ابھی فی الحال کوچ سے بات چیت چل رہی ہے دیکھو نتیجہ جلد ہی مثبت اندازسامنے آجائے گا ۔۔"
وہ شریر لہجے میں حورم کو دیکھ کر بولا تھا جو گھبرا کر اپنا پہلو بچا کر ڈرائنگ روم سے باہر نکل چکی تھی ۔۔۔
بچاو۔۔۔ بچاو۔۔۔!!
"مجھے اس جنگلی بلی سے بچاؤ نہیں تو یہ آج مجھے اپنے دانتوں سے زخمی کر دے گی۔۔۔"
جزد ان کی بلبلاتی آواز گونجی تھی۔۔
جو پورے لاؤنج میں ادھر سے ادھر چکر آتا پھر رہا تھا ۔۔۔
ایشل کےسوڑوں میں اچنگ ہو رہی تھی وہ مستقل اس کے پیچھے پیچھے اس کو کاٹنے کے لئے گھٹنوں گھٹنوں کرولنگ کر رہی تھی ۔۔
لگتا ہے ایشو آج دان کا وزن کم کرکے ہی اس کا پیچھا چھوڑے گی۔۔۔
بشر نے اپنے بیٹے کی گد بنتے دیکھ کر کہا تھا چہرے پر شرارت رقم تھی ۔۔۔
"کیا خیال ہے رشتہ پکا کر دیں ا بھی سے؟"
بشرنے آدم اورحمزہ کو دیکھ کر بڑے مزے سے کہا تھا۔۔
" نا بابا میری بیٹی میرے پیارے سے بھتیجے کو ناکوں چنے چبوا دے گی پوری آفت کی پر کالا ہے"
آدم نے ڈرایا تھا۔۔۔
حمزہ غائب دماغی سے ہوں ہاں میں جواب دے رہا تھا اس کی نظریں مسلسل شفا کا طواف کر رہی تھی ۔۔
سب کو الوداع کہنے کے بعد شفا کچن میں تھی جلدی جلدی کام سمیٹ رہی تھی ایک کپ چائے کا روم میں لے آنا ۔۔
اس وقت چائے وہ حیران ہوئی تھی کیونکہ حمزہ چائے صبح کے ناشتے میں بھی شاذونادر پینا ہی پسند کرتا تھا اس کو چائے زیادہ پسند نہ تھی شفا نے سوچتے ہوئے چائے کا پانی چڑھایا ۔۔
____
کچھ پتہ چلا لائبہ کا؟؟؟
رحمان صاحب کی پریشانی سے پر آواز گونجی تھی فون پہ ۔۔
جی بابا لائبہ بالکل ٹھیک ہے وہ اس وقت اپنی ایک دوست کے گھر ہے ۔۔۔
وہ لائبہ کے سر کو سہلاتے ہوئے بولا تھا آنکھیں شدید سرخی لیے ہوئے تھی ۔۔
دوست ؟؟
کونسی دو ست اسکی؟ ؟؟
یہاں تو کوئی دوست نہیں رہتی اسکی ۔۔۔
رحمان صاحب ٹھٹکے۔ ۔
بابا دراصل اس کی ایک بیسٹ فرینڈ ثانیہ شادی کے بعد کراچی ہی بہا کر آئی ہے ۔۔
مجھ سے صبح جھگڑا ہونے کی وجہ سے وہ ناراض ہو کر کسی کو بھی بتائے بغیر گھر سے نکل آئی تھی ۔۔۔
اس نے باپ کو مطمئن کرنا چاہتا وہ کسی طور بھی لائبہ کی عزت پر حرف نہیں آنے دینا چاہتا تھا۔۔۔
اسے تمہاری بات کب ہوئی ہے؟ ؟
وہ میری تو کالر آٹھاہی ہی نہیں رہی ہے ۔۔
رحمان صاحب مطمئن نہیں ہو پا رہے تھے ۔۔۔
ابو آپ بے فکر ہو جائیں میں خود ابھی لائبہ سے مل کر آ رہا ہوں وہ بالکل ٹھیک آپ پریشان نہ ہوں ۔۔
میں تھوڑی دیر میں اس کو واپس گھر لے آؤں گا آپ بے فکر ہو جائیں ۔۔
چلو ٹھیک ہے دیکھ کر ڈرائیو کرنا کیونکہ موسم کی تیور بہت گڑبڑ ہورہےہیں۔ ۔
جی بہتر کچھ دیر میں پہنچتا ہوں لائبہ کے ساتھ خدا حافظ۔۔۔۔۔
رحمان صاحب پرسکون ہوئے خ۔۔
کیا لائبہ اور عمر کی کوئی لڑائی ہوئی تھی صبح ؟؟؟
فون رکھنے کے بعد وہ سمیرا اور آئمہ سے پوچھ رہے تھے ۔۔۔
جی ہاں ایسے ہی عمر نے شرارت میں لا ئبہ کو تنگ کیا تھا ۔
جس کی وجہ سے وہ خفا ہو گئی تھی اس سے ۔۔۔
سمیرا نے شوہر کو تعجب سے دیکھا تھا بھلا اس سوال کا اس وقت کیا کام تھا۔ ۔۔
وہ بھی اس قدر پریشان کن صورتحال میں ۔وہ استہفامیہ نظروں سے شوہر کو دیکھ رہی تھی جبکہ آئمہ بالکل خاموش تھی جیسے درمیان وہ موجود ہی نہ ہو ۔۔
تمہارے صاحبزادے کی وجہ سے لائبہ ناراض ہو کر اپنی دوست کے گھر چلی گئی تھی۔۔۔
کیا ؟؟؟
سمیرا حیرت سے بولی تھی۔۔۔۔
جی ہاں ۔۔!!
آپ اپنے صاحب زادے کو سمجھائیے کہ فضول حرکات میں وقت برباد کرنے کے بجائے حمزہ کی طرح بزنس ورلڈ میں اپنا نام بنائے ۔۔۔
رحمان صاحب کی لہجے میں غصے کی آمیزش تھی مگر اب وہ قدرےپرسکون بھی ہو چکے تھے ۔۔
یہ جان کر کہ۔ ۔۔
واقعی عمر سچ کہہ رہا تھا وہ خفا ہو کر گئی تھی۔۔۔۔۔
وہ مزید کچھ بھی سنیں وہاں سے اٹھ کر اپنے کمرے کا رخ کرنے کے بجائے ائمہ کے بیڈروم کا رخ کر گئے تھے ۔۔
سمیرا اورآئمہ نے ایک دوسرے کو حیرت سے دیکھا تھا ۔۔
یہ ایک معجزہ ہی تھا ۔۔
🌹
عمر لائبہ کو لے کر اپنے دوست کے خالی اپارٹمنٹ میں آگیا تھا۔۔
لائبہ کی حالت ہرگز بھی ایسی نہ تھی کہ وہ فوری اس کو گھر لے جا سکتا ۔۔
وہ ہوش کی دنیا میں جیسی ہی لوٹی تھی خود کوایک انجان کمرے اور عمر کو خود سے کچھ فاصلے پر بیٹھا اس کا سر سہلاتے دیکھ ۔۔
وہ یخلقت اٹھ بیٹھی تھی۔۔۔
عمر تت۔ ۔ تم؟؟؟
لہجے میں بے یقینی تھی۔
چہرہ پہ شدید ترین کرب اور بے بسی کی تحریر رقم تھی جبکہ آنکھوں کے گوشے بھیگے ہوئے تھے ۔۔۔
بس خاموش ہو جاؤ اور پریشان مت ہوں میں تمہارے ساتھ ہوں۔۔۔۔
عمر بہت مشکل سے خود پہ ضبط کر سکا تھا ورنہ لائبہ کی ابتر حالت دیکھ کر اس کا دل کر رہا تھا کہ پوری دنیا کو تہس نہس کرکے آگ لگا دے۔ ۔۔
وہ لائبہ کے سامنے ٹوٹنا نہیں چاہتا تھا ابھی تو اس نے لائبہ کی ڈھال بن کرخے کئی کٹھن راستوں سے گزرنا تھا۔۔۔
عمر تم اس وقت کہاں تھے جب وہ شخص مجھے اپنی درندگی کا نشانہ بنا رہا تھا ؟؟
وہ سسکیوں سے روتے ہوئے عمر کا گریبان سختی سے جکڑتے ہوئے بولی تھی۔۔
میری بدقسمتی یہ ہے کہ میں تمہارے ساتھ ہوئے ظلم کے وقت تمہیں بچا نہیں سکا ۔۔
عمر کے لہجے میں آنسوؤں کی آمیزش گھلی ہوئی تھی۔ ۔۔
عمر تم ایک کام کرو مجھے مار دو۔۔
مجھے جینے کا کوئی حق نھیں ھے۔۔
وہ ہذیانی انداز میں کہتی عمر کے دونوں ہاتھوں کو اپنی سراہی دار گردن کے گرد جماتے ہوئے بولنے لگی ۔
پاگل ہو گئی ہو ؟؟؟
تمہارا دماغ ٹھیک نہیں ہے ۔۔
مت کرو اس قسم فضول باتیں کچھ نہیں ہوا ہے تمہارے ساتھ۔۔۔۔!!
ایک دردناک خواب تھا وہ بھول جاؤ اسکو۔ ۔۔
عمر اس کو سینے سے لگا کر خودمیں بھیجتے ہوئے بولا تھا۔
دو موتی ضبط کے باوجود بھی اس کی آنکھوں سے ٹوٹ کر گرے تھے جو لائبہ کے بالوں میں کہیں جزب ہو گئے تھے ۔۔
عمر تم میری بات کو سمجھو ۔۔۔
میرے پاس اب کچھ نہیں بچا وہ شخص مجھے زندہ لاش بنا گیا ہے۔۔
اس نے میرے وجود کو تار تار کردیا ،میری عزت نسوانیت کچھ بھی تو باقی نہیں چھوڑا میرے پاس۔۔۔۔
تم سمجھو میری بات کو میں معاشرے کے لئے گالی بن چکی ہوں ۔۔
وہ اس کے چہرے کو اپنی ہتھیلیوں کےپیالےمیں لےکر ایسے سمجھا رہی تھی جیسے یہ سب جان بوجھ کے کر گزری ہو وہ اب چیخنے چلانے کے بجائے نرمی سےعمر کو بتا رہی تھی۔۔
سمجھا رہی تھی اور شاید خود کو بہلا رہی تھی ۔۔
خبردار اگر اب ایک بھی لفظ تم نے اپنے منہ سے نکالا الٹا سیدھا ۔
کچھ نہیں ہوا تمہارے ساتھ تم مجھ سے ناراض ہو کر اپنی دوست کے گھر چلی گئی تھی۔۔۔
بس اور کچھ بھی نہیں کیا ہےکسی نے تمہارے ساتھ غلط۔ ۔۔
تمہارے ساتھ کسی نے بھی۔۔ کوئی شخص تمہارے وجود کو تار تار کرکے نہیں گیا ہے۔۔
وہ اس کو جھنجوڑ کر ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے بول رہا تھا ۔۔
اپنی آنکھیں اس کی وحشت زدہ آنکھوں میں ڈال کر سمجھانا چاہ رہا تھا کہ ۔۔
تم صرف اور صرف اپنی دوست کے گھر گئی تھی تم وہی لائبہ ہو جو صبح تھی ۔۔
نہی عمر یہ تو دھوکا ہے میں کیسے سب کو اندھیرے میں رکھ سکتی ہوں ؟؟!۔
یہ سب جانتے بوجھتے کہ اب میں۔ ۔۔۔
مجھے کوئی بھی قبول نہیں کرے گا ۔۔
وہ ہذیانی انداز میں اپنا سر نفی میں ہلا رہی تھی
"میں کروں گا تمہیں قبول ۔۔"
عمر کی آواز نے سناٹے کو توڑاتھا لائبہ اس کی بات سن کرساکت سی ہوگئی تھی ۔۔ .
🌹
وہ واشروم سے فریش ہو کر نکلی تھی ۔۔۔
"میرا ناشتہ ؟؟؟؟"
بڑے مزے سے ٹشو باکس میں سے ایک ساتھ کئی ٹشو کھینچ کے اپنا چہرہ صاف کرتے ہوئے استفسار کر رہی تھی۔۔۔۔
" ناشتہ یہاں خود چل کر تو نہیں آئے گا ظاہر سی بات ہے ناشتہ کچن میں ہی ہوتا ہے"۔۔۔
وہ لاؤنج میں رکھے صوفے پر نیم دراز لیٹا لیپ ٹاپ پہ کچھ کام کرتے ہوئے بولا نظریں ہنوز لیپ ٹاپ کی سکرین پر تھی ۔۔۔۔
'او کیززز "۔۔
و لمبے بالوں سے کشتی لڑتی بڑی مشکل سے ان کو کیچڑ میں جکڑکے کہچن۔ کی طرف بڑھنے لگتی تھی ۔۔
ایک چائے کا کپ پلیز میرا بھی۔۔۔
مصطفی نے مصروف سے انداز میں کچن کا رخ کرتی سوہا کو کہا۔۔۔
میرے سر میں شدیددرد ہو رہا ہے ۔۔۔
وہ لیپ ٹاپ سائیڈ پر ےرکھ کر اپنی انگلیوں کے پوروں سے سر دباتے ہوئے بولا۔۔
اوو آپ کو چائے کی نہیں بلکہ تیزاب کی ضرورت ہے وہ آپ کے دماغ کو اچھی طرح واش کر کےچمکا دے گا۔ ۔
وہ چہرے پر سنجیدگی طاری کرکے بولتی کچن میں چلی گئی تھی۔۔
پیچھے سے اس کو اپنی پشت پر مصطفی کی خشمگین نظریں خود کا پیچھا کرتی محسوس ہوئی تھی ۔۔
ناگن کے ڈنک سے بھی زیادہ زہریلی ہے یہ لڑکی ۔
بڑبڑایا ۔۔
ناشتہ کہاں ہے میرا ؟؟؟
چند منٹ بعد وہ واپس مصطفی کو اپنے سر پہ کھڑی محسوس ہوئی تھی۔۔۔
مصطفی نے خون کا گھونٹ پی کر آنکھوں سے بازو کٹایا اور تیوریاں چڑھآ کے اس کو دیکھا تھا۔۔۔
انڈے ڈبل روٹی دودھ وغیرہ سارس ناشتہ کچن میں موجود ہے۔۔
ابھی تو تمہیں کچن میں جانتے وقت بتایا تھا
وہ جھنجھلا گیا ۔۔
وہ تو مجھے بھی پتہ ہے میں دیکھ کر آئی ہوں مگر یہ ناشتہ بنا کر ہیںخ کھایا جاتا ہے یا پھر ایسے ہی کچاانڈہ منہ میں توڑ کے پی جاؤں ۔۔
وہ تنک کر بولی تھی ۔۔
سوہا میرے دماغ کی چٹنی مت بناؤ۔
جاؤ اپنے لیے ناشتہ بنا کر کھا لو۔۔۔
اگر ناشتہ بنانا آتا تو کیا آپ کے سامنے اپنا بھیجا خوشک کر رہی ہوتی ۔۔؟؟
اب چہرے پر بے چارگی تاری کی گئی تھی۔
اندر سے مصطفی کی کھسیاہٹ دیکھ کراس کا دل باغ باغ ہو گیا تھا ورنہ کوکنگ میں تو وہ دونوں بہنیں ہی ماہر تھیں ۔۔۔
کیا مطلب اب کیا تمھیں چائے ناشتہ بھی خود سے بنانا نہیں آتا بے؟؟؟
مصطفی کے لہجے میں حیرت تھی۔۔۔
تو پھر کیا بنا سکتی ہو ؟؟؟ وہ اٹھ کے بھیٹھتا اپنے دونوں ہاتھوں سے بالوں کو جکڑتے ہوئے پوچھ رہا تھا ۔۔
بیوقوف۔ ۔ میں بہت اچھا بنالیتی ہو۔ ۔۔۔!!
سوہانے اپنی بتیسی کی نمائش کی ۔۔
جانتا ہوں۔ ۔۔!!
اسکے علاوہ؟ ؟
تیکھے لہجے میں پوچھا گیا۔
انڈا۔۔۔!!
وہ معصومیت سے کہتی اپنی کانچ جیسے شفاف نین پٹپٹا کر بول رہی تھی۔۔۔
ا وہ تو بس ٹھیک ہے انڈہ بنا لو اور بریڈ سےکھا لو چائے رہے دو۔۔۔
اس نے سکون کا سانس لیا یہ سوچ کر کہ ۔۔
چلو کچھ تو محترمہ کو آیا۔۔۔
ایک منٹ کھڑوس پائلٹ میرا مطلب ہے انڈا مطلب زیرو ۔ ۔۔۔
سفر ۔۔۔۔
وہ ایک ہاتھ اپنی قمر پہ ٹکائے جبکہ دوسرے ہاتھ کے انگوٹھے اور انگلشت شہادت سے گول دائرہ بنا کر دروازے کی چوکھٹ کے بیچوں بیچ کھڑے مصطفی کے چہرے پر موجود بے بسی دیکھ کے بڑی مشکل سے اپنی ہنسی ضبط کرکے بولی تھی ۔ .
وہ آندھی طوفان کی طرح صوفے سے اٹھ کر کچن کے دروازے کے بیچوں بیچ کھڑی سوہاکا ایک بازو اپنے مضبوط ہاتھ کی گرفت میں لے کر اس کو سائیڈ پہ کرتے ہوئے سوہا کو۔ ۔
اسکے چہرے پہ ناراضگی تھی۔۔
آپ کا مجھ سے ناراض ہو کے بات نہ کرنا بھی میرے لیے ایک نعمت ہے۔۔۔
وہ بر بڑائی تھی مگر یہ بڑبڑاہٹ اتنی اونچی ضرورت تھی کہ مصطفی کے کھانوں کو چوم چکی تھی ۔۔
کاش میرا اس آفت کی پڑیا پہ دل نہ آیا ہوتا تو۔۔۔۔۔۔
اب اگر تم نے یہ واشنگ مشین کی طرح چلتی ٹر ٹر زبان بند نہ کی تو یاد رکھنا میں اس سے کاٹ دوں گا۔۔۔
وہ ہاتھ میں پکڑی کینچی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا تھا۔
ارے اس سے آپ ہری مرچیں ہی کاٹ لیں میری زبان لوہے اور تانبے کی ہے کینچی سے نہیں کرے گی ۔
حاضر جوابی تو ختم تھی سوہا پہ ۔۔
اگر تم چھٹانک بھر کی نہ ہوتی تو بتاتا کہ میرے پاس ایک سو ایک طریقے ہے تمہاری زبان کو تالے لگا نے کے۔
مصطفی چڑھ کر بولا تھا جبکہ سوہا خوامخواہ دیواروں کو دیکھنے لگی چہرے پر خفت اور حیا کے رنگ واضح تھے۔
مصطفی بڑی دلچسپی سے اس کے چہرے کے بدلتے خوبصورت رنگوں کو دیکھتے ہوئے کٹ کٹ ہری مرچ کاٹ رہا تھا ۔۔۔
اوچ۔ ۔۔
وہ بے دھیانی میں کینچ
ی سے اپنی انگلی ہی شہید کر بیٹھا تھا ۔۔۔
_______
آپ کی چائے۔۔۔
وہ کافی ٹیبل پہ رکھ کر پلٹی تھی۔ حمزہ کو کمرے میں نہ پا کہ وہ ٹھٹکی ضرور تھی مگر پھر ٹیرس سے کا دروازہ کھلا دیکھ کر سمجھ گئی تھی کہ وہ وہاں موجود ہے ۔۔
حمزہ نہ جانے خلاؤں میں کیا تلاش کر رہا تھا۔۔۔۔
ہاں ۔۔۔!
وہ چونکا تھا شفا کی آواز نے اس کی مہویت کو توڑا تھا ۔۔
وہ خالی خالی نظروں سے اس کو دیکھ رہا تھا جیسے شفاء کی کہی بات کو سن ہی نہ سکا ہو۔۔
میں چائے لے کر آئی تھی کافی ٹیبل پر رکھ تی ہے آپ پی لیں۔ میں کچن میں جا رہی ہوں ابھی بہت سے کم ملتانی ہیں ۔وہ کہہ کر یعنی لگی ۔۔۔
"یہی لے آو میری چائے "۔۔۔۔!!
آج نہ جانے کیوں طلب سی ہو رہی ہے ۔۔۔!!
شفا کو اس کے لہجے میں آج پہلی دفعہ رکھائی اور کھنچاؤ کا عنصر محسوس نہیں ہوا تھا ۔جو اس کی شخصیت کا حصہ تھ۔ا وہ بغیر کچھ کہے واپس کمرے میں چلی گئی تھی چائے لینےاور اسکو چائے کا کپ پکڑاکے واپس کام سمیٹنے جاچکی تھی۔۔۔۔
فریش ہوکروہ واشروم سے باہر نکلی تھی ۔کپ جوں کاتوں اسکے باس زمین پہ رکھادیکھ الجھی۔
" آپ کی چائے کب سے رکھے رکھے ٹھنڈی ہو رہی ہے۔ "
شفاء پورہ گھر سمیٹ کر جب دوبارہ کمرے میں آئیں اس وقت بھی حمزہ ہنوز ٹیرس میں ہی فرش پر بیٹھا تھا ۔۔۔
چائےبرف بن چکی تھی شفا نے اس کو ایک دفعہ پھر ٹوکا تھا ۔۔
ہونے دو برف مجھے فرق نہیں پڑتا۔۔۔!!
کیوں فرق نہیں پڑتا ؟؟؟
جب پینی نہیں تھی تو کیوں بنوائی ؟؟؟
وہ اس کے تاثرات دیکھے بغیر اپنی ہی دھن میں بولی چلے جا رہی تھی ۔۔
"میرا دل برف کی مانند سرد پڑ چکا ہے یہ تو پھر ٹھنڈی چائے ہے ۔"
وہ کپ میں بھری پڑی چائے کا کپ اور پرچ اٹھانے کے لئے ہاتھ بڑھارہی تھی جب اچانک حمزہ نے اسکا ہاتھ کلائی سے تھام کر اس کو دیکھتے ہوئے کہا ۔
میں دوبارہ گرم کر دیتی ہوں۔۔۔
وہ حمزہ کا لمس محسوس کر کے گر بڑائی تھی پورے وجود میں اس کے سنسنی سی دوڑ گئی تھی ۔۔
کیا کچھ پل مجھے ادھار دے سکتی ہو ؟؟؟
وہ اپنی گہری آنکھوں سے اس کی موتی جیسی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے بولا جہاں حیرتوں کا جہاں آباد تھا ۔۔
پل آدھار ۔؟؟؟
۔
وہ ناسمجھی سے اس کو دیکھتے ہوئے یقین و بے یقینی کی کیفیت میں تھی ۔
ادھر بیٹھ جاؤ کچھ دیر کے لئےمیری تنہائوں کی ساتھی بن جائو۔۔۔!!
وہ بھاری لہجے میں کہتا اس کو اپنے پاس ہی فرش پہ بٹھا چکا تھا۔۔۔
" طبیعت تو ٹھیک ہے نہ آپ کی ؟؟؟"
شفا کو شبہ سہ گزرا ۔۔۔
نہیں میں ٹھیک ہوں۔ ۔۔۔!!!
لہجہ اسکی زبان کا ساتھ دینے سے انکاری ہوا۔ آنکھوں نے بغاوت کرڈالی تھی۔
کہیں مجھ سے محبت تو نہیں کر بیٹھے انجانے میں؟؟؟
وہ اب سنبھل چکی تھی لہجہ شریر ہوا ۔
"میں اس جذبے کو فضولیات میں شمار کرتا ہوں "۔
گھمبیر لہجے میں کہا گیا ۔۔
سوچ لیں ایک دفعہ ۔۔۔!!!
"گر جو میں نےدھڑکنوں سے شہادت لیلی تو ہو سکتا ہے آپ کا خیال غلط ثابت ہوجائے ۔۔'
حمزہ کا دوستانہ رویہ دیکھ کر وہ ہمت کے کی بولی ۔۔
'میں خاردار راستوں پر چلنا نہیں چاہتا ۔۔"
پورے چاند کو دیکھ کر حمزہ نے ایک نظر اس دشمن جاں کو دیکھ کر کہا تھا اور پھر نہ جانے کیا ہوا تھا یخلقت کہ وہ اس سے نظریں چرا گیا ۔
"میری نظروں میں دیکھ کر یہی بات کہیں ورنہ لہجہ جو کہانی سنا رہا ہے کہیں میں دھوکہ نہ کھا جاؤ ۔۔"
وہ ٹھہر ٹھہر کے بولی تھی دل اداس سا ہو گیا تھا اس ستمگر کی سنگدلی اورکٹھور باتیں سن اور دیکھ کر ۔مگر پھر بھی دماغ نے کہا آج اس پتھر سے ایک دفعہ سر پھوڑ کے دیکھ ہی لیا جائے ۔۔
آر یا پار۔ ۔!!
"میں جھوٹ نہیں بولتا ۔۔"
سچ بھی آپ اس وقت نہیں کہہ رہے آپ کی آنکھیں تمام راز افشاں کر رہی ہیں ۔۔"وہ پراعتماد لہجے میں بولی۔ ۔
"میری آنکھوں میں صرف ویرانی ہے شفا ۔۔"
"صرف تنہائی باقی ہے اگر میری دھڑکنوں کو سن سکتی ہو تو!! تمہیں صرف اور صرف سنناٹے ہی سنائی دیں گے ۔جو میرے پورے وجود میں پھیل چکے ہیں ۔۔۔
"آنکھوں سے خواب روٹھ بیٹھے ہیں میری" ۔۔
"یہ سب آپ کے بٹھائے خودساختہ پہرے ہیں۔ ورنہ محبت تو اپنا آپ کب کا منوا چکی ہے"۔۔۔
وہ بضد ہوِئی۔ ۔
اتنے وثوق سے مت کہو میرےحال دل کی تمہیں کیا خبر ؟؟؟
وہ بولا۔ ۔
آپ کی دھڑکنیں سب چیخ چیخ کر پتہ دے رہی ہیں کہ محبت کا نشہ آپکو مدھوش کررہاہیے۔ ۔۔!!۔
اور تم کس کا نام سن رہی ہومیری ان دھڑکنوں کی سرگوشیوں میں ۔۔؟؟؟؟
وہ نہ جانے کیا جاننا چاہرہا تھا۔ ۔۔
"اپنا"۔۔۔۔۔!!
آپ کو مجھ سے محبت ہے ۔۔۔!!!!!
وہ حددرجہ پراعتماد تھی۔ ۔
ؓےتمہارا خود کے بارے میں کیا خیال ہے ۔۔
اگر خود محبت نہ ہو تو محبت کرنا عبث ہوتا ہے ۔۔
وہ اس کو دیکھ کر آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر نہ جانے کیا جاتا نہ چاہ رہا تھا ۔۔
کہیں تو اپنی سانسوں کو گواہ بنا لو یا پھر آخری دھڑکن کی گواہی طلب ہے ؟؟؟
وہ کہہ کر اٹھنے لگی تھی دل میں عجیب سی اداسی نے گھر کیا تھا ۔۔
مگر حمزہ نے اس کو یکبار پھر اٹھتا دیکھ کر ایک دفعہ پھر جھٹکے سے اس کو خود پہ گرا کر کریب کیا تھا خود سے اتنا کہ وہ حمزہ کی سانسوں کی تپش کو باآسانی محسوس کر سکتی تھی ۔اس کا تلفظ بگڑا تھا ۔دھڑکنیں یخلقت تیز ہوئی تھی ۔۔
جبکہ شفا کی اتنی قربت پہ حمزہ کی ایک ھارڈ بیٹ مس ہوئی۔ ۔
"محبت اگر ہو گی تو ہی تو سب کچھ اچھا لگے گا نا جب محبت غیر موجود ہو تو کچھ بھی بھلا نہیں لگتا ۔۔
وہ اس کو باور کرا رہا تھا مگر دوسری طرف سن ہی کون رہا تھا؟ ؟؟
شفا نے حمزہ کی قربت سے خائف ہوکر اپنی پلکیں جھکا لی تھی۔۔
وہ مبہوت رہے گیا اس کی اٹھتی گرتی پلکوں کی چلمب کو دیکھ کر۔ ۔
پلکوں کی جھالروں کو اسکی وہ یک ٹک دیوانہ وار دیکھتاچلا گیا کوئی جادو سا تھا جو حمزہ کو شفا سے باندھ گیا تھا ۔۔
کیا تم مجھ سے خوفزدہ ہو یا پھر اپنا آپ مجھےسپرد کرنے سے ڈر رہی ہو ؟؟؟
ان بند آنکھوں میں کیا چھپا یا ہے !!!
کیوں ان نین کٹوروں کو کھولنے سے انکاری ہو؟۔؟
وہ لمحوں میں خود کو بے بسی کی انتہاپہ محسوس کر رہی ہوں ۔۔وہ خائف سی ہو ئی تھی ۔۔
چوہدویں کی رات تھی حمزہ کو لگ رہا تھا جیسے شفا چاند سے پھوٹتی چاندنی میں نہآ گئی ہو۔
چہرہ چاندنی کی مانند دمک اٹھا تھا اس پہ تضاد رخساروں پہ گھلتی سرخیاں ۔۔
پھڑپھڑاتے ہوئے لب، لرزتی پلکیں اور تھرتھراتا سراپا ۔۔
عجیب سحر سا تھا ماحول میں جیسے فضا نے کوئی جادو ٹونا ان دونوں پہ کر دیا تھا اور سارے منظر کو اپنی لپیٹ میں لے کر جیسے وقت کے دھارے کو اپنی مٹھی میں جکڑ لیا تھا ۔۔
مجھے بہت سارے کام ہے۔۔۔!!!
وہ خود کو بہت مشکل سے اس سحر سے آزاد کرا
کر بولی تھی دھڑکنوں میں تلاطم برپا ہوا ۔
"کام تو مجھے بھی تم سے ہے اور بہت خاص اور اہم ہیں ۔۔"
وہ بھی اس کے ساتھ ہی اٹھ کھڑا ہوا تھا لہجے میں جذبات کا سمندر ٹھاٹھیں مارنے لگا۔ ۔۔
شفا کو بہت کچھ محسوس کراگیا تھا ۔۔
مم۔ ۔۔۔مجھے جانے دیں پلیز۔ ۔ ۔ !!!
کچھ دیر پہلے کی خوداعتمادی ہوا ہو چکی تھی۔۔۔
وہ کنفیوز ہورہی رہی تھی ۔حمزہ کے بولتی آنکھوں اور بہت کچھ جتاتے لہجے سے ۔۔۔
_____
مم۔۔۔۔ مجھ سے؟؟؟
کچھ دیر پہلے کی خود اعتمادی ہوا ہو چکی تھی وہ گھبرا ہی توگئی تھی ۔ حمزہ کی بولتی آنکھوں اور مہکتی قربت سے ۔۔
اس کمرے میں تمہارے علاوہ تو کوئی اور نہیں ہے نہ ؟؟
پھر بھی تمہاری معلومات میں اضافہ کیلئے بتادیتا ہوں کہ میں تم ہی سے مخاطب ہو ۔۔۔۔۔
اس لحاظ سے میرا مطلب واضح ہے کہ مجھے تمہاری ہی " ضرورت" ہے ۔۔
جذبات سے چور بھاری لہجے میں کہا گیا اورکمرے سے باہر نکلنے کے لئے ٹیرس سے بھاگتی شفا کے پیچھے وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا اس کا فرار کا ارادہ بھانپ کر تیزی سے کمرے کے دروازے تک پہنچا تھا۔۔۔۔۔ مبادا کہیں وہ دروازہ کھول کے کمرے سے چلی ہی نہ جاتی ۔۔
مجھے جانا ہے ۔۔۔
باہر ابھی بہت سے کام باقی ہے ۔۔۔
راستہ چھوڑیں میرا ۔۔۔۔۔۔
چہرہ لٹھے کی مانند سفید پڑ چکا تھا ۔آنکھوں میں سراسیمگی لیے وہ اپنا راستہ روکے چٹان جیسے مرد کے سامنے کوئی نازک سی نوخیز کلی ہی لگ رہی تھی ۔۔
راستے سے ہٹنے کا تو اب سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔۔وہ گہرے لہجے میں کہتا شفا کو بری طرح سے حواس باختہ کر گیا تھا ۔۔۔
وہ اسکے لوہ دیتے لہجے کو محسوس کرکے خود میں سمٹ سی گئی تھی۔۔۔۔۔
بوکھلا کے حمزہ کو کمرے کا دروازہ لاک کرتے دیکھا تھا ۔۔
نازک احمریں لب ایک دوسرے میں پیوست ہو کر رہ گئے تھے ۔۔جیسے آئندہ نہ بولنے کی قسم کھا بیٹھے ہو ں۔۔
کچھ دیر پہلے پہلے خود تم ہی نے مجھ سے اقرار مانگا تھا نا؟ ؟؟
وہ اس کی ہیر نی جیسی وحشت زدہ آنکھوں میں اپنی آنکھیں ڈالتا اپنے اور اس کے درمیان چند قدموں کا فاصلہ بھی مٹا چکا تھا ۔۔۔
میرے جذبوں کو اپنی محبت کی دھیمی آنچ سے تم ہی نے دہکایا تھا نہ ؟؟؟
وہ اس کا جھکا حیاء سے سرخ پڑھا چہرہ ۔۔۔۔اپنی انگشت شہادت کو اس کی تھوڑی پہ ٹکا کے اونچا کرکے بولا تھا ۔۔۔
"تو پھر اب یہ گریز اور ہچکچاہٹ کیوں ؟؟؟؟
میں آج سارے پردے گرا دینا چاہتا ہوں ۔۔۔!
میرا دل تمہارے وجود کو صندل کرنے کی خواہش کر بیٹھا ہے۔ ۔"
وہ الٹے قدموں پیچھے ہوتی شفا کے تھر تھر کانپتےحسین سراپہ کو دیکھتا دلکشی سے مسکرایا تھا ۔۔۔
یکایک حمزہ نے اس کی دونوں کلائیوں کو لے جاکر اسکی پشت پہ اپنے مضبوط ہاتھوں سے باندھا تھا ۔۔۔
شفا کے پورے وجود میں حمزہ کے دہکتے لمس نے ایک طوفان سہ برپا کردیا تھا ۔۔
حمزہ پلیز میں کسی جذباتی لمحے کی زد میں آکر اپنا نقصان نہیں کرنا چاہتی۔۔۔۔!!!
لہجے میں بے چارگی رقم تھی ۔۔۔۔
نقصان تو پہلی رات ھی تم اٹھا چکی ہو ۔۔۔۔۔!!
پھر اب نفع اور نقصان کیسا؟ ؟؟؟
گمبھیر اور بھاری لہجے میں باور کرایا گیا تھا ۔۔۔
ابھی وہ خود کو سنبھال بھی نہ سکی تھی۔۔ حمزہ کی بڑھتی ہوئی قربت اس کو نڈھال کئے دےر رہی تھی۔
مگر حمزہ نے یکلخت اس کی کلائیوں کو اپنی قید سےآزاد کیا تھا اور اس کے دونوں شانوں کے اوپر زور ڈال کے اس کو جہازی سائز بیڈ پہ گرا چھوڑا تھا ۔۔
یہ تھی نہ تمہاری خواہش ؟؟؟؟
لہجہ کسی بھی قسم کے طنز سے عاری تھا ۔۔بہت سادہ سے لہجے میں استفسار کیا گیا تھا ۔۔
نن۔۔۔۔نننن۔ ۔۔۔۔نہیں۔۔۔۔۔۔!!!!
میں بس آپ کے ساتھ زندگی کی آخری سانس تک رہنا چاہتی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔
وہ اکھڑتی سانسوں اور تیز تیز دھڑکتی دھڑکنوں کے درمیان بہت اٹک اٹک کے اپنا حال دل بیان کرپائی تھی ۔۔۔۔آنکھیں ہنوز جھکی ہوئی تھیں۔ ۔۔۔
جیسے حمزہ کی لوہ دیتی نظروں کا سامنا کرنے سے گریزاں ہو ں۔۔۔
اپنی محبت کا جواب آپ کے عشق کی صورت میں وصول کرنا چاہتی ہوں ۔۔۔؛؛؛
بے خیالی میں عجیب سی خواہش کر بیٹھی تھی اپنے ہی دل سے مگر اس دشمنی جاں کے سامنے چاہتے ہوئے بھی کہنے سے قاصر تھی ۔۔۔۔۔
کیا ہوا چپ کیوں ہو گئیں؟ ؟؟
کس سوچ میں گم ہو؟؟؟
حمزہ نے اپنی زیب تن کی ہوئی شرٹ اتار کے دور اچھال تھی اور اس پہ جھک کر ایسے دریافت کر رہا تھا جیسے وہ دنیا کا سب سے زیادہ محبت کرنے والا بہترین شوہر ۔۔
وہ اس کے دو پٹے سے ڈھکے چھپے وجود کو اپنے بائیں ہاتھ کی مدد سے دوپٹہ کھنچ کر اس بےزرر سے پردہ سے بھی آزاد کرا چکا تھا ۔۔۔۔۔۔
شفا نے حواس باختہ ہوکہ کچھ فاصلے پہ اچھالے گئے اپنے دوپٹے کو سٹپتا کر اٹھانا چاہا تھا مگر حمزہ نے اس کے قریب ہی بیڈ پر بیٹھ کر اس پہ جھکا تھا اور اس کی کوشش کو ناکام کر گیا تھا ۔۔
لبوں پہ مسکراہٹ اور آنکھوں میں معنی خیز چمک لیے وہ اس کی سہمی اور خوفزدہ کیفیت سے حد درجہ محضوض ہوا تھا ۔۔۔
کوئی اور وقت ہوتا تو وہ کسی بھپری ہوئی شیرنی کی طرح اس کے سامنے ڑٹ کر کھڑی ہو جاتی اور دو بدو مقابلے پر اتر آتی مگر اس وقت وہ حمزہ کی بانہوں کے حصار میں قید اس کے ہی رحم وکرم پہ تھی ۔۔۔۔
نن نہیں تو۔۔۔!!!!
کچھ بھی نہیں ۔۔۔۔!
وہ اٹک اٹک کر بڑی دیر بعد اس قابل ہوئی تھی کہ حمزہ کے چند منٹ پہلے والے کئے گئے سوال کا جواب دےسکتی ۔۔۔
حمزہ کی بڑھتی ہوئی جسارتیں اور اس کا دہکتا ہوا لمس شفاء کو مدہوش کر رہا تھا ۔۔۔۔
ت
و کیا وہ جیت گئی ہے؟؟؟؟
یا پھر جیت کے بھی ہار گئی ہے ؟؟؟؟
کیا حمزہ کو حاصل کرنے میں فتح اس کا مقدر ٹھہری تھی ؟؟؟؟
وہ سوچ رہی تھی مگر سمجھنے سے قاصر تھی ۔۔۔
وہ اس کی صراحی دار گردن پہ جھکا تھا اور اپنے لبوں سے کئی جسارتیں کرتا چلا گیا ۔۔۔
تم نے مجھے بہت تڑپا یا ۔۔۔
اتنا کہ میں خود کو بہت بےبس و لاچار محسوس کرنے لگا ہوں۔۔۔۔
تم سے اور تمہارے اس دلکش سراپہ سے مزید دوری میرے لئے ناممکنات میں سے ہے ۔۔۔
آج کی رات میں سب کچھ بھول جانا چاہتا ہوں ۔
تمہارے اور میرے درمیان موجود ہر پردہ گرا دینا چاہتا ہوں ۔۔۔
تمہاری وجود کی خوشبو اپنے اندر اتارکر اپنے وجود میں بسا لینا چاہتا ہوں اور اپنے وجود کی خوشبو سے تمہاری حسین سراپے کو مہکادینا میری ضد بن چکی ہے ۔۔۔۔!!!!!
وہ جسار تو پہ آمادہ مدھم مدھم سرگوشیاں کرتاجیسے شفا پہ سحر سہ پھونک رہا تھا ۔۔۔۔اس کو اپنے بس میں کر ان لمحات میں قید کرنا چاہتا تھا ۔۔
جیسے اس کی خواہش تھی۔ ۔ شفا کو بے بس کر کے اس کی تمام راہ فرار مسدود کردینا ۔۔۔۔
بہت انوکھا انداز تھا وارفتگی لوٹانے کا ۔۔۔
محبت جتاتا ،جذبات سے چور قرب کی پر حدت آنچ بخشتہ۔ ۔۔
ایک تو کمرے کی تاریکی عجب اسرار پھونک رہی تھی اس پہ ۔۔۔یا پھر شاید کوئی خاص منتر جنتر ۔۔۔۔
وہ سمجھنے سے قاصر تھی ۔۔
جانے کیا چاہتا تھا وہ اب اسے ؟؟؟؟
کیا واقعی وہ اس کو قبول کرچکا تھا دل سے ؟؟
یا پھر یہ بھی انتقام کا ایک حربہ تھا اس کے لئے ۔۔۔؟؟
جو بھی تھا وہ خود بھی ان محبت بھرے لمحوں کو قید کر لینا چاہتی تھی ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ۔۔۔۔!!!
پلیز حمزہ میں جھلس رہی ہو ۔۔
میری سانسیں تھم رہی ہیں۔۔
مجھے جانے دیں ۔۔۔۔!!!!
ششش۔ ۔۔۔۔!!!
اس کے لبوں پر انگشت شہادت کو رکھ کے اس کو چپ کرا گیا تھا ۔۔۔
میں محرم ہوں تمھارا ۔۔۔۔
مجھ سے یہ جھجھک تم پہ سوٹ نہیں کرتی ۔۔۔!!!!!
وہ اسکی دونو کلائیوں کو جھکڑکے اپنے مضبوط بھاری ہاتھوں سے تالا لگا گیا تھا ۔۔۔
شفا کے لئے تمام راہ فرار بند ہو چکی تھی ۔۔۔۔۔
پلکیں لرزاہٹ کا شکار ہوئی ۔۔۔
کٹاو دارہونٹ کپکپائے تھے۔۔۔۔
پورا وجود اس کا سر د پٰڑ چکا تھا۔۔۔۔۔
حمزہ نے وارفتگی لٹاتی نظروں سے لرزتی، سہمتی حیا سے چور اس دشمنی جان کو دیکھا تھا اور پھر آہستہ سے اس کی کمر کے گرد حصار باندھتے ہوئے چند انچ کا فاصلہ بھی مٹا دیا تھا ۔۔
اس کے تھرتھراتے سرد لبوں کو دلچسپی سے دیکھتے ہوئے اسکے کپکپاتے لبوں پہ اپنے دہکتے ہوئے انگارے کی مانند لب رکھ دئے تھے ۔۔۔۔
چاندنی رات تھی تاروں بھری ۔۔۔۔!؛؛؛
جبکہ چاند اس خوبصورت میلن پر مسکرا رہا تھا ۔۔۔
_____
دادی اسپتال سے گھر آ چکی تھیں۔
سب لوگ ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھے رات کے کھانے سے لطف اندوز ہوتے ہوئےساتھ ساتھ خوش گپیوں میں بھی مصروف تھے۔ خلاف معمول حماد بھی خوشگوار موڈ میں فجر سے ہلکی پھلکی گفتگو کررہے تھے ۔۔۔
بابا سائین مجھے حویلی جانا ہے ۔۔۔!!
بات چیت کے دوران یکایک فجر نے ہلکے پھلکے لہجے میں کہا تھا اور طائرانہ و جانچتی ہوئ نظر وہاں بیٹھے سبہی نفوسوں پہ ڈالی تھی ۔۔۔۔۔
بیٹا یہ ہی تو ہے ہویلی۔ ۔۔!!
غزل نے گڑبڑا کر کہا جبکہ حماد کے تاثرات میں ویرانگی سی گھر کر گئی تھی ۔۔
نہیں اماں جان مجھے آپ لوگوں کی آبائی حویلی جانا ہے ۔۔!!
بیٹا آپ سے کس نے کہا اس حویلی کا کہا؟؟؟
میرا مطلب ہے کس نے اس ویران حویلی کی بابت تمہیں بتایا ۔۔۔؟؟؟
وہ غمگین ہوئے جبکہ چہرہ تاریکی کی زد میں تھا ۔۔ لہجے میں کرب نمایاں تھا ۔
مجھے کون بتائے گا ؟؟
طنزیہ مسکراہٹ نے فجر کے چہرے احاطہ کیا کا۔ ۔۔
یہ تو وہ بات ہے جو میں ازل سے جانتی ہوں۔۔!!!
آنکھوں میں وہی خاص چمک ابھری تھی ۔دادی نے ٹھٹک کر فجر کے چہرے اور اس کی چمکتی آنکھوں کو دیکھا تھا۔۔۔
السلام علیکم ۔۔!!
یہ کیا آپ لوگوں نے میرے بغیر ہی کھانا شروع کردیا؟؟؟؟
لہجے میں مصنوعی خفگی تاری کی گئی تھی ۔
ابھی فجر مزید کچھ اور بھی کہتی جب ارمغان نے ڈائننگ ایریا میں آ کر سلام کیا تھا ۔فجر کی آنکھوں کی چمک ماند پڑچکی تھی ۔۔۔
وعلیکم السلام ۔۔۔!!
فجر نے چہکتے ہوئے جواب دیا تھا ار مغان کے سلام کرپہ ۔۔
وہ بالکل نارمل انداز میں ارمغان کو مسکرا کر اپنے برابر میں بیٹھنے کا اشارہ کرنے لگی ۔۔۔
ہماد اور غزل حیران تھے فجر کی کہی بات پہ مگر پھر یہ سوچ کے مطمئن ہو گئے تھے کہ شاید ارمغان نے ہی ذکر کیا ہوگا اس سے آبائی حویلی کا جبکہ دادی کی آنکھوں میں الجھن سی تھی فجر کولیکر۔ ۔۔
فجر ان کو عجب پراسرار سی لگی تھی اس وقت ۔۔۔۔
🌾🌾🌾
چلے نہ ہمت کر کے چھت پہ چلتے ہیں۔۔۔!!
رات کے ایک بجے کا وقت ہوچکا تھا جب فجر اس کے بازو پر سر رکھے لیٹی تھی اور انوکھی خواہش کر ڈالی تھی ۔۔۔
یار کبھی تم مجھے سونے نہیں دیتی ہو اور کبھی تمہاری یہ ننھی ننھی سی خواہشات ۔۔۔۔!!!
وہ اس کے چہرے پہ آئی شریر لٹوں کو کان کے پیچھے اڑستے ہوئے بولا تھا۔۔۔
آپ کی باتوں میں تضاد ہے۔۔۔۔!
وہ خفگی سے کہتی اس کے چوڑے سینے پہ مکا رسید کرکے بولی تھی۔۔
کیوں بھائی بیگم صاحبہ ایسا کیا کہہ دیا میں نے؟؟؟
وہ اس کی ستواں ناک میں پر وئی ہوئی بالی کو گھماتے ہوئے پر حدت لہجے میں پوچھ رہا تھا ۔۔۔
اتنے بھی معصوم نہیں ہے آپ۔۔۔!
میں خوب اچھی طرح سے جانتی ہوں کہ آپ کتنے پانی میں ہیں۔۔۔
خوب اچھی طرح سے سمجھ چکے ہیں آپ میری باتوں کا مطلب ہو ۔۔۔۔۔۔!!
فجرمنہ کھلا کر خفا خفا سے انداز میں کہہ کر اس سے دور ہونے کی تگ و دو کرنے لگی ۔۔۔۔
یار مجھے تمہارے اس تربوز جیسے منہ سے سننے کا شوق ھے نہ !!کیا کرو ؟؟؟یہ سب اس آوارہ دل کا پھیلایا ہوا کھڑا ک ہے۔ ۔۔!!
وہ اس کو خود سے قریب کر چکا تھا ایک دفعہ پھر اور لہجے میں مصنوعی بیچارگی سموئی گئی تھی ۔۔۔
چلئے نہ پلیز مانی مجھے چھت پے جانا ہے ۔ !!
فجر تمہارہ دماغ خراب ہو گیا ہےرات کے اس وقت مجھے چھت پہ لے کے جاوں گی ؟؟؟
ٹائم دیکھا ہے؟؟
2 بچنے والا ہے اور اب تو دوسرا پہر بھی شروع ہو گیا ہے۔۔۔!!
ارمغان شدید نیند میں تھا وہ کسی نہ کسی طریقے سے فجر کو اس وقت ٹالنا چاہتا تھا ۔۔۔
دیکھو آج چوہدویں کی رات ہے تم کیا کرو گی چھت پہ جاکر ؟؟؟
مجھے آج کی چاندنی سے نہائی ہوئی رات کو محسوس کرنا ہے چاند نی رات میں اور آپ ۔۔۔۔!!!
اففففف۔ ۔۔۔۔!!
کتنا رومینٹک ماحول ہو گا ۔۔۔
چہرے پہ چمک ابھری تھی وہ اپنی بات پر بضد تھی ۔۔
مانتا ہوں محبت اندھی ہوتی ہے مگر ابھی میں اتنا اندھا نہیں ہوا محبت میں کہ رات کے اس وقت اپنی نیند کی قربانی دیکر چھت پر جا کےتمہارے ساتھ مٹرگشت کرتا پھروں ۔۔۔!!
وہ اباسی لیتے ہوئے نرمی سے بولا تھا ۔۔۔
پھر دادی بھی منع کرتی ہیں اس وقت بلاوجہ چھت پہ جانے سے اور آج تو پھر پورے چاند کی رات ہے ۔۔۔۔۔!!
وہ سنجیدہ لہجے میں ڈرنے کی بھرپور ایکٹنگ کرتے ہوئے کہہ رہا تھا ۔۔
اور اگر واقعی آپ کے ساتھ آپ کے بیڈ پہ ایک روح ہو میرے روپ میں "تو "؟؟؟
"تو"پہ زور دے کے کہا گیا تھا جبکہ لہجہ پراسراریت لیے ہوئے تھا ۔۔۔
تو میں "آیت الکرسی "کا وردکروں گا اور اس چوڑیل کو بھگا دوں گا۔۔۔
وہ بڑے مزے سے کہتا ۔ اس کی طرف دیکھے بغیر کروٹ بدل چکا تھا اور منہ پہ تکیہ رکھ کے سونے کی تیاری مکمل کی گئی تھی ۔۔
فجر کچھ دیر تک ایک ہی زاویہ میں بیٹھی خونخوار نظروں سے اس کی پشت کو گھورتی رہی تھی ۔۔۔
جب کہ وہ تو اب گہری نیند کی وادیوں میں بھی قدم رکھ چکا تھا ۔مانی کے ہلکے ہلکے خراٹے کمرے میں گونج رہے تھے ۔جس کا مطلب واضح تھا کہ وہ واقعی خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہا ہے ۔۔۔
فجر میکانکی انداز میں اٹھی تھی اور کمرے کا دروازہ کھول کر کوریڈور سے گزرتی ہوئی چھت پہ جانے والی سیڑھیوں کی طرف بڑھ رہی تھی ۔۔
عجب سی مقناطیسیت تھی فضا میں اس وقت ۔۔جو پورے کوریڈور کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے تھی ۔۔۔
جیسے جیسے وہ قدم بڑھاتی ویسے ویسے تیز ہوا کے جھونکے کوریڈور میں سرایت کرنے لگے تھے ۔۔۔۔
کوریڈور سے آتی تیز ہوا کے جھونکوں کو محسوس کرکے ہمادصحاب جو کہ کوریڈور سے ملحق اپنے اسٹڈی روم میں تھے ۔
وہ اکثر رات کو نیند نہ آنے کی وجہ سے اسٹڈی روم میں آکر بیٹھ جایا کرتے اور داؤد کی پسندیدہ کتابوں میں سے ایک کتاب نکال کر کئی دفعہ پڑھی ہوئی کتاب کو بھی بڑی دلجمعی سے دوبارہ پڑھناشروع کردیتا کرتے تھے ۔۔
وہ کوریڈور سے آتی تیز موتیے کی خوشبو اوراعصاب کو جھنجوڑتی ہوئی ہوا کو محسوس کرکے اپنی اسٹڈی سے باہر نکل کے کوریڈور میں آئے تھے۔۔
اس خیال کے تحت شاید کسی ملازم سے غلطی ہوئ ہو اور کھڑکی کھلی چھوڑ دی ہو اس نے بے خیالی میں ۔۔۔
فجر۔۔۔۔۔؟؟؟؟
اس وقت۔۔۔۔۔؟؟؟
ہمادصحاب نے نہ سمجھی سے کوریڈور عبور کرتی فجر کو دیکھا تھا اور پھر ایک نظر کوریڈور میں لگی دیوار گیر گھڑی پہ ڈالی تھی۔۔۔۔۔
ٹن۔ ۔۔ٹن۔ ۔۔۔۔!!!
جوٹھیک دو بجنے کا پتہ دیتی اپنا مخصوص گھنٹہ بجا رہی تھی ۔۔۔
وہ کچھ پریشان سے ہو کر اس کے پیچھے چل دیے تھے ۔۔
یہ سوچ کر کہ کہیں کسی چیز کی ضرورت تو نہیں۔۔۔
کیونکہ فجرکو حویلی آئے آج چوتھا دن تھا۔ وہ کہاں اس وسیع وعریض حویلی کی بھول بھلیوں سے واقفیت رکھتی تھی ۔۔۔۔؟؟
حماد صاحب جیسے ہی کوریڈور کے آخری حصے پہ پہنچے تھے ۔۔۔
سامنے کا منظر دیکھ کر وہ اپنی جگہ جم سے گئے تھے ۔۔۔!!!
___
آنگوٹھےکو دوسرے ہاتھ میں سختی سے بھینچ کہ بولا تھا۔ کیونکہ کافی گہرا کٹ لگا تھا۔۔۔
کیا ہوا وہ جو بڑے مزے سے شیلف پہ چڑھی بیٹھی بے فکری سے پیر ہلا رہی تھی ۔یک لخت اس کو تکلیف میں دیکھ کر شیلف سے کو دی۔۔
کچھ نہیں معمولی سا کٹ لگا ہے۔۔
وہ لب بھینچ کے بولا ۔
یہ معمولی سا کاٹ ہے؟؟
اس کو آپ معمولی سا کہتے ہیں ؟؟؟
خون ٹپ ٹپ فرش پہ گر رہا تھا۔ وہ پریشانی سے پر لہجے میں گویا ہوئی ۔بے حواسی اس کے چہرے پہ رقم تھی ۔مصطفی اس کے ہاتھوں کی واضح لرزش کو محسوس کر سکتا تھا ۔انکھوں میں خوف وحراس کی تحریریں بہت واضح تھیں۔
یہ۔۔۔ یہ ۔۔۔؟؟؟
وہ کبھی اس کے ہاتھ کو دیکھتی تو کبھی سفید ماربل کے فرش پہ بہتے لہو کو ۔۔
مگر یہ کیا ۔۔؟؟!
چند ہی لمحوں میں وہ خود ہوش و خرد سے بیگانہ ہوئی اس کی بانہوں میں جھول گئی تھی ۔
او مائی گڈنیس۔۔۔!!!
مجھے مرہم لگانے چلی تھیں محترمہ اور خود ذرا سی چوٹ سے نکلتا لہو برداشت نہ کرسکی اور خود دماغ کے سیل کو معائوف کر کے ہوش و خرد سے بیگانہ ہوبیٹھی ۔۔
سرپھری لڑکی ۔۔۔!!!
وہ اس کو کچن سے اپنے بازوں میں بھرکر لاؤنج میں رکھے دبیزصوفے پہ لٹاتے ہوئے بڑبڑایا جبکہ
گھنی سیاہ تراشی ہوئی مونچھوں تلے لب بہت دلکشی سے مسکرائے تھے۔۔۔
"بہت بچپنا ہے تم میں"۔۔
نہ جانے کب بڑھی ہوگی ؟؟؟
مصطفی کہاں دل لگا بیٹھا ہےتو توبہ۔ ۔۔۔۔۔۔!!!
بہت پاپڑ بیلنے ہوں گے اس لڑکی کو بڑا کرنے اور عقل دلانے کے لئے ۔۔۔۔!!
مسکراہٹ ہنوز برقرار تھی وہ کھسیا کہ سر پہ ہاتھ پھیر کے رہ گیا ۔۔۔
سوہا کے صبیح چہرے کو اپنی نظروں کے حصار میں رکھے ہوئے وہ بے خود سہ اسی کو سوچے چلا گیا ۔۔۔
اب وہ ٹھنڈے پانی کے چھینٹے اس کے گلنار چہرے پہ چھڑکتا اس کو ہوش کی دنیا میں لانے کی تگ و دو کر رہا تھا ۔۔۔
مم۔ ۔مصطفٰی۔۔۔۔۔۔!!!!
وہ ہلکی ہلکی سی ہوش میں آ تےہوئے ٹوٹے پھوٹے لفظوں میں اسی کو پکار رہی تھی۔
چہرے پہ ابھی بھی مصطفی کی ذات کو لے کر فکر اور پریشانی کا عنصر موجود تھا جب کہ گھنیری شہد رنگ پلکیں اب ہلکی ہلکی لرزش کے ساتھ وا ہورہی تھیں۔ ۔۔۔
کتنا خوبصورت منظر تھا مصطفی کیلئے کہ کوئی اس کے لیے اس قدر فکر مند تھا ۔۔۔۔!!
اس کی تکلیف سوہا کی برداشت سے باہر ہوئی اور وہ خود ہوش و خرد سے بیگانہ ہو بیٹھی تھی۔۔
اک انوکھا سہ بہت خوبصورت احساس مصطفعی کو اندر تک راحت پخش گیاتھا۔
شکر اللہ کا کہ تمہیں ہوش تو آیا ۔۔۔!
وہ اس کےشفاف بے داغ چہرے پہ پانی کا چھڑکاؤ کرتے ہوئے گہری سانس بھر کے بولا۔ چہرے پہ یکایک اطمینان کے سائے پھیلے تھے ۔۔۔
اتنا نازک دل ہے تمہاراکہ ذرا سہ خون تک برداشت نہیں کرسکتی ہو ؟؟؟
ویسے تو بڑی آفت کی پرکالا بنی گھومتی ہو ۔ !!!!
وہ اس کے سر کو اپنے ایک ہاتھ سے تھوڑا اونچا اٹھا کے پانی کا گلاس اس کے احمریں لبوں سے لگاتا گھمبیر اور بھاری لہجے میں گویا تھا ۔۔۔
آ۔۔آپ۔۔۔۔۔!!
آپ ٹھیک تو ہے نا ؟؟؟
آپ کی چوٹ کیسی ہے ؟؟
اب تو خون نہیں نکل رہا نا؟ ؟؟
کئی سوالات کی بوچھاڑ ایک ہی ساتھ کی گئ ۔
وہ حواس باختہ سی لیٹے سے اٹھ بیٹھی تھی اور سسکتے ہوئےاس کے سینے سے جا لگی تھی ۔۔۔۔
ریلیکس سو ہا میں ٹھیک ہوں۔۔۔!!
وہ نا چاہتے ہوئے بھی کچھ جہجکتے ہوئے اس کی پشت کو سہلاکر دلاسہ دینے لگا۔ ۔۔
اس کے پر حدت لمس کو محسوس کرکے وہ یکدم جھینپ کہ اس سے فاصلے پہ ہوئی تھی ۔۔۔
خفت و حیاءسے اس کا چہرہ سرخ ہوا تھا۔
مصطفی بہت اچھی طرح سے سمجھ رہا تھا اس کے گریز کو۔۔۔
وہ نازک کمسن چھوٹی سی لڑکی کہاں اس جیسے کسرتی ڈیل ڈول کے مالک لحیم شحیم مرد کی آنچ دیتی قربت کوجھیل سکتی تھی۔۔۔!!!
وہ تو مصطفی کے آگے ایک بہت ہی نازک سی کانچ کی گڑیا کی مانند تھی جو زرہ برابر بھی بے احتیاطی سے چھونے سے ٹوٹ جاتی ۔۔۔!
وہ بیان کرنے سے قاصر تھا کہ وہ اس کیلئے کیا ہے۔ ۔
جو لفظوں میں بیاں ہونا ناممکن تھا ۔
"میں اب بالکل ٹھیک ہوں مگر تمہارا دل تو بالکل چڑیا جیسا ہے ۔۔۔"
وہ اس کے سر پہ ہلکی سی چپت لگاتا ماحول کو ہلکا پھلکا کرنے کی غرض سے اپنی عادت کے برخلاف اس کو چھیڑنے اور تنگ کرنے لگا ۔۔۔
کافی حد تک وہ سوہا کی خفت مٹانے میں کامیاب ہوچکا تھا۔ ۔۔
وہ اب انتہائی فکر مندی سے اس کے مضبوط و بھاری ہاتھ کو ٹٹولتے ہوئے زخم کی نوعیت کو کسے ماہر ڈاکٹر کی طرح جانچ رہی تھی ۔۔۔۔
اگر آپ ٹھیک ہیں تو لائیں میرے سامنے اپنی ہتھیلی پھیلائیں ۔۔۔!!!
معصومیت سے پر انداز میں خواہش ظاہر کی گئی تھی ۔مصطفی نے اس کے چہرے کو اپنی آنکھوں کے حصار میں لیا تھا ۔
نشیلی کانچ جیسی آنکھیں جن پہ شہد رنگ گھنیری پلکوں کی جھالر ،سفید میدے کی مانند چہرے پہ گھلتی ھوئی لہو رنگ سرخی ،گلابی پنکھڑی جیسے خمدار لب اور اس پہ تضاد ہونٹ کے نیچے ننہ مگر گہرا تل، ستواں چھوٹی سی سرخ ناک جو رونے کی وجہ سے مزید سرخ ہو چکی تھی ۔ دلکش تراشہ نازک و حسین سراپہ!! تمام تر حشر سامانیوں سے لبریزتھا ۔۔۔۔!!!
اور وہ خبر ۔۔۔!!
کافی دیر تک جب مصطفی نے اس کی بات پہ کوئی ردعمل نہ دیا تو خود سوہا نے انتہائی پریشانی اور فکرمندی سے اس کے مضبوط بھاری ہاتھ کو ٹٹول کر چوٹ کا مائنہ کرنے لگی ۔۔۔۔
اس کی ہر ہر انداز سے فکرمندی عیاں تھی ۔۔آنکھوں کے ڈورے سرخی لیے ہوئے تھے۔ جو اس بات کا غماز تھے کہ وہ ابھی بھی خود پہ بہت مشکل سے ضبط کے بندھ باندہ رھی ہے ورنہ اشکوں کو روکنا اس کے بس کی بات نہ رہی تھی ۔۔۔
جبکہ مصطفی بے خود اور بے بس سہ ہو کے اس کو تکے جارہا تھا ۔کتنی پریشان تھی وہ اس کے لیے کس قدر معصومیت اور فکر مندی تھی اس وقت اس کے چہرے پہ۔ ۔۔۔
ایں۔۔۔۔!!!
میں آپ سے بات کر رہی ہوں اور آپ ہیں کہ مجھے سن نہیں رہے۔ وہ اب خائف سی ہو کہ اس کو ڈبٹتے ہوئے بولی تھی بڑی بوڑھیوں کی طرح۔
چند ہی لمحوں میں وہ اس کا کرتا (جووہ خود زیب تن کی ہوئی تھی)دانتوں سے پھاڑ کہ دامن والے حصے سے ایک لمبی سی چندھی پھاڑ کر الگ کر چکی تھی ۔۔۔
اور اب بڑے اطمینان سے وہی چندھی سے بنائی گئی پٹی کو اس کی ہتھیلی پہ لپیٹ کہ انگلی پہ باندھ چکی تھی ۔۔۔
مصطفی حیرت اور بے یقینی سے اس کو تک رہا تھا ۔۔۔۔
میں نے یہ تو سنا تھا کہ ہیروئن نے اپنا دوپٹہ پھاڑ کے ہیرو کے زخم کی مرمت کی مگر یہ پہلی دفعہ دیکھ رہا ہو کے اپنا دامن وہ بھی ہیروں سے ادھار لیے گئے کرتے کا !!کتنے آرام سے شہید کر کے ہیرو کے ہی ہاتھ پہ ہی لپیٹ دیا ۔۔۔۔
وہ خود کو ہیرو اور اس کو ہیروئن کی تشبیہہ دیتے ہوئے ہلکے پھلکے انداز میں قہقہہ لگاتے ہوئے ہنسنے لگا ۔۔وہ بہت کم ہنستا تھا مگر سوہا نے شاید اس کو ہنسنا سکا دیا تھا ۔وہ لمحے بھر کو آ سکے ہنسی مذاق کرتے انداز کو دیکھتی رہی کتنا ڈیشنگ لگ رہا تھا وہ اس نئے لب و لہجے میں۔ ورنہ ہمیشہ چہرے پر کرختگی اور سختی ہی پائی جاتی تھی ۔۔۔۔
ُپلیز آپ اس وقت مذاق تو مت کریں میری وجہ سے آپ کا خوامخواہ میں ہاتھ زخمی ہو گیا۔ ۔
وہ خائف ہوکر گھبرائے ہوئے لہجے میں پشیمانی سے بولی ۔۔۔
مصطفی کا دل چاہا تھا کہ اس کو زور سے خود میں بھینچ لے اور کبھی بھی اپنے حساب سے نکلنے نہ دے ۔۔۔
ہاہ ۔۔۔۔۔۔۔مگر ۔۔۔۔۔ فی الحال ناممکن ۔۔۔!!
ٹھنڈی آہ بھر کر رہ گیا اور بےبس سا ہو کر اٹھ کھڑا ہوا ۔۔
ارے مصطفی بھائی کہاں جا رہی ہیں ؟؟؟
وہ دوستانہ لہجے میں اس کے جذبات سے بے خبر فکرمند لہجے میں پوچھ رہی تھی ۔
ناجانے کب اس "بھائی "کے دم چھلنے سے میری جان چھوٹے گی۔ ؟؟؟
دھیمے سےبڑبڑاھٹ ہوئ ،مسکراتے لب کلس کے سکڑے تھے۔
بھنویں اک دفعہ پھر تن گئیں تھیں ۔کچھ دیر پہلے والا خوشگوار موڈ دوبارہ کہیں دور جا سویا تھا ۔۔۔
تو واپس وہیں مصطفی بن چکا تھا ۔۔۔۔
وہ واپس سخت گیر اور حاکم مزاج بن بیٹھا تھا ۔ ۔۔۔!!
کہیں نہیں تمہیں بھوک لگی ہے نہ۔ ؟؟
میں ناشتہ لے کر آتا ہوں بنا کر تمہارے لِئے۔ ۔
وہ بغیر اس سے نظریں ملائے بھاری لہجے میں کہتا کچن کی طرف بڑھنے لگا ۔۔
نہیں آپ رہنے دیں میں بنا لیتی ہوں اور اب تو ویسے بھی دوپہر کا وقت ہو رہا ہے میں کھانا ہی بنا لوں گی دوپہر کے لیے ۔۔
وہ لاپروائی سے کہتی یہ بھول چکی تھی کہ مصطفی کے سامنے اس نے یہی ظاہر کیا ہے کہ وہ کچن کا کوئی کام نہیں جانتی ۔۔۔۔
مطلب ؟؟؟
وہ چونک کر پلٹا تھا تیوریاں چڑھآئے وہ اس سے استفسار کر رہا تھا۔ لہجے میں حیرت کے ساتھ ساتھ تیکھا پن بھی تھا۔ ۔
اوپسسسسس۔ ۔۔۔!!!
مارے گئے ۔۔۔!!!
وہ یکدم گڑبڑائی تھی چہرہ لٹھے کی مانند سفید پڑا تھا۔۔ جب کہ زبان دانتوں تلے د ب چکی تھی ۔۔۔
دھت تیری کی۔۔۔۔!!
" سوہا تو اپنے ہی کھودے گئے کھڈے میں خود گرنے کی تدابیر کر ڈالی ہے۔۔۔۔۔"
وہ بری طرح سٹپٹائی تھی۔ ۔
جب اوکھلی میں سر دے ہی دیا ہے تو اب پھر چوٹ سے کیسا ڈر ؟؟!
مصطفی کی خشمگیں آواز سوہا کو لرزا گئی
____
تم اندر چلو بیوقوفوں والی حرکت مت کرو ۔۔۔
نہیں عمر پلیز آپ مجھے کسی یتیم خانے چھوڑ آئیں۔ ۔۔۔
میں گھر میں داخل ہونے کی خود میں سکت پیدا نہیں کر پا رہی ۔۔۔۔
پاگلوں والی باتیں مت کرو قدم بڑھاؤ اندر چلو۔۔۔۔
وہ ہلکے ھلکے بول رہا تھا کہ کہیں کوئی اس وقت بہار نہ آجائے بیدار ہوکے۔
لائبہ کی اجڑی بکھری حالت اس کے ساتھ ہوئی زیادتی کا چیخ چیخ کر پتہ دے رہی تھی۔
وہ دونوں اس وقت گھر کے اندر کھلنے والے داخلی دروازے پر کھڑے تھے۔۔
رات کے دو بجے کا وقت تھا۔۔
وہ جان کر اس کو لے کر دیر سے گھر پہنچا تھا تاکہ گھر کے سبہی افراد اپنے اپنے کمروں میں جاچکے ہوں جب تک وہ دونوں گھر پہنچیں اور اب تو خیر سے خاصی دیر بھی ہو گئی تھی گھر کے سبہی افراد 12بجے تک سو جایا کرتے تھے اور جونہی بھی سو تھا وہ بھی اپنے کمرے میں بند ہو چکا ہوتا ۔۔۔
آئمہ کے کئی دفعہ آئے فون پر وہ کہہ چکا تھا کہ لائبہ کی دوست نے کھانے پر روک لیا تھا اور بارش ہونے کی وجہ سے آنے نہ دیا ۔۔۔
جیسے ہی موسم کچھ صاف ہوا وہ دونوں فوری گھر کے لئے نکلے ہیں ۔۔
وہ نہیں جانتا تھا کہ آئمہ مطمئن ہوئی یا نہیں مگر اس نے اپنی بات کہہ کے جھٹ فون بند کر دیا تھا اور دوسرے لمحے ہی گھر کے ایک وفادار ملازم کو فون کرکے کہہ دیا تھا کہ ساڑھے گیارہ یا پھر پونے بارہ کے قریب وہ جاکر رحمان صاحب کے بیڈروم میں کہہ دے کہ عمر صاحب لائبہ بی بی کو چھوڑ گئے ہیں اور وہ اپنے بیڈ روم میں آرام کر رہی ہیں اور لائبہ بی بی نے آپ سب سے صبح ملنے کا کہا ہےوہ بہت تھک چکیں ہیں اور سونا چاہتی ہیں۔ ۔ ۔۔۔
اور اگر میرے کے بارے میں کوئی پوچھے تو کہہ دینا کہ وہ واپس کہیں کام سے چلے گئے ہیں ۔۔۔۔
عمر نے لائبہ کو بچانے کے لیے تمام تر تدبیریں کر ڈالی تھی ۔۔۔
ملازم سے بھی اس نے اسطرح بات کی تھی کہ وہ بھی کسی قسم کے شک و شبہہ میں پڑھے بغیر اس کا کام کرنے کی ہامی بھر گیا تھا ۔۔۔
عمر نے اس سے اسطرح بات کی تھی کہ جیسے وہ لائبہ کو ابھی ابھی گھر چھوڑ کے گیا ہو اور خود واپس چلا گیا تھا کسی بہت ضروری کام سے۔ ۔
وہ گھر میں سب کو سوتا دیکھ کر کسی کو بھی جگانے کے بجائے اسکو فون کرکے بتاکر واپس جاچکا تھا۔ ۔۔
"عمر آپ میری بات سمجھئیےپلیز" ۔۔
یہ وہ سچ ہے جو میں دونوں ممانیوں کی جہاندیدہ نظروں سے زیادہ دیر تک نہیں چھپا سکتی "۔۔
وہ بے بسی سے بولی جبکہ آنکھیں مسلسل گریہ وزاری پہ تلی ہوئی تھی ۔۔۔
"کچھ بھی نہیں ہوگا میں ہوں نہ تمہارے ساتھ"۔۔۔
" میں تمہیں ہر قیمت پہ کسی رکھوالے کی طرح ہر مشکل سے بچا لوں گا" ۔۔
"
"ایک دفعہ دیر کر چکا ہوں مگر اب اپنی جان پہ کھیل جاؤں گا مگر کبھی تم تک پہنچنے میں دیری نہیں کروں گا ۔۔۔۔"
"یہ میرا تم سے وعدہ ہے "۔۔۔
وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے خود اعتمادی سے کہتا ۔اس کو اپنی وفاؤں کا یقین دلارہا تھا۔ یکدم لائبہ اس کو اپنی عمر سے کئی زیادہ بڑی لگی تھی ۔کتنی کم سن تھی وہ کل تک۔ ۔۔۔۔۔!!
" اور آج وقت نے اس کو یکایک ہی کتنا بڑھا کر چھوڑا تھا ۔۔"۔۔۔
"مجھ پہ بھروسہ کرو میں تمہارے مجرم کو تمہارے سامنے لاؤں گا۔ پھر تم جو سزا چاہو اس کو خود دینا کوئی تمہیں نہیں روکے گا "۔۔۔
وہ گھمبیر لہجے میں کہہ رہا تھا جبکہ اس شخص کو سوچتے ہو اس کی آنکھوں میں خون اتر آیا تھا جس کو اس نے دیکھا تک نہیں تھا ۔۔۔
لائبہ نے سسکتے ہوئے اس عظیم شخص کو دیکھا تو جو اتنا سب ہو جانے کے باوجود بھی اس کے ساتھ کسی مضبوط اونچی بڑی چٹان کی طرح اس کا ساتھ رہا تھا ۔۔۔
مجھ پہ بھروسہ کرتی ہو نہ؟؟؟
وہ اس کو شانوں سے تھام کر اس کے سامنے اپنی چوڑی ہتھیلی پھیلا کہ بولا تھا۔
آنکھیں منتظر تھیں۔ ۔۔۔۔وہ خود پر اس کا اعتماد چاھ رہا تھا۔ ۔۔۔
ا
لائبہ نے اپنا لرزتا کانپتا ہاتھ اس کے ہاتھ میں تھمایا ۔۔۔۔۔۔۔
چلو اندر اور بے فکر رہومیں تمہیں تمہارے کمرے تک بحفاظت پہنچاؤں گا۔ ۔۔!!!
"کسی کی نظر تک تمہاری پرچھائی تک کو دیکھنا تو دور کی بات چھو تک نہیں سکے گی ۔۔"
وہ سرگوشی میں کہتا گھر کا دروازہ کھول کر احتیاط سے لاؤنج عبور کرتا اوپر پہلی منزل پہ اسکو اسکے کمرے تک پہنچا چکا تھا ۔۔۔۔۔
وہ اس کے کمرے میں پہنچ کہ اچھی طرح اسکو پرسکون رہنے کی ہدایت کرکے پلٹا ہی تھا کہ۔ ۔
یہ سب کیا ھو رہا ہے ؟؟؟
کیا کر رہے ہو تم دونوں رات کے اس پہر تنہائی میں؟؟؟
صاحبزادہ تم کیوں لائبہ کے کمرے سے نکل رہے ہو اس وقت ؟؟؟
رحمان صاحب کی زناٹے دار آواز پورے گھر کے در و دیوار کو ہلا کے رکھ دی تھی ۔۔۔
کچھ دیر پہلے کوریڈور سے گزرتی فجر اب نہ جانے کہاں غائب ہو چکی تھی ؟؟؟
جبکہ اس کا سرخ دوپٹہ فرش پر پڑا تھا ۔۔
حماد صاحب ابھی حیرت کی زد میں تھے جب ان کی نظر دوپٹے سے تھوڑے فاصلے پہ فجر کی ٹوٹی لال ،سفید اور ہری چوڑیوں پہ پڑی تھی ۔۔
وہ ساکت و صامت سے رہ گئے تھے ۔۔
فجر۔۔۔۔!!
بیٹا کہاں ہو تم ؟؟؟؟
وہ اب باقاعدہ اس کو آواز یں دے رہے تھے۔۔
پریشانی ان کے لہجے سے عیاں تھی ۔۔
پورا وجود پسینے میں بری طرح نہا چکا تھا ۔۔۔
ابھی تو وہ ان کی آنکھوں کے سامنے سے گزری تھی پھر اچانک سے وہ کہاں غائب ہو سکتی ہے ؟؟
کیا ہوا سب خیریت تو ہے ؟؟؟
غزل بوکھلا کے اپنے کمرے سے بھاگتی ہوئی حماد تک پہنچی تھی انکی فجر کو دیتی آوازیں سن کے۔ ۔۔
جبکہ حماد صاحب اب چوڑیاں اور دوپٹہ پہ ایک ووران نظر ڈالتے آگے بڑھ کے چھت پہ جاتی سیڑھیوں کی طرف بڑھ چکے تھے اور مسلسل متلاشی نظروں سے ادھر ادھر دیکھتے فجر کو آواز دے رہے تھے ۔۔۔
نہیں کچھ نہیں تم ابھی اسی وقت مان کے کمرے میں جاؤ اور دیکھو فجر ٹھیک ہے نہ۔۔۔؛؛
وہ بد ہواسی کے عالم میں چہرے پہ ہاتھ پھیر کر بولے تھے ۔۔
لہجہ ہر حد درجہ وحشت زدہ تھا ۔۔۔
اچھا آپ روم میں چلیں میں جاتی ہوں دیکھتی ہوں۔۔۔۔۔۔!!
وہ زبردستی ان کا بازو پکڑ کر بولی تھی ۔۔۔
ایک منٹ میرے ساتھ چلو کوریڈور کی طرف ۔۔۔۔۔!
وہ غزل کو اپنے ساتھ کھینچتے ہوئے تیز قدم بڑھاتے کوریڈور میں واپس پہنچے تھے۔۔۔۔
یہ دیکھو یہ کیا ہے ؟؟؟؟
کیا کیا ہے ؟؟؟
کیا دیکھوں؟ ؟
یہاں تو کچھ بھی نہیں ہے ۔۔۔۔!!
غزل کو صحیح معنوں میں حماد صاحب کو دیکھ کر تشویش نے آن گھیرا تھا۔ کچھ تو ایسا تھا جو وہ اس وقت عیاں نہیں کر پا رہے تھے۔ ۔۔
ابھی تو یہیں تھا سب۔ ۔۔۔۔!
کیا سب کیا کہہ ر ہیں آپ کھل کر کہیں ۔۔
غزل نے چاروں طرف نظر دوڑائی مگر کہیں بھی کچھ ایسا نہ تھا جس کی وجہ سے حماد صاحب اس وقت اس قدر سراسیمہ نظر آ رہے تھے ۔۔۔
نہیں تم جاؤ ۔۔
کچھ نہیں بس ویسے ہی اور مان کے روم میں فجر کو دیکھو۔۔۔۔
وہ ٹھیک تو ہے ؟؟؟
لہجے میں پریشانی رقم تھی۔۔
فکرمندی تھی فجر کو لے کہ جبکہ غزل جلدی سے اپنے مزاجی خدا کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے بیٹے کی کمرے کا طرف رخ کر گئی تھی ۔۔۔
جی آنٹی سب خیریت ہے ؟!؟
وہ شدید نیند میں جھومتی سوتے سے اٹھ کر آئی تھی۔۔
ایک سے دو دفعہ ناککرنے کے بعد فجر نے دروازہ کھولا تھا۔۔۔
نہیں سب خیریت ہے وہ بس یہ پوچھنا تھا کہ تمہارے پاس سب کچھ ہے کسی کی چیز کی ضرورت تو نہیں ہے ۔۔۔۔؟؟
غزل گڑبڑاکر بولی تھی ۔کچھ بن بھی تو نہیں پڑ رہا تھا۔
کیا مقصد بیان کرتی وہ اس وقت آپ نے آنے کا ۔۔؟؟
نہیں اماں جان میرے پاس سب کچھ ہے۔۔
اگر آپ کو کوئی کام تھا تو کہیں پلیز۔ ۔!!
وہ اباسی لیتے ہوئے نیند بھگانے کی کوشش کرتے ہوئے کہہ رہی تھی۔۔۔
نہیں بیٹا بس تم سو جاؤ اور معذرت تمہیں پریشان کیا ۔۔
کوئی بات نہیں۔۔
وہ مسکرا کر بولی تھی ۔
اچھا چلو بیٹا اب تم بھی جاؤ آرام کرو شب بخیر۔۔۔
کیا ہوا فجر ٹھیک ہے ؟؟
فجر ٹھیک ٹھاک ہے ۔۔۔
اپنے کمرے میں ہے اور سو رہی ہے ۔۔۔
اب آپ بھی چلئے نہیں تو جاگتے رہنے سے صبح آپ کی طبیعت خراب ہو جائے گی۔۔۔۔
وہ اپنے کمرے میں ہے ۔۔۔
تو پھر وہ سب کیا تھا ۔۔؟؟؟؟
ٹوٹی چوڑیاں۔۔
لال دوپٹہ ۔۔۔!!!
وہ مائوف ہوتے دماغ کے ساتھ اپنے کمرے کی طرف بڑھتے ہوئے سوچ رہے تھے ۔۔
قدموں میں لڑکھڑاہٹ تھی ۔۔۔
🌹🌹
وہ جلدی جلدی کچن میں کھڑی حمزہ کے اٹھنے سے پہلے تمام کام نمٹاکے اس کے لئے ناشتہ بنا رہی تھی۔۔۔
تاکہ خود بھی اس کے ساتھ بیٹھ کر ناشتہ کر سکے ۔
دس بج چکےتھے مگر حمزہ ابھی تک اٹھا نہیں تھا ورنہ عموماً وہ 9 بجے تک اپنے بیڈ روم سے باہر آ جایا کرتا تھا ۔
جبکہ شفا صبح فجر کے وقت صحیح اٹھ کر جلدی جلدی سب کام نمٹانے لگتی تھی۔۔
وہ ناشتہ ٹیبل پہ لگا کہ کچن ٹاول سے اپنے دونوں ہاتھ خشک کرتی حمزہ کو جگانے بیڈروم کی طرف بڑھنے لگی تھی ۔۔
مگر حمزہ کو لاونج میں کیا آتا دیکھا کہ وہ خوشی سے کھل اٹھی تھی ۔۔۔
حمزہ نک سک سے تیار آفس جانے کے لئے بالکل ریڈی تھا۔۔
ارے آپ اٹھ گئے۔۔۔
میں تو آپ کو ہی اٹھانے آ رہی تھی۔۔
ناشتہ بالکل تیار ہے۔
وہ حمزہ کے اکھڑے اکھڑے چہرے اور تاثرات کو جانچے بغیر بول رہی تھی ۔۔۔
آئندہ تمہیں آج کے بعد یہ زحمت نہیں کرنی پڑے گی ۔۔
میں تمہیں ط۔!!!۔
کہتے کہتے نہ جانے کیوں رک سا گیا تھا ۔۔
بے رخی سے کہتا شفا کو اپنے سامنے سے ہٹا کے دھکا دینے والے انداز میں صوفہ پہ گرا تا آگے بڑھ گیا تھا ۔۔۔
کیا ہوا مجھ حمزہ کیوں خائف ہیں؟ ؟؟
مجھ سے کوئی غلطی ہو گئی ہےکیا؟ ؟؟
وہ حواس باختہ سی اس کے پیچھے بھاگی تھی ۔۔
______
کیا ہوا آپ کو حمزہ ؟؟؟
جو آپ اس طرح سے میرے ساتھ پیش آ رہے ہیں کیا مجھ سے کوئی غلطی سرزد ہو گئی ہے ؟؟؟
وہ بھاگتی ہوئی حمزہ تک پہنچی تھی۔
ابھی تو زندگی نے نئی کروٹ بدلی تھی ۔۔
چند گھنٹوں قبل ہی تو خوابوں نے حقیقت کا روپ دھارا تھا ۔۔
پھر اچانک یہ غم کے بادل کہاں سے آگئے ؟؟
بغیر کسی آندھی کی اطلاع کیے اس کا سب کچھ برباد کرنے کو ؟؟؟
وہ تو تہے دل سے اپنے اور ہمزہ کے بنائے گئے قدرت کی طرف سے اس خوبصورت رشتے کو دل و جان سے قبول کر بیٹھی تھی ۔۔۔
اس کو اپنا دل و جان سے من محرم تسلیم کرچکی تھی ۔۔
اپنا آپ اسکو خوشی خوشی سونپ گئی تھی۔ ۔
ہا ۔۔۔۔۔۔۔
تو پھر اچانک کیوں یہ کالی آندھی اس کا سب کچھ اپنے ساتھ اڑا کر لے جانے کے لئے آندھمکی؟؟؟
کتنی خوش تھی وہ چند لمحوں قبل ۔۔۔
اپنے وجود کو حمزہ کی قربت سے مہکتا محسوس کرتی۔ ۔۔۔۔
تو کیا اس کی خوشیوں کو اسی کی نظر کھا گئی ؟؟
صحیح معنوں میں خود کو سہاگن تو آج کی صبح ہی اس نے تسلیم کیا تھا۔۔۔۔
پھر اب کیوں اس سے اپنا نام چھیننا چاہتا تھا وہ ستمگر ۔۔۔!!!
وہ اسی وقت سن رہ گئی تھی جب حمزہ اس کو ہمیشہ کے لئے خود سے دور کرنے کے لئےآزادی کے تین لفظ کہنے کو تھا ۔۔
وہ اس وقت ہی خود کو جیتا جاگتا قبر میں اترتا محسوس کر چکی تھی ۔۔
دور ہو جاؤ شفا مجھ سے۔۔۔!!
میں فیصلہ کر چکا ہوں اور میرے فیصلے میں ردوبدل کی اب کوئی گنجائش نہیں نکلتی ۔۔۔۔
وہ کٹھور بنا سنگ دلی سے کہہ رہا تھا ۔جبکہ لہجہ ہر قسم کے جذبات سے عاری تھا۔۔۔
نظر یں کچھ اور ہی داستان سنا رہی تھیں۔ ۔
شفا سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ آنکھوں کی زبان کو سچ مانے یا پھر زبان سے نکلے جان لیوا تیروں کو حقیقت جان کر اپ نے برباد ہونے کا یقین کر سوگ منائے ماتم کرے ۔۔
ہم کو ستم عزیز ۔۔!
ستم گر کو ہم عزیز ۔۔!!
تم نے مجھے کسی ٹشو پیپر کی طرح استعمال کیا رات بھر ۔۔۔!!
بقول تمہارے میں تمہاری ضرورت ہوں۔۔
تو کیا تمہاری ضرورت پوری ہو گی محض ایک ہی رات میں؟؟
بھر گیا تمہارا دل مجھ سے ؟؟؟
اگر عورت کےجسم کی طلب تھی یا پھر اپنے منہ زور ہوتے جزبات کو لگام نہیں ڈال پارہے تو تم جاکر کسی کوٹھے پہ طوائف کے وجود سے بھی اپنی ضرورت کو پورا کرسکتے تھی۔ ۔۔۔
پوری ہوجاتی ضرورت ۔۔۔!!!
وہ اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے بے خوفی سے کہتی ہاتھ مار کے صوفہ کے پاس رکھا گلدان توڑ چکی تھی۔
طوائف کے وجود سے کھیلنا اور اپنی روتیں کوٹھوں پہ رنگین کرنا بیوی ہونے کے باوجود تمہارے باپ کی فطرت ہے۔
میرا شوق نہیں۔ ۔۔۔!!!
وہ باور کرارہا تھا۔ کتنی سفاکی تھی اسکے لہجے میں۔ ۔۔۔!!
تمہارا باپ۔ ۔۔
تمہارا باپ۔ ۔۔۔۔۔۔!!
بس کرو یہ جملہ بار بارکہنا ۔۔۔
تم نے کونسا بہت اچھا کام سرانجام دیا ہے آخر کر ہی دیا صابت کہ میرے باپ کے ہی بھائی کا لہو تمہاری رگوں میں دوڑ رہا ہے۔ ۔۔!!
ٹھپہ لگا کہ تم نے اس بات کا ثبوت پیش کردیا ہے کہ تم ہو آخر میرے باپ کے ہی بھتیجے۔ ۔۔!!
شفاء اپنی آنکھوں میں ویرانی لیے ہذیانی انداز میں چیختی زاروقطار رو رہی تھی ۔۔۔
میرے وجود کی "ضرورت "سے پہلے تم میرے لئے صرف اور صرف تمہارے باپ سے پورا کیا گیا انتقام ہو ۔۔
تمہارے ذریعے مجھے اپنا انتقام لینا تھا جو کچھ میری ماں کے ساتھ گزری تھی۔۔ اب تمہارے باپ کو پتہ چلے گا جب تم لٹی پھٹی اپنے باپ کے گھر پہنچوں گی ۔تب تمہارے باپ کو بیٹی کے دکھ کا اندازہ ہوگا ۔۔
ہوگیا تمہارا انتقام پورا ۔۔؟؟؟
ویسے سوچ ہے تمہاری یہ کہ میں اپنے باپ کے در پہ جاونگی ۔۔۔
موت کو گلے تو لگاسکتی ہوں مگر اپنے ماں کی آنکھوں کا غرور اور فخر نہیں چھین سکتی۔ ۔۔
موت کا وقت مقرر ہے سب کا ۔جانا تو تمہیں اپنے باپ کی دہلیز پہ ہی پڑے گا ۔اسکے علاوہ کوئی ٹھکانہ بھی تو نہیں ہے تمہارے باس۔ ۔۔۔۔!!
وہ شاید خود کو بہلارہا تھا۔ ۔
خدا کی زمین بہت کشادہ ہے تمہیں فکر مند ہونے ضرورت نہیں۔ ۔
آور بہت کہہ چکے ہو تم اپنی۔۔
اب زدامیری بھی سنو ۔۔
جو میرے باپ نے بڑی ماں کے ساتھ کیا اس کے لیے میرا باپ ان سے معافی بھی مانگ چکا ہے ۔
اور وہ انہیں تہہ دل سے بخوشی معاف بھی کر چکی ہیں ۔
تو کیا ایک معافی سے میری ماں کے ساتھ تمام کئے گئے مظالم کا مداوا ہو جائے گا ؟؟
آنکھوں میں کرب لیے وہ اس کے سامنے سراپا سوال تھا ۔۔۔
وہ پل بھر کو خاموش رہی ۔
کچھ سوالوں کے جاب وقت دیتا ہے۔ ۔
اور اس سوال کا بھی تمہارے جواب وقت ہی دیگا۔ ۔۔
ٹھیک ہے ہوگیا نا تمہارا انتقام پورا اب؟ ؟؟
وہ اپنے بالوں کو مٹھیوں میں جکڑ تے ہوئے بے بس اور تڑپتی غم سے چور لہجے میں بولی ۔۔۔
واقعی حمزہ اگر تم اپنے نام کے اصل معنی جانتے تو کبھی بھی ایک عورت کو اپنے انتقام کی بھہنٹ نہ چڑھاتے۔۔
تم تو وہ مرد ہو جو اپنے نام تک کا پاس نہ رکھ سکا
۔۔۔وہ خاموش رہے کر جانا نہیں چاہتی تھی۔ اپنے ساتھ کئے گئے عظیم ستم کو اس ہرجائی کو احساس دلا کر ہی وہ اسکی زندگی سے دور ہونا چاہتی تھی۔ ۔۔
میں ڈائیورس پیپر تیار کروا رہا ہوں ۔۔
اگلے دو چار دن میں تمہیں مل جائیں گے ۔
پھر تم آزاد ہو جس طرح چاہو اپنی زندگی گزارنا ۔۔
وہ سفا کی سے کہتا اس کی حیثیت ٹکے کی کر گیا تھا ۔
کیا بات ہے واہ بہت شاطر دماغ کے حامل شخص ہو۔ ۔۔۔
وہ چاہ کر بھی اس ستمگر سے اب بھی نفرت نہیں کر پا رہی تھی ۔
دل کو اب بھی ایک مو ہوم سی امید باقی تھی کہ شاید اس ستمگر کو وہ عزیز ہوجائے ۔۔۔!!
اپنا حق وصول کر کے تم نے مجھے چھوڑ دیا بہت اچھا انتقام لیا ہے ویسے تم نے میرے باپ سے ۔۔۔
آپ نے اپنا انصاف کر لیا مسٹر حمزہ جلال ٹھیک ہے مگر میں اپنا انصاف اپنے اللہ پر چھوڑتی ہوں۔۔۔
میں کسی بھی قسم کا انصاف تو کیا فیصلہ کرنے تک کی قابل نہیں ہوں کیونکہ میں اللہ پہ پورا ایمان رکھتی ہوں کہ وہ مجھے بہتر انصاف دلائے گا ۔۔
"یا اللہ پاک میں تو اس شخص کو معاف کر رہی ہوں مگر تو بہتر انصاف کرنے والا ہے ۔۔"
وہ فرش پہ بیٹھتی دھپ سے کعبہ شریف کی طرف منہ کرے اپنی جھولی پہلا کہ اس کل کائنات کے مالک سے ہم کلام ہوئی تھی ۔
آنکھوں سے اشک روا تھے ۔
لہجہ درد لیے ہوئے تھا جبکہ دل ۔۔۔
ظالم دل اب بھی صرف ایک دعا کر رہا تھا کہ۔۔
کاش وہ اس کو نہ چھوڑے ۔۔۔
اسکے نام کے ساتھ اپنا نام نہ ہٹائے مگر وہ ہرجائی کہاں اسکے دکھ اور فریاد کو سنتا؟ ؟؟
خوش تو تم بہت ہوگے نہ آج کیونکہ تمہارا آج بہت بڑا مقصد جو پورا ہوا ہے۔
تمہاری کم ضرف زہنیت کے مطابق میں اپنا سب کچھ لٹا کر واپس اپنے باپ کی دہلیز پہ قدم رکھوں گی ۔؟۔
مگر تم یہ مت بولنا جس کے وجود کے ساتھ تم نےسارہ وقت کھیلا ۔ اپنی رات کورنگین بنایا اورجس کے وجود سے ہی تم نے اپنے وجود کو راحت بخشی ۔وہ کوئی اور نہیں بلکہ تمہاری بیوی ہی ہے ۔۔
وہ لبوں پہ قفل چڑھائے اس سر پھری بپھری ہوئی نازک سی لڑکی کو دیکھ رہا تھا ۔۔
کس قدر حوصلہ اور ہمت تھی اس میں کہ وہ اب بھی اپنا سب کچھ گواہ دینے کے باوجود بھی اس کو معاف کر چکی تھی ۔۔
کتنا بڑا ظرف تھا اس کا ۔۔
مجھے بدلے کی آگ میں لپیٹ کر خاکستر کر کے تمہاری وجود میں جمی ہوئی برف پگلی ہے نہ ؟؟
وہ اب وہ بہت مشکل سے اپنے قدموں پر کھڑی ہوئی تھی ۔
میں پیپر بنوا رہا ہوں پہلے تم سائن کر دینا پھر میں کردوں گا اپنا۔۔۔
وہ اسکی بات کو سن کے باوجود بھی ان سنا کرگیا
یہ شوق بھی پورا کرلیں۔ ۔۔
میں آپ کو روکو میں نہیں ۔۔!!
بلکہ۔ اب تو میری خود کی بھی یہی خاوہش ہے۔ ۔۔
وہ کہہ کر رکی نہیں تھی اور حمزہ کو تنہا کر اس کے گھر کی دہلیز ہمیشہ کیلئے پار کر گئی تھی ۔۔۔
_______
ابو میں تو بس۔۔۔۔۔!!!
وہ صفائی دینے کو آگے بڑھا تھا جبکہ شور کی آواز سن کر آئمہ اور سمیرا بھی آن پہنچی تھی ۔۔
دونوں ہی حیران و پریشان صورتحال کو جانچنے کی کوشش کر رہی تھیں ۔۔۔
"خبردار جو ایک لفظ بھی اپنی غلیظ زبان سے ادا کیا تو۔۔۔۔۔۔"
رحمان صاحب غصے سے بے قابو ہوئے عمر کے چہرے پہ زور دار تھپڑ رسید کر گئے تھے جبکہ دکھ بدحال ہوتی لائبہ یہ سب صورتحال دیکھ کر مزید حواس باختہ ہوئی اس کی طرف بڑھتی آئمہ کے گلے سے جا لگی تھی اور بغیر کچھ کہے بس زاروں قطار اس کے سینے سے لگی اشک بھار ہی تھی ۔۔۔
"کیا ہوا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟"
"لائبہ کچھ تو بتاؤ میری بچی۔ ۔۔۔۔"
تمہاری یہ حالت کیسے ہوئی ہے ؟؟؟
سمیرا اپنی شال اتار کر لائبہ کے تن پہ پھیلاتے ہوئے سراسیمگی سے بولی تھی ۔۔
لائبہ کے پھٹے پھٹے کپڑے اس اجڑی بکھری حالت۔۔۔۔۔۔۔
ویران آنکھیں جن سے خواب نوچ کر چھین لیے ہوں۔۔۔۔
بے بس لوگ بہت کچھ کہنے خواہش کے باوجود بھی لوہے کے تار سے جیسے سی دیے گئے تھے ۔۔۔
اور پھر رات کی اس تاریکی میں عمر کا لائبہ کے کمرے سے نکلنا ۔ بن کہے بہت کچھ عیاں کر رہا تھا۔ ایک بہت بڑے طوفان کی آمد کا اعلان کرتا چیخ چیخ کرطوفان سے ہونے والی تباہی کا پتہ دے رہا تھا ۔
سمیرا چاہ کر بھی خود کو کچھ برا سوچنے سے باز نہیں رکھ پا رہی تھیں۔اس کا دل اپنے لختے جگر کو قصور وار ماننے پر آمادہ ہی نہ تھا ۔۔
وہ تینوں دہل کر اپنی جگہ پر ساکت رہ گئی تھیں رحمان صاحب کے جوان جہان اولاد پہ ہاتھ اٹھانے کی وجہ سے ۔۔۔
لائبہ کے رونے میں مزید شدت آ گئی تھی وہ فیصلہ کرچکی تھی کہ عمر کے کردار کے اوپر کسی بھی قسم کے گندگی کے چھینٹے اپنی وجہ سے نہیں آنے دے گی اور ابھی اسی وقت سب کو سچ بتا دیں گی۔۔۔۔
سنادیگی اپنے ساتھ ہوئےتازہ تازہ ظلم داستان ۔۔۔!!!
لائبا تم بتاؤ یہ سب کچھ کیا ہے؟؟
کیوں یہ ناہنجار اس وقت تمہارے کمرے میں تھا؟ ؟؟
کیا کر رہا تھا یہ اسوقت؟؟
اب انکا ر خ بے بسی کی تصویر بنی اپنی لٹی پٹی بہانجی کی طرف ہوا تھا ۔لائبہ کو رحمان صاحب کے لہجے میں چٹانوں کی سی سختی محسوس ہوئی تھی۔ جبکہ آنکھیں آگ برسا رہی تھیں۔ جس کی شدت سے اس کا پورا وجود جل کر بھسم ہونے کو تھا ۔۔۔
"مم میں بتاتی ہوں آپ کو سب کچھ سچ سچ ۔۔"
وہ اٹک اٹک کے غم سے چور ہوئے لہجے میں سسک کہ گویا ہوئی تھی۔
کس طرح وھ اب اپنے بڑوں کو خود کے ساتھ ہوئی درندگی کی داستان سناتی ۔۔؟؟؟؟
کن لفظوں کا چناو کرتی ۔۔۔۔۔۔؟؟؟
لائبہ کا بے ساختہ دل ہوا کہ زمین پھٹے اور وہ اس میں سما جائے ۔
یا پھر موت کا فرشتہ اسی وقت اس کی روح قبض کر کے اس کو اس ذلت بھری زندگی سے رہائی دلاں دے ۔۔۔۔۔۔
ہا۔۔۔۔۔۔۔۔!!
مگر قسمت تھی کہ ابھی مزید امتحان لینے کے درپہ تھی ۔۔۔
"ایک منٹ لائبہ میں بتاؤں گا سب کچھ سب کو ۔۔۔۔۔۔"
"میں بتاتا ہوں آپ سب کو حقیقت کیا ہے ۔۔۔۔۔۔"
عمر سخت لہجے میں کہتا۔ ۔۔۔ لائبہ کو دیکھ کر گویا۔۔
وہ اسکو کچھ بھی کہنے سےباز رکھنآ چاہتا تھا اور پھر ایک نظر اپنے ہتھے سے اکھڑے باپ کو دیکھا تھا جو اس وقت قطعاً کسی کو بھی معمولی سی رعایت دینے کے بھی موڈ میں نہ تھا ۔۔
مم۔ ۔۔۔۔۔ماموں عمر بے ۔ق۔ ۔۔۔!!!
میں لائبہ سے نکاح کرنا چاہتا ہوں جلدازجلد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"
وہ لائبہ کے کچھ بولنے سے پہلے سخت لہجے میں کہتا اس کو چپ کرا گیا تھا اور سارا الزام خود پہ ڈال گیا ۔۔
وہ ہرگز بھی لائبہ کے کردار یا پھر اس کی عزت پر کیچڑ اچھالنے کا متمنی نہیں تھا ۔۔
وہ وعدہ کر چکا تھا لائبہ کی عزت وعصمت کی حفاظت کا خود سے بھی اور لائبہ سے بھی۔
اس وقت وہ خود موت کو تو گلے سے لگانے کوتیار تھا مگر لائبہ کو تنہا چھوڑنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا ۔۔۔۔۔۔وہ بھی اس مشکل ترین وقت میں ۔۔۔
اپنی ذات کو ہی اپنے گھر والوں کے سامنے مشکوک ٹھہرانا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بے قصور ھوتے ھوئے بھی قصوروار کرار دینا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بہت ہی ظرف کی بات ہوتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور یہ بڑا ظرف ہر ایک میں بےشک ناپید ہے ۔۔۔۔۔۔۔!!!
زندگی میں کوئی خوشی کوئی جذبہ مستقل نہیں ہوتا۔۔۔۔۔۔۔ ان کےپوشیدہ پاؤں ہوتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ہمارا سلوک اور رویہ دیکھ کہ کبھی یہ دور چلے آ جاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔تو کبھی ذرا سی محبت دینے سے یہ کھنچےچلے آتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔!!!
بس انسان کو ہر حال میں ثابت قدم اور انصاف پسندی کا دامن پکڑے رہنے کی اشد ضرورت ہوتی ہے ۔۔۔!!!
بس اسی کٹھن کشمکش میں کوئی آباد ہوجاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو کوئی برباد ہو جاتا ہے۔۔!!!
لائبہ نے وحشت زدہ سی نظر اس مہربان پہ ڈالی تھی جو ہر طرح سے اس کی عزت پہ آنچ نہ آنے کی بھرپور کوششوں میں تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کسی محافظ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کسی مضبوط رکھوالے کی طرح ۔۔۔۔!!
وہ ہر صورت اس کا دامن سیاہی کے نہ مٹنے والے داغ سے محفوظ رکھنا چاہتا تھا ۔۔۔!!!
وہ واقعی ایک مہرباں تھا۔۔۔۔۔ جو اس کی زندگی سنوارنے کے لئے خود کو برباد کرنے کے درپہ تھا ۔۔۔۔!!
کیا تھا اب لائبہ کے پاس ؟؟؟؟
کچھ بھی تو نہ تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!
کیا دے سکتی تھی وہ عمر کو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟
سوائے کھوکلے وجود اور زخمی روح کے ۔۔۔۔ !!!!
وہ خالی و ہاتھ تہی دامن تھی۔ ۔۔۔!
بنجر زمین پہ بھی تھا کبھی پھول کھلا کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کے باوجود بھی کہ وہ اپنا سب کچھ لٹا بیٹھی ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔ہار چکی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ !!!!
اسکی عزت کا جنازہ ایک جسم کاپجاری ،ہوس پرست شخص نکال گیا ہے۔ ۔ ۔ ۔۔
سب کچھ جانتے بوجھتے بھی وہ ڈٹا ہوا تھا اسکے لئے۔ ۔۔۔۔۔!!
کتنی صفائی سے وہ لائبہ کو ہر الزام سے بری کروا کہ خود مجرم نہ ہوتے ہوئے بھی قصوروار ٹھہرا گیا تھا ۔۔۔۔
کیا تھا وہ شخص کیا کوئی فرشتہ ؟؟؟؟
یا پھر انسانیت کی جیتی جاگتی مثال ۔۔۔۔!!!
لائبہ آنکھوں میں نمی لیے بھیگی پلکو ں سے بس اس فرشتہ صفت شخص کو تکے جا رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مگر ابھی وہ یہ سمجھنے سے قاصر تھی کہ کیا اس مطلبی دنیا میں واقعی کوئی اس قدر نیک فطرت ہو سکتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟
درندوں اور گدھ سے بھری پڑی اس دنیا کے بیچ میں ۔۔۔!!!
"ٹھیک ہے آئمہ اور سمیرا آپ لوگ تیاری کریں ان دونوں کا نکاح آج صبح فجر کے بعد ہی کر دیا جائے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔"
رحمان صاحب آنکھوں میں شدید اشتعال لیے حکم صادر کر چکے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لائبہ نے بوکھلا کر آئمہ اور سمیرا کو دیکھا تھا جن کی آنکھوں میں بھی حیرانی کے ساتھ ساتھ پریشانی رقم تھی ۔۔۔
"مگر بغیر لائبہ کے ماں باپ کی موجودگی کےکیسے ممکن ہے نکاح۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟
ائمہ نے کانپتے لہجے میں دریافت کیا تھا ورنہ رحمان صاحب کے غصے کے آگے تو وہ بولنے کی سکت ہی نہیں پیدا کر پا رہی تھی خود میں ۔۔۔!!!
جو تمہارے صاحبزادے کرچکے ہیں میری بھانجی کے ساتھ اس کے بعد اب میں اپنی بہن کو زمانے بھر کے سامنے رسوا نہیں کرنا چاہتا ۔۔۔۔۔۔۔!
تمہارے بیٹے نے تو میرے سر میں اس اس عمر میں خاک ڈالنے کی کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی ۔۔۔!
"برخوردار ویسے تو تم نے مجھے کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں چھوڑا ہے مگر مجھے میری بہن اور اسکی امانت بہت عزیز ہے ۔۔۔۔۔۔
"اور آپ دونوں خواتین اس بات کو میرا حکم جان کر جلد از جلد نکاح کی تیاری مکمل کرئیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ باقی رہی لائبہ کے ماں باپ کی بات تو وہ میرا مسئلہ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"
"اور میں اپنے مسائل بہت بہتر انداز میں حل کرنا جانتا ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ "
وہ ایک کہ قہر برسات نظر عمر پہ ڈالتے تنفن کرتے جا چکے تھے ۔ !
🍀🍀🍀
ناشتے کی ٹیبل پہ گھر کے سبہی افراد موجود تھے سوائے فجر کے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بیٹا فجر کہاں ہے۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
" وہ اٹھی نہیں ابھی تک ۔۔۔۔۔۔۔"
حماد صاحب نے چائے کا کب لبوں سے لگاتے ہوئے گھونٹ بھر کہ استفسار کیا۔ ۔۔۔۔۔ لہجے کو سرسری بنانے کی حد درجہ کوشش کی تھی ۔۔۔۔۔۔
"جی بابا سائیں وہ سو رہی ہے رات شاید دیر سے سوئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس لئے ابھی تک جاگی نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"
پراٹھا چائے کے ساتھ کھاتے ہوئے ارمغان نے تفصیل سے جواب دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"دیر سے سوئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟؟"
حماد صاحب ارمغان کا کہا جملہ زیر لب بڑبڑایا تھا۔ دل میں مزید کی ابہام نے جگہ بنائی۔۔۔۔
ابھی وہ مزید کچھ اور کہنے کو تھے مگر اپنی ماں کو بیٹے سے ہم کلام ہوتے دیکھ خاموشی اختیار کر گئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔"
"ارے بیٹا مجھے ذرا فجر بیٹی کے والد صاحب کے گھر کا ایڈریس تو دیتے جانا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں شگن کے تحائف ان کو بھجوانا چاہتی ہوں ۔۔۔۔۔
دادی نے جلدی سے کہا !! مبادا کہیں وہ بھول ہی نہ جائیں اور ارمغان آفس کے لیے روانہ نہ ہو جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!
ان کے لہجے میں محبت ہی محبت تھی فجر کے لئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ اپنے دل و جان سے عزیز پوتے کو محبت پاش نظروں سے دیکھتے ہوئے بولیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
" شادی اتنی جلدبازی میں ہوئی کہ میں کچھ کر ہی نہ سکی اک ارمان تک پورا نہ ہوا میرا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کتنے ارمان تھے تیری شادی کو لے کر کے میرے دل میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر تو ہے کہ اکیلا ہی دولہا بن کر نکاح پڑھوا کہ بہو کو بھی گھر لے آیا ۔ ۔
وہ خفگی۔ سے بولی تھیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔
اپنے ریت و رواج کو بھولنا ان کی عادات میں سے نہ تھا ۔۔
"چلو پھر ایسا کرتے ہیں کہ آپ اور غزل ان کو شگن کے تحائف بھی دے آئیں اور ساتھ ساتھ جو ہے آپ دونوں جا کر انکو پرسوں ارمغان اور فجر کے ولیمے کی بھی دعوت دے کر آئیں خود ۔۔۔۔۔
پورا پروگرام ترتیب دے کر حماد صاحب نے روبدار انداز میں حکم جاری کیا تھا ۔۔۔۔۔۔!!!
غزل کو دیکھتے ہوئے ان کی آنکھوں میں ایک نرم وگدا ز تاصر پیدا ہوا کرتا تھا ۔۔۔
"ٹھیک ہے بابا سائیں جیسا آپ کا حکم اور دادو میں ڈرائیور کو سمجھا دوں گا ایڈریس ۔۔۔۔۔۔ جب آپ نے اور اماں جان نے جانا ہو تو وہ آپ کو بآسانی پہنچا دے گا وہاں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ "
"بابا سائیں آج میری غفور سنس کے ساتھ میٹنگ ہے کچھ ہی دیر میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے حوالے سے میں آپ سے کچھ اہم نکات پہ تبادلہ خیال کرنا چاہتا ہوں ۔۔۔۔۔
اب وہ دونوں باپ بیٹے خالصتاً کاروباری گفتگو میں مشغول ہوچکے تھے ۔جب کہ دونوں ساس و بہو جلدی جلدی ناشتے سے فارغ ہونے کے بعد فجر کے گھر لے جانے والے شگن کے تحائف کی تیاری میں جت گئیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔!!!!
🍁🍁🍁
تم نے مجھ سے جھوٹ بولا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟
وہ آنکھوں میں شدید برہمی لیے لمبے لمبے ڈگ بھرتا اس تک پہنچا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
مم۔ ۔۔۔۔میں نے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟
"ما۔ ۔مم۔ ۔۔۔میں نے تت ۔۔۔۔۔تو۔ ۔۔بب۔ ۔۔۔۔۔بس مزاق کک۔ ۔۔۔کیا تھا۔ ۔۔"
سوہا کی تو گویا سٹی گم ہو چکی تھی مصطفی کے خطرناک حدتک خشمگین تیوروں کو دیکھ کر۔ ۔۔
وہ اٹک اٹک کے بڑی مشکل سے تھوک نگل کر بول پائی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔اور ایک لمحہ کی بھی تاخیر کیے بغیر جلدی سے صوفہ کے اوپر چڑھ کر کھڑی ہو گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔ ساتھ ہی اپنے بچاؤ کا ہتھیار بھی جھٹ سے ہاتھ میں اٹھایا ۔۔
وہ کشن ہاتھ میں لئے بڑے مزے سے مصطفی کے ساتھ صحیح معنوں میں دو دو ہاتھ کرنے کے لئے تیار ہو چکی تھی ۔۔۔۔۔۔
شاندار تیاری کے ساتھ ۔۔۔
"سوہا یہ کیابچوں والی حرکت ہے نیچے اترو۔ ۔۔۔۔"
"تو آپ بڑوں والی حرکتیں کر لیجئے نہ میرے پیارے مصطفی بھائی ۔۔"
وہ بڑے مزے سے جان بوجھ کر "بھائی" پہ زور دیتی اپنی گول گول آنکھیوں کوپٹپٹا کر بغیر اس کے روب میں آئے بولی تھی ۔۔۔۔۔۔۔جبکہ تھوڑا سا جھک کہ صوفے پر رکھا دوسرا کشن بھی جلدی سے اٹھایا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !!!
"کشن نہ ہو گئے سیف گارڈ کی پروٹیکٹنگ شیلڈ ہوگئے ۔۔۔۔۔۔۔۔رکھو ان کو نیچے اپنا آپ تو سنبھال لو پہلے بڑی آئیں مجھ سے مقابلہ کرنے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"
"ہونہہ۔ ۔۔۔۔۔"۔۔۔۔۔
جلال میں آ کر ہنکارہ بھرا گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"جانے دیں تھوڑی ہوا آنے دیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"
وہ کیا ہے نہ باہر اتنی ڈھنڈ ہونے کے باوجود بھی ریسٹ ہاؤس کے اندر کا موسم 50 ڈگری سے تجاوز کرنے کی وجہ سے مجھے گھبراہٹ ہو رہی ہے بہت ہی بری طرح دم گھٹ رہا ہے ۔۔۔۔۔ہائےمیرا تو سانس بند ہونے کو ہے اتنی گھٹن ہو گئی ہے یکدم سے ۔۔۔۔۔۔۔ میرے اللہ رحم کر مجھ معصوم کنواری دوشیزہ پہ ابھی تو میری شادی بھی نہیں ہوئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"
لہجے میں حد درجہ بیچارگی سموئی گئ۔ ۔۔۔۔۔۔
وہ آتش فشاں بنے مصطفی پہ چوٹ کرتے ہوئے بولی یہ سوچے سمجھے بغیر کے آخری جملہ نادانستگی میں کیا کہہ گئی ھے ۔۔۔۔۔۔۔!!!!
"سوچ سمجھ کے بولا کرو میرے سامنے ۔۔۔۔۔۔ نہیں تو صحیح طریقے سے بتاؤں گا کہ دم گھٹنا کسے کہتے ہیں اور رہی بات بڑی بڑی باتیں اور حرکتیں کرنے کی تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وقت انے دو ذرا ۔۔۔۔۔۔اتنی بڑی بڑی باتیں اور حرکات کر کے دکھاؤں گا کہ تمہاری سوچ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تھوڑا انتظار کر لو بس ۔۔۔۔اور الٹی گنتی بھی شروع کردو اب سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ "
وہ کاٹ دار لہجے میں کہتا ہاتھ بھر کے فاصلے پر پھرنکی کی طرح ادھر سے ادھر کودتی سوہا کو نیچے اتارنے کے لیے ایک قدم بڑھا کر صوفے سے صرف دو قدم کے فاصلے پر جا کھڑا ہوا تھا ۔۔۔
"نن ۔۔۔نہیں ایسےتو میں آپ کے ہاتھ آنے والوں میں سے نہیں ۔۔۔۔۔۔۔ پہلے ڈرانا بند کریں مجھے۔۔۔۔"
"نہیں تو انارکلی خود کو دیوار میں چنوا دے گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"
وہ انارکلی کے انداز میں اسٹائل مارتی ماتھے پہ ہاتھ کی پشت ٹکا کر ایک ادا سے بولی تھی ۔۔۔
"او یو۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"
تمہارے منہ سے ایسی باتیں اچھی نہیں لگتیں تم بھلا کوئی ڈرنے والی شہہ ہو کسی سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
وہ کاٹ کھانے والے لہجے میں گویا ہوا تھا ۔۔صحیح معنوں میں وہ اس کی اول جلول حرکتوں سے شدید عاجز آ چکا تھا ۔۔۔
""شیر اگر سامنے آ کےدھاڑے گا تو اس سے بھی میں ڈرنے کی نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔مگر آپ۔۔۔۔۔۔۔ آپ سے توروح قبض کرنے کو آئی ملک الموت بھی گھبرا جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔"
وہ اب نہ چاہتے ہوئے بھی سوہا پہ سختی کرنے پر مجبور تھا ۔۔
"خبردار جو مجھ تک پہنچنے یا مجھے چھونے کی کوشش کی تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں کود کر اپنی جان دے دوں گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"
وہ ہاتھ میں پکڑے کشن میں سے ایک اس کے اوپر اچھالتے ہوئے مانو خود کا دفاع کرنے کی کوشش کرنے لگی ۔۔ ۔۔۔۔۔سوہاکا اچھالا گیا کشن سیدھا مصطفی کے منہ پہ آکے لگا تھا ۔۔۔۔۔۔۔اور مصطفی کے غصے کو مزید تیلی دکھا گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مصطفی نے آؤ دیکھا نہ تاؤ اور ہاتھ میں پکڑ کے اس کشن کو اپنے اندر کی پوری طاقت سرف کردیوار پر دے مارا ۔۔۔۔۔
۔وہ صحیح معنوں میں آتش فشاں بنا اس چھٹانک بھر کی لڑکی پہ پھٹنے کو تیار تھا ۔۔۔۔
"سوہا آخری دفعہ کہہ رہا ہوں میرے سامنے زیادہ افلاطون بن نے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔تمہارے ان ٹچ پعیاں قسم کے ہتھیاروں سے میرا کچھ بھی بگڑنے والا نہیں ہے۔۔۔۔ ۔ انہیں اپنے پاس ہی رکھو۔ ۔۔۔۔۔ جن باربی ڈولز سے تم کھیلتی ہو اپنی ان کو سلادینا ان پہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"
وہ شدید زچ ہو کہ اس کو تھیکے چتونوں سے گھورتے ہوئے وارننگ دینے لگا ۔۔
بولتے رہو ۔۔۔
بس بولتے رہو ۔۔۔
بولو ۔۔۔بولو۔۔۔۔ بولو ۔۔۔۔بس کیا کرو تم ؟؟
بولو بولو بولو؟؟؟
وہ بڑے مزے سے صوفے پر اپنے ہاتھ کی مٹھی سے مائیک بنا کر ایک اوٹ پٹانگ قسم کا خودساختہ گانا بنا کہ گنگنانے لگی۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ آج پورا پورا مصطفی کے صبر کا امتحان لینے در پہ تلی ہوئی تھی ۔۔۔
تو تم اس طرح باز نہیں آؤں گی ؟؟؟؟
وہ لہجے میں حد درجہ رکھائ سموکے بولا تھا ۔۔۔
آنکھیں شدید اشتعال سے سرخ ہو رہی تھی ۔۔۔
"چین سے تو میں بھی آپ کو جینے نہیں دوں گی ۔۔۔"
"جب تک میں آپ کے ساتھ ادھر ہو رات کو دن اور دن کو رات نہ بنا دیا تو میرا نام میں خود ہی بد ل دونگی ۔۔۔۔۔۔"
"نہ آپ کو انگلی انگلیوں پہ نچایا تو میرا نام بھی سوہا رحمان نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔"
وہ اس کو بے خیالی میں دیکھتے ہوئے دل ہی دل میں سوچتی زیرلب مسکرائی تھی ۔۔۔۔۔۔
مصطفی نے اس کو خاموش اور خود کو خوامخواہ تکتا دیکھ اور وہ بھی مسکراتے ہوئے۔۔۔۔۔۔
مصطفی کے تو گویا تن بدن میں آگ لگ گئی تھی ۔۔۔
اونگی نیچے بھی آؤ نگی ۔۔۔۔۔۔۔پہلے بتائیں اب تو مجھ سے شادی کر نے کا ارادہ کینسل ہے نا ؟؟؟
وہ اس کے خود کو کھینچنے کے لئے بڑھائے ہوئے ہاتھ پر تالی مار کہ۔۔۔۔۔ ایک آنکھ کو میچ کت شرارت سے بولی ۔۔۔۔۔۔۔
اور پھر اپنے دونوں ہاتھوں کو جوڑ کر کراس کی شکل میں کرتی۔ ۔۔۔۔۔۔ بستی سی کی نمائش کی گئی تھی۔۔۔
کینسل۔ ۔۔۔۔۔
یہ تو تمہاری بھول ہے ۔۔۔۔اب تو اور پختہ ہوگیا ہی میرا ارادہ کیونکہ صرف میں ہی سدھار سکتا ہوں تم جیسی پھاپھا کٹنی کو ۔۔"
او ویری سیڈ ۔۔۔۔۔۔۔بھول ہے آپ کی سوہا کو سدھا رنا مشکل ہی نہیں بلکہ ۔۔۔۔
میرے لئے چٹکیوں کاکام ہے ۔۔۔میں اگر چاہو تو تمہیں ابھی اسی وقت لمحوں میں زیر کرسکتاہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔"اسکی بات وہ بیچ میں سے اچک کر بولا تھا ۔۔۔
۔۔اور کہتے کہ ساتھ ہی چھپاک سے اس کی کہی بات پہ ہیں اس خود کو پڑی سوہا اور اپنے درمیان کا ہاتھ بھر کا فاصلہ مٹا گیا ۔
سوہانے گڑبڑا کہ جلدی سے ہاتھ میں موجود اپنا دوسرا ہتھیار مصطفی سے فائٹ کے لئے بچایا گیا آخری ہتھیار بھی اب اپنے بچاؤ کے لئے استعمال کیا تھا ۔۔
وہ اپنے اور مصطفی کے درمیانی فاصلے میں بڑی تیزی سے کشن کو حائل کر گئی تھی ۔۔
مصطفی نے اس کے بے ضرر سے ہتھیار کو چھین کر ہوا میں اچھال دیا ۔۔آنکھوں میں کسی بھی قسم کی نرمی کا عنصر مفقود تھا ۔۔
اس کی اوٹ پٹانگ حرکتوں نے اس کا دماغ بھنوٹ کر چھوڑا تھا۔
ہاتھ بڑھا کر اس نے سوہا کو ایک ہی جست میں نیچے اتارا تھا صوفہ سے ۔۔۔۔۔
اور پھر اسی سنگل صوفے پہ ایک ہاتھ سے دھکا دے کر دوبارہ اس کو اسی گرا کہ وہ خود سوہا پہ جھکا تھا ۔
اس طرح کہ صوفے کے دونوں کونوں پر ہاتھ رکھ کر وہ سوہا کے فرار کی تمام راہیں بند کر گیا تھا ۔۔
"یہ صرف تم ہو جس کی میں یہ سب بدتمیزیاں خندہ پیشانی سے برداشت کر رہا ہوں ۔۔۔۔اگر کوئی اور ہوتا تو اب تک اس کا دماغ میں کب کاٹھکا نے بھی لگا چکا ہوتا ۔۔۔مجھے مت مجبور کرو کہ میں تم سے عاجز ہو کہ تم پر سختی کرو اور ایک بات اور اپنے اس پھپوند لگے دماغ میں بٹھا لو کہ شادی تو تمہاری مجھ سے ہی ہوگی ۔۔۔۔اس لئے بہتر ہے جلد از جلد اپنے دماغ کو میک اپ کرو میں کراچی پہنچتے ہی جواب ہاں میں لینے آوں گا ۔۔۔ابھی سے خود کو اس بات پر امادہ کرلو اور آئندہ کبھی مجھ سے جھوٹ مت بولنا۔ ۔۔۔۔۔۔۔ مجھے جھوٹ سے سخت نفرت ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"میں چور کومعاف کر سکتا ہوں مگر جھوٹے کو نہیں ۔۔۔۔۔۔۔"
وہ پھٹی پھٹی آنکھوں اور تھمی ہوئی دل کی دھڑکن کے ساتھ خود پہ جھکے مصطفی کی گرم گرم پر حدت سانسوں کو محسوس کر سکتی تھی ۔۔
مگر نظریں اٹھا کر اس وقت موجود مصطفی کے چہرے کے قہر برساتے تاثرات کو دیکھنے کی خود میں سکت نہیں رکھتی تھی ۔۔۔۔
جبکہ مصطفی اپنی بات کہہ کر اس کے چہرے کو فوکس کیے اب اس کے تاثرات جانچنے کی کوشش کر رہا تھا کہ آیا کس قدر اس کےسخت لہجے اور باتوں کا اس پر کالا کے اوپر اثر ہوا ہے ۔۔۔۔
"اٹھو اب یہ میرے سامنے فضول قسم کی ڈرنے ڈرانے کی ایکٹنگ بند کرو اور جا کہ کھانا بنائو ۔۔۔۔
نہیں تو یہ تو تمہیں پتہ چل ہی گیا ہوگا کہ میں پیار کی زبان بولنا بھی جانتا ہوں اور دوسری کئی زبانیں بھی مجھے بیک وقت بولی آتی ہیں ۔۔۔"
وہ کہ کہہ کر پیچھے ہٹ چکا تھا ۔۔۔۔۔ سوہا کا دلکش چہرہ اس کو اپنے حصار میں قید کرنے کو تھا ۔۔۔۔۔
______
لائبہ کو کچھ ہوش نہ تھا کہ۔۔۔۔۔ کیا ہوا ؟؟کیسے ہوا ۔۔؟؟
وہ شدید اذیت کا شکار تھی۔
ہوش تو اس کو جب آیا تھا جب وہ لائبہ عمر بنا دی گئی تھی ۔۔۔۔
یہ کیسی شادی تھی؟؟
جس میں کوئی براتی تک نہیں تھا اور نہ ہی کوئی سجاوٹ۔۔۔۔۔
نہ ہی سجی سنوری دلہن ۔۔۔
ہاتھوں و پیروں کو پیا کے نام کی سرخ حنا تک
نہ لگی تھی۔۔۔
کسی سکھی شادی کی گیت نہ گائے تھے ۔۔۔
کسی نے دلہن کو ابٹن نہ لگایا تھا۔ ۔۔۔
وہ ایسی لڑکی تھی جو بھلے چاند رات پہ صبح کے چھ بھی بچ جائیں وہ ہاتھ پہ مہندی لگوا کر ہی گھر واپس آتی تھی۔۔۔۔۔
مہندی سے اس کو جنون کی حد تک عشق تھا ۔۔۔
اکثر جب ماں اس کو ہر وقت مہندی لگا تا دیکھتی تو دو ٹوک دیا کرتی تھی ۔۔
ماں کے کہنے پر وہ جھنجھلا کے کہا کرتی تھی مہندی اور میرے بیچ میں آپ نہ آئیں ۔۔۔مہندی کی خوشبو مجھے اپنی طرف کھینچتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کے ہاتھوں پہ کم و بیش ہی ایسا ہوا کرتا تھا کہ مہندی نہ لگی ہو ۔۔ورنہ ہر وقت اس کے ہاتھوں پہ مہندی اپنے رنگ کی خوبصورتی اور ہاتھوں کی دودھیا رنگت کی وجہ سے خوب جچا کرتی ۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک لڑکی اپنی شادی کے حوالے سے کیا کچھ خواب نہیں دیکھتی۔۔۔۔۔
کیا کیا نہیں سوچتی ؟؟؟
وہ بھی توایک نازک سی لڑکی تھی ۔۔۔
کیا اس نے کوئی خواب نہیں سجائے تھے ؟؟
اپنی زندگی کے اس اہم ترین دن کے لئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!
کیسے ایک ہوس پرست و جسم کے بھوکے شخص نے اس کی آنکھوں سے سب خواب ننوچ ڈالے تھے ۔۔۔۔
مگر وہ اب صبر شکر کرنا سیکھ گئی تھی،۔۔۔۔۔
وقت میں اس کو محض ایک ہی دن میں بہت کچھ سیکھا دیا تھا ۔۔۔
سمیرا نے اس کو سہارا دے کر اٹھایا تھا عمر کے بیڈروم میں لے جانے کے لئے۔۔۔۔
رحمان صاحب کے اشارے پہ جو اس کے ماں باپ کو نا جانے کیا کہہ کر اس نکاح کے بارے میں پتا کر مطمئن کر رہے تھے۔۔۔۔
لائبہ کو بس اتنا پتہ تھا کہ اس کے ماموں نے اس کے اور عمر کے کردار پر کوئی بھی حرف نہیں آنے دیا تھا ۔۔
نہ جانے کیا کیا بہانے گھڑے تھے ؟؟؟؟
کیا کیا دلیلیں پیش کی تھی ۔۔۔۔۔۔!!
معلوم نہیں مجبور تاً کن کن جھوٹ کا سہارا لیا تھا ۔۔۔۔۔؟؟؟
جب جا کے اس کی ماں باپ کچھ مطمئن ہوئے تھے ۔۔۔۔۔
جائو بیٹا نئی زندگی کی شروعات خوشیوں سے کرنا ۔۔۔
جو ہو گیا اس کو ایک برا خواب سمجھ کر بھول جاؤ۔۔۔۔
خوش رہو آباد رہو ۔۔۔
میری نیک تمنائیں تمہارے ساتھ ہیں ۔۔۔
ائمہ نے اس کے سر پر شفقت بھرا ہاتھ پھیر کہ دعائیں دی تھی ۔۔
لائبہ نے بغیر کوئی تاثر دئے خاموشی سے اٹھ کر سمیرا کے ساتھ ساتھ قدم بڑھانا شروع کر دئیے ۔۔
اس وقت صبح کے آٹھ بجنے کو تھے۔۔۔۔
کیا کوئی دلہن اس وقت بھی رخصت ہوئی ہے کبھی ؟؟؟
اس نے تو اپنی زندگی میں کبھی بھی کسی لڑکی کو اتنی صبح پیادیس سدھارتے نہیں دیکھا تھا ۔۔۔
لائبہ کے دماغ میں کئی زہریلی سوچیں مستقل ڈیرہ جمائے ہوئے تھے ۔۔وہ گم سم سی بس عمر کے کمرے کی طرف بڑھ رہی تھی ۔۔۔۔۔
وہ ایک بھائی تھا محبت کرنے والا بھائی جو اپنی بہنوں پر جان نچھاور کرتا تھا۔۔۔
اس نے کبھی بھی نہیں سوچا تھا کہ زندگی ایسا رخ بھی اختیار کر سکتی تھی ۔۔
جب اسکو اپنی دونوں بہنوں کی شراکت کے بغیر ہی نئی زندگی کا آغاز کرنا پڑگیا تھا ۔۔۔
سوہا کے لیے وہ پریشان تھا کیونکہ وہ مری میں پھنسی ہوئی تھی لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے مگر شفا کو ناچاہتے ہوئے بھی نکاح کے وقت نہ لا سکا تھا۔۔۔۔
جانتا تھا کہ اس وقت رحمان صاحب کا غصہ سوا نیزے پہ ہے۔۔۔۔ اگر ایسے میں حمزہ کوئی بھی سخت بات کہہ جاتا تو معاملات مزید خراب ہونے کے درپے ہو جاتے۔۔۔
اور پھر جو صورتحال تھی اُس وقت ۔۔۔۔۔
اس کو یہی مناسب لگا کہ جلدازجلد نکاح طے پا جائے تاکہ وہ لائبہ کو ایک مضبوط سہارا دے سکے ۔۔
مزید اس سے اب صبر نہ ہوا تھااور وہ اس کو لینے کے لئے آن پہنچا تھا ۔۔۔عمر کا نا جانے کیوں اچانک شفا کو لے کر دل بہت شدید پریشان ہوا تھا ۔۔۔
وہ مزید اب اس کو دیکھے بغیر سکون سے رہ نہیں سکتا تھا ۔۔۔اس کی گاڑی نکال کر دن کے بارہ بجے کے قریب شفا سے ملنے اور اس کو لینے کے لئے آن پہنچا تھا ۔۔۔
حمزہ کے تلخ اور رکھائی آمیز رویے کی اس کو رتی برابر بھی پرواہ نہ تھی ۔۔۔۔۔
وہ صرف اپنی معصوم بہن کا خیال کر کے آیا تھا مگر جیسے ہی وہ کار پورچ میں گاڑی پارک کرکے اترا تھا۔۔۔۔۔
سامنے شفا کا بکھرا وجود دیکھ کر وہ ٹھٹک گیا تھا دل میں اچانک درد کی شدید لہر سی اٹھی تھی ۔۔
۔وہ دوڑتا ہوا شفاء تک پہنچا تھا جو کسی زندہ لاش کی طرح ناک کی سیدھ میں بس قدم بڑھاۓ جا رہی تھی ۔۔۔۔
اس کو اپنے اردگرد کا کچھ ہوش نہ تھا ۔۔۔وہ اس وقت اتنی ذہنی انتشار کا شکار تھی کہ عمر کی موجودگی تک کو فراموش کر بیٹھی تھی ۔۔۔رو رو کر آنکھوں سے اب اشک بھی بہنے سے انکاری تھے ۔۔اجڑا وجود، دوپٹہ لاپروائی سے ایک کندھے پہ جھول رہا تھا تو آدھا زمین کو چوم رہا تھا ،بکھرے بال ملگجے کپڑے ، زرد چہرہ اور ویران پتھرائی آنکھیں ۔۔۔۔۔۔۔!!!
چیخ چیخ کر کسی انہونی کا پتہ دے رہی تھی ۔۔۔
شفا کیا ہوا ہے؟؟؟؟
کچھ تو بولو؟؟؟؟
بچہ مجھ سے بات کرو کیا ہوا ہے ؟؟؟؟؟؟
وہ عمر کو اپنے سامنے دیکھ رہی تھی مگر ایسے جیسے پہچان نے کی کوشش کر رہی ہو۔۔۔۔۔
عمر کو بہت اچھی طرح اندازہ ہورلہا تھا اس وقت اس کی ذہنی ابترہوئی حالت کا ۔۔۔
وہ چند لمحوں تک اپنے لئے اس کی آنکھوں میں پہچان تلاش کرتا رہا پھر یک لخت اس نے اس کو بازو سے پکڑ کر جھنجوڑ کر رکھ دیا تھا۔۔۔۔۔۔۔
شفا نے اس کے اس طرح سے جھنجوڑنے پر ہوش کی دنیا میں واپس قدم دھرے تھے اور اپنے پیارے بھائی کو دیکھ کر اس سے مزید ضبط نہ کیا گیا اور وہ اس کے سینے سے لگی زاروقطار سسکنے لگی ۔۔
میرا بچہ مجھے بتا کیا ہواہے؟ ؟؟
تو کیوں اس طرح رو رہی ہے؟؟؟؟
تیرے بھائی کا دل بیٹھ رہا ہے۔۔۔۔۔۔!!!
عمر بہت مشکل سے اپنے لہجے کو مضبوط کرکے بولا تھا ۔۔
شفا کی آنکھوں سے جھانکتی ہوئی ویرانیاں عمر کو اندر سے کمزور کر رہی تھیں۔۔
ایک بھائی تھا نا آخر۔ ۔۔۔۔بہن کا دکھ درد برداشت نہیں کر پا رہا تھا ۔۔
وہ شفا کو سینے سے لگائے اس کے سر پر شفقت بھرا ہاتھ پھیرتے ہوئے پوچھ رہا تھا۔۔۔۔ دل کے اندر حمزہ کی وجہ سے کئ و ہم و وسوسے پیدا ہو رہے تھے ۔۔۔۔
حمزہ سےوہ ھر قسم کی امید کرسکتا تھا ۔۔۔۔
بھائی بابا کا کیا میں نے بھگت لیا ہے ۔۔۔۔۔
بابا کو بتا دو کہ جو ظلم انہوں نے ایک عورت زات پہ ماضی میں ڈھائےتھے ۔۔ان تمام مظالم کا خمیازہ اور مداوا میں کر آئی ہوں ۔۔۔۔۔!!!
بھائی میرے شوہر کا میرے باپ سے انتقام آج پورا ہو گیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!
وہ عمر کا چہرہ اپنی ہتھیلیوں کےپیالےمیں لےکر ہزیانی انداز میں بول رہی تھی ۔۔۔۔
کیا کہہ رہی ہوں شفا ؟؟؟؟؟
مجھے ٹھیک سے بتاؤ رونا بند کروپہلے ۔۔۔۔
حمزہ کہاں ہو؟ ؟؟؟ ۔۔۔۔۔
۔حمزہ کیا ہوا ہے باہر آؤ ؟؟؟
وہ اب پریشانی سے حمزہ کو پکار رہا تھا معاملے کی سنگینی کا کچھ کچھ وہ اندازہ لگا چکا تھا ۔۔۔
اس کو اپنے تمام وہم اور وسوسے حقیقت کا روپ اختیار کرتے ہوئے محسوس ہو رہے تھے ۔۔۔۔
اوہو تو سالے صاحب آۓ ہیں ۔۔۔۔
ذہےنصیب آج تو ہمارے اس غریب خانے کو بڑے بڑے لوگوں نے اپنی آمد کا شرف بخشا ہے۔۔۔۔۔
کہو سالے صاحب کیسے آنا ہوا ؟؟؟؟
حمزہ ہاتھ میں چائے کا مگ تھامے مغرورانہ چال چلتا ہوا لان میں کھڑے ان دونوں بھائی بہن تک آیا تھا ۔۔۔۔
شفا نے نہ جانے کس خیال کے تحت اس سنگ دل کے چہرے پہ ایک نظر ڈالی تھی ۔
نہ جانے کیوں شفا کو اس ستمگر کی آنکھیں سرخ اور گوشے نم سے لگے تھے ۔۔۔
جیسے وہ بھی چین سے نہ ہو ۔۔۔۔سکون اس کے دل کو بھی میسر نہ آ پا رہا ہو ۔۔۔۔
کچھ عشق تھا کچھ مجبوری تھی۔
سو میں نے جیون وار دیا .
میں کیسا زندہ آدمی تھا۔
اک شخص نے مجھ کو مار دیا ۔
شفاء ایک خاموش نظر ڈالنے کے بعد اپنا رخ پھیر گئی تھی ۔۔۔اور چہرے پہ شدید رکھائی لیے گویا حمزہ کی ذات کیلئے شدید نفرت کا اظہار کر گئی تھی۔ ۔۔
بھائی یہ شخص کیا بتائے گا اس جیسے اندر سے کھوکھلے مرد کسی کو حقیقت بتانے کے قابل ہی نہیں ہوتے۔۔۔
میں بتاتی ہوں آپ کو ۔۔۔
اور پھر شفاء نے بغیر اشک بہائے اپنے لہجے کو سخت اور مضبوط بنا کہ عمر کو سب کچھ کہہ سنایا تھا ۔۔۔۔۔
عمر جیسے جیسے شفاء کی آپ بیتی سنتا جا رہا تھا ویسے ویسے وہ اپنے آپ پہ سے آپا کھوتا چلا جا رہا تھا ۔۔۔۔
اپنی معصوم بہن کے دکھوں پہ اس کی آنکھوں میں خون اتر آیا تھا۔۔۔۔
اس کے دماغ کی رگیں تن سی گئی تھی جبکہ آنکھوں کے ڈورے شدید سرخ ہو چلے تھے ۔۔۔
تو۔۔ ۔۔۔
تو کیا میری بہن کو طلاق بھیجے گا میں خود تجھ جیسے کم ظرف مرد سے اپنی بہن کو آزادی بلواؤ گا بہت جلد تجھے خلع کے کاغزات مل جائے گے ۔
عمر کسی بپھرے ہوئے شیر کی طرح حمزہ پہ چھپٹا تھا ۔۔
زبان سے بات کرو۔۔۔۔
ہاتھ اور پیرکی زبان مجھے بھی استعمال کرنا بہت اچھی طرح آتی ہے ۔۔۔
تم ابھی میرے گھر میں صحیح سلامت کھڑے ہو یہ میری مہربانی ہے تم پہ ۔۔ورنہ جو میری ماں کے ساتھ تمہارے اس 'اعلی ظرف' باپ نے کیا ۔۔۔۔۔۔اس کے بعد تو تم اور تمہاری بہن سمیت ذلت کے ہار پہنانے چاہیے ۔۔۔۔وہ طنزیہ لہجے میں اعلی ظرف بولا تھا ۔۔۔
اورعمرکے ہاتھوں میں سے اپنا کالر چھڑواتے ہوئے اشتہار آمیز لہجے میں چنگھاڑا ۔۔آنکھوں میں شدید برہمی تھی ۔۔۔۔
تمہارا انتقام میرے باپ سے ہے مگر تم اپنے بدلے کی آگ میں ایک معصوم لڑکی کی زندگی تباہ وبرباد کرنے کے درپے ہوگئے ۔۔۔۔
اس کا مطلب تم خود بھی بہت کم ظرف کے مالک ثابت ہوئے ہوں میری نظروں میں ۔۔۔۔
اور حقیقت میں تمہیں بتاو ایک۔ ،۔۔۔
تم آج ایک دوسری آئمہ کو وجود میں لے آئے ہو ۔۔۔۔
ا
س کا مطلب یہ ہے کہ اب نسل در نسل یہی تماشہ چلتا رہے گا ۔ ۔۔۔؟؟؟؟
عمر کی آنکھیں کسی بھی قسم کے تاثرات سے عاری تھی لہجہ ایسا تھا جیسے پتھر ۔۔۔۔
بس کرو اور اپنا راستہ ناپو بہت سن لی میں نے تمہاری بکواس ۔۔۔۔۔چلو اپنی بہن کو لے کر دفع ہو جاؤ میرے گھر سے ۔
حمزہ غصے میں اپنا آپا کھو بیٹھا اور انتہائی بد لحاظی سے گویا ہوا ۔۔۔
نہیں بھائی میں نہیں جاؤں گی اب دوبارہ کبھی بھی اپنےباپ کی دہلیز پہ ۔۔۔۔مجھے یہ گوارا نہیں کہ میرے ماں باپ کا سر اور نظریں میری وجہ سے جھکیں میں ہرگز بھی واپس ادھر نہیں جاؤں گی ۔۔۔۔۔۔
شفا بہت دیر سے خود کو سنبھالے ہوئے تھے مگر اب اپنا ضبط کھو بیٹھی تھی اور زاروقطار سسکتے ہوئے عمر کو دیکھ کہ گردن ہلا ہلا کر نفی میں منع کر رہی تھی ۔۔۔
خاموش ہو جاؤ شفاء ۔۔۔۔ابھی تمہیں اتنی بڑی نہیں ہوں یوں کہ اپنے فیصلے خود کر سکو ۔۔۔۔چلو میرے ساتھ ۔۔
ابھی تمہارا بھائی زندہ ہے۔ ۔۔۔جب تک میں ہو تم پہ کوئی بری نظر ڈالنا تو دور کی بات بال بھی بیکا نہیں کرسکتا ۔۔۔ ۔
میری بہن مجھ پہ بوجھ نہیں ہے مسٹر حمزہ جلال ۔۔۔۔۔
بہت جلد تمہیں کورٹ کی طرف سے خلع کا نوٹس مل جائے گا ۔۔۔
وہ حمزہ پہ ایک سخت نظر ڈالتا شفا کی کلائی کو اپنے ہاتھ کی گرفت میں لیتا گاڑی کی طرف بڑھ گیا تھا۔۔۔۔۔۔
پیچھے وہ رہ گیا تھا تہی دامن خالی ہاتھ ۔۔۔۔۔
🍂🍂🍂🍂🍂🍂
سہی سے دیکھو یہی ایڈریس دیا تھا تمہیں ارمغان نے یا پھر کہیں تم غلط پتے پر آ گئے ہو ؟؟؟
غزل نے پریشانی سے ارد گرد کا جائزہ لیتے ہوئے ڈرائیور کو کہا ۔۔۔۔
ملکانی جی یہی پتہ دیا تھا مجھے صاحب نے میں بالکل صحیح پتے پر آپ لوگوں کو لے کر آیا ہوں ۔۔۔
ڈرائیور کے لہجے میں بے چارگی تھی ۔۔۔۔
بہو مجھے لگ رہا ہے جیسے ارمغان نے جلدی جلدی میں ڈرائیور کو غلط پتہ لکھوا دیا ہے ۔۔
وہ سامنے موجود اجاڑ اور ویران پڑے بند گھر کو دیکھ کر بولی تھیں چہرے پر پریشانی ہویدا تھی ۔۔۔۔۔۔۔
بی بی جی اور ملکانی جی آپ دونوں اطمینان سےبیٹھیں میں ذرا آس پاس کے گھروں میں سے کسی سے معلومات حاصل کر کے آتا ہوں ۔۔۔۔۔
وہ ہاتھ میں ارمغان کا دیا پرچہ لے کر اترا تھا جس میں فجر کے والد صاحب کے گھر کا ایڈریس رقم تھا ۔۔۔
ڈرائیور ویران گھر کے برابر والے گھر میں سے نکلتے ایک مزدور کو روک کر پوچھنے لگا تھا پتہ دکھا کر جب غزل نے ہلکا سا شیشہ کھولا تھا تاکہ ڈرائیور اور ان بزرگوں کی ہونے والی گفتگو سے اندازہ لگا سکے صحیح پتہ کا کیونکہ اس کو لگ رہا تھا جیسے ڈرائیور ارمغان سے صحیح طریقے سے گھرکا ایڈریس سمجھ نہیں پایا ہے ۔۔
سر جی ایڈریس تو یہی ہے مگر یہ گھر تو پچھلے 37 سال سے بند پڑا ہے ۔۔۔۔اس گھر میں پچھلے کئی سال سے کوئی آکر بس نہیں سکا ۔۔۔۔
تمہارے کہنے کا مطلب ہے کہ یہ گھر آسیب زدہ ہے ؟؟
ڈرائیور نے خامخوا تجسس میں آ کر استفسار کیا ۔۔۔۔
جی ہاں اس گھر میں جس چیز کا بسیرا ہے وہ یہاں کسی کو بھی ٹکنے نہیں دیتی ۔۔۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ گزرے کئی سالوں سے یہاں کوئی بھٹکا تک نہ اور آج آپ لوگ اچانک ہاتھ میں اسی گھر کا پتہ لیے چلے آئے ہیں ۔۔۔
بزرگ شدید حیرت میں تھے ۔۔۔۔
شکریہ آپ کا بہت بہت ۔۔
وہ ان سے مصافحہ کرکے واپس گاڑی میں بیٹھا تھا ۔۔۔
ملکہ انی جی لگتا ہے ارمغان صاحب نے جلدی جلدی میں ہمیں غلط ایڈریس دے دیا ہے۔۔۔۔
آپ ایسا کریں کہ صاحب کو فون کرکے صحیح ایڈریس معلوم کرلیں تاکہ میں آپ لوگوں کو وہاں پہنچا سکوں ۔۔۔۔
ڈرائیور نے ایک نظر حیران پریشان اس آسیب زدہ گنجان ویران گھر پہ ڈالی تھی ۔۔
اس کا دل چاہا کہ وہ ابھی اور اسی وقت اس گھر کے سامنے سے اپنی گاڑی کو ہٹا کر کہیں اور لے جائے ۔۔۔۔۔۔۔
ٹھیک ہے میں فون کرتی ہوں تم یہ بتاؤ تم نے فجر کے والد صاحب کا نام تو بتایا تھانہ ؟؟؟
غزل کے بجائے اب اماں جان نے نے استفسار کیا تھا چہرے پر گہری سوچ۔ کی لکیر یں ابھری تھی ۔۔
غزل نے چونک کر اپنی ساس کے چہرے کے تاثرات کو جانچنے کی کوشش کی تھی مگر وہ کسی بھی قسم کا اندازہ نہ لگا سکی ۔ ۔۔
رہنے دو بہو مت کرو ارمغان کو فون ڈرائیور ہوں میں کام کروں گا ڑی گھرپہ واپس لیلو۔
اماں جان کو ایسا لگا جیسے ان کے دل پہ کسی نے اپنا بھاری وجود رکھ دیا ہو ۔۔۔
وہ بڑی مشکل سے سانس لیتے ہوئے بولی تھی ۔۔۔
چلو ڈرائیور گاڑی واپس لے لو مجھے اماں جان کی طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی ۔ ۔۔
گھر جاکے ارمغان سے کہہ کر فون پہ ہیں دعوت دیدینگے ولیمہ کی۔ ۔۔
رہ گئے شگن کے تحائف تو وہ کل ولیمے کی تقریب کے بعد ہی فجر کے گھر والوں کو دے دیں گے ۔۔
غزل ساس کی بگڑتی ہوئی حالت کو دیکھتے ہوئے ڈرائیور کو جلدازجلد واپس جانے کا حکم صادر کیا تھا ۔۔
جبکہ اماں جان جب تک اس گھر کو دیکھتی رہی جب تک وہ پھر آنکھوں سے اوجھل نہ ہو گیا ۔۔۔
___
وہ بہت بری طرح سے تھک چکی تھی پچھلے کئی گھنٹوں میں وہ سالوں کی مسافت طے کرکے آئی تھی۔۔
نہ ہی وہ کوئی روایتی دلہن تھی جو دولہا کا انتظار کرتی اور نہ ہی یہ شادی کوئی بہت امنگوں سے سرانجام پائی تھی ۔۔
" میں جانتی ہوں عمر تم نے مجھ پر بہت بڑا احسان کیا ہے ۔۔تمہارا دل بہت بڑا ہے جو ایک ایسی لڑکی کو اپنے نکاح میں لیا جو اپنی عزت لٹا چکی ہو ۔۔۔"۔
"تمہیں پورا حق ہے اپنی زندگی خوشیوں بھری بسر کرنے کا ۔۔۔۔۔۔"
"میں کبھی تمہیں خود سے زبردستی باندھ کر نہیں رکھوں گی ۔۔۔۔۔۔۔"
"دوسری شادی کا تمہارا حق بنتا ہے ۔بس عمر میری زندگی کا بس اب ایک واحد مقصد رہ گیا ہے وہ ہے اپنی سانسوں کو گن نا ۔۔۔۔۔۔"
" عمر میری تم سے ایک اور آخری خواہش ہوگی کہ زندگی میں کبھی بھی تم مجھ سے اپنا نام مت چھین نا ۔۔۔۔"
وہ سوچتے سوچتے نہ جانے کب نیند کی وادی میں اتری تھی۔ اس کو خود کو بھی خبر نہ ہوئی تھی آنکھ تو اس کی جب کھلی جب عمر کے دہکتے لمس کو اپنی سردپیشانی پہ محسوس کیا۔ وہ سہم کر اٹھ بیٹھی تھی۔ آنکھوں میں وحشت اتر آئی تھی چہرہ لٹھے کی مانند سفید پڑھا تھا ۔۔۔
کچھ ہی لمحوں میں شدید خوفزدہ ہو چکی تھی ۔۔
خوف و ہراس اس کی آنکھوں میں ان ہلکو لے رہا تھا ۔۔
عمر کو خود سے قریب دیکھ کہ خوف سے بری طرح کانپ رہی تھی ۔پورے وجود میں جھرجھری سی دوڑ گئی تھی ۔۔۔
لائبہ کا پورا سراپا اس وقت پسینے سے شرابور ہو گیا تھا ۔۔۔لرزاہٹ تاری تھی ۔۔
آ۔ ۔۔۔۔آپ ۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟
وہ بہت مشکل سے ٹوٹے پھوٹے لفظوں میں کہہ سکی تھی ۔۔۔
"ریلیکس کیا ہو گیا ۔۔۔۔۔۔؟"
"میں ہوں تمہارا شوہر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔"
عمر گھمبیر لہجے میں کہتا اس کے چہرے پہ آیا پسینہ اپنے ہاتھ کی پشت سے جذب کرنے لگا ۔۔۔۔
"مم۔ ۔۔۔مجھے ہاتھ مت لگانا۔۔۔۔۔"
وہ عمر کا لمس اپنے رخسار پہ محسوس کرکہ کرنٹ کھا کر دورہ ڈی سی ۔۔۔
عمر کو اس پل اس کی آنکھوں میں اپنے لیے شناسائی کی کوئی رمق نہیں نظر آرہی تھی ۔۔۔۔
اس کی آنکھوں میں خوف تھا ۔۔وحشت تھی۔۔۔ بے اعتمادی تھی ۔۔۔
وہ اپنے محسن سے بھی ڈر رہی ۔۔۔عمر کو شدید افسوس ہو رہا تھا لائبہ کی ذہنی حالت پہ۔ ۔۔۔
"میں سمجھتا ہوں تمہاری کیفیات کو بہت بہتر ۔بلکہ یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کس صرف میں ہی ہوں تمہیں ۔ ۔۔۔۔۔ "
وہ نرمی سے اس کا مرمریں گداز ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیکر اس کو پرسکون کرنے کی کوشش کر رہا تھا ۔۔۔
"جانتی ہوں۔ ۔۔۔۔۔"
لائبہ نے اس دفعہ اپنا ہاتھ عمر کے ہاتھ میں سے کھینچنے کی کوشش نہ کی تھی مگر پھر بھی عمر اس کے ہاتھ کی لرزش اور برف کی مانند یخ بستہ ہوئے ہاتھ سے بخوبی اندازہ لگا سکتا تھا اسکی کیفیت کا۔ ۔۔۔۔۔مگر اس دفعہ لائبہ کے انداز میں پہلے جیسی اجنبیت نہ تھی ۔۔۔۔۔۔
"خود ک اذیت مت دو میں چاہ کر بھی تمہارے ساتھ زبردستی نہیں کر سکتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔"
وہ اب بیڈ سے اٹھ کر فاصلے پہ رکھے صوفے پر جا بیٹھا تھا لائبہ کی وحشت زدہ آنکھیں اور خوف سے تھرتھر کانپتا وجود اس بات کی گواہی تھا کہ وہ عمر سے بھی خوفزدہ ہے۔۔۔
وہ اس پر بھی اعتبار نہیں کر پا رہی ہے ۔۔۔۔
عمر نے تعصب سےاسکو دیکھا ۔۔
"یہ وہ لڑکی تو نہ تھی جس کو وہ جانتا تھا ۔اس کی لائبہ تو بہت شوخ و چنچل زندگی سے خوشیاں کشید نے والی لاؤبالی سی لڑکی تھی۔ یہ لڑکی تو کوئی دوسری ہی تھی ۔۔"
لائبہ اسکے فاصلہ قائم کرنے سےکچھ دیر بعد جیسے پر سکون ہوئی تھی اور اب شرمندہ سی کھڑی بیدردی سے اپنے لب کچل رہی تھی۔۔
س ۔۔۔۔۔سوری۔۔۔۔۔۔!!
وہ آنکھوں میں نمی لیے پشیمان لہجے میں بہت دھیمے سے بولی تھی ۔
لائبہ اس لمحے عمر سے نظریں ملانے سے قاصر تھی وہ اپنے ہاتھ کی لکیروں میں نہ جانے کیا تلاش کرنے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔
بول کے لب آزاد ہیں تیرے۔
بول زباں اب تک تیری ہے
تیرا ستواں جسم ہے تیرا
بول کے جاں اب تک تیری ہے
دیکھ کے آہن گر کی دکاں میں ۔
تند ہے شعل ،سرخ ہے آہن
کھلنے لگے قفلوں کے دہانے ۔
پھیلا ہر اک زنجیر کا دامن
بول یہ تھوڑا وقت بہت ہے
جسم و زباں کی موت سے پہلے
بول کے سچ زندہ ہے اب تک
بول جو کچھ کہنا ہے کہہ لے ۔۔
عمر کو نہ جانے کیوں اس افسردہ سی لڑکی کو دیکھ کہ برسوں پہلے سنے یہ دل کو چھو لینے والے اشعار ذہن میں آئے تھے۔ جو کبھی اس نے کالج کے زمانے میں سنی تھی۔ وہ کوئی خاص شاعری سے لگاؤ نہیں لگتا تھا ۔بس نہ جانے کیا تھا۔ جب پہلی دفعہ ایف ایم پہ خلیل اللہ فاروقی کی ساحرانہ آواز میں یہ خوبصورت اشعار سنے تو وہ ان میں جکڑ سا گیا ۔۔وقت وقت کی بات ہے ۔۔واقعی کچھ چیزیں وقت کے ساتھ ہی آپ کو بہتر سمجھ میں آتی ہے ۔۔
"تم پریشان مت ہو میرا مقصد تمہیں ہراساں کرنے کا ہرگز بھی نہیں تھا ۔۔۔۔۔"
"میں تمہارے اعصاب کو پرسکون کرنے کی غرض سے تمہارا سر دبانے کے لئے بیڈ پہ تمہارے نزدیک بیٹھا تھا ۔۔۔۔۔"
وہ جان کر صفائی پیش کرنے لگا تھا ۔۔لائبہ کو نئے سرے سے خود سے بے تکلف کرنا چاہ رہا تھا۔۔
وہ جانتا تھا کہ لائبہ اس کے چھونے سے لمس کی حدت کو محسوس کرکہ خوفزدہ ہوئی تھی۔۔۔۔
اس کے اعصاب شدید تناؤ کا شکار تھے۔
وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ وہ لائبہ کے دل اور دماغ کی آمادگی کے بغیر اپنا حق کبھی وصول کرے گا ۔۔۔
وہ آہستہ آہستہ چلتا ہوا لائبہ کے قریب آیا تھا اور اس کو دونوں شانوں سے تھام کر بیڈ پہ بٹھاگیا ۔۔
لائبہ سن سی رہ گئی اس کو خود سے اتنا قریب دیکھ کے ۔۔۔۔۔
🍂🍂🍂🍂
کیا میں خوش ہوں ؟؟؟
آج حمزہ شفا کے جانے کے بعد اپنی گاڑی کی چابی اور موبائل اٹھا کر گھر سے نکل آیا تھا۔۔۔۔۔ پچھلے ایک سے ڈیڑھ گھنٹے سے وہ خوامخواہ میں ریش ڈرائیو کرتا سڑکیں ناپ رھا تھا ۔
ایک گھنٹے میں وہ کئی دفعہ ایک ہی سڑک کی خاک چھان چکا تھا نیز 12 کے قریب سگریٹیں بھی پھونک ڈالی تھیں ۔مگر دل تھا کہ کسی طور بھی سکون نہیں لینے دے رہا تھا ۔۔۔۔۔۔
آج میں جیت گیا ہوں مگر پھر بھی میری یہ خوشی اس قدر کھوکھلی کیوں ہے ۔۔؟؟
کیوں میرا دل اندر سے بجھا بجھا سا ہے ؟؟؟؟
آج تو مجھے بہت خوش ہونا چاہیے میری زندگی کا اولین مقصد پورا ہونے کو ہے ۔۔۔
تو پھر یہ بے سکونی کیوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
آخر میں خود کو کیوں کر مطمئن نہیں کر پا رہا ۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟
میرا دل اس بات پہ دہائیاں دے رہا ہے کہ میں نے شفا کے ساتھ زیادتی کردی ہے ۔۔۔۔۔؟؟؟؟
کیوں۔۔۔ ؟؟؟
آخر کیوں ۔۔۔۔؟؟؟؟
تم بن جیا جائے کیسے
کیسے جیا جائے تم بن
صدیوں سے لمبی ہیں راتیں
صدیوں سے لمبے ہوئے دن
آ جاؤ لوٹ کر تم
یہ دل کہ رہا ہے
پھر شام تنہائی جاگی
پھر یاد تم آ رہے ہو
پھر جان نکلنے لگی ہے
پھر مجھ کو تڑپا رہے ہو
کیا کیا نہ سوچا تھا میں نے
کیا کیا نہ سپنے سجائے
کیا کیا نہ چاہا تھا دل نے
کیا کیا نہ ارماں جگائے
اس دل سےطوفاں گزرتے ہیں
تم بن نہ جیتے ہیں نہ مرتے ہیں
آ جاؤ لوٹ کر تم
یہ دل کہ رہا ہے
تم بن جیا جائے کیسے
کیسے جیا جائے تم بن ۔
وہ ڈرائیو کرتے ہوئے مسلسل ریپلے کرکے بسی یہی سنے چلا جا رہا تھا ۔۔
شاعر کے بول اس کو اپنی ذات کی عکاسی کرتے ہوئے محسوس ہو رہے تھے ۔۔
ہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تم بن کیا میں جی سکوں گا ۔۔۔۔۔؟
کیا واقعی حمزہ جلال ۔۔۔۔ شفاء حمزہ جلال کے بغیر سانس لے سکے گا ۔۔؟؟؟
وہ یک لخت چونکا تھا ۔۔
آج شفا کے نام کے ساتھ اپنا نام جوڑا تھا انجانے میں ہی سہی مگر کہیں نہ کہیں دل نے شفاء کے لیے دہائی دی تھی ۔۔۔
وہ اس کے دل و دماغ سمیت اس کے حواسو ں پہ بھی تاری ہو گئی تھی ۔۔
انسان کی قدر اس کے کھو دینے کے بعد ہی آتی ہے شفا سے اس کو دور ہوئے محض کچھ گھنٹے ہی گزرے تھے ۔۔۔مگر حمزہ کو لگ رہا تھا جیسے وقت چیونٹی کی سی رفتار سے سرک رہا تھا۔ ۔
۔۔۔۔
شفا کے وجود کی دلفریب خوشبو اس کو اپنے وجود سے اٹھتی محسوس ہورہی تھی۔ ۔۔جو اسکو کسی طور سکون نہیں لینے دے رہی تھی ۔۔۔۔۔
🍂🍂🍂🍂
عمر اسکو اپنے بازو کے حلقے میں لیے گھر کے اندر داخل ہوا تھا ۔۔
بڑھی امی۔۔
چھوٹی امی۔۔۔۔
باہر آییں آپ لوگ زرا اوردیکھیں میری بہن پہ کیا گزری ہے۔
دوپہر کا وقت تھا سب لوگ اپنے اپنے رومز میں تھے۔۔۔
عمر کے اس طرح شور مچانے پر سب لوگ حواس باختہ سے باہر آئے تھے اپنے اپنے کمروں میں سے ۔
لائبہ بھی سہم کر شور شرابہ سن کہ اوپر عمر کے کمرے سے نیچے اتر آئی تھی ۔۔۔
کیا ہوا ہے؟ ؟؟
اور شفاء کیوں اسطرح اجڑی حالت میں آئ ہے۔ ۔۔؟؟؟
سمیرا نے دہل کر پوچھا بیٹی کے بغیر کہہ بھی وہ پہچان گئ تھی کہ وہ کافی وقت سے روتی رہی ہے۔ ۔۔۔
یہ اب دوبارہ حمزہ کے ساتھ نہیں جائے گی۔۔۔۔!!
"جاو لائبہ شفاء کو لیکر جائو اسکے کمرے میں۔ ۔۔"
اسنے حیران پریشان سی لائبہ کودیکھ کر کہا لہجہ شدید اشتعیال آمیز تھا۔جبکہ آنکھیں غصے کی شدت سے سرخ ہورہی تھیں۔ لائبہ نے اپنے مزاجی۔ خدا کے حکم کی جھٹ تعمیل کی تھی ۔شفاء کو بکھرا بکھرا ساکت سہ دیکھ وہ اپنا غم فراموش کر گئ تھی ۔۔شفاء کی حالت اسکو پریشان گرگئ تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔
جو شخص بزاتِ خود کسی عظیم دکھ سے گزر رہا ہو وہ بہت بہتر کسی دوسرے غمزدہ شخص کا دکھ سمجھ سکتا ہے۔ ۔
مگر ہوا کیا ہے؟
سہی سے بتائو پہلیاں مت بجھوائو ۔ ۔۔۔۔
تم ایسا کیوں کہہ رہے ہو؟؟؟؟
ائمہ نے دہل کہ اپنے دل پہ ہاتھ رکھا تھا جبکہ سمیرا بس پریشان سی کبھی عمر کو تو کبھی لائبہ کے ساتھ جاتی اپنی لختے جگر کو دیکھ رہی تھی۔ ۔۔ ۔۔۔
ابھی تھوڑی دیر پہلے ایک مسئلہ حل نہیں ہوا تھا پورے طریقے سے کہ دوسرا شروع ہونے کو تھا ۔۔۔
نجانے کس کی بری نظر لگ گئی ہے میرے ہنستے بستے گھر کو؟؟؟
آئمہ ، شفا کو ڈبڈبائی نظروں سے دیکھتی ہوئی بے بسی سے بڑبڑائی تھی ۔۔۔۔۔
آپ لوگ جانتے ہیں اس گھر کے لاڈلے چشم و چراغ نے میری بہن کو طلاق ۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
ابھی اس کا جملہ پورا بھی نہیں ہوا تھا جب دھڑام سے کسی کے زمین بوس ہونے کی آواز آئی تھی ۔۔۔۔
بابا ۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔!!!!!
شفا روتے ہوئے زمین بوس ہوئے رحمان صاحب کی طرف لپکی تھی۔ ۔۔۔ جو اپنے دل پہ ہاتھ رکھے بری طرح کھانس رہے تھے ۔
______
سوہانے بڑی پھرتی سے لنچ کا احتمام کیا تھا اور اب وہ مصطفی کے جاگنے سے پہلے ٹیبل سیٹ کر دینا چاہ رہی تھی۔۔۔
ایک نظر گھڑی پہ ڈالی جو کہ ساڑھے 3 بجا رہی تھی اور پھر کچن سےکھانے کی پلیٹیں اور گلاس لے کر ٹیبل کی طرف بڑھ گئی ۔۔۔
سلیقے سے اس نے بڑے اہتمام کے ساتھ کھانےکی میز پر کھانا چنا تھا اور اب وہ ایک شریر سی مسکراہٹ لیے مصطفی کے سر پہ دندنانے کو جا پہنچی ۔۔
اجی اٹھتے ہیں۔۔۔۔۔؟؟؟
یا میں سارا کھانا اکیلے ہی ہضم کر جاؤں۔۔۔۔۔۔؟؟؟"
وہ بھی ڈکار مارے بغیر ۔۔۔۔۔ "
سوہا کو تو جیسے سنجیدگی چھو کر ہی نہیں گزری اب بھی اسکے سر پہ جیسے شرارتوں کا بھوت سوار تھا ۔۔۔۔۔
وہ مصطفی کے بالوں کو بگاڑتے ہوئے بولی تھی جبکہ ہاتھ میں چھپا زردائی رنگ خاموشی سے اس کے سر میں بھر ڈالا تھا ۔۔۔
مصطفی کے بالوں کو زرد رنگ میں دیکھ کر اس کی ہنسی ضبط کرنے کے باوجود بھی نہیں رک رہی تھی۔ ۔۔۔۔
کیا ہے اٹھ گیا ہوں۔۔
اب کیا میرے فرشتوں کو بھی جھنجوڑ کر اٹھانے کا ارادہ ہے؟؟؟؟
وہ اس کی باریک آواز پہ جھنجلا کر اٹھا تھا ۔۔۔
چہرے پر نیند خراب ہونے کی وجہ سے اکتاہٹ واضح تھی ۔۔۔۔
چلیں آئندہ چمچ بجاکہ اٹھاؤنگی زور زور سے شیشے کی ٹیبل پہ ۔۔۔۔۔!!!
اس طرح آپ کو میری سریلی آواز کو بھی نہیں سننا پڑے گا ۔۔۔۔۔"
اس نے مستقبل کے لیے اپنا نیک خیال ظاہر کیا تھا ساتھ ساتھ وہ لاؤنج بھی سمیتٹی جا رہی تھی ۔۔۔۔۔
اس کے آنکھیں پٹپٹا کہ کہنے پر مصطفی نے اس
کو خونخوار نظروں سے گھوراتھا ۔۔۔
"اوور ایکٹنگ میں تو تم نے پی ایچ ڈی کر رکھا ہے۔۔۔۔۔۔۔"
میرا نہیں خیال کبھی تم نے کسی کو خوش رکھنے کی اپنی سی کوشش کی ہوگی ۔۔۔۔۔"
وہ اسکی خامخوا میں بتیسی کی نمائش کرنے پر چڑھ سہ گیا ۔۔۔
میں ایک وقت میں صرف ایک ہی انسان کو خوش رکھ سکتی ہوں ۔۔
اور پتہ ہے وہ ایک انسان کون ہے ۔۔۔۔؟؟؟؟؟
کون۔ ۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟تیوری چڑھا کے پوچھا گیا ۔۔۔
وہ میں خود ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!!!
ہاہاہا۔ ۔
سوہا بڑے اسٹائل سے فرضی کالر جھا ڑ تے ہوئے ڈائننگ ٹیبل کی کرسی گھسیٹ کر بیٹھے مصطفی کی پلیٹ میں چکن ہاٹ چلی اور فرائیڈ رائس نکال دیتے ہوئے اس کو بھرپور انداز میں سلگانے کا کام بھی ساتھ ہی ساتھ انجام دے رہی تھی ۔۔۔۔
اس نے ایک نظر سوہا پہ ڈالی تھی جو اس وقت اس کی ٹی شرٹ اور اسکا ہی ٹراوزر زیب تن کیے خاصی ریلیکس نظر آ رہی تھی ۔۔۔۔
لگتا ہے آپ کو اپنے کپڑے مجھ پر زیادہ سوٹ کرتے لگرہے ہیں اسی لیے تو آپ کھانا کھانے کے بجائے مجھے گھورتے ہی چلے جا رہے ہیں ۔۔۔۔۔؟؟؟
شرم کریں ایک مرد ہو کہ آپ کو مجھ جیسی خوبصورت حسین و بے ضررسی لڑکی سے حسدمحسوس ہو رہی ہے ۔۔۔
اپنا یہ منہ بند کرنے کے لئے کیا جرمانہ وصول کرنا چاہتی ہوں ۔۔۔۔۔؟؟؟
مجھ پہ ایک مہربانی کرو کہ اپنی یہ فضول قسم کی ہاکنا بند کردو۔۔۔۔۔۔۔وہ غرایا ۔۔
ہاں تو آپ بھی مجھے یہ اپنی بڑی بڑی شیر جیسی آنکھوں سے گھورنا بند کریں۔۔۔۔۔۔
ایویں مجھے آپ سے ڈر لگنے لگتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ تڑخ کر بولی تھی مصطفی کا ٹکٹکی باندھ کر اس کو تکنا کھولا گیا تھا۔۔۔۔
مگر ابکی دفعہ وہ خاموش رہا اس وقت وہ صرف سکون سے کھانا کھانا چاہتا تھا سوھا کی بے سروپا باتوں میں پڑھ کر وہ مزید اب اپنا خون جلانے کے حق میں ہرگز بھی نہ تھا اور پھر سوہا نے چائنیز بھی بنایا تھا ۔۔۔
چائینیز اس کی کمزوری ٹھہری۔ ۔
اس نے بڑے مزے سے پہلا چمچہ ہی حلق میں اتارا تھا مگر اس کے فوراً بعد ہی اس کو 2 گلاس پانی کی اشد ضرورت پڑی تھی۔۔
جو کہ وہ پر کالا دانستہ لانا ہی بھول گئی تھی پانی کی بوتل ۔
مرچ تیز ہونے کے باعث مصطفی کی آنکھوں سے پانی بھی بہہ رہا تھا ۔۔۔
دماغ تو ٹھیک ہے تمہارا ۔۔۔۔؟؟؟
یہ تم نے چائنیز میں اسقدر اسپائس کیوں ڈالی ہیں۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟
پھل جڑی لگانے کا ہی کام سرانجام دینا آتا ہے۔۔۔۔۔؟؟؟
وہ سی سی کرتااس پہ غرایا۔۔۔۔
ارے نہیں نہیں ۔۔۔۔۔
اتنی مرچیں نہیں ہے جتنی آپ کو لگتی ہیں ۔۔
وہ چبا چبا کر بولی تھی ۔۔۔
چلیں کھانا کھائیے نا۔ ۔۔۔
زیادہ مرچیں چبانے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔
وہ دوبارہ اس کی طرف پلیٹ کھسکا کر بولی ۔۔
مجھے نہیں کھانا یہ کھانا۔۔۔۔
پتا نہیں کون سی منحوس گھڑی تھی جو میں تم سے دل لگا بیٹھا۔ ۔
مجھے ہی محبت کے پاگل کتے نے کاٹنا تھا ۔۔۔
وہ دھاڑ سے کر سی دھکیلتا ٹیبل سے اٹھتے ہوئے دھم سے اپنا سیدھے ہاتھ کا مکاہ بناکر مارتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا تھا ۔۔۔
ایم سوری ۔۔ !!
سوہا کی کوئل جیسی آواز مصطفی کے کانوں میں بری طرح کھلی۔۔
مصطفی نے اسکو خونخوار نظروں سے دیکھا۔۔
وہ اپنے کانوں کو پکڑے بچوں کی طرح معصوم سی شکل بنائے معذرت کر رہی تھی ۔۔
وہ الگ بات تھی کہ پشیمانی چہرے پر کہیں بھی ڈھونڈے سے بھی نہیں مل رہی تھی ۔۔
بہت بہت مہربانی تمہاری ویسے مجھے سوری کہہ دینے سے میرا پیٹ نہیں بھر جائے گا۔۔۔۔۔"
تو کس نے کہا ہے بھوکا رہنے کو ۔۔۔۔۔؟؟؟
جو کھانا میرے سامنے رکھا ہے وہ چاہ کر بھی میں زہر مار نہیں کر پا رہا ۔۔۔۔۔"
تو مت کیجئے یہ تو میرے لئے ہے ۔۔۔۔ !!
آپ کے لئے تو میں نے اسپیشل یہ بنایا ہے ۔۔۔۔"
وہ دوسری ڈش میں رکھے باربی کیو شاشلک اسٹکس کی سٹیٹس تھک کر ہٹا کر ملی تھی مجھے نہیں کھانا کیا پتہ ہے اس میں واقعی تم نے زہر ڈالا ہو مجھ سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے ۔۔۔
وہ کچھ محتاط ہوا تھا وہ بادہ کرلی اب اتنی محبت سے بنائے گئے شاشلیک میں کہیں نمک کی تعداد کلو برابر ہی نہ ہو ۔۔۔
مصطفی تیزی سے آگے بڑھا تھا جب سوہانے بے اختیاری میں اس کی کلائی کو اپنے نازک ہاتھ میں پکڑنے کی ناکام کوشش کی۔
مصطفی جو تیزی سے آگے بڑھ رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔
سوہا یکلخت اس کا ہاتھ پکڑ کر روکنے کی غرض سے تیزی سے بڑی تھی مگر اپنا دھان پان سا وجود ہونے کے باعث توازن برقرار نہ رکھ سکی تھی اور سیدھے مصطفی کے چوڑے سینے سے آ لگی ۔۔۔
جبکہ مصطفی اس کو بچانے کی فکر میں اس کی کمر کے گرد حصار باندھ چکا تھا یہ سب نہ داستانتگی میں ہوا تھا ۔۔۔
مم۔ ۔۔۔۔۔۔۔مصطفی بھا ۔۔۔۔۔۔۔۔""
اونہوں۔ ۔۔۔ مصطفی کہو۔۔۔!!!
ششش۔ ۔۔۔۔۔۔"
بس مصطفی ۔۔۔۔۔"
تمہارے لبوں سے مجھے صرف مصطفی سننا پسند ہے۔۔۔۔۔"
وہ بھاری لہجے میں سرگوشیا نہ انداز میں بولا تھا ۔۔۔
سرگوشی کیا تھی سوہا کو لگا تھا جیسے کوئی سحر تھا جو اس کو خود میں جکڑ رہا تھا ۔۔۔
مصطفی کی وجود سے اٹھتی دی بلیک کی خوشبو اس کو اپنے حواس و پہ تاری ہوتی محسوس ہونے لگی ۔۔
اس کے تراشیدہ مونچھوں تلے لبوں پہ رقصاں مسکراہٹ میں ایک اصرار سہ تھا۔۔۔۔
وہ نظریں چرا گی ۔۔۔
وہ چاہ کر بھی ان گہری آنکھوں میں رقم تحریریں پڑھنے سے گریزاں تھی ۔۔
آنکھیں پانیوں سے تر ہو چکی تھی اور وہ بے ہمت سی ہوئی پلکوں کی چلمن گرا گئی تھی ۔۔۔
مصطفی کو ٹوٹ کر پیار آیا تھا اس دشمنی جہاں پہ۔۔۔۔۔۔
اس لمہے وہ اسکوکسی موم کی گڑیا سی لگی تھی جو ذرا سی لوح دینے سے پگھلنے کو تھی ۔۔۔
اسکو سوہاکے اس طرح معصومانہ انداز میں سٹپٹا کر سر جھکانے سے جیسے رحم سا آگیا تھا اس ۔۔
یکایک اپنے دونوں ہاتھ اس کی چھریری کمر سے ہٹا کر مصطفی نے اس کو بھرپور نظروں سے دیکھا تھا۔۔۔۔۔۔
اور پھر اس کے گلابی چہرے کو وارفتگی لٹاتی نظروں سے تکتے ہوئے اپنے ہاتھوں کے پیالے میں اس کے چہرے کو قید کر گیا۔ ۔حیا کے کئی رنگ اس پل سوہا کے چہرے کا طواف کر رہے تھے ۔۔
تمہاری اسی کمسنی اور معصومیت نے ہی تو مجھے کہیں کا نہیں چھوڑا ۔۔۔۔۔۔"
وہ بڑبڑایا تھا ۔۔۔
وہ بہت اچھی طرح سے محسوس کر سکتا تھا کہ سوہا اس کی آنچ دیتی قربت سے بری طرح سہم گئی تھی ۔۔
جج۔ ۔۔ججیییییی۔ ۔۔؟؟
میں کچھ سمجھیں نہیں ہوں۔۔۔۔۔۔
منمنائی تھی ۔۔۔
یہی تو مشکل ہے کہ تم جانتے بوجھتے بھی سمجھنے سے قاصر ہوں یا پھر سرے سے سمجھنا ہی نہیں چاہتی ہو۔۔۔!!!
وہ اس کی آنکھوں میں جھانک رہا تھا جیسے کچھ پوچھنا چاہ رہا ہو۔۔
یا پھر کسی پہلی کو سلجھانے کی تگ و دو میں ہو ۔۔
کچھ چیزوں کو وقت سے پہلے سوچنا اور ان کے تانے بانے بنا بیوقوفی ہے ۔۔۔۔
وہ آنکھیوں کے جھروکوں کو گرائے ہوئے بولی تھی خوبصورت دلکش چہرہ مصطفی کے ہاتھوں کے پیالے میں قید تھا۔۔۔
سوہا کو اپنا وجود اس وقت اس کے سحر کے زیر اثر محسوس ہوا ۔وہ بے خیالی میں ہی سر اٹھا ئے اس کو تکے چلی گئی تھی ۔۔۔
وہ ایک کسرتی انتہائی مضبوط جسامت کا مالک شخص تھا۔۔۔ بھرپور مردانہ وجاہت کا مالک ۔۔!!!!
وہ اس کو اس لمحے ایک گھنے سایہ دار درخت کی مانند معلوم ہوا تھا خود کیلئے ۔۔۔
وہ جب جب اسکو دیکھتا تھا کبھی بھی سوہا کو اس کی نظروں میں بے ایمانی نہیں نظر آئی تھی ورنہ عورت تو اپنے اوپر پڑنے والی ایک ہی غلط نظر کو پہچان لیتی ہے ۔۔۔۔۔۔
"جاؤ آزاد کیا ابھی کے لئے ۔۔۔۔"
اتناہی میرا خوف ٹھیک ہے اب مجھے اندازہ ہے کہ کچھ گھنٹوں تک تم مجھ سے مزید پنگے لینے کی کوشش نہیں کروں گی ۔۔۔۔۔۔۔۔"
وہ ہلکی پھلکے لہجے میں کہتا اس کو اپنے حصارکی قید سے آزاد کرگیا تھا ۔۔۔
وہ بڑے مزے سے کھانا کھانے میں مصروف بھی ہوچکا تھا۔۔۔۔۔
ویسے کھانا بنانے میں تو تم نے ماسٹر شیف کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے بہت بہترین کھانا بنانے لگی ہو۔۔۔۔۔"
ماشااللہ ۔۔۔۔۔"
وہ سچے دل سے تعریف کر رہا تھا سوہا کے ہاتھ میں بہت ذائقہ تھا۔۔۔۔۔۔۔کچھ لمحوں پہلے کی خفگی کا اب نام و نشان تک نہ تھا ۔۔۔۔۔۔
وہ لمحوں کا اثر زائل کرنے کے لیے ٹی وی چلا آئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔
اسلام علیکم ناظرین ۔۔۔۔۔!!!
لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے جو راستے بند تھے وہ اب صاف کر دیے گئے ہیں ۔۔۔ٹئورسٹ سے گزارش ہے کہ جلد از جلد اپنے رہائش گاہوں کا رخ اختیار کریں کیونکہ اگلے 24گھنٹے میں دوبارہ سے لینڈ سلائیڈنگ ہونے کا خطرہ موجود ہے ۔۔
سوہا کی حلق میں موجود رائس اسکو کانٹوں کی مانند چھبتے محسوس ہوئے جبکہ مصطفی کے بھی فرائیڈ رائس کے بعد شاشلک کی ڈش اٹھاتے ہاتھ ساکت ہو گئے تھے ۔۔۔
تمہیں بتانا تو نہیں چاہیے تھا مگر یہ میرے باپ کی خواہش ہے کہ وہ تم سے ملنا چاہتے ہیں ۔۔
شفا کا لہجہ کسی بھی قسم کی رعایت سے عاری تھا ۔وہ حددرجہ رکھائی سے کہہ رہے تھی۔ ۔
تم مجھے سچ سچ بتاؤ بابا کو کیا ہوا ہے ۔۔۔۔؟؟؟
وہ ٹھیک تو ہے ؟؟؟
حمزہ اپنے بالوں کو مٹھیوں میں جکڑ کے پریشانی سے پوچھ رہا تھا ۔۔
بہت فکر ہو رہی ہے تمہی میرے بابا کی ۔۔۔۔۔۔؟
یہ مت بھولو کہ میرے بابا کو ان حالوں تک پہنچانے والے تم ہی ہو ۔۔۔۔۔!
خیر بابا ائی سی یو سے روم میں شفٹ ہو چکے ہیں اور تم سے ملنا چاہتے ہیں ۔۔۔۔۔۔"
میں آ رہا ہوں۔۔۔۔ !!
ویسے تمہیں آنا تو نہیں چاہیے۔۔۔۔۔۔"
او میں بھی کتنی بے وقوف ہو تمہارے پاس تو یہ گولڈن چاند ہوگا انکو مزید ازیت پہچانے کا۔ ۔۔۔۔!!
میں اتنا گرا ہوا نہیں ہوں۔۔۔۔۔۔۔"
تمہارے منہ سے یہ بات ذرا جچ نہیں رہی ہے ۔۔۔۔!!
تم کتنے گرے ہوئے ہو مجھ سے بہتر کون سمجھ سکتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔
چلو شفا جلدی چلو یار انکل آنٹی ویٹ کر رہے ہوں گے تمہارا ۔
ہاں بس ایک منٹ آئی ۔۔۔۔۔"
بس آپ گاڑی سٹارٹ کریں میں آتی ہوں۔۔۔۔۔!!
عاشیر کیوں آیا ہے۔۔۔۔؟؟
اس وقت وہ بھی جب گھر میں تم تنہا ہو ۔۔۔۔!!
وہ کیوں آئے ہیں کیوں نہیں ۔۔۔۔
دس از نن آف یور بزنس ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!
وہ موبائل کو وہیں صوفہ پہ پٹخ کے جاچکی تھی۔۔۔۔۔۔یہ دیکھے بغیر کہ فون بند ہوا ہے یا نہیں ۔۔۔۔۔
جبکہ کوئی بری طرح سے آگ کے شعلوں کی لپیٹ میں آچکا تھا ۔۔۔۔۔۔!!!!
وہ نادانستگی میں ہیں حمزہ کو دہکتے کوئلوں پہ چلا گئی تھی ۔۔۔
🍂🍂🍂🍂🍂🍂🍂🍂🍂
یہ لو یہ میرے ہاتھ کی کافی ہے ۔
بقول تمہارے میں مر چیں چباتا ہوں۔
مگر یہ میرا وعدہ ہے کہ اس میں میں نے شکر کا استعمال وافر مقدار میں کیا ہے بے فکر ہو کے پی سکتی ہوں ۔
وہ گہری ہوتی شام کے وقت لان میں رکھی بیت کی کرسیوں پہ آکر بیٹھ گئی تھی جبکہ کچھ دیر بعد مصطفی بھی اس کے سر پر آن پہنچا تھا اور بیت کی کرسیوں میں سے ایک رسی گھسیٹ کر اس سے کچھ فاصلہ رکھ کے بیٹھ چکا تھا ۔
ہمیں کچھ دیر میں نکلنا ہے کیپٹن سے بات ہوگئی ہے۔ میری یہاں سے کچھ فاصلے پہ کچھ ہی دیر میں وہ ایک ہیلی کاپٹر اتروا دیں گے ۔۔
جس میں ۔۔۔
میں تمہیں بٹھا کہ بادلوں سے لڑتا ہوا صحیح سلامت تمہاری اماں جان کے حوالے کردوں گا ۔
شکریہ ۔۔۔۔۔۔!!
وہ کافی کام مگ ہاتھ میں لے کر اتنا ہی بولی تھی ۔
مصطفیٰ نے ایک خاموش نظر اس کے صبیح چہرے پر ڈالی تھی۔۔
ڈوبتے سورج کی کرنیں اس کے چہرے کو مزید روشن اور ستوان ناک کے نقوش کو جگمگ کر رہی تھیؑ ۔
کمسنی و معصومیت ،نازک سراپہ اور میک اپ سے مبرا دلکش چہرہ لیے وہ اداس سی لڑکی اس کو ڈھلتی ہوئی شام کا ہی حصہ لگ رہی تھی ۔
میں تمہارے ظاہری روپ سے محبت نہیں کرتا بلکہ تمہارا بے دھڑک اور بے لچک انداز میرے دل میں گھر کر گیا ہے ۔۔
محبت اپنی جگہ مگر میرا دل تمہیں بہت بلند مقام پہ فائز کربیٹھا ہے ۔
تم دوسری لڑکیوں سے بہت مختلف ہو۔
خود کو پلیٹ میں سجاکر پیش نہیں کیا تم نے ۔اس کے باوجود بھی کہ تم یہ بات جانتی تھی کہ تمہارے لئے پرپوزل امی ڈال چکی ہیں ممانی جان سے بات بھی کر لی ہے ۔
بس اب جواب کی منتظر ہیں امی ممانی جان کہ۔ ۔۔۔
تمہاری یہی ادا میرے دل و دماغ کو بھاگئی۔ چپکے چپکے دل تمہارا انتخاب جھٹ سے کر بیٹھا تھا ۔
وہ اس کی لرزتی اٹھتی گرتی پلکوں کو نظروں میں قید کرتا اپنا حال دل بیان کر رہا تھا ۔۔
خود کو چاہے جانا کسی کو چاہے جانے سے بہت بہتر ہے ۔
سوہا کی آنکھوں سے دو موتی ٹوٹ کر گرے تھے جو مصطفی نے اپنی پوروں میں جذب کیے تھے ۔
تمہیں برا تو نہیں لگا میرا تم سے اقرار محبت کرنا؟؟؟؟؟
وہ خاموش تھی کیا کہتی ۔۔۔۔
کچھ تھا ہی نہیں کہنے کو۔ ۔
بے خیالی میں کھوئے کھوئے سے انداز میں نفی میں سر ہلا گئی ۔
پھر یہ بے موسم برسات کیوں ۔؟؟؟
اس کا دل خوشی سے جھوم اٹھا تھا اپنے محبوب کے خاموش اقرار پہ ۔
محبت کا جواب محبت سے ہی ملنا نصیب کی بات ہے ورنہ ہر کسی کو نہیں ملتی اس کے محبوب کی چاہت اور اس کا ساتھ ۔۔۔
اس وقت وہ بھول بیٹھا تھا کہ جو ہمیں بہت آسان اور معمولی کام لگ رہا ہوتا ہے وہ اکثر ہمارے لیے بہت بڑا امتحان بن کے سامنے آتا ہے ۔۔۔
اے ۔۔۔۔۔۔بیوقوف جب مجھے اپنا مان ہی چکی ہو تو پھر یہ آنسو کیوں۔۔۔ ؟؟؟
مجھے آپ سے دور نہیں جانا ۔۔ ۔۔۔!
رونے کی وجہ سے سرخ ہوئی چھوٹی سی ناک کو سڑ سڑ کرتی بولی تھی ۔
تو میں نے کب کہا ہے کہ میں تمہیں دور کر رہا ہوں خود سے۔۔۔۔؟؟
وہ۔ دلچسپی سے اس لمحے سوہا کے چہرے پر بکھرے قوس وقزح کے رنگوں کو دیکھنے میں مصروف تھا ۔
بہت دلچسپی سے وہ اس کے دل موہ لینے والے تاثرات کو اپنی نظروں کے حصار میں لیے ہوئے تھا۔
پتا نہیں مجھے کچھ بھی نہیں پتہ بس مجھے آپ سے دور نہیں ہونا۔۔۔۔۔
وہ بچوں کی طرح بہت ضدی لہجے میں کہہ رہی تھی ۔
نجانے کیسی انسیت سی ہو گئ تھی اسکو۔
کیا تھا کوئی بندش نہ ہوتے ہوئے بھی سوہا کے دل میں کئی وہمات نے گھر کرلیا تھا ۔وسوسوں نے اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا ۔
میں تم سے دور نہیں ہو سکتا اور نہ ہی تمہیں خود سے کبھی الگ ہونے دے سکتا ہوں۔۔۔۔
تم میری سانسوں میں بستی ہو میری روح کی مکین بن چکی ہے ۔
وہ اس کے گداز ہاتھ اپنے پر حدت ہاتھوں میں تھام چکا تھا اور دوسرے ہاتھ سے سوہا کے ہاتھ کی پشت کو نرمی سے سہلا رہا تھا ۔
اور پھر جب گھر جاؤگی تو ہی تو میرے ساتھ دلہن بن کے رخصت ہو کر میرے اور اپنے ماں باپ کی دعاؤں کے سائے تلے اپنے پیاء کےگھر سدھا روگی۔۔۔۔۔
وہ گھر جو صرف اور صرف ہم دونوں کا ہوگا۔۔۔
جہاں صرف خوشیاں ہی خوشیاں رقص کریں گی۔۔۔
مجھے لگتا ہے اگر ابھی میں نے قاضی صاحب کا انتظام نہ کیا تو میری چھوٹی سی محبوبہ کہیں اندر ہی اندر گھل کہ ڈھانچہ تو دور کی بات نظر بھی نہیں آئے گی ۔
وہ شرارت سے کہتا ہوا اس کی چھوٹی سی ستواں ناک پہ چٹکی بھرتا اس کو مسکرانے پر مجبور کر گیا تھا ۔
🍂🍂🍂🍂🍂🍂🍂🍂🍂🍂🍂
ولیمہ کی تقریب کا بہت شاندار انداز میں اہتمام کیا گیا ۔ پورے گاؤں کو کسی دلہن کی طرح سجایا تھا حویلی کی تو جیسے شان ہی نرالی تھی پوری حویلی لائٹوں اور گیندے کے پھولوں سے جگمگ کر رہی تھی ۔
حماد صاحب ادھر سے ادھر اپنی نگرانی میں ہر ایک انتظام ملازموں سے کروانے میں مصروف تھے خوشی ان کے چہرے سے پھوٹی پڑ رہی تھی ۔
آج حویلی میں آیا کوئی بھی فرد خالی ہاتھ نہیں جانا چاہیے ۔۔۔زرینہ جاؤ اماں جان سے پوچھو کہ چاندی کے تھال اور ان میں ہر ایک فرد کے لئے رکھے گئے تحائف پورے ہیں ۔۔کسی چیز کی کمی تو باقی نہیں رہی ہے ؟؟
اگر وہ اماں جان نے ترتیب سے رکھوا دیے ہیں تو ان سے لے کر آپ اپنی نگرانی میں رکھلواور یہ آپ کی ذمہ داری ہے کہ ہر ایک مہمان خوش ہو کر جانا چاہیے ۔
وہ اپنی پرانی اور نمک خوار ملازمہ کو ہدایت دینے لگے ۔
جی صاحب جیسا آپ کہیں گے ویسا ہی ہوگا کسی بھی مہمان کی مہمان نوازی میں کمی نہیں آئے گی ۔۔
بالکل ایسا ہی ہونا چاہیے آخر کو آج ہمارے لختےجگر کا ولیمہ ہے کوئی عام بات تھوڑی ہے۔۔
غزل اپنی بہو کے لیے ریسیپشن پر پہننے والا لباس اور جیولری وغیرہ بڑے بڑے تھالوں میں رکھے اس کے کمرے کی طرف لے جاتے ہوئے خوشی سے چور لہجے میں گویا ہوئیں ۔
اب یہ کیا ہے ابھی تک ہماری بہو کو آپ نےتیار نہیں کروایا پتا بھی ہے کچھ ہی دیر میں سب مہمان آنے شروع ہو جائیں گے ۔۔
وہ غزل کو سجا سنورا دیکھ کہ چاہ کر بھی اپنے لہجے میں سختی پیدا نہ کر سکے تھے۔۔
غزل ان کی من چاہی بیوی تھیں اور ان کو دل و جان سے عزیز ترین تھی ۔
حماد صاحب جب بھی کبھی شدید اشتعال میں ہوتے تو غزل جیسے اپنے لبوں پہ قفل چڑھالیا کرتی تھی اور جب ہماد صاحب کا غصہ ٹھنڈا ہوتا تب وہ ان کو منانے کے لئے خوب معذرت کیا کرتے ۔
اور وہ مان جاتی ۔
پھر عورت تو ہے ہی سدا سے محبت کی بھوکی ۔۔
🍂🍂🍂🍂🍂🍂🍂🍂🍂🍂🍂🍂🍂🍂
ولیمے کی تقریب بہت اچھے طریقے سے اپنے اختتام کو پہنچ چکی تھی اور فجر کو غزل نے اس کے بیڈ روم تک پہنچایا تھا ۔
ڈھیرساری دعائیں دیتے ہوئے اس کی پیشانی چوم ڈالی تھی ۔۔اتنی محبت پہ فجر کی آنکھیں نم ہو گئیں ۔
وہ کمرے کا جائزہ لینے لگی ۔۔۔
کمرے کو دیکھ کہ اس کی آنکھ میں ستائش ابھری تھی ۔
پورا کمرہ بہت خوبصورتی سے آرٹسٹک انداز میں ڈیکوریٹڈ تھا ۔۔۔
یہ وہ کمرہ نہ تھا جس میں وہ پچھلے پندرہ دنوں سے رہ رہی تھی یہ کمرہ خاص کر اب سے نئے دلہن دولہا کے لیے کھولا گیا تھا ۔۔۔
بہت ہی عالی شان بیڈروم تھا۔اس کی جدید طرز بے آرائش و پیمائش نے کمرے کی خوبصورتی میں چار چاند لگا دیئے تھے ۔
فجر کو لگا تھا جیسے وہ کوئی کمرہ نہ ہو بلکہ چھوٹا سا محلہ ہو ۔
چند لمحوں کے لئے تو وہ بیڈ روم کی فضا میں سرایت کرتی مسحورکن خوشبو میں کھو سی گئی تھی۔۔
اسکو خوشبو اور پھولوں سے بہت محبت تھی وہ دیوانی تھی پھول اور خوشبو کی ۔۔۔۔
🍂🍂🍂🍂🍂🍂🍂🍂🍂🍂🍂🍂🍂🍂
کیا ہوا کیا میرے بغیر دل نہیں لگ رہا ۔۔۔۔۔۔؟
بہت قریب سے سرگوشی ہوئی وہ چونکی تھی ایک طلسم تھا جو ارمغان کی آواز نے توڑا تھا یا پھر اس کا پھولوں اور خوشبوؤں سے ہوا رابطہ یکایک منقطع ہو گیا تھا ۔۔
آنکھوں کی چمک یکایک ماند پڑھی تھی۔۔۔۔۔
جی نہیں دل نے کہا ہے کہ آج آپ کو یاد کیا جائے۔۔۔!
وہ ایک ادا سے کہتی اس کی طرف گھوم گئی تھی اور اپنےحنا آلود چوڑیوں سے سجےہاتھ اس کی گردن میں حمائل کر گئی۔ ۔
اوہو آج تو لگتا ہے کہ سورج غلط سمت سے نکلا ہے خیریت تو ہے؟؟؟؟؟
آج تو بہت رومنٹک ٹون میں میری زوجہ محترمہ مجھ نہ چیز سے مخاطب ہیں ۔۔؟؟؟
تو کیا تمہارے لان میں مٹرگشت کر تے صوفی صاحب کے ساتھ رومانس جھاڑوں ۔۔۔؟؟
اوف۔۔۔۔۔ اب تمہارے اور میرے بیچ یہ صوفی صاحب کون اور کہاں سے آن ٹپکے؟ ؟؟؟
ارے تم صوفی صاحب کو نہیں جانتے؟؟
حویلی میں بسنے والے سب سے پرانے جنات میں سے ہیں وہ۔۔۔۔۔۔!۔
بلکہ بابا سائیں اور ماما جان کے بالکل برابر والے بیڈروم کی زمین کے اندر ان کی سولہ سو سال پرانی قبر ہے عنقریب ۔۔۔۔!!
وہ گہرے لہجے میں بول رہی تھی جبکہ مان اسکی سن ہی کہاں رہا تھا ۔۔۔۔
وہ بس اس کے سراپہ میں گم اس کی کسی بھی بات پہ کان دھرےبغیر مدہوش سہ اسکے چہرہ پہ جھکا۔کئی جسارتیں کرچکا تھا۔
فجر نے کچھ جھجک کہ ایک قدم پہچھے لیا تھا۔
وہ آج بھی روزاول کی طرح ارمغان سے شرمایا کعتی تھی۔
اسکی جسارتوں پہ جھینپ جاتی۔ اسکی قربت میں سمٹ سمٹ جاتی۔ ارمغان اسکی جھجک اور گھبراہٹ محسوس کرکہ بہت محضوض ہوا کرتا اور مزید شرارتوں سے اسکو زچ کئے رکھتا۔
وہ چہرے پہ معنی خیز سی چمک لئے فجر کی طرف بڑھآ تھا۔
میں بہت خطرناک ہوں مجھے ہلکا نہ لیں ۔
آپکو مجھ سے ڈر نہیں لگتا؟ ؟؟۔وہ اسکی آنکھوں میں جھانک۔ رہی تھی۔
انکھوں میں مخصوص خاص چک ابھری تھی۔
بیوی سے ڈرلگتا ہے ظالم بہت مگر محبوبہ سے دل لگتا ہے۔ ۔۔۔
ہر رات چاندنی ہوتی ہے۔
ہر دن عید لگتا ہے۔
وہ ٹھنڈی آہ بھر کہ بولا جبکہ فجر شدید تراش خراش کی ووڈن سائٹی پہ گری تھی۔
پیچھے حد ختم تھی۔ ۔۔
قدم تھم چکے تھے۔ ۔
سانسیں تیز ہوئی پورے وجود میں جلترنگ بجانے لگی۔ ۔۔۔
کمرے کی فضا میں مہکتی بھینی بھینی خوشبو دونوں کو اپنے حصار میں قید کر چکی تھی۔
ارمغان نے دوقدم کا درمیآنی فاصلہ بھی ختم کرڈالا تھا۔
جب جانتی ہو کہ تم مجھ سے نہیں بچھ سکتی ہو تو پھر خوامخواہ اپنی ننھی سی جان پہ ظلم کرکہ خود کیوں ہلکان کرتی ہو؟ ؟؟؟
یہ وقت اور لمحات بہت خاص ہیں انکو فضول کی مزاہمتوں میں زایہ مت کرو۔
تم مجھے محسوس کرو اور مجھے تم اپنے وجود کی مسہور کن خوشبو اپنے اندر اتارلینے دو۔
سمالینا چاہتا ہوں میں تمہیں خود میں۔
تم سمیت تمہارا پور پور میرا ہے۔ ۔۔۔
تمیں چھونا جی بھر کے دیکھنا میرا حق ہے جاناں۔ ۔۔۔۔۔۔۔
لہجہ بہکا سہ ہوا جزبات سے چور۔
محبت لٹااتا ۔۔۔۔
یقین دلاتا۔ ۔۔۔۔
جبکہ آنکھوں میں فجر کو دیکھ کہ بہت پیاری سی دلکش مسکراہٹ رقصاں تھی۔
فجر کا دل سینے کی قید کو توڑ کہ آزاد ہونے کو تھا
ڈھڑکنیں الگ بے ایمانی کرتی معمول سے کئی زیادا تیزی سے ڈھڑک رہی تھیں۔
وہ جھکا۔ تھا اور اسکے خوبصورتی سے بیوٹیشن کےماہرانہ ہاتھوں سے کئے گئے میکپ سے سجے حسین چہرے کواپنے ہاتھوں میں بھرکہ اسکے گداز مخملی لبو پہ اپنے پر حدت لب لکھ دئیے تھے۔ ۔
وہ کئی لمحے اس میں کھویا رہا ۔۔
فجر کی قربت میں ایک نشہ سہ تھا یاپھر کوئی خاص کشش جو ارمغان کے حواسوں پہ چھا جاتی ۔۔
وہ دلہن بنی سجی سنوری سائٹی پہ بیٹھی تھرتھر کانپتی ارمغان کہ لمحہ بہ لمحہ بڑھتی جسارتوں کو برداشے نہ کرسکی تھی ۔۔۔
وہ ڈھے سی گئی تھی۔
ارمغان اسکے وجود کے ایک ایک پور کو صندل کرہا تھا۔ ۔
آسکے مرمری گداز سراپہ کو اپنے وجود کی خوشبو سےمہکاتا رہا تھا اپنے نرم گرم جزبات کی حدت بخشتہ رہا۔۔۔۔۔
فجر کے وجود کی تھکن خود میں بھر سمیٹلینے کی قسم کھائی تھی شاید۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔
فجر تمآم احتجاج ترک کئے اسکی محبت بھری مہکتی پھوار میں بھہگتی چلی گئی۔ ۔۔۔
🍂🍂🍂🍂🍂🍂🍂🍂🍂🍂🍂🍂🍂🍂
وہ شفا کے ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی ہسپتال پہنچ چکا تھا ۔۔۔
اب کیا لینے آئے ہو تم یہاں ؟؟
اب کیا رہ گیا ہے سب کچھ تو تم ختم کر چکے ہو۔۔ جشن مناؤ مٹھائیوں کے ٹوکرے لوگوں میں تقسیم کرو ہوگئے ہم برباد ۔۔۔۔۔
اب کیا میرے شوہر کو قبر میں پہنچا کر سکون کا سانس لینا چاہتے ہو ؟؟؟؟
آئمہ بھپری ہوئی شیرنی کی طرح روتے ہوئے اس پر جھپٹی تھی ۔وہ اس کا گریبان مٹھیوں میں جکڑ کہ ہزیانی انداز میں اسکو زورزورسےجھنجوڑنےلگی ۔۔۔۔
چٹاخ۔ ۔۔۔۔۔
ساتھ ہی ایک تھپڑ منہ پہ بھی جڑ ڈالا تھا وہ اس وقت اپنے آپے میں نہ تھی ۔۔
کچھ نہیں بگڑا ابھی۔۔۔
میں کچھ نہیں بگڑنے دوں گا ۔۔۔
سب کچھ ایک دفعہ پھر سے بالکل پہلے جیسا کر دوں گا ۔۔۔
سب ٹھیک ہو جائے گا ۔۔۔
وہ ماں کو کندھوں سے تھام کر بولا تھا ۔
کوریڈور میں موجود باقی نفوس سن سے کھڑے ماں بیٹے کے درمیان ہوتی تلخ کلامی کو ہونقوں کی طرح دیکھ اور سن رہے تھے ۔۔۔۔
ممانی جان آپ پلیز پانی پئیں۔ ۔
کچھ نہیں ہوگا ماموں جان کو ۔۔۔۔۔"
حمزہ بھائی ماموں آپ کو بلا رہے ہیں اندر ابھی کچھ دیر پہلے ہی ان کو روم میں شفٹ کر دیا گیا ہے بروقت پہنچنے کی صورت میں اللہ نے ہم پہ بہت کرم کیا ہے۔۔۔
ماموں جان کو ہلکا سا ہارٹ اٹیک آیاہے ۔بروقت طبی امداد ملنے کی وجہ سے وہ اب بہتر ہیں ۔
مگر ڈاکٹر نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر اب مزید ماموں جان کو کسی بھی قسم کا اسٹریس یا پھر کوئی بھی ذہنی ٹینشن کا ہونا ٹھیک نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابھی وہ پوری طرح سے ٹھیک نہیں ہے ۔۔"
لائبہ نے جان بوجھ کر تفصیلاً بتایا تھا وہ جانتی تھی وہاں موجود کوئی بھی شخص حمزہ کی طرف دیکھنا تک گوارا نہیں کرے گا بات کرنا تو بہت دور کی بات ہے اور ساتھ ساتھ ہلکے پھلکے انداز میں ڈاکٹر کا خدشہ بھی ظاہر کر ڈالا تھا تاکہ وہ نرمی سے کام لے سکے۔ ۔۔۔۔
وہ بہت اچھی طرح جانتی تھی حمزہ کو وہ عمر سے بالکل مختلف تھا ۔
عمر اگر برف تھا تو ہمزہ آگ تھا ۔۔۔۔
عمر پلیز آپ پانی لے کر آئیں ممانی جان کے لیے ۔۔۔
وہ اب سمیرا کے لئے پانی منگوا رہی تھی کیونکہ اس کے پاس جو پانی تھا وہ تھوڑا سا باقی تھا جو ائمہ کو پھیلا چکی تھی اب سمیرا کی حالت دیکھ کر وہ مزید دکھی ہوئی تھی ۔۔
عمر سمیرا کو پکڑ کر باہر لایا تھا رحمان صاحب کے روم سے ۔۔وہ رو رو کہ نڈھال ہو رہی تھی ۔۔۔
اور جب سمیرا کو سہارا دے کر ہسپتال کے کوریڈور میں رکھی چیئر پہ بٹھایا تو اس کے بعد اس کی نظر اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز بڑی ماں کو اپنے ہی سگے تایا زاد بھائی سے تلخ کلامی کرتے دیکھ مزید خود میں تھکن سی محسوس کرنے لگا۔۔۔
وہ بالکل خاموش تھا بس اپنی فیملی کے لئے خداسے اس کی رحمت اور اپنے گھر اور اس کے مکین کے لئے خوشیوں کی دعا مانگ رہا تھا ۔۔
وہ اپنی بہن کے لئے رحم جبکہ باپ کے لئے صحت اور تندرستی والی زندگی کی شدت سے دعا کر رہا تھا ۔۔
عمر اپنی فیملی اور خود سے منسلک رشتوں کو بہت اہمیت دینے والا ۔ ان کو ہمیشہ خوش رکھنے اور دیکھنے کا متمنی تھا۔۔۔۔
وہ اب بھی ہمزہ کے لئے نیک ہدایت مانگ رہا تھا اللہ سے ۔۔۔
وہ بہت اچھی طرح سے جانتا تھا کہ اس کے باپ کی جان بستی ہے حمزہ میں ۔وہ جانتا تھا کہ اب اس کا باپ مزید حمزہ کی بے رخی اور کنارہ کشی کو جھیل نہیں سکے گا ۔۔۔
معجزات بھی اسی دنیا میں ہوتے رہے ہیں ۔۔۔۔
دل نے جیسے ایک امید جگائی تھی ۔
لائبہ کو بھی وہ دیکھ رہا تھا وہ ہر طرح سے خود کو مضبوط ظاہر کر رہی تھی۔۔۔۔
اندر سےجتنی بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھی مگر ہر ایک کا غم بانٹنے کی تگ ودو میں وہ پیش پیش تھی۔۔
لائبہ کو بہتر اور قدرے سنبھلا ہوا دیکھ کر وہ کافی حد تک اس کی طرف سے مطمئن ہوا تھا مگرلا پرواہ ہر گز نہیں تھا۔ ۔۔
مجھے معاف کر دو بیٹا حمزہ ۔۔۔
جیسے ہی حمزہ ان کے پاس آ کر بیٹھا تھا رحمان صاحب نے ہمت کرکے کہتے ہوئے اپنے دونوں ہاتھ مصطفی کے سامنے جو ڈالے تھے۔
آپ مجھے گنہگار مت کریں پلیز۔
اگر آپ غلطی پہ تھے تو قصور وار میں بھی کم نہیں ہوں۔ ۔۔
میں نے کونسا اپنے اور اپنی ماں کیلئےانصاف اپنے اللہ پر چھوڑ دیا تھا ۔۔
میں بھی تو جانے انجانے میں ایک اور ائمہ کو وجود میں لانے کو تھا مگر بروقت اللہ نے مجھے ہدایت دے ڈالی ہے۔
میں اپنے رب کا بہت بہت شکر گزار ہوں کے اس نے مجھے ایک موقع عطا کیا ۔۔
وہ رحمن صاحب کے جڑے ہوئے ہاتھوں کو تھام کہ اپنی بھیگی پلکوں سے چومتا کسی معصوم بچے کی طرح بلک اٹھا تھا ۔۔
آخر کو رحمان صاحب نے اپنے بچوں سے بڑھ کر اس کو چاہا تھا ۔اپنے بچوں کو بعد میں اہمیت دی ہمیشہ ہر ایک چیز میں اسی کو آگے رکھا۔۔
اپنے منہ کا نوالہ تک اس کو کھلایا اور پھر وی آئمہ سے بھی کچھ عرصے پہلے اپنے تلخ رویوں کی معافی مانگ چکے تھے ۔۔۔
ائمہ نے ان کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی ان کی بڑی ہوئی چوڑی ہتھیلی پہ اپنا ہاتھ رکھ دیا تھا۔ یہ اس کی طرف سے اس بات کا اقرار تھا کہ وہ رحمان صاحب سے اب خفا نہیں تھی ۔۔
مگر حمزہ تھا جس کے لیے وہ پل پل اندر ہی اندر گھل رہے تھے ۔وہ کسی طور بھی ان کو بخشنے کے موڈ میں نہ تھا بلکہ اس کے سر پر تو جیسے انتقام کا بھوت بری طرح سوار ہو چکا تھا ۔۔
مگر وقت بہت بڑا استاد ہے وہ کسی نہ کسی طریقے سے ایک نہ ایک دن انسان کو صحیح اور غلط کی تمیز ضرور سکھا دیتا ہے ۔۔۔
میں بہت گنہگار ہوں میرے بچے میرے لئے خدا سے رحم مانگو۔۔۔
تمہاری ماں نے مجھے معاف کر دیا ہے۔۔۔
تم نے بھی شاید مجھے معاف کر دیا ہو ۔۔۔۔
یا پھر تم مجھے آئندہ معاف کرنے کا حوصلہ خود میں پیدا کر سکو۔۔۔
مگر کیا میرا خدا مجھے کبھی معاف کر دے گا ۔۔۔۔۔۔؟؟؟
وہ بے بسی سے نحیف سی آواز میں بڑی مشکل سے ٹھہرٹھہر کہ بولے تھے ۔۔
میں جانتا ہوں تم بہت صاف دل کے مالک ہو تمہارا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جو اپنا غصہ اور نفرت ظاہر کردیتے ہیں مگر میرا شمار تو میرے بچے ان لوگوں میں ہوتا ہے جو اندر ہی اندر نفرت پالتے ہیں خطرناک زہر بنانے کی غرض سے ۔۔
بابا آپ بالکل پریشان نہ ہو جلدی سے بس ٹھیک ہوجائیے ۔
میرے دل میں کوئی ناراضگی باقی نہیں رہی ہے میں آپ کو بالکل صحتیاب ہنستا مسکراتا دیکھنا چاہتا ہوں ۔۔
کیا کہا تم نے دوبارہ سے کہو ۔ب۔ ا۔۔با۔ ۔۔۔۔
بابا ۔۔۔۔۔!!!
وہ ہکلاتے ہوئے بہت اٹک اٹک کر یہ لفظ ادا کر پائے تھے ۔۔بچپن میں وہ بہت پیار سے رحمان صاحب کو بابا کہہ کر بلاتا تھا مگر جیسے جیسے اس نے ہوش سنبھالا شروع کیا اس کے بعد اس نے رحمان صاحب کہنا شروع کردیا تھا بابا وہ دانستہ نہیں کہتا تھا ان کو ۔۔
بابا پلیز مجھ سے بھی بہت بڑی غلطی ہو گئی ہے دعا کریں مجھے بھی معافی مل سکے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
وہ رحمان صاحب کے سینے پر سر رکھے بھیگے لہجے میں بولا ۔
تم مجھے معاف کردو میرے بچے۔۔۔
میں نے تمہیں معاف کیا۔۔۔۔۔۔۔
اے میرے رب تو ہم گنہگاروں کو معاف کردے اور باقیوں کے دلوں میں رحم ڈال دے کل وہ ہمیں سچے دل سے معاف کر سکیں ۔۔۔
رحمان صاحب کی آواز اتنی بلند ضرور تھی کہ عاشیر کے ساتھ کافی دیر سے کمرے کے اندر آئی شفاء کے کانوں میں نہ پڑتی ۔
چچا بھتیجے کی انتہائی نفرت کے بعد ہوئی شدید محبت کے نظارے دیکھ وہ واقعاتاً وہ زمین بوس ہونے کو تھی۔۔۔۔۔۔
شفا ہوش کرو ۔۔۔۔۔۔!!
تم ٹھیک تو ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟۔
خوبرو سہ عاشیر کی گھمبیر آواز نے یک لخت حمزہ کو چونکآیا تھا وہ جیسے ہوش کی دنیا میں واپس آیا اور ٹھٹھک کے پیچھے مڑ کہ دیکھا ۔۔
مگر سامنے کا نظارہ دیکھ کر اس کا خون کھول اٹھا تھا دماغ کی رگیں تنسی گی تھی ۔۔
_____
نہیں پلیز میں اس پر چڑھ کر بیٹھنا تو دور کی بات سفر تک نہیں کر سکتی۔۔۔
وہ رنوے پہ موجود ہیلی کاپٹر کو دیکھ کر جیسے بوکھلائی تھی اور خوفزدہ ہو کہ سہمی ہوئی آواز میں کہہ رہی تھی ۔۔اس کے دل کے جیسے ہول اٹھ رہے تھےمتوقع ہوائی سفر کے متعلق سوچ سوچ کہ۔ ۔۔۔
یار تم تو مجھ جیسے بقول تمہارے ہلا خان سے گھبرائی نہیں کبھی۔۔۔ یہ تو پھر بے ضرر بے جان ہے۔ ۔۔۔۔۔۔
وہ سوہا کے سراسیمگی لیے تاثرات پہ محظوظ ہوا اور ساتھ ہی ہیلی کاپٹر کے اندر جا کے اس کو ہاتھ دیا تھا اندر آنے کے لئے ۔۔۔
مجھے نہیں آنا اندر آپ بھی واپس آئیے نیچے فوری۔۔۔۔
وہ ضدی لہجے میں بولی آنکھوں میں خوف کی تحریری رقم تھی ۔۔۔
یار تمہارا مسٹر پائلٹ پوری دنیا کو بڑے بڑے جہازوں میں ادھر سے ادھر ہواؤں میں لے کر گھومتا ہے اور تم ہو کہ اعتبار کرنے کے لیے تیار ہی نہیں ہو۔۔۔۔۔۔
افسوس ہوا بہت ۔۔ ۔۔۔!!!
وہ چہرے پر مصنوعی خفگی سجا کہ کہہ رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
بس میں کچھ نہیں جانتی آپ نیچے اترئیے ۔۔
تم اندر آ رہی ہو خود چڑھکے یا پھر میں تمھیں چڑھاؤ؟؟؟
بعد میں مجھ سے پھر گلا نہ کرنا۔۔۔
وہ اب دھمکیوں پر اتر آیا تھا پچھلے آدھے گھنٹے سے وہ مسلسل نہی نہی کی گردان کئے جا رہی تھی۔۔۔۔۔
میں جارہی ہوں اگر آپ نے آنا ہو تو واپس آجائیے گا ہم لوگ بائی روڈ بھی جا سکتے ہیں ۔۔۔
وہ کہتے کے ساتھ ہی الٹے قدموں پلٹ چکی تھی۔۔
بیوقوف لڑکی میں ہوا کو چیرتے ہوئے بادلوں سے باتیں کرتا پھرتا ہوں اور محترمہ کہہ رہی ہیں کہ بائی روڈ جانا ہے ۔۔
وہ خائف سہ ہوا اور جمپ لگا کہ ہیلی کاپٹر سے نیچے اتر آیا ۔۔۔
شکرکہ آپ آ گئے ۔۔۔۔
ویسے مجھے پتا تھا آپ کبھی مابدولت کا حکم نہیں ٹالیں گے۔۔۔
وہ فرضی کالر اس اچکا کہ بولی تھی۔۔۔
بجا فرمایا آپ نے ۔۔۔
میں تو آپ کے حکم کا غلام ہونا؟؟؟
اسی لئے تو مجھے دنیا میں بھیجا گیا ہے آپکی چاکری کرسکوں۔ ۔۔۔
وہ دانت پیس کہ ایک ایک لفظ چبا چبا کے بولا تھا اور ساتھ ہغیر سوہا کو سمجھنے کا موقع دیا اپنے بازو میں بھر کر بانہوں میں اٹھا گیا ۔
یہ۔۔۔۔ یہ ۔۔۔کیا۔۔۔۔؟؟؟
چھوڑیں مجھے اتارئیے نیچے۔۔۔
میں نے آپ کو کتنا کہا ہے کہ مجھ سے دور رہیں اور پلیز مجھے یہ دو مہینے کے بچوں کی طرح ہر وقت گود میں مت اٹھا لیا کریں۔۔۔۔۔!!
وہ چڑھ سی گئی تھی ۔خفا خفا سے لہجے میں گویا ہوئی ۔ ۔۔
خاموش ایک دم خاموش اب اگر ایک لفظ بھی تمہارے منہ سے نکلا نہ تو ہیلی کاپٹر کے ونگز کے اوپر بٹھا کہ خود ہیلی کاپٹرکے اندر بیٹھ کے چلا دوں گا ۔۔۔۔
پھر کھیلتی رہنا ہواؤں کے ساتھ گلی ڈنڈا۔ ۔۔۔۔
وہ خشمگیں نظروں سے گھورتے ہوئے برہمی سے بولا تھا۔ ہیلی کاپٹر اس کی ذاتی ملکیت تو نہ تھا ایک مقررہ وقت پر اس کو واپس بھی ادارے کے حوالے کرنا تھا اور وہ پرکالہ تھی کہ نخرے ہی ختم نہیں ہو رہے تھے ۔
کک۔۔۔۔۔ کیا کہا ۔۔۔۔؟؟؟
کیا آپ مجھ پہ اتنا بڑا ظلم بھی کرسکتے ہیں ؟؟؟
حیرت سے اس کا منہ کھلا رہ گیا تھا جبکہ آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں اور لہجے میں اچھبنا تھا ۔۔
میں اس سے بھی زیادہ ظالم ہو اور ظلم کی تو بات ہی نہیں کرو۔۔۔۔ جب گھی سیدھی انگلی سے نہیں نکلتا تو میں مظالم کی انتہا بھی کردیتا ہوں ۔۔۔۔۔۔!!
جانے کیوں وہ سفاک ہوا تھا یا پھر سوہا کو لگا ۔
وہ اس کو اٹھا کہ ہیلی کاپٹر کے اندر اپنے برابر والی نشست پہ بیٹھاکہ تیزی سے اپنی نشست سنبھال چکا تھا ۔۔۔۔
سیٹ بیلڈ باندھ لو اب ہم کچھ ہی سیکنڈ میں ہواؤں سے باتیں کرنے لگیں گے ۔۔ ۔۔
وہ سوہاکے بھولے ہوئے چہرے پہ۔ ایک شریر سی مسکراہٹ اچھال کہ بولا تھا کچھ لمحوں پہلے والی لفگی و جھنجھلاہٹ کی جگہ اب نرمی نے لے لی تھی جبکہ سوہا بغیر اس کی طرف دیکھے سیٹ بیلٹ باندھ رہی تھی ۔۔۔۔
ساتھ ہی لبوں پہ خوف کے مارے آیت الکرسی کا ورد بھی جاری تھا۔۔۔
ہاتھوں میں واضح لڑکھراہٹ تھی جیسےمتوقع سفر سے خوفزدہ ہو۔۔
بے حواسی اس قدر تھی کہ سیٹ بیلٹ بھی لگ کے نہیں دے رہی تھی ۔
ادھر لاؤ میں باندھ دیتا ہوں۔۔
وہ کہہ کر تھوڑا سہ جھکا تھا سیڈ بیلڈ لگانے کو۔۔۔۔۔۔
مجھے گدگدی۔ ہورہی ہے۔۔۔
پلیز دور ہٹئے مجھ سے۔ ۔۔۔
کھلکھلاتی ہوئی بولی۔۔۔
یار میں نے کونسا تمہیں جان کہ چھوا ہے۔۔۔۔؟؟؟
ابھی تمہارا یہ حال ہے تو بیوی بن کہ تو تم میرے قریب آنے پر پورے کمرے میں کلانچیں بھرتی پھروں گی ۔۔۔۔
وہ بھنوٹ ہوچکا تھا اور سو ہا سیٹ بیلٹ لگانے کےبعد پیچھے بھی ہٹ چکا تھا۔ ۔۔۔
ہیلی کاپٹر کا انجن اسٹارٹ کرتے ہوئے مصطفی نے خونخوار نظروں سے سوہا کو دیکھا تھا
ّوہ اب بھی کھی کھی کھی کر رہی تھی ۔۔۔۔
ہنسی سے لوٹ پوٹ ہو تی وہ مصطفی کو بھی ہنسنے پر مجبور کر دے ۔۔۔۔۔
🌿🌿🌿🌿🌿
چلو شفا ابھی باہر چلو انکل کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔۔۔۔۔۔
(عاشیر رحمان کے کزن کا بیٹا جو کہ بزنس کے سلسلے میں کراچی آیا ہوا تھا )نے شفاء کو سنبھالا دیا تھا ۔۔
شفا کا وہ ایک بہترین دوست تھا۔۔ ہسپتال آتے وقت آ شیر نے شفا کے اترے چہرے اور اڑی اڑی رنگت دیکھ کر بغیر کسی قسم کی تمہید باندھے اس کی اداسی کا سبب دریافت کیا تھا اور شفا جو کہ خود بھی اپنا دل ہلکا کرنا چاہتی تھی ایک دوست بہترین ہمدرد پاکہ جیسے اپنا ضبط کھو بیٹھی اور اپنے اوپر گزری ایک ایک بات اس کے گوش گزار کرتی چلی گئی۔۔۔
عا شیر تمام داستان سن کہ خاموش سا رہ گیا وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ اس پھولوں سے کندی لڑکی کو کس طرح دلاسہ دے اور اب جب حمزہ کو سامنے دیکھ کہ شفا کے چہرے پر ایک رنگ آ رہا تھا ایک جا رہا تھا ۔۔۔
حمزہ اور رحمان صاحب کے مابین ہوئی گفتگو سن کر وہ شفا سے کچھ اسی طرح کا ردعمل توقع کر رہا تھا ۔۔
حمزہ چہرے پر شدید اشتعال لیے شفاء کی طرف بڑھا تھا۔۔۔ وہ اس پل یہ تک بھول بیٹھا تھا کہ کہاں اور کس جگہ موجود ہے ؟؟
کن حالات سے وہ لوگ گزر رہے ہیں ۔؟؟؟مگر جیسے اس کی مردانگی اور انا یک دم مجروح ہوئی تھی ۔۔
یاد تھا تو بس اتنا کہ اس کی شفا کو کسی نامحرم نے ہاتھ لگایا ہے ۔۔۔۔
بازو سے تھام کر سہارا دے رکھا ہے اس کا خون کھول اٹھا تا دل کر رہا تھا کہ ہر چیز کو تہس نہس کر دے یا پھر عاشیر کا سرتوڑڈالے ۔
مگر پھر ہسپتال کے بیڈ پر لیٹے اپنے باپ جیسے چچا کا خیال آگیا اور وہ مٹھیاں بھینچ کہ بڑی مشکل سے خود کو کچھ بھی سخت سست سنانے سے روک سکا تھا ۔۔۔
دھپ۔ ۔۔ دھپ۔ ۔۔ دھپ ۔۔
وہ کتنےہی قدم کا فاصلہ صرف تین قدموں میں تہ کر گیا تھا ۔۔بھاری بوٹوں کی آواز اسپتال میں تاری سناٹے کو چیر سی گئی تھی ۔۔
میں تمہیں تھام سکتا ہوں۔۔۔
تمہیں سہارا دینا میرا کام ہے نہ کہ ہر ایک ایرہ غیرہ تمہیں لڑکھڑاتا دیکھ اپنی خدمات پیش کرنے کے لئے پہنچ جائے ۔۔۔۔
وہ شفا کی مرمی کلائی کو اپنے ہاتھ میں جکڑ کہ ایک لفظ کو چبا چبا کہ بولا تھا۔۔۔
انداز ایسا تھا کہ یا تو مرجائے گا یا پھر مار ڈالے گا ۔۔۔۔
پہلی بات یہ کہ جس کو آپ ایرا غیرا کہہ رہے ہو وہ میرا بہترین دوست ہے اور دوسری اور آخری بات جواب آپکو بہت اچھی طرح سے سمجھ لینی چاہیے اور اپنے دماغ میں بیٹھا لیں جلدازجلد تو آپکے لئے بہتر ہے ۔۔
کیا تم بھول رہی ہوں شفا کہ تم اس وقت اس سے بات کر رہی ہو؟؟؟
تمہارا مخاطب اس وقت کون ہے؟ ؟؟؟ وہ غور آیا ۔۔
ایک منٹ ابھی میری بات مکمل نہیں ہوئی ہے ۔۔۔وہ اس سے زیادہ تیز آواز میں دھاڑی تھی ۔۔
یہ جس قسم کے آپ دعوے اس وقت میرے سامنے کھڑے ہو کہ کر رہے ہو نا یہ اختیار تو خود آپ اپنے ہاتھوں سے گواہ بیٹھے ہیں اور اب میں آپکو کوئی حق نہیں دیتی خود کو سہارا دینے کا ۔۔۔۔
قطعیت بھرے لہجے میں کہا گیا ۔۔۔اور پھر ھانپتے ہوئے گہرہ سانس لے کےہایک دفعہ پھر سے اپنی بات کو جاری کیا ۔۔۔
سہارا وہ لوگ دیتے ہیں جو کبھی خود مشکل گھڑی میں لڑکھڑائے نہ ہو۔۔۔۔
نہ کہ وہ جو عورت کو ہتھیار بنا کر خود کو طرم خان سمجھتے ہیں ۔۔۔۔
اور سینہ چوڑا کر نکل پڑتے ہیں دنیا کو فتح کرنے ۔۔۔۔
وہ ایک جھٹکے سے اس کے ہاتھ سے اپنی مرمریں کلای چھڑا گی تھی ۔۔آنکھوں میں حقارت جبکہ لہجے میں تزہیک اور ر کھائی کا عنصر محسوس کیا جاسکتا تھا ۔۔۔۔
یہ مت بھولو کہ ابھی ایسا کچھ بھی نہیں ہوا ہے جس کی بنا پر تم اس قدر اچھل رہی ہو اور نہ میں اب تمہیں خود سے دور کروں گا چاہے تو اس کو تم میری ضد سمجھ لو یا پھر میری آنا ۔۔
مگر اب تم زندگی بھر مسز حمزہ ہی بن کے رہوں گی میں تم سے اپنا نام ہرگز بھی الگ نہیں ہونے دوں گا ۔۔۔۔وہ جیسے بہت بڑے فیصلے کو پہنچ چکا تھا
آنکھوں کی ڈورے غصے کی سرخی لئے ہوئے تھے۔ ۔۔
میں بھی یہی ہوں آپ بھی یہیں ہیں۔ ۔۔
دیکھتے ہیں کون کس قدر اپنی بات پر قائم رہتا ہے ۔۔۔!!!
وہ اپنے تئیں جیسے حمزہ کو کھلا چیلنج کر گئی تھی
عاشیر خاموش تماشائی بنا ان دونوں کے مابین ہوئی تلخ کلامی کو سن رہا تھا وہ چاہ کر بھی ان دونوں کے درمیان نہیں بول سکتا تھا ۔۔۔
چلیں عا شیر بہت سن لی اور بہت کہہ لی ۔۔۔وہ تلخی سے کہتی عا شیر کا ہاتھ پکڑ کہ وہاں سے جا چکی تھی ۔
حمزہ نے اپنے ہاتھ کی مٹھی کو گول کرکہ۔ مکا بنا کہ شیشے کے دروازے میں دے مارا ۔۔۔
جبکہ رحمان صاحب ہر بات سے بے خبر دواؤں کے زیر اثر نیند میں تھے ۔۔۔
___
ہم لوگ حویلی جا رہے ہیں۔۔۔۔
مان نے ناشتے کے بعد ہلکے پھلکے انداز میں بتایا اس طرح جیسے کوئی معمول کی بات ہے ۔۔۔
مگر کیوں ؟؟؟
تم جانتے بھی ہو تب تک ٹھیک تھا جب تم ویلے ہوا کرتے تھے مگر فجر نئی نویلی دلہن ہے اور نئی نویلی دلہن کے وجود میں ایک خاص خوشبو ہوتی ہے جو اوپری مخلوق کو کھینچتی ۔۔
دادی نے نرمی سے سمجھانا چاہا تھا ۔
وہ ہرگز نہیں چاہتی تھیں کہ مانی دلہن کو اس ویران آسیب زدہ خالی حویلی میں لے کر جائے۔۔
ہاں بیٹا آپ کی دادی ٹھیک کہہ رہی ہیں۔
میرا نہیں خیال آپ کا فجر کو حویلی لے جانا ٹھیک ہوگا ۔۔
بابا سائین جو کب سے خاموش بیٹھے تھے مزید چپ نہ رہے سکے اپنے اور اپنے خاص روب دھار لہجے میں بولے تھے جبکہ فجر بغیر کوئی بھی تاثر دئے بس چہرہ جھکائے چائے پینے میں مصروف تھی جیسے یہ زندگی کا سب سے اہم کام ہو ۔۔۔
مان ہم تمہارا برا نہیں چاہیں گے ۔۔پہلے کی بات اور تھی مگر اب خیر سے تمہاری بیوی ہے کل کلاں کو اللہ کا کرم ہو گا تم باپ کے درجے پہ بھی فائز ہو جاؤ گے ۔
میں نہیں سمجھتی کہ اب تمہارا اپنی بیوی کو حویلی لیکرجانا مناسب ہوگا ۔۔
غزل نے بیٹے کو باز رکھنا چاہا تھا ۔۔
مان نے ایک نظر اپنے ساتھ والی کرسی پر بیٹھی فجر پہ ڈالی تھی وہ اس کو یکلخت بہت بجھی بجھی سی لگی ۔۔۔۔
ماما ہم ا بھی نکل رہے ہیں۔۔
بس رات تک آ جائیں گے۔ آپ لوگ پریشان نہ ہوں میں تھوڑی تھوڑی دیرمیں فون کرتا رہوں گا کچھ نہیں ہوتا اور پھر یہ سب پرانے وقتوں کی باتیں ہیں ۔
میں خود بھی تو اب اپنی گڑیا سے ملنا چاہتا ہوں کافی دن ہوگئے میں اس سے ملا نہیں ہوں وہ کھوئے کھوئے سے انداز میں بولا تھا جیسے یہ جملہ ادکے لبوں سے خود ادا نہ ہو اہو۔ ۔بلکہ شاید کسی اور کی زبان وہ بولا تھا ۔۔۔
ٹھیک ہے بیٹا جس طرح آپ لوگ مناسب سمجھیں۔ ۔۔۔
حماد صاحب بہت اچھی طرح سمجھ چکے تھے کہ وہ اب وہاں جا کر ہی دم لے گا ۔۔۔۔
🍀🍀🍀🍀🍀
یہ کیا تم نے منع کیوں نہیں کیا ہماد ؟
تم نہیں جانتے کیا کہ وہ کتنی خطرناک حویلی ہوچکی ہے ؟؟؟
تم نے سنا نہیں گاوں والے کیا کیا باتیں بتا رہے ہیں اور ہم نے تو خود اس حویلی سے آتی ہےحد خوفناک آوازیں سنی ہے ۔۔۔
پھر یہ سب ٹھیک ہے کیا؟ ؟؟
تم ایک دفعہ اس کو سختی سے کہہ سکتے تھے کہ وہ نہ جائے۔ ۔۔
دادی نے غصے سے بیٹے کو جھاڑ پلائی فجر اور ارمغان کے جانے کے بعد ۔۔
آ ماں جب بچے بڑے ہو جاتے ہیں تو وہ ماں باپ کی باتوں کو اہمیت دینا چھوڑ دیتے ہیں اور میں نے نہ جانے کیوں مان کی آنکھوں میں بغاوت دیکھی ہے اپنے لئے ۔
تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ تم اب اس کی ہر جائز اور ناجائز باتوں کو مانو گےاسکی؟ ؟؟
شادی ہوگئی ہے مگر اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ ماں باپ اور بڑوں کا احترام ہی بھول جائے۔۔
ہماری باتوں کو اہمیت ہی نہ دے ۔۔
دادی کا غصہ کسی طرح بھی کم ہونے کو تیار نہ تھا
اماں میں نے دیکھ لیا ہے اس کی آنکھوں میں وہ اپنی بیوی کے ہاتھوں مجبور ہے وہ خود سے یہ سب کچھ نہیں کر رہا جو اس کی بیوی کہہ رہی ہے وہ اسی طریقے سے چل رہا ہے ۔۔۔!!!


0 comments:
Post a Comment