Thursday, May 30, 2019

sitamgar ko hum aziz by aymen nauman episode 11


#ستمگر_کو_ہم_عزیز

#ایمن_نعمان 📝

قسط 11
 کیا ہے آہستہ نہیں چلا سکتے گاڑی؟؟؟؟
 میرا پورا دماغ ہل چکا ہے۔۔۔۔

وہ اپنا سر تھامے  دھاڑی تھی ۔۔

میرے ساتھ اگر سفر کرنا ہے محترمہ تو گاڑی کی اسی اسپیڈ کے ساتھ ہی کرنا ہو گا۔۔۔۔۔
 وہ بڑے مزے سے اپنی بات کہہ کر اب سگریٹ کے کش لگانے لگا۔۔۔

 عمر پلیز۔ ۔۔۔۔
 ٹھیک ہے میں گاڑی کی تیز اسپیڈ تو برداشت کر سکتی ہوں ۔۔۔
مگر پلیز یہ سگریٹ مت پئیں۔۔

وہ بری طرح سے کھانستے ہوئے بولی۔۔۔۔۔

 یار اگر یہ نہیں پیونگا تو میں ڈرائیو کیسے کروں گا؟؟؟؟!!

 وہ چہرے پہ بلا کی مظلومیت تاری کرکے بولا تھا جیسے دونوں کے درمیان بہت اچھے تعلقات رہے ہوں ۔۔۔

وہ غصے میں رخ پھیر گئی تھی اور اپنی طرف کا شیشہ کھول کر آنکھیں موند گئی۔۔۔
جیسے کہہ رہی ہوں دور فٹھ منہ جو کرنا ہے کرو میری بلا سے۔ ۔۔۔۔

  وہ اس وقت کسی بھی قسم کی بحث میں الجھنا نہیں چاہتی تھی۔۔
 آدھی رات ہو چکی تھی وہ مسلسل چار گھنٹے سفر میں تھے ۔۔۔

لائبہ کو سخت کوفت ہوا کرتی تھی لمبے لمبے سفر کرنے سے اور آج مجبوری تھی جواس کو لمبا سفر بھی کرنا پڑ رہا تھا ۔۔۔
وہ بھی ایک ایسے شخص کے ساتھ کرنا پڑ رہا تھا جس کے ساتھ وہ ایک لمحہ بھی لڑے بغیر نہیں رہ سکتی تھی ۔۔

عمر فل اسپیڈ میں ڈرائیو کر رہا تھا اور ساتھ ساتھ اس کو سلگانے کے لئے اب دوسری  سگریٹ بھی جلا کر پھونکنے لگا تھا ۔۔

ایک دفعہ ماموں کے گھر پہنچ جاؤں پھر دیکھنا میں اس سفر کو تمہاری زندگی کا ایسا سفر بنا دوں گی کہ تم چاہ کر بھی اس عظیم یادگار سفر کو بھول نہیں سکو گے ۔۔
۔
اس وقت میری مجبوری ہے کہ میں تمہارے رحم و کرم پر ہوں مگر چند گھنٹوں بعد میں نے بھی تمہیں ماموں سے پھینٹی نہ لگوائی تو میرا نام بھی لائبہ نہیں۔۔۔
 وہ دل ہی دل میں منصوبہ بنا رہی تھی ۔۔

چین سے تو میں بھی نہیں بیٹھنے دو گا تمہیں پورا سفر تمہارا میرے ساتھ بہت خوشگوار گزرنے والا ہے ڈرامہ کوئن ابھی تو شروعات ہوئی ہے ۔۔۔
ھاھاھا چڑیل نہ ہو تو ۔۔۔

نہ تمہیں جواپنی انگلیوں پہ نچو آیا تو میرا نام بھی عمر رحمان نہیں۔۔۔۔

 بہت خود کو ہلاکو خان سمجھتی ہو نہ۔۔
 اب دیکھتا ہوں کب تک برقرار رہے گی تمہاری یہ خودساختہ ہوشیاری میرے سامنے ۔۔۔

وہ دونوں اپنی اپنی دھن میں تھے اس بات سے بے خبر کے سامنے سے ایک گاڑی غلط سمت سے آ رہی ہے ۔۔
🍀

میں شفا سے آج شام ہی سادگی سے نکاح کرنا چاہتا ہوں ۔۔۔

وہ آفس سے سیدھا ڈائننگ ایریا میں ہی آ گیا تھا جہاں اس وقت سے رحمان صاحب موجود تھے عائمہ اور غزل کچن  میں تھیں۔ ۔۔

 جبکہ رحمان صاحب لیپ ٹاپ میں مگن کچھ کام کر رہے تھے ۔۔

انہوں نے چونک کر اپنے سر پہ دندناتے حمزہ کو دیکھا تھا اور چہرے پہ نرم تاثرات لیے لیپ ٹاپ کو بند کر کے سائیڈ پہ رکھا پھر اشارے سے حمزہ کو بیٹھنے کا کہا ۔۔

میں اس وقت یہاں بیٹھ کر وقت برباد کرنے نہیں آیا ہوں۔۔۔
 وہ بے انتہا بدتمیزی سے مخاطب تھا ۔۔۔۔

بیٹا یہ معاملات اس طرح تے نہیں تہہ  کیے جاتے تم صبر سے بیٹھو سکون کا سانس لو پھر تمہاری ماں کے سامنے ہیں بات کی جائے گی ۔۔

انہوں نے پیار سے سمجھایا۔۔۔۔

 بہت جلدی خیال آگیا میری ماں کا ؟؟؟؟
کیا بات ہے۔ ۔۔۔

وہ تمسخر اڑاتی نظروں سے  دیکھتے ہوئے بھرپور انداز میں طنز کے تیر چلاتے ہوئے بولا تھا ۔۔

رحمان صاحب اس کے اتنا سختی سے کہنے پر خاموش سے ہو گئے تھے ۔۔۔

خیر یہ بحث کسی اور وقت کے لئے ادھار رکھ لیتے ہیں۔۔۔
 ابھی فی الحال آج شام نکاح ہے میرا شفا سے۔۔۔
 آپ لوگ تیاری کریں ۔۔۔۔۔

اس نے اب تمام تر لحاظ بالائے طاق رکھ کے حکم صادر کیا ۔۔۔۔۔

مگر حمزہ مجھے پہلے شفا سے بھی تو اس کی مرضی معلوم کرنا ہو گی نہ بیٹا ۔۔۔

اس بار ان کا لہجہ کچھ بیچارگی لئے ہوئے تھا ۔۔۔۔

شفا کی مرضی۔۔۔۔
ھاھاھا۔ ۔ ۔ ۔

 پہلے کبھی کسی معاملے میں آپ نے ائمہ کی مرضی معلوم کی ہے؟؟؟
 جو اب اپنی بیٹی کے وقت آپ کو کسی کی خواہش یا مرضی جاننے کی فکر لاحق ہو رہی ہے ۔۔۔؟؟؟؟

کیا اب شفا ء سے کسی راضی نامہ پہ دستخط کرانا!! آپ کے لیے بہت ضروری عمل ہو گیا ہے ۔۔؟؟؟؟

خیر میں آپ سے پوچھ نہیں رہا ہوں اور یاد رہے کہ۔۔۔۔۔
 بس گھر ہی گھر کے افراد اس نکاح میں شریک ہونےچائیے! کسی کی بھی ضرورت نہیں ہے رشتے داروں میں سے ۔۔

برائے مہربانی ایک دفعہ پھر یاد دہانی کروا رہا ہوں کہ کسی بھی باہر کے بندے کو بلاوا دینے کی زحمت نہ کیجئے گا ۔۔۔

بیٹا یہ دلوں کے سودے ہوتے ہیں جذبات سے ان نازک معاملات میں کام نہیں لیا جاتا۔۔۔۔۔

 وہ نرمی سے گویا ہوئے ۔۔۔۔۔

دل اور جذبات کی بات تو آپ رہنے دے میں عمر نہیں ہوں جس کو ماضی کا کچھ بھی علم نہ ہو۔۔۔۔۔۔۔
حمزہ بہت جتلاتے لہجے میں رحمان صاحب کو بہت کچھ سمجھا گیا تھا ۔۔۔

جو تم سوچ رہے ہو اور جوتم نے دیکھا وہ ادھورا سچ ہے ۔۔۔۔۔

سچ سچ ہوتا ہے۔۔۔۔!!!
 چاہے آدھا ہو یا پھر پورا ۔۔۔۔۔۔۔۔

یاد رکھیے گا میری ایک بات اگر آج میرا شفا سے نکاح نہیں ہوا تو میرا اس گھر سے تو کیا۔ ۔۔
گھر میں موجود  کسی سے بھی فرد سے تعلق نہیں رہے گا سوائے میری ماں کے۔ ۔۔۔۔

پھر آپ اپنے مرحوم بھائی کو جواب دیتے رہیے گا۔۔۔۔۔۔۔۔
 اس نے آخری حربہ استعمال کیا جس کے بعد وہ جانتا تھا کہ فتح اس کا مقدر ضرور ٹھہرے گی ۔۔۔

بیٹا تم میرے سب سے بڑے بیٹے ہوں اور مجھے میرے سب اولادوں میں سب سے زیادہ عزیز تر بھی۔۔۔۔۔

 تمہاری یہ خواہش میرے لیے بہت چھوٹی ہے ۔۔

تم گر زندگی میں مجھ سے میری سانسیں بھی مانگو گے تو میں وہ بھی دینے سے دریغ نہیں کروں گا ۔۔۔۔۔۔

یہ تو پھر میرے دل کے ٹکڑے نے جگر کا ایک حصہ پانے کی خواہش کی ہے۔۔۔۔۔

 تم مطمئن ہو جاؤ اور شام میں تمہارا نکاح ہے شفا سے ۔۔۔

ایک منٹ نکاح کے ساتھ ساتھ آج ہی رخصتی بھی ہے ۔۔۔
وہ اپنے لفظوں پر زور دیتے ہوئے بولا ۔۔
🍀

امی۔۔۔ ۔ 
نا ممکن۔ ۔۔۔۔۔۔!!!!!

 ابو نے مجھے کیا کوئی کھلونا سمجھ رکھا ہے؟؟؟؟

 میں ہرگز بھی اس جیسے ہوس کے مارے شخص سے شادی نہیں کروں گی ۔۔۔۔۔

شفانے روتے ہوئے سمیرا سے کہا ۔۔۔۔

رہنے دو بس یہ ڈرامہ بازی کسی اور کے سامنے کرنا پہلے تم نے خود حمزہ کو اس فیصلے کے لئے مجبور کیا ہے۔۔۔۔۔
 اور اب خود کو بچانے کے لئے میرے سامنے فضول قسم کے ڈرامے کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔۔۔

امی آپ بھی۔۔۔۔۔۔؟؟؟

 مجھے ہی قصور وار ٹھہرا رہیں ہیں ۔۔۔۔۔
کیا آپ کو بھی اپنی بیٹی پر ذرا برابر یقین نہیں ہے ؟؟؟؟؟

وہ حیرت اور بے یقینی سے گویا تھی۔۔۔۔۔۔

 دیکھو شفاءیہ حمزہ کا بڑا پن ہے کہ وہ تمہاری کی گئی اس قدر گری ہوئی حرکت کے باوجود بھی تمہیں اپنی عزت بنا رہا ہے۔۔۔۔

 تاکہ اس کے ماں باپ پہ کوئی ایک انگلی نہ اٹھا سکے ۔۔۔

وہ جتنا سخت لگتا ہے وہ اتنا ہی اپنی فیملی کے لئے مخلص بھی ثابت ہو رہا ہے۔۔۔۔

 اس کا ثبوت اس نے آج اپنے فیصلے سے دیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ٹھیک ہے یعنی آپ لوگ مکمل طور پر فیصلہ کرچکے ہیں ۔۔۔۔۔

ہاں بالکل ٹھیک سمجھا تم نے اور میں اچھی طرح سے جانتی ہوں کہ یہ تمہاری بھی خواہش ہے ۔۔۔

یہ تمہارا جوڑا ہے شام کو بیوٹیشن تمہارا میک اپ کر جائے گی اور ابھی بھی مہندی لگوانے کے لئے تمہیں حمزہ لینے آ رہا ہے ۔۔۔۔۔

خاموشی سے بغیر کوئی واویلا مچائے ڈھنگ سے تیار ہو کے اس کے ساتھ جاؤ ۔۔۔

دیکھ لو کیسا بچہ ہے۔۔۔
 سب کچھ بھول بھال کر تمہاری ہر خواہش کو پورا کر رہا ہے۔۔۔۔۔۔

 امی عمر بھائی کو تو آنے دے اس نے ایک کمزور سی کوشش کی تھی شاید عمر یہ نکاح رکوا سکتا تھا ۔۔۔۔نن

وہ بھی تمہاری رخصتی سے پہلے آ جائے گا لائبہ کو لے کر ۔۔۔

کیا مطلب؟؟؟؟؟؟؟
 رخصتی بھی ۔۔۔؟؟؟
 شفاء کے سر پے سمیرا نے آخری بم بھی پھوڑ دیا تھا ۔۔۔
🍀

بیٹا شفا کی والدہ کا فون آیا تھا وہ انہوں نے آج شام کو بھی بلایا ہے شفا کا نکاح ہے آج۔۔

 تم سو رہی تھی اس لئے میں نے تمہیں اٹھانا مناسب نہ سمجھا ۔۔۔۔

لیکن اتنی جلدی کیسے؟ ؟؟!

 وہ حیرت سے پوچھنے لگی بیٹا یہ تو مجھے خود بھی نہیں معلوم تم اب فون کرکے خود معلومات حاصل کرلینا اور پہلے ذرا میرے ساتھ ناشتہ کر لو۔۔۔۔۔۔
 پیار سے بیٹی کو دیکھتے ہوئے بولے ۔۔۔

او میرے پیارے بابا آپ نے تو آج میرے پسند کا ناشتہ بنایا ہے۔۔۔۔

 وہ خاگینہ اور کلچے کو دیکھتے ہوئے بولی۔۔۔۔

 بہت شوق سے کھایا کرتی تھی ۔۔ ۔

وہ تنویر کے ہاتھ کا بنا ہوا خاگینہ۔۔۔
 ہاں مگر یہ میں نے نہیں زید نے خاص طور پر اپنی چہیتی لاڈلی بہن کے لئے بنایا ہے ۔۔

کیا بات ہے زید تو بہت کام کا ہو گیا ہے۔۔۔۔

 وہ مزے سے کلچے کو توڑ کر خاگینے کا نوالا بناتے ہوئے کھانے لگی ساتھ ساتھ باتیں بھی جاری تھی ۔۔

ہو گیا ہوں سےکیامرادہے میں پہلے ھی سے ہونہار بچہ ہوں۔۔۔۔

 وہ چائے گا مگ اس کی طرف بڑھاتے ہوئے بولا۔۔ 

 بابا میں ایک بات کہوں۔۔۔۔۔؟؟؟

 ہاں بیٹا کہو۔۔۔۔!!

 پہلے وعدہ کریں آپ ضرور مانیں گے۔۔۔۔۔

 وہ وعدہ پر زور دیتے ہوئے بولی ۔  ۔۔۔۔

وعدہ پکا وعدہ۔۔۔۔!!

 آپ کہو جلدی سے میرا بچہ ۔۔۔۔

بابا میں نے کچھ عرصے پہلے 1 اخبار میں آئی ویکینسی کو دیکھ کر اس کمپنی کو اپنا سی وی بھیجا تھا ۔۔۔۔
اس نے اٹک اٹک کرتمہید باندھتے ہوئے کہا تھا ۔۔

ہاں تو پھر کیا نتائج سامنے آئے ؟؟؟؟

تنویر صاحب سمجھ رہے تھے کہ وہ کیا کہنے والی ہے!! مگر پھر بھی اس کا حوصلہ بڑھانے کے لئے بات کو طول دینے لگے۔۔۔۔

 مجھے کل اس کمپنی نے اپائنٹ کیا ہے ۔۔۔۔۔
وہ بہت مشکل سے اپنی بات مکمل کر سکی تھی ۔۔

 بیٹا کیا کرنا جاب کرکے؟ ؟
 تمہیں کسی چیز کی کمی تھوڑی ہے ۔۔۔۔!!
کیوں خود کو خوامخواہ ہلکان کر رہی ہوں ؟؟

بے شک بابا واقعی کسی چیز کی کمی نہیں ہے بس مجھے خود کو تھوڑا مصروف رکھنا ہے ۔۔۔۔
آپ تو جانتے ہیں نہ میرا یہ شوق بھی چند ہی دنوں میں ہوا ہو جائے گا۔۔۔
 پلیز بابا اجازت دے دینا ۔۔۔

تنویر صاحب سمجھ رہے تھے وہ اس وقت اپنے خوف پر جلد از جلد قابو پانا چاہ رہی ہے اس لیے خود کو کسی نہ کسی کام میں بری طرح الجھانے کی تگ و دو میں ہے ۔۔۔۔۔

ٹھیک ہے مگر کل پہلے میں تمہارے ساتھ چل کے آفس کا ماحول دیکھوں گا۔۔۔۔

 اس کے بعد ہی کچھ فیصلہ کر سکوں گا۔۔۔۔۔

 شکریہ بابا۔۔۔۔
 بہت بہت شکریہ۔۔۔۔

 ایسے کیسے شکریہ بابا؟؟
ا گریہ نہیں ہوگی تو ریحانہ سے کھانا کون پکوائے گا؟؟؟؟؟
وہ بہت دیر سے خاموش ہوں دونوں کی باتیں سن رہا تھا آخر میں ایکدم بول پڑا  ۔۔۔۔۔۔
زید کونئی فکر لاحق ہوئی تھی۔۔۔۔

 دونوں باپ بیٹی نے ایک دوسرے کو دیکھا اور زید کو ہنستے ہوئے زوردار دھماکا جڑا تھا فجر نے ۔۔۔۔
🍀
ڈرائیور نے چوکیدار سے مین گیٹ کھلوا کر گاڑی کو کار پوچھ میں کھڑا کیا تھا ۔۔۔۔
جبکہ خود گھوم کر مؤدب ہوکر دور کھڑا ہو گیا تھا ۔۔۔۔۔
سلام صاحب ۔۔۔!!!
چوکیدار جھٹ سے بھاگتا ہوا ہوا آیا مصطفی کو گاڑی سے اترتا دیکھ کر ۔۔۔۔

وعلیکم السلام۔۔۔!!
 دروازہ کھولو اندر سے ۔۔۔۔
مصطفی نے سلام کا جواب ہاتھ کے اشارے سے دیا اور  حکم صادر کیا ۔۔۔۔
جی صاحب ۔۔۔
چوکیدار بھاگتا ہوا جلدی سے گھر کے اندر کا دروازہ کھل وانے دوڑا تھا ۔۔۔
ٹھیک ہے تم جا سکتے ہو ۔۔۔۔
چوکیدار اس کا حکم ملتے ہیں جھٹ سے گھر سے باہر چلا گیا اور مین گیٹ پر جاکر واپس اپنی ڈیوٹی سنبھال لی ۔۔۔۔
صاحب پانی ۔۔۔۔!!
گھر کا ملازم دوڑتا ہوا اس کے لئے صاف ستھرے کانچ کے گلاس میں پانی بھر کر لایا ۔۔۔۔
رکھ دو  ٹیبل پر ابھی پیتا ہوں ۔۔۔۔۔
وہ اپنا ہیڈ اتار کے احتیاط سے ڈائننگ ٹیبل کے اوپر رکھتے ہوئے بولا جبکہ کوٹ ابھی تک اس نے پہن رکھا تھا ۔۔۔
سرآپ چینج کر کے آ جائیے !!!میں کھانا لگا دیتا ہوں ۔۔۔۔۔
اب کے کچن سے خانسامہ نمودار ہوا تھا اور نظریں جھکائے مصطفی سے مخاطب تھا ۔۔۔۔

اس کی پرسنالیٹی ہی ایسی تھی کہ ہر وقت سب کو اپنے روب میں جکڑے رکھتی خاص کر جب وہ گھر میں ہوتا پورا گھر آدم الرٹ رہا کرتا تھا ۔۔۔

نہیں میں یونیفارم چینج نہیں کر رہا ابھی دو گھنٹے بعد میری دوبارہ فلائٹ ہے اور کھانا گرم کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔۔

ویسے تو یہ بات تمہیں بتانے والی نہیں ہے مگر پھر بھی آخری دفعہ بتا رہا ہوں کے فلائٹ سے پہلے میں کھانا نہیں کھاتا ۔۔۔

اسکا لہجہ نہ چاہتے ہوئے سختی لئے ہوئے تھا۔ ۔

وہ اب اپنی ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کرکے کوٹ سائٹ پہ ترتیب سے رکھ چکا تھا۔۔۔۔۔

وہ کچھ پرسکون سا ہو کر صوفے پہ گرنے کے انداز میں نیم راز ہو چکا تھا  ۔۔۔۔۔

ابھی اس نے آنکھیں بند ہی کی تھی کہ موبائل فون کی اسکرین پہ جگمگاتا نمبر رحمان صاحب کے گھر کا تھا اس نے جھٹ  ایس کا بٹن دبا کے کالر رسیوکی ۔۔۔

السلام علیکم ۔۔۔
وعلیکم السلام بیٹا کیسے ہو ؟؟؟

دوسری طرف فون پہ سمیرا موجود تھی ۔۔۔

جی ما می میں بالکل ٹھیک ہوں آپ کیسی ہیں ؟؟؟
میں بھی خیریت سے ہو۔۔۔
 تمہیں دعوت دینے کے لئے فون کیا تھا ۔۔۔

اچھا خیریت ؟؟؟

دیکھو مجھے پتا ہے تمہارے لئے یہاں آنا مشکل ہو گا مگر آج رات میں شفا اور حمزہ کا نکاح ہے ۔۔۔

اگر تم تھوڑا سا ٹائم نکال کے آ سکو تو ضرور آجانا ۔۔۔

مامی میں پوری کوشش کروں گا آنے کی مگر وعدہ نہیں کرسکتا ۔۔۔

وہ گھڑی میں ٹائم دیکھتے ہوئے بولا جو ابھی دوپہر کا ایک بجا رہی تھی ۔۔۔۔

میں ابھی لائبہ کو فون ہی کرنے والا تھا بس ابھی ہی گھر آیا تھا ۔۔۔

وہ ابھی پہنچی نہیں ہے  آج رات تک پہنچ جائے گی مسئلہ سارا یہ ہوا ہے کہ کل عمر کو سیٹ نہیں مل سکی تھی۔۔۔
 جس کی بنا پر عمر نے بائ روڈ آنے کا فیصلہ کر لیا تھا ۔۔۔۔
اری لڑکی دیکھ کے دیکھ کر گر جا ئے گی نیچے سرف کاپانی گرا ہوا ہے ۔۔۔
سمیر یکدم چلائ تھی ۔۔۔۔

کیا ہوا مامی سب خیریت تو ہے نا ۔۔۔؟؟؟؟

دھڑام سے سوہا  محترم زمین بوس ہو چکی تھی ۔۔۔
بہت اچھا بات نہیں ہونا چاہیے دیکھ کرنہیں چلتی۔۔۔
  کہا بھی تھا میں نے تمہیں کے نیچے صرف کا پانی پڑا ہوا ہے ۔۔۔

سمیرا فون پر بات کرتے ہوئے ہی غصہ  ہوئ تھیں جبکہ سوہا زمین پہ گری پڑی تھی۔ ۔۔۔

زمین بوس ہوئی صوہا اب زور زور سے رونے کا شغل فرما رہی تھی ۔۔۔آ

مامی سب خیریت تو ہے نا ؟؟؟؟
وہ پریشانی سے پوچھ رہا تھا ۔۔۔
ہاں بیٹا سب خیریت ہے یہاں بہت اچھا ہوا ہے جو بھی ہوا ہے ۔
۔وہ دانت پیستے ہوئے سوہا کو دیکھ رہی تھی ۔۔

بیٹا تم آنے کی کوشش کرنا ۔۔۔

میں زرا اس بن پانی کی تڑپتی مچھلی  کو اٹھاؤں آنکھیں تو لگتا ہے جیسے ادھار دے آئی ہے کسی کو۔۔۔۔۔۔۔
 کتنی دفع کہا ہے دیکھ کے چلا کرو۔ ۔۔۔

فرش پہ دیکھ کے چلنا  تو سیکھا ہی نہیں ہے!! آپ آنکھیں ہر وقت آسمانوں پہ  ہی پائی جاتی ہیں ۔۔۔
۔
ٹھیک ہے مامی پھر بات ہوتی ہے ۔۔۔۔

فون رکھے وہ بھی ساختہ ہنسنے لگاتھا ۔۔۔
سلی گرل۔ ۔۔۔
آہستہ سے بڑبڑایا ۔۔
آپ کی مسز کی حالت سیڑھیوں گرنے کی وجہ سے کافی بگڑ چکی ہے۔۔۔۔

 ہمیں فوری طور پر ان کا آپریشن کرنا ہوگا نہیں تو آپ کی وائف کی جان کو خطرہ بھی ہو سکتا ہے ۔۔۔۔

لیڈی ڈاکٹر نے اپنے روم سے  عائشہ کا معائنہ کرنے کے بعد باہر آ کر  اطلاع دی ۔۔۔

ٹھیک ہے آپ لوگ جو بہتر سمجھتے ہیں وہ کیجیے جلدازجلد۔۔۔
 غزل نے رندھے ہوئے لہجے میں کہا تھا ۔۔
جبکہ داود کچھ بھی سوچنے اور سمجھنے کی حالت میں نہ تھا ۔۔۔
اس کی نظروں میں بار بار بس عائشہ کا درد سے تڑپ کا وجود گھوم رہا تھا۔۔۔

 ٹھیک ہے ہم لوگ تیاری کر رہے ہیں جب تک آپ لوگ باقی کی فارم لیڈیز پوری کریں . ۔۔۔

ڈاکٹر تیزی سے کہہ کر جا بھی چکی تھی واپس عائشہ کے پاس  ۔۔۔۔

سر آپ میرے ساتھ آئیے !!!!
نرس نےداود کو اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کیا ۔۔۔

جبکہ غزل روتی ہوئی اپنی ساس کے پاس جا بیٹھی ان کو تسلی دینے کے ساتھ ساتھ عائشہ کے گھر بھی فون کر کے اس نے اس نازک ترین صورتحال کے بارے میں بتایا۔ ۔۔۔

 میں ان پیپر پر سائن نہیں کرسکتا ۔۔!!!
داود نہ لرزتے ہاتھوں سے پیپر کو پڑھ لینے کے بعد واپس ریسیپشن کے کاؤنٹر پر رکھا تھا۔۔۔۔

 سر آپ جتنی جلدی ان پر سائن کریں گے اتنی جلدی ہی آپ کی مسز کا آپریشن شروع ہو  سکے گا ۔۔۔

ٹھیک ہے۔۔۔۔!!!اسنےدل پہ پتھر رکھ کے ایک فیصلہ کیا ۔۔۔

 داود نے اس کے بعد ایک لمحہ بھی ضائع کیے بغیر اس پیپر کے اس خانہ کے اندردستخط کئے ۔۔۔

جہاں لکھا تھا کہ آپ ماں اور بچے میں سے کسی ایک کی ہی زندگی کو بچا سکتے ہیں۔۔۔۔
 تو وہ کس کی زندگی ہو گی جس کو آپ بچانہ چاہینگے؟ ؟!؟۔

میرا رب بہت غفور الرحیم ہے اگر میری قسمت میں یہ اولاد ہے تو مجھے ضرور ملے گی ۔۔

لیکن میں اس وقت جب میری  محبت مجھسے قربانی طلب کررہی ہے۔ ۔ 

میں اس کڑے  امتحان میں صرف اور صرف اپنی بیوی کی زندگی چاہوں گا۔۔۔۔

 اولاد تو اور بھی ہوجائے گی مگر آئشہ  ۔۔۔۔!!!!

ٹھیک ہے سر۔۔
آپ نے اچھی طرح سوچ سمجھ کے ان پیپرز پہ سائن کیا ہے نہ؟؟؟

 کیا آپ کے علم میں یہ بات ہے کہ آپ کی ہونے والی اولاد بیٹا ہے ؟؟

میں نے جو فیصلہ کیا ہے وہ بہت سوچ سمجھ کر کیا ہے ۔۔
میں اپنے فیصلوں پر صرف ایک دفعہ ہی نظرثانی کرتا ہوں عمل کرنے کے بعد ہرگز اپنا فیصلہ نہیں بدلا کرتا ۔۔۔
یہ کہہ کر داود وہاں سے چلا گیا ۔۔۔
🌷
میں اپنے بھتیجے سے ملنا چاہتا ہوں۔۔۔۔!!!
 وہ ائمہ کے گھر میں ڈرائنگروم میں برجمان تھا ۔۔۔

بابا کے کر ختگی سے پوچھنے پر رحمان  نے بتایا کسی بھی قسم کی  تمہید کا سہارا لئے بغیر اسنے جھٹ اپنے آنے کا مقصد بیان کیا ۔۔۔۔۔

تم ہوتے کون ہو میرے بیٹے کو اپنے بھتیجے کا نام دینے والے ۔؟؟؟

ماں کے بتانے پر ائمہ کسی زخمی شیرنی کی طرح ڈرائینگ روم میں داخل ہوئی تھی۔ ۔ 
 السلام علیکم۔۔۔!
 رحمان اس کو دیکھ کر معدب سہ ہوکر کھڑا ہو ا تھا۔ ۔۔۔
اور ادب سے اسکو سلام کرنے لگا ۔۔
وعلیکم السلام ۔۔۔!
آپ جس طرح آئے ہیں اسی طرح واپس چلے جائیں ۔۔

آئمہ کا لہجہ چٹانوں کی سی سختی لئے ہوئے تھا !!ہر قسم کے لحاظ اور مروت سے عاری ۔

دیکھیے پلیز آپ مجھے ایک دفعہ میرے بھتیجے سے ملنے دیجئے ۔۔
اپنے بھائی سے پہلے اچھی طرح سے معلومات حاصل کرلو کہ آیا یہ تمہارا بھتیجا ہے بھی یا نہیں؟؟؟؟
  تمھارے بھائی نے اس بات سے   2سال پہلے ہی انکار کردیا ہے ۔۔۔
وہ بےخوفی سے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر چیخ نے کے انداز میں بولی تھی ۔۔۔۔

بھابھی میں بھائی کے بتانے پر ہی یہاں آیا ہوں۔ ۔۔
 انکے کہنے کی وجہ سے ہی صرف چند گھنٹوں کے لیے اس کو لے کے جانا چاہتا ہوں ۔۔۔۔۔

چند گھنٹے میں چند سیکنڈ کے لئے بھی اپنا بیٹا اس شخص کی نظروں کے سامنے نہ پھٹکنے دوں ۔۔۔

میں اس شخص کا سایہ اپنے معصوم بچے پہ زندگی بھر نہیں پڑھنے دوں گی۔۔۔۔
یہ تمہاری سوچ ہے کہ وہ گھٹیا آدمی میرے بچے کو دیکھ بھی سکے گا ۔۔۔۔

 اور اس شخص نے یہ سوچا بھی کیسے کہ وہ میرے بیٹے پر اپنی ناپاک پرچھائی بھی ڈال سکے گا ۔۔۔؟؟؟؟
وہ ۔۔۔۔۔ایک انتہائی اوباش اور ناپاک آسان ہے ۔۔۔۔

وہ نہ چاہتے ہوئے بھی اب اپنے آنسوؤں کو گالوں پہ لڑھکنے سے نہ روک سکی تھی ۔۔۔
انکل آپ  ہی انہیں یہ سمجھآئیں پلیز! !؛
 میرا بھائی آخری سانسیں لے رہا ہے وہ صرف اور صرف اپنے بیٹے کو ایک نظر دیکھنا چاہتا ہے۔۔۔
 اس کی روح صرف اپنے بیٹے اور۔۔۔
 بھابھی آپ کی صرف ایک معافی کے بیچ اٹکی ہوئی ہے ۔۔۔۔
پلیز پلیز خبردار۔ ۔ ۔
 جو مجھے اس شخص سے وابستہ کسی بھی رشتے سے پکارا ۔۔۔۔
جاؤ کہہ دو اس سے معاف کیا معاف کیا میں نے اس کو ۔۔۔۔۔
میں نے جلال کو معاف کیا میرے خدا نے اس کو معاف کیا ۔۔۔۔۔
مگر میرا بیٹا اس شخص کی شکل نہیں دیکھے گا نہ آج نہ کل نہ کبھی ۔۔۔
یہ کہہ کر آئمہ وہاں سے جا چکی تھی ۔۔۔۔۔
🌷
سوری مگر ہم کوشش کے باوجود کچھ نہیں کرسکے۔!
 ڈاکٹر نے اس کے شانے پہ ہاتھ رکھ کے کہا۔۔۔
نہیں ایسا نہیں ہوسکتا۔۔۔۔۔۔
ایسا کیسے ممکن ہے؟ ؟؟؟
______
میں چیخ چیخ کر سب کو بتاؤں گی تمہاری حقیقت،۔۔۔
 کیا بتاؤ گی ؟۔؟۔
یہی کہ تم نے مجھے اپنی وائف کہا ہوٹل مینیجر کے سامنے  اور مجھے جان بوجھ کر اس ویرانے میں لائے ہو ۔۔۔۔
میں ابھی تمہیں کوئی پچاس ہزار دفعہ بتا چکا ہوں کہ گاڑی خراب ہونے کی وجہ سے ہم یہاں پھنس گئے ہیں اور کیا کہا تم نے کہ ہوٹل مینیجر کے سامنے میں نے تمہیں وائف کیوں کہا ؟؟؟؟
تو پھر تم ہی بتاؤ۔۔ یہ کہتا کہ ہم دونوں کزنز ہے سر اور ہمارے گھر میں سونے کیلئے جگہ نہیں ہے اس لئے ہمیں  ایک رات گزارنے کے لئے ایک روم چاہیے ؟؟؟؟
عمر اب سہی معنوں میں چڑ گیا تھا ۔۔۔۔
نہیں تم جھوٹ بول رہے ہو اور تم نیچے مجھے ایسی ویسی نظروں سے کیوں گھور  رہے تھےاس وقت ؟؟؟؟؟ لائبہ کا دماغ الٹ چکا تھا ۔۔۔
تم دیکھنا میں ماموں کو پہنچتے ہی بتاؤں گی کہ تم نے میرے ساتھ کیا کیا ۔۔۔
کیا کیا میں نے تمہارے ساتھ تمہاری عزت لوٹی ہے یا پھر تمہیں پرپوزکردیا  ؟؟؟؟عمرنے ترخ کر جواب دیا ۔۔۔
اور محترمہ زرا یہ آپ بتانا پسند کریں گی کہ ایسے ویسے کس طرح سے میں تمہیں دیکھ رہا تھا ؟؟؟عمر کی تیوری چڑھ چکی تھی ۔۔۔
تم مجھے ایسے دیکھ رہے تھے کہ جیسے بھوکا بریانی کو دیکھتا ہے ۔۔۔لائبہ کا بس نہیں چل رہا تھا عمر کا سر پھاڑ دے۔ ۔۔
تم تو وہ بریانی ہو جو عبداللہ شاہ غازی کے مزار پر بٹتی ہے اور میں بریانی کھانا ویسے بہت پسند کرتا ہوں ۔۔
اور اس وقت تو مجھے بھوک بھی بہت لگی ہے ۔۔عمر کہتے کہ ساتھی چند قدم اس کی طرف بڑھا تھا ۔۔۔۔
دیکھو میرے قریب مت آنا میں کراٹے بہت اچھی طرح جانتی ہوں ۔۔۔۔۔
وہ اس کو قریب آتا دیکھ کر باقاعدہ اپنے ہاتھوں کو کسی کراٹے ماسٹر کی طرح لہراتے ہوئے بولی ۔۔۔۔

میں نہیں ڈرتا تم چاہے مجھ پہ کراٹے آزماو یا پھر میرے ساتھ ریسلنگ کرو۔ ۔۔

میں تو بس اتنا جانتا ہوں میں تم یہ کمرہ اور تنہائی ۔۔۔۔۔۔
وہ قدم بقدم اس کی طرف بڑھتے ہوئے بولا ۔۔۔۔
دیکھو اگر تم نے مجھے چھونے کی کوششیں بھی کی نا ۔۔۔۔
تو تمہارے ساتھ وہ ہوگا جو تم نے کبھی سوچا بھی نہیں ہوگا ۔۔۔
وہ چیئر پر چڑھتے ہوئے بولی ۔۔۔

کیوں کیا تمہارے اندربجلی بھری ھے انگ انگ میں؟ ؟؟
کہ میں تمہیں چھو لوں گا تو واقعی مر ہی جاؤں گا ؟؟؟؟؟
ویسے آپس کی بات ہے یہ رات اور یہ تنہائی ۔۔۔۔
ویسے اب مجھ سے یہ دوری مزید برداشت نہیں ہوتی ۔۔۔۔

وہ اس کے بالکل قریب پہنچ چکا تھا اور اس کی کلائی کو اپنی گرفت میں لے کر کرسی سے نیچے اتار کر اس کو معنی خیزی سے دیکھنے لگا ۔۔۔۔

بس سوچو اگر میں تمہارے ساتھ وہ سب کچھ کر جاؤں جو اس وقت تم سوچ رہی ہوں ۔۔۔۔؟؟؟

میں صرف تم ہیں امیجن کرنے کو کہہ رہا ہوں ۔۔۔۔

وہ اسکی خوف زدہ آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا جو اس وقت شدید خوف کے زیر اثر لرز رہی تھیں۔ ۔۔
آپ مجھ سے مذاق کر رہے ہیں نہ؟ !!!
قطعی نہیں۔ ۔۔
کوئی پاگل ہی ہوگا جو رات کے اس پہر اتنی خوبصورت اور نازک لڑکی سے مذاق کرے گا ۔۔۔۔۔۔
وہ اب اس کی کلائی تھامے تھامے ہی کمرے کے پردے برابر کرنے لگا ۔۔۔۔۔۔
🌷🌷
۔ ۔۔۔چلو جلدی میرے پاس فضول وقت نہیں ہے کہ میں تمہارے یہ چو نچلے برداشت کر سکوں۔۔۔۔۔!!!

وہ شہر کی مشہور پالر کے سامنے گاڑی کھڑی کرکے شفاء سے مخاطب ہوا ۔۔
ماتھے کی تیوریاں ہنوز چڑھی ہوئی تھیں ۔۔

 مجھے نہیں اترنا گاڑی سے اور نہ ہی مجھے مہندی وہندی لگوانی ہے۔ ۔۔۔
اور رہی چونچلوں کی بات تو یہ سب آپ کی خود کی منشاء پہ ہو رہاہے ۔۔۔

وہ بھی اسی کی طرح تلخی سے پر لہجے میں گویا ہوئی تھی۔۔۔۔۔

 میں تو سمجھا تھا کہ اب تک تمہارا دماغ ٹھکانے پر آ چکا ہوگا۔۔۔۔۔

 رسی جل گئی مگر بل نہیں گئے ۔۔۔
صابت ہوا ہو تو تم رحمان چغتائی کی ہی بیٹی نہ۔۔۔۔۔۔۔۔
 میں یہ کیوں بھول جاتا ہوں ہر دفعہ ۔۔۔!؟؟؟

جیسا باپ ویسی ہی بیٹی بھی نکلے گی نہ ۔۔۔!!!!

ہنہہہہہہ۔ ۔۔۔۔!!!!
اس نے ہنکارہ بھرا۔۔۔۔۔

 مائنڈ اٹ مسٹر ۔۔۔۔۔
میرے سامنے  میرے باپ کا نام اس انداز میں اب دوبارہ مت لینا۔ ۔۔۔
 وہ اب پوری طرح سے عاجز آچکی تھی حمزہ کی باتوں اور اس کے دل کو چیرتے روئیوں سے ۔۔۔

خیر یہ انداز اور رویہ تو  اب بدقسمتی سےمیرا  تمہاری قسمت اور زندگی میں لکھ دیا گیا ہے ۔۔۔۔۔
وہ برہم ہوا ۔۔

مجھے واپس گھر جا ناہے ۔۔۔۔۔
 ابھی اور اسی وقت ۔۔۔۔!!!
مجھے تمہارے لیے کسی بھی قسم کے ہارسنگا ہار کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔۔

میں ہرگز بھی ایسے شخص کے لیے نہیں سجونگی جس نے میری عزت کے پرخچے اڑا کے رکھ دئے ہوں۔ ۔
کچھ نہ کرکے بھی میں قصور وار ٹہری ہو ۔۔۔
صرف اور صرف تمہاری وجہ سے ۔۔۔
حمزہ میں تمہیں ایک بات بہت صاف لفظوں میں واضح کررہی ہوں آج۔ ۔۔

 کبھی زندگی میں اگر ۔۔۔ 
کبھی جو تمہیں میرے ساتھ کی گئی زیادتیوں کا احساس ہوا۔۔ 
 تو یاد رکھنا  میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گی ۔۔۔۔

ویسے تو مجھے امید پوری ہے کہ تمہیں کبھی بھی اپنی زیادتیوں کا احساس تو کیا ۔۔۔
خیال بھی نہیں آئے گا ۔۔۔۔!!!
کیا کیا تم نے میرے ساتھ نہیں کیا؟ ؟؟

 میرے ماتھے پہ وہ داغ تم نے لگایا ہے جو شاید زندگی بھر بھی میں چاھ کر مٹا نہ سکو ں ۔۔۔۔
وہ بے بسی سے بولی تھی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی تھی اس کی ۔۔۔

 سوچ لو اندر جا رہی ہو یا نہیں ویسے میرا گھر تیار ہوچکا ہے ایک دم مکمل ۔۔۔۔
اگر یہی ضر رہی تو واپس رحمان صاحب کے دولت کدہ میں لے جانے کے بجائے ابھی قاضی سے دو بول پروا کرسیدا وہی لے جاؤں گا ۔۔۔
وہ ایسے بولا تھا جیسے ابھی شفا نے جو کہا وہ اس نے سنا ہی نہ ہو ۔۔۔
اس کی نظروں میں نظر ڈال کر غرایا ۔۔۔

جو کر سکتے ہو کرلو میں اب خود کو ہر چیز کے لئے مکمل طور پر تیار کر چکی ہوں۔۔۔۔
 یا چلو ایک کام کرو ۔۔۔۔

وہ اس کے دونوں ہاتھ اپنی صراحی دار گردن پہ رکھ کر بولی۔۔۔۔۔

 یہ رہی میری گردن اس کو دبا کر میرا گلا گھونٹ دو تاکہ ایک ہی دفعہ میرا قصہ ختم ہوجائے نہ رہے گا بانس نہ رہے گی بانسری وہ جنونی ہو رہی تھی ۔۔

اس کی نحیف سی گرفت سے اپنا ہاتھ آزاد کرنے کے بعد حمزہ نے بغیر اس کی طرف دیکھے ۔۔۔۔

اتنی جلدی بھی کیا ہے تمہیں اپنی جان گنوانے کی؟؟؟
 ابھی ذرا تمہارے اس دلکش تراشے ہوئے سراپہ سے میں تو اچھی طرح مستفید ہو جاؤ ں۔ ۔۔۔

بہت اچھی طرح جانتی ہوں تم جیسے ہوس کے مارے شخص کو جو بدلے کی آڑ میں میرے جسم سے کھیلنا چاہتا ہے ۔۔۔۔۔
وہ چنگھاڑی تھی پورا وجود اس کا لرز رہا تھا ۔۔
صحیح کہا تم نے ۔۔۔۔!!!

میرے ہر خیالات کا عالم تو تمہیں پہلے سے ہی ہے تو پھر چلو آؤ میں اب تمہارے ان نادر خیالات کو سچائی اور حقیقت کی مہر لگا دیتا ہوں ۔۔۔۔۔۔

اس نےشدید غصہ میں آکرگاڑی سٹارٹ کی تھی۔۔۔۔۔

 وہ رونے میں مشغول یہ بھی نہ دیکھ سکی تھی کہ گاڑی کس سمت رواں دواں ہے ۔۔۔۔

 ایک جھٹکے سے گاڑی رکی تھی اور اس نے دوسری طرف سے گھوم کر گاڑی کا دروازہ دھاڑ سے کھولا تھا ۔۔۔۔۔۔
یہ کہاں لے کر آئے ہو مجھے ؟؟؟
وہ کانچ کی طرح چمچماتے بالکل زیرو میٹر 600 گز کےگھر کو دیکھتے ہوئے بولی تھی ۔۔۔
خوف سے اس کا پورا وجود زلزلوں کی زد میں تھا ۔۔۔۔

خاموش اب ایک الفاظ نہیں۔۔۔۔
 یہ تمہاری خواہش تھی نہ ؟؟؟؟

اب بھگتو۔ ۔۔!!

وہ اس کو اپنی جارحانہ گرفت میں لے کر بازوؤں میں اٹھا چکا تھا ۔۔۔

مین گیٹ چوکیدار سے بند کرنے کا اشارہ کرکے وہ اب داخلی دروازے کی طرف بڑھا تھا۔۔۔۔۔

 چھوڑو مجھے اور تاروں نیچے۔ ۔۔
  مجھے یہ کہاں لے کر آئے ہو تم ۔۔۔؟؟؟؟

وہ بری طرح اس کے چوڑے سینے پر مکوں کی برسات کرتے ہوئے کھنے لگی۔۔۔۔۔
" اپنے گھر "۔۔۔۔۔
وہ اس کو لیے لیے ایک بیڈروم کی طرف بڑھا تھا
___
وہ سلیوز کے بٹن کھول کے کف چڑھاتا کوریڈور تک پہنچ چکا تھ۔۔۔۔۔

 بغیر دستک دیے وہ کمرے کا دروازہ کھول کر اندر جا چکا تھا۔
 کیونکہ وہ جانتا تھا کہ عمر ابھی تک لائبہ کو لے کر نہیں پہنچا ہے۔

کمرے کے اندر داخل ہوتے ہی بیڈروم کا منظر دیکھ کر وہ ٹھٹک کر وہیں دروازے پر تھم گیا تھا ۔۔۔

وہ کمرہ کہیں سے بھی کسی اینگل  میں دیکھنے کےباوجود بھی عمر کا نہیں لگ رہا تھا ڈریسنگ ٹیبل پر بکھری چوریاں اورجیولری ۔۔۔۔
بیڈ پہ رکھے کپڑے بلاشبہ عمر کے نہیں تھے۔ ۔۔
کڑھی ہوئی شموز سلک کی بلیک کرتی اور ٹراوزر۔ ۔۔۔!!!!

  بیڈ  کرائون کے اوپر بنے شیلف میں رکھی کئی ڈیڈی بئیرز،  کینڈی ڈولز وغیرہ ۔۔۔

وہ چکرا کے رہ گیا تھا ۔۔۔۔۔۔!!!

خاص کر اس کمرے کی تھیم جو کہ پنک اور وائٹ امتزاج کی تھی ۔۔۔

وہ صحیح معنوں میں اب الجھ رہا تھا ۔۔۔۔
ایسا لگ رہا تھا جیسے یہ کمرہ کسی بچی کا ہے مگر ڈریسنگ ٹیبل پر بکھری اشیاء اس کے خیال کو بالکل ہی غلط ثابت کر رہی تھی ۔۔۔۔۔۔

یہ عمر کا کمرہ نہیں ہے۔۔
 مجھے یہاں سے فوری نکل جانا چاہیے ۔۔۔۔!!

وہ کہتے ہوئے واپس کمرے سے باہر جانے کے لئے پلٹ ہی رہا تھا جب ۔۔۔

سنو شنو(کام والی) جلدی سے ٹاول دے دو ۔۔۔

وہ ا بھی ہینڈل پر ہاتھ رکھ کر دروازہ کھول کے باہر جانے ہی والا تھا جب باتھ روم سے آتی آواز پر وہ چونک کر نا چاہتے ہوئے بھی وہیں گیا تھا ۔۔۔۔

کمرے میں ادھر ادھر دیکھنے کے باوجود بھی اس کو شنو نامی کوئی وجود نظر نہ آیا ۔۔۔۔

چار و ناچار وہ وہ واپس پلٹا اور  خاموشی سے آگے بڑھ کر  بیڈ پہ رکھی ٹاول اٹھاکر واشروم کے دروازے کے باہر تھوڑے سے وا ہوئے دروازے سے جھانکتے نم بھیگے جگمگ کرتے نازک مرمری ہاتھ کو پکڑائی ۔۔۔۔۔۔

 یہ لو واپس بھی تو پکڑ و۔۔۔لگتا ہے جیسے سب بھول بیٹھی ہو۔ ۔۔۔۔
سوہا نے ٹاول مستی میں باہر اچھالی جوکہ اسکے منہ پہ جاکہ سیدھا پیار بھری "پپی"" دے چکی تھی۔۔۔۔۔۔
واٹ دا ہیل ازدس۔۔۔۔!!!
وہ آہستہ دے بڑبڑایا. .  .  ۔۔۔۔۔

اس نے چہرے پہ سے گیلہ خاشبوئوں سے بسہ ٹاول واپس لے کر واش روم کے دروازے کے سامنے موجود استری اسٹینڈ پر رکھ دیا۔۔۔۔

وہ میکانکی انداز میں ناچاہتے ہوئے بھی نہ جانے کس کشش کےسبب سب کچھ چپ چاپ سر انجام  دےرہا تھا۔ ۔۔۔۔۔
شنو جلدی سے باڈی لوشن بھی تو دیدو پتاہے بھی ہے نہ کہ مجھے اپنی نرم و ملائم جلد کتنی۔عزیز ہے۔۔۔
 کتنی سست اور موٹی ہوتی جارہی ہوتم  ۔۔
میری طرح ڈائٹنگ شروع کردو اور ساتھ ہی کل سے میرے ساتھ ایکسرسائز بھی کرنا ۔۔۔
ڈیکھو صرف دو مہینہ اہکسرسائز کرنے سے میری کمر مزید 3 انچ کم ہوئی ہے. .  ۔۔۔۔

خیر ۔۔۔ !!!!
توبہ یہ تو چھوتے سے پیکٹ میں بڑا بم ہے۔۔۔۔
اسنے کھسیہ کے سوچہ۔۔
امی کہاں پھنسہ رہی ہے یہ تو بولتی طوبی ہے۔۔۔۔۔
وہ سوچ کے رہ گیا۔۔۔۔۔

 پتہ بھی ہےنہ مجھے آج بہت اچھا سا تیار ہونا ہے ۔۔۔

میری بہن اور میرے بھائی آج دونوں دلہن دولہا جو بن رہے ہیں۔۔۔۔

 تو میں کیوں نہ پھرلشکارے ماروں ۔۔۔۔

مصطفی نے ڈریسنگ ٹیبل کے اوپر نظر دوڑائی جہاں سامنے ہی اس کو باڈی لوشن نظر آگیا تھا۔۔۔

 وہ تیزی سے ڈریسنگ ٹیبل کی طرف بڑھا اور جھپٹنے کے انداز میں  لوشن اٹھا کر سوہا کی طرف بڑھایا۔۔۔۔۔

 وہ بہت اچھی طرح سمجھ چکا تھا کہ اگر اسنے تھوڑی دیر اور کی تو شاید وہ باہر آکر خود لے جاتی۔۔۔

اب یہ پکڑو۔۔۔۔
 کتنی دفعہ کہا ہے کہ جب میں شاور لیا کرو ں تو تم یہیں باہر کرسی  ڈال کے بیٹھ جایا کرو ۔۔۔!!!

مگرجال ہے جو تمھیں  کبھی کوئی بات سمجھ میںآجائے۔۔۔۔

وہ واشروم کے اندار نون اسٹاپ بولے جا رہی تھی ۔۔۔۔

چڑھتی جوانی میری چال مستانی۔۔۔
تونے قدر نہ او جانی نہ رامہ۔۔۔۔۔
وہ اب بڑے مزے سے گنگنانا بھی شروع ہوچکی تھی۔۔۔۔
جبکہ وہ خفت سے سرخ پڑچکاتھا۔۔۔۔

اب شرٹ بھی دے دو یار۔۔۔۔
ایک تو تمہاری آج آواز کیوں بند ہے؟؟؟؟
 ورنہ تم اور میرے کمرے میں موجود ہو اور اتنی خاموشی؟؟؟
 یار کچھ تو بولو کیا ہوا کہیں اماں نے چپ کا روزہ تو نہیں رکھوا دیا ؟؟

#ایری شرٹ دو مجھے ٹھنڈ لگ رہی ہے بہت ۔۔۔

مصطفی نے اب کی بار بیڈ سے اٹھا کے اس کی شرٹ اس کو تھمائی ۔۔۔

وہ خاموشی سے اس کی ہر مطلوبہ شہہ دے  کر اسکو جلد از جلد۔کمرے سے فرار ہونا چا رہا تھا ۔۔۔

غلطی سے وہ اس کمرے میں آکر پھنس چکا تھا ۔۔۔

شنو لگتا ہے تیرا دماغ بلکل ہی جوہے نہ  فارغ ہوکر گھاس چرنے چلا گیا ہے۔۔۔۔

اس کے اندر کیا پہنتے ہیں وہ بھی تو دو ۔۔. . 

وہ جھنجھلا کر شنو کی  چڑھائی کچکی تھی۔۔۔۔۔

مصطفی نے ایک نظر دوبارہ بیڈ  پہ ڈالی اور اس کی مطلوبہ ڈیمانڈ دیکھ کر وہ سٹپٹا گیا تھا ۔۔۔
آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔۔۔۔
چہرے پہ خفت اور سرخی پھیل گئی ۔۔۔۔

آگے بڑھ کے اس نے اٹھانے کے لئے ہاتھ بڑھایا مگر پھر بوکھلا کر ہاتھ پیچھے کر لیا ۔۔۔

شنو جلدی دے دے میں ایسی ہی باہر نکل آؤں گی ۔۔۔
وہ  اندر سے غر آئی ۔۔۔
مصطفیٰ نے بوکھلا کر جلدی سے بالکل ایک کونے سے اٹھا کر اس کو جلدی سے اس کی مطلوبہ چیز تھمائی تھی ۔۔۔
مبادا کہیں وہ اپنے کہے پر عمل ہی نہ کر بیٹھے ۔۔
شنو یہ تیرے ہاتھ خاصے مردانہ نہیں ہیں؟؟؟؟؟
وہ اسکی بات پہ اپنے بالوں پہ ہاتھ پھیر کے رہ گیا۔۔۔۔
لبوں پہ مسکراہٹ لمحہ بھر کیلئے ابھر کے دوبارہ غائب ہوچکی تھی۔۔۔

سوہا سے وہ ہر طرح کی امید کرسکتا تھا ۔۔۔
چنڈالن تھی وہ بچپن سے پوری بنی بنائی ۔۔۔

جب بھی وہ اسکو اپنی گود میں لیتا تھا وہ اس سے پورے بارہ برس چھوٹی تھی۔۔
مگر اسکے گود میں اٹھانے پہ ہردفع اپنے خطرناک قسم کے دانت وہ اس کے کہیں نہ کہیں گاڑھ کے کاٹ لیا کرتی تھی۔۔۔۔
 جس سے وہ بری طرح سے بلبلا جاتا تھا ۔۔۔
مصطفی کو دماغ میں خطرے کی گھنٹی بجی تھی ۔۔۔۔۔
وہ جلدی سے بغیر مزید ایک لمحہ بھی زایہ کیے بغیر کمرے سے نو دو گیارہ ہو چکا تھا ۔۔۔

ارے شنو تو کہاں چلی گئی؟؟؟؟
 وہ باہر آکر شنو کو تلاش کرنے لگی  کمرے میں ۔۔۔
شنو ہوتی نظر بھی آتی نہ۔۔۔۔
ہو سکتا ہے مما نے بلا لیاہو ۔۔!!!
وہ جلدی سے اپنے کانوں میں کندن کے سلور ج
جھمکے پہننے کے بعد ہلکی سی پنک کلر کی لپسٹک لگاکر بال سلجھا کے جلدی سے باہر نکل ہی رہی تھی جب شنو آدھمکی ۔۔۔

او باجی جی معاف کرنا تھوڑی دیر ہو گئی ۔۔۔
وہ جی مالکاںنی نے چائے بنانے کا کہ دیا تھا مہمانوں کے لئے ۔
کیا مطلب ۔۔؟؟
تم ابھی میرے کمرے میں نہیں تھی ؟؟
تو پھر مجھے کپڑے کس نے دیے ۔۔۔؟؟؟
اور۔۔۔۔۔اور. .  ۔۔۔۔۔۔۔میری وہ فضول بکواس کس نے سنی؟؟؟
وہ اب باقاعدہ شنو کے اوپر بگڑ   رہی تھی ۔۔۔
باجی جی قسم لے لو میں نے نہیں دیا۔۔
 میں تو ابھی ابھی آئی ہو ۔۔۔

ہو سکتا ہے وہ پھوپھی زلیخا کی بیٹی اوپر آئی ہو بال بنانے ۔۔
کیونکہ وہ نیچے کنگھامانگ رہی تھی بی بی سی سے ۔۔

او اچھا چلو ٹھیک ہے وہ مطمئن ہو گئی یہ سن کر ۔۔۔۔۔
وہ ایسی ہی تھی تھوڑی دیر کو پریشان ہوتی اور اس کے بعد تمام ٹینشن کو پرے دھکیل کر دوبارہ سے اپنے آپ میں مست ہو جاتی
🌷
کیوں لائے ہو مجھے یہاں؟؟؟؟

 وہ بیڈ پہ گرتے ہوئے بولی۔۔۔

 اتنی معصوم نہیں ہو تم جو یہ سمجھ نہ سکو کہ میں تمہیں یہاں کیوں لایا ہوں؟؟؟؟

وہ گھمبیر لہجے میں بولتا اس کے اوپر تھوڑا سا جھکا تھا۔۔۔
 آنکھوں سے جیسے آگ کے شرارے پھوٹے پڑھ رہے تھے ۔۔

میں نے تمہیں کئی دفعہ کہا ہے کہ مجھے خوامخواہ چیلنج مت کیا کرو اور یہ تمہاری جو گز بھر چلتی زبان ہے نا اس کو آئندہ میرے سامنے ذرا کم ہی تکلیف دینا چلانے کی  ۔۔

ورنہ گدی سے کھینچنے میں ایک لمحہ نہیں زایہ کروں گا ۔۔

وہ اس کے چہرے کو اپنے ہاتھ میں بری طرح سے دبوچ کر سختی سے کہہ رہا تھا۔۔۔
 ٹھیک ہے ۔۔۔!!!جو تمہارا حکم۔۔۔۔۔۔۔!!!
باندی ہوں نہ میں تو تمہاری؟؟؟
ایسا نہ کرو مجھے درد ہو رہا ہے
اس نے سسکاری بھری!!
 آنکھوں سے آنسوں لڑھکتے ہوئے گالوں پہ سے پھسلتے ہوئے حمزہ کے ہاتھ کو بھیگھا گئے تھے ۔۔
واٹ ربش؟؟؟
 حمزہ کوایسا محسوس ہوا جیسے اس کو بری طرح سے کرنٹ چھو گیا ہو۔۔۔۔!!
 شفا کے آنسو اس کے پورے وجود کو اندر تک ہلا کر رکھ گئے تھے۔۔
 وہ ایک دم سے دور ہٹا تھا اس سے۔۔۔۔!
 بے فکر رہو میں جب تک تمہارے تمام تر جملہ حقوق اپنے نام نہیں لکھوا لو نگا !!
تب تک اپنی " ہوس اور پیاس "نہیں بجھاؤں گا تمہارے وجود سے ۔۔۔

وہ ہوس اور پیاس پہزور دے کر بولا تھا جان کر کیوں کہ کچھ دیر پہلے شفا نے اس ازخود اس لقب سے نوازا تھا ۔ ۔۔

مہندی لگانے کے لیے میرے ایک دوست کی وائف اور میرا دوست آ رہا ہے ان دونوں کے سامنے کسی بھی قسم کی ہوشیاری اور بد مزگی  نہ کرنا۔۔۔۔!

یاد رہے اگر کسی بھی قسم کی ہوشیاری اگر کی تو میں پھر مہندی لگوانے کے بعد تمہیں رحمان مینشن  ہرگز بھی نہیں لے کر جاؤں گا۔۔
وہ اس کو وارننگ دیتا کمرے سے باہر جا چکا تھا جبکہ دروازہ ہنوز کھلا ہوا تھا۔۔۔
 شاید اس نے شفا کو کمرے میں قید کرنے کی کوشش اس لئے نہیں کی تھی کیونکہ وہ جان گیا تھا ۔۔۔
کہ وہ اس کے بچھائے ہوئے جال میں بری طرح پھنس چکی ہے ۔۔۔۔
🌷
تم مذاق کر رہے ہوں نہ مجھ سے؟؟؟
 وہ اٹک اٹک کر بولی تھی ۔۔۔
اس کے چہرے پر اب تیزی اور طرازی کی جگہ خوف اور وحشت کے سائے منڈلا رہے تھے۔۔۔
 چہرے پر موجود خوف وہراس کے تاثرات اس کے سبھی چہرے کو مزید خوبصورتی بخش رہے تھے ۔۔۔۔
وہ ڈری سہمی سی بہت پیاری لگ رہی تھی ۔۔

کیونکہ عمر نے اس سے پہلے اس کو ہمیشہ ھٹلر کی بہن کے روپ میں ہی دیکھا تھا ۔۔۔

او یار تم خود ہی بتاؤ بقول تمہارے کہ میرا اور تمھارا کوئی مذاق ہے بھلا ؟؟؟؟؟

وہ اس کی گہری نشیلی آنکھوں میں اپنی پوری آنکھوں سے جھانکتے ہوئے کہہ رہا تھا ۔۔۔

عمر مجھے ایسا کیوں لگ رہا ہے جیسے کہ یہ آپ نہیں ہے ۔۔۔؟؟؟؟

وہ تم سے آپ تک کا سفر بہت جلد طے کر چکی تھی۔۔۔۔۔

 تو پھر تم ہی بتا دو کہ میں کون ہوں؟؟؟

کیا میں کوئی آسیب ہوں؟؟؟؟
یا پھر کوئی سایہ جو تمہیں دیکھ کر تم پہ عاشق ہو گیا ہو؟؟!!
کک۔۔۔۔ کیا کہہ رہے ہیں آپ یہ سب؟؟؟؟
وہ اب خوف کے زیرِاثر بےہوش ہونے کو تھی۔۔۔۔
چلو پھر وہ کہتا ہوں جو تمہارے کانوں میں رس گھوک دے۔۔۔۔۔!
 میں اور تم۔۔۔۔۔!!!!
رات بھی دیکھو کتنی خوبصورت تاروں بھری ہے۔۔۔۔۔۔۔
 میرا تمہارا حسین ساتھ۔۔۔۔۔!!!
 کچھ تم مجھ سے کہو۔۔
 کچھ میں تمھیں اپنے دل کی سنائوں ۔۔۔!!
تم میرے سینے پر سر رکھ کے سو جاؤ اور میں تمہارے سر کے بالوں سے شرارت کرتا رہوں .........
 چاند میری ان شرارتوں پر مسکراتا رہے ۔۔۔!!!

مجھے کچھ نہیں سننا اور کہنا مجھے دوسرے روم میں سونا ہے.....!!
 اگر آپ نے کوئی الٹی سیدھی حرکت کی نہ تو میں ۔۔...........
وہ انگشت شہادت سے اس کو دھمکاتے ہوئے بولی تھی .....
جبکہ لہجہ بری طرح سے خوف کی زیادتی سے کانپ رہا تھا ۔۔۔

کیا تم مجھ سے خوفزدہ ہو؟؟؟
 وہ اس کو دیوار سے لگا کر اس کے فرار کی تمام راہیں مسدود کر کے بولا ۔۔۔

نہیں ۔۔۔۔۔۔نن۔ ۔ ۔  ۔۔۔۔۔۔نہیں ۔۔۔۔!!
میں خوف زدہ کیوں ہونے لگی بھلا آپ سے ۔۔۔؟؟؟
وہ تھوک نگل کر بولی۔ ۔۔۔

چلو یہ تو اچھی بات ہے کہ تم مجھ سے خوفزدہ نہیں ہو۔۔۔۔ ۔ 
 لآئبہ۔ ۔  ۔  ۔۔۔!!!

 آنکھیں کھولو اور محسوس کرو ان لمحات کو رات کے اس فسوں  کو ۔۔۔۔
میری اس خوبورت رفاقت کواور باتیں کرتی اس خاموشی کو ۔۔۔!!!

سنو اور سمجھو کہ یہ تنہائی تمہیں کیا سمجھانا چاہ رہی ہے ؟؟؟؟

اس کے ماتھے سے لبوں تک ایک صراط کھینچتے ہوئے بکہنے لگا۔۔۔۔

امی مجھے بچالیں۔ ۔۔۔۔ !!!
بچائیں مجھے اپنے اس آوارہ خبیس بھتیجے سے۔۔۔۔۔

 وہ اب باقاعدہ زوروشور سے!! عمر سے شدید خوفزدہ ہوئے!! زاروقطار رونے کے ساتھ ساتھ چیخنے کا بھی شغل فرما رہی تھی ۔۔۔

عمر نے جھٹ اپنا بھاری ہاتھ اس کے لبوں پر رکھا تھا۔۔۔
 تاکہ اس کی چنگھاڑتی ہوئی چیخوں کو دبا سکے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 نہیں تو پورا عملہ ان کے کمرے کے باہر کھڑا ہوجانا تھاآکر ۔۔۔
جب کہ عمر کو بہت ہنسی بھی آئی تھی ۔۔۔
اس کےاس طرح رونے پہ بلکل  بچوں کی طرح۔۔۔۔!!!!

 مگر ساتھ ہی اس کے لازئبہ کہ آندھی طوفان کی طرح رونے سے اسکے ہاتھ پاؤں بھی بھول گئے تھے ۔۔۔۔۔

وہ اس کو بازو سے تھام کر خود میں چھپا گیا تھا جیسے اس کے خوف کو زائل کرنا چاہ رہا ہوں ۔۔۔

لایبہ ری ریلیکس۔۔۔۔ !!!
میں تمہیں تنگ کر رہا تھا ۔۔

بیوقوف لڑکی  اتنا بھی بھروسہ نہیں ہے مجھ پہ ۔۔۔؟؟؟؟

شاباش اب رونا بند کرو ۔۔۔!!!!
بھروسہ کرو مجھ پہ۔ ۔۔۔
 میں چاہ کر بھی تمہارے ساتھ کبھی بھی کچھ غلط نہیں کروں گا اورنہ ہی کسی کو کرھنے دوں گا۔۔۔۔۔۔۔ !!!
 پلیزابتو ریلکس ہو جاؤ ۔۔۔!!!

وہ اس کے سینے میں سر چھپائے روئے چلی جا رہی تھی ۔۔۔۔
عمر نے اس کا سر تھپتھپا کر گویا اس کو پرسکون کرنا چاہا ۔۔۔

میری جان چلی جاتی اور تمہارا مذاق ہو جاتا۔۔۔۔!!!!

 وہ اب دوبارہ سےآپ سے تم پر آ چکی تھی ۔۔۔

ایویں جان چلی جاتی ۔۔۔
خیر سے پوری جنی ہو۔۔۔
بلکہ نہیں جنیوں کی سردارنی ٹھیک رہے گا کہنا زیادہ ۔۔۔۔۔!!!
وہ اسکو صوفہ پر بیٹھا کر اسکے لئے جگ سے پانی گلاس میں انڈیل کر لایا تھا اور سسکیاں بھرتی لائبہ مسکراتی نظروں سے دیکھتے ہوئے اپنے ہاتھ سے پانی پلانے لگا ۔۔۔

یار میں تو تمہیں تنگ کر رہا تھا تم تو بہت ہی زیادہ کوئی ڈرپوک قسم کی لڑکی نکلیں۔ ۔۔
 میں تو تمھیں شیرنی اور لومڑی پتہ نہیں کیا کیا سمجھتا تھا۔ ۔۔۔۔۔۔۔؟؟
وہ ہنستے ہوئے ماحول کو تھوڑا ہلکا پھلکا کرنا چاہ رہا تھا ۔۔۔
جبکہ لائبہ اب کچھ نارمل ہو چکی تھی اور اس کو ایک دفعہ پھر خونخوار نظروں سے گھورتے گھورتے واپس سیدھی ہوئی تھی ۔۔

"تمہاری اس حرکت کا ایسا کرارا جواب میں تمہیں دوں گی!! کہ تم خود گھٹنوں کے بل مجھ سے معافی مانگو گے"۔۔
" مگر ابھی میں تم سے مزید پنگا نہیں لے سکتی ۔۔۔  !!!
 وہ اس کو دیکھتے ہوئے سوچ رہی تھی ۔۔

چلو لائبہ اب سو جاؤ صبح تک گاڑی مکینک ٹھیک کر دے گا پھر سفر لمبا ہے۔۔ 
 وہ یکدم حواسوں میں لوٹی تھی اور اس سے دور ہٹی تھی۔۔۔۔

 اگر یہ مذاق تھا تو بہت ہی گھٹیا مذاق تھا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!۔

او واقعی صحیح فرمایا تم نے ویسے اگر تمہارا حافظہ اگر ٹھیک ہے تو تم نے بھی ایک دفعہ مجھے میری گرل فرینڈ کے ساتھ ریسٹورانٹ میں ڈیٹ مارتے ہوئے ریڈ پروائ تھی  ۔۔۔

اور پھر مجھے گھر پہ جاکے جس طرح کی جوتیاں اور چپلیں پڑی تھی نہ۔ ۔ !!!
سمجھ لو یہ بس اسی کا حساب برابر کیا ہے میں نے ۔۔۔

وہ اس کو شرمندہ کرنے کو بولا اور ساتھ ہی آؤ دیکھا نہ تاؤ بیڈ پہ چوڑ کر لیٹ چکا تھا ۔۔۔

جبکہ وہ ابھی تک صوفے پر ٹکی ہوئی تھی اس کے اس طرح کہنے پر مزید سکھڑ سمٹ کر صوفے پر گھٹنے موڑ کر بیٹھ گئی ۔۔

چاہو تو ادھر آکر لیٹ جاؤ میں کوئی شیر نہیں ہوں جو تم جیسی  چڑیا کو نگل جاؤں گا ۔۔

شیر نہیں تم آکٹوپس ہو۔۔!!
 میں یہیں صحیح ہوں۔ ۔
جب کہ وہ عمر سے خوف زدہ اب بھی تھی۔۔
 مگر ظاہر نہیں کر رہی تھی ۔۔۔۔۔
خود کو بہت نڈر اور مضبوط دکھا رہی تھی عمر کے سامنے ۔۔۔۔
🌷
شفا کو مہندی لگانے کےبعد حورم (حمزہ کے دوست آدم کی بیوی) نے اس کے آگے ہمزہ کا لایا ہوا عروسی جوڑا لہرایا تھا ۔۔۔

دیکھو شفا کتنا خوبصورت جوڑا ہے یہ۔۔۔۔
 حمزہ بھائی خود لے کر آئے ہیں تمہارے لیے پتہ ہے تمہیں یہ؟ ؟؟ ۔۔۔

کل کی پوری دوپہر جو ہے مجھے اور آدم کو حمزہ بھائی نے خوار کرکے رکھا تھا ان کو کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا ۔۔۔۔

ویسے ٹھیک بھی ہے جب اتنی پیاری اور خوبصورت لڑکی ہو تو!! اس کے لئے ذرا کچھ بھی منتخب کرنا مشکل کام ہے ۔۔۔

حورم اس کو چھیڑتے ہوئے بولی تھی ۔۔۔

جی آپ نے ٹھیک کہا ۔۔۔!!!
جبکہ شفا بس آہستہ سے یہ کہہ کر اس کے ہاتھ سے اپنا عروسی جوڑا لے کر واش روم میں جا گھسی ۔۔۔

حور م نے الجھی نظروں سے واشروم کے بند دروازے کو دیکھا تھا ۔۔۔

کیا دلہن ایسی ہوتی ہے ؟؟؟

یہ معصوم سی لڑکی اتنی اداس کیوں ہے ؟؟؟

اس کو اپنا وقت یاد آ گیا تھا جب اس کا نکاح بھی اچانک آدم سے ہوا تھا۔۔۔
 وہ بھی ایسے ہی اداس اور خاموش ہو گئی تھی ۔۔۔

اس بات سے بے خبر تھی  کہ اس کیآئندہ زندگی کتنی خوبصورت اس کے شوہر آدم نے بنا دینی تھی .  ۔۔۔۔

زندگی کے ایک ایک لمحے میں سے آدم نے اس کے لیے خوشیاں کشید کر اس کی جھولی میں بھر دی تھیں۔۔۔

آئومیں تمہارا ہلکا ہلکا سہ میک اپ کرو ں۔۔

شفاء وا شروم سے باہر آئی تھی جب حورم نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اس کو ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے بٹھایا تھا ۔۔۔

وہ کچھ کچھ سمجھ رہی تھی ۔۔

شفا کے ہرہر انداز سے صاف ظاہر تھا کہ وہ اس شادی سے دلی طور پر آمادہ نہیں ہے ۔۔۔

اس کی آنکھوں میں صرف اور صرف ویرانی تھی ۔۔۔
آنکھوں کی جوت جھلملانے سے پہلے ہی ٹمٹما رہی تھی ۔۔!!!
کہیں سے بھی وہ حورم کو دلہن نہیں لگ رہی تھی ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے بیٹھی لڑکی کو ئی ریبوٹ ہے۔۔۔۔
 جو اس کے ہر ہر آرڈر پہ بس جیجہ کر رہی ہے ۔۔۔

وہ شفا کے پور پور کو سجا رہی تھی۔۔
 دلہن کے روپ میں ڈھال رہی تھی ۔۔۔۔۔۔
مگر وہ تھی کہ کسی زندہ لاش کی طرح بت بنی پتھرائی ہوئی نظروں سے آئینے کے سامنے اپنے جھلملاتے عکس کو تکے جا رہی تھی ۔۔۔

ھورم کا دل چاہا تھا کہ اس معصوم لڑکی سے پوچھے کہ کیا دکھ ہے تمہیں ؟؟؟
جس نے تمہیں اس قدر کملا کہ رکھ دیا ہے ؟؟؟؟
ہنستے مسکراتے چہرے پہ ہزن بکھیر دیا ہے ۔۔

ایسا کیا ہے جس کی وجہ سے تم خوشیوں سے روٹھ بیٹھی ہوں ۔۔۔۔؟؟؟

عجیب سی ویرانی کیوں ہے تمہاری ان خوبصورت آنکھوں میں ؟؟
جیسے تم تمام خوابوں کو اپنی پلکوں سے نوچ کر کہیں دور پھینکچکی ہوں ۔۔۔۔؟؟

آخر کار اس کا ضبط جواب دے گیا اور وہ ہلکے سے شفا کو مخاطب کر کے ٹھہر ٹھہر کر بولی تھی ۔۔۔

میں نہیں جانتی کہ تم کن حالات کی کشتی میں سوار ہو مگر۔۔۔۔۔،!!!۔۔
 کیونکہ مجھے جہاں تک لگ رہا ہے کہ میں تمہاری ہی کشتی میں کئی سالوں پہلے سفر کر کے اپنی منزل تک پہنچ چکی ہوں اور یقین مانو جس منزل کو مجھے اس کشتی نے پہنچایا تھا وہ میرے لئے دنیا میں کسی جنت سے کم نہیں ہے ۔۔۔

وہ گھمبیر لہجے میں ایک ایک لفظ کا ٹھیک ڑھیک چناؤ کرکے اس کو سمجھانے کی کوشش کر رہی تھی .  ۔۔۔

مگر بھابھی کیا یہ سب کچھ ٹھیک ہے؟؟؟
 کیا ایک لڑکی اتنی کمزور ہے کہ کبھی اس کو پیدا ہونے کے ساتھ ہی زندہ درگور کر دیا جاتا ہے ۔۔؟؟؟

اور کبھی اس کو بے جا رسموں، ضدوں اوت انتقام کی بھینٹ چڑھا دیا جاتا ہے؟؟؟
 کیا ایک لڑکی ہنر جرم ہے ؟؟؟

حورم چند ثانیوں کو تو کچھ کہہ ہی نہ سکی تھی کتنی چھوٹی تھی وہ لڑکی اور کسی قدر گہرے دکھ بول رہے تھے اس کے لہجے میں ۔۔۔۔!!

نہیں ہرگز نہیں عورت بالکل بھی کمزور نہیں ہے جرم اگر بیٹی ہوتی تو خود سوچو کیا آج میں اور تم ہوتے ؟؟؟

 یا پھر یہ کائنات ہوتی اس میں رنگ ہوتے ۔؟؟
اتنا ہی نہیں پھر یہ مرد جو کہ عورت کے ہی وجود سے جنے گئے ہیں !! یہ ہوتے؟؟؟
 بس اپنے خوابوں کو اپنی آنکھوں میں ہمیشہ سنبھال کر رکھنا ۔۔۔

خود کو کبھی بھی کم ہمت اور بے بس مت سمجھنا اور کبھی تمھارے حوصلے گر جو پست ہونے لگیں تو بس اتنا سوچ لینا کہ تم ہرگز بھی کمزور نہیں ہو ۔۔۔۔۔
تم بنت ہوا ہو ۔۔۔!!

اور ایک عورت اگر چاہے تو اپنے ایک وار سے مضبوط سے مضبوط چٹان کو بھی اپنے سامنے گرا سکتی ہے جھکس سکتی۔ ۔۔۔!!!
 بس میری بات کا مقصد یہ ہے کہ تم اگر چاہو تو سب کچھ تمہارے ہاتھ میں ہے ۔۔۔

اللہ پر بھروسہ رکھو اور خود میں اتنی ہمت کرو کہ حالات کو اپنے مطابق ڈھال سکو۔۔
نہ کہ خود ان حالات کے بچھائے ہوئے جال میں پھنس کر رہ جاؤ اور کبھی بھی پھر اس بھول بھلیاں سے نکل ہی نا سکو ۔۔۔۔
مرد چاہے کتنا بھی خراب کیوں نہ ہوں؟؟
 کتنا بھی خفا کیوں نہہ عورت اگر چاہے تو ایک لمحے میں اس کو اپنا اسیر بنا سکتی ہے ۔۔۔۔۔۔
اسکے دل کو موم کرنے کی صلاہیت رکھتی ہے۔ ۔۔!!!
عورت ہرگز بھی بےبس اور لاچار نہیں ہے۔ ۔

0 comments:

Post a Comment