آپ اتنے خراب ہیں آپنے نکاح سے پہلے دادی کو بھی حویلی بھیج دیا ان کو روکا کیوںنہیں یہاں ؟؟؟
رکنے دیتے میرے پاس ۔ ۔۔
وہ اس کی بڑھتی ہوئی جسارتوں سے خود کو چھڑوانے کی کوشش کرتے ہوئے کچھ ناراضگی سے بولی ۔۔۔۔
ِیار دادی کو میں سب حالات بتا چکا ہوں اور ان کو وہاں اسی لیے پہلے بھیج دیا تھا کہ وہ سب کچھ سنبھال سکے ۔۔۔
فجر اس کی دوراندیشی پہ مطمئن سی ہو کر گویا ہوئی۔۔۔
مجھے چھوڑئے بھی مجھے پیکنگ کرنی ہے دیر ہو جائے گی عصر کا وقت ہو رہا ہے کچھ دیر میں مغرب ہوجائے تو پھر اندھیرا ہونا شروع ہونے لگے گا ۔۔۔۔۔
وہ اب خود کو چھڑوانے کی تگ و دو میں تھی ارمغان کے مضبوط قید کے حصار سے ۔۔۔
ابھی نہیں گڑیا۔۔۔۔!!!
تھوڑا اپنا قیمتی وقت مجھ ناچیز کو بھی عنایت کر دو ۔۔۔"
وہ اس کا رخ اپنی طرف پھیرتے ہوئے اسکو محبت پاش نظروں سے دیکھنے لگا ۔۔۔
نہ بالکل بھی نہیں مان پلیز باز آ جائیں مجھے ابھی آپ کی بھی پیکنگ کرنی ہے ۔۔۔
وہ اس کا ارادہ بھانپ کر گھبرا ئی تھی اور منمنا کر بولی ۔۔
اس کی شرماہٹ اور گھبراہٹ پہ وہ مسکرا دیا تھا جبکہ فجر کے گردحصار کچھ اور بھی تنگ ہوچکا تھا ۔۔۔
وہ اس کی پشت پہ اپنی ہتھیلی جماتے ہوئے اس پر جھکا تھا اور اس کے ریشمی بالوں کو کیچڑ کی قید سے آزاد کراکر کیچر بیڈ پہ اچھالا۔۔
کل کی رات حویلی کو میں کسی دلہن کی طرح سجا وائو نگا کیونکہ میں نے سوچا ہے کہ حویلی میں ہی ہمارے ولیمے کی تقریب منعقد کی جائے۔۔۔
کیا؟؟؟؟
مان آپ سچ کہہ رہے ہیں؟؟؟
وہ پرجوش لہجے میں بولی تھی ۔۔۔
بالکل سچ جان مان۔ ۔۔
اس کے لہجے میں فجر کے لیے محبت سے زیادہ احترام اور عزت جھلک رہا تھا ۔۔۔
چلو اب دیر مت کرو ایسا نہ ہو کہ پھر میرا ارادہ بدل جائے۔۔۔
اس نے اس کی پیشانی پر اپنی محبت کی مہر ثبت کی اور خود تیار ہونے ڈریسنگ روم کی طرف بڑھ گیا تھا۔۔۔۔۔
فجر اس کی پشت کو پر سوچ نظروں سے دیکھتی رہی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک تھی جبکہ کچھ دیر پہلے مسکراتے لبوں سے مسکراہٹ سمٹی کر سکڑ چکی تھی ۔۔۔
جو چہرہ کچھ لمحوں پہلے زندگی کی رمق سے روشن تھا اب اس پہ قبرستان کی سی ویرانی تھی ۔۔۔۔۔
🌹🌹🌹
وہ ناچاہے کب سے بے ہوش تھی۔ ۔
لائبہ نے آہستہ آہستہ اپنی بھاری آنکھیں کھولنے کی کوشش کی تھی مگر پھر دوبارہ دکھتے ہوئے سر کی وجہ سے اس کو اپنا سر واپس تکیہ نما چیز پہ گرانا پڑا تھا ۔۔
پورا وجود اس کا سن سا ہو رہا تھا وہ خود کو ہواسوں میں لانے کی تگ و دو میں سر تکیے پہ ادھر سے ادھر پٹخ رہی تھی ۔۔۔
کچھ پل یوں ہی سر کے تھے وہ اب بھاری بلکیں جھپک چھپک کر کمرے کا جائزہ لینے کی کوشش کرنے لگی تھی۔۔۔
وہ ایک سادہ سا کمرہ تھا جس کا رنگ جگہ جگہ سے اکھڑا ہوا تھا دیواریں سیلن زدہ جبکہ کمرے کی چھت پرمکڑی کے بڑے بڑے جالے لٹک رہے تھے ۔۔
لائبہ نے اپنی تمام تر ہمت مجتمع کر کے اٹھ کر بیٹھنے کی کوشش کی تھی۔۔
سیمنٹ کے جگہ جگہ سے ٹوٹے پھوٹے فرش پہ سے اٹھنا اس کے لئے تھوڑا مشکل ثابت ہورہا تھا بس اس کے سر کے نیچے ایک مٹی یا ریت سے بھری بوری تھی جس کو اسکیلئے تکیہ کے طور پر استعمال کیا گیا تھا ۔۔۔
وہ ہمت کرکے اب اٹھ کر بیٹھ چکی تھی اور دوزانو بیٹھی اپنا سر دونوں ہاتھ میں گرائے اپنے ساتھ ہونے والی واردات کو سوچنے لگی ۔۔
وہ وحشت زدہ سی اپنے دماغ پر زور ڈال رہی تھی اب اس کے حواس کافی حد تک بیدار ہوگئے تھے یکا یک اس کو ساری صورتحال کا بخوبی اندازہ ہو ا تھا سڑک پر چلتے ہوئے ہائی روف کارکنا اور پھر اس کو انجیکشن لگانا زبردستی بےہوش کرنا سب کچھ نظروں میں کسی فلم کے سین کی طرح گھوم کر رہ گیا تھا ۔۔۔
مجھے اغوا کیا گیا ہے؟؟
یہ کیسے ہوگیا؟؟
وہ شدید خوف و ہراس سے روتے ہوئے زور سے چلائی تھی ۔۔
"میری مدد کرو کیوں لائے ہو مجھے یہاں؟؟
کیا بگاڑا ہے میں نے؟؟؟
یا اللہ میری مدد کر مجھے اس مشکل سے نکال ۔۔
کمرے کے اندر موجود چھوٹی سی کھڑکی کمرے کی چھت سے تھوڑے ہی فاصلے پر تھی اس نے فرش پہ بیٹھے بیٹھے ہی وقت کا تعین کرنا ۔۔
رات کے سائے پھیل چکے تھے ۔۔
وہ اب بے بسی سے اپنے خدا کے آگے گڑگڑا رہی تھی مدد طلب کر رہی تھی ۔۔
چرررر۔ ۔۔
کی آواز کے ساتھ دروازہ نے سکوت کو چیرا تھا۔ ۔
لائبہ نے قدموں کی چاپ اور دروازہ کھولنے کی آواز کو سن کر چہرہ اونچا کرکے دیکھا تھا ۔۔
خوف و ہراس کی تمام تر تحریری اس کے چہرے پر رقم تھی ۔۔
آنے والا سے صرف ایک قدم کے فاصلے پر کھڑا اپنی انگلش تے شہادت میں کی چین گھما رہا تھا ۔۔۔۔
🌹🌹🌹🌹
عمر جب آفس سے تھکا ہارا گھر پہنچا تھا اس وقت مغرب ہو رہی تھی۔۔
کیا ہوا سب خیریت تو ہے ؟؟
اس نیں گھر میں پھیلی ویرانی اور سکوت کو محسوس کرکے گھبرا کر پوچھا تھا ۔۔۔
ورنہ اس وقت ان کے گھر میں بہت رونق برپا ہوتی تھی ۔۔۔
اب وہ فکرمند نظروں سے لاؤنج میں صوفہ پر برجمان سمیرا اور ائمہ کے اترے اور پریشان کن چہروں کو دیکھ رہا تھا ۔۔
کچھ بھی ٹھیک نہیں ہیں بیٹا۔۔
ایمہ روتے ہوئے بولی تھی۔۔۔
کیا ہوا بڑھی ا می سب خیریت تو ہے؟؟؟
ماما کیوں اس طرح رو رہی ہے ؟
وہ ہاتھ میں تھامی فائل ٹی ل پہ رکھ کر وہیں صوفے پر بیٹھ گیا تھا ۔۔۔
بیٹا شام سے لائبہ کا کچھ اتا پتا ہی نہیں ہے تمہارے بابا بھی ہر جگہ اس کو تلاش کر رہے ہیں۔۔۔
سمیرا نے پریشان کر لیجے میں اس کو تمام تر صورت حال سے آگاہ کیا ۔۔۔
کیا مطلب؟؟؟
کک ۔۔۔
وہ کہاں جا سکتی ہے؟؟؟
اس کو تو ادھر کے راستوں تک کا علم نہیں ہے ۔
اس کو باہرکس نے جانے دیا اور مجھے کسی نے بتانا بھی گوارا نہیں سمجھا ۔۔۔
اتنی بڑی بات ہوگئی ہے۔۔
اس گھر کی عزت ہے وہ۔۔۔۔۔۔
وہ غصے میں آگ بگھولا ہوا تھا ۔۔۔
آنکھیں غصہ کی شدت سے سرخ ہو رہی تھی ۔۔۔
عمر بیٹا سمیرا نے تمہیں بہت فون کیے مگر تمہارا فون بندجا رہا تھا ۔۔۔
ائمہ نے روتے ہوئے اس کو سمجھایا عمر نے بغیر کچھ کہے اپنی پاکٹ سے موبائل نکالا جو بیٹری ڈاؤن ہونے کی وجہ سے بند پڑا تھا۔۔۔
اس نے اپنا موبائل اٹھا کر دیوار پہ دے مارا تھا۔۔۔۔۔
عمر اس وقت جوش سے نہیں ہوش سے کام لینے کا وقت ہے۔۔۔
جلد از جلد جلد جاؤ لائبہ کو ڈھونڈنا ہوگا نہیں تو تمہارے پھوپھو اور پھوپھا کو کون جواب دے گا ۔۔
اور مجھے تو مصطفی کو سوچ سوچ کر ہی ہول اٹھ رہے ہیں ۔۔
جب اس کو پتہ چلے گا کہ اس کی بہن لاپتہ ہے تو وہ تو غضب ڈھا دے گا ۔۔
میں سی سی ٹی وی ویڈیو نکلوانے جا رہا ہوں۔۔۔۔۔
_________
کیا ہے ؟؟؟؟
میرا ہاتھ چھوڑئیے ۔۔۔
وہ اس کے ساتھ گرتی پڑتی چلی جا رہی تھی جبکہ مصطفی نے اس کو لاکر صوفہ پہ پٹخنے کے انداز میں ہاتھ چھوڑ کر بٹھایا تھا ۔۔۔
آپ ۔۔۔۔آپ بہت خراب ہیں۔۔۔
وہ چڑھ کر خود سری سے گویا ہوئیں ۔۔
میں اس سے زیادہ خراب ہو ۔۔
یہ تو صرف تم نے ایک چھوٹا سا ٹریلر ملاحظہ کیا ہے ۔۔۔
تمہارے بہتری اسی میں ہے کہ اپنی یہ قینچی کی طرح چلتی ہوئی زبان کو بریک لگا لو۔۔۔۔۔!!
وہ صوفے کے اردگرد اپنے دونوں ہاتھ جماتے ہوئے اس کے اوپر جھکا اور اس کی خوبصورت آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے بولا ۔۔۔
آپ پلیز مجھے اس طرح تنگ نہ کریں۔۔۔۔
وہ اس کی نظروں کی تپش سے بوکھلائی ۔۔
میں تمہیں تنگ کرتا ہوں کیوں کہ میں جانتا ہوں کہ یہ صرف میرا حق ہے۔۔۔۔۔!!!!
نظریں ہنوز سوہاکے صبیح چہرے کا طواف کررہی تھیں۔ ۔۔
ایویں ۔۔۔!!
کس نے دیا آپ کو یہ حق ؟؟
وہ اپنی بوکھلاہٹ چھپا کر غرائی تھی۔۔
" مصطفی حق مانگتا نہیں بلکہ اپنا حق نہ منے کی صورت میں چھینتا ہے "۔۔۔
وہ اس کی تھوڑی اپنی انگشت شہادت سے اونچی کرکے کہہ رہا تھا ۔۔۔
میں کوئی چیز نہیں ہوں جو آپ مجھے چھین لیں گے ۔!!
میں ایک جیتی جاگتی انسان ہوں ۔۔۔!
دکھ رہاہے مجھے بہت آھی طرح ۔۔۔۔
" جو تمہارے دو ٹکے کے بھرم بھرےڈ ائلا گ ہے یہ مجھ پہ رتی برابر بھی اثرانداز ہونے والے نہیں ہیں تم جتنی مجھے چھوٹی اور معصوم لگتی ہو نہ تم بالکل ایک پھلجڑی ہو جو ہر وقت مجھے سلگانے کے کام میں جتی رہتی ہے ۔۔"
وہ اس کے کان کے قریب جاکر چھیڑنے والے انداز میں بولا تھا۔۔۔
سوہا کی کھسیاہٹ و بوکھلاہٹ اس کو مزید تنگ کرنے پر اکسا رہی تھی ۔۔
ویسے ایک راز کی بات بتاؤ جو عنقریب تمہارے مستقبل قریب میں تمہارے کافی زیازہ کام آئے گی ۔۔۔!!!
وہ اس کے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے بولا ۔۔۔
جبکہ سوہا گھبرا کر تھوڑا سا پیچھے کھسکی اور صوفے کی پشت سے اپنا سر ٹکا چکی تھی ۔۔۔
مصطفی کی انتہائی قربت سے اس کے چہرے کا رنگ لٹھے کی مانند سفید ہو چکا تھا ۔۔۔
تم بس صرف مجھے سوچا کرو ۔۔۔!
مجھے ہی چاہا کرو اور تمہاری ہر سوچ مجھ پہ شروع اور مجھ پر ختم ہونی چائیے ۔۔
تمہارے ایک ایک لمحہ پر صرف اور صرف میرا پہرا رہے یمیشہ ۔۔۔!!!
ّوہ ایسے کہہ رہا تھا جیسے واقعی سوہا کے تمام تر جملہ حقوق اپنے نام کروا بیٹھا ہو اورمستقبل کے لئے بہت خاص مشوروں سے نواز رہا ہو۔ ۔۔۔
میں آپ کی یہ باتیں سمجھ نہیں پا رہی تھی۔۔
مجھے امی کے پاس بھیج دیں براہ کرم۔ ۔۔۔!!!!
وہ اس کی بے باک نظروں کی تاب نہ لاتے ہوئےسپٹائی تھی جبکہ لہجہ بھرا گیا تھا ۔۔
"تمہاری یہی معصومیت نے ہی مجھے تمہارا اسیر بنا چھوڑا ہے"۔۔
" میں تم سے اب دور جانا تو دور ایک لمحہ بھی تمہارے بغیر گزارنے کا تصور بھی کرنے سے قاصر ہو ۔۔۔
مصطفی کا لہجہ بھی بصیر لیے ہوئے تھا ۔۔
سوہا اس کے اس قدر گھمبیر اور بہت کچھ جتاتے لہجے کی آنچ محسوس کر کے یکایک خود میں سمٹی تھی ۔۔۔
چہرے پر حیاء کی لالی اپنا رنگ جما دگئی تھی۔۔۔
وہ چھوٹی تھی مگر مصطفی کے لہجے اور آنکھوں سے بولتے پیغامات کو بہت اچھی طرح سمجھ رہی تھی۔۔۔ ۔
لیکن بس اس کو مصطفی کا خوامخاہ حق جمانے والا انداز اور خود سے عمر میں بڑے ہونے پر آج بھی اعتراض تھا۔۔
جس کی بناء پہ ہی وہ مصطفی کے بارے میں کوئی بھی نرم گوشہ اپنے دل میں پیدا کرنے سے قاصر تھی ۔۔۔
مصطفی اس کے اس طرح لرزنے نے اور نظریں جھکانے پر ہلکا سا مسکرایا تھا ۔۔۔۔
یخلقت اس کو اپنی آنکھوں میں بھر کر اس سے فاصلہ قائم کر گیا تھا ۔۔۔
سوہا کی ا سی معصومیت نے تو اس کو اپنے سحر میں جکڑ لیا تھا ۔۔
وہ اس کا اسیر ہوچکا تھا ۔ایسا نہیں تھا کہ اس نے حسن نہیں دیکھا تھا۔۔
وہ پائلٹ تھا پوری دنیا اس نے دیکھ رکھی تھیں مگر سوہا جیسا معصوم اور کمسن حسن اس نے آج تک نہیں دیکھا تھا۔۔
اس کو سوہا کا لیا دیا اور مصطفی کو لفٹ نہ کرانے والا انداز بہت بھایا تھا ورنہ وہ جہاں جاتا تھا صرف اس کے ایک ہیلو ہائے کے پیچھے لڑکیاں دیوانی ہوا کرتی تھی ۔۔۔
اس کی پرسنیلٹی اتنی ڈیشنگ اور چارمنگ تھی اس پہ تزاد اسکا مغروانہ ٹھہرائو لیا انداز۔ ۔۔۔
جبکہ سوہا تو جیسے اس سے تو کیا خود کے بھی حد درجہ معصوم حسن سے لاپروا تھی ۔۔
اس کو سوہا نے اسی لئے اٹریکٹ کیا تھا کہ وہ خود اس کے سامنے بچھی نہیں تھی اور نہ ہی اس کو اپنی طرف ر جہانے کی کوشش کی تھی کبھی بلکہ اس کے رشتے تک کو قبول کرنے سے انکاری تھی ۔۔
وہ خود کو کوئی توپ شہہ سمجھتی تھی جبکہ مصطفی کی نظروں میں بس وہ ایک چھوٹا سا پٹاخا تھی جو آواز ضرور کرتا ہے مگر نقصان کسی کو نہیں پہنچاتا ۔۔۔
مصطفی وارڈروب میں سے سوہا کیلئے کر تا اور ٹراؤزر ڈھونڈ کر اس کی طرف بڑھا تھا واپس۔۔۔
" جاؤ چینج کرو جلدی سے اور اب اگر کوئی بھی فضول ہانک لگائی تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا۔۔۔ ۔ "
سوہاکو خشمگیں نظروں سے گھورتے ہوئے وارننگ دی گئی ۔۔۔
"میں اپنی بات ایک دفعہ کہنے کا عادی ہوں مجھ سے اب کسی بھی قسم کی اچھائی کی امید مت رکھنا ۔۔"
وہ لہجے میں حد درجہ درشتگی سمو کر بولا تھا کیونکہ سوہا نرم اور سیدھے لفظوں میں اس کی سنتیں ہی کہاں تھی ۔۔!!
جججج۔ ۔۔۔۔ جی ۔۔۔!؛!
وہ جلدی سے اس کے ہاتھ سے کپڑے لے کر واش روم میں جاگھسی تھی جبکہ مصطفی وہیں صوفے پر ہی نیم دراز ہو گیا تھا جہاں کچھ لمحوں پہلے سوہا ٹکی تھی۔۔۔
ٹی وی چلا کر وہ نیوز دیکھنے میں مگن ہو چکا تھا۔۔۔۔۔۔
یہ ایک کشادہ کمرہ تھا پورا کمرہ اندر سے فل ووڈن انٹیرئیر سے بنا یاگیا تھا ۔۔
ایل ای ڈی لائٹس لکڑیوں سے بنائی گئی چھت میں پیوست کی گئی تھی۔ جہادی سائیز بیڈ روم سیٹ اوردو سنگل صوفہ ایک چھوٹی سی کافی ٹیبل پر مشتمل یہ کمرہ ہر طرح کی جدید سہولیات اور آسائشات سے آراستہ و پیراستہ تھا ۔۔۔
وہ فریش ہو کر وا شروم سے نکلی تھی مصطفی نے سرسری سی نظر ٹی وی سے ہٹا کر واش روم کے دروازے کے باہر کھڑی سوہق پر ڈالی تھی مگر یہ سرسری سی نظر واپس پلٹناہی بھول چکی تھی ۔۔
یہ کیا ہے؟ ؟؟
آپ نے مجھے پہننے کے لئے دے دیئے ہیں۔ ۔۔؟؟؟
یہ دیکھیے اس کی آستینیں میرے گھٹنوں تک کوچھو رہی ہیں ۔۔
جبکہ ٹراوزر تو اللہ معاف کرے پورے بیڈروم کی جھاڑو دینے کے لئے کافی ہے اور اوپر سے یہ میرے لمبے بال یہ تو پورے ریسٹ ہاؤس کی ڈسٹنگ کرنے کے لئے بہت بہتر ڈسٹر ثابت ہوں گے۔۔!!!
وہ اس غصے سےآگ بگولہ ہوئی شدید جھنجلاہٹ کا شکار پیچ و تاب کھا رہی تھی ۔۔
وہ اپنے گھٹنوں تک چھوتے ہوئے لمبے بالوں کو کیچڑ سے آزاد کرانے کی کوشش کر رہی تھی جو کہ جوڑے کی شکل میں باندھے رہنے سے بری طرح کیچڑ میں الجھے ہوئے تھے جبکہ مصطفی کا کرتا اس جیسی ڈیڑھ پسلی نازک سی لڑکی کے لیے کافی سے زیادہ بڑا اور کھلا تھا ۔۔
کرتے کی لمبائی سوہاکے ٹخنوں کو چھو رہی تھی جبکہ ٹراوزر تو خیر سے پوچھا بنانے کے لئے کافی تھا۔۔
آ ستین کا تو حال ہی دوسرا تھا وہ تو خیر سےسوہا کے گھٹنوں تک جا رہی تھی ۔۔۔
مصطفی کا فلک شگاف قہقہہ پورے ریسٹ ہاؤس میں گونجا تھا ۔
وہ اپنی نشست سے اٹھ کر کھڑا ہوا اور مغرورانہ چال چلتا ہوا اس تک جاپہنچا تھا ۔۔۔۔
"ادھر آؤ یہاں بیٹھو "۔۔
وہ بیزار سی جھنجلاہٹ کا شکار سوہاکو دونوں شانوں سے تھام کر ڈریسر تک لایا اور ڈریسر کا اسٹول کھینچ کر سوہا کو اس پہ نرمی سے بٹھایا تھا ۔۔
نفاست سےتراشی گئی مونچھوں تلے لب مسلسل مسکرا رہے تھے ۔۔۔
"برائے مہربانی آپ اس طرح میرا مذاق مت اڑائیں"۔ وہ روہانسی ہوئی ۔۔۔
وہ اب اس وقت کو کوسنے لگی جب اس نے ٹرپ پر آنے کے لئے سمیرا کی منت سماجت کرکے اسکو منایا تھا ۔۔۔
"مجھے میری پیاری سی سنووائٹ کےڈیزائنر ڈریس کو دیکھ کر لگ رہا ہے کہ آج میرے اس کرتے کے پیسے وصول صحیح معنوں میں ہوگئے ہیں۔۔"
وہ گھمبیر لہجے میں بولا جب کہ آنکھیں شرارت میں آمادہ تھی ۔۔
مصطفی فرش پہ دو زانو بیٹھ کر اب سوہا کے ٹرائوزر کے پائنچے فولڈ کر رہا تھا جو کہ کئی فولڈز کے باوجود بھی سوہا کو برابر نہیں آرہے تھے یکایک مصطفی کا ہاتھ نہ دانستگی خ میں ہی سوہا کے ٹخنے کو چھو گیا تھا ۔۔
میں کر لونگی ۔۔۔۔!!
سوہر کو لگا جیسے اس کے پورے وجود میں سنسنی سی پھیل گئی ہو ۔۔
مصطفی کا لمس اس کو مزید بھوکلاہٹ میں گرفتار کر گیا تھا ۔۔۔
وہ چھینپ کر ہچکچا کےاپنا پیر پیچھے کر رہی تھی ۔۔
"رہنے دو تم سے ہو گیا "۔۔۔
وہ اس کی کیفیات سے انجان اس کی کلائی تھام کر اب ہاتھ کی آستین فولڈ کر رہا تھا ۔۔۔
مصطفی اس کو ایسے ٹریٹ کر رہا تھا جیسے وہ کوئی چھوٹی بچی ہو ۔۔
اور وہ خود سوہا کے تمام ترسیا ہ وسفید کا مالک بن بیٹھا ہوں اور سوہا اس کی مکمل ذمہ داری ٹھہرا دی گئ ہو ۔۔
سوہا کا ہاتھ ڈریسر پہ رکھے ہیئر برش کی طرف اٹھا تھا جو مصطفی نے اس کے اٹھانے سے پہلے ہی اپنی تحویل میں لےلیا ۔۔
تمہارے بال بہت الجھے ہوئے ہیں تم سارے بالوں کو سلجھانے کے چکر میں ستیا ناس ماردوگی۔ ۔۔
لاؤں میں سلجھا دو۔ ۔!!!
میں آپ کی جاگیر نہیں ہوں۔۔۔۔!!
" آپ کا کام ہے جہاز اڑانا نہ کہ میری زلفیں سنوارنا اس لئے جو کام آپ جانتے ہیں وہی کام کریں تو زیادہ بہتر ہے "۔
"مجھے میرے حال پہ چھوڑ دیں یہ آپ کا مجھ پہ بہت بڑا احسان ہوگا "۔۔۔۔
وہ شدید خفا خفا سے لہجے میں بولی تھی ۔۔
اسکو مصطفی کا حددرجہ خیال کرتا انداز ذرا جو ایک آنکھ بہا رہا تھا ۔
'یہ میری ذات ہے اور میں اپنے کام خود کر سکتی ہو برائے مہربانی مسٹر کھڑوس پائلیٹ آپ اپنی لمٹس میں رہیے"۔۔
یہ میرے اور آپ ۔۔۔ہم دونوں کے لئے بہتر ہے ۔۔۔۔۔!!!
وہ خود سری اور انتہائی جھنجلا ہٹ سے پر لہجے میں بولی ۔۔۔
چھوٹی سی ستواں ناک ٹھنڈاور غصے کی وجہ سے مزید سرخ ہو چکی تھی ۔۔
"یہ تو میرے لئے ممکن نہیں ہے اور فی الحال اس وقت تو تم میرے ہی ریسٹ ہاؤس میں !!میرے پاس ہو!! اس لئے تم میری ذمہ داری ہو اور میری لمیٹیشن کا تعین تم نا ہی کرو تو بہتر ہے "۔۔۔۔۔
"تمہاری نہ ہی عمر ہے اتنی بڑی بڑی باتیں کرنے کی اور نہ ہی تمھارا دماغ کہ تم بہت گہری باتیں سوچو اور کہو۔"
میری خودساختہ حدود بندی کرنے کی مت کوشش کرو کہیں اہسا نہ ہو کہ تم میری حدود بناتے بباتے ابھی سے مسز سوہا مصطفی کہلوانے نہ لگو" ۔۔۔۔
"چلو اب شاباش سونے کی سوچو اور میرے خوبصورت خیالوں میں نیند کو گلے لگا کرسوجا ئو تاکہ خواب بھی میرے ہی سجے تمہاری پلکوں پہ ۔۔۔"
آپ نے اس نازک سے وجود کو آرام دو تاکہ تمہارا چھوٹا سا دماغ بھی پر سکون ہو اور جلد ٹھکانے پر آئے ۔۔۔
وہ اسکے ریشمی بالوں کو سلجھا کر پشت پہ کھلا چھوڑ چکا تھا اور برہم لہجے میں اس کو بہت کچھ باور کرا چکا تھا ۔۔۔
آخر میں اس گال تھپتھپا کر بیڈ پہ جالیٹا ۔۔
"اینی ویز ہیپی 17برتھڈے ٹو یو مائی اسنوکوئین ۔۔"۔
او ہاں اگر بیٹھے بیٹھے تھک جاؤ تو آکر لیٹ جانا ۔۔
میں کوئی شیر نہیں ہو جو تمہیں کچا نکل جاؤں گا ۔۔۔۔"
ابھی بہت وقت ہے تمہارے پاس ۔۔۔!!!!!
"میں تمہیں خود ابھی کافی وقت دو نگا تمہارے بڑا ہونے کے لیے ۔۔۔۔"
وہ معنی خیز لہجے میں مسکرا کر بولا جبکہ سوہا اس کو پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھ رہی تھی ۔۔
پہلا جھٹکا تو اس کو یہ لگا تھا کہ آج اس کی برٹھ دے ہے یہ خود بھی بھول بیٹھی تھی۔ ۔۔
جبکہ دوسرا جھٹکا اسکو مصطفی کی معنی خیز بات تو سے لگا تھا ۔۔۔
"ویسے میں جانتا ہوں کہ تم بڑی نہیں بلکہ بہت بڑی ہو چکی ہو"۔۔۔
مگر کیا ہے نہ میں امانت میں خیانت کرنے کا قائل نہیں ہوں اور پھر امانت بھی وہ جو میری ہے ۔۔"
لوہ دیتی نظروں سے وہ سوہا کو دیکھتااپنی نظروں میں بسا گیا اور اپنی بات کہہ کے کروٹ بدل کر سونے کے لیے لیٹ چکا تھا۔ ۔۔۔
🌹🌹🌹
کون ہو تم؟؟؟
کیا چاہتے ہو ؟؟؟
مجھے یہاں کیوں لائے ہو؟؟؟؟
لائبہ ڈرتے ہوئے کانپتے لہجے میں کہہ رہی تھی آنکھوں میں وحشت ناچ رہی تھی چہرہ پہ خوف و ہراد کے سائے کالے بادلوں کی طرح منڈلا رہے تھے ۔۔
اپنی عزت مٹی میں ملتی ہوئی نظر آ رہی تھی ۔۔
دامن پر سیاہ داغ لگا بہت بد نمادکھ رہا تھا ۔۔
وہ دل میں صرف خدا سے اس وقت اپنے لئے موت مانگ رہی تھی۔۔۔
میں کون ہوں؟؟؟؟
ھاھاھا بے ہنگم قہقہ فضا میں بلند ہوا ۔
"میں تم جیسی تتلیوں کا شکار کرنے والا گد ھ ہوں ۔۔"
"اور دیکھو میری قسمت کہ آج بھی اتنی خوبصورت تتلی میرے شکنجے میں آئی ہے ۔۔"
"میں تو آج پھر سے اپنی شام رنگین کرنے ہیرا منڈی کا رخ کرنے جا رہا تھا مگر راستے میں تو ٹکرا گئی۔۔۔۔۔۔
ھاھاھا۔ ۔۔۔!!!!
وہ خباثت سے کہتا ہنستے ہوئےشرٹ کے بٹن کھول رہا تھا ۔۔
لائبہ نے عالم وہشت میں اس آوارہ اور بے کردار شخص کو دیکھا جو دیکھنے میں کسی اچھے ہائی کلاس گھرانے کا مہذب شہری لگ رہا تھا ۔۔
عمر میں وہ 40 سے45کے قریب تھا ۔۔
مگر لائبہ کو حیرت اس بات کی تھی کہ وہ ان دونوں لڑکوں میں سے ایک بھی نہیں تھا جو اس کو اغواہ کرکے لے کر آئے تھے یا پھر شاید اس کی ہائی روف میں بیٹھے مزید کسی اور فرد پہ نظر ہی نہیں پڑھ سکی تھی یا پھر اس کو مہلت ہی اتنی ہی دی گئی تھی ۔۔!!
مجھے جانے دو ۔۔
میں نے تمہارا کیا بگاڑا ہے؟؟
تم مجھے یہاں سے جانے دو میں وعدہ کرتی ہوں میں کسی کو بھی تمہارے بارے میں نہیں بتاؤ گی .۔۔!!
"تمہارے بتانے یا نہ بتانے سے بھی مجھے کوئی فرق نہیں پڑنے والا کیونکہ میرا اس شہر کی پولیس تو کیا بڑے سے بڑا آدمی بھی بال تک باکا نہیں کرسکتا۔
"۔
دیکھ لڑکی تیری بہتری اسی میں ہے کے بغیر شورشرابہ اور فساد کیے میرے وقت کو رنگین کر اور تو بھی جا اپنے گھر میں بھی جاؤں موج کرکے خوش کر دے چل شاباش مجھے ۔۔۔"
اگر سیدھے طریقے سی نہیں مانتی تو میرے پاس اور بھی بہت سے ہتھیار ہے تجھے زیر کرنے کے اور ویسے بھی ہم تجھے جس سڑک سے اٹھا کر لائے ہیں میرا وعدہ ہے کہ اگر تو میری بات خاموشی اور بہ چوشی مانتی ہے تو !!میں تجھے خود اس جگہ چھوڑ کر آؤں نگا جہاں سے اٹھا کر میرے بندے تجھے لے کر آئے ہیں ۔۔۔"
"صرف چند گھنٹوں کا کھیل ہے تو میرے یہ چند گھنٹے عیاشی سے گزار دے پھر نہ میں تجھے جانتا ہوں نہ تم مجھے جانتی ہے ۔"
وہ مکرمہ قہقہ لگا کے ہنسنے لگا۔ ۔۔
لائبہ کو اپنی ان آبرو کی بربادی بہت قریب محسوس ہو رہی تھی ۔۔
واقعی لڑکیوں کو حد درجہ خود سر اور بولڈنہیں ہونا چاہیے ۔۔
امی آپ ٹھیک کہتی تھیں کہ کبھی بھی لڑکیوں کو یوں اس طرح کسی کو بھی بتائے بغیر سر جھاڑ منہ پھاڑ گھر سے باہر نکلنا ہی نہیں چاہیے"۔۔۔
باہر گھات لگائے درندے ان کی تاک لگائے بیٹھے ہوتے ہیں شکار کیلئے ۔۔
"یہی میرے ساتھ ہوا ہے" ۔۔
آپکی نافرمانی کی ازیت ناک سزا میرے نصیب میں لکھی جاچکی ہے۔ ۔۔!!!
وہ سوچ کر رہ گئی وہ خود قصوروار تھی اپنے انجام کی ۔۔۔
مجھ پر رحم کرو مجھے جانے دو۔۔!!
تمہارے گھر میں بھی تو تمہاری بہن ہو گی۔۔
زبان کو لگام دے۔۔!!
" میری بہن تیری طرح منہ اندھیرے اپنے یاروں سے ملنے کے لئے سڑک پر نہیں گھوما کرتی ہے" ۔۔
وہ غرایا۔ ۔۔
لائبہ کا دل اس کی کرختگی پہ چڑیا کی طرح سکڑا تھا وہ شخص اب دو قدم فاصلہ ٹاپ کر استک پہنچ چکا تھا ۔۔
نن۔ ۔۔۔نہیں رحم کرو مجھے جانے دو مجھے ہاتھ مت لگانا ۔۔۔۔۔!!
تمہیں خدا کا واسطہ میرے قریب مت آنا ۔۔!!!!
وہ رو رہی تھی اپنے لیے رحم طلب کر رہی تھی مگر وہاں کون رحمدل تھا جو اس پر ترس کھاتا سامنے موجود شخص تو تھا ہی اس گندگی کے ڈھیر کا پرانہ کھلاڑی ۔۔۔
شششش۔ ۔۔!!!
اس شخص نے انگشت شہادت اس کے لبوں پے رکھ کر اپنی لال بے رحم آنکھوں سے اس کو چپ رہنے کا اشارہ کیا تھا ۔۔۔
جبکہ لائبہ پیچھے کو کھسک رہی تھی پورا وجود اس کا خوف و ہراس سےسرد پڑھ رہا تھا ۔۔۔۔
بے بسی سی بے بسی تھی۔۔۔!!!
مزید اب پیچھے کھسکنے کی بھی جگہ باقی نہ رہی تھی ۔۔۔
لائبہ کے پاس کوئی جائےفرار تک نہ بچی تھی وہاں اس کی سسکیاں سننے والا کوئی بھی نہ تھا ۔۔۔۔
کوئی بھی تو نہیں تھا ۔۔۔!!!!
اس شخص نے ایک جھٹکے سے لائبہ کےگلے کا دوپٹہ اتار کر دور اچھالا تھا وہ بہت کھولتی ہوئی خواہشات کے تلاطم سے سرشار اس کی جانب بڑھا تھا ۔۔۔
"دیکھو مجھے تم سنگسار مت کرو میرا آبرو کو یوں اس طرح پامال مت کرو ۔۔۔"
"مجھ سے سر اٹھا کر جینے کا حق مت چھینو خدا کے لئے مجھ پر رحم کر دو" ۔۔۔
"میں تمہیں جتنے پیسے تم کہو گے مصطفی بھائی سے دلوں اوگی"۔۔۔۔۔
وہ گڑگڑا رہی تھی فریاد کر رہی تھی مگر اس کی ہر فریاد رائیگاں گئی وہ اس بے رحم گدھ کے پروں میں بری طرح سے پھنس چکی تھی ۔۔۔
اس کے مضبوط پر اس کا پورا بدن اپنے اندر چھپا گئے تھے اس کے آنسو سمندر میں شبنم کی مانند گھل چکے تھے۔۔
سسکیاں فضا میں گونج کر بے صدا ہو گئی تھیں ۔۔
لائبہ کیسی سہمی ہوئی چڑیا کی مانند ذلت و رسوائی کے اٹھا سمندر میں غوطے لگاتے ہوئے ہوش و خرد سے بیگانہ ہو گئی تھی۔۔۔
وہ شخص اس پر درندوں کی طرح جھکا رہا اور اپنی ہوس پوری کرتا رہا ۔۔۔۔
🌺🌺🌺
عمر پاگلوں کی طرح ادھر سے ادھر لائبہ کو تلاش کر رہا تھا پچھلے ڈیڑھ گھنٹے سے ۔۔۔۔۔
سی سی ٹی وی ویڈیو سے اس کو اتنا تو علم ہو ہی گیا تھا کہ ایک ہائی روف لائبہ کو اغوا کرکے لے گئی ہے مگر نمبر پلیٹ پہ کپڑا چڑھا ہونے کی وجہ سے وہ استک پہنچنے سے قاصرتھا اسی لئے اسنے پھر اپنے دوست کی مدر لینے کی سوچی تھی۔ ۔۔
یار میری تو کچھ سمجھ نہیں آرہا کس طرح لائبہ کو ڈھونڈوں؟؟؟؟
وہ فون پر اپنے دوست اور ایس پی سے مخاطب تھا۔۔۔۔
تم پریشان نہ ہو سی سی ٹی وی ویڈیو میں دیکھ چکا ہوں ڈھونڈ لیں گے جلدہی ۔۔
اس کا فون کس کے پاس ہے؟؟؟؟
مطلب کے گھر میں ہے یا اسی کے پاس ہے ؟؟؟
ایس پی احمر کو سوچتے ہوئے پوچھ رہا تھا ۔۔۔۔۔
سوہا کا فون ۔۔۔۔۔۔
اس کے پاس ہی ہوگا ۔۔۔۔!!!
یکدم اس کے ذہن میں ایک چھناکاسہ ہوا تھا احمر میں تم سے کچھ ہی دیر میں دوبارہ کال پہ بات کرتا ہوں ۔۔!!!
عمر نے دوسری طرف کی بات سنے بغیر جلدی سے فون ڈسکنکٹ کیا تھا اب وہ اپنے فون میں گوگل میپ کھول کر کچھ تلاش کر رہا تھا جلد ہی وہ اپنی مطلوبہ جگہ تلاش کر چکا تھا عمر کے چہرے پر ایک دفعہ پھر زندگی کی رمق ابھری تھی ۔۔۔
جس رات الائبہ کو لے کر اسلام آباد سے کراچی آ رہے تھے گاڑی خراب ہونے کے بعد جب ان دونوں نے ایک ہوٹل میں پناہ لی تھی تب عمر کے چھوٹے سے مذاق کے بعد لائبہ بری طرح بھڑک اٹھی تھی اور اکیلے کراچی جانے کی ضد کر رہی تھی۔۔۔
تب اس نے نہ جانے کس خیال کے تحت لائبہ کے سونے کے بعد اس کے موبائل میں لوکیشن ٹریکر سیٹ کردیا تھا ۔۔۔!!!!
______
"حماد ولا" کہنے کو تو حویلی تھی مگر کسی محل سے کم نہ تھا ۔۔
فجر وائٹ اور بیچ رنگ کے کرتی اور ٹرا وزر کے ساتھ بڑا سا شال نما دوپٹہ سر پہ اچھی طرح جمائے نک سک سے تیار ہوئی بہت پیاری لگ رہی تھی ۔۔
دادو اور غزل نے ان دونوں کا استقبال بڑی دھوم دھام سے کیا تھا ۔۔۔
دادی نے غزل کو اعتماد میں لے کر سب کچھ بتا دیا تھا ۔وہ ایک سلجھی ہوئی اور اپنے بچوں کی خوشی میں خوش ہونے والی ماؤں میں سے تھی اور اس وقت بھی وہ پورے تپاک سے فجر سے مل رہی تھی فجر کا رویہ دادی اور ساس کے ساتھ بہت اچھا تھا ۔۔
حویلی کے تمام ملازموں نے اس نئے نویلی جوڑے کا بھرپور انداز میں استقبال کیا تھا سبھی نے فجر کے اوپر پھول نچھاور کیے تھے۔ غزل نے اپنی بہو کی نظر اتاری اور صدقہ خیرات وافر مقدار میں کر ڈالا تھا ۔۔
فجر کی آنکھوں میں اسقدر پیزیرائی پاکر نم ہو گئی تھیں۔
کتنی پیاری خوشبو تھی غزل کی فجر کو لگا تھا جیسے وہ اپنی اماں کی آغوش میں آ گئی ہوغزل کے گلے لگانے سے ۔۔
ان دونوں کو گاؤں پہنچتے پہنچتے رات کے نو بجے کے قریب کا وقت ہوچکا تھا ۔۔
دادی بابا کہاں ہے ؟؟
ارمغان نے ماں کے گلے سے لگتے ہوئے سرگوشی کی تھی ۔۔۔۔
"بیٹا وہ تو عشاء کی نماز ادا کر کے سونے کے لئے اپنے کمرے میں چلے گئے ہیں اب تم ان سے صبح ہی ملنا "۔۔۔
غزل نےاس وقت جیسے ان دونوں کو حماد صاحب سے ملنے سے روکا تھا۔ وہ بہت غصہ میں تھے ارمغان کی شادی کی خبر اپنی ماں سے سن کر یہی وجہ تھی کہ وہ اس وقت باہر بھی نہیں آئےتھے اپنی خوابگاہ سے ۔۔۔
"تم دونوں فریش ہو کر آ جاؤ میں کھانا لگواتی ہوں"۔۔۔
غزل نے محبت پاش نظروں سے بہو اور بیٹے کو دیکھ کر کہا تھا ۔۔۔
"نہیں امی کھانا ہم نہیں کھائیں گے راستے میں کھانا کھا لیا ہے بس ابھی آرام کریں گے بہت دیر تھکن سی ہوگئی ہے اتنی دیر ڈرائیو کر کے "۔۔۔۔۔
وہ پانچ گھنٹے کی ڈرائیونگ کر کے پہنچے تھے۔۔
" چلو ٹھیک ہے بیٹا جس طرح تم دونوں مناسب سمجھو "۔۔۔
غزل کے بجائے دادی نے کہا تھا اور ساتھ ہی ان دونوں کو ان کے کمرے میں جانے کا اشارہ کیا ۔۔
وہ دونوں دسدی اور غزل کی دعائیں لے کر اپنے بیڈ روم کی طرف بڑھ گئے ۔۔۔۔
"رک جاؤ کس سے پوچھ کر تم اس کو حویلی میں لائے ہو"۔۔۔
ابھی وہ دونوں سیڑھیوں کی طرف بڑھ ہی رہے تھے جب گرجدار آواز پورے ہال میں گونجی تھی فجر اور ارمغان کے قدم جکڑ گئی تھی ۔دونوں نے یکایک موڑ کر پیچھے دیکھا تھا جہاں حماد صاحب کلف لگے کرتا شلوار زیب تن کیے تمام تر غرور اور طنطنہ لیے بھرپور اشتعال میں ہاتھ میں سیگار سلگائے چہرے پہ شدید حقارت اور برہمی لیے کھڑے تھے ۔۔
فجر نے ارمغان کا ہاتھ مضبوطی سے تھاما تھا۔۔۔
جیسے خوفزدہ ہو کہ۔ ۔۔
" کہیں اس کو حویلی سے حماد صاحب نکال ہی باہر نہ کرے ۔۔"
ارمغان نے مضبوطی سے اس کے ہاتھ کو اپنی گرفت میں قید کیا تھا گویا دلاسہ دیا ہو کہ۔۔۔۔
" میں تمہارے ساتھ ہوں گھبراؤ نہیں"۔۔۔
غزل اور دادی کا تو مانو خون ہی خشک ہو گیا تھا حماد کے خطرناک حد تک جارحانہ تیور دیکھ کر ۔۔
"بابا سائیں فجر میری جائز اور شرعی بیوی ہے نکاح کیا ہے میں نے اس سے یہ میرے ساتھ ہی رہے گی اب اس حویلی میں" ۔۔
ارمغان کا لہجہ مضبوط ضرور تھا مگرگستاخانہ ہر گزبھی نہ تھا۔ وہ اس وقت بھی باپ کے سامنے نظریں جھکائے بہت طریقے سے تمام تر صورتحال کو سنبھالنے کی کوشش میں تھا ۔۔
دوسری طرف فجر کو لگ رہا تھا جیسے کچھ بہت ہی انہونا ہونے والا ہو۔
"میرے سامنے تو تم نے اس کو اپنی زوجیت میں نہیں لیا نا ۔۔۔؟"
"میں کیسے مان لو پھر اور دوسری بات کہ نہ ہی اس لڑکی کی ذات پات کا ہمیں کوئی علم ہے"
" نہ جانے کہا کی رہنے والی ہے ؟؟
کس کی اولاد ہے ؟؟؟
حماد صاحب بغیر لگی لپٹی رکھے بولتے چلے گئے ان کو اس بات کا بھی خیال نہ رھا کہ سامنے کھڑی لڑکی کے دل پر کیا گزری ہوگی ان کے اس تیر برساتے جملوں کی بدولت ۔۔
فجر کے پاس ان کے تمام سوالوں کے جواب تھے مگر وہ فی الحال مصلحتاً خاموش تھی۔ اس پل وہ کچھ بھی بول کر اپنا سکہ کھوٹا نہیں کرنا چاہتی تھی ۔فی الحال تو اس کو ارمغان کے سامنے بہت ہی سیدھا سادہ اور کم گو نظر آنے کی کوشش کرنا تھی ۔۔
"بابا میرے پاس نکاح نامہ ہے ۔۔"
"تمام گواہوں اور وکیل کے سامنے میں نے نکاح پڑھایا ہے فجر سے ۔۔"
"اٹھا کر نہیں لایا ہوں میں اس کو اپنی زوجیت میں لے کر ہی اس حویلی کی زینت بنایا ہے ۔۔"
"جہاں تک رہی بات زات بات کی تو آپ کو اپنے بیٹے پر اتنا اعتماد تو ہونا ہی چاہیے کہ وہ کوئی بھی غلط فیصلہ کبھی بھی نہیں کرے گا ۔۔"
وہ فجر پہ ایک پراعتماد اور تحفظ فراہم کرنے والی نظر ڈال کے تمام تر گفتگو باپ سے کرچکا تھا۔
"ہمیں تم پہ اعتماد ہے مگر اس لڑکی پہ نہیں"۔۔
" آخر کو ہماری آنے والی نسلوں کا سوال ہے"۔۔۔۔۔
وہ فجر پہ ایک نظر حقارت کی ڈال کے بولے ۔
جس کے جواب میں فجر نے ارمغان کی اوٹ میں چھپ کر حماد صاحب کو دکھ سے دیکھا تھا ۔۔
گر جو وہ پہچان جاتے کہ وہ کون ہے تو کیا تب بھی ان کا سلوک اس کے ساتھ ایسا ہی ہوتا ؟؟؟
ہرگز نہیں ۔۔!!!
وہ سوچ کر رہ گئی مگر ایک خوف بھی زبان پر نہ لا سکی ۔۔۔
وہ چاہ کر بھی ابھی کسی کے سامنے اپنی شناخت آشکار کرنے سے قاصر تھی ۔ابھی وہ اپنے مقصد کو نہیں پہنچی تھی ۔منزل ابھی دور تھی ۔یہ محبتیں تو اس کی قسمت میں تھیں جبھی تو اس کو مل چکی تھیں مگر ابھی ایک بہت بڑا امتحان باقی تھا ۔۔۔
بہت بڑا ۔۔۔!!!!
" بابا فجر میری پسند ہے اور اب اس حویلی کی عزت "۔۔
وہ سپاٹ لہجے میں بولتا بہت کچھ جگا گیا تھا ۔۔
"پسند ہے ٹھیک ہے "۔۔
"جتنے دن دل بہلانا ہے بہلاؤ اور پھر اس کو جلد از جلد فارغ کرو ۔۔"
"چاہو تو منہ مانگی قیمت عطا کر دینا جو یہ فرمائش کرے آخر کرے" ۔
"آخر کو ہمارے اکلوتے چشم و چراغ کی منظوری نظر ہے "
حماد صاحب نے اب دماغ سے کام لینے کا فیصلہ کیا تھا کیونکہ ارمغان کی تیور بہت خطرناک تھے ۔۔
بس بابا میں اب ایک لفظ اور نہیں سنوں گا میرے نزدیک نکاح کوئی بچوں کا کھیل نہیں ہے جو جب چاہا کر لیا اورجب جی بھر گیا ختم کر دیا ۔۔"
"میری ایک بیوی ہے فجر ارمغان اور ہمیشہ وہ ہی رہے گی ۔۔۔"
غزل کی آنکھوں سے اشک رواں تھے اس کو باپ اور بیٹے کی تکرار میں بہت کچھ غلط ہوتا نظر آ رہا تھا شوہر کے غصے سے بھی واقف تھی اور بیٹے کی اصول پسند فطرت سے بھی۔ اس وقت صرف اس کو اپنی ساس سے ڈھارس ملی ہوئی تھی کہیں نہ کہیں معاملہ بگڑنے کی صورت میں اماں جان ھی حماد کو سنبھال سکتی تھیں کسی بھی بڑے فیصلے سے نمٹنے کیلئے۔
"سوچ لو کیا تمہارا یہ آخری فیصلہ ہے؟"
ھماد چہرے پہ خاص چمک لیے بہت تیکھے لہجے میں بولے تھے ۔۔
"جی بالکل یہ میرا آخری فیصلہ ہےاور پھر میں بھی آپ کا بیٹا ہوں اپنی زبان سے نہیں پھرتا "۔۔۔
وہ واپس کمرےکی طرف بڑھنے لگا ۔۔
"ایک منٹ "۔۔۔۔!
حماد کی چنگھاڑتی آواز حویلی کے در و دیوار کو ہلا گئ تھی۔ ۔
"ایک فیصلہ تم نے کیا ہے "۔۔
"اب ذرا میرا بھی فیصلہ سنتے جاو"
ارمغان کے قدم ساقط ہوئے تھے وہ مڑے بغیر وہیں تھم چکا تھا جبکہ فجر کی ہتھیلیوں میں پسینہ پھوٹ پڑا تھا وہ جانتی تھی کہ حماد ذات پات کا کس قدر حساب کتاب رکھتے ہے ۔۔
اکسرسوچا کرتی تھی کہ ہوسکتا ہے کہ جو وہ سوچ رہی ہوں وہ صرف ایک سراب ہوں ۔۔۔
حقیقت اس سے یکسر مختلف ہو۔ ۔۔
"ٹھیک ہے یا تو تم اس کو تین لفظ کہہ کر ابھی کے ابھی فارغ کرو گے اور اسی وقت اس کو ہویلی سے باہر نکال دو گے اور اگر تم ایسا نہیں کرتے ہو تو دوسری صورت میں میں اپنی بیوی اور تمہاری ماں کو تین لفظ کہہ کر کھڑے کھڑے آزاد کرنے کا حق رکھتا ہوں ۔۔۔"
وہاں موجود تمام نفوسوں کے سر پہ گویا حماد نے برف کا بھاری تودا توڑا تھا سب اپنی اپنی جگہ جم کے رہ گئے تھے ________
وہ دس منٹ سے باہر گاڑی میں کوفت کا شکار ہارن پر ہارن دے رہا تھا مگر شفا کی تیاری مکمل ہونے کا نام ہی نہ لے رہی تھی۔۔
"یار کیا ہے جلدی آؤ مجھے کیا اپنا ملازم سمجھ لیاہے" ۔۔؟
" مجھے اور بھی کام ہیں بہت سےمیں یہاں تمہاری ڈرائیوری کرنے پر معمور نہیں ہوں "۔۔
وہ شفا کے نمبر پر فون کرکے شدید اکتائے ہوئے لہجے میں بولا تھا ۔۔
"بس آرہی ہو ۔۔"
وہ بالوں کو بلیو ڈرائر کرکے دوپٹہ بیڈ سے اٹھا کر ایک شانے پہ ڈالتی کمرے سے باہر نکلتے ہوئے بولی تھی۔۔۔
جبکہ حمزہ جھنجلا کےکال ڈسکنیکٹ کرچکا تھا ۔۔
وہ داخلی دروازہ بند کرکے پر گیرج کی طرف آ رہی تھی جب لمحے بھر کے لیے حمزہ کی نظر ساکت سی رہ گئی تھی۔۔
اسٹائلش ہیئر کٹ فیروزی کرتی کے ساتھ کیپری اور نیٹ کا دوپٹہ ایک شاہ نےپہ لاپرواہی سے ڈالے وہ گاڑی کی طرف آ رہی تھی ۔۔
حمزہ کی نظروں نے بھرپور جائزہ لیا تھا اس کا مگر پھر کچھ سوچ کر وہ لب بھینچ گیا تھا چہرے پہ تناو پھیلا تھا ۔۔
نو ویز ۔۔!!!
"اس طرح تو بالکل بھی نہیں ۔۔۔"
شفا گاڑی کا دروازہ کھول کر ہمزہ کے ساتھ والی سیٹ پر برجمان ہوچکی تھی وہ اپنی ہی دھن میں تھے حمزہ کے چہرے کے برہم تاثرات کو محسوس ھی نہ کرسکی ۔۔
"سوری لیٹ ہو گیا شاور لینے کے بعدبلیو ڈرائیر وغیرہ نے تھوڑا ٹائم لے لیا ۔۔"
وہ اپنی ہانکنےمیں مصروف تھی۔۔
تمہارے پاس شال نہیں ہے؟؟؟ ۔۔
وہ انگیشن میں چابی گھما کے گاڑی اسٹارٹ کرتے ہوئے قدرے تھیکے لہجہ میں دریافت کر رہا تھا ۔۔۔
"شال کے ذریعے ہی دوپٹہ ہے نا اور آج کل ویسے بھی نیٹ کے دوپٹے بہت ان ہیں "۔
وہ ایک ادا سے اپنے تمام بالوں کو دائیں شانے پہ ڈال کے بولی ۔۔
"تمہارے پاس شال نہیں تھی گھر میں کیا ؟"۔
ہمزاد کی تیز آواز گاڑی میں گو نجی تھی۔۔
" شال تو تھی مگر آپ کے گھر میں نہیں میرے میکے میں تھی"۔۔
" اب اگر وہ منگواتی تو پھر آپ ہی نے شور کرنا تھا دیر ہو گئی دیر ہو گئی کا" ۔۔۔
وہ بڑے مزے سے بولی ۔۔
"ٹھیک ہے دیر تو اب واقعی ہوگئی ہے"۔
وہ معنی خیز لہجے میں بولتا ڈیش بورڈ کھول کہ اس میں سے ڈائری اور پین اس کی طرف بڑھا کر بولا ۔۔
یہ ۔۔۔؟؟؟؟
اس میں لکھوں کیا میں۔؟؟
نہ سمجھیں سے پوچھا گیا ۔۔
"میرا اور اپنا نام لکھو بہت سارے دلوں کے بیچ میں"۔۔
اس کے بے تکے سے سوال پہ وہ ٹیچر سا گیا تھا ۔۔
"ہیں ہائے اللہ سچی یعنی آپ کو مجھ سے محبت ہو گئی ہے نا ۔"
۔
وہ اپنے دونوں ہاتھ ایک دوسرے سے جوڑ کر تھوڑی کے نیچے ٹکاکر چہرے پر بڑے پیارے اور شرارتی تاثرات لئے کہہ رہی تھی۔۔۔
" تم جیسا اینٹک پیس ایک واحد ہی اس دنیا میں بنا کر اتارا گیا ہے جو میری ہی قسمت میں آ کے میری جھولی میں ہی گرنا تھا "۔۔۔
وہ اشتعال آمیز لہجے میں بولا۔۔۔
" اس میں لکھو اپنا تمام ضروری سامان" ۔۔۔
اییییں۔ ۔۔۔؟؟
شفا نے منہ کھول کر حکم جاری کرتے حمزہ کو دیکھا ۔۔
"لگتا ہے دماغ کا اسکریو ڈھیلا ہو کر کہیں گر گیا ہے"۔۔۔
وہ بر بڑائی تھی اور پھر لہجے کو سنجیدہ کرنے کی حتہ امکان کوشش کرتے ہوئے بولی۔۔۔
" کیا آپ میری مدد کریں گے شاپنگ میں تاکہ میں تھک نا جاوں اسی لئے پیپر پہ لکھ وارہے ہیں نہ؟ ؟؟"
وہ آنکھوں میں اشتیاق لیے سامنے والی گاڑی کو ہارن دیتے حمزہ کو دیکھتے ہوئے ایسے پوچھ رہی تھی جیسے ان دونوں کے مابین بہت اچھے تعلقات ہوں۔ ۔۔
" نہیں تمہیں گھر پر پھینک کر خود اپنی مدد کروں گا تاکہ جلد از جلد اس خوامخواہ کے دلدّر سے میری جان چھوٹ سکے"۔۔۔
" میں تو شاپنگ پہ جا رہی ہوں نہ آپکےپھر مجھے کیوں گھر پہ ڈوک کر رہے ہیں "
شفاء کو حمزہ کی دماغی حالت پر شک سا گزرا ۔۔۔ ۔۔۔
"ساتھ جا رہی تھی جارہی ہو نہیں ۔۔"
"مجھے پہلے وجہ بتائیں نہیں تو میں دھرنا دینے بیٹھ جاؤں گی گاڑی میں اور زور سے سب کو بتاؤں گی کہ میرا شوہر ظالم ہے"۔۔۔۔
وہ سیٹ پر ہی آلتی پالتی مار کے منہ پھلا کے بیٹھ کر بولی ۔۔۔
"شٹ اپ جسٹ کیپ یورماوتھ شٹ" ۔۔۔
شفا کی اوٹ پٹانگ گفتگو سن سن کے اس کا صبر اب جواب دے گیا تھا ۔۔۔
مگرشفا تھی کہ اپنی بے سروپا باتوں سے باز ہی نہیں آرہی تھی۔۔
"اس میں لکھوجو جو تمہیں چاہیے"۔۔
"میں تمہارے اس دعوت نظارہ پیش کرتے ہو لیہ کے ساتھ کہیں نہیں لے کر جارہا ہوں!! تم لائق ہی نہیں ہوں میرے ساتھ کہیں جانے کے ۔گھر میں بیٹھو وہیں تم ٹھیک ہو "۔۔
وہ گھر کے راستے پر گاڑی ٹرن کر کے بولا تھا ۔شفاء اس کے چنگھاڑنے پر خاموشی ہوگئی تھی ۔۔
"مجھے کچھ نہیں چاہیے آپ کا بہت بہت شکریہ برائے مہربانی مجھے میرے گھر چھوڑ دیجیے "۔۔۔
وہ بہت مشکل سے اپنے لہجے کو بھرانے سے روک سکی تھی کچھ دیر پہلےکی شوخی ہوا ہو چکی تھی۔
" تمہارا گھر اب وہی ہے جہاں میں تمہیں میں بیاہ کر لایا ہوں۔ اس لیے اس گھر کو اب اپنا مانو تو بہتر ہے ۔۔"
"گھر کو تو اپنا مان چکی ہوں۔۔"
" آپ کو بھی اپنا ماننے کی نادانستہ غلطی کر چکی ہوں ۔۔"
وہ بغیر ہچکچائے اظہار کر بیٹھی تھی ۔۔
(کچھ رشتوں کی ڈور مظبوط کرنے کیلئے ہمیں پہل کرنی پڑتی ہے۔ ورنہ خاموشی کبھی کبھار آپکے حصے میں خسارا بھی لکھ دیتی ہے)۔ ۔
"جتنا کہا ہے اتنا کرو"۔۔۔
اس میں لکھدو سب ضروری اشیاء"۔
"واہ کیا حاکمانہ انداز ہےمجھ پہ نہ ہی یہ اپنا روب جھاڑیں تو بہتر ہے" ۔۔
وہ خفگی سے کہتی باہر ڈورتے بھاگتے مناظر دیکھتی رخ موڑ گئی۔۔
"تم بہت زیادہ خودسر ہوچکی ہو تمہارا یہ طنطنہ میرے لئے خاک برابر ہے۔ ۔۔"
کہتے کےساتھ ہی شفا کو خشمگین گھوری سے نوازا گیا ۔۔
شفا نے خاموشی سے پیپر اور پین تھام لیا اور دس منٹ میں تمام لسٹ بناکر حمزہ کی طرف بڑھا دی تھی ۔۔۔
پیپر حمزہ کی طرف بڑھاتے وقت نہ چاہتے ہوئے بھی اس کا چہرہ سرخ ہوا تھا جبکہ نظریں حمزہ کی طرف دیکھنے سے گریزاں تھیں ۔۔
حمزہ نے گھر کے آگے گاڑی روک کر شفا کے بڑھے ہوئے ہاتھ سے پیپر تھاما تھا۔ ایک نظر شفا کے سرخ پڑھے چہرے کو بھنویں اچکا کر دیکھا پھر دوسری نظر اس پرچے پر ڈالی ۔۔
شفاکی تھمائی گئی لسٹ پر نظر پڑتے ہی وہ خود کانوں کی لوہ تک سرخ پڑ چکا تھا ۔۔
"اترو گھر آ چکا ہے یا پھر کوئی شاہی سواری منگوائو اندر تک چھوڑنے کیلئے۔"
وہ اپنی خفت مٹانے کو جھٹ سخت لیجے میں بولا
"پتہ ہے مجھے اندھی نہیں ہوں میں"
وہ دھڑ سے گاڑی دروازہ کھولتے ہوئے غر آئی تھی۔
" اس میں سے ایک ایک چیز مجھے چاہیے اور بالکل لکھی ہوئی ریکائرمنٹ کے مطابق "۔۔۔
وہ اترتے ہوئے اس کو تیکھے چتون سے گھورتے ہوئے بولی تھی ۔۔۔
حمزہ بغیر کچھ بولے اس کے اترتے ہی گاڑی اڑا لے گیا تھا ۔۔۔
"میری زندگی میں بھی ویسے ہی بہتری ہورہی ہے۔ جیسی واٹس اپ کے نئے ورجن میں ہوتی ہے"۔۔۔
وہ اس کی گاڑی کو دھول اڑاتا نظروں سے اوجھل ہوتے دیکھ کر پھیکی سی ہنسی ہنس دی تھی سارے کئے کرائے پر پانی جو پھرگیا تھا . ۔
____
شفاء جلدی جلدی کچن کے کام نمٹا رہی تھی وہ سب بھکھیڑے حمزہ کے آنے سے پہلے پہلے سمیٹنے کی کوششوں میں تھی ۔
آج اس نے تمام تر دیسی کھانے بنائے تھے کیونکہ ہمزہ کو چائنیز وغیرہ زیادہ پسند نہیں تھا ۔۔
وہ بریانی دم پر لگا کے جلدی سے اپنے بیڈ روم میں آکر اب اپنے لیے رات کے پہننے کے لئے وارڈروب میں سر دیئےکوئی اچھا سا ڈریس تلاش کر رہی تھی ۔
مگر کچھ بھی اس کو سمجھ نہیں آ رہا تھا ہمزہ نے اس رات اس کے کپڑے بیگ میں خود اپنے ہاتھوں سے بھرے تھے۔ جس کی وجہ سے اب وہ پریشان سی کبھی ایک ڈریس کو نکال کر دیکھتی تو کبھی دوسرے کو مگر کوئی بھی اس کی منظورنظر نہیں ٹھہرپا رہا تھا ۔۔
"نہیں یہ تو ایک دم ہی نہیں "۔۔۔۔
"کئی دفعہ پہن چکی ہوں یہ تو" ۔۔
بالوں کو جوڑے کی شکل میں قید کرتی وہ الماری میں لٹکے کپڑوں کو دیکھ کر بڑبڑائی ۔۔
"یہ سب ڈریسز تو پرانے ہیں۔ حمزہ نے مجھے کئی دفعہ پہنے ہوئے دیکھا ہوگا ۔۔"
وہ ابھی سوچ ہی رہی تھی جب اس کی نظر الماری کے سب سے نچلے خانے میں پڑی تھی جہاں پہ ایک ڈیزائنر شاپنگ بیگ رکھا ہوا تھا ۔وہ چونکی ۔
"ارے یہ تو وہی شاپنگ بیگ ہےجو نکاح والے روز جب حورم بھابھی مجھے تیار کرنے آئی تھیں!! تب یہ پریسنٹ وہ مجھے دیکر گئیں تھیں" ۔۔۔
۔۔
وہ یکدم خوش ہو گئی تھی اور جھک کر جلدی سے وہ شاپنگ بیگ اٹھا کے بیڈ پہ رکھ کر خود بھی بیٹھ چکی تھی ۔۔
شاپنگ بیگ کے اندر ایک انتہائی دیدہ زیب دھانی پیپلم شرٹ اور بوٹ کٹ ٹراوزر کے ساتھ بیبی بنک کرینکل جارجٹ کا دوپٹہ تھا ۔۔
شفا کا چہرہ خوشی سے دمک اٹھا تھا ۔۔
ایک چھوٹے سے ڈبے میں اس شاپنگ بیگ کے اندر ہہ جیولری بھی تھی ۔جو بالکل ڈریس کی میچنگ سے میچ کرکے لی گئی تھی ۔۔
شفا کو حورم کی پسند نے بہت اٹیکٹ کیا تھا۔ وہ خود بھی زیادہ چمکیلے بھڑکیلے کپڑے پہننے پسند نہیں کرتی تھی۔ اس کو خود بھی سادگی پسند تھی ۔۔
حورم کا گفٹ کردہ ڈریس اس کی پسند پہ پورا اترا تھا ۔۔
یکایک اس کے ذہن میں ایک آئیڈیا گردش کر ا تھا اور وہ جھٹ سے اپنے موبائیل میں فیڈ حورم کا نمبر ڈائل کرنے لگی ۔۔
"السلام علیکم بھابھی کیسی ہیں آپ "۔۔۔۔
چند ایک بیلز کے بعد حورم نےکال پک کی تھی۔۔
" وعلیکم السلام میں ٹھیک اللہ کا کرم تم بتاو کیسی ہو ۔"
ھورم کی آواز میں حیرت تھی ۔وہ شفا کا اس کو کال کرنا ایکسپیکٹ نہیں کر رہی تھی ۔
"بھابی میں ٹھیک ہوں بس مجھے پیا منانے کا ڈھنگ نہیں ۔۔"
شفاء بیچارگی سے اپنی انگشت شہادت تھوڑی پہ رکھتے ہوئے معصومانہ لہجے میں بولی ۔۔
"او یعنی پیاسے الفت سی ہو چکی ہے ؟؟؟"
حورم ہستے ہوئے اسی کے انداز میں قہقہہ لگا کر کہنے لگی ۔۔
"جی بھابھی مجھے الفت تو کیا محبت وحبت سب ہوگئی ہے مگر دوسری طرف میرے ڈھول ماہیا کو پتا نہیں کون کون سی نفرتیں ہیں جن کا بخار اترنے کے بجائے 104 درجہ حرارت سے تجاوز کرچکا ہے ۔"
وہ منہ بسور کر خفگی سے بولی تھی ۔۔
"سہی یعنی کہ برف میں آگ لگانے کی کوشش کرنی ہے ۔۔"
"گلیشیر کو پگھلانا ناممکن ضرور ہے مگر سورج اپنی شعاعوں سے یہ کام منٹوں میں کرسکتا ہے ۔۔۔"
وہ بہت گہری بات اس کو سمجھانے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔
"جی ٹھیک ہےبھابھی ۔"
وہ اتنا ہی بولی تھی جبکہ دوسری طرف حورم اس بات کا اندازہ نہیں لگا سکی تھی کہ وہ کتنا سمجھی ہے اس کی بات میں پوشیدہ معنوں کو ۔۔؟؟
"ارے بھابھی وہ میں نے آپ کو ایک اور وجہ سے بھی کال کی تھی "۔۔
وہ یاد آنے پر اپنا سر پیٹ کر بولی تھی ۔۔
"فرمائیے مابدولت ہم تن گوش ہے"۔۔۔
ھورم نےشاہانہ انداز میں جواب دیا۔۔
" وہ آپ کو سب سے پہلے آپ کے دیئے گئے گفٹ کے لئے شکریہ کرنا تھا ،وہ آج کے دن میرے بہت کام آنے والا ہے ۔۔
شکریہ کی ضرورت نہیں ہے ۔بس تم اور حمزہ ایک دوسرے کے ساتھ خوش رہو۔ ہمارے لیے یہی بہت ہے ۔۔"
ھورم نے سچے دل سے کہا ۔۔
"اچھا دوسری بات تو سن لیں ۔۔"۔۔شفاء جلدی سے بولی مبادا کہیں حورم کال ھی کٹ نا کردے
"جی جی سنائے میں سن رہی ہوں "۔۔۔
"وہ آپ لوگوں کا ڈنر آج رات ہمارے ساتھ ہےکیوں کہ آج حمزہ کی برتھ ڈے ہے ۔"
۔
"یار بلاوجہ کیوں ہمیں انوائٹ کر کے کباب میں ہڈی بنا رہی ہوں ۔۔"
ھورم اس کو چھیڑتے ہوئے بولی تھی شریر لہجے میں ۔
"بھابھی کباب بنتا تو ہڈی نکلنے کے چانسز ہوتے ناں ۔۔"
شفا کھلا کر ہنستے ہوئے گویا ہوئی تھی ۔۔
"بس آپ یہ سب کچھ چھوڑیں اور رات میں آدم بھائی کے ساتھ آنے کی تیاری کریں ۔۔"
"اچھا بابا ٹھیک ہے شام میں ملتے ہیں"۔۔۔
ھورم اللہ حافظ کہہ کر اب فون رکھنے والی تھی جب شفا جلدی سے بولی۔۔
" ارے ارے ایک منٹ بھابی آپ آدم بھائی سے پوچھ کر مجھے جلدی سے بتا دیں کہ اور کونسا ہمزہ کا ایسا دوست ہے جو ان کے دل کے بہت قریب رہا ہو تاکہ میں ان کو بھی انوائٹ کرکے آج کے دن حمزہ کو مکمل سرپرائز کرسکوں ۔۔"
"چلو ٹھیک ہے بچہ پھر میں تمھیں تھوڑی دیر میں فون کرکے بتاتی ہوں ۔۔"
حورم سوچتے ہوئے بولی تھی ۔۔۔
"جی بھابھی ٹیک یورٹائم اللہ حافظ"۔۔
شفا نے اپنی بات مکمل ہونے کے بعد جلدی سے خدا حافظ کہہ کر فون بند کردیا تھا۔ اس کے پور پور میں سرشاری سی تھی ۔۔۔
حورم ،شفا کے اس معصومانہ انداز پہ مسکرا دی تھی۔۔۔
" خوش رہو ہمیشہ ۔۔"
🌹🌹🌹
"اٹھ جائیے میڈم "۔۔۔
وہ کوئی تیسری دفعہ گدھے گھوڑے بیچ کر سوتی ہوئی سوہا کو اٹھانے آیا تھا ۔صبح کی گیارہ بج چکے تھےمگر سوہا محترمہ تو لگ رہا تھا جیسے مردوں سے شرط لگا بیٹھی ہوں ۔۔
مصطفی جوگنگ کرکے ناشتہ بھی کر چکا تھا۔ لینڈ سلائیڈنگ ہونے کی وجہ سے راستے بند تھے جس کی وجہ سے وہ ٹریننگ کے لیے بھی نہیں جا پا رہا تھا ۔۔
"کیا ہے سونے بھی دیں نہ ان مجھے۔ ساری رات آپ نے سونے نہیں دیا اور اب بھی مجھے تنگ کر رہے ہیں ۔۔"
وہ خمار آلود لہجے میں مصطفی کے کرتے کی فولڈ کی ہوئی آستین جوکہ پوری طرح فولڈ سے آزاد ہوکر سوہاکے چھوٹے سے ہاتھوں سے جھول رہی تھی ۔۔
وہ اس آستین کو اپنی آنکھوں پر گراتے ہوئے بولی ۔۔
وہ جو کھڑکی پہ پڑی چک اوپر چڑھا رہا تھا تاکہ باہر سے روشنی چھن کر بیڈ روم میں آسکے یکدم سوہا کی کہی بات پہ سٹپٹا کر پلٹا تھا ۔۔
میں نے تمہیں کب جگایا رات کو؟؟؟
" سوچ سمجھ کر بولا کرو کیا کہہ رہی ہو ۔۔"
مصطفی کاغصہ عود کر آیا تھا سوہا کے اول فول بکنے کی وجہ سے ۔۔
وہ بھی مصطفی کی آواز میں موجود کرختگی محسوس کرکے جلدی سے اٹھ بیٹھی تھی ۔۔
"میرا مطلب وہ نہیں تھا جو آپ سمجھے "
"بلکہ ایسا کیا کریں روزانہ سو کر اٹھنے کے بعد واشروم میں رکھے ہارپک سے اپنا دماغ واش کر لیا کریں تاکہ آپ زرا اجلا اجلا سوچ اور سمجھ سکے ۔۔"
وہ بغیر دل میں شرمندگی کو جگہ دیے دلیری سے بولی تھی۔
" مشورہ اچھا ہے مگر پہلے تم عمل کرو اس کے بعد مجھے تجویز کرنا کیونکہ مجھ سے زیادہ تمہیں اس مشورے پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے ۔۔"
وہ بڑی مشکل سے اپنی مسکراہٹ ضبط کرکے بولا تھا ۔۔
"اور ویسے پوری رات تو تم پھناکر سوئی ہو بے چین تو میں رہا ہوں جو کہ ساری رات ایک سنگل صوفے پہ گزاری ہے" ۔
موسکو خونخوار نظروں سے گھورتے ہوئے اپنی سگریٹ سلگا کر بولا ۔۔
"دیکھئے مسٹر کھڑوس پائلٹ آپ مجھے اپنی ان بڑی بڑی گول گول آنکھوں سے براہ کرم ٹکٹکی باندھ کے گھورا نہ کریں "
وہ سکی نظروں کی تاب نہ لاتے ہوئے کھسیا کر بولی تھی ۔
"میری آنکھیں ہے میں چاہے جو بھی دیکھو اور ویسے بھی کیا تمہیں گھورنےپہ مجھ پر فائن لگے گا۔ یا پھر دفع 420 کے تحت مجھے سزا دی جائے گی ؟؟؟
وہ چڑھ کر بولا تھا۔
"جی نہیں چارج تو نہیں لگے گا ہاں مگر سچ تو یہ ہے کہ آپ میری خوبصورتی سے جیلس فیل کرتے ہیں ۔تبھی تو ہر وقت مجھے نظر لگانے کے چکروں میں لگے رہتے ہیں ۔۔۔"
وہ خوامخاہ مغرور ہوئی ۔
'میں تم سے ایسے ہی کسی جواب کی امید کر رہا تھا "۔۔۔
وہ ایک گہرا سانس بھر کے بولا ۔۔
"مگر خیر مصطفی بھائی ایک بات ہے "۔۔۔۔۔۔
وہ بھائی پہ زور دے کر بولتی بیٹھتے اٹھتے ہوئے پیر میں مصطفی کی سلیپرز اڑتے ہوئے بولی تھی ۔۔
مصطفیٰ نے اسکو خشمگیں نظروں سے گھورا تھا ۔۔
"کہو "۔۔
لٹھ مارے لہجے میں کہا گیا جبکہ نظر اب نیوز چینل پہ تھیں۔ ۔
اگر آپ کو میری کوئی حرکت بری لگے تو ۔ ۔۔۔۔!!!
وہ لمحے بھر کو رکی تھی اور چہرے پر شدید معصومیت لیے اس کو ٹکر ٹکر دیکھ رہی تھی ۔۔
تو ؟؟؟؟؟
وہ بھنو کو اچکا کر بولا ۔۔
"تو پھر یہ کہ مجھے ضرور بتائیے گا تاکہ میں دوبارہ وہی کارنامہ کرتے ہوئے زیادہ خود کو مطمئن محسوس کر سکوں ۔۔۔۔"
وہ کہتے کہ ساتھ ہی چھپا ک سے وہ شروع میں جاگزیں تھی بغیر مصطفی کی طرف دیکھے ۔۔۔
"بیوقوف لڑکی "۔۔۔
مگر صرف اور صرف میری ۔۔۔!!!
وہ بڑبڑایا تھا آنکھوں میں بہت خوبصورت سی مسکراہٹ رقصاں تھی ۔۔
"بہت جلد تمہارے تمام ہوائی فائر کا جواب میں کلاشنکوف سے دوں گا ۔۔"
🌹🌹🌹🌹🌹
عمر اس جگہ کو ٹریس کرتا لائبہ تک پہنچ چکا تھا ۔۔۔
عمر اکیلا نہیں تھا اس کے ساتھ پوری ایس پی سمیت اس کی ٹیم موجود تھی ۔۔
عمر اور پولیس کی آمد کو محسوس کرتے ہی وہاں واحد ایک شخص جو کہ لائبہ کا مجرم تھا ۔ گپت راستے سے فرار ہو گیا تھا ۔۔
چوکیدار کو پولیس نے گرفتار کر لیا تھا ۔۔
جب کہ عمر پز مردہ سہ ایس پی کے اشارہ کرنے پہ چوکیدار کے بتائے گئے۔ واحد کمرے کی کنڈی کھولنے کو بڑھا تھا جہاں پہ لائبہ قید تھی ۔۔
ایس پی خاموشی سے اپنی ٹیم کو اشارہ کرتا باہر نکل چکا تھا اس چھوٹے سے مکان میں سے ۔۔
عمر نے ایک بھی لمحہ ضائع کیے بغیر دروازے کی کنڈی کو توڑنے کے انداز میں کھولا تھا ۔۔
سامنے کا منظر ایسا تھا جسے دیکھنے کے بعد وہ اپنی نظریں جھکا کر اٹھانا سکا تھا ۔۔۔
غصے سے اس کا خون کھول اٹھا تھا ۔
آنکھیں بالکل سرخ ہو رہی تھیں جبکہ دماغ کی شریانیں غصے کی وجہ سے پھٹنے کو تھی ۔۔
وہ بھاگنے کے انداز میں لائبہ کے پاس زمین پہ دوزانو بیٹھا تھا ۔۔
اٹھو لائبہ آنکھیں کھولو۔۔۔۔
میں آ گیا ہوں۔۔
تمہیں کچھ نہیں ہو گا ۔۔
میں وعدہ کرتا ہوں تو میں کچھ نہیں ہونے دوں گا ۔۔
وہ ہوش و خرد سے بیگانہ لائبہ کی ابتر حالت دیکھ کر اندر سے بری طرح کھول اٹھا تھا۔ اس کا بس نہیں چل رہا تھا لائبہ کی یہ حالت کرنے والے درندے کو وہ چاند سے مار دے ۔۔
جگہ جگہ سے پھٹے کپڑے ۔۔
لائبہ کی ابتر حالات اس کے ساتھ تو کوئی زیادتی کا چیخ چیخ کر بتا دے رہی تھی ۔۔
عمر نے دور رکھا لا ئبہ کا دوپٹہ اٹھا کر اس پہ پھیلایا تھا اور فون کرکے ایس پی کو وہاں سے جانے کا کہا ۔۔
وہ بہت کچھ سوچ رہا تھا اس نے باقی کے قدم بہت سوچ سمجھ کر اٹھانے تھے ۔۔۔
🌷🌷🌷🌷
وقت تیزی سے گزر رہا تھا آئمہ سے رحمان کی شادی کو چھ سال کا عرصہ گزر چکا تھا.
رحمان کا رویہ آئمہ کے ساتھ روزے اول جیسا ہی تھا .ائمہ کے پاس جانا تو دور کی بات وہ اس پہ ایک نظر غلط تک ڈالنا گوارا نہیں کرتا تھا۔
اس عرصے میں ایک تبدیلی سمیرا کی صورت میں رونما ہوئی تھی گھر میں ۔
سمیرا کو رحمان نے ایک شادی میں پسند کیا تھا جس کے بعد اس نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے سمیرا اور اس کے گھر والوں کو اندھیرے میں رکھ کر اس سے شادی کی تھی۔
رحمان نے سمیرا کے گھر والوں کو اس بات کا علم نہ ہونے دیا تھا کہ وہ پہلے سے ایک بیوی رکھتا ہے ۔۔
یہ۔سمیرا کے اوپر شادی کے کچھ ہی دن بعد آشکار ہو گیا تھا شروع شروع میں تو رحمان نے ائمہ کو ایک ملازمہ کی حیثیت سے متعارف کروایا تھا ۔۔۔۔
مگر یہ راز ایسا تھا جو زیادہ عرصہ چھپ نہ سکا اور جس روز سمیرا کو ائمہ کی اصل حیثیت کا اندازہ ہوا تھا اس دن سے وہ اپنے آپ کو آئمہ کا مجرم تصور کرنے لگی تھی ۔۔
رحمان نے گھر میں اپنا روب و دبدبا اس طرح بٹھایا ہوا تھا کہ ائمہ تو ائمہ سمیرا بھی خاموش رہتی تھی سمیرا شروع سے ہی ایک ڈرپوک اور دبوسی لڑکی تھی ۔۔
بس آئمہ اور سمیرا میں اتنا فرق تھا کہ ائمہ کو بدلے لینے کے لیے بہایا گیا تھا جبکہ سمیرا رحمٰن کی من چاہی بیوی تھی ۔۔
اس لئے اس کا ہر طرح سے رحمان خیال رکھتا مگر سمیرا کے دل میں موجود پھانس سی چھپ گئی تھی رحمان کے جھوٹ کو لے کر۔۔۔
وہ پھانس کسی طور بھی پرسکون نہیں ہونے دیتی تھی ۔۔
""آپ بھی مجھے معاف کردیں میں غاضب ہو۔ مجھے علم نہیں تھا کہ رحمان کی ایک بیوی پہلےبھی ہے ۔۔۔"
"میری تو غزل آپی تک کو علم نہ تھا کہ رحمان کون ہے اور کس کا بھائی ہے جس دوران میری شادی ہوئی اس دوران غزل آپی حماد بھائی کے ساتھ ملک سے باہر گئی ہوئی تھی اور پھر رحمان نے بمشکل پندرہ دن کا وقت دیا تھا بابا کی خرابی طبیعت کی وجہ سے۔۔۔""
" بابا نے بھی جلد از جلد میرے فرض سے سبکدوش ہونا مناسب سمجھا تھا اور میری شادی کے چھ دن بعد بابانے بھی اس دنیا سے رخصت لےلی تھی۔۔"
وہ ایک دن روتے ہوئے آئمہ سے بولی تھی ۔۔
"نہیں تم خطاکار نہیں ہو۔ تم خود کو کیوں قصوروار گردانتی ہو ۔"
"میری قسمت میں جو لکھا تھا وہی مجھے ملا ہے"۔۔۔
" سمیرا میں دیکھ رہی ہو تم خوش نہیں ہو مت میرے لئے سوچ کر خود کو ہلکان مت کرو تمہارا اللہ کے کرم سے ایک بیٹا ہے اور اب پھر دوبارہ تم امید سے ہو خوش رہا کرو بہت زیادہ ۔۔"
وہ دونوں رات کے وقت کھانے سے فارغ ہو کر بچوں کے ساتھ گارڈن میں چہل قدمی کر رہی تھیں۔ جب سمیرا نے بھرائے اور نادم لہجے میں کہا تھا ۔۔۔
سمیر ہ، عمر سے زیادہ حمزہ کا خیال رکھا کرتی تھی۔ اس وقت بھی وہ خود میں گم حمزہ کے سامنے آ کر بیٹھ گئی تھی اور اس کے ستے ہوئے چہرے کو دیکھ کے بولی ۔۔
"حمزہ آپکو پتہ ہے میں نے آپ کے لئے صرف اور صرف آپ کے لیے پٹاخے اور پھلجڑیاں منگوائی ہیں کل آپ برابر والے بچے کو دیکھ رہے تھے نہ پٹاخے پھاڑھتے ہوئے۔ دیکھو میں نے آج آپ کے لئے کتنی سارے منگوائی ہیں ۔۔"
وہ حمزہ کے سامنے پٹاخے اور پھلجڑیاں رکھتے ہوئے بولی تھی ۔۔
تھینک یو چھوٹی ماما ۔۔۔!
حمزہ یکدم خوشی سے کھل اٹھا تھا سمیرا اسی طرح اس کی ہر ایک چھوٹی سے بڑی خواہش کا خیال رکھا کرتی تھی ۔۔
حمزہ کا رویہ سمیرا سے خاصا بہتر تھا کیونکہ ہر دفعہ جب رحمان اسکی ماں پہ ہاتھ چھوڑتا اس وقت سمیرا ہی عائمہ کی ڈھال بن کر کھڑی ہو جایا کرتی تھی۔ کئی دفعہ تو سمیرا نے آئمہ کو رحمان کے عتاب کا نشانہ بنتا دیکھ گڑگڑا گڑگڑا کر رحمان کے آگے ہاتھ تک جوڑ ڈالے تھے ۔۔
حمزہ کے دل میں سمیرا کے لیے نرم گوشہ پیدا ہو چکا تھا ۔وہ سمیرا کو اتنی ہی محبت کرتا جتنی اپنی سگی ماں سے ۔جبکہ رحمان صاحب حمزہ سے شدید محبت کرتے عمر کے مقابلے میں اپنے بچوں سے زیادہ اس پہ جان نچھاور کیا کرتے کیونکہ وہ ان کے بھائی کی آخری نشانی تھا ۔۔
بس آئمہ سے رحمان کو اپنے بھائی کی موت کی خامخوا کی خار ہو چکی تھی ۔اس نے شادی کے بعد سے عائمہ کو اس کے ہر حق سے محروم رکھا تھا وہ سہاگن ہونے کے باوجود بھی ایک بیوہ سی زندگی بسر کر رہی تھی ۔۔
"آپی آونا تم بھی "۔۔۔ثمیرا نے دور سے ائمہ کو آواز لگائی ۔
"سمیرا پلیز مجھے نہیں آتے یہ پٹاخے اور پھلجڑیاں وغیرہ جلانا ۔۔"
سمیرا نے اس کو ٹالنا چاہا تھا ۔۔۔
""ایویں نہیں اچھا پٹاخے نہیں آتے تو پھلجڑی ہی جلالیں عمر خوش ہوجائے گا "۔۔۔
وہ ائمہ کی گود میں بیٹھے عمر کو دیکھ کر بولی تھی ۔۔
"پلیز بڑی مما پھلجڑی جلآئیے نہ" ۔۔
عمر نے بھی ضد کی۔۔
وہ اپنی تمام تر خواہشات آئمہ سے ہی پوری کرواتا تھا وہ کھانے سے لے کر اپنا ہر ایک کام ایمہ سے کروانا پسند کرتا ۔عمر کی اتنی محبت اور لگاؤ دیکھ کر اپنی ماں سے حمزہ عمر سے اکھڑنے لگا تھا۔ یہ سوچے بغیر کہ اس کا خود کا بھی سمیرا کے معاملے میں عمر سے مختلف حالات تھا ۔۔
پورے لان میں بچوں کی کلکاریاں اور سمیرا اور عائمہ کی ہنسی گونج رہی تھی لیکن اچانک رحمان نے آکر ان سب کی خوشی کو خاک میں ملا دیا۔ وہ کافی دیر سے آئمہ کے خوش چہرے کو کھڑکی سے دیکھ رہا تھا اپنے کمرے کی اور اب اس کا صبر جواب دے گیا تھا وہ دندناتا ہوا باہر لان میں نکل آیا تھا ۔۔
وہ سیدھا آئمہ کے سر پر جا کھڑا ہوا تھا ۔۔
"بہت شوق ہے نا تمہیں پھلجڑی جلانے کا ؟"
"بالکل ویسے ہی جیسے میرے بھائی کو جلا جلا کر قبر میں پہنچا دیا تم نے ۔۔"
حمزہ اور سمیرا کافی دور مگن تھے ر ہمان کی لان مو آمدسے یکسر بے خبر پٹاخے پاڑھنے میں مصروف ۔عمر گھانس پہ بیٹھا تارے گن رہا تھا ۔۔۔
"میں نے آپ کے بھائی کے ساتھ کچھ غلط نہیں کیا تھا"۔
آئمہ کے منہ سے بے ساختہ پھسلا تھا ۔
'مجھ سے زبان چلائے گی ؟"
رحمان نے پیچ و تاب کھا کر آئمہ کے صرف ایک چھوٹے سے ادا کیے گئےجملے کو انا کا مسئلہ بنا کر شدید غصے میں آکر ائمہ کے ہاتھ سے جلتی ہوئی پھلجڑی چھینی تھی اور پھر وہی پھلجڑی لے کر اس کی گردن پر لگا دی ۔۔
حمزہ اور سمیرا کی چیخیں فضا میں بلند ہوئی تھی ائمہ کو تکلیف سے بلبلاتا دیکھ کر۔ ائمہ بری طرح گھاس پہ لوٹ پوٹ ہو رہی تھی تکلیف اس کی برداشت سے باہر ہو چلیتھی ۔گردن بہت بری طرح سے جل گئ تھی ۔۔
وقت کا کام تھا گزرنا وہ سرکتا گیا۔ رحمان صاحب پہلے سے کافی بہتر ہو چکے تھے اور کئی دفعہ آئمہ سے اپنے تعلقات بہتر بنانے کی کوشش بھی کی تھی ۔وجہ صرف اتنی تھی کہ ان کے ہاتھ جلال کی وہ ڈائری لگی تھی ۔جو مرنے سے کچھ عرصے پہلے وہ لکھا کرتا تھا۔ تمام تر سچ رحمان کے سامنے کھل کر آشکار ہوچکا تھا ۔
اس کے بعد وہ نادم سے رہا کرتےتھے مگر اتنی ہمت نہ تھی کہ آئمہ سے اپنے کیے کی معافی طلب کرپاتے۔ بس ہمزہ سے ان کی محبت بہت جنونی تھی وہ حمزہ سے ٹوٹ کے پیار کرتے ۔یہی وجہ تھی کہ وہ سب بچوں میں صرف اور صرف حمزہ کو اہمیت دیتے۔ مگر اس دن حمزہ کے چیخ چلانے سے وہ بھی آپے سے باہر ہو پیٹھے تھے اور بہت کچھ ایسا کہے گئےجس نے معاملات کو مزید الجھا کے رکھ دیا تھا ۔مگر خدا اس بات کا گواہ تھا کہ وہ حمزہ سے ناراض ہو کر ایک رات بھی چین سکون کی نہ کاٹ سکے تھے
🌷🌷🌷
وہ لوگ سب کے سب فام ہاؤس جانے کی تیاری کر رہے تھے جب شہر سے فون آنے پر غزل کی خوشی کا ٹھکانا ہی نہ رہا تھا۔ وہ اپنی بہن کے ہاں بچے کی ولادت کا سن کر پھولے نہیں سما رہی تھی۔
" عائشہ میں بہت خوش ہوں آج تمہیں پتا ہے ثمیرہ کے گھر بیٹا پیدا ہوا ہے"۔
وہ خوشی سے چور لہجے میں چہکتے ہوئے سب کو بتا رہی تھی ۔۔
عائشہ سمیت گھر کے سب افراد نے اس کو تہہ دل سے مبارکباد دی تھی ۔۔
اماں سچ آنی کے ہاں بیبی آیا ہے ؟
ارمغان نے بھی پراشتیاک لہجے میں پوچھا ۔
" ہاں ہاں بالکل سچ ارے بھئی جلدی کرو اب کیا شام کو چلو گے "؟
"اگر شام میں جانا ہے تو پھر کیا فائدہ فارم ہاوس جانے کا "؟
"یہیں کھیل کود کے پکنک منالو بچوں ۔۔"
حماد جلدی جلدی کا شور مچاتے ہوئے سیڑھیاں اترنے کے ساتھ اپنی گھڑی بھی پہنتے ہوئے بولے ۔۔
"حماد آپکو پتہ ہے میں اور آپ خالو خالو کے رتبے پر فائز ہوگئے ہیں۔ ابھی پندرہ منٹ پہلے۔"
"مبارک ہو بھئی یہ تو بڑی خوشی کی بات ہے نیک بخت ۔۔"
حماد نے غزل کے خوشی سے چہکتے ہوئے چہرے کو پیار سے دیکھ کر مبارکباد سے نوازا تھا ۔۔
"چلیے نہ بڑے بابا "۔
عنایہ نے حماد کی بھاگ کےانگلی پکڑ کر بولا تھا ۔
"ارے بیٹا اب ہم کہاں جا سکتے ہیں۔ ہمیں تو اب آپ کی بڑی اماں کے بھانجے کو دیکھنے ہسپتال جانا ہوگا ۔نہیں تو آپکی بڑی امی کے ہاتھوں میری شامت پکی ہے ۔۔"
حماد پرشوخ لہجے میں غزل کی طرف دیکھتے ہوئے چھیڑنے لگا ۔۔
"چلیں کوئی بات نہیں بھائی پھر چلے جائیں گے ہم۔ سب" ۔۔۔
داود نے جلدی سے کہا تھا کیونکہ غزل کی بہن کی پہلی خوشی تھی اور ان سب کا شہر پہنچنا ضروری تھا مبارکباد دے نے کے لئے ۔۔۔
"ارے نہیں نہیں مجھے تو جانا ہے پکنک پہ" ۔۔
عنا یہ روتے ہوئے بولی تھی۔
" بہی ہماری گڑیا کو رو لاؤ نہیں بلکہ مانی کو بھی ساتھ لے جاؤ تم لوگ اپنے۔ کل پھر فارم ہاؤس سے واپسی حویلی آنے کے بجائے پہلے شہر ہو لینا۔ اس طرح سمیرا کے بچے کو بھی دیکھ لو گے اور بچوں کی بھی خوشی پوری ہوجائے گی"۔۔
غزل نے تجویز پیش کی تھی کھلے دل سے ۔۔
"ہاں یہ ٹھیک ہے تم سب نکل جاو "
حماد نے عنایہ کو پیا کرتے ہوئے کہا ۔۔۔
اماں جان اٹھیےنہ" ۔۔
کیا ہو گیا آپ کو؟؟
غزل نے چکرا کر گر تی ساس کو روتے ہوئے بڑی مشکل سے تھاما تھا۔ وہ خود اس وقت بہت بڑے طوفان کی زد میں تھی۔ حماد کی کہی بات نے اس کو اندر تک دکھی کردیا تھا۔ یہ صلہ دیا تھا حماد نے اس کو عمر بھر کی رفاقت کا۔ وہی یکایک خود کو بہت کمزور تصور کرنے لگی تھی ۔وہ اندر سے بری طرح سے توڑ پھوڑ کا شکار ہو چکی تھی۔
ھماد ایسا ہرگز نہ تھا مگر پیارے بھائی کے ہنستے بستے گھرانے کی اچانک اور ناگہانی موت نے اس کو اندر سے بہت توڑ پھوڑ کر رکھ دیا تھا۔ وہ اپنے خول میں بند ہو کر رہ گیا تھا ۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس کے مزاج میں مزید سختی در آئی تھی ۔۔
۔۔
"دادو کیا ہوا پلیز اٹھیں! ! آنکھیں کھولیں "۔۔۔
ارمغان نے بڑھ کر دادی کو تھاما تھا اور ان کو اٹھا کر باہر کی طرف بھاگتے ہوئے چیخنے کے انداز میں کہہ رہا تھا ۔۔
فجرخاموش تھی اس کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ بہت زور زور سے دادی کے پاس جاکر رویے۔ مگر وہ فی الحال ایسا کچھ بھی کرنے سے نا چاہتے ہوئے بھی گریزاں تھی ۔۔
حماد اور باقی سب فجر سمیت دادی کو ہسپتال لے کر بھاگے تھے ۔دادی کو ہارٹ اٹیک ہوا تھا دوسرا ۔۔
پہلا ہاٹ اٹیک دادی کو اس وقت ہوا تھا جب انہوں نے جوان جہان بیٹا اور بہو کے جنازے دیکھے تھے ۔۔۔
دادی کی حالت خطرے سے باہر نہ تھی حماد صاحب کا تمام تر طنطنہ ہوا او چکا تھا ۔وہ ہاتھ ملتے اسپتال کے کوریڈور میں ادھر سے ادھر اسطرابی کیفیت میں چکر کاٹ رہے تھے ۔۔۔
"آپ سب کو پیشن اندر بلا رہی ہیں برائے مہربانی ان کو کسی بھی قسم کا تک نہ پہنچے یاکوئی بھی ایسی بات کرنے سے گریز کیجئے گا جس سے ان کی جان کو خطرہ ہو ۔"
نرس نے دادی کا پیغام آ کر دیا ۔۔
"جی جی بہتر ارمغان کہتا ہوا فجر کا ہاتھ تھام کے جبکہ ماں کو بازو کے حلقے میں لیے اندر کی طرف بڑھ چکا تھا ۔ہماد صاحب خاموشی سے ان تینوں کو I.c.u کے اندر جاتا دیکھ کر خود بھی پزمردہ قدموں سے چلتے ہوئے اندر کی طرف بڑھ چکے تھے ۔۔
پروقار سی دادی فجر کو یک دم بہت زیادہ بوڑھی لگی تھیں۔
فجر اپنےپلکوں کی باڑ توڑ تے آنسووں کو روک نہ سکی تھی اور دادی کے بیڈ کی پائینتی پہ ٹک کر ان کا نحیف سا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر آہستہ آہستہ سہلانے لگی ۔
جبکہ ارمغان اپنے اوپر ضبط کے بند باندھے دادی کا سر سہلا آرہا تھا اورغزل پاس کھڑی مسلسل کچھ نہ کچھ پڑھ کر روتے ہوئے ساس پہ دم کر رہی تھی "بے شک اللہ پاک کے کلام میں بہت برکت ہے"۔
"باقی سب اللہ کے اختیار میں ہے زندگی دینا بھی اور لینا بھی"۔۔۔
غزل یہ سوچتے ہوئے بس دل ہی دل میں بہتری کی دعا کر رہی تھی ۔۔۔
حماد صاحب نادم سے چند قدموں کے فاصلے پر کھڑے ماں کو تکے جا رہے تھے۔ جیسے اب مزید کسی کو کھونے کی سکت نہ رہی ہوں ۔
"حماد بیٹا"۔۔
دادی کی نحیف سی آواز سے نکلی۔۔
"جی اماں جان کہیں ۔۔۔"
جیسا آپ کہے گی ویسا ہی ہوگا"۔۔۔
اور جھک کر ماں کے سینے سے قریب ہو کر بولا ۔۔
"بیٹا اپنی ماں کے لئے زندگی کی خوشیوں سے ناراضگی ختم کردے اور ایک دفعہ پھر سے تمام خوشیوں کو آنے کے دروازے خود پر کھول دے ۔یہ بچی بہت نیک فطرت ہے۔ اس کو قبول کرلے صرف اتنا سوچ لے کہ یہ تیرے مانی کی گڑیا ہے۔"
" میری بات مان لے بیٹا ۔یقین جان تجھے جان سے زیادہ عزیز بھائی کی بھی تو روح خوش ہو گی جب تو خوش ہو گا ۔"
'اور سب سے بڑھ کر ارمغان کی زندگی خوشیوں سے مہکے گی تو داود اور ائشہ کی روحیں کس قدر خوش ہو نگی ۔"
دادی سینے سے لگے بیٹے کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولی تھیں ۔
" ٹھیک ہے جیسا آپ کہینگی ویسا ہی ہوگا ۔۔"
"مگر پلیز آپ جلدی سے ٹھیک ہو جائیں۔ مجھ میں اب مزید کسی کو کھونے کا حوصلہ نہیں ہے "۔۔۔
ھماد کی آواز دکھوں کی آمیزش لیے ہوئے تھی ۔
"تم اگر زندگی کو دوبارہ سے جینے کا وعدہ کرتے ہو تو میں بھی ٹھیک ہونے کی کوشش کروں گی ۔۔"
دادی نے نرمی سے کہا ۔۔
"وعدہ نہیں کرتا مگر ہاں کوشش ضرور کروں گا زندگی کو ایک دفعہ پھر سے جینے کی "۔۔۔
وہ مسکرا کر غزل کو دیکھنے کے بعد ارمغان اور فجر کو دیکھ کر بولے تھے ۔۔
"اور میں آپ کی ھر ایک کوشش پہ پیٹرول چھڑکنے کا کام کروں گی "۔۔۔۔
فجر کی آنکھیں خطرناک حد تک چمک رہی تھی اس وقت ۔۔۔
اگر غلطی سے بھی کوئی اس کی آنکھوں میں جھانک لیتا تو شاید ان آنکھوں میں سے پھوٹی پڑتی چمک کو دیکھ لینے کے بعد ضرور خوفزدہ ہوکر رہ جاتا ۔
فجر کی آنکھیں اس وقت بہت خوفناک سی چمک لیے ہوئے تھیں۔ ۔
ایسی چمک جو شاید ایک انسان کی آنکھوں میں نا پائی جاسکتی ۔۔۔
______
وہ ہاتھ میں پکڑی لسٹ کو پینٹ کی جیب میں رکھ چکا تھا۔
شام کے چار بجنے کو تھے کافی کچھ وہ اس کے لئے خرید چکا تھا اپنی مرضی سے ۔
لسٹ کو ایک نظر دیکھنے کے بعد دوبارہ سےحمزہ نے دیکھنے کی غلطی نہیں کی تھی ۔۔
وہ کئی لیڈی شاپ چھوڑ کے بڑی مشکل سے ایک لیڈی شاپ کے اندر گھسا تھا ۔۔۔
چہرے پر خفت کے تاثرات بکھرے ہوئے تھے ۔۔
مگر۔۔۔۔!!!
یہ کیا اندر ایک سیلز گرل کو دیکھ کر وہ سٹپٹا کے واپس دوکان سے الٹے قدموں باہر نکلنے کو تھا۔
اس کو بلکل بھی اندازہ نہیں تھا کہ اندر کوئی سیل گرل موجود ہوگی۔۔
وہ یہی سمجھ رہا تھا کہ شاید کوئی سیلز مین بھی ہوگا اندر جو اسکو ڈیل کرے گا ۔۔۔
اکسکیوزمی سر آپ کو کیا چاہیے ؟؟؟؟
میں آپ کی کچھ ہیلپ کر و؟؟؟؟
سیلز گرل نےاس کو بوکھلا کر واپس مڑتے دیکھ کر اپنی خدمات پیش کیں ۔۔
مم۔ ۔۔۔مجھے کیا لینا تھا؟ ؟؟؟؟
ہاں مجھے کچھ لینا تو ہے۔۔۔۔!!!!
وہ بڑی مشکل سے ہمت کرکے بولا تھا ۔۔
لفظ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوئے۔ ۔
جی سر وہی تو پوچھ رہی ہوں کہ آپ کو کیا چاہیے؟؟؟؟
ہمارے پاس تمام ورائٹی موجود ہیں ۔۔
سیلز گرل اس کی بوکھلاہٹ پہ محظوظ ہو کر بولی تھی جبکہ تاثرات بالکل سنجیدہ تھے ۔۔۔
مجھے وہ چاہیے۔۔۔
وہ بولا۔
وہ کیا؟؟؟
آپ کو کیا چاہیے سر ؟؟؟
وہ اب اس کے وہ وہ کرنے پر کنفیوز ہو کر بولی ۔۔۔
کیونکہ شاپ میں اور بھی کسٹمر ویٹنگ پہ تھے ۔۔
یہ چاہیے ۔۔۔!!۔
وہ گھبرائی ہوئی نظر ادھر اٹھا ڈال کر ایک پوسٹر پہ نظر پڑنے کے بعد ہاتھ کے اشارے سے بولا جبکہ چہرہ دوکان کے خارجی دروازے کی طرف ہی تھا جیسے وہ سیلذگرل سے نہیں بلکہ دیواروں سے باتیں کر رہا ہو ۔۔۔
او کے سر آئے شو یو۔ ۔۔!
وہ مسکراہٹ چھپا کر بولی تھی حمزہ کے پسینے میں ترچہرے کو دیکھ کر جو ایسی کی ٹھنڈی کولنگ کے باوجود بھی پسینے میں شرابور ہو چکا تھا ۔۔
سر سائز ؟؟
سیلز گرل نے اس کی مطلوبہ چیزیں کاؤنٹر پر رکھتے ہوئےمصروف سے انداز میں پوچھا ۔۔۔۔
سائیز؟ ؟؟
کس چیز کا سائز ۔۔۔
بوکھلا کر ماتھے پہ آئے پسینے کو ٹشو سے صاف کرتے ہوئے پوچھا گیا ۔۔
سر آپ کیا خریدنے آئے ہیں ؟؟؟؟
سیلز گرل نے اب تنگ آکر اسکو گھورا ۔۔
"ا و اچھا اچھا "۔۔
وہ سٹپٹا کر رہے گیا۔ ۔۔
"پلیز ون منٹ میں فون کرتا ہوں" ۔۔۔۔
کی دفعہ فون کرنے کے بعد پانچویں دفعہ کی گئی کال پہ شفاء نے فون اٹھایا ۔۔۔
کیا مسئلہ ہے؟؟؟
کیوں فون کیا ہے ؟؟؟؟
وہ غرائی ۔۔۔
"سائز بتائو اپنا۔
دانت پیس کر بولاگیا ۔
اسکی بے دھیانی میں آواز کچھ زیادہ ہی اونچی ہو گئی تھی جس کی وجہ سے وہاں موجود لوگ متوجہ ہوکر خوامخاہ اس کو دیکھ کر مسکرانے لگے ۔۔۔
وہ چیپس آ گیا چہرے پر شدید خفت کے تاترات ابھرے تھے۔۔۔
دوسری دفعہ جب وہ شفاء سے فون پہ مخاطب ہوا تو قدرے آواز نیچے کرکے بولا ۔۔
یار مجھے جلدی سے سائز بتاو نہیں تو میں گھر واپس آ رہا ہوں ۔۔۔!!!
وہ جھنجلایا ۔ ۔
خبردار اگر میرے سامان لیے بغیر واپس آئے تو میں تمہارے کل پرزے ڈھیلے کر دوں گی ۔۔۔
شفا نے سنگین لہجے میں کہہ کر فون ہیڈ سپلٹ کر دیا تھا ۔۔
لسٹ بھی ہے ناں اس میں سبمیشن ہے وہ دکھاؤ ۔۔
نام کی لسٹ اس میں سب لکھا ہوا ہے ۔۔
نظریں فلور پر جمائے ہوئے لسٹ کاونٹر پہ رکھی گئی تھی ۔۔۔
اوکے اور سرکلر ؟؟؟
کلرررررر؟ ؟؟
حمزہ کے صحیح معنوں میں چھکے چھوٹ گئے تھے اس کو بہت اچھی طرح سے اپنی سنگین غلطی کا بخوبی اندازہ ہو گیا تھا اب وہ دل میں اپنے آپ کو کوس رہا تھا کہ کاش وہ شفاء کو لے کر آ جاتا تو یہ سب کھڑا ک ہی پیدا نہ ہوتا ۔۔۔
"جو آپ کو ٹھیک لگے۔۔"
وہ اتنا ہی کہہ سکا تھا اس سے آگے اس کی بولتی بند ہو گئی تھی ۔۔۔۔
"کہاں پھنس گیا "۔۔۔
دل چاہا اپنے سرکو دیوار میں دے مارے ۔۔۔
،"شفا اس سے پہلے میں نے خود کو کبھی اس قدر بے یارومددگار نہیں سمجھا ۔۔۔جتنا آج تم نے مجھے اس سیلذگرل کے سامنے بےبس کر دیا ہے ۔۔۔۔"
وہ شدید جلوےمیں اس سے دل ہی دل میں مخاطب ہوا۔ ۔۔
🌹
حمزہ گھر پہنچ کر میں ڈھال سہ ہوکررا کنگ چیئر پر گرنے کے انداز میں خود کو ڈھیلا چھوڑتے ہوئے بیٹھ چکا تھا جبکہ شاپنگ بیگز اس نیں سامنے رکھی ٹیبل پر پٹخ دئیےتھے۔۔۔۔
" یار اب یہ اٹھا لو اچھا خاصہ انسان کا ستیاناس مار دیا تم نے "۔۔۔۔
وہ شفا کو آواز دینے لگا پورے گھر میں اندھیرا تھا ۔ صرف اور صرف لاؤنج کی مدھم سی لائٹ روشن تھی مگر تھکن سے چور حمزہ کو یہ ہلکی ہلکی روشنی بھی اعصاب کو بہت ٹھنڈک پہنچا رہی تھی۔۔۔۔۔
وہ اندر تک پرسکون ہوگیا تھا آنکھیں بند کرکے تھکن اتاز نے کی کوشش کرنے لگا ہے۔۔۔
"ہیپی برتھ ڈے ٹو یو مائی ڈئیر حمزہ"۔
" ہیپی برتھ ڈے ٹو یو "۔۔۔۔۔۔!!!
اس نےسامنے کھڑی سجی سنوری شفا اپنے چہرے پہ خوبصورت مسکراہٹ سجائے اس وشش کر رہی تھی۔۔۔۔۔
وہ ابھی شاک کی کیفیت میں تھا جب ڈرائنگ روم کا دروازہ واہ ہوا تھا ۔۔
اس نے ناسمجھی سے چہرے کو موڑ کر دیکھا تھا جب اندھیرے میں اس کو دو ہیولے اندر سے آتے دکھے تھے ۔۔
مینی مینی ہیپی لیٹرز آف داڈے ۔۔
میں یو ہیو مینی مور۔ ۔۔۔
اب اسکوڈرائنگ روم سے باہر بشر اور آدم آتے ہوئےنظر آئے جو چہکتے ہوئے اس کووش کر رہے تھے ۔۔
ان دونوں کے پیچھے حورم اور ایشل ( آدم کی بیٹی) اور جزدان (بشر کا دس سالہ بیٹا )بھی ساتھ ساتھ اس کوشش کر رہے تھے ۔۔
وہ سب بھی پیچھے سے تالیاں بجاتے ہوئے باہر آئے تھے ۔۔
آپ سب ؟؟
بحمزہ کے چہرے پر یخلقت خوشی پھوٹ پڑی تھی ۔وہ حیران تھا سب کو دہکھ کر۔ ۔۔
"ارے چاچو آپ یہ اپنا اتنا بڑا کھلا ہوا منہ بند کریں نہیں تو مکھی گھس جائے گی ۔۔"
جزدان نے حمزہ کا حیرت سے کھلا ہوا منہ دیکھ کر چوٹ کی ۔۔
"ادھر آ تو موٹے میں تجھے بتاتا ہوں "۔۔۔
حمزہ نے چہکتے ہوئے جزدان کے پیٹ میں مکا رسید کیا تھا ۔۔۔
"کوئی بات نہیں چاچو ٹھیک ہے کبھی کے دن بڑے کبھی کی راتیں آج آپ کا دن ہے ۔۔۔"
وہ بڑے مزے سے اپنی گول گول آنکھیں پٹ پٹا کر بولا مگر اچانک کہتے ہوئےجزدان کر رہا اٹھا تھا ۔۔
ننھی ایشل نے ننھے ننھے قدم اٹھاتی نہ جانے کب میں جزدان کے پیر پر اپنے چار نئے نئے نکلے دانتوں سے کٹا کر چکی تھی ۔۔
وہ بلبلاتے ہوئے پلٹا تھا اور اسکو ٹکر ٹکر تکتی ایشل کو اپنے بازوؤں میں اٹھا لیا اور گود میں لے کر بولا ۔۔
"اے تم نے مجھے کیوں کاٹا "۔۔۔۔؟؟
وہ ابرو اچکا کر اسکو دیکھ کر بولا تھا ۔۔
"نی نی آئی تتا۔ ۔"
وہ اپنی زبان میں خوش ہو کر تالیاں بجاتی ناجانے کیا بول رہی تھی ۔۔
"موٹویہ کہہ رہی ہے کہ آپ کے برگر جیسے پیر کو دیکھ کر میری بھوک چمک اٹھی تھی۔ اس لئے میرے دانتوں سے رہا نہ گیا اور آپکو پپوکر لیا ۔۔"
حمزہ نےحساب برابر کیا ۔۔۔
"ارے یار اب کیا تم لوگ باتوں میں ہی لگے رہو گے یا کیک بھی کاٹو گے "؟؟؟
بشر نے بیٹے کے سر پر چپت لگا کر باقی سب کو بھی لپیٹا ۔۔
اوکے تو پھر کیک کاٹ لیا جائے ؟؟؟
کیا خیال ہے؟؟؟؟؟
شفا کے چہرے پر معنی خیز مسکراہٹ بکھر گئی تھی۔۔۔
"کیک۔ ۔۔۔۔۔کاٹ لیا جائے۔۔۔۔۔۔"
وہ جان کر تھوڑا اونچا بولی تھی کیونکہ آئمہ کچن میں کیک لیے کھڑی تھی چھپ کے سب سے۔ ۔
'ہیپی برتھ ڈے ٹو یو ڈیر ہومی "
"ہیپی برتھ ڈے ٹو یو" ۔۔
ائمہ کیک اس کے سامنے ٹیبل پر رکھتے ہوئے مامتا سے چور لہجے میں اس کو مبارکباد دیتی محبت سے اس کا ماتھا چوم چکی تھی۔۔
" مما آپ بھی"۔۔۔۔
وہ ششدر سہ خوشی سے جھوم اٹھا تھا ماں کو دیکھ کر۔
' بالکل میری بیٹی نے میرے بیٹے کے لئے اتنا پیارا سرپرائز پلان کیا تھا میں کیوں نہ آتی ۔''
چلیں اب جلدی سے کیک کاٹ لیتے ہیں حجاب ندیدوں کی طرح کیک کو دیکھ کر بولی تھی اور جلدی سے بچوں کے لئے لایا گیا برتھ ڈے کیپ اٹھا کر اپنے سر پر پہنا تھا ۔،
"ارے بیٹا تم تو پہن لو "۔۔
شفا نے جزدان کو کہا ۔۔
"نہیں میرے بدلے میری ماما پہن چکی ہیں کافی ہے ۔۔۔"
وہ منہ کا بسور کہ چڑھ کر حجاب کو دیکھتے ہوئے ایسے بولا جیسے بہت بڑا اور عقلمند ہو۔۔
وہاں پہ موجود سب کے چہرے پر مسکراہٹ دوڑ گئی تھی جزدان کے اس طرح کہنے سے ۔۔۔
"کیا ہے یہاں تو اپنا بن بتوڑی والا چہرہ مت دکھاؤ اور یہ تم کیا کیک کو ندیدوں کی طرح دیکھ رہی ہوں ۔۔۔"
بشر نے ڈانت پیسے اوور خشمگین لہجے میں کہتے ہوئےاسکو ٹہوکا دیا جبکہ جزدان نے حجاب کو گھوری سے نوازا تھا ۔۔۔
"ارے پہلے یہ شاپنگ بیکس تو ہٹا لو آئمہ نے ٹیبل پہ بکھرے شاپرز کو دیکھ کر کہا ۔۔۔"
"اوہو۔ ۔۔ شاپنگ" ۔۔۔
"پہلےیہ دیکھ لیتے ہیں نا" ۔۔۔
حجاب شاپر ز کی طرف بڑھتے ہوئے بولی تھی وہ آج بھی بالکل ویسے ہی تھی نٹ کھٹ اور عقل سے پیدل ۔۔۔
حمزہ سٹپٹایا تھا جبکہ شفا کا حال بھی حمزہ جیسا ہی تھا اس کے چہرے پر بوکھلاہٹ کا عنصر نمایاں تھا کیونکہ وہ شاپنگ ہرگز بھی کسی کو دکھانے والی نہ تھی۔ ۔۔
ھورم نے حمزہ کے سٹپٹائے چہرے کو دیکھ کر شفا سے آنکھوں ہی آنکھوں میں اشارے سے استفسار کیا "کہ کیوں اس قدر بوکھلا رہی ہو"؟؟؟
شفا نے بیحز کی طرف اشارہ کر کے اسکو سمجھانے کی اپنی سی کوشش کی تھی ۔۔
"ارے حجاب پہلے کے کاٹ لیتے ہیں پھر شاپنگ آرام سے شفاء کے ساتھ مل کر دیکھیں گے"۔۔
وہ نرمی سے کہتی تمام شاپرز اٹھا چکی تھی حجاب اور حورم کی کافی دفعہ ملاقات کی وجہ سے بہت اچھی دوستی ہو چکی تھی بلکہ کئی دفعہ تو حورم اس کی شامت بھی لے لیا کرتی تھی جب وہ خفا ہوکر بشر سے ڈانٹ پٹنے کے بعد اس کو فون کر کے اپنے کارناموں کے بارے میں ہمدردی بٹورنے کی کوشش کرتی ۔۔
حمزہ نے شفا کو دیکھ کر سکون کا سانس لیا تھا ورنہ آج بھری محفل میں کام ہو جانا تھا اس کا ۔۔۔
کیک کاٹنے کے بعد خوشگوار ماحول میں کھانا کھایا گیا تھا ۔کھانے کے بعد سب لوگ ڈائننگ روم میں بیٹھ چکے تھے اور اب خوش گپیو ں میں مصروف تھے۔۔۔
ارے بیٹا یہ تمہارا ایک ہی بیٹا کیوں ہے ابھی تک ۔۔؟؟؟؟؟
ائمہ نے حجاب سے پوچھا تھا ۔۔
حورم اور شفا بھی کچھ فاصلے سے سنگل صوفے پر ٹکی ہوئی تھیں جبکہ بشر آدم اور حمزہ بڑے مزے سے زمین پر بچھے کارپٹ پر ریلیکس ہو کر بیٹھے ہنسی مذاق میں مصروف تھے۔۔
مگر بشر چوکنا ہوچکاتھا ائمہ کی بات کو سن کے اس کو حجاب سے کسی بھی قسم کی" پیاری پیاری" باتوں کی امید تھی ۔۔
"بس آنٹی یہ بھی بہت مشکل سے پیدا ہوا ہے کیونکہ بشر سے جب بھی میں کہتی ہوں ایک اور بیبی پلان کر لیں تب وہ کہتے ہیں کہ پہلے تم بڑی ہو جاؤ اور جزدان کو پال پوس کر بڑا کر دو پھر سوچیں گے اس بارے میں" ۔۔
اس کس طرح کہنے کے ائمہ بھی یکدم بوکھلا گئی تھی ۔۔
حجاب بڑے مزے سے گرین ٹی کی چسکیاں لیتی کہہ گئی تھی مگر پھر بشر کی خشمگین نظروں کو دیکھ کر بہت جلد اندازہ لگا چکی تھی کہ وہ ضرور کچھ غلط گوہر افشانی کر بیٹھی ہے ۔۔
جبکہ شفاء ،ائمہ کے سامنے اس طرح کی بات کو سن کر جلدی سے چولہا دیکھنے کا بہانہ کرکے وہاں سے اٹھ چکی تھی اور بیچاری حورم جلدی سے ایشل سی باتوں میں لگ گئی اورپوچھنے لگی تھی کہ۔۔۔
" بیٹا آپ کو بھوک تو نہیں لگی ہے "۔۔۔
آدم نے حورم کے چہرے کو دیکھا جو کہ سرخ ہوچکا تھا حجاب کی بات پہ ۔۔۔
"بڑا کرنے کی ضرورت ہے ۔۔۔"
آدم نے بشر کاشانہ ہمدردی سے تھپتھپا کےچہرے پر افسردگی سمو کر کہا ۔۔
" اب کر ہی لو دوسرا بیبی نہیں تو اگلی دفعہ اشتہار لگے ملیں گےجگہ جگہ "۔۔۔
آدم نے کچھ اس انداز میں کہا کہ اس کی بات سنکر حمزہ کا فلک شگاف کہہ کا بلند ہوا تھا ۔۔
جب کہ آدم نے بہت آہستہ سے کہا تھا مگر ان تینوں کے فلک شگاف قہقوں نے سب کو متوجہ کر ڈالا تھا ۔۔۔۔
"اپنے بارے میں کیا خیال ہے "؟؟؟
میری تو ابھی کاف سے کچی ہے ذرامیں پہلے دو بچوں کو تو بڑا کرلوں پہلے" ۔۔۔
پیر میری چھوڑو تم اپنی بات کرو ۔۔!!!
وہ آدم کو خفگی سے گھورتے ہوئے لہجے میں حددرجہ بیچارگی سمو کر بولا تھا ۔۔


0 comments:
Post a Comment