رسی جل گئی مگر اب تک تمھارے کس بل نہیں نکلے ۔۔۔
ویسے تعلق تو میرا تم سے کل رات ہی میں بنا چکا ہوں۔۔
رہی بات تمہارے ماننے یا نہ ماننے کی تو۔۔
مسز حمزہ مجھے رتی برابر بھی فرق نہیں پڑنا۔۔۔ پھر تم میرے بارے میں برا سوچوں یا اچھا میں وہی ہوں جس کو بس صرف اور صرف تمہارے باپ کی بربادی سے غرض ہے اور رہے گا ۔۔۔
اور رہی رشتے کی بات تو محترمہ لگتا ہے کہ آپ کی میموری کچھ زیادہ ہی خراب ہے۔۔۔
اگر آپ کو یاد ہو تو کل تم نے ہی تین دفعہ قبول ہے کہہ کر مجھے اپنا شوہر تسلیم کیا ہے ۔۔۔۔
وہ اس کے بالوں کی آوارہ لٹ سامنے آئینے میں دیکھتے ہوئے کان کے پیچھے اڑستے ہوئے بولا ۔۔۔۔
میری کلائی چھوڑو مجھے تکلیف ہو رہی ہے ۔۔
تکلیف ۔؟؟
سہی میں تکلیف ہو رہی ہے ؟؟؟
بہت تکلیف ہو رہی ہے ؟؟؟
شفا کی چونکہ پشت حمزہ کی طرف تھی اس لیے حمزہ اس کے تاثرات سامنے ڈریسنگ ٹیبل میں مقید شیشے میں اچھی طرح دیکھ رہا تھا جہاں تکلیف کے واضح آثار موجود تھے ۔۔۔۔
چلو اب تم خود ہی سوچ لو کہ میرےلیے کھانا بناو گی یا پھر کھانے سے پہلے والا کام میں ابھی سرانجام دے دو ں؟؟؟
مطلب کیا ہے آپ کا؟؟؟
کون سہ کھانے کے بعد والا کام ؟؟؟؟
وہ سٹپٹائی ضرور تھی مگر پھر اپنی بے بسی محسوس کرکے ہمزہ سے بری طرح سے غرائی تھی ۔۔۔
سویٹہارٹ مطلب تو میرا بہت ہی واضح ہے اور جانتا ہوں تم سمجھ بھی بہت اچھی طرح چکی ہو۔۔۔۔
وہ جتاتے لہجے میں آنکھوں میں معنی خیزی لیے بول رہا تھا شفا کو یکدم ڈھیر ساری شرم نے آگھیرا وہ اپنی گھنیری پلکیں جھکا گئی ۔۔۔۔
تم کچھ بھی کر لو میں نہیں تمہاری غلام ۔۔۔
مجھے ابھی اور اسی وقت میرے گھر چھوڑ کر آئو۔ ۔۔
وہ اب رو دینے کو تھی ۔۔۔
گھر؟ ؟؟؟
وہ ہنستے ہوئے بولا۔ ۔
گھر تو تمہارا یہی ہے اور یہ جو ناز نکھرے ہیں نہ ۔۔
یہ کسی اور کو دیکھا نا۔۔۔
نا میری تم سے کوئی شدید قسم کی دھواں دھار محبت وابستہ ہے اور نہ ہی تم میری من چاہی بیوی ہو ۔۔۔
اس لئے میرے سامنے یہ بیویوں والے نازنخرے دکھانا بند کرو تم مجھے اپنی ان اداؤں سے زیر نہیں کر سکتی ہو ۔۔۔
وہ آنکھوں میں شدید قسم کی نفرت لئے کہہ رہا تھا ۔۔
اور اگر اپنی بہتری چاہتی ہو اور چاہتی ہو کہ میں فی الحال تمہارے ساتھ کچھ بھی غلط نہ کرو ں تو جو جو میں کہہ رہا ہوں اس پہ شرافت عمل کرتی جاؤ ۔۔۔۔
عمل نہ کرنے کی صورت میں تمہیں میری شدت آمیز قربت کی صورت خمیازہ بھگتنا پڑے گا اور دوسرا لان میں کی گھاس پہ سونا پڑے گا پوری رات ۔۔
فیصلہ اب تمہارے ہاتھ میں ہے ۔۔۔۔
وہ آہستہ سے اس کی کلائی چھوڑ چکا تھا ۔۔
ٹھیک ہے ۔۔
وہ اپنی کلائی کو سہلاتے ہوئے بولی تھی ۔۔۔
کچن میں پہنچ کر ایک نظر طائرانہ ڈالنے کے بعد شفا نے جلدی سے فرج میں موجود مٹن کا ایک پیکٹ نکال کر قورمے کی تیاری شروع کردی تھی ۔۔۔
سمیرا نے اپنی دونوں بیٹیوں کو سلیقے کے ساتھ ساتھ گھر کا داری میں بھی طاق کر دیا تھا ۔۔۔
کوئی بات نہیں کبھی کے دن بڑے کبھی کی راتیں ۔۔
اگر یہ تمہارے قرب سے دوری کی قیمت ہے تو میرے لئے بہت معمولی ہے ۔۔۔۔
کم از کم تمہارے چھونے کی اذیت سے تو میرے لئے لاکھ درجے بہتر ہے کہ میں تمہارے یہ چھوٹے موٹے کام کردوں۔ ۔
وہ دل ہی دل میں سوچ رہی تھی اور ساتھ ساتھ مٹر پلاو بھی بنانے کی تیاری کر چکی تھی ۔۔۔۔
کھانا وہ بنا چکی تھی اب اس کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کس طرح سے شیر کے منہ میں ہاتھ دے ۔۔
گھر کے اندر ملازم پورے دن اس کو کوئی بھی نہ نظر آیا تھا ۔۔۔۔
مرتے کیا نہ کرتے کے مصداق وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی ٹی وی لاونج میں پیر پر پیر رکھے نیم راز حمزہ کے سر پر پہنچ چکی تھی ۔۔۔
کھانا لگا دیا ہے کہ کچن میں ڈائننگ ٹیبل پر ۔۔۔
حمزہ نے کنٹرولر سے ٹی وی بند کیا اور شفا کی طرف متوجہ ہوا ۔۔۔
کھانا بنا کے تم نے میرے اوپر احسان نہیں کیا یہ سارے وہ کام ہے جو ایک بیوی کے کرنے کے ہوتے ہیں ۔۔۔۔۔
وہ اس کی نظروں میں نظر ڈال کے کچھ اس طرح سے کہہ رہا تھا کہ شفا کو اپنے تن بدن میں آگ لگتی ہوئی محسوس ہوئی۔۔
یعنی بھلائی کا تو زمانہ ہی نہیں رہا ۔۔۔
بیوی مائی فٹ ۔۔۔
شفا بھی کون سہ سیدھی تھی تڑخ کر بولی چہرے پر شدید بےبسی کے آثار نمایاں تھے۔۔۔۔
حمزہ تمسخرانہ ہنسی ہنستا ہوا کچن میں جا بیٹھا ڈائننگ ٹیبل کی چیئرگھسیٹ کر۔ ۔۔۔
کھانا خود تو نہیں نکلے گا میری پلیٹ میں؟؟؟
ظاہر سی بات ہے کھانا نکال کر تم ہی دو گی نہ مجھے ۔۔
سوہا نے خاموشی سے اس کی پلیٹ میں کھانا ڈال دیا اور اب خود جانے کو تھی کچن سے ۔۔۔
یہاں بیٹھو اور بیٹھ کے میرے ساتھ کھانا کھاؤ مجھے یہ نخرے پسند نہیں ہے اور اگر کھانا نہیں کھایا تو یہ یاد رکھنا اگلے ایک ہفتے تک خوراک کے لیے تر سو گئی ۔۔۔
اس کے بعد پھر الماری سے کپڑے نکال کے پریس کرکے لٹکا دینا دوبارہ سے میری وارڈروب میں ۔۔۔
وہ کھاتے ہوئے کہہ رہا تھا ۔۔
آج پہلی دفعہ اس نے ائمہ کے علاوہ کسی اور کے ہاتھ کا کھانا کھایا تھا وہ اپنے لئے ائمہ سے خاص طور پر الگ کھانا بنواتا تھا ۔۔۔
شفا کے ہاتھ کا کھانا اس کو بلاشبہ بہت بہترین اور لذیذ لگ رہا تھا مگر بغیر کسی بھی تاثر پیش کیے وہ کھانا کھاتا رہا ۔۔
جبکہ شفا کی آنکھیں نم تھیں اس سے حلق میں نوالہ اتارنا کسی مہازسے کم نہیں لگ رہا تھا مگر مشکل یہ تھی کہ حمزہ کا حکم ہی کچھ اس طرح تھا کہ اس کو کھاتے ہی بن پڑی تھی ۔۔۔۔
وہ برتن دھو کر جلدی جلدی فارغ ہوکر ہمزہ کے کپڑے وارڈروب سے نکال کر استری کرکے حمزہ کے روم میں آنے سے پہلے فرار ہونا چاہ رہی تھی ۔۔۔
وہ کپڑے ہاتھ میں لئے تیزی سے پلٹی تھی جب وارڈروب کا حق اسکی شرٹ میں اٹکا تھا اور سی کی آواز سے پیچھے لگی زپ الجھنے کی وجہ سے چرنے سے کھلتی چلی گئی تھی۔۔۔
وہ اس بات سے بے خبر تھی کہ اس کی ساری کاروائی کوئی بہت گہری نہ نظروں سے ملاحظہ فرما رہا ہے ۔۔
سیدھے ہاتھ میں اس کے کپڑے موجود تھے جبکہ الٹے ہاتھ سے وہ زپ بندکرنے کی کوشش کرنے لگی ۔۔۔
یخلقت اس کو اپنے پیچھے بہت نزدیک کسی کے بھاری قدموں کی آہٹ سی محسوس ہوئی ۔۔۔
🌹🌹🌹
بچاو کوئی تو میری مدد کرو ۔۔۔
وہ بھاگتے بھاگتے بری طرح تھک چکی تھی ۔۔
غلطی سے راستہ بھولنے کی وجہ سے وہ پچھلے دو گھنٹے سے مری کی اونچی نیچی پہاڑیوں کے اوپر خوار ہو رہی تھی ۔۔۔
مغرب کا وقت بھی گزر چکا تھا رات اپنے پر پھیلا چکی تھی ۔۔
کیا ہوا سویٹی کیا اپنا گھر بھول گئی ہو؟؟
کہوتو ہم تمہیں گھر تک پہنچا دیں ؟؟؟
اس کو اپنے پیچھے سے 2 مردانہ الگ الگ آوازیں محسوس ہوئی ۔۔۔
وہ خوفزدہ نظروں سے پیچھے پلٹی تھی کہ اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں پیچھے ایک نا دو شد بلکہ 10 سے 12 لڑکے موجود تھے جو اس کو بہت غلیظ نظروں سے اس طرح دیکھ رہے تھے جیسے آر پار ایکسرے کر رہے ہو ۔۔۔
میرے قریب مت آنا میں کہہ رہی ہوں میرے قریب مت آنا ۔۔۔
وہ نڈھال سی ہوچکی تھی بھاگ بھاگ کر مگر پھر بھی خود کو مضبوط ظاہر کرکے بری طرح چنگھاڑی تھی ۔۔۔
او سویٹہارٹ ہم تمہارے قریب نہیں آئیں گے ایک کام کرو تم ہمارے قریب آ جاؤ ۔۔
ان میں سے ایک لڑکا سیٹی بجاتے ہوئے مکروہ ہنسی ہنستے ہوئے بولاتھا جبکہ اس کے پاس کھڑے دوسرے لڑکے نے پہلے والے لڑکے کے ہاتھ پر تالی ماری اور بولا ۔۔۔
ویسے چلو تمہیں ایک آ فر کرتے ہیں جو کہوں گی تمہیں تمہاری منہ مانگی قیمت ادا کریں گے مگر ہمیں ہمارے انداز میں خوش کرنا ہو گا تم کو ۔۔۔
تو پھر کیا خیال ہے چڑیا؟ ؟
پہلے تو سوہا نہ سمجھی سے ان سب آوارہ لڑ کوں دیکھتی رہی مگر جب اس کو ان کی کی غلیظ بات کے اصل معنی سمجھ میں آئے ۔ ۔۔
وہ مزید خوف سے دوچار ہو کے رہ گئی ۔۔۔
اب ان لڑکوں نے اس کو ایک دائرہ بنا کے اپنے گھیرے میں لے لیا تھا فرار کا کوئی بھی راستہ اب سوہا کے پاس باقی نہ رہا تھا ۔۔
۔
میری مدد کرو۔۔۔۔
کوئی تو اللہ کا بندہ مجھے تم لوگوں سے بچائے گا ۔۔۔
وہ ان کے بنائے گئےدائرہ کے بیچوں بیچ کھڑی زور و شور سے روتی خدا کو یاد کرتے ہوئے بولی ۔۔۔
ہم ہیں نا نیک بندے دیکھو ہم آگئے تمہاری مدد کے لئے کتے کے ساتھ ہی ایک لڑکے نے اس کا دوپٹہ کیسا تھا اور ہوا میں اڑا کے دور اچھال دیا ۔۔
فضا میں اچانک فائر ہونے کی آواز گونجی تھی اور ایک فائر ہونے کے بعد دوسری فائر پہ ایک لڑکا ان میں سے زخمی ہوا زمین پر بری طرح کر ہہ رہا تھا اس کے پاؤں میں گولی لگی تھی ۔۔
وہ گھبرا کے ادھر ادھر دیکھتی رہی ۔۔
جب کسی نے اس کے سر پر زمین سے اٹھا کے دوپٹہ ڈھانپ دیاتھا ۔۔۔
مم ۔۔۔۔۔مصطفی بھائی ۔۔۔
مصطفی پاگلوں کی طرح ایک ایک لڑکے کی درگد بنا رہا تھا ۔
جبکہ سوہا کو لگا جیسے اس کے رب نے اس کی فریاد سن لی تھی اور اس کے لیے مدد کے طور پر اس کے کزن مصطفی کو بھیجا تھا جس کا دور دور تک اس جگہ موجود ہونے کا امکان تک بی نہ تھا وہ اس وقت ایک ایک کو روندھ کے پٹخ رہاتھا ۔۔۔
بس کر دیں یہ مر جائیں گے ۔۔
وہ چیخی تھی کیونکہ ایک لڑکے کو مار مار کے مصطفی اب اس کے منہ میں اپنی گن رھک کے چلانے ہی والا تھا جب سوہا کی آواز نے اس کے بگڑے ہو اس برابر کیے تھے ۔۔۔
مصطفی لڑکے کو چھوڑ کر شدید اشتعال کے عالم میں اٹھا تھا اور سوہا کو بازوؤں میں اٹھاکر اپنی جیپ کی طرف بڑھ چکا تھا ۔۔۔
نازک سی سوہا کسی لچکیلی ڈھال کی طرح اس کے بازوں میں جھولتی آنکھیں بند کر چکی تھی خوف اس کو صرف اتنا تھا کہ اب مصطفی اس کو چھوڑے گا نہیں ۔۔
آسکی شامت پکی تھی۔ ۔۔
مصطفیٰ کاغصہ تو پورے خاندان میں مشہور تھا اور وہ بیچاری ننی سی جان کس طریقے سے اس کے عتاب سے بچ سکے گی ۔۔۔؟؟؟
وہ ابھی اس کو لے کر جیپ تک پہنچا ہی تھا اور اس کو اس کے قدموں پر کھڑا ہی کیا تھا ۔۔۔
جب سامنے سے آتے اس کو تلاش کرتے پرنسپل اور ان کے ساتھ موجود کئی اور ٹیچرز اپنی اوڑھ آتے ہوئے دیکھ کر وہ بھاگتے ہوئے ان تک پہنچی تھی ۔۔۔
جن میں سے ایک سمیرا کی چچازاد بہن بھی تھی ۔
بیٹا کہاں چلی گئی تھی تم؟ ؟؟
کہاں کہاں نہیں تمہیں تلاش کیاہم نے ۔۔۔
خالا میں راستہ بھٹک گئی تھی ۔۔۔
وہ روتے ہوئے بولی تھی ۔۔
چلو آوادھر جلدی ۔۔۔
وہ بےزاری سے بولا
بیٹا چلو آپ کا بہت شکریہ جو آپ نے ہماری بچی کی مدد کی ۔۔۔
ادھیڑ عمر ٹیچر نے مصطفی کی طرفدیکھتے ہوئے شکریہ ادا کیا ۔۔۔
شکریہ کی بات نہیں ہے یہ تو میرا فرض تھا اور دوسری بات یہ ہے کہ سوہا اب میرے ساتھ جائے گی ۔۔۔۔
کیا؟ ؟؟۔
مطلب کیا اس بات کا؟ ؟؟
پرنسل سخت برہم ہوئے۔ ۔
سوہا نے بے یقینی سے بڑھ کر مصطفی کو دیکھا تو اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ اب مصطفی کرنا کیا چاہ رہا ہے آخر؟ ؟!
وہ صحیح سلامت پہنچ تو چکی تھی اب اپنے ٹیچرز تک ۔۔
پھر؟ ؟؟۔
نہیں بیٹا یہ ممکن نہیں ہے ۔۔۔
سمیرا کی کزن جھٹ بولی تھی ۔۔
ممکن ہے۔۔۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ میں اس کا شوہر ہوں اب یہ میرے ساتھ ہی جائے گی ۔ ۔۔
سوہا سمیت باقی سب بھی ہقدک رہ گئے تھے مصطفی کی کہیں اس بات پر ۔۔۔
جبکہ سمیرا کی کزن مصطفی کو پہچان چکی تھی پہلی نظر میں ہی کہ وہ کون کس کا بیٹا تھا ۔۔
اس لئے اس کی کہی اتنی بڑی بات پہ یقین کرتے بنی ۔۔
اگر آپ چاہیں تو میں آپ کی اپنی مدرسے بات کروا سکتا ہوں ۔۔۔
مصطفی کا انداز کچھ ایسا تھا کہ دوسرے کی ہمت ہی نہ بن پا رہی تھی کچھ بھی پوچھنے ۔۔
چلو سوہا۔ ۔
وہ برہمی سے کہتا اپنی جیپ کا دروازہ کھول چکاتھا۔ ۔
۔۔مم میں نہیں جاونگی۔ ۔۔
تمہارے تو اچھے بھی جائنگے۔ ۔آو فوراً۔ ۔
کیا کہہ رہا ہو سمجھ میں نہیں آتی ایک دفعہ کی کہی بات؟ ؟
وہ غرایا۔ ۔۔
سوہا کہیں نہی جائیگی۔ ۔۔
فضا میں ایک اجنبی سی کرخت مردانہ آواز گونجی تھی۔ ۔۔
________
آپ؟
اس کے بالکل عین عقب میں ہمزہ موجود تھا شفا کو اچانک ڈھیر ساری حیاء اور خوف نے آ گھیرا تھا۔۔۔۔۔
" ظاہر سی بات ہے میرے کمرہ ہے تو لحاظ سے اس میں میرے علاوہ تو کوئی اور ہو نہیں سکتا۔۔۔۔۔"
ہاں مگر۔ ۔۔۔۔!!!
" بس تمہارا وجود اس کمرے میں کچھ ان فٹ سہ ہے ۔۔"
وہ اپنے نم گیلےبال ٹاول سے خشک کرتے ہوئے کہہ رہا تھا ۔۔۔
حمزہ ابھی بھی شاور لے کر نکلا تھا ڈھیلے ڈھالے ٹراؤزر میں موجود ٹی شرٹ سے بے نیاز ۔۔۔
وہ اپنے کسرتی لمبے چوڑے وجود سمیت شفاء کےسامنے کسی لوہے کی دیوار کی مانند استدعا!! اس کا راستہ روکے کھڑا تھا ۔۔۔
عموماً شفا کی اس کے سامنے چلتی کینچی کی طرح تیز دھاری زبان اس وقتخلاف توقع اسکے سامنے بند تھی۔ ۔۔۔
وہ اس کی ساحرانہ پرسنلٹی کے حصار میں خود کو جکڑا ہوا محسوس کر رہی تھی ۔۔
پگھل رہی تھی۔۔
بے خیالی میں وہ اس کو ٹکٹکی باندھے دیوانہ وار تک چلی جا رہی تھی۔۔۔۔
دوسری طرف وہ شخص تھا۔
جو ایک نظر غلط بھی اس کی طرف ڈالنا اپنی توہین اور انا کی تذلیل ہونے کے مترادف سمجھتا تھا مگر اس وقت وہ خود کو بے بس محسوس کرتا ہوا شفاء کی ہیزل براؤن آنکھوں میں خود کو بری طرح سے ڈوبتا ہوا محسوس کر رہا تھا ۔۔۔
وہ پوری طرح شفاء کی خوبصورت آنکھوں میں غرق ہو چکا تھا۔۔
رات کی فسوں خیزی ۔۔۔
نئے بنے اس رشتے کو قبول کرنے پر اکسا رہی تھی۔۔
خاموشی کئی سرگوشیاں اپنی ہی زبان میں ان دونوں کے کانوں میں کسی سریلے گیت کی طرح انڈیل رہی تھی ۔۔۔
دونوں کو اس وقت دنیا جہان کی کوئی فکر تک نہ رہی تھی۔۔۔
ایسا لگ رہا تھا جیسے وقت ساقط ہو چکا ہے دنیا میں کوئی زی روح اس وقت موجود نہ رہا ہو۔ ۔
ہر دکھ ہر غم انگڑائی لے کر جا سوئے تھے۔۔۔۔
اس لمحے بس وہ دونوں ایک دوسرے کے سحر میں گرفتار تھے ۔۔۔
حمزہ کے موبائل کی باربار بچتی میسج کی ٹیون نے
ان دونوں کو واپس حقیقت کی دنیا میں لادھکیلا تھا ۔۔
ایک طلسم تھا جو ٹوٹ کے بکھرا تھا ۔۔۔
ان دونوں کو ایک دوسرے کے حصار باندھتے خیالات سے جھنجوڑ کر واپس تلخ اور حواسوں کی دنیا میں لا پٹخا تھا ۔۔
"مجھے راستہ دیں"۔۔۔
وہ سوالیہ نظروں سے اپنی راہ روکے جانے پر تلملا کر بولی تھی ۔۔
تمام احساسات پر ایک دم جیسے او س سی پڑ چکی تھی۔۔۔
سرد لب و لہجہ واپس عود کر آیا تھا ۔۔
وہ یہ تک بھول بیٹھی تھی کہ اس کی شرٹ کی زپ بند نہ ہونے کی وجہ سے اس کی پشت کو عیاں کر رہی تھی ۔۔
"تمہارے راستے میں تو اب ہر جگہ تمہیں میرے نام کے ہی نوکیلے پتھر اور خاردار راہیں ہی ملیں گی۔۔"
" کیونکہ یہ راستے تمہارے لئے میرے منتخب کردہ جو ٹھہرے ۔۔۔
حمزہ کا لب و لہجہ بھی یخلقت تبدیل ہو گیا تھا وہ اپنی پرانی ٹیون میں واپس آگیا تھا۔۔
جس سے وہ شفا کو شدید چکرا نے کا ہنر بخوبی اپنے اندر رکھتا تھا ۔۔
لگتا ہے میری چند منٹ کی کرم نوازی نے تمہیں کافی سرشار کردیا ہے؟؟؟
اس کا اشارہ کچھ دیر قبل اپنی اور اس کی اوکوارڈ سیچویشن کی طرف تھا ۔۔۔
"آپ راستہ نہیں دینا چاہتے شاید مجھے ۔۔"؟
مگر میں اپنے راستے میں آنے والے تمام پتھر اور کانٹوں کو بڑی مہارت سے ہٹانا جانتی ہوں ۔۔۔!!!
کسی بھی غلط فہمی مت رہیئے گا۔ ۔۔
وہ بھی اب بری طرح سے سلگ کر آتش فشاں بنی اس کو سوالیہ نظروں سے گھور رہی تھی ۔۔۔
"کیوں کیا تمہیں مجھ سے خوف محسوس ہو رہا ہے"؟؟؟
" کہ کہیں میں آج رات پھر سے تمھاری شا مت ہی نہ بلا بیٹھوں۔ ۔
وہ نہ چاہتے ہوئے بھی شفا کا راستہ روکے اس پر طنز کے تیر چلانے پر مجبور تھا۔۔۔
کسی خوش فہمی میں نہ رہے گا نہ ہی میں آپ کو اپنا دل سے شور تسلیم کرتی ہوں اور نہ ہی میں اس رشتے کو کوئی اہمیت دینے کی قائل ہو ۔۔۔"
وہ ہر قسم کے تعلق سے انکاری تھی یہ سوچے بغیر کہ وہ حمزہ کی انا کو انجانے میں ہی چیلنج کر بیٹھتی ہے ہر دفعہ ۔۔!!!
چلو دیکھتے ہیں کہ تم کب تک میری ذات سے انکاری رہ سکتی ہو؟؟؟؟
ویسے جس قدر تمہارے چہرے پہ دکھ اور کرب موجزن ہو گا۔۔
اتنا ہی تمہارا باپ تڑپے گا۔۔۔
تم یہ چاہتے ہو کہ میرا باپ میرے دکھوں پر تڑپے؟؟؟؟
" تو اب تم بھی دیکھ لو گے کہ ۔۔"
میرا باپ میرے چہرے پر دکھ تلاش کرتا رہ جائے گا مگر ۔۔۔۔
ان کو میرا یہ چہرہ ہمیشہ خوش و خرم اور ہنستا مسکراتا ہی دیکھنا نصیب ہو گا ۔۔""
"یہ میں تمہیں گارنٹی دیتی ہوں ۔۔"
تم سے یہ میرا وعدہ رہا کہ حمزہ جلال میں کبھی بھی ہار نہیں مانو گی بلکہ تمہیں ہار کے بھی جیت کر دکھاؤں گی ۔۔"
"شفا رحمان اپنے کئے وعدے اور قول سے ہٹنے والوں میں سے ہرگز بھی نہیں ہے یاد رکھنا ۔۔"
وہ انگشت شہادت بلند کر کے اس کی طرف!! بے خوف اور پراعتمادی سے بولی تھی ۔۔
شفا کے اتنے دیدہ دلیری سے کہے گئے جملے نے حمزہ کو شدید غصے کی آگ میں دھکیل دیا تھا۔۔۔
اس نے شفا کو بازو سے تھام کر اس کا رخ موڑ کے دوسرے ہاتھ سے وارڈروب کا کھلا ہوا دروزا اشتعال میں آکر زور سے بند کیا تھا ۔۔۔
دھاڑ کی آواز پورے کمرے میں گونجی تھی۔ ۔۔۔۔
بری طرح سہمی تھر تھر کانپتی شفا کو الماری سے جا لگایا ۔۔
یہ کیا بدتمیزی ہے ؟؟؟
چھوڑئیے مجھے۔۔۔۔
وہ چلائی تھی۔۔۔
حمزہ نےاس کی پشت کو گھورتے ہوئے ایک ہاتھ سے اس کو جھکڑے جبکہ دوسرے ہاتھ سے سگریٹ کو سلگانے لگا۔۔
جس طرح یہ سگریٹ سلگ رہی ہیں بلکل اس طرح میں تمہارے ذریعے رحمان صاحب کوسلگاؤں گا ۔۔۔
وہ اس کو سلگتی ہوئ سگریٹ چہرے کے سامنے دکھاتے ہوئے بولا ۔۔
سی۔۔۔۔
شفا کی مزاحمت کرنے کی وجہ سے بالکل نہ دانستگی میں ہی جلتی ہوئی سگریٹ شفا کی پشت سے جا لگی تھی ۔۔
وہ تڑپ اٹھی تھی درد کی شدت سے۔۔۔۔
شفاء کی تکلیف دیکھ کر حمزہ کے تو گویا جیسے پورے وجود میں جھکڑ سے چلنے لگے تھے۔ ۔۔
شفا کی اس قدر تکلیف و سسکاریاں اسکو بہت تکلیف پہنچارہی تھیں۔ ۔۔۔
وہ تیزی مزید کچھ بھی سوچے ایک لمحہ زایا کئے اس کی پشت پر جھکا تھا اور اپنے سلگتے ہوئے لبوں کو سسکتی ہوئی شفاء کی پشت پر بننے والے چھالے پر رکھ دیے تھے ۔۔۔
اتنی شدید جلن کے باوجود شفا کو لگا جیسے حمزہ کے لبوں نے اس کے زخم پر ٹھنڈی اوس برسا دی ہو۔۔۔
شفا کی آنکھوں سے دو ننھے ننھے موتی گرے تھے۔۔۔۔
کس قدر حساس تھا۔۔۔
وہ اس کی اتنی سی تکلیف پہ سب کچھ بھولے اس کو اپنے حصار میں لیے۔۔۔
معمولی سے زخم پہ اپنے پیار بھرے لمس سے مستقلاً مرہم رکھنے کی کوشش کر رہا تھا ۔۔۔
کس قدر دعوہ کرا کرتا تھا کہ وہ اس کو تکلیف پہنچائے گا ۔۔
"تم تو کہتے ہو کہ آخری حد تک جاؤ گے مجھے اذیت پہنچانے کے لیے ۔۔"
"ہر حد پھلانگ دو گے ظلم و ستم کی ۔۔۔"
"مگر پھرکہو یہ کون ہے جو اس وقت میری اس قدر زرا برابر سی تکلیف پہ تڑپ اٹھا ہے ۔۔؟؟؟؟؟"
"یہ کونسا روپ تم اپنے اندر چھپائے بیٹھے ہو ۔۔؟؟؟"
"گر جو یہ خواب ہے تو میرے اللہ پاک میری کبھی آنکھیں نہ کھلے ۔۔۔"
"میری گہری نیند کبھی بھی نہ ٹوٹے ۔۔۔"
"بے شک میں ہمیشہ کیلئے نیند کی وادیوں میں ہی کیوں نہ کھو جاؤ ۔۔"
"میرے رب مجھے منظور ہے ۔۔"
وہ ششدر سی حمزہ کی وارفتگیوں کا مظاہرہ دیکھ اور محسوس کر رہی تھی ۔۔
وہ بن کہے بھی۔۔۔۔
بہت کچھ نہ چاہتے ہوئے بھی۔۔۔۔
اپنے رویے اور احساسات سے ظاہر کر گیا تھا ۔۔۔۔
جو وہ ہرگز کبھی بھی شفا کے سامنے ظاہر کرنے کا تصور بھی نہیں کرسکتا تھا ۔۔۔۔
"یہ بس اچانک سے ہوگیا تمہاری غلطی ہے ساری"۔۔۔۔۔
" نہ تم اتنا مجھے پریشان کرتی اور مجھےغصہ نہ دلاتیں تو کبھی بھی ایسا نہ ہوتا ۔۔"
وہ جھلائے ہوئے اور پریشان سے لہجے میں اس کے اوپر ہی برس رہا تھا ۔۔
"جاؤ ڈریسنگ روم میں اور شب خوابی کا لباس پہن کر آو۔۔۔"
" وہ والا جو کل میں نے تمہیں پہنایا تھا ۔۔"
"اس طرح کی شرٹس میں تمہیں اور جلن ہو گی"۔۔
" جتنی اس زخم کو تمہارے حوالگی گی اتنا ہی یہ ٹھیک ہوگا جلدی "۔۔۔
"اور تمہیں جلن کا بھی احساس کم ہوتا چلا جائے گا ۔۔۔"
وہ ماتھے پہ آیا پسینہ گردن کے گرد لپٹی ٹاول سے پونچھتے ہوئے بولا۔ ۔۔
"اور اس جلن کا کیا ؟؟"
"جو تمہارے رویہ سے میرے پورے وجود میں ہوتی ہے"۔۔۔
" میرے دل کو بڑے بڑے بدنما چھالوں سے نواز چکی ہے "۔۔۔
"اس سب کا زخم کب اور کیسے بھرے گا؟ ؟؟"
شفا کے لہجے میں کرب بول رہا تھا اس کے منہ سے اچانک سچ پھسل گیاتھا ۔۔۔
تم جاؤ ڈریسنگ روم میں میں آتا ہوں بر نال لے کر ۔۔
جلدی سے چینج کرکے باہر آؤ ۔۔۔۔
حمزہ لمحے بھر کو ٹھٹکا تھا اور ٹھہر سا گیا مگر پھر چند ثانیوں بعدخود کو سنبھال کے بولا بھی تو کیا بولا ۔۔۔
شفا کے لبوں پہ اک افسردہ افسردہ سی مسکان بکھری تھی ۔۔
"اب یہاں کھڑی کھڑی کیا دیکھ رہی ہو جاؤ بھی ۔۔"
وہ حکم صادر کرتا کمرے سے جاچکا تھا جبکہ شفا پیچھے بوکھلا کر رہ گئی تھی۔۔۔۔
وہ ڈریسنگ روم میں شرم وحیاء و بوکھلاہٹ سے حمزہ کے آرڈر کیے گئے لباس کو دیکھ رہی تھی۔۔۔
اس کو یہ سوچ کر ڈھیر ساری شرم نہ آنگھیرا تھا کہ ۔۔۔
کل رات حمزہ نے اس کو خود ۔۔۔۔۔!!!
اس سے آگے اس کا سوچنا محال تھا ۔۔
مگر اس وقت وہ بہت مسرور سی تھی حمزہ کا اس کے لئے یکسر بدلا ہوا اور فکر مندانہ سہ پریشان کن رویہ دیکھ کر۔۔۔
وہ کسی صورت بھی اس کو واپس اس ٹون میں آنے دینا نہیں جا رہی تھی ۔۔
اس نے ٹھان لی تھی کہ وہ اپنی ذات اور اس سے جوڑے کئی رشتوں کے لیے حمزہ کے اندر موجود ایک پیارے سے شخص کو جگہ کر رہے گی ۔۔
"بے شک ہر دفعہ عورت کو جھکنا پڑتا ہے مگر اس دفاع میں تمہیں سدھار رونگی ۔ "
"ہوا کی بیٹی ہوں خود کو ہرگز کمزور نہیں پڑھنے دوں ۔۔"
"تمہیں تمہارے ہی طریقے سے زیر کرکے دکھاؤں گی"
حمزہ تمہیں نہیں پتا کہ تمہارا کس سے پالا پڑا ہے میں کوئی انیس سو نامعلوم کی ستی ساوتری سی ہیروئن نہیں ہوں اور نہ ہی میں کسی ناول کی معصوم سی کردار ہو جو قربانیاں دے دے کر خود کو ہلکان کرتی رہے """
"میں آج کی لڑکی ہوں ۔۔۔۔"
"یا تو تمہیں فتح کر لو گی ۔۔۔"
یا پھر ۔۔۔
"اپنی راہیں جدا کر بیٹھونگی" ۔
"مگر ہار نہیں مانو نگی"
وہ بہت اچھی طرح جان چکی تھی کہ حمزہ چاہ کر بھی اس کے ساتھ کچھ غلط نہیں کر پارہا۔۔۔
اتنے بڑے بڑے دعوے کرنے والا اس کی اتنی سی معمولی تکلیف میں تڑپ کے رہ گیا تھا ۔۔
"میں تمہارے دل میں اپنا مقام بناو نگی ،اپنی محبت کی شمع روشن کرو نگی "۔۔۔۔
"حمزہ میں تمہارے اور بابا کے درمیان موجود چپقلشوں کو دور کرکے رہو نگی"۔۔۔
" اتنا پیارا رشتہ ہے تم دونوں چچا بھتیجے کا میں اس رشتے میں دوبارہ سے رنگ بھرونگی ۔۔"۔
محبت کے رنگ اپنائیت کے رنگ ۔۔
اس کے لئے شاید مجھے حورم بھابھی اور آدم بھائی کی بھی مدد کی ضرورت ہو گی ۔۔
"عورت اگر چاہے تو پتھرکو بھی موم بنا سکتی ہے ۔۔"۔
"تم تو پھر جیتے جاگتے انسان ٹھہرے" ۔۔۔۔۔
"تمہیں اپنا نا بنا لیا تو میرا نام بھی شفا نہیں "۔۔۔۔
"حورم بھابی آپ نے بالکل صحیح کہا تھا میں آپ کے دیے گئے مشورے پر لازمی عمل کروں گی ۔۔"
وہ سوچتے ہوئے حمزہ کا بتایا ہوا لباس پہن کر باہر آچکی تھی اور باہر حمزہ جلے پر کی بلی کی طرح ادھر سے ادھر چہرے پر پریشانی لیے ٹہلتا اس کا انتظار کر رہا تھا ۔۔
"میں آگئی ہوں "۔۔۔۔
وہ نظریں جھکائے جھجکتےہوئے بولی تھی ۔۔۔
جبکہ دوپٹے سے اپنے وجود کو ڈھانپنے کی اپنی سی کوشش کی گئی تھی۔۔۔۔
وہ خود کو حمزہ کی نظروں سے بچانا چاہ رہی تھی ۔۔
۔۔
دوپٹے کو خامخوا دوبارہ سے اچھی طرح خود پے لپیٹنے لگی ۔
حمزہ اس کی آواز سن کر اسکی طرف لپکا تھا اور اس کو بازو سے تھام کر ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے تیزی سے چیئر گھسیٹ کر بٹھایا تھا۔۔۔۔۔
وہ اب بغیر کچھ بھی کہے چیئر پر بیٹھ چکی تھی۔۔۔۔۔۔
" میری وجہ سے تمہیں اس قدر تکلیف اٹھانی پڑی"۔۔۔۔۔
وہ بڑبڑا رہا تھا ۔۔۔
مگر مخاطب وہ خود سے ہی تھا ۔۔
اس کی پشت کو ڈھانپے ہوئے دوپٹے کو اس نے بغیر کسی بھی ہچکچاہٹ کے اتار کر بیڈ پہ اچھالا تھا اور ایک نظر اس کے حیاء سے سرخ پڑے چہرے کو دیکھنے کے بعد وہ چھوٹی سی پیالی میں رکھی آئس کیوب اٹھا کر اس کے زخم پے ٹکور کرنے لگا۔۔۔۔۔
پھر اس کے بعد اس پر برنال لگا کر مطمئن سہ ہو کرشفا کو دیکھا اور بغیر کچھ کہےاس کو بازوؤں میں بھر کر بیڈ پہ لے جاکے کروٹ سے احتیاط سے لیٹ آنے کے بعد اس نے سکون کا لمبا سہ سانس فضا میں بھرا ۔۔۔
۔۔
وہ خود آب شفاء سے تھوڑا فاصلہ قائم کرکے بیڈ کے دوسرے حصے پر آکر بیڈ کراون سے ٹیک لگا کے لینمپ کی روشنی ہلکی کرکے دراز ہو گیا تھا ۔۔۔۔۔!!!
"کیا میں جو اس معصوم لڑکی کے ساتھ کر رہا ہوں وہ سب کچھ ٹھیک ہے "؟؟؟
"تم ایک اور ائمہ کو وجود میں لا رہے ہو"۔۔۔۔
آدم کا کہا جملہ ایک دفعہ پھر اس کے کانوں میں پگھلے ہوئے سیسے کی طرح ٹکرایا تھا
______
صطفی نے ہوا میں گونجتی آواز کے تعقب میں مڑ کر دیکھا تھا ۔۔۔
جہاں سوہا کے ایک ادھیڑ عمر پروفیسر اس سے مخاطب تھے۔۔۔
مگر سر میں آپ کو بتا چکا ہوں کے شی از مائی وائف۔۔۔
" اس کے بعد تو کسی بھی قسم کا جواز نہیں بنتا سو ہاکےنہ جانے کا اور میری مرضی کے بغیر آپ لوگوں کے ساتھ واپس جانے کا بھی ۔۔"
وہ شائستگی سے کہتا واپس اتر کر وہاں کے سامنے آ کر کھڑا ہو چکا تھا اس طرح کے اور مصطفی کی پشت شوہر کو منہ چڑا رہی تھی وہ پوری طرح مصطفی کے پیچھے چھپ چکی تھی ۔۔
"جلاد نہ ہو تو "۔۔۔
سوہانے اس کو دل ہی دل میں جلاد کا لقب دیا وہ دانت پیس کر رہ گئی تھی۔۔۔۔
" بالکل ٹھیک کہا آپ نے مگر ہم بغیر ثبوت کے سوہا کو کسی طور بھی آپ کے حوالے نہیں کر سکتے ۔۔۔"
وہ اپنے اب نرم لہجے میں اس کو سمجھانے والے انداز میں بولے تھے ۔۔۔۔
کہیں نہ کہیں وہ بھی اس کی پرسنیلٹی سے انسپائر ہوئے تھے ۔۔
میرے پاس اس وقت نکاح نامہ نہیں ہے اگر مجھے ذرا سا بھی علم ہوتا کہ میری وائف کے ساتھ اس طرح کا کوئی واقعہ پیش آجائے گا تو میں ضرور ہر جگہ اپنی جیب میں نکاح نامہ رکھ کے گھومتا ۔۔۔
ہاں مگر آپ کی تشویش کا میرے پاس واحد ایک حل ہے کہ آپ میری وائف سے خود ہی پوچھ سکتے ہیں کہ یہ میرے نکاح میں ہیں یا نہیں ۔۔
وہ اپنا ہاتھ پیچھے کرکے سوہا کو سامنے لے کر اس کی کلائی مضبوطی سے اپنے ہاتھ کی گرفت میں لے کر اب بالکل اپنے ساتھ برابر میں کھڑا کر چکا تھا۔۔۔۔۔
کلائی سختی سے اپنی فولادی گرفت میں جکڑی ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔
بتاؤ سوہا کیا تم میری بیوی ہو یا نہیں ۔۔؟؟۔۔
جبکہ ہاتھ میں تھامی کلائی پہ لمحے بھر کے لیے زور دیکر مزید گرفت سخت کردی گئی تھی۔۔۔۔
جیسے کہا گیا ہو کہ۔ ۔
جلدازجلد ہاں میں جواب دو اور سب کو روانہ کرو ۔۔۔
بتاؤ سوہا بیٹا کیا یہ تمہارے شوہر ہیں؟ ؟؟۔
تمہیں کسی سے بھی ڈرنے یاگھبرانے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔
پروفیسر چشمے کی اوٹ سے اس کو شفقت بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھ رہے تھے۔۔۔
جج ۔۔۔۔۔۔۔جی مم۔ ۔۔۔۔ شوہر ؟؟؟
اس کی خود کی آنکھوں میں بھی یقینی تھی مصطفی کی کہی بات کو لے کر وہ اتنا ہی کہہ پائی تھی۔۔۔
کہ اس سے آگے بولے بولنے کا موقع ہی اسکو مصطفی نے نہیں دیا تھا۔۔۔
اس کے جی کہنے کے فوراً بعد وہاں ٹھہرے بغیر وہ سوہا کو لے کر اپنی جیپ میں بٹھا کے اسے اڑا لے گیا تھا جیسے جہاز اڑا رہا ہوں ۔۔۔
وہ اس کو لے کر سیدھا ایک ریسٹورنٹ میں آیا تھا ڈنر کے لئے ۔۔
وہ اچھی طرح یہ بات جانتا تھا کہ وہ بھوک کی بہت اچھی ہے ۔۔
چھوٹی تھی تب بھی بہت زیادہ بھوک کی کچی ہوا کرتی تھی۔۔
ویسے تو مصطفی کے پاس آتی ہی نہیں تھی اس کو دیکھ کر زور زور سے رونا دھونا بھینکڑا پھارنا شروع کر دیا کرتی تھی ۔۔
اور جو اگر وہ کوئی چیز کھا رہا ہوتا تو محترمہ ایسے پیار سے اس کے پاس اپنے چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی آتی جیسے وہ اس کا پہلا اور آخری دوست ہو ۔۔
مجھے بھوک نہیں ہے وہ منہ پھلاتے ہوئے بولی تھی جبکہ اس کے اترنے کے ساتھ ہی خود بھی اپنی تشریف کا ٹوکرا لئے اتر چکی تھی ۔۔
تو میں نے تم سے کب پوچھا کہ تمھیں کھانا کھانا ہے یا نہیں ؟؟
مجھے بھوک ہے اس لئے میں ادھر آیا ہوں میں۔۔۔
وہ بے رخی سے کہتا اس کا ہاتھ اپنی گرفت میں لیے لمبے لمبے ڈگ بھرتا ریسٹورنٹ ایک قدرے پرسکون گوشہ تلاش کرکے ادھر جا بیٹھا تھا۔۔۔۔
میرا ہاتھ کیوں پکڑا ہوا ہے!؟؟
چھوڑے میرے ہاتھ کو ۔۔
میں کوئی نہیں دودھ پیتی بچی تو نہیں ہوں ۔۔
ہاں صحیح کہا تم واقعی دودھ پیتی بچی نہیں ہوں مگر پھر بھی اپنی حفاظت کرنا نہیں جانتی ۔۔
نا چاہتے ہوئے بھی مصطفی کا لہجہ سخت ہوا تھا ۔۔
وہ برہمی سے کہتا ویٹر کو اشارہ کر چکا تھا۔۔۔
یعنی بات کو اپنی طرف سے بالکل ختم کر دینے کا اعلان تھا۔۔۔
تاکہ سوہا مزید کوئی بھی بات اب پھر سےاس سے اس ٹوپک پہ نہ کرے ۔۔
ہنٹر بیف سنگل سرونگ ۔۔۔۔
وہ اپنے لئے آرڈر لکھ وارہا ہوں لکھوا رہا تھا ویٹر کو۔۔۔۔۔
گرل چکن ود مندی سنگل سرونگ۔۔۔۔۔
سوہانے بھی جھٹ سے اپنا آرڈر بھی دے ڈالا ۔۔
ویٹر آرڈر لے کر جا چکا تھاجبکہ وہ ادھرسے ادھر چیئونگم چباتے ہوئے دیکھ رہی تھیں جیسے وہ تنہا وہاں موجود ہو اور مصطفی نامی کوئی شخص اس کے ساتھ جیسے تھا ہی نہیں ۔۔
آبھی تو تمہیں کھانا کھانا ہی نہیں تھا پھر یہ آرڈر کیا میرے سسرالیوں کےلئے دیا ہے؟؟؟
وہ ہونٹوں پہ شریر سی مسکراہٹ سجا کے بولا تھا کچھ لمحوں پہلے اس کو سوہا سے کی گئ اپنی سختی کا احساس ہو گیا تھا۔۔۔
اس لیے اب لہجہ قدرے نرم پڑ چکا تھا ۔۔
ہاں تو کوئی احسان نہیں لے رہی میں آپ کا میرا ۔۔
میرا جو کھانا میں نے آرڈر کیا ہے اس کابل میں بعد میں آپ کو دے دوں گی ۔۔۔
ابھی فی الحال میرے والٹ میں پیسے تو دور کی بات وسلٹ اور سامان کچھ بھی نہیں ہے سب کچھ ہوٹل میں ہے۔۔۔
جہاں آپ نے مجھے جانے نہیں دیا ۔۔۔
اوتو یعنی تم مجھ سے ادھار لے رہی ہو؟؟؟
وہ اس کے گلابی پھولے پھولے رخساروں کو اپنی نظروں کے حصار میں لیتے ہوئے بولا ۔۔
جی بالکل میں کسی کا احسان لینا پسند نہیں کرتی۔۔۔۔۔
وہ صرف بولی ہی نہیں تھی بلکہ فرضی کالر جھاڑتے ہوئے ایک ادا سے اسکو نن
بھرپور انداز میں جتا یا بھی تھا ۔۔
تو پھر یاد رکھنا جتنے بھی میں تم پہ بقول تمہارے احسان کرو نگا۔۔۔
اس کا حساب میں پھر اپنی مرضی سے سود سمیت وصول کروں گا۔۔۔۔
وہ بہت گہرے لہجے میں اس سے مخاطب تھا۔ ۔۔
سوہا کے تو سر پر سے گزر ہی گئی تھی اس کی کہی بات مگر پھر بھی چپ رہنا تو اس نے سیکھا ہی نہیں تھا ۔۔۔
ہاں ہاں لے لیے گا ویسے شاید آپ کو معلوم نہیں ہے سود ہمارے مذہب میں حرام قرار دیا گیا ہے۔۔۔
وہ اپنی بڑی بڑی آنکھیں گھما کر اور ستواں چھوٹی سی ناک چڑھا کے ایسے بولی جیسے مصطفی کو بڑی بوڑھیوں کی طرح سمجھانا چاہ رہی ہوں ۔۔
سود حرام ہے مگر میرا جو تم قرض اتارو گی آئندہ زندگی میں۔۔۔
وہ اس سود سے ذرا مختلف ہے ۔۔۔۔
مختلف مطلب؟؟؟
وہ بھرپور جرح کے موڈ میں آ چکی تھی۔۔۔
مطلب ابھی میں تمہیں خود بھی سمجھانے سے قاصر ہوں ۔۔
وہ بڑی مشکل سے اپنی مسکراہٹ چھپا سکا تھا جان چھڑانے کو جلدی سے بولا ۔۔۔
سوہا کا کمسن حسن اس کو خوامخواہ اس سے شرارتوں پر اکسا رہا تھا اس کو خود بخود تنگ کرنے کا دل کرنے لگا تھا۔۔۔
وہ واحد تھی جو اسے بے خوف و خطر لہجے میں مخاطب کیا کرتی تھی۔ ۔
ورنہ کسی بھی اتنی مجال نہ تھی کہ اس سے اس طرح سے مخاطب ہوسکتا۔ ۔۔
ویٹر کھانا سر وہ کرکے جاچکا تھا ۔۔
سوہانے ایک طائرانہ نظر ٹیبل پر ڈالی اور جلدی سے مصطفی کے آرڈر کردہ ہنٹربیف خود اپنے آگے اچک کے رکھ لیآ۔۔۔۔
یہ کیا؟ ؟؟؟؟
ارے ارے یہ کیا ہے؟!!!
یہ تو میرا آر ڈر ہے۔۔۔۔
وہ بھنو اچکا کر اس کو گھورتے ہوئے مصنوعی غصہ میں کہنے لگا۔ ۔
۔۔
کھانا تیرا میرا ہرگز بھی نہیں ہوتا ۔۔۔۔
کھانا سب کا ہوتا ہے۔۔۔
تھوڑا آپ یہ کھائیں اور تھوڑا یہ۔۔۔
وہ ایسے بولی جیسے کہہ رہی ہوں میری مرضی میں جو بھی لو ۔۔۔
اس کا مطلب ہے کہ نہ تم مجھے اپنا کھانا دے رہی ہو اور نہ مجھے میرا کھانا دے رہی ۔۔۔
میں کیا ٹوگنے کے لیے بیٹھا ہوں ۔۔
وہ جھلا کر بولا اورساتھ ساتھ اس کو خشمگین نظروں سے گھورتے۔ ہوئے گھررکنا نہیں بھولا تھا۔۔۔۔۔۔
بسم اللہ پڑھ کر کھانا شروع کرتے ہوئے بھی اس نے ایک پیار بھری نظر سوہا کے معصوم سے چہرے پر ڈالی تھی ۔۔
سوہانے بھی اس کے بسم اللہ پڑھنے پر جھٹ خود بھی بسم اللہ پڑھا اور دوبارہ سے کھانے پر جھک گئی۔۔
مصطفی اس کی ایک ایک حرکات وسکنات کھانے کے ساتھ ساتھ نوٹ بھی کر رہا تھا ۔۔۔
"ابھی ابھی خبر ملی ہے کہ مری سے واپس اسلامآباد جانے والے تمام راستے بند ہو چکے ہیں لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے۔۔۔"
ہم آپ کو بتاتے چلی یک دفعہ پھر کہ مری سے آنے والے راستے بدترین ٹریفک کا شکار ہے ،"۔۔۔
سوہا نے کھانا چھوڑ کر جلدی سے نیو ز سن کر مصطفی کو دیکھا تھا جس کے خود کے چہرے پر بھی پریشانی رقم تھی ۔۔۔
وہ دونوں جلدی جلدی کھانا کھا کر ریسٹورنٹ سے باہر موجود اپنی جیپ کے پاس پہنچے تھے ۔۔۔
مصطفی کا موبائل بجا تھا اسنے یہی سوچا تھا کہ جلد از جلد سوہا کو کراچی پہنچادیگا گا مگر یہ ہرگز امید نہ تھی کہ تمام راستے بلاک ہو جائیں گے ۔۔
اس نے فون ریسیو کر کے کان سے لگایا تھا دوسری طرف سمیرا موجود تھی۔۔۔
بیٹا مجھے میری کزن سے پتہ چلا کہ سوہا تمہارے ساتھ ہے اور اب خبریں سن کر تو گویا میرے ہاتھ پاؤں کی پھول گئے ہیں ۔۔
آپ لوگ بے فکر رہیں سوہا میرے ساتھ ہے ۔۔
وہ سوہا کی کلائی کو پشت کی طرف لے جاتے ہوئے بولا۔ ۔
نہیں انشاء اللہ جلد ہی راستہ صاف ہوجائے گا ۔۔
وہ اب خشمگین نظروں سے سب کو گھورتے ہوئے کہہ رہا تھا جو بری طرح سے اپنی کلائی اس سے چھڑوانے کی تگ و دو کر رہی تھی ۔۔۔۔
جی لگ تو رہا ہے کہ پانچ دن لگ جائیں گے ۔
وہ فون پہ رحمان صاحب سے مہو گفتگو تھا
پلیز ہاتھ چھوڑئے میرا ۔۔۔۔
وہ اس کے فون رکھتے کے ساتھ ہی من منائی تھی ۔۔۔
مصطفی کبھی بھی ہاتھ چھوڑنے کے لئے نہیں تھا متا۔ !!میں دماغ سے ابھی اتنا فارغ نہیں ہوا کہ تمہارا ہاتھ اتنی آسانی سے چھوڑ دو ں ۔
وہ اس کو بازو سے اٹھاکر اپنے شانے پہ ڈال کےجیپ میں بٹھا چکا تھا اور خود کودنے کے انداز میں ایک ہی جست میں فرنٹ سیٹ پر جا بیٹھا تھا ۔۔۔۔۔
میں فون پر ماما کو ضرور بتاؤں گی کہ آپ نے مجھے گود میں اٹھا کر جیت میں پٹخاتھا ۔۔
وہ ہمت کر کے کہہ بیٹھی تھی ۔۔۔
ابھی تو صرف پٹخا ہے مجھے زیادہ ستایا تو سوچ لو وہ سامنے والی سب سے اونچی چوٹی دیکھ رہی ہوں نہ جو پوری برف سے ڈھکی ہوئی اس پر بٹھا کے آ جاؤں گا تمھیں ۔۔۔
وہ اب غرایا تھا ۔۔۔
______
مگر فجر یہ بھی بھلا کوئی شرط ہوئی کہ میں اپنے پیرنٹس کو بتائے تمہارا رشتہ لے کر آ جاؤ ۔۔؟؟
میں تن تنہا تم سے شادی کس طرح کر سکتا ہوں ؟؟؟
ارمغان پریشانی سے بولا تھا ۔۔
وہ دونوں اس وقت مشہور ریسٹورنٹ میں بیٹھے ڈنر کے ساتھ ساتھ کئ اہم باتیں بھی ڈسکس کر رہے تھے ۔۔
اور اگر انہوں نے مجھے قبول نہ کیا تو پھر؟؟؟
فجر اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ایسے بولی تھی جیسے اگر واقعی ارمغان کے گھر والے نہ مانے اس کیلئے تو وہ شاید جی ہی نہ سکے گی ۔۔۔
ارمغان کی ہمسفری اس کیلئے اس کی زندگی کی کل کائنات ٹھہری ہو جیسے ۔۔۔۔۔
وہ بھی اس کی کہی بات پر لمحے بھر کو خاموش ہوکر رہ گیا تھا ۔۔۔
واقعی کہہ تو وہ بالکل ٹھیک رہی تھی اس کے خدشات ہرگز بھی غلط نہ تھے۔۔
غزل تو اس کی پسند پہ دل و جان سے لبیک کہہ دیتی مگر حماد۔ ۔۔۔۔!!!
کیا حماد اس کو اپنی بہو تسلیم کرتا اور بہو تسلیم کرنا تو دور کی بات کیا وہ اس رشتے پر مانتا ۔۔؟؟؟
فجر کے لیے حامی بھرتا ۔۔۔۔۔؟؟؟
ناممکن ۔۔۔۔!!
یہ وہ سوچ تھی جس نے ارمغان کو بھی پریشانی میں مبتلا کر ڈالا تھا ۔۔۔
بس یہی کچھ وجوہات اور جدشات ہیں میرے دل میں جو اس وقت تمہارے دل و دماغ میں بھی گردش کر رہے ہیں ۔۔۔
وہ اس کی آنکھوں میں رقم تحریروں کو پڑھتے ہوئے بولی تھی اور اس کے مضبوط ہاتھ پہ اپنا مخروطی ہاتھ دھراتھا ۔۔۔
۔۔
مگر یہ بہت بڑا فیصلہ ہوگا فجر اور پھر تمہارے گھر والے بھی تو ہے ان کو کس طرح میں کنوینس کر سکوں گا ؟؟؟
تو کیا تم گھبرا گئے ابھی سے ؟؟؟
"نہیں میں گھبرایا ہرگز بھی نہیں ہوں۔۔
ہاں مگر پریشان ضرور ہواہوں کیونکہ میں تمھیں کھونا نہیں چاہتا "۔
"تو پھر آپکو یہ قدم اٹھانا پڑے گا ۔۔۔"
"کیونکہ میں بھی آپ کو کھونے سے ڈرتی ہوں ۔۔۔"
"میں محبت کے سفر میں تمہیں تنہا چھوڑ کہ تنہا کشتی میں سوار قطعی نہیں ہوسکتا ۔۔۔"
اس کی آنکھوں میں ایک عزم ہلکورے لے رہا تھا ۔۔۔
"مگر میں پھر بھی آپ سے ایک دفعہ کہوں گی کہ میری وجہ سے اگر آپ پہ کوئی بھی مصیبت یا پریشانی آنے کا امکان ہے !!تو آپ بے شک مجھے محبت کی اس راہ پہ اکیلا چھوڑ دیں اوراپنا رستہ بدل لیں۔ ۔۔"
""اگر مجھے اپنی راہیں جدا کرنی ہوتی اور تمہاری حد سے نکلنا ہی ہوتا تو میں آج شاید اس مقام پر تمہیں نہ لا کھڑا کرتا ۔۔"
"میرے لیے اب واپسی ممکن نہیں ہے ۔۔۔"
وہ ٹھہر ٹھہر کہ گھمبیر لہجے میں بولتا چلا گیا ۔۔۔۔۔
"صحیح کہا محبت امتحان مانگتی ہے ۔۔"
فجر کے منہ سے بے خیالی میں نکلا تھا ۔۔۔
"پہلے مجھے یہ صرف ایک فلسفہ لگا کرتا تھا صحیح معنوں میں آج مجھے اس بات پر یقین بھی ہو گیا ہے "۔۔۔
وہ بہت نرم اور محبت بھرے انداز میں اس کے معصوم سے سوال کا جواب دے گیا ۔۔۔
کیا واقعی میں تم سے اس قدر شدت سے کبھی محبت کر پاؤں گی ؟؟؟
وہ چند ثانیوں کے لیے جیسے ساکت سی رہ گئی تھی اس سوچ کے آتی ہیں ۔۔۔
۔۔
کب آؤ تمہارے بابا سے تمہارا ہاتھ مانگنے کے لئے ؟؟؟
وہ یخلقت ایک فیصلے پر پہنچ چکا تھا ۔۔
"جب آپ کو مناسب لگے "۔۔
"میں آپ کا استقبال کرنے کیلئے ہمیشہ آپ کی راہ میں پلکیں بچھائے انتظار کروں گی ۔۔۔"
وہ محبت و اعتماد بخشتے لہجے میں گویا ہوئیں ۔۔۔
ارمغان کو لگا جیسے وہ اس کے سحر میں بری طرح سے گرفتار ہو کر اس کی جھیل سی گہری آنکھوں میں کہیں کھو کر رہ گیا تھا ۔۔۔
🌹🌹🌹
آپ کو ارمغان ولدہ حماد کے نکاح میں دیا جاتا ہے کیا آپ کو قبول ہے ؟؟؟
"قبول ہے" ۔
"قبول ہے"
" قبول ہے "۔
وہ اپنے بابا سے لپٹ کر بری طرح سے سسک اٹھی تھی ۔۔۔
قبول و ایجاب کا مرحلہ کیا طے ہوا تھا اس کا تو جیسے ضبط ہی جواب دے گیا تھا۔۔
اس کے پیارے بابا اور دوست جیسا بھائی اب اس کے لئے میکے کا مان بن گئے تھے ۔۔
اس پہ تضاد ان کی جدائی ۔۔۔
زید نے بھی اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر دوسرے ہاتھ سے آنکھوں میں آئی نمی کو صاف کیا تھا اپنی ۔۔
جبکہ بابا کی آنکھوں سے اشک رواں تھے ۔۔۔
"بیٹا یہ قدرت کی بہت کٹھن ریت ہے مگر یہ مرحلہ ہر باپ کے حصے میں ایک نہ ایک دن ضرور آتا ہے جب اس کو اپنے جگر کا ٹکڑا پال پوس کر اس کے اصل گھر رخصت کرنا ہوتا ہے ۔۔
وہ اس کو سینے سے لگائے نرم لہجے میں بولے تھے ۔۔۔۔
"بابا میرے لیے دعا کیجئے گا کہ میں خوش رہ سکوں" ۔۔۔
وہ روتےہوئے اتنا ہی کہ سکی ۔۔۔
"بیٹا میری دعا ہے کہ زندگی میں کبھی بھی تمہیں کوئی دکھ نہ ملے اور تم ہمیشہ شاد و آباد رہو" "انشاءاللہ آمین ثم آمین یا رب العالمین ۔۔۔"
کون جانتا تھا کہ یہ دعا عاشق پہنچی بھی ہے یا نہیں ۔۔۔؟؟؟؟
🌹🌹🌹
نکاح بہت سادگی سے ہوا تھا اور یہ بھی فجر کی ہی حسب منشا ہی تھا۔۔۔
اس کی دوسری شرط یہ تھی کہ نکاح بالکل سادگی سے کیا جائے اسی لئے بس فجر کے گھر میں ہی سادگی سے قبول و ایجاب کے مراحل عصر و مغرب کے درمیان طے پا گئے تھے ۔۔
عشاء کی نماز کے بعد کھانے کا دور چلا اور پھر کچھ دیر بعد رخصتی کا بھی وقت آن پہنچا ۔۔
قرآن پاک کے سائے تلے زید اسکو رخصت کرنے کے لئے گھر سے گاڑی تک لایا تھا ۔۔
جب کہ بابا دروازے کے بیچوں بیچ کھڑے بے آواز عشک بہا رہے تھے ۔۔
ان کی ہمت ہی نہ بن پا رہی تھی کہ وہ فجر کے پاس جاکر رخصتی سے پہلے ایک آخری دفعہ اس کو سینے سے لگا سکتے ۔۔
"میری بہن بہت معصوم ہے مانی بھائی اس کا خیال رکھیے گا "۔۔
زید گاڑی کا دروازہ کھولتے ہوئے سرخ آنکھوں میں آنسوں لئے ارمغان کے سینے سے جا لگا ۔
"اور تم میرے بھائی ہو چھوٹے تمہاری بات کا مان رکھنا میرا فرضی ہی نہیں بلکہ ذمہ داری بھی ہے ۔۔"
وہ اس کی پشت سہلا تے ہوئے کہنے لگا ۔۔
جب کہ فجر گاڑی میں بیٹھتے بیٹھتے ایک دفعہ پھر بابا کو مین گیٹ کے بیچوں بیچ آنکھوں میں آنسو لیے موجود دیکھ کر بھاگتی ہوئی ان کے سینے سے جا لگی تھی۔۔۔۔
" بابا مجھے نہیں جانا آپ کو چھوڑ کر ۔۔۔"
وہ بلکتے ہوئے بولی تھی۔۔۔۔۔
" واقعی بہت مشکل مرحلہ تھا یہ ۔۔۔"
ارمغان نے افسردگی سے سوچا تھا ۔۔۔
حقیقت ہے ماں باپ سمیت ایک بیٹی کا بھی یہ بہت بڑا ظرف ہوتا ہے ۔۔
اپنے ماں باپ کو چھوڑ کر پرائے گھر جاکر اس کو اپنا گھر بنانے کا ۔۔۔
🌹🌹🌹
وہ پورا راستے اس کا ہاتھ تھامے رہا تھا ۔۔
بھرپور انداز میں اس کی دلجوئی کر رہا تھا تاکہ وہ خود کو اکیلا نہ سمجھے۔ ۔۔
اس کو فجر کی دلی کیفیت کا بخوبی اندازہ تھا کہ وہ اس وقت اپنے پیارے رشتوں کو چھوڑ کر اپنی زندگی کی نئی شروعات کرنے کے لئے آئی ہے ۔۔
وہ اکیلا ہی اس کو رخصت کروا کر لایا تھا اپنی گاڑی میں۔ ۔
وہ اس کو سیدھا اپنے شہر والے بنگلے میں لے کر آیا تھا ۔۔۔۔
گود میں اٹھا کر وہ اس کو کارپوچ سے گھر کے داخلی دروازے کی دہلیز تک لایا تھا ۔۔
""تم ایک منٹ یہیں رکنا ۔۔۔"
وہ سوالیہ نظروں سے اس کو دیکھنے لگی۔۔ خوبصورت سے ڈیپ ریڈ فرشی شرارے میں ماہر بیوٹیشن نے اس کے حسن کو مزید نکھار کے رکھ دیا تھا ۔۔
اور کچھ اس پہ پہلی دفعہ اتنا سجنے سنورنے کی وجہ سے روپ بھی کافی چڑھا تھا ۔۔
وہ حیران پریشان سی اس کو دیکھتی رہ گئی تھی۔۔
مگر داخلی دروازہ وہ بند کرکے اندر جا بھی چکا تھا ۔۔۔
یہ سب کیا ہے ؟؟؟
وہ بوکھلا کر رہ گئی کیونکہ رات کے 11 بجے کا وقت تھا اور ارمغان اس کو باہر تنہا چھوڑ کر دروازہ بند کر کے اندرچکا تھا ۔
وہ ابھی دروازہ پیٹنے کا سوچ ہی رہی تھی جب دروازہ کے دونوں پٹ کھلے تھے اور سامنے بیچوں بیچ ارمغان کھڑا ایک ادا سے کورنش بجالا یہ۔ ۔۔۔۔۔
وہ اب اس کی حیران پریشان آنکھوں میں دیکھتے ہوئے مسکرا رہا تھا اورمحبت پاش نظروں سے اس کو دیکھتے ہوئے بولا ۔۔
"میں نے اپنی سی پوری کوشش کی ہے کہ تمہیں کبھی بھی احساس نہ ہو کہ تمہارا ویلکم اور تمہاری شادی عام شادیوں سے ذرا مختلف ہوئی انداز میں ہے ۔۔۔
اس لئے میں خود اپنی گڑیا کے ویلکم کیلئے تھوڑی سی تیاری کرکے گیا تھا ۔۔۔"
وہ اس کو فرش پہ بچھے گلابوں کی پتیوں پہ آہستہ آہستہ چلاتا ہوا خوبصورتی سے سجے بڑے سے ہال نما لاؤنج میں موجود 3 سیٹرصوفے تک لایا تھا اور بہت محبت اور چاہت سے اس کو بٹھانے کے بعد ایک دفعہ پھر وہ غائب ہو چکا تھا ۔۔۔
جب کہ فجر کے لبوں پر ایک پیاری سی مسکان بکھری تھی ۔۔
ارمغان کا چاہت بھرا انداز اس کے دل کو اندر سے ایک انوکھی سی خوشی اور طمانیت بخش رہا تھا ۔۔۔۔
اس کو ارمغان کے ہر ہر انداز سے اپنائیت اور بے تحاشہ پرواہ جھلکتی دکھ رہی تھی۔۔۔۔۔۔
اس کو اپنی ذات یہ خلقت بہت موت پر لگنے لگی ۔۔۔۔۔۔
وہ اب صوفے پہ بیٹھی اس کا انتظار کر رہی تھی سامنے سے وہ اپنی ساحرانہ وجاہت لیے مغرورانہ چال چلتا ہوا آیا تھا ۔۔۔
اس کے ہاتھ میں ایک شیشے کی پرات تھی جس میں دودھ اور گلاب کی پتیاتیر رہی تھیں۔ ۔۔
" چلو بھئی اب یہ رسم بھی شاید بڑی بوڑھیاں کرتی ہیں"
" میں نے ایک دفعہ دیکھی تھی جب میرے چاچو کی شادی ہوئی تھی تب میری اماں جان نے بھی بہت ساری رسمیں کی تھی۔۔"۔
" جس میں سے چند ایک رسمیں مجھے یاد بھی رہ گئیں ہے "۔۔۔۔
وہ تھوڑا کھسیا کے اپنے سر پہ پیچھے سے ہاتھ پھیر کر بولا۔۔۔۔۔
وہ بولتے ہوئے اس کے سامنے پر ات رکھ چکا تھا ۔
فجر اس کو پیار بھری نظروں سے دیکھ کے رہ گئی کتنا پیارا شخص تھا وہ جو اس کی ایک ایک خواہش کا احترام کرنے کی تگ و دو میں ہر ممکن کوشش کر رہا تھا ۔۔۔
"ویسے مجھے پتا نہیں ہے یہ رسم کیا ہوتی ہے مگر مجھے یاد پڑتا ہے کہ بس یہ دودھ اور پانی رکھا تھا میری اماں جان نے لاکر چچی کے سامنے ۔۔۔"
وہ اب بے بسی سے بولا تھا ۔۔
فجر مسکرا کر رہ گئی تھی۔۔۔
اس وقت ماضی میں جانا نہیں چاہتی تھی اس لئے جلدی سے اپنا ذہن بٹانے کے لیے بولی ۔۔
"میں اس میں اپنی انگوٹھی ڈال رہی ہوں اگر آپ نے ڈھونڈی پہلے تو آپ ہمیشہ مجھ پہ ہاوی رہینگے اورحکمرانی کریں گے البتہ اگر میں نے ڈھونڈیلی پہلے تو میں آپ کی زندگی کے ہر موڑ پہ تھانے دارنی کی طرح کھڑی ملو نگی آپ کو ۔۔۔"
وہ ہلکے سے مسکراتے ہوئے اپنی انگوٹھی اتار کر ڈال چکی تھی پرات میں ۔۔۔
"کوئی بات نہیں تم مگر تھانیدارنی بنوں گی تو میں تمہارا جیلر بن جاؤں گا" ۔۔۔
کیونکہ مجھے تھانیدارنی سے بہت ڈر لگتا ہے ۔۔۔
وہ ڈرنے کی بھرپور ایکٹنگ کرکے بولا تھا ۔۔۔
چلو پھر قسمت آزما کے دیکھ لیتے ہیں کون کتنا دبنگ رہے گا آنے والی زندگی میں ۔۔؟؟؟
وہ کہتے ہوئے اپنامہندی رچا ہاتھ دودھ اور پتیوں میں بھگو چکی تھی اور ساتھ ہی اس کو اشارہ کیا نظروں سے تو وہ بھی اپنا ایک ہاتھ برات میں ڈال چکا تھا ۔
مل گئی۔۔
مجھے مل گئی۔۔۔
وہ خوشی سے چیخی ۔۔۔
"اور مجھے تمہارا ہاتھ مل گیا ۔۔۔"
"اس کا مطلب تمہارا ساتھ مل گیا ۔۔"
"مجھے تم مل گئی ۔۔۔"
وہ اس کاانگوٹھی والا ہاتھ پکڑے آنکھوں میں دنیا جہان کی محبت سمو کر کہہ رہا تھا ۔۔۔
اس کے لہجے میں اس کے سچے جذبوں کی سچائی جھلکی پڑ رہی تھی ۔۔۔۔
"پھر کیا خیال ہے ؟؟؟؟"
وہ آنکھوں میں معنی خیزی لئےبولا تھا ۔۔۔۔
"میں بہت تھک چکی ہوں
مجھے نیند آ رہی ہے ۔۔۔"
وہ اس کی نظروں کا مفہوم سمجھ کے سٹپٹا کر اتنا ہی کہہ پائی تھی ۔۔
"تمہیں نیند آرہی ہے اور میری نیند اڑ چکی ہے ۔۔"
وہ کھڑا ہوا تھا اور اپنی ہتھیلی پھیلا ر صوفے پہبیٹھی فجر کے سامنے کی تھی ۔۔۔
جیسے کہہ رہا ہو ۔۔
"آئو تھام لو میرا ہاتھ اور زندگی کی نئی شروعات کرتے ہیں ۔۔"
فجر نے اس کا ہاتھ بغیر لمحہ ضائع کیے تھام لیا تھا اور اٹھ کھڑی ہوئی تھی ۔۔
ارمغان نے اس کی اٹھتے کے ساتھی اس کو اپنی بانہوں میں اٹھایا اور کمرے میں لے گیا تھا ۔۔۔
"محترمہ آپ میری بانہوں میں جھول رہی ہے اس لئے بیڈروم کا دروازہ آپ کو ہینڈل گھما کر کھولنا پڑے گا ۔۔۔"
وہ مسکرا کر چھیڑتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔
فجر نے یکدم بوکھلا کر دروازے کا ہینڈل گھما یا جیسے ہی ارمغان نے ایک قدم کمرے کی طرف بڑھایا اندر یخلقت ان دونوں کے چہروں پر گلاب کے پھول کی پتیوں کی بارش ہوئی تھی اور کمرے میں سچے موتیاں اور گلاب کی بھینی بھینی سی مہک فجر کو اپنے حواسوں پر چھاتی ہوئی محسوس ہوئی ۔۔
اس کو اس کے قدموں پر کھڑا کرکے آپ اپنی جیبوں میں کچھ ٹٹول رہا تھا ۔۔
دھت تیری کی۔ ۔۔
وہ کچھ تلاش کرتے ہوئے بولا
کیا ہوا سب خیریت ہے نا ؟؟؟
ہجر نے اس کی پریشانی کو دیکھتے ہوئے جلدی سے استفسار کیا۔ ۔۔
مجھے اک دفع پھر اک منٹ کیلئے روم۔ سے باہرجانا ہوگا۔ ۔
وہ مسکرا کر پھولوں سے سجی ہوئی سیج پہ جا بیٹھی تھی دل میں اس وقت سوائے ارمغان کی مقدس محبت کے اور کچھ بھی باقی نہ رہا تھا ۔
اس نے تمام تر زہریلی سوچوں کو جھٹکتے ہوئے صرف اور صرف ارمغان کو سوچنے کی ٹھانی تھی ۔۔
"اس سب میں تمہارا تو کوئی قصور نہیں ہے میں چاہ کر بھی تمہیں تکلیف نہیں پہنچا سکتی تم تو اپنی گڑیا سے بہت محبت کرتے رہےہو اور بلاشبہ آج بھی کرتے ہو" ۔۔
وہ دونوں ہاتھ اپنے گھٹنوں کے گرد باندھ کر بیڈ کی ایک سائڈ پہ ٹک گئی۔ ۔
"انتظار کے لئے معذرت مگر میں سب کچھ تمہارے لیے بہت اسپیشل کرنا چاہتا تھا اسی لیے یہ سب کچھ گڑبڑ ہو گئی ہے "۔۔۔۔
وہ دستک دیکر کمرے میں داخل ہوتے ہوئے بولا۔ ۔
اور خفت سے سر پہ ہاتھ پھیر کے رہ گیا ۔۔۔
اب وہ بیڈروم میں آکر خوامخواہ فجر کے سامنے صفائی پیش کرنے لگا چہرے پہ بیچارگی رقم تھی۔۔۔۔۔
" پہلی غلطی معاف کی ما بدولت نے آپ کی"۔۔۔۔
وہ چہرے پر شرمیلی سی مسکان لئے ایک ادا سےکہہ رہی تھی ۔۔
ارمغان نے اس کے من موہنے خوبصورت چہرے کو دیکھا جہاں اسکو اپنا ہی عکس جھلملاتا پوری آب و تاب سے نظر آیا تھا وہ ہاتھ میں پہنی رسٹ واچ سائیڈ ٹیبل پر رکھنے کے بعد بالکل اس کے مقابل بیڈ پہ نیم دراز ہونے کے انداز میں بیٹھ چکا تھا .
خوبصورتی سے سجی پھولوں کی سیج، گلاب اور موتیے کی بھینی بھینی مہک ، ایل ای ڈی لائٹ کی ڈم روشنی اور جہازی سائز بیڈ پہ بکھری گلاب کی پتیاں۔۔۔۔
تضاد مقابل پور پور سجی سنوری وہ نازک سی گلابی پری کے ہوشربا وجود کا اضافہ۔۔۔۔۔!!!
چند لمحوں کے لئے تو گویا وہ فجر کے دلکش سراپہ اور حسین چہرے سے نظریں ہی نہیں ہٹا سکا تھا جبکہ وہ اس کی نظروں کی تپش سے گھبرا کر اپنی پلکیں جھکائے خود میں مزید سمٹ کے رہ گئی تھی ۔۔
۔۔
"میں بڑے بڑے دعوت نہیں کروں گا ہاں بس اتنا یقین ضروری دلاؤں گا کہ زندگی کے اس سفر میں تم مجھے ہر دکھ سکھ میں ہمیشہ اپنے ساتھ کھڑا پاؤں گی ۔۔"
"مجھے بہت زیادہ بڑی بڑی باتیں نہیں کرنی آتی ۔۔"
"ہاں مگر اتنا یقین ضرور دلاؤں گا کہ میری حیات میں گڑیا کے بعد آنے والی واحد لڑکی تم ہو جسے میں نے دل و جان سے چاہا ہے ۔۔"
وہ اس کا مرمریں حنا سے سجاہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے بولا اور ساتھ ہی اپنے کرتے کی جیب میں سے کچھ ٹٹولنے لگا ۔
۔
"اور اگر کبھی کوئی ایسا وقت آیا جب آپکو دو راہوں میں سے کسی ایک راہ کا امتخاب کرنا پڑے؟ ؟؟"
"تو پھر میں اس راہ میں تمہارے ہمقدم منزل تک پہچنے کا راستہ طے کرونگا"۔ ۔۔۔
اور گر کبھی جو آپکو محسوس ہوا کہ میری محبت میں آپ کےجتنی شدت نہیں ہے تب ۔۔۔۔؟؟؟"
"تو پھر میں تمہیں اتنی محبت دوں گا کہ تمہاری محبت میں شدت ہی نہیں بلکہ جنون بھی بڑھ جائے گا "۔۔
وہ اسکے بندیا سے سجے ماتھے پہ اپنی محبت کی مہر ثبت کرچکا تھا۔ ۔
"شاید محبت اپنا آپ منوانے میں کامیاب ہوجائے" ۔
وہ سرخ رنگ کی لپ اسٹک سےجے کٹائودار ہوٹوں کو ہلکی سی جنبش دے کر بولی تھی جبکہ اس کی نظریں ہنوز جھکی ہوئی تھی وہ اپنی چوڑیوں سے چھیڑ چھاڑ کرنے لگی بغیر ارمان کی طرف دیکھے ۔۔۔۔۔۔
"گر جو تم میری آنکھوں اس لمحے جھانک لو تو شاید تم میرے دل کا بھید جان جاو۔ ۔۔۔۔"
وہ دل میں سوچ رہی تھی۔
ارمغان نے ایک خوبصورت سا پینڈنٹ اپنی جیب سے نکال کر تھوڑا سا آگے جھک کراس کے قریب بڑھایا تھا ۔۔
"اس پر میرا اور تمہارا نام درج ہے۔۔"
اس کو ہمیشہ اپنے سینے سے لگاکر دھڑکن سے قریب رکھنا" ۔۔
اس کے لہجے میں سچے جزبے بول رہے تھے۔ ۔
" اور تمہیں پتا ہے میں ابھی باہر کیوں گیا تھا؟؟؟"
وہ اپنی انگشت شہادت سے اس کے گداز لبوں کو چھوتے ہوئے بولا ۔"
اس کے پر حدت لمس سے فجر یکدم بوکھلا کر پیچھے کی طرف سرکی تھی ۔۔۔
مگر ارمغان نے اسکو ہاتھ بڑھا کر خود سے قریب کیا اور اس کے سرد کانپتے لبوں پہ اپنے سرسراتے ہوئے لب رکھے تھے ۔۔۔
"اب تم سمیت تمہارا پور پور نیز یہ خوبصورت سراپا صرف اور صرف میرا ہے ۔۔۔"
گھمبیر جزبات سے چور لہجے میں کہتے ہوئے اس نے فجر کی صراحی دار گردن میں رونمائ کے تحفہ کے طور پہ وہ پنڈنٹ پہنایا تھا ۔۔۔
"اتنی محبت میں تمہیں دوں گا کہ تم میری محبت سے چاھ کر بھی اپنا دامن نہیں بچا پاؤں گی ۔۔۔"
وہ اس کے گال پر موجود تل کو اپنے لبوں سے چھوتے ہوئے بولا تھا ۔۔
"میں آپ کی اتنی محبت اور مان کی قابل نہیں ہوں"۔۔۔
" کہیں ایسا نہ کہ میں خوامخاں مغرور نہ ہو جائوں ۔۔۔"
"میں تمہیں مغرور نہیں بلکہ سیراب کر رہا ہوں اور اپنی شدتوں کا حال سنارہا ہوں ۔۔۔"
"میں یہی توچاہتا ہوں کہ تم بھی بس صرف اور صرف مجھے سوچو اور مجھے چاہو ۔۔۔"
"تمہارے دل و دماغ میں بیٹھا ہر ڈر اورخوف کو تم اپنی زندگی سے نکال باہر کت دو کیونکہ میں تمہارے ہر خوف کے آگے ایک دیوار کی طرح ڈٹ کے کھڑا ہو گیا ہوں ۔۔۔"
وہ اس کے عروسی دوپٹے کی پن نکالتے ہوئے بولا ۔۔۔
"ڈر اور خوف انسان کے دل میں اس طرح اپنے پنجے گاڑے ہوئے ہوتے ہیں جیسے ایک انسان کی چلتی ہوئی سانسیں "۔۔
"میں چاہ کر بھی اپنے اندر سالوں سے موجود ڈر اور خوف کو اپنے دل و دماغ سے نہیں نکال سکتی ۔۔"
وہ گہری گہری سانس لیتی ہوئی بڑی مشکل سے یہ لفظ ادا کر پائی تھی ۔۔۔
فجر نے اپنے اردگرد معجزاتی محبت کو محسوس کیا تھا ۔۔
ارمغان کے محبت بھرے لمس نے اس کے پورے وجود میں سنسنی سی دوڑادی تھی وہ لرز کر رہ گئی تھی۔۔۔
ارمغان نے اس کو اپنی مضبوط بانہوں کے حصار میں قید کر لیا تھا اور آہستہ آہستہ اس پر اپنی محبت کی بوچھاڑ کرنے لگا ۔۔۔
🌹🌹🌹
اویا ہو ۔۔ ۔ ۔۔۔!!!
"ہم لوگ سب فارم ہاؤس پہ جائیں گے ۔۔"
ارمغان پرجوش ہوا۔ ۔
ہاں بالکل ہم سب جائیں گے ۔۔۔"
داود نے اپنے پیارے سے 15 سالہ بھتیجے کو دیکھا جو بڑے انہماک سے انایہ کو گود میں بٹھائے ہوم ورک کرواتے ہوئے ساتھ ساتھ اپنے چچا سے بھی مہو گفتگو تھا۔ ۔۔
کب جاناہے بھئی؟ !!
حماد بھی آفس سے آنے کے بعد فریش ہوکر لاونج میں ہی صوفے پہ بیٹھ گیاساتھ ہی انایہ کو بھی زبردستی ارمغان سے لیکر اپنے پاس بٹھا کر پیار کرنے لگا۔ ۔۔
"تایا ابا مجھے اور نہیں پڑھنا بس آپ مجھے اپنے پاس ہی رکھیں "چپکا" کر۔ ۔"وہ کان میں رازدارانہ سرگوشی کرچکی تھی۔
"تھیک ہے میں اپنی چی چی کو اپنے سے چپکائے رکھونگا مگر میرےپاس گلوتو ہے ہی نہیں"۔ ۔
وہ چہرے پہ مصنوعی پریشانی طاری کرکے بڑے مزے سے بولا۔ ۔
ہمممممم۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ جھٹ پرسوچ انداز میں اٹھ کھڑی ہوئی اور جھٹ سے ارمغان کے کرتے کے دامن کو اپنی فراک کی بیلٹ گراہ لگا نے کے اندازمیں باندھنےلگی۔ ۔۔۔۔
دیکھیں تایاابا ایسے آپ بھی کرتا پہن کے آجائے پھر میں اپنی فراک کی بیلٹ سے آپکا کرتے کا دامن باندھ لو نگی اس طرح پھر میں آپ سے ہی چپکی رہوں گی ہمیشہ۔ ۔
وہ اپنے تئیں قیمتی ہل تلاش کر چکی تھی۔ ۔۔
نہیں بس گڑیا اب تو تم ہمیشہ اپنے بیسٹ فرینڈ کے دامن سے ہی بندھی رہوگی ہمیشہ ۔۔۔
غزل شرارتی لہجے بولی سب کو چائے سرو کرتے ہوئے بولی تھی۔ ۔
🌷🌷🌷
دلہن بنی آئمہ پچھلے دو گھنٹو سے رحمان کا انتظار کر رہی تھی۔ ۔
ایک ہی زاویہ میں بیٹھے بیٹھے اسکی کمر تختہ ہوکر رہے گئی تھی۔ ۔۔
مگر پھر بھی صبر سے بیٹھی رہی اس خوف کے تحت کہیں رحمان کو برا ہی نہ لگ جائے ۔۔
وہ بغیر دستک دیئے کمرے میں آچکا تھا۔ ۔
اس کے قدموں کی چاپ اپنے بہت قریب محسوس کرکے آئمہ کچھ اور بھی سمٹ گئ تھی۔ ۔
شرما تو ایسے رہی ہو جیسے پہلی دفعہ سیج پہ بیٹھی ہو ۔۔
آئمہ جو کہ رحمان کے نرم لہجے کی آدی تھی وہ یخلقت اتنے سخت و برہم الفاظوں کو سن کر ساکت سی رہ گئ۔ ۔
اسکے ماں باپ کو قائل کرنے والا اسکی شادی کیلئے نا کو ہاں میں تبدیل کروانے کیلئے ہر طرح کے پاپڑ بیلنے کو تیار۔۔۔۔
وہ شجص کہیں سے بھی تو وہ نرم خو معملا فہم
نہیں لگرہاتھا۔۔۔
آئمہ کو لگ رہا تھا جیسے دوسرا جلال رحمان کے روپ میں اسکے سامنے کھڑا ہو۔ ۔۔
جانتی ہے تیری اوقات کیا ہے میری نظر میں؟ ؟؟
وہ اسکا پنوں لگا دوپٹا بے دردی سے کھینچ کر دور اتار اچھالتے ہوئے کئ تھپٹ اسکے معصوم سے چہرے پہ جڑتے ہوئے بولا۔ ۔۔
مم مجھے مت ماریں ۔۔۔
خدا کا واسطہ اتنا تو بتادیں کہ کس قصور کی پاداش میں مجھے سزا دیرہے ہیں۔ ۔۔
وہ اسکو ہاتھ میں بیلٹ لپیٹ کر اپنی طرف بڑھتا دیکھ کر بولی تھی ۔۔۔
وہ وحشت زدہ سی الٹے قدموں دیوار سے جالگی تھی۔ ۔
آنکھیں رو رو کر اب جیسے اب مزید آنسوں بہانے سے انکاری ہوچکی تھیں۔ ۔۔
قصور پوچھتی ہے مجھسے تو ؟؟؟
وہ بیلٹ سے اسکے نازک وجود کو بری طرح دھونتے ہو انتہائی درجہ کی غلاظت بکتے ہوئے بولا۔ ۔۔
تو میرے پیارے بھائ کی قاتلہ ہے۔ ۔
جیسے میرا بھا تڑپ کے مرا تھا نہ اب تو ساری زندگی روز جئے گی روز مرے گی۔ ۔
وہ ادھ موئی ہوئ جگہ جگہ سے رستے خون کے باوجود اپنی صفائی پیش کرنا چاھ رہی تھی۔ ۔
کہنا چاہ رہی تھی کہ وہ نہیں بلکہ اسکا بھائ ایک انتہائ اوباش او غلیظ آدمی تھا۔ ۔
مگر سامنے موجود شخص کچھ بھی سن نا ہی کب چاہتا تھا۔ ۔۔
میں کوٹھے پہ جارہا ہو شب زفاف منانے ۔۔
یہ ہے تیری اوقات میری نظر میں کہ تیرے ہوتے ہوئے میں ایک طوائف کو تجھ پہ فوقیت دیرہا ہو۔ ۔
وہ اسکو اپنے بوٹ سے کچلتا بغیر یہ دیکھے کہ وہ بیہوش ہوچکی ہے اسکے چہرے پہ تھوکتا کمرے کے کھلے دروازہ سے باہر جاچکا تھا۔ ۔
دروازہ کی اوٹ میں چھپا ہمزہ اسکے جاتے ہی بلکتے ہوئے اپنی بیہوش پڑی ماں کے پاس بھاگا چلا آیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔
مما اٹھو۔ ۔
میری مما اٹھو نا۔ ۔۔۔
🌹🌹🌹
وہ سوہاکو لے کر ریسٹ ہاؤس پہنچ چکا تھا جہاں وہ ٹھہرا ہوا تھا ۔۔۔
محترمہ آپ چیپ سے خود اترنا پسند کریں گی یا پھر میں اب آپ کے لئے بلڈوزر منگواؤ ۔۔
مجھے آپ کے ساتھ اندر نہیں جانا ۔۔
وہ نروٹھے پن سے بولی ۔۔
تو پھر کیا رات بھر اس جیپ میں بیٹھ کے بھوتنیوں کے ساتھ کیرم بورڈ کھیلنے کا ارادہ ہے ؟؟؟
وہ اب بری طرح سے زچ ہو چکا تھا اس لئے قدر برہم لہجے میں گویا ہوا ۔۔۔
میرا پالا جس قسم کے بھوت سے پڑھ چکا ہے اس کے بعد تو کوئی بھی بھوتنی میرے قریب تک آنے سے گھبرائے گی۔ ۔
وہ بھی اسی کے لہجے میں برجستہ بولی ۔۔
تو پھر اس کا مطلب یہ ہوا کہ تمہیں میری بانہوں میں آنے کا بہت شوق ہے ؟؟؟
اور تم اس وقت بھی یہی چاہ رہی ہوں کہ میں تمہیں اپنی گود میں اٹھا کر اندر تک لے کر جاؤں ؟؟؟
ایویں۔ ۔۔۔۔ زیادہ فری ہونے کی ضرورت نہیں ہے مجھے کوئی شوق نہیں ہے آپ کی گود میں کسی گھسی پٹی ہیروئن کی طرح جھولنے کا آپ خود ہی مجھے ہر وقت اپنی گود میں اٹھا کر گھومتے رہتے ہیں جیسے کہ میں کوئی کنڈر گارڈن کی بچی ہو ۔۔۔
مجھے بہت اچھی طرح پتا ہے کہ تم بچی نہیں بلکہ پوری ہو اس بات کا تو اندازہ مجھے اسی دن ہو گیا تھا جس دن تم نے بڑی دیدہ دلیری سے کچن میں کھڑے ہو کر مامی کو میرے پروپوزل کے لئے انکار کیا تھا ۔۔
وہ اب بہت بری طرح سے سوہا کی اوٹ پٹانگ حرکتوں سے عاجز ہوکر آتش فشاں کی طرح غصے سے پھٹ پڑا تھا ۔
مجھے نہیں جانا آپ کے ساتھ میں جارہی ہوں ۔۔
اچھا جاؤ کہاں جانا ہے؟؟؟
میں نے اجازت دی جدھربھی جاسکتی ہو جاؤ پر مگر مجھے بتاؤ ذرا جاؤں گی تو آخر کہاں ؟؟؟
وہ بھی رات کے بارہ ساڑھے بارہ بجے کے وقت ؟؟؟؟؟
سینے پہ دونوں بازو لپیٹے آنکھوں میں شدید غصے کی سرخی لیے وہ چنگھاڑا ۔۔
واپس اپنے ٹیچرز کے پاس ۔۔
وہ اس کے بری طرح سے چلانے پر سہم کر اب اپنے نین کٹوروں سے آنسو بہا رہی تھی ۔۔۔
دیکھو سوہا میری بات کو سمجھو اس وقت تم کہیں بھی نہیں جاسکتی ۔۔
تم اندر چلو اس کے بعد اس مسئلے کا حل سوچتے ہیں میں سمجھتا ہوں تمہاری پریشانی کو۔ ۔
تم مجھ پہ ٹرسٹ کرو میں تمہارے ساتھ کوئی بھی غلط حرکت نہیں کروں گا ۔۔۔
جب تک تمہارے مکمل جملہ حقوق اپنے نام نہیں لکھوا لیتا میں تمہارے ساتھ کچھ بھی غلط کرنے کا سوچنا بہت دور کی بات ہے ۔۔۔
وہ جیپ سے اترتے ہوئے بولا پریشانی اسکے چہرے پہ رقم تھی کیونکہ لینڈسلائیڈنگ ہونے کی وجہ سے راستے بری طرح سے بلاک ہو چکے تھے جس کی وجہ سے وہ اب سوہا کو اس کے گھر بہ حفاظت جلدازجلد نہیں پہنچا پا رہا تھا ۔۔
اس وقت اس پر صرف ایک ہی پریشانی سوار تھی کہ اس کو سوہا کی حفاظت کرنی ہے ہر طرح سے ۔۔۔۔۔
اور یہی سوچ اس کو پریشان کر رہی تھی کہ کس طرح وہ تن تنہا سوہا کو اکیلا ریسٹ ہاؤس میں رکھے گا ؟؟؟؟
آپ نے جھوٹ بولا کہ آپ کا مجھ سے نکاح ہوا ہے ۔۔
میں پھر اب آپ پہ کیسے یقین کرلو کہ آپ واقعی سچ سچ بول رہے ہیں ؟؟؟
وہ آنسو پوچھ کے اب اپنی اپنی بڑی بڑی گول گول آنکھیں پٹ پٹا کر بولی تھی ۔۔۔
تم اتنی سی ہو مگر تمہاری عقل بڑی نہیں بلکہ بہت بڑی ہو چکی ہے ۔۔۔
موویز اور ڈرامے ذرا کم دیکھا کرو خود بھی چلتا پھرتا ایک ڈرامہ بن چکی ہو ۔۔۔
اب اگر اترنا ہے تو اتروں نہیں تو میں اندر جا رہا ہوں ۔۔۔۔
اس کو دھمکاتے ہوئے آگے بڑھنے لگا ۔۔
وہ اس کو اندر جاتا دیکھ کر خود بھی اب جلدی سے اتر چکی تھی وہ مبادہ کہیں واقعی اندر جا کر اس کو باہر ہی چھوڑ دے اور دروازہ لاک کردے ۔۔
سوہا کی اس حرکت پر اتنی ٹینشن کے باوجود بھی مصطفی کے چہرے پر مسکراہٹ بکھر گئی تھی ۔۔
بیوقوف لڑکی ۔۔۔۔!!!!!
🌹🌹🌹
صبح فجر کے وقت اس کی آنکھ کھلی تھی ۔۔
وہ پابندی سے نمازیں ادا کرنے کا عادی تھا ۔۔
ابھی بھی فجر میں پورا آدھا گھنٹہ باقی تھا مگر وہ اٹھ چکا تھا ۔۔۔
اس کو اپنے ہاتھ اور سینے پر دباؤ سا محسوس ہوا اور بینیٹن کی خوشبو نے اس کو مزید چونکایا تھا وہ یکدم حواسوں میں آنے کی کوشش کرتے ہوئے لیمپ کا بٹن ٹٹول کر اس کو جلا چکا تھا ۔۔
ہلکی ہلکی لیمپ کی روشنی میں وہ موندی موندی آنکھوں سے شفا کا سر اپنے بازو جبکہ چوڑیوں اور مہندی سے سجا ہاتھ اپنے سینے پہ دھر آ دیکھ کر وہ لمحے بھر کے لیے ساکت و صامت سا رہ گیا تھا ۔۔
مہرون نائٹی ،کھلے بکھرےریشمی بال، نازک سراپا ،چہرے پے بلا کی معصومیت ۔۔۔۔۔!
حمزہ مبہوت سا اسکو دیکھیے گیا ۔۔۔
نہیں بالکل نہیں ۔ ۔۔۔
ابھی تو رحمان صاحب آپ کو بہت تڑپنا ہے ۔۔
میں آپکے تڑپنے کا تماشہ دیکھنا چاہتا ہوں ۔۔۔
وہ ایک جھٹکے سے اپنا بازو سوہا کے سر کے نیچے سے نکال کر اٹھ بیٹھا تھا ۔۔۔
مگر کیا ایک معصوم لڑکی کو اپنے بدلے کے لئے استعمال کرنا اچھی بات ہے ؟¿¿
کیوں میرا دل شفا کی طرف مائل ہو رہا ہے ؟؟؟
کیوں میں چاہ کر بھی اسکے ساتھ کچھ بھی برا نہیں کر پا رہا ؟؟؟
کیا مجھے شفا کو اس نام نہاد رشتے سے آزاد کر دینا چاہیے ؟؟؟؟
شفاعت تھوڑی سی کلبلا کر ایک دفعہ پھر اس کے سینے پر سر رکھ کے سو چکی تھی ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔
🌷🌷🌷🌷
وہ عمر کی اس حرکت پر دل ہی دل میں پیچ و تاب کھا تی واپس جانے کا فیصلہ کرچکی تھی اپنے گھر ۔۔
"چاہے مجھے اکیلی ہی کیوں نہ رہنا پڑےمگر اب ہرگز بھی اتنی شرمندگی کے بعد سب کا سامناکرنا میرے لیے انتہائی مشکل کام ہے"۔۔
اس سے بہتر تو یہی ہے کہ میں ٹکٹس کروا کے واپس اپنے گھر چلی جاؤ ۔۔۔۔
وہ اپنی اس سوچ کے آتے ہی بغیر کسی کو بتائے ٹکٹ کروانے نکل چکی تھی ۔۔
یہ سوچے سمجھے بغیر کہ وہ کراچی کہ کسی بھی راستے سے وا کیفیت نہیں رکھتی ۔۔
چلتے چلتے اس کو پتہ ہی نہیں چلا کے وہ کدھر نکل آئی تھی۔۔۔۔
کافی دیر سے وہ کسی کیب کی متلاشی ادھر سے ادھر خوار ہو رہی تھی ۔۔۔
یکدم ایک ہائی روف اس کے بہت قریب آکر رکی تھی اور دو لڑکے اس میں سے اترے تھے جن میں سے ایک لڑکے نے اس کے بازو میں ایک انجکشن بہت برے طریقے سے لگایا تھا ۔۔
وہ بجلی کی سی رفتار سے مصطفی کے پیچھے پیچھے چل رہی تھی ۔
مبادہ وہ اسکا انتظار کرنے بجائے غصہ میں اندر جا کر دروازہ ہی بند نہ کر دے ۔۔۔۔
وہ تیز جلدی آگے پہنچنے کے چکر میں بغیر نیچے دیکھیے دھڑام سے سوئمنگ پول میں جاگری تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پانی گہرا ہونے کے باعث وہ بری طرح سے پول میں مچل رہی تھی۔۔۔
چھپپپپپپ۔ ۔۔۔!!!
مصطفی پانی کی چھپٹ سے زودار سناٹے کو چیرتی آواز سن کر بوکھلاکرپیچھے مڑ ا تھا اور سوہا کو دیکھا تھا۔۔۔۔
جو بچاؤ بچاؤ کی گردان کر رہی تھی ۔۔۔
مصطفی نے آؤ دیکھا نہ تاؤ اپنی شرٹ اتار کر دور اچھالی۔۔
وہ اسکو تیرنے کی کوشش کرتے اور گہرےپانی میں ہاتھ مارتا دیکھ تیزی سے پانی میں غوطہ مار کر تیرتا ہوا سوہا تک پہنچ چکا تھا ۔ ۔۔
یہ ریسٹ ہاوس اس کو ادارے کی طرف سے ملا تھا تین سو گز کی زمین کو بائفرکیٹ کرکے دیڑھ سو گز کا ریسٹ ہاوس جدید طرز رہائش سے آراستہ و پیراستہ ایک کمرہ ، لاؤنج اور کچن پہ مشتمل تھا جبکہ باقی زمین پر لان ،سوئمنگپول اور کارپوچ وغیرہ ۔۔۔
وہ سوہا کو بازوں میں بھر کر پول سے باہر لایا تھا اور اب اس کو فرش پہ بٹھا چکا تھا ۔۔۔۔
"جب تیرنا نہیں آتا تو پانی سے بلاوجہ بیر لینے کا کیا فائدہ؟؟؟؟"
سردی سے کانپتی اور پانی کی وجہ سے کھانستی سوہا کو خشمگین نظروں سے گھورتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔
" یہ سب کچھ کیا دھرا ہے"۔۔
کیوں میرا اس سب میں اب بھلا کیا قصور؟؟؟؟ میں نے کہا تھا کہ تم اندھوں کی طرح چلو اور پانی میں ڈبکی لگا دو ۔۔۔؟؟؟؟
وہ بھناکر بولا ۔۔
"نہیں آپ نے یہ نہیں کہا تھا مگر نہ آپ مجھے گاڑی میں اکیلا چھوڑ کر جاتے نہ میں پول میں گرتی۔ ۔"۔۔۔
وہ بچوں کی طرح منہ بسورتی ضددی لہجے میں بولی ۔۔
"میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ تم پانی کے اوپر چلنا شروع کر دو تمہارا بس چلے تو ہواوں سے بھی جنگیں لڑنا شروع کر دو ۔۔"
وہ اسکوفرش سے اٹھا کر اپنے بازوؤں میں بھر کے اندر کی طرف بڑھتا وہ بری طرح سےجھنجلا رہا تھا ۔ ۔ ۔۔۔۔
"خدا نے مجھے پیروںکی نعمت سے نوازہ ہے میں کوئی بچی نہیں ہوں کہ آپ مجھے ہر دفعہ گود میں اٹھا کر چلنا شروع کردیتے ہیں ۔۔
وہ سانس بحال کرکےاس پر غرائی ۔۔
"بچی نہیں ہو تم یہ تو مجھے بھی پتہ ہے ۔۔"
"کالج جاکر تمہارے بہت پر نکل آئی ہیں ۔۔"
تمہاری یہ بے قابو ہوتے پر میں بہت جلدی کاٹنے والا ہوں مگر میری ایک بات سنو تمہیں زمین پر چلنا تو دور کی بات سہی سے نیچے دیکھ کر دیکھ کر چلنا تک نہیں آتا ۔۔۔"
مصطفی کہاں کسی کو بخشنے والوں میں سے تھا ۔۔۔
سردی اور پھر پانی میں بھیگنے کی وجہ سے اس کا بھیگا ہوا سراپا۔۔۔۔!!!
اس کا پورا وجود ٹھنڈ سے بری طرح کپکپاہٹ کا شکار ہو رہا تھا ۔۔
ٹھنڈ کی زیادتی سے اب اس سے بولا بھی نہیں جا رہا تھا ہڈیوں کو ڈرا دینے والی ٹھنڈ تھی اس پہ تضاددونوں کا بھیگا وجود ۔۔!!!
مصطفی کے خود کے منہ سے دھواں نکل رہا تھا ۔
وہ تو پھر ایک نرم و نازک سی چھوٹی سی لڑکی تھی ۔۔۔۔
"بہت شوق ہے نہ تمہیں بھی ٹرپس پہ آنے کا اب اوگی آئندہ ؟؟؟"
وہ اس کو شرم دلانے والے لہجے میں بولتا صوفے پر بٹھا چکا تھا ۔۔۔
ھاں ھاں ھا ں سو دفع آونگی ۔۔
وہ چڑ ھ کر ہٹ دھرمی سے بولی تھی ۔
"توبہ تم جیسی آفت کی پرکالہ سے نمٹنا میرے بس کا کام نہیں ہے "۔۔۔۔
"ابھی جلدی سے چینج کرو جلد از جلد اپنے ڈریس کو نہیں تو بیمار پڑ جاؤ گی ۔۔"
وہ فکرمندی سے کہتے ہوئے اپنے بیڈروم کا دروازہ کھولنے لگا سوہا نے ایک نظر موصوفہ کو دیکھا اور پھر ریسٹ ہاؤس کا اندر سے جائزہ لینے لگی وہ خود لاؤنج میں بیٹھی تھی جبکہ لاؤنج سے ملحق ایک بیڈ روم تھا واحد جہاں ابھی ابھی مصطفی گیا تھا بیڈروم کے برابر تھوڑا فاصلے سے کچن تھا ۔۔۔
یہ ایک لکڑیوں سے بنا خوبصورت ریسٹ ہاوس تھا اندر کا انٹیرئیر بھی خاصے اعلی ذوق کا تھا جو کہ آرکیٹیکچر کے ہنر کا منہ بولتا ثبوت تھا۔۔۔
وہ صوفے پہ ٹکی ہوئی تھی اس کے بالکل سامنے وال پر باریک پتھروں سے ایک بڑا سا جہاز بنایا گیا تھا جو اس بات کا واضح ثبوت تھا کے یہ رہائش اسکو ادارے کی طرف سے موصول کی گئی ہے پورے گھر میں آرکیٹیکٹ کی مہارت بہت خوبصورتی سے آپنے رنگ دکھا رہی تھی ۔۔
"تم ابھی تک یہی بیٹھی ہوں ؟؟"
مصطفی ڈھیلے ڈھالے آرامدہ کپڑوں میں ملبوس روم سے باہر نکلا تھا اور اس کو ہنوز اسی طرح بیٹھا دیکھ کر چڑھ سہ گیا تھا۔۔
اس کو فکر تھی سو ہا کی کہ کہیں وہ ٹھنڈ کی وجہ سے بیمار ہی نہ پڑجائے!! ادارے کا ڈاکٹر موجود تھا مگر سوہا کے لیے وہ ہد درجہ پوزیسو تھا وہ اس کی ایک جھلک بھی کسی غیر مرد کو دکھانا نہیں چاہتا تھا ۔۔۔
ایسا نہیں تھا کہ وہ کوئی بہت ہی دقیانوسی اور سطحی سوچ رکھنے والا مرد تھا مگر نہ جانے کیوں سوہا کو لے کر وہ انتہائی احساس ہونے لگا تھا۔ ۔
وہ بالکل اس کو سنو وائٹ کی طرح لگتی تھی جو صرف اور صرف اس کی تھی جس کو دیکھنے اور چھونے کا حق صرف وہی رکھتا تھا ۔۔۔
"چینج کرنے کے لیے کیا کپڑوں کی ضرورت نہیں ہوتی ہے اور ادھر سوائےاس رگ کے مجھے کچھ اور نہیں دیکھ رہا"۔۔۔
" اگر آپ کہیں تو ٹیبل ہٹا کے یہ زمین پہ بچھہ رگ لپیٹ کر ما ڈلنگ کرنا شروع کردوں" ۔۔۔
وہ بلبلا کر کہتی اپنی گول گول آنکھیں پٹ پٹانے لگی گلابی چہرہ غصے کی شدت سے مزید سرخ ہو گیا تھا ۔۔۔
"اچھا اچھا بس کرو میرے روم میں جاؤ سامنے وار ڈروب میں سے میرا کوئی کرتااور ٹراؤزر دیکھ لو ۔۔"
۔
وہ بڑی مشکل سے اپنی نظریں اس کے بھیگے بھیگے سراپا اور پرکشش نشیب و فراز سے ہٹا سکا تھا ۔۔۔
آپ کی واڈروب میں موجود کرتا دیکھ کر کیا کرو نگی بھنگڑے ڈالوگی ؟؟؟؟مجھے اپنے پہننے کے لئے کپڑے چاہئے ۔۔۔
وہ بری طرح سے جھنجلا رہی تھی۔۔۔
پتا نہیں تم اتنی انجان ہو یا پھر جان بوجھ کر مجھے آزما رہی ہو؟؟؟؟
کو گھمبیر لہجے میں بولا تھا اور اس کے اور اپنے درمیان چند قدموں کا فاصلہ لمحے میں ٹاپتاوہ اس کی نازک سی کلائی کو اپنی مضبوط ہاتھ کی گرفت میں لے چکا تھا اور اس کو لے کر بیڈروم کی طرف بڑھا تھا ۔۔۔۔
"چھوڑیں مجھے "۔۔
میں کیوں جاوں آپ کے ساتھ آپ کے بیڈروم میں؟؟؟؟۔۔
کیوں مجھے لے کر جا رہے ہیں اپنے ساتھ آپ کو نہیں پتا کہ اس کا مطلب کیا ہے ؟؟؟؟
وہ خوف زدہ ہو کر بولی تھی ۔۔
"مستقبل میں بھی تو میرے بیڈروم میں ہی جانا ہے تم نے" ۔۔۔
تو ہے تو پھر ابھی جانے میں کیا پرابلم ہے ۔۔؟؟؟
اس کے لہجے اور آنکھوں میں ایک عجیب سی تپیش سوہا کو محسوس ہوئی تھی ۔۔
"میرے لیے تمہیں رخصت کروانا صرف ایک چٹکی بجانے کے برابر فعل ہے۔ ۔"
وہ اپنی باتوں سے اس کو صحیح معنوں میں زچ کر چکی تھی اب اسکادماغ بری طرح سے کھول کر بھنوٹ ہوچکا تھا سوہا اس کو جان بوجھ کر ستآرہی تھی یہ وہ اچھی طرح سمجھ رہا تھا ۔۔۔۔
اس جیساڈیسنٹ بندہ زیادہ کسی سے بات کرنا نہیں پسند کرتا تھا اور یہ لڑکی تھی جو اس کی مسلسل ناک میں دم کر کے رکھ رہی تھی مگر اس سب میں قصورسوہاکا بھی نہیں تھا اصولآ ً خطا وار اسکا اپنق دل تھا جو انجانے میں ہی سہی مگر سوہا کو اپنا مان بیٹھا تھا۔
🌹🌹🌹
آج ہمزہ کی برتھ ڈے تھی پہلے کبھی اس نے حمزہ کی برتھ ڈے کے لیے اتنا اہتمام نہیں کیا تھا وہ ہمیشہ عمر کی برتھ ڈے بہت زور و شور سے منایا کرتی تھی مگر حمزہ کا کا لیہ دیا رویہ ہی ایسا تھا کہ کوئی اس کی خوشیوں تو کیا غم تک میں شریک ہونے کی جرات نہیں کرسکتا تھا ۔۔
حمزہ صبح سویرے ہی گھر سے نہ جانے کہاں چلا گیا تھا جب اس کی آنکھ کھلی تو وہ گھر میں کہیں بھی نہیں تھا ۔۔
شفاء پریشان ہو کر اس کے نمبر پہ فون کرنے لگی تھی ۔۔
تین سے چار بیل جانے کے بعد فون رسیو کر لیا گیا تھا ۔۔
کہاں ہیں آپ ؟؟؟
شفاء نے چھوٹتے ہی بے صبری سے پوچھا اور حمزہ کو احساس دلانا چاہا تھا کہ خیر سے اب وہ ایک عدد بیوی بھی رکھتا ہے ۔۔
اورشوہر کے اعلی عہدے پر فائز ہو چکا ہے ۔۔۔
"کام بتاؤ کیوں فون کیا ہے ؟؟؟
وہ سرد مہری سے کہتا ہوا اس ایک ہی بات کو یکسر نظر انداز کر گیا تھا ۔۔
"میرا دماغ اور دل آپ کی محبت میں بے قابو ہو چکا ہے !!میں دن ہوتے ہوئے سوچتی ہوں جیسے رات ہو رہی ہے ۔۔"
"ہر طرف آپ ہی آپ نظر آ رہے ہیں پلیز جلدی سے گھر آ جائیں کہیں ایسا نہ ہو کہ جو حمزہ مجھے اپنے اردگرد نظر آرہا ہے میں اس سے اپنا حال دل کہہ بیٹھو ۔۔"
وہ چہرے پہ شرارتی سی مسکراہٹ سجائے اس کو زچ کرنے کی بھرپور کوشش کر رہی تھی اپنے سے کئے گئے عہد کی تکمیل کے لئے وہ پہلا قدم ہمزہ کے دن تک جاتی ہوئی سیڑھی پہ رک چکی تھی ۔۔
"تمہارا دل اور دماغ قابو میں نہیں ہے سٹھیاگیا ہے اس قسم کی ہانکنےکے بجائے ٹو ڈی پوائنٹ بات کرنا سیکھو "۔۔
"میرے پاس فضول وقت نہیں ہے جو میں تمہاری اوٹ پٹانگ بے سروپا باتیں تفصیل سے سنتا پھرو ۔۔"
حمزہ کا لہجہ کسی بھی قسم کی رعایت سے عاری شدید سرد مہری لیے ہوئے تھا ۔۔
شفاء کا دل چاہا کہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ اُس کا دماغ درست کر دے مگر پھر خود سے کل رات کیا گیا اپنا عہد یاد آ گیا وہ صبر کا گھونٹ پی کر رہ گئی ۔۔۔۔
"سارے حساب برابر کرونگی بس ایک دفعہ تمہارے دماغ کےکیلے اور زنگ سے گیلے پرزوں کو ذرا ٹائٹ کر دو اور تمہیں اپنے ٹریک پر تو لے آؤں ۔۔پھر دیکھنا نہ تم کو میں نے ناکوں چنے چبوائے تو میرا نام بھی شفا حمزہ چغتائی نہیں ۔۔۔"
وہ دل میں سوچتی ایک دفعہ پھر سے حمزہ کی طرف متوجہ ہوئی تھی شفاء اچھی طرح جانتی تھی حمزہ کبھی بھی اس کو تنہا نہیں بھیجے گا کہیں بھی ایک دم چھلا ساتھ ضرور لگائے گا اس کے وہ شروع سے ہی ایسے ہی تھا ۔۔۔
اس کے اور سوھا کے معاملے میں ۔۔
سوہا کو تو پھر تھوڑی ڈھیل دے دیا کرتا تھا اس کے چھوٹے ہونے کی وجہ سے مگر اس کے معاملے میں ہرگز بھی وہ کسی بھی قسم کی چوک برداشت نہیں کرتا تھا اور شفا نے اب اسی چیز کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی بات اس کے گوش گزارنی شروع کی ۔
"مجھے شوپنگ پہ جانا ہے ۔۔"
"ہآں تو جاؤں مجھ سے پوچھنے کی کیا ضرورت ہے ڈرائیور کھڑا ہے باہر اس کو ساتھ لے جاؤ ۔۔۔"
"ٹھیک ہے میں ڈرائیور کو ساتھ لے جاتی ہو مگر اس کو باہر کھڑا رہنا ہوگا بازار میں اندر خود اکیلی جاونگی ۔۔۔۔"
اس نے ہوا میں تیر چلایا تھا اور اب اس اس کے ٹھیک جگہ نشانے پہ لگنے کی منتظر تھی ۔۔
"نہیں کوئی ضرورت نہیں ہے ڈرائیور کو اپنے ساتھ ہی رکھنا اندر"۔۔۔
وہ برہم ہوا ۔۔
"مجھے کچھ پرسنل شاپنگ کرنی ہے کیا وہ بھی ڈرائورکو دیکھا کر کروں گی؟؟؟؟"
وہ لہجے میں مصنوعی درشتگی سمو کر بولی ۔۔
کب چلنا ہے ؟؟
شدید بے زاری اور سرد مہری شفا کو اس چھوٹے سے حمزہ کے ادا کردہ جملے میں بڑی شدت سے محسوس ہوئی تھی ۔۔
وہ صبر کا گھونٹ بھر کر رہ گئی تھی ورنہ اس پر غصہ اس کو بھی بہت بری طرح سے آیا تھا ۔۔
وہ کہاں کبھی کسی کی منتیں کرنے کی عادی تھی ؟؟؟؟
مگر اس پتھر کو پگھلانے کے لئے اس نے ابھی کئی ایسے جتن کرنے تھے ۔۔۔
اپنا آپ بھی ماننا پڑتا اور شاید اپنی معصوم خواہشات کا گلا بھی گھوٹنا پڑناتھا۔ ۔۔
"مجھے ابھی اور اسی وقت امیجیٹلی بازار جانا ہے ۔۔۔۔””
شفا کا لہجہ پہلی کی بہ نسبت اب کچھ بجھا بجھا سہ تھا۔ ۔
مگر پر واہ کس کو تھی ؟؟؟
"ایک گھنٹے میں آتا ہوں اور خدارا دیر مت کرنا جلدی سے باہر آجانا میرے پاس فارغ وقت نہیں ہے کہ میں تمہارے چونچلے اٹھا سکو ۔۔۔"
لہجہ سپاٹ تھا مگر شفا کو اپنے اندر ایک چھوٹی سی کو نپل پھوٹتی ہوئی محسوس ہوئی کچھ دیر پہلے جو وہ اداس ہو چکی تھی ۔۔
موڈ ایک دفعہ پھر سے فریش ہوا تھا ۔۔
"مبارک ہو شفاء تمہیں تمہاری پہلی کامیابی ۔۔۔"
"میں تمہیں خود سے محبت کرنے پہ مجبور کر دوں گی ۔۔"
"ہر دفع عورت قربانی نہیں دیتی اپنی خوشیوں کی پہلے کی بات دوسری تھی تب میں شفا رحمان تھی مگر اب زبردستی ہی سہی مگر تم نے میرے نام کے ساتھ اپنا نام جوڑ ہی لیا ہے ۔۔۔"
"میں اب اتنی آسانی سے تمہیں اپنی حقوق و فرائض سے دستبرداری اختیار کرنے نہیں دوں گی ۔۔۔
اب جب تم نے میرے نام کے ساتھ اپنا نام جوڑ ہی لیا ہے تو میرے پیارے اینگری ہبی۔۔"
اب تم دیکھنا کہ۔۔۔۔
میں مسز حمزہ بن کے تمہیں ایک شیر کی شیرنی کی طرح اپنی ایک انگلی پہ نچاؤ نگی ۔۔۔۔"
"اب کیا کروں میں بھی یہ سب تو تمہارے نام کے اثرات ہیں جو کہ اب میرا نام تمہارے نام سے جڑ نےکے بعد مجھ پہ بھی اثر انداز ہو رہے ہیں ۔۔۔"
تمہاری نام کا مطلب ہے شیر، بہادر ،چیر پھاڑ کر دینے والا اور اب میں شیرنی بن کے تمہیں شفا پہنچاؤں گی ۔۔۔
"بازار میں بالکل ایک من شاہی بیوی کی طرح تم مجھے شاپنگ کراؤ گے ۔۔"
"ابھی تو مجھے تمہاری باجے کے ساتھ بینڈ بجانی ہے۔۔۔۔۔ "
"میں تمہیں خود میں اس طرح سے الجھاؤ گی کہ تم میرے اور صرف میرے ہو کر رہ جاؤ گے ۔۔۔"۔
وہفون سینے سے لگائے خوش آئندہ مستقبل کے جاگتی آنکھوں سے خواب دیکھتی تیار ہونے کے لئے ڈریسنگ روم میں بڑھنے لگی اور ساتھ ساتھ گنگنا بھی رہی تھی ۔۔۔
""روٹھے ہو تم کو میں کیسے مناو پیا ۔۔۔
بولو نہ بولو نہ ۔۔۔"""۔۔۔۔
"میں آج کا پورا دن حمزہ آپ کی زندگی کا سب سے پیارا اوریادگاردن بناو گی ان شاء اللہ ۔۔"
وہ اب رات کے سرپرائز کے بارے میں سوچ رہی تھی جو وہ اج ہمزہ کی برتھ ڈے پہ دینا چاہتی تھی ۔۔۔
ساتھ ہی ساتھ جلدی جلدی اپنے الجھے بال بھی سمجھانے لگی ۔۔۔
🌹🌹🌹
شادی کے دوسرے دن دوپہر کے وقت وہ دونوں بابا کے گھر سے واپس آرہے تھے ارمغان اس کو صبح کے ناشتے کے بعد اس کے بابا اور بھائی سے ملوانے لے گیا ۔۔۔
ہم حویلی کب چلیں گے ؟؟؟
"مجھے آپ کےپیرنٹس سے ملنا ہے"۔۔
وہ ایک سردآہ خارج کرکے فضا میں بولی تھی مگر لہجہ ہنوز لاپرواہی لیے ہوئے تھا ۔۔
"آج ہی چلیں گے "۔۔
وہ پیار بھری نظر اس پہ ڈالتا اسٹیرنگ گھماتےہوئے بولا ۔۔
کیا واقعی آپ سچ کہہ رہے ہیں؟؟
ہم شام کو حویلی جائیں گے؟؟
وہ بے ساختہ بولی تھی خوشی اس کے چہرے سے پھوٹی پڑ رہی تھی ۔۔۔
ارے ارے حویلی جانے کے لئے اس قدر ایکسائٹمنٹ ؟؟؟
وہ وائٹ اور نیوی بلو کر کے لباس میں ملبوس سر کو دوپٹے سے اچھی طرح ڈھانپے ،میک اپ کے نام پہ صرف ہلکی سی لائٹ کلر کی لپسٹک اور ہاتھوں میں اس کے بابا کے دیئے گئے طلائی کنگن ۔۔!!
سادگی میں بھی وہ حوروں کے حسن کو مات دے رہی تھی ۔۔
مممم۔ ۔۔
میرا مطلب ہے کہ اب تو ہماری شادی ہو چکی ہے اب تو کوئی بھی ہمیں ایک دوسرے سے الگ نہیں کرسکتا اور پھر جب آپ کے پیرنٹس کو پتہ چلے گا کہ میں آپ کی محبت ہوں ،آپ کی خواہش، آپ کی پسند ہوں تو وہ مجھے بآسانی قبول کرلیں گے ۔۔"
اب خیر سے میں آپ کی اور آپ کے گھر باہرحویلی کی عزت ہو ۔۔
اگر ہماری شادی اس طرح نہیں ہوئی ہوتی تو شاید میں آپ کے گھر والوں کو کبھی بھی ایک بہو کے طور پر پسند نہیں آتی ۔۔۔
میں ان کے شایان شان حیثیت جو نہیں رکھتی ۔میں ٹھہری ایک سفید پوش شخص کی بیٹی ۔۔۔
وہ ٹھنڈی آہ بھر کے بولی تھی چہرے پہ ایک اداسی سی رقم کی گئی تھی ۔۔
وہ پہلے کی گئی اپنی جلد بازی پر سٹپٹائی تھی اور دل میں خود کو لعن طعن کرتی کہ ۔۔
"اتنی بے صبری اور خوشی کا اظہار کرنے کی تک نہیں بنتی اسکے سامنے ۔۔"
وہ یکایک اپنے تئیں بات کو ایک دفعہ پھر سے سنبھال کر چہرے پہ بیچارگی طاری کرکے ارمغان کو اپنی باتوں میں الجھا گئی تھی ۔۔
صحیح کہہ رہی ہو اب بابا کو ہمارے اس رشتے کو قبول کرنے میں زیادہ وقت نہیں لگے گا وہ ارمغان کی بات سن کر اندر تک پرسکون ہو ئی تھی ور نہ شک میں ڈالنے کی اس نیں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی ارمغان کو ۔۔
💕💕
وہ گھر پہنچ کر جلدی جلدی اپنی پیکنگ کر رہی تھی حویلی پہنچنے کی اس کو بہت جلدی تھی بس نہیں چل رہا تھا کہ پر لگا کر اڑ ھکر حویلی
کے اندر پہنچ جائے اور اس کی بنیادیں ہلا کر رکھ دے۔ ۔۔
کیا بات ہے مسزارمغان بن کر تو آپ ہمیں بھول ہی گئی؟؟؟
بلکل بھی لفٹ نہیں کروا رہی ہیں۔۔۔
وہ چائے پیتے ہوئے مسلسل اس کو دلجمی سے پیکنگ کرتے ہوئے دیکھ کر بولا اور چائے کا آخری گھونٹ بھر کر اس نے کپ کافی ٹیبل پہ رکھی پر چ میں آہستہ سے رکھا تھا اور خود بغیر قدموں کی چاپ پیدا کیے وہ اپنی تھوڑی اس کی شانے پر ٹکاتے ہوئے اس کے گرد حصار مضبوط کرتا چلا گیا ۔۔
وہ اس اچانک افتاد پر ڈر کر ہلکا سا اچھلی تھی ۔۔اس کی پشت مانی کی طرف ہونے کی وجہ سے وہ اس کو شرارت پر آمادہ دیکھ نہیں پائی تھی ۔۔۔
یہ کیا مان آپ نے تو مجھے ڈرا ہی دیا ؟؟؟
وہ خفگی سے بولی تھی ۔۔۔
کیا کروں میں بھی تو دنیا کا ایک اکلوتا ہی ایسا شوہر ہو جس کی بیوی اس سے زیادہ اپنے سسرالیوں کے لیے بے تاب ہے ۔۔۔۔
لہجے میں بیچارگی پنہاں تھی ۔۔
دیکھ لیں آپ کی ایک اکلوتی بیوی جو ہمیشہ اکلوتی ہی رہنے والی ہے کس قدر فیملی اورئینٹڈ ہے ۔۔۔
وہ جتاتے لہجے میں ایک اکلوتی پہ زور دے کر بولی۔۔


0 comments:
Post a Comment