو شرم دکھائی دے ان میں ۔۔۔
سمیرا نے اس کی کمر پر ایک غموں کا جلتے ہوئے بری طرح سے چلتا رہتا کچھ لمحوں پہلے والی نرمی اب ہوا ہوچکی تھی ۔۔۔
خیر میرا دماغ کھانے کی ضرورت نہیں ہے مصطفی ایا ہوا ہے اس کے سامنے ذرا ڈھنگ سے رہنا ۔۔۔۔
کیوں ماما؟؟؟
اور ان کے سامنے اگرڈھنگ سے نہیں رہو نگی تو وہ کیا مجھے سزا کے طور پر اپنے جہاز کے اوپر بٹھا دیں گے اور پوری دنیا میں جہاز کو گولگول چکراتے پھرینگے ؟؟؟
وہ بولتے بولنے کے ساتھ آنکھوں کو بھی گول گول گھما رہی تھی۔۔۔
جیسے واقعی جہاز کی چھت پہ بیٹھی ہو اور جہاز ہوا میں اڑ رہا ہو۔ ۔۔
اس بات سے بے خبر کے کچن میں چائے کا مگ اور کباب کی پلیٹ رکھنے آیا مصطفی دروازے کی اوٹ میں ہو کر اس کی تمام گوہر افشانیاں سن رہا ہے ۔۔
وہ اپنے نام پہ چونک کر وہیں رک گیا تھا ۔۔۔۔
دیکھو میرا ۔اب کھوسہ جو ہے نہ آسمان کو چھو رہا ہے میں تمہیں ایک تھپڑ دیکھا دو گی میری بات کو سن لو اور اس پر عمل کرنا ۔۔۔
اچھا نہ بھولیں نہ جلدی پر نے کبھی بھی شروع ہونا ہے نا ۔۔
سوہا اب کچھ سنجیدہ ہو کر ماں سے بولی تھی ۔۔۔
دیکھو سوھا تمہارا جو ہے آپی نے پرپوزل بھیجا ہے مصطفی کیلئے اور میں چاہتی ہوں کہ یہ رشتہ ہو اس لئے کہ مصطفی سمیت آپی اور آپی کا سسرال بہت ہی اچھا اور قابل گھرانہ ہے ۔۔
اپنی پھوپھی کے گھر جاؤں گی میں اور تمہارے بابا بھی پرسکون رہیں گے۔۔۔
شفاء کو بھی ہم نے محفوظ ہاتھوں میں دے دیا ہے اب تمہاری باری ہے اس لئے کسی بھی قسم کی بچکانہ اور فضول حرکت مصطفی کے سامنے نہیں ہونی چاہیے ۔۔۔
یہ میری وارننگ ہے تمہارے لئے اگر تم نے کوئی بھی الٹی سیدھی فضول حرکت کی تو یاد رکھنا تمہارے بابا جو ہے پھر تمہاری ایسی کلاس لیں گے کہ تم اگلے اور پچھلے تمام گناہوں سے توبہ کر بیٹھ گئی ۔
۔۔
مجھے نہیں کرنی مما مصطفی بھائی سے شادی کسی صورت بھی نہیں۔۔۔۔۔
آپ نے ان کو دیکھا ہے مجھ سے کتنے بڑے ہیں ؟؟؟
کیوں کیوں نہیں کرنی اور بڑے ہونے سے کیا ہوتا ہے؟؟
حمزہ کو دیکھا ہے پورے8 سال بڑا ہے شفا سے ۔۔
ماما مجھے ہواؤں میں اڑنے والے اور ہواؤں سے لڑنے والے لوگ نہیں سخت نہ پسند ہیں ۔۔
میرا دماغ مت کھاو مجھے یہ چائے اور کباب باہر لے کر جانے ہیں شرافت سے اپنا دوپٹہ سہی سے اٹکا کر شانوں پہ باہر آ جاؤ ۔۔۔۔
سمیرا کہہ کر باہر نکلتی چلی گئی تھی ۔۔۔
جب کہ حمزہ سمیرا کو باہر جاتا دیکھ کر خود اس کے جانے کے فوری بعد کچن میں داخل ہوا تھا اور ایک بھی لمحہ ضائع کیے بغیر سوہا کی کلائی سختی سے تھام کر اس کو ڈرٹی کچن کے اندر لے کر گھسا تھا اور دروازہ اندر سے لوک کرچکا تھا ۔۔۔
ا۔ ۔۔۔۔آ۔ ۔۔۔۔آپ ؟؟؟
وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے مصطفی کو دیکھ رہی تھی جس کا مضبوط ہاتھ اس کے لبوں پر تھا ۔۔۔
ہاں میں وہ اس کے جھمکے کو شرارت سے چھیڑتے ہوئے بولا جبکہ چہرے کے تاثرات کافی بر ہمی لیے ہوئے تھے ۔۔۔
یہ پہلی دفعہ تھا کہ کسی لڑکی نے اس کو ریجیکٹ کیا تھا اس سے پہلے وہ خود کئی لڑکیوں کے دل قدموں تلے روند ھ چکا تھا ۔۔۔
تمہیں ہواؤں میں اڑنے والے اور ہواؤں سے لڑنے والے لوگ نہیں پسند ہے نا ؟؟؟
وہ اس کی ہرنی کی طرح سے سہمی آنکھوں میں اپنی آنکھیں ڈال کر بولا تھا ۔۔۔۔
جبکہ ہاتھ ہنوز اس کے پھڑپھڑاتے لبوں پر تھا ۔۔۔۔
بلیک کرتی میں وہ غضب ڈھا رہی تھی ۔۔
دودھ جیسی اجلی رنگت مزید ر وئی کی طرح ہو گئی تھی!! جبکہ گال سرخ ہو رہے تھے ۔۔
ڈر خوف اور وحشت اس کی آنکھوں میں رقم تھی ۔۔۔۔۔
پتہ ہے تم ہیں؟ ؟
تم بہت ہواؤں میں اڑھ رہی ہو۔۔۔۔
لیکن پھر بھی نفرت تمہیں ہواؤں سے باتیں کر تے لوگوں سے ہے۔ ۔۔
اب تمہارا جو ہے واقعی آسمان سے زمین پر گرنے کا وقت آ رہا ہے ۔۔۔
سا تھ ہی وہ اس کے کانوں میں پڑے جھمکے اتار کر اس کی ہتھیلی پے رکھتے ہوئے بولا تھا ۔۔
یہ سجنا اور یہ سنور نہ اب صرف تم میرے لئے کرو گی ۔۔۔
اور جب تک تم میرے نام نہیں لکھی جاؤں گی تب تک میں تمہیں ان کیل کانٹوں سے آراستہ نہ دیکھو آئندہ۔۔۔
وہ کسی نازک سی گڑیا کی طرح اس کی گرفت میں جکڑی تھرتھرا رہی تھی ۔۔۔
وہ کم عمر ضرور تھی مگر بیوقوف ہرگز نہ تھی ۔۔۔
مصطفی کی پیغام دیتی آنکھیں اس کو بہت کچھ باور کرا گئی تھی ۔۔۔۔
اس کی روب دار پرسنیلٹی اور چہرے پہ ہر وقت رقم کرخت تاثرات کی وجہ سے وہ ہر پل اس سے خوفزدہ رہا کرتی تھی ۔۔۔۔۔
مجھے چھوڑئیے پلیز کوئی آ جائے گا ۔۔۔
وہ اس کے ہاتھ کی گرفت اپنی لبوں سے ڈھیلی ہوتے دیکھ چھٹ سے پیچھے ہو کر آہستہ سے بولی تھی ۔۔۔
اور اگر نہ چھوڑو تو ؟؟؟
بڑا خیال ہے تمہیں کسی کے آنے کا ۔۔
آئندہ جب بھی تم شاور لینے جاؤ تو یاد سے میری بات اپنے حافظے میں محفوظ کر لو کہ دروازے کو اچھی طرح لاک کرکے جاؤں گی ۔۔
شنو تو کیا کسی سے بھی تم اپنے کپڑے یا چیزیں نہیں مانگوں گی ۔۔۔
وہ بر ہمیں سے کہتا اس کا دوپٹہ ٹھیک سے اسکے شانوں سے پھیلا کے پیچھے ہٹا تھا ۔۔۔
سوہا کو لگا تھا جیسے کسی نے اس کے کانوں میں پگھلا ہوا سیسہ انڈیل دیا ہو ۔۔
خفت اور شرم سے اس کا وجود سرد پڑ چکا تھا ۔۔۔
اس کو اپنے پیروں سے جان نکلتی ہوئی محسوس ہوئی ۔۔۔
تت۔ ۔۔ تو کیا آپ۔؟؟؟
وہ اٹک اٹک کے بولی تھی ۔۔۔۔
بجا فرمایا تھا میں ہی تھا تمہیں تمہاری ایک مطلوبہ چیز فراہم کرنے والا ۔۔۔۔۔۔
سوہا کا بس نہیں چل رہا تھا کہ زمین پھٹے اور وہ اس میں سما جائے
❤
مبارک ہو بیٹا ہوا ہے زچہ اور بچہ ماشااللہ دونوں اب خطرے سے باہر ہے ۔۔۔
آپریشن تھیٹرز سے باہر آئی ڈاکٹر نے آکر خوشی کی خبر سنائی تھی ۔۔
داود تیزی سے بڑھا تھا ڈاکٹر کی طرف ۔۔۔۔
اس کو لگا تھا کہ باہر ای ڈاکٹر نے اس کے کانوں میں جیسے رس گھول دیا ہو ۔۔۔
کیا میں اپنی وائف سے مل سکتا ہوں ڈاکٹر صاحبہ ؟؟؟
جی ابھی کچھ دیر میں انکو روم میں شفٹ کر دیا جائے گا اس کے بعد آپ ان سے مل سکتے ہیں ۔۔۔۔
یہ لیجیے ۔۔
پیچھے سے آپریشن تھیٹر سے باہر آئیں نرس نے ننہ گل گوتھنا داود کی طرف بڑھایا تھا ۔۔۔
داود نے ننھے وجود کو گود میں لے کر اپنے سینے سے لگا کہ اللہ تعالی کا شکر ادا کیا تھا کہ۔۔۔
اس نے اس کی اولاد اور اس کی بیوی دونوں کو اپنے حفظ و امان میں رکھا ۔۔۔۔
اور دونوں کو زندگی بھی ایک نئی زندگی عطا کی ۔۔۔
❤
ارمغان کافی لیٹ پہنچا تھا رات کے ساڑھے آٹھ بجے کے قریب وہ رحمان منشن میں تھا ۔۔۔
آ گئے ہیں آپ ابھی کیوں ای نکاح کے بعد آجاتے کیا ضرورت تھی آنے کی ؟؟؟
سوہا نے اس کو دیکھتے ہی جھپٹنے کے انداز میں آڑے ہاتھوں لیا تھا ۔۔۔
یارب سدیر ہوگئے تھوڑا سا کام آگیا تھا اس میں لگ گیا تھا مگر دیکھو آ تو گیا نا ۔۔۔
وہ چہرے پہ حد درجہ بیچارگی لئے کہہ رہا تھا ۔۔۔۔
سب کو مبارکباد دینے کے بعد اس کی نظر لاؤنج میں ایک صوفی پیٹ کی فجر پہ پڑی تھی جو اس وقت ہنس ہنس کے آئمہ کے ساتھ محوِ گفتگو تھی ۔۔۔
ارمغان بے خود صاف ہو کر اس کی طرف بڑھا تھا ۔۔۔۔
اسلام علیکم کیسی ہیں آپ ؟؟؟
وعلیکم السلام میں ٹھیک ہوں ۔۔
فجر نے بالکل نارمل انداز میں اس کو مسکرا کر سلام کا جواب دیا تھا ۔۔۔
طبیعت کیسی ہے اب آپ کی ؟؟
الحمدللہ میں اب بالکل ٹھیک ہوں ۔۔
بیٹھو بیٹا کھڑے کیوں ہو ؟؟
ائمہ نے اٹھتے ہوئے اپنے سامنے والی خالی نشست پہ ارمغان کو بیٹھنے کا اشارہ کیا تھا ۔۔۔
شکریہ آنٹی ۔۔۔
وہ موبائل سامنے رکھی ٹیبل پر رکھتے ہوئے بولا ۔.
وہ ابھی مزید کوئی بات شروع کرتا کہ فجر کا موبائل بج اٹھا تھا ۔۔۔
السلام علیکم بابا کیسی طبیعت ہے آپکی ؟؟؟
اچھا چلیں ٹھیک ہے میں نکلتی ہوں پھر ۔۔۔
وہ بابا کی پوری بات سننے کے بعد اتنا ہی بولی تھی جبکہ چہرے پر پریشانی ہویدہ تھی ۔۔۔
کیا ہوا سب خیریت تو ہے نا؟ انکل کی طبیعت ٹھیک ہے؟؟؟؟
جی آپ ابھی باہر سے آرہے ہیں نہ کیسے حالات ہیں باہر کے ؟؟؟
وہ پریشانی سے پوچھ رہی تھی ۔۔
حالات ٹھیک نہیں ہے کافی ہنگامیں اور جلاو گھیراو ہورہا ہے ہر طرف ۔۔۔
او مائی گڈنیس۔۔۔!!
مجھے ابھی نکلنا ہوگا ۔۔۔
وہ کہتے کہ ساتھ ہی اٹھ کھڑی ہوئی تھی اور تھوڑے فاصلے پر کھڑی آئمہ اور سمیرا کے پاس جا کر بولی۔۔۔۔
آنٹی حالات خراب ہو گئے شہر کے کافی پلیز مجھے گھر چھوڑ وادینگی کسی سے ۔؟؟
ہاں بیٹا ہم بھی یہی بات کر رہے تھے کہ شہر کے حلات اچانک خراب ہونے کی وجہ سے کافی زیادہ ہنگامے شروع ہوگئے ہیں ۔۔
میں ڈرائیور سے کہتی ہو وہ تمہیں چھوڑ دے گا ۔۔۔
آپی ڈرائیور ہوگا تب چھوڑے گا نا۔۔۔۔
وہ تو زلیخا خالہ کو لینے گیا ہوا ہے ان کے گھر ۔۔۔
سمیرا نے پریشانی سے بتایا ۔۔
عمر بھی ابھی تک نہیں آیا ۔۔۔
اب کیا کرو؟؟
دونوں تینوں پریشان ہو بیٹھی تھی ۔۔۔
آیکس کیوز می ۔ ۔۔۔!!
اگر آپ لوگ برا نہ مانیں تو میں آپ کی کوئی مدد کر سکتا ہوں ؟؟؟
ارمغان اٹھ کر ان تینوں کی طرف بڑھایا تھا ۔۔۔
لو دیکھو ٹینشن ختم ہوگئی۔۔۔
ارمغان تم اس کو باحفاظت گھر چھوڑ آئو بیٹا باہر کےحالات بہت خراب ہیں اور اس وقت کو کوئی بھی نہیں ہے جو فجر کو باحفاظت طریقے سے گھر چھوڑ سکے ۔۔۔۔۔
سمیرا نے ھانجے سے پوچھا ۔
آنی آپ کریں ۔۔
فجر میں آپ کو رو کر دیتا ہوں ۔۔
❤
وہ لوگ ابھی آدھے راستے کو ہی پہنچے تھے کہ سامنے بری طرح سے ٹائر جل رہے تھے ارمغان پہلے ہی دیکھ چکا تھا۔۔۔
اس نے گاڑی کا رخ فجر کے گھر کو جاتے راستے سے موڑا تھا ۔۔۔
وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ فجر جو ہے وہ پآگ سے ڈرتی ہے۔۔۔
اسی لئے اس کی نظر پڑھنے سے پہلے ہی اس نے گاڑی دوسری سمت پہ ڈال دی تھی ۔۔۔
رات کے 10 بجنے کو تھے ۔
حالات خراب ہونے کی وجہ سے ہر سو سناٹا فاٹا ۔۔۔
اب ارمغان کا رخ اپنے گھر کی طرف تھا ۔۔
جب کہ ائمہ آنکھیں موندے سیٹ سے ٹیک لگائے ہوئے تھی ۔۔۔
وہ یہ دیکھ ہی نہ سکی کہ گاڑی اب کس سمت پہ
رواں دواں ہے ۔۔۔
❤
رخصتی سے محض ایک گھنٹہ پہلے عمر اور لائبہ گھر پہنچے تھے ۔۔
سب کو سلام کر نے کے بعد سیدھا شفا کے کمرے کی طرف بڑھا تھا اس کو جلد از جلد شفا سے مل کر اس کو اپنے سینے سے لگانے کی خواہش ہو رہی تھی ۔۔۔۔۔۔
مگر جیسے ہی وہ شفا کے کمرے کے باہر پہنچا تھا ۔۔
اس کو لگا تھا جیسے اندر سے شفا کے رونے کی آواز آرہی ہے ۔۔
وہ اندر جانے کے لیے کھٹکا کرنے ہی والا تھا جب اس کے قدموں کو کسی اور کی بھی کمرے سے آتی ہوئی آواز نے روک لیا تھا اندر جانے سے ۔۔۔۔۔
عمر نے جو کچھ اپنے کانوں سے سنا تھا۔۔۔
کمرے میں موجود دونوں فریقین کی گفتگوکوئی میں معمولی پیمانوں پر مقید ہرگز نہ تھی!! اب اس کا رخ سیدھا رحمان صاحب کے کمرے کی طرف
تھا ۔۔۔۔۔۔۔
❤
کیا شفا کی رخصتی ہو سکے گی آج ؟؟؟
______
یا وحشت ۔۔۔!!
کہتے ہیں لڑکیاں جلدی بڑی ہو جاتی ہیں مگر تمہاری تو عقل بالکل ہی فارغ ہے۔۔۔ فارغ ہی نہیں بلکہ ٹخنوں میں لے کر دنیا میں تشریف لا آئی ہو کیا ؟؟؟؟
وہ تیزی سے سیڑھیاں عبور کر رہی تھی ہاتھ میں اس کے نکاح کے چھواروں کا تھال گلاب کی پتیوں سے سجا ہوا تھا ۔۔۔۔
وہ اندھا دھند اتر رہی تھی۔۔ائمہ نے اسکو اوپر سے تھال لانے کو کہا تھا !!سب لوگ اس وقت باہر لان میں موجود تھے۔۔
گھر میں اندر کوئی بھی نہ تھا کیونکہ نکاح کے بعد کھانے کا دور شروع ہوا تھا ۔۔۔۔
گھر کے سبھی افراد مہمانوں کی خاطر تواضع میں مصروف باہر قرآن میں تھے ۔۔۔
جب اس کا پیر اپنے ہی بیل باٹم ٹراؤزر میں الجھا تھا اور وہ پہلی ہی سیڑھی پر قدم رکھتے مصطفی کے اوپر بری طرح سے جا گری تھی۔۔۔۔
جس کے نتیجے میں وہ اور مصطفی اب دونوں زمین پہ گرے تھے۔ ۔۔۔
سوہا کا دوپٹہ اڑ کے ہوا میں لہرایا تھا اور چھواروں کی ٹرے بھی اس کے ہاتھوں سے چھوٹ چکی تھی وہ مصطفی کے اوپر آوندھی گری ہوئی تھی ۔۔۔
ہوا گلاب کی پتیوں کو ان کے اوپر نچھاور کر رہی تھی اور چھوارے اردگرد بکھرچکے تھے!! جبکہ سوہا کابلیک کرتی پہ لیا گیا بڑا سا ریڈ کلر کا دوپٹہ کھاواں میں اڑھ کر اوپرلہراتا ہوا ان دونوں کو خود میں ڈھانپ چکا تھا ۔۔۔۔
ہواؤں میں جہاز تو میں چلاتا ہوں ۔۔۔
لیکن ہواؤں سے لڑنے اور ہوا میں پیدل چلنے کی عادت شاید تم نے مجھ سے ادھار لے لی ہے ۔۔۔
وہ زمین بوس ہوئے غرآیا تھا ۔۔۔
مسٹر پائلٹ بقول آپکے میں دماغ سے فارغ ہو۔۔۔
تو آپ تو بڑے دماغ والے ہیں نہ دن رات جہاز ادھر سے ادھر اڑاتے پھرتے ہیں۔۔۔
آنکھیں تو آپ کو بھی کھلی رکھنی چاہیے ۔۔۔
پھر کیوں ان آنکھوں کے بجائے بٹن لیے گھوم رہے ہیں ؟؟؟
وہ ا ب چھڑ کے دوبدو بولی تھی چند گھنٹے پہلے والی اپنی عزت افزائی اسکو پھر سے یاد آ چکی تھی ۔۔۔
وہ تو شکر تھا باھر ڈیگ پہ گانے بجنے کی وجہ سے تھال کے گرنے کی آواز باہر تک نہ پہنچی تھی ورنہ آج تو سوہا کی شامت پکی تھی۔ ۔۔
مس ہوا ہوائی اب ذرا آپ میرے اوپر سے اٹھیں گی۔۔ تاکہ میں آپ کے اس 200کلو کے وزنی وجود سے آزاد ہو سکوں؟ ؟؟
ویسے جتنی تم مجھے چھوٹی اور معصوم لگتی تھی نہ سوہا اج سے پہلے ۔۔۔۔
لگتی تھی سے کیا مراد ہے آپ کی؟؟!؟
میں معصوم ہوں اور آپ سے کئی سال چھوٹی ہوں ۔۔۔۔۔۔
سوہا مصطفی سے پورے 14 سال چھوٹی تھی ۔۔
اور جب اس اس کے پرپوزل کے لئے گھر میں بات ہوئی تو مصطفی نے کوئی خاص دلچسپی بھی ظاہر نہ کی تھی!! اس کی شروع سے ہی یہ خواہش تھی کہ جو اس کے ماں باپ اس کیلئے فیصلہ کریں گے وہ بہتر ہوگا ۔مگر سوہا کو دیکھنے کے بعد اس کو اپنی ماں کی یہ خواہش کوئی بری بھی نہ لگی تھی بلکہ ایک اچھا فیصلہ اس کے مقدر میں ہونے کو جا رہا تھا ۔
اب پتہ چلا ہے کہ تم پوری کی پوری بڑی والی پھلجڑی ہو ۔۔۔
وہ کپڑے جھاڑتے ہوئے اب اس کواٹھتے ہوئے تنگ کرنے کو بولا تھا ۔۔
ہاں تو اگر میں پھلجڑی ہو تو کیوں میرے لئے اپنا پرپوزل بھیجا! ؟؟
سوہاکسی لڑا کا طیارے کی طرح کھڑی کمر پہ ہاتھ رکھے اس سے پوچھ رہی تھی ۔۔۔
اچھا ہوا میں نے امی کو منع کردیا ورنہ آپ جیسے اکڑوں اور کھڑوس پائلٹ کے ساتھ میری زندگی تو بالکل ہی ۔۔۔۔۔
وہ دونوں ہاتھ جھاڑتے ہوئے رخ پھیر گئ۔ ۔۔
ابھی وہ مزید کچھ بولنے کو تھی جب اس کی بات ادھوری رہ گئ اور مصطفی نے اچانک اس کی کلائی کو اپنے ہاتھ کی گرفت میں لے کے خود سے قریب کیا تھا ۔۔
سوہا کی کمر کے گرد اپنا بازو حمائل کر کے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے بولا ۔۔
پہلے تمہارے اختیار میں تھا میرے بھیجے گئے پرپوزر پہ ہاں یانہ کہنا ۔۔۔۔
مگر اب یہ اختیار بھی میں تم سے لیتا ہوں ۔۔
پہلے میں سوچ رہا تھا کہ تم بہت معصوم ہو اور کمسن بھی مگر تم تو کہیں سے بھی معصوم لڑکیوں کی فہرست میں نہیں آتی ۔۔
اور مجھے ٹیڑھی انگلیوں کو بہت شوق ہے سیدھا کرنے کا ۔۔۔۔
مصطفی کی مزاج کی سختی دوبارہ عود کر آئی تھی مگر وہ چاہ کر بھی سوہا کے اوپر اپنا غصہ نکال نہیں پا رہا تھا ۔۔۔
ورنہ اس کے گھر میں تو کیا اس کے اسٹاف کے لوگ بھی اس کے غصے سے کانپتے تھے ۔۔۔
سوہا وحشت زدہ سی اس کی آنکھوں میں دیکھتی بری طرح اس کی بانہوکہسار میں کی تھرتھرا رہی تھی۔۔
آج پہلی دفعہ اس کو کسی مرد نے ہوا تھا ۔۔
چہرے پر کچھ لمحوں پہلے والی تیزی اور طراری مفقود تھی ۔۔۔۔۔
ماتھے پہہ ننھی ننھی موتی چمکے تھے ۔۔۔۔
مصطفی چند ثانیوں کے لیے ساکت رہ گیا تھا ۔۔۔
اس کے گلابی سرخ چہرے سے پھوٹی پڑتی حیا کے سنہری اور گلابی رنگوں کو دیکھ کرو ہم بھوت صاف رہ گیا تھا ۔۔۔
چند لمحوں تک تو وہ اپنی پلکیں جب اپنا ہی بھول گیا تھا ۔۔
کیا خوبصورت خدا نے تخلیق کی تھی ۔۔۔
کمسنی اور معصومیت اس کے حسن کو مزید چار چاند لگائے دے رہی تھی ۔۔۔۔
وہ یکدم اپنے حواسوں میں بڑی مشکل سے لوٹا تھا اور اس سے دور ہٹ کے کھڑا ہوا تھا ۔۔۔
تم سمیت تمہارا یہ دلکش وجود بہت جلد پورے استحکاق سے ایک دفعہ پھر میری ان مضبوط بانہوں میں ہو گا اور اس وقت تمہاری ایک من مانی بھی نہیں چل سکے گی ۔۔۔۔
بس آج کے دن میں اور اس دن میں فرق اتنا ہوگا کہ اس دن تمہاری بہن کے نکاح کی وجہ تمہارا نکاح ہوگا۔۔۔
وہ بھی کیپٹن مصطفی دلاور کے ساتھ ۔۔۔
یہ لو یہ چھوارا کھاؤ عنقریب تمہارا بھی نکاح ہونے والا ہے ۔۔
پھر اپنے نکاح کے چھوارے کھلاؤں گا تمہیں ۔۔۔
وہ ہاتھ میں پکڑا واحد چھوارا اس کے منہ میں زبردستی ٹھونستے ہوئے بولا تھا ۔۔۔
سوہا اس کے آزاد کرنے کے بات ایسے غائب ہوئی تھی جیسے گدھے کے سر سے سینگ کی طرح اب اس کو صحیح معنوں میں مصطفی سے خوف سا محسوس ہو رہا تھا ۔۔۔


0 comments:
Post a Comment