Friday, May 31, 2019

sitamgar ko hum aziz by aymen nauman episode 17



میرا خیال ہے حماد آپ صحیح کہہ رہے ہیں اگر اس وقت ہم نے کسی بھی طریقے سے مان کو روکنا چاہا تو وہ ہم سے بدظن ہو جائے گا ۔۔۔۔

بہتری اسی میں ہے کہ ہم خاموش رہیں بچوں کا شوق ہے پورا کرلیں نے دیں اللہ مالک ہے اللہ کے اوپر چھوڑ دیں سب وہ سب بہتر کرے گا  ۔۔۔

غزل نے ساس کو پرسکون کرنا چاہا تھا مبادا کہیں ان کی طبیعت ہی نہ بگڑ جاتی ۔۔۔۔

نہیں غزل اور ہماد تم تو میری بات سمجھنے کی کوشش کرو میں جو دیکھ رہی ہو وہ تم لوگ نہیں دیکھ پا رہے ہو ۔۔۔
نہ جانے مجھے ایسا کیوں لگ رہا ہے یہ کل کی آئی لڑکی مان کو و رغلا رہی ہے یہ ایسی نہیں ہے جس طرح سے نظر آ رہی ہے ۔۔۔۔

اماں آپ کی سوچ ہے یہ۔ ۔ فجر بہت اچھی ہے بس تھوڑا سا وقت دے اس کو اللہ  سب بہتر کرے گا۔۔ حماد نے بھی ماں کو مطمئن کرنا چاہا جبکہ ان کی خود کی آنکھوں میں کی سوچوں کی لکیریں غزل واضح طور پر پڑھ سکتی تھی
🍁🍁🍁
وہ دھیمی آواز میں گنگنا رہی تھی ۔۔
جیسے جلد از جلد اپنے ساتھ ہوئے اس حادثے کو دماغ کی سلیٹ سے مٹانے کی تگ و دو کر رہی ہو۔۔

 ایک خواب خوفناک خواب سمجھ کر بھول جانا چاہ رہی ہو۔۔۔
 عمر نے اس کو بہت بڑے امتحان سے بچایا تھا اس کو اپنا نام دیا تھا ۔۔۔

عمر میں خود کو سمجھانے کی کوشش کر رہی
میں جانتی ہوں ان سب میں آپ کا تو کوئی قصور نہیں ہے تو پھر میں کن وجوہات کے تحت آپ کو آپکی خوشیوں سے محروم رکھو؟؟؟
 یہ میرے اوپر گناہ بھی ہے اور عذاب بھی ۔مگر میں ابھی خود کو فوری طور پہ اس رشتے سے وابستہ تقاضوں پہ عمل کرنےپہ امادہ کرنے سے قاصر ہوں۔۔۔۔۔
 میں چاہ کر بھی آپ کو آپ کا جائز اور شرعی حق نہیں دے سکتی ۔۔

کچھ عرصے تک۔۔۔۔۔۔۔!!

 یا اللہ پاک مجھ میں مت ڈال کہ۔ میں عمر کے ساتھ بنے اس بندھن کو جلدازجلد تسلیم کر سکوں۔۔۔۔۔
 اے اللہ پاک تو میری مدد کر میرے مالک اور عمر کو حوصلہ دے کے وہ آگے بھی مجھ جیسی برباد ہوئی لڑکی کے ساتھ خوش و خرم زندگی بسر کر سکے ۔۔

"بے شک تو ہرچیز پہ قادر ہے" ۔۔

لائبہ میں برش کر کہ چینج بھی کرچکا۔۔
 واش روم سے فریش ہو کر بھی آ گیا اور تم تب سے یہیں کھڑی ہو جب سے میں بیٹھ روم میں آیا تھا۔۔۔۔۔۔۔

 عمر ٹاول سے اپنے نم بالوں کو خشک کرتا ہوا ٹیرس میں ہی نکل آیا تھا اور آکر اس کے شانے کو ہلاکہ جیسے سوچ کی دنیا میں سے واپس گھسیٹ لایا ۔۔۔

نہیں بس عمراندر گھٹن سی ہو رہی تھی اس لئے کچھ دیر تازہ ہوا لینے کی غرض سے یہاں چلی آئی۔۔ ۔ 
 
وہ کہہ کر واپس اندر کمرے کی طرف بڑھنے لگی تھی جب یکدم عمر اس کے راستے میں حائل ہوا تھا۔۔۔۔۔
 
لائبا کیا ہم اچھے دوست نہیں بن سکتے ؟؟؟
وہ گھمبیر لہجے میں اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر استفسار کر رہا تھا ۔۔

کیا اب ہم دوست نہیں ہیں؟؟؟؟
 وہ الٹا سوال کر گئی تھی۔۔۔

 نہیں ہم دونوں توازل سے ایک دوسرے کے دشمن رہے ہیں مگر اب میں تم سے تمہاری دوستی چاہتا ہو محبت بھری شرارتوں سے بھرپور ۔۔!!!

آپ میرے شوہر ہیں میں آپ کی بہت قدر اور عزت کرتی ہوں ۔۔۔۔۔۔!

او یار زبردست یہ ہوئی نہ بات ۔۔
 تو پھر بس اس لحاظ سے تو میرا ہر حکم سر آنکھوں پہ ہوا تمہاری ۔۔۔
وہ مسکرایا ۔۔

میں خود کو اس رشتے کے تقاضے اور آپ کے حقوق کی ادائیگی کے لئے دلی طور پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہی ہوں۔۔۔۔۔
 نظریں جھکائے ہوئے بہت ٹھہر ٹھہر کے بولی تھی ۔۔۔

وہ دھیمی آواز میں گنگنا رہی تھی ۔۔
جیسے جلد از جلد اپنے ساتھ ہوئے اس حادثے کو دماغ کی سلیٹ سے مٹانے کی تگ و دو کر رہی ہو۔۔

 ایک خواب خوفناک خواب سمجھ کر بھول جانا چاہ رہی ہو۔۔۔
 عمر نے اس کو بہت بڑے امتحان سے بچایا تھا اس کو اپنا نام دیا تھا ۔۔۔

عمر میں خود کو سمجھانے کی کوشش کر رہی
میں جانتی ہوں ان سب میں آپ کا تو کوئی قصور نہیں ہے تو پھر میں کن وجوہات کے تحت آپ کو آپکی خوشیوں سے محروم رکھو؟؟؟
 یہ میرے اوپر گناہ بھی ہے اور عذاب بھی ۔مگر میں ابھی خود کو فوری طور پہ اس رشتے سے وابستہ تقاضوں پہ عمل کرنےپہ امادہ کرنے سے قاصر ہوں۔۔۔۔۔
 میں چاہ کر بھی آپ کو آپ کا جائز اور شرعی حق نہیں دے سکتی ۔۔

کچھ عرصے تک۔۔۔۔۔۔۔!!

 یا اللہ پاک مجھ میں مت ڈال کہ۔ میں عمر کے ساتھ بنے اس بندھن کو جلدازجلد تسلیم کر سکوں۔۔۔۔۔
 اے اللہ پاک تو میری مدد کر میرے مالک اور عمر کو حوصلہ دے کے وہ آگے بھی مجھ جیسی برباد ہوئی لڑکی کے ساتھ خوش و خرم زندگی بسر کر سکے ۔۔

"بے شک تو ہرچیز پہ قادر ہے" ۔۔

لائبہ میں برش کر کہ چینج بھی کرچکا۔۔
 واش روم سے فریش ہو کر بھی آ گیا اور تم تب سے یہیں کھڑی ہو جب سے میں بیٹھ روم میں آیا تھا۔۔۔۔۔۔۔

 عمر ٹاول سے اپنے نم بالوں کو خشک کرتا ہوا ٹیرس میں ہی نکل آیا تھا اور آکر اس کے شانے کو ہلاکہ جیسے سوچ کی دنیا میں سے واپس گھسیٹ لایا ۔۔۔

نہیں بس عمراندر گھٹن سی ہو رہی تھی اس لئے کچھ دیر تازہ ہوا لینے کی غرض سے یہاں چلی آئی۔۔ ۔ 
 
وہ کہہ کر واپس اندر کمرے کی طرف بڑھنے لگی تھی جب یکدم عمر اس کے راستے میں حائل ہوا تھا۔۔۔۔۔
 
لائبا کیا ہم اچھے دوست نہیں بن سکتے ؟؟؟
وہ گھمبیر لہجے میں اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر استفسار کر رہا تھا ۔۔

کیا اب ہم دوست نہیں ہیں؟؟؟؟
 وہ الٹا سوال کر گئی تھی۔۔۔

 نہیں ہم دونوں توازل سے ایک دوسرے کے دشمن رہے ہیں مگر اب میں تم سے تمہاری دوستی چاہتا ہو محبت بھری شرارتوں سے بھرپور ۔۔!!!

آپ میرے شوہر ہیں میں آپ کی بہت قدر اور عزت کرتی ہوں ۔۔۔۔۔۔!

او یار زبردست یہ ہوئی نہ بات ۔۔
 تو پھر بس اس لحاظ سے تو میرا ہر حکم سر آنکھوں پہ ہوا تمہاری ۔۔۔
وہ مسکرایا ۔۔

میں خود کو اس رشتے کے تقاضے اور آپ کے حقوق کی ادائیگی کے لئے دلی طور پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہی ہوں۔۔۔۔۔
 نظریں جھکائے ہوئے بہت ٹھہر ٹھہر کے بولی تھی ۔۔۔
کیا میں نے تم سے اپنے حق کا تقاضہ کیا ہے ؟؟
میں زور زبردستی سے اپنا حق وصول نے والوں میں سے نہیں ہوں تمہاری دلی اماد گی میرے لئے پہلی ترجیح ہے ۔۔
مجھے نہیں یاد پڑتا کہ ان 24گھنٹوں میں میں نے تم سے کسی بھی قسم کا تقاضا کیا ہو یا پھر اپنا حکم صادر کیا ہو۔ ۔۔۔؟

وہ دیوار سے ٹیک لگائے دونوں ہاتھ سینے پر باندھے لائبہ کے چہرے کے اتار چڑھاو بڑی دلچسپی سے دیکھ رہا تھا جیسے دنیا کا سب سے اہم کام یہی تو تھا اس کے لئے ۔
جبکہ لائبہ اس کی خود پہ جمی جائزہ لیتی نظروں سے سٹپٹائی تھی کہاں عادت تھی اس کو عمر کے اس انداز تخاطب کی ۔۔۔!

نہیں ۔۔۔۔نہیں ۔۔۔۔!!
الفاظ جیسے لبوں تک آنے کا راستہ کھو چکے تھے ہوائیں زوروشور سے رقص کرنے میں مصروف تھیں چاند کی روشنی جیسے ان دونوں کو ہی تو اپنے حصار میں لینے کے لئے اس قدر روشن تھی ۔۔۔

میں چاہتا ہوں کہ تم مجھ سے ڈھیر ساری باتیں کرو ایک بہت اچھا ہمسفر جان کہ ۔۔اور میرا اعتبار کرو میں تمہیں تمہاری تمام امیدوں پہ پورا اتر کر دکھاؤں گا ۔۔۔
تمہارا مان اور بھروسہ کبھی بھی ٹوٹے گا نہیں انشاءاللہ ۔۔

لائبہ نے ایک خاموش نظر عمر پہ ڈالی تھی پھر اسی خاموشی سے واپس پلکوں کی چلمن گرا گئی تھی جیسے عمر کی پرحدت آنکھوں میں مزید کچھ دیر اور جھانکتی تو پتھر کی ہوجاتی ۔۔

و ہ کسی گہری سوچ میں تھا نظریں ہنوز لائبہ کے چہرے کا طواف کررہی تھی وہ آنکھوں کے ذریعہ اس کے پرنور چہرے کو دل میں آتا رہا تھا ۔۔
آنکھوں میں بسا رہا تھا ۔۔

دونوں کے درمیان خاموشی اپنی زبان میں نہ جانے کیا کیا گنگناھٹیں بکھیر رہی تھی۔۔۔

 اچانک ہی بادل زور سے گرجا تھا اور چھم سے بارش آئی تھی ۔۔۔

بارش کی وجہ سے مٹی سے اٹھتی مسہور کن خوشبو ماحول میں فسوں سہ تاری کررہی تھی ایک دوسرے کی ذات کا احساس دلانے پہ اسرار کر رہی.......
_____
عمر اس کا ہاتھ تھام کہ بغیر کچھ کہے اس کو ٹیرس کے سرے پر واپس لے آیا تھا خود بھی بھیگا تھا اور اس کو بھی پورا بھگا چکا تھا ۔۔
چھم چھم برستی برسات میں وہ دونوں ہی خاموشی سے پور پور بھیگ رہے تھے ۔۔بارش کی بوندیں ٹپ ٹپ کرتی ماحول میں سریلا سہ ارتعاش پیدا کرنے پہ آمادہ تھی ۔۔

لفظ جیسے کہیں گہری نیند جا سوئے تھے بس کچھ تھا تو وہ تھی تنہائی اور۔۔۔۔۔
اور وہ دونوں شایر آنکھوں کی زبان جانتے تھے ۔۔۔؟؟؟سمجھتے تھے کہی آن کہی کو ۔۔۔۔!!

عمر اس کی طرف بغور دیکھ رہا تھا جبکہ وہ اس کی طرف دیکھنے سے حددرجہ گریزاں تھی ۔۔

ہلکے فیروزی رنگ کےلونگ کرتے اور فان کلر کے ٹراؤزر میں وہ عمر کو بہت پیاری اور اپنی اپنی سی لگی تھی ۔۔۔۔
صرف اور صرف اس کی ۔۔۔
فیدر کٹ بالوں نے شانوں کو ڈھانپا ہوا تھا جبکہ شریر لٹو نے چہرے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا وہ لرز رہی تھی۔۔
 نظریں ملانے سے قاصر تھی ۔۔
ہچکچا رہی تھی شاید نئے نئے رشتے کی وجہ سے۔۔۔۔۔ عمر سے کترا رہی تھی ۔۔۔

اب جیسے اس میں مزید عمرکی لوہ دیتی نظروں کا سامنا کرنے کی سکت نہ رہی تھی وہ تیزی سے واپس مڑی تھی مگر ہائے ری قسمت جیسے سارے ستم آج ہی ایک ساتھ کرنے پہ طلی تھی ۔۔۔
بارش کی وجہ سے   فرش کا بھیگا ہونا اس کے لئے بہت بڑا امتحان بنا تھا ۔۔۔
وہ پیچھے ہٹی تھیی کایک قدم لڑکھڑائے اور وہ پوری طرح سے زمین بوس ہونے کو تھی ۔۔
اس نےگرنے کے خوف سے بے ساختہ عمر کے شانوں کو تھاما تھا ۔۔
اس کے بالوں نے دانستہ عمر کے چہرے سے شرارت کی تھی جبکہ عمر نے تیزی سے اس کو سہارا دیا تھا کمر سے تھام کر اس کو اپنے مضبوط بازوں میں جکڑ لیا ۔۔
اپنے حصار میں لیے وہ اس کو اندر روم میں لے آیا تھا ۔۔
مم۔ ۔۔می۔ ۔۔۔وہ گرنے لگی تھی اس لئے آپ کو۔۔
 اسے آگےوہ خاموش ہو گئی تھی۔۔۔

 میں تمہیں کبھی گرنے نہیں دوں گا میرے زور بازو میں اتنی طاقت ضرور ہےکہ اپنی بیوی کی حفاظت کرسکو ں۔

لہجہ دھیمہ مگر سخت تھا ارادوں کی پختگی چھلکا تھا ۔۔
وہ محسوس کر رہی تھی اس کی بولتی قربت کو اس پہ تضاد جائز شرعی رشتہ اور یہ تنہائی ۔۔۔۔

عمر اس کے چہرے پہ بکھرے کوس و فزا کے رنگوں کو محظوظ ہو کر دیکھ رہا تھا ۔۔۔
محسوس کر رہا تھا ۔۔
وہ ایک لمحے میں اس کو مزید خود سے قریب تر کر گیا تھا اتنا کہ وہ بہ آسانی لائبہ کی ا ٹھل پھتل ہوتی سانسوں کو سن سکتا تھا ۔۔

لائبہ اس کی نرم گرم سانسوں کی تپش کو محسوس کر رہی تھی چہرے پہ اپنے جب کہ رخسار سرخ ہوئے تھے نگاہیں ہنوز جھکی ہوئی تھی ۔۔

عمر نے اس کی کمر کے گرد حصار مزید تنگ کیا۔
اتنا کہ لائبہ کو اس کی مضبوط انگلیاں اپنی کمر کے گرد پیوست ہوتی محسوس ہورہی تھیں۔ ۔
 وہ تھوڑا سہ مزید اس کے اوپر جھکا تھا اور اس کی گردن پر اپنے دہکتے ہوئے انگارے کی مانند لب رکھ دئیے تھے ۔۔۔
وہ تھم سی گئی تھی ۔۔۔
اپنی جگہ سن سی رہ گی تھی ۔۔
پورا وجود جیسے آگ کی زد میں آ گیا
🍂🍂🍂🍂🍂
تمہیں حمزہ کے ساتھ اس طرح پیش نہیں آنا چاہیے تھا تمہارا رویہ میرے حساب سے تو اسکے ساتھ بالکل ہی غیر مناسب تھا آفٹر آل یوآر اسٹل ہز وائف۔ ۔۔۔۔ ۔
آشیر باہر لان میں بیٹھا ہوا اس کو سمجھا رہا تھا اب ۔وہ دونوں قدرے پرسکون ہو چکے تھے رات کے کھانے کے بعد تازہ ہوا سے اپنے دماغ کو پرسکون کر رہے تھے ۔۔ رحمان صاحب صبح کو ڈسچارج ہو کہ گھر آگئے تھے طبیعت بھی کافی بہتر تھی ۔۔۔
اب ان کے گھر کا ماحول بھی ہلکا پھلکا ہو چکا تھا حمزہ اور رحمن صاحب کے دلوں پہ جمی گرد صاف ہونے  سے جبکہ حمزہ کل ہاسپٹل کے بعد اس کو نظر نہیں آیا تھا یا پھر دانستہ وہ حمزہ کا سامنا کرنے سے گریزاں تھی۔
 اس وقت بھی وہ اپنے لیے چائے بنانے کیلئے کچن میں آئی تھی جب وہاں پہلے سے موجود  عاشیر بھی اپنے لئے چائے کا پانی چڑھا رہا تھا  ۔۔
چائے بنانے کے بعد وہ دونوں ہی ہواخوری کرنے لان میں نکل آئے تھے۔۔۔۔

وہ تو اس سے بھی زیادہ میرا بدترین رویہ ڈیزرو کرتے ہیں ۔۔تم جانتے ہو میرے دل میں ہمزہ کے لئے سوائے نفرت کے اب کچھ بھی باقی نہیں رہا ہے۔۔۔۔۔۔

شفا اگر وہ تمہاری لیے عمل جنسی رہے تو نفرتوں کو پالنے کے بجائے معاملہ فہمی سے بھی تو کام لیا جاسکتا ہے ۔۔۔۔۔؟؟؟؟

معاملہ فہمی اور جھکنے کی تو بات ہی مت کرو  تم نہیں جانتے کہ میں نے کس قدر خود کو گرایا ہے  اس شخص کے آگے میں۔۔۔۔۔ وہ وہ سب کچھ میں تمہارے سامنے لفظوں میں بیان کرنے سے بے بس ہوں ۔۔۔۔
میں تمھیں یہ نہیں کہوں گا کہ تم اپنا گھر بر باد کر لو۔۔۔ میں یہی چاہوں گا کہ تمہارا گھر ہمیشہ آباد رہے ۔
اور پھر شفا اپنے ماں باپ کے بارے میں سوچو اپنی چھوٹی بہن کے بارے میں سوچو کہ اس اقدام کے بعد سب کچھ ٹھیک ہو سکے گا ۔؟؟؟؟

 بابا جانی ٹھیک ہو جائیں تو میں اس نام نہاد رشتے کو وائنڈ اپ کرتی ہوں تاکہ یہ چیپٹرکلوزہو جلد از جلدکسی ایک طرف ہوسکیں اور  میں ایک طرف ہوں۔ ۔۔بلکل جینے اور مرنے سے بہتر ہے کہ یہ چیپٹر اب جلدازجلد کلوز کر دینا چاہیے ۔۔۔۔

یہ چیپٹرز جو تم کہہ رہی ہو یہ اتنی آسانی سے کلوز ہونے والے نہیں ہوتے دیکھو شفاء اچھی طرح سے سوچو سمجھو آگے کی حالات کو ہر ایک زاویے سے سمجھ ۔۔۔اس کے بعد ہی کوئی فیصلہ کرنا۔۔۔۔۔

 یہ زندگی کوئی بچوں کا کھیل نہیں ہے بات کو سمجھو میری۔۔۔
 وہ مستقل  اس کو سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا وہ چاہتا تھا کہ ان دونوں کی زندگی ایک دفعہ پھر سے خوشیوں سے بھر جائے مگر جیسے شفاء اب کسی بھی قسم کی مفاہمت نہیں چاہ رہی تھی یہ شاید اس کے ساتھ گزرے حالات نے اس کو اس قدر کٹہور بنا دیا تھا ۔۔
نہ  عاشیر اب سوچنے سمجھنے کا وقت گزر گیا ہے جب پانی سر پر سے گزر جائے تو پھر بس اوریا پار کوئی فیصلہ کر دینے میں ہی بھلائی ہے وہ اپنے آنسوؤں کو بیدردی سے ہاتھ کی پشت سے رگڑتے ہوئے بولی تھی ۔۔۔
نہیں شفا ان حالات میں خود کو مضبوط کرو اس طرح سے روکیں تو کیا سب کچھ بھی اتر ہو سکے گا ؟؟؟؟؟
وہ شفا کے گول کین کی ٹیبل پر دھرے  نازک ہاتھوں پہ اپنا ہاتھ رکھ کے دلاسہ دے رہا تھا وہ اس کو ایک چھوٹی بہن کی طرح عزیز تھی۔۔۔۔۔

اچانک تیز گاڑی کے ڈپر کی روشنی شفا کی آنکھوں پر پڑی تھی وہ اپنے سیدھے ہاتھ کی پشت سے اپنی آنکھوں کو ڈھانپ کر روشنی سے بچنے کی کوشش کرنے لگی ۔۔۔
 مگر آنے والا شاید اس احساس سے عاری تھا کہ کسی کو اس کی ذات سے تکلیف ہوئی ہے ڈے پر کی تیز روشنی سے شفا آنکھوں کو کھولنے سے قاصر تھی ۔۔۔۔
گاڑی کا دروازہ کھلا تھا اور دھپ سے ایک سوٹ کیس بھٹکنے کے انداز میں کار پوچ کی زمین پر گاڑی میں سے پھیکا گیا تھا۔۔۔
عاشیر نے بھی  چونک کر پیچھے مڑ کے دیکھا تھا ۔
شفا کی نظریں ابھی تک گاڑی میں سے اترنے والے شخص کی متلاشی تھی جس کی وہ ابھی تک شکل نہیں دیکھ سکی تھی ڈیپر مستقل آن تھا
________
یہ یہاں کیوں آئے ہیں ؟؟؟
وہ حمزہ کو بیگ اپنے شانے پہ ڈال کے ان دونوں کی طرف  بڑھتے ہوئے دیکھ کہ درشتگی اور حقارت سے بولی تھی۔۔۔
 لہجے میں واضح رکھائی کا عنصر موجود تھا ۔۔۔۔
کول ڈاؤن ۔۔!!!

ایوریتھنگ از فائن۔۔۔۔۔
ہو جسٹ ریلیکس ۔۔

وہ کسی گہری سوچ میں تھا اور پھر یکایک اس نے شفاء کے ٹیبل پہ دھرے ہاتھوں کو نرمی سے تھام کر تسلی دینےوالے انداز میں تھاما  تھا ۔۔۔

حمزہ اپنی مخصوص روبدار و مغرورانہ چال چلتا ہوا دونوں تک پہنچا تھا ۔۔۔

جس ہاتھ کو تم بہت حق سے پکڑے بیٹھے ہونا یہ ہاتھ سمیت یہ پورا وجود صرف اور صرف میرا ہے ۔۔۔۔۔
وہ جھٹ سے شفا کا ہاتھ بیدردی سےعا شیر کی گرفت سے چھوڑا گیا تھا۔۔۔۔

 تم بہت بدل گئے ہو ۔۔!!
تمہارے اور میرے درمیان کبھی اس قدر تلخ تعلقات تو وابستہ نہیں رہے ؟؟؟
عاشیر دل ہی دل میں محضوض ہوتے ہوئے چہرے پر مصنوعی سنجیدگی تاری کئے بولا تھا جبکہ لہجہ افسردگی لیے ہوئے تھا۔۔۔۔

 اس کی اس حرکت پر جیسے شفاءآگ بگولا ہو بیٹھی تھی ۔۔۔

لوگوں کو جب انکی اوقات میں رکھنا شروع کردوں تو وہ کہتے ہیں کہ۔۔۔۔
 تم بہت بدل گئے ہو ۔۔۔!!

وہ تمسخرانہ لہجے میں بولتا اشیر کے اوپر طنز کے تیر چلا رہا تھا ۔۔

ّویری ویل سیڈ۔ ۔۔۔۔۔!!
 کیا طنز کی ایکسٹرا کلاس لینا  شروع کر دی ہے؟؟؟
 وہ بغیر برامنائے حمزہ کو دیکھتے ہوئے چہرے پہ  مسکراہٹ سجائے بہت اطمینان سے کہتا اندر ہی اندر حمزہ کو مزید تپا گیا تھا ۔۔۔

آپ اپنی حد میں رہیں نہیں تو میں بھول جاؤں گی کہ میری کیا حدود باقی ہیں ۔۔۔!

وہ تنفر سے کہتی کرسی دھکیل کے جانے کے لئے اٹھ کھڑی تھی۔۔۔
 وہ غسے کی شدت سےجیسے اس کا پورا وجود لرز اٹھا تھا ۔۔۔
بس نہیں چل رہا تھا کہ حمزہ کا ہاتھ پکڑ کہ اس کو گھر سے ہی بال نکال کھڑا کرے مگر پھر اپنے بیمار باپ کا خیال آگیا تھا جو وہ یکدم تھمی تھی اور خون کا گھون پیٹ پی بیٹھی تھی  ۔۔

میری حدود کا تعین تم کیا ہی کروں گی اگر میں اپنے اختیارات جتانے  پر آیا تو تمہارا یہ تنفر   جھاگ کی طرح بیٹھ جائے گا۔ ۔۔
 سب ہیکڑی دھری کی دھری رہ جائے گی ۔۔۔

خیر سب کے اختلافات اپنی جگہ مگر مجھ پہ جچتا ہے اب مختلف ہونا۔۔۔۔۔
 وہ اپنے نوکیلے باٹ سے گارڈن کی گھاس کو بیدردی سے  کھاڑا رہا تھا ۔۔۔۔

نرم دل لوگ بیوقوف نہیں ہوتے۔۔
 وہ جانتے ہیں کہ لوگ ان کے ساتھ کیا کھیل کھیل رہے ہیں ۔۔۔
لیکن پھر بھی وہ نظرانداز کرتے ہیں کیونکہ ان کے پاس ایک خوبصورت دل ہوتا ہے ۔۔۔
جو کہ انکےسینے میں دھڑکتا ہے ۔۔۔!!!!

عاشیر، شفا کو دیکھتے ہوئے بہت گہری بات کہہ گیا تھا۔۔
 جیسے حمزہ کو ڈھکے چھپے لفظوں میں بہت کچھ سمجھانا چاہ رہا ہو۔ ۔



شفاء ر کو ایک منٹ۔۔۔۔
وہ عا شیر  کی بات کو نظرانداز کئے شفا کے قدموں کو ایک دفعہ پھر سے جکڑ گیا تھا ۔۔۔

کیوں اب کیا کچھ رہ گیا ہے مزید ب**** کرنے کو؟؟؟؟؟
 وہ پھاڑ کھانے والے لہجے میں پلٹھی تھی۔۔۔

 میری غلطیوں کو درگزر کر دو یار ۔۔۔۔
جان حمزہ اکھاڑ تو ویسے بھی تم میرا کچھ نہیں سکتی ہو۔۔۔۔۔۔!!!

وہ بڑے مزے سے کہتا  مزید آگ میں پیٹرول ڈالنےکا کام کر گیا تھا ۔۔۔

دیکھا تم نے عاشیر یہ بندہ ابھی بھی کس قدر ایٹیٹیوڈ دکھا رہا ہے ۔۔
رسی جل گئی مگر اس شخص کے بل نہیں لکلے ۔۔۔۔

وہ تو جیسے حمزہ کی کہ یہ آخری بات سن کر آگ بگولہ ہو گئی تھی ۔۔۔
جب کہ وہ ستمگر کہہ کہ بڑے مزے سے آگے بڑھکا کہ جا چکا تھا ۔۔۔

نہیں وہ ایسے ہی تمہیں تنگ کر رہا ہے جو لوگ محبت کرتے ہیں دل سے وہ خود سے عزیز تر شخص کو کسی کے ساتھ برداشت نہیں کر سکتے ۔۔۔
عاشیر نے معاملہ سنبھالنا چاہا ۔۔

آپ کسی تو نہیں ہیں اور حمزہ جیسے لوگ محبت تو دور کی بات محبت کے لفظ کو بھی بد نام کرتے ہیں ۔۔۔۔۔!!

وہ کسی طور بھی حمزہ کے لئے دل میں نرم گوشہ پیدا نہیں کر پا رہی تھی۔۔
 یا پھر قصدً نرمی اختیار کرنے کے موڈ میں نہ تھی ۔۔

تاشیر گہری سانس بھر کے رہ گیا وہ تمہارا ستمگر ہے میں مانتا ہوں۔۔۔۔
 مگر ستم کر تمہیں عزیز ہوں ۔۔۔۔۔!!
یہ تم میری مان لو ۔۔۔
خیر میں جانتا ہوں اس وقت تم کچھ بھی سننے کے موڈ میں نہیں ہو میری باتیں ۔۔
مگر  غور ضرور کرنا اکیلے میں اور اب جلد ہی اندر چلنا چاہیے ہمیں ۔۔۔
تیز بارش ہو نے کے اثار ہیں ۔۔
لگتا ہے گرج چمک کے ساتھ بارش ہو گی بادل دیکھو ذرا ۔۔۔
الگ تو تم دونوں کو میں بھی نہیں ہونے دوں گا۔۔۔
 ایک کو غلطی کا احساس ہوچکا ہےمگر اگر پھر بھی کم نہیں ہوئی ۔۔
 تو دوسرا فریق انا کے ہاتھوں مجبور ہو کر اپنا ہی آنگن جلانے پہ تلا ہوا ہے۔۔۔۔
 وہ سوچتے سوچتے آگے بڑھ چکا تھا ۔۔۔۔جبکہ شفا جلتی کلستی اپنے کمرے میں جا چکی تھی ۔۔۔
🌷🌷🌷
وہ جیسے ہی کمرے میں داخل ہوئی جانی پہچانی سی خوشبو اس کے نتھنوں سے ٹکرائی تھی۔۔
 شفاء نے ٹھٹھک کہ کمرے کی لائٹ جلائی تھی لمحوں میں ہی پورا کمرہ  روشنیوں میں نہا گیا تھا ۔۔
یہ سب کیا ہے ؟؟؟؟
بیڈ پہ حمزہ کہ کچھ دیر پہلے پہنے ہوئے کپڑے بے ترتیب سے پڑھے ہوئے تھے ۔۔
جبکہ فرش بے سوٹ کیس چاک ہوا اپنی قسمت پہ رو رہا تھا ۔۔۔

اس کی حسیات الرٹ ہوئی تھیں کیونکہ  سوٹ کیس کی موجودگی وہ بھی اپنے کمرے میں اس بات کی طرف واضح اشارہ کر رہا تھا کہ اس میں سے کپڑے نکالے گئے ہیں۔۔۔

 اب اس کی نظر ڈریسنگ ٹیبل پر پڑی تھی حمزہ کا موبائل ،رسٹ واچ ، سگریٹ اور لائٹر وغیرہ سب کچھ ٹیبل پہ بکھرا پڑا ہوا تھا ۔۔۔

تو اس کا مطلب وہ شخص اسی کمرے میں موجود تھا مگر کہاں ؟؟؟؟
وہ شدید اشتعال میں ادھر سے ادھر اب حمزہ کو ڈھونڈ رہی تھی ۔۔۔۔۔

کیا ہوا مجھے تلاش رہی تھیں؟ ؟؟؟
 وہ شاور لے کر نکلا تھا ڈھیلے ڈھالے ٹراؤزر میں موجود شرٹ سے بے نیاز نہ جانے کہاں سے نمودار ہوا ۔۔۔؟

آپ یہاں اور وہ بھی اس وقت؟؟
 میرے روم سے چلے جائیں فوری ۔۔۔۔

وہ برہمی سے کہتی  اپنے ہاتھ کو اٹھا کہ انگشتِ شہادت دروازے کی طرف کرکے بولی تھی آنکھیں میں یکدم ہی جیسے لال مرچیں بھری تھی ۔۔۔

وہ بری طرح چلائی تھی ۔۔
 حمزہ کی آواز کانوں میں کیا پڑھی شفا کو لگا جیسے کسی نے پورے کمرے میں خوفناک صور پھونک ڈالا ہو   ۔۔۔
حمزہ بھاری قدموں سے چلتے ہوئے شفاء  تک کا فاصلہ طے کر گیا تھا اور اس کے قریب جا کہ رکا  ۔۔۔

شفا کو چند سیکنڈ لگے تھے خود کو سنبھالنے میں اور وہ اس کی جانب سے نگاح ہٹا گئی تھی ۔۔

جیسے وہ کمرے میں موجود ہی نہ ہو۔۔۔
 اس کی موجودگی سے اس کو قطعاً کوئی فرق نہیں پڑا ہو۔۔
وہ اپنی تعیں یہی ثابت کرنا چاہ رہی تھی حمزہ کے سامنے ۔۔۔۔مگر کچھ رویہ ایسے ہوتے ہیں جو ہم چاہ کر بھی نہیں چھپا سکتے ۔ ۔۔۔

میں خود کوکمزور تو نہیں پڑھنے دوں گی ۔۔۔
 ایک دفعہ اپنے ہی محرم سے کھلونا بن کر ٹوٹ چکی ہوں۔۔۔
 مگر اب نہیں ۔۔۔۔!!
عورت کمزور نہیں ہوتی یاد رکھنا حمزہ جلال ۔
 مگر اگر اس کو سیدھا کرنا چاہو گے تو ٹوٹ ضرور جاتی ہے۔۔۔
 پھر بھی سیدھی نہیں ہوتی کیونکہ وہ مرد ہی کی ٹیڑھی پسلی سے خدا نے بنائی ہے ۔۔۔۔"

وہ ایک ایک لفظ چبا چبا کے کہتی جیسے دہکتے ہوئے انگاروں کی زد میں تھی۔۔۔
 اس قدر لہجہ برہم ہوا تھا کہ تنفس تیز ہو گیا ۔۔۔۔

 وہ گہری گہری سانسیں لینے لگی تھی۔۔
 مگر حمزہ کو جیسے کسی بھی بات سے فرق نہیں پڑاتھا ۔۔
وہ کچھ دیر خاموش کھڑا لبوں پہ مسکراہٹ لیے  اس کو دیکھتا رہا ۔
پھر بہت اطمینان سے شفا کا تکیہ بھی لیتے ہوئے اپنے سر کے نیچے رکھ کہ پورے بیڈ پہ شاہانہ انداز میں چوڑ کے لیٹ گیا ۔۔۔
جیسے یہ شفا کا نہیں بلکہ اس کا بستر ہو ۔۔۔

اب کیسا محسوس کر رہی ہو جان حمزہ ۔۔۔!!
بغور دیکھتے ہوئے بھاری لہجے میں دریافت کیا گیا تھا۔۔۔

 مگر وہ تو اب جیسے لبوں پہ قفل چڑھا چکی تھی آنکھوں میں حمزہ کو اپنے بستر میں دراز دیکھ کر  وحشت سی اتری  تھی ۔۔
جتنا کہنا تھا وہ کہہ چکی تھی۔۔
 جو بتانا تھا بہت اچھے سے جتا چکی تھی۔۔
 اس سب کے بعد تو ہمزہ کو چلے جانا چاہیے تھا ۔۔۔

میری یہ پہلی شادی ہے سو اسرار اور رموز اتنے معلوم نہیں ۔۔!!
پوچھنا پڑے گا بیوی ناراض ہو تو کیسے منایا جائے کسی ویل ایکسپیرئینسنڈ بندے سے ۔۔۔

وہ اتنا سب کچھ کر کے ماحول کہ تناؤ کو ختم کرنے کے بارے میں کیسے سوط سکتا تھا ؟؟
جبکہ یہ سب رنجشیں اور دوریاں اس کی ہی تو خودساختہ پیدا کی ہوئی تھی ۔۔!!

پھر وہ کیسے یہ سارا تناؤ ختم کرنے کی کوششیں کر رہا تھا آخر۔ ۔۔۔

 تو وہ کیا ایک نئی شروعات کرنے آیا تھا ۔۔۔؟؟
یا پھر کسی قسم کا ازالہ ۔۔۔!!

کیا پھر سے  ایک دفعہ نیا دھوکا دینے کی تیاری مکمل کر بیٹھا تھا ۔۔۔؟؟؟

مگر شفا تو جیسے ہر طرح کے جذبات و احساسات سے عاری ہو چکی تھی اس کی طرف سے کسی بھی قسم کا ریکشن ناپید تھا ۔۔۔

ہمزہ اس کے چہرے کو بغور تکتے ہوئے ہاتھ بڑا کر اس کو سمجھنے کا موقع دیئے بغیر خود پہ گرا گیا تھا۔۔۔

 ہمارے درمیان اب کوئی رشتہ باقی نہیں رہا ہے حمزہ جلال صاحب۔۔۔۔!!
 اس کی نظروں میں بےپناہ حقارت تھی لہجہ جیسے آگ اگ رہا تھا اور اگر پھر بھی اب آپ زبردستی کر کہ اپنی خواہشات کو پورا کرنا چاہتے ہیں تو بے شک آپ طاقت میں مجھ سے کئی زیادہ ہیں ۔۔
ہاں ۔۔۔۔۔!!

مگر ایک دفعہ یہ ضرور سوچ لیے گا کہ طاقت کی بنا پر دل فتح نہیں کئے جا سکتے ۔۔۔!!!

وہ بری طرح سے اس کو نوچ رہی تھی خود کو چھڑوانے کے لئے اور وہ سنگ دل تھا کہ زہریلی مسکراہٹ لبوں پہ سجائے مسکرائے چلا جا رہا تھا ۔۔۔

تو اس کا مطلب ہے کہ تم مانگئی ہو کہ میں تمھیں اپنے زور بازو سے قابو کر سکتا ہوں؟؟؟
 ان شارٹ تم مجھ سے ہار مان بیٹھی ہوں ۔۔؟؟

وہ جیسے اس کو تنگ کرنے پر کمر کس چکا تھا اس کو آگ بگولا ہوتا دیکھ  خط اٹھا رہا تھا ۔۔
یا شاید۔۔۔
 اس کے غصے سے محظوظ ہو رہا تھا ۔ 

آج کئ دن بعد وہ اس کو بالکل پہلے جیسی جنگلی بلی کھائی دی تھی بے خوف بہادر اور پوری دنیا کو فتح کرنے کا عزم خود میں رکھنے والی ۔۔۔

بولو جو کہنا چاہتی ہو ۔۔
 کہہ لو یہی تمہارے حق میں بہتر ہے ۔۔
جب تمہارا دل ہلکا ہوجائے تو ہم دونوں واپس دوستی کرلیں گے ۔۔۔!!

وہ خمار آلود لہجے میں کہتا اس کے گرد مزید حسار تنگ کر گیا تھا حتی کہ اس کی شرٹ کی زپ پوری چاک کر چکا تھا ۔۔۔

مجھے مت چھئو تمہاری چھونے سے اب مجھے اپنے وجود سے نفرت ہوتی ہے ۔۔۔پہلے مجھے تمہارے چھونے سے کراہیت محسوس ہوتی تھی مگر اب مجھے خود سے نفرت محسوس ہوتی ہے ۔۔۔۔
بار بار ایک ہی سوچ میرے دماغ میں آتی ہے کہ ۔۔۔
کیوں میں نے ایک ایسے شخص کو اپنا وجود سپرد کیا جو اس کے قابل ہی نہ تھا ۔۔۔؟؟

تم کیا سمجھتے ہو تمہارا جب دل چاہے گا مجھے عرش پہ بٹھا دو گے اور جب دل چاہے گا مجھے زمین پر پٹخ دو گے؟؟

 میرے دل میں اب تمہارے لیے قطعاً کوئی گنجائش برقرار نہیں رہی ہے ۔۔

نفرت کرتی ہوں میں تم سے ۔۔
شدید ترین نفرت حمزہ جلال۔۔۔!!!

 وہ ہذیانی انداز میں چلازئی تھی جیسے اپنے آپے میں ہی نہ رہی ہو۔۔۔

 اوکے ریلیکس ۔۔۔۔!!
کا م ڈاون ۔۔
ٹیک اٹ ایزی۔ ۔۔۔!
 کچھ نہیں ہوا ہے۔۔۔
 سب ٹھیک ہے ۔۔۔۔
وہ یکایک اپنی گرفت سے اس کو آزاد کرگیا تھا ۔۔۔

میری طرف دیکھو شفا جو بھی ہوا میں اس کے لیے تم سے بہت شرمندہ ہوں۔۔
 وہ اس کارخ اپنی طرف کر کے بولا تھا۔۔۔

یہ رشتہ بن چکا ہے اور تم مانو یا نہ مانو مگر تم میری بیوی ہو ۔۔
میں تم سے جائزہ رشتہ رکھتا ہوں ۔۔!!

اس سچائی کو تم جھٹلا نہیں سکتی بلکہ تم تو کیا میں یا کوئی اور بھی نہیں جھٹلا سکتا ۔۔۔

ٹھیک ہے ۔۔۔۔
تو مجھے ایک بات بتائیں کیا میں ایک بے جان گڑیا ہوں ؟؟
بے جان بتوں کی پرستش کا کوئی ایکس پیر ینس نہیں ہے مجھے ۔۔!!
بہت تحمل سے جواب دیا گیا ۔

کیا نہیں ہوں گڑیا میں؟ ؟؟
جواب دیں دیکھں میری آنکھوں میں۔۔۔
 بتاؤں مجھے میں کیا پوچھ رہی ہوں آپ سے۔۔۔۔۔

 گھڑیاہی تو ہوں میں۔۔
 تمہارے لئے جب تمہارا دل کیا تم نے کھیلا ۔۔۔
اور جب تمہارا دل چاہتا تم نےمجھ کو توڑ کے پھر پھینک دیا کچرے میں  ۔۔!

وہ جیسے ہر قسم کا لحاظ بھول بیٹھی تھی۔۔۔

 اوکے ۔۔
 پرسکون رہو میں سونا چاہتا ہوں۔۔۔
 تم بھی سو جاؤ۔۔۔
 وہ جیسے اس کی بات مزید سننے کے موڈ میں ہی نہ تھا کروٹ لے کر ایسے لیٹا تھا جیسے معمول کی بات ہو ۔۔۔۔۔۔۔
جبکہ شفا کچھ فاصلے پر بیٹھی اپنا سر گھٹنوں میں دیے زاروقطار ہچکیوں سے رو رہی تھی
______
تمہیں نہیں لگتا کہ تم واقعی میرے لیے بنائی گئی ہو؟؟

تمہارے لڑکھڑاتے قدم چغلی کھا رہی ہیں کہ تم مجھ سے دور جانے پر مائل نہیں ہو یا پھر تمہارے قدموں کو مجھ سے فاصلہ قائم کرنے کی حاجت نہیں شاید ۔۔!!!

وہ مدہم لہجے میں بولتا اس کی گردن پہ سےاپنے دہکتے ہوئے لب ہٹاتے ہوئے کان کے قریب جا کہ جیسے سماعتوں میں رس گھول رہا تھا۔۔۔۔

 اپنے سحر میں جکڑ رہا تھا ۔۔
آنکھوں میں کئی رنگ تھے محبت کے۔۔
 اپنائیت کے ۔۔
وہ بغور  اس کے چہرے کو دیکھتے ہوئے کہہ رہا تھا نہ جانے کیا جاننا چاہتا تھا۔۔؟؟؟
کیا کھوج رہاتھا اس کے تیکھے نقوش میں ۔۔۔؟؟؟
وہ۔ سمجھ نے سے قاصر تھی۔ ۔۔

یکایک پورا کمرہ اندھیرے میں ڈوبا تھا ۔۔
بارش کی رفتار میں مزید تیزی آئی تھی جذبات کے سمندر میں تلاطم برپا ہوا تھا ۔۔
بادل بہت زور سے گرجے تھے ۔۔۔

باہر شاید لائٹ جاچکی تھی کمرے کے اندر ایمرجنسی آٹومیٹک لائٹ کھٹ سے روشن ہوئی تھی ۔۔۔۔

وہ پہلے ہی اس کے جذبات سے چور قربت سے کانپ رہی تھی ۔۔۔
پورا وجود لرزش کی لپیٹ میں تھا۔۔۔

 تم مجھ سے جو راز چھپانے کی کوشش میں مصروف ہو نہ ۔۔
 وہ راز میری دھڑکنیں سن چکی ہیں ۔۔۔ ''
کاش میں ان پرفسوں لمحات کو قید کرسکتا ۔۔۔۔۔!!
کاش ان خوبصورت  لمحوں پر میرا اختیار ہوتا ۔۔۔۔"۔

اگر جو اس قدر اختیار مجھے حاڈل ہوتا تو میری زندگی ۔۔۔۔۔۔
میں تمہیں تم سمیت ان حسین پلوں کو باندھ لیتا۔۔۔۔۔۔۔۔  !!!
کاش گر  جو ایسا ہوتا۔ ۔۔۔۔۔۔۔"

عمر نےاس کی تھوڑی کو اپنی انگشت شہادت سے اونچا کرکے کہا گیا تھا ۔۔
لرزتی اٹھتی گرتی پلکوں کی چلمن پہ اپنے لبوں کو رکھ کے چوماتھا ۔۔

کیا انوکھا انداز تھا محبت جتانے کا ۔۔۔۔
الفت لوٹاتا ۔۔۔

میں بھی یہی چاہتی ہوں کہ۔۔۔
 آپ کی محبت کا جواب عشق کی صورت میں دوں ۔۔۔۔۔
مگر ابھی کچھ وقت لگے گا ۔۔۔
دھڑکنوں کو ایک ڈگر پر لانے میں۔۔۔۔
لائبہ اس کے حصار میں جکڑی بن پانی کی مچھلی کی طرح تڑپ اٹھی تھی ۔۔

اس پر تضاد بارش میں بھیگنے کے باعث دونوں نفوس کے لباس کا نم ہونا ۔۔۔۔۔۔!!!

ایک بات بتاؤں تمہیں راز کی ۔۔۔۔؟؟؟

وہ جیسے لائبہ کے وجود پہ اپنی گرفت ڈھیلی کرنے کے موڈ میں نہ تھا ۔۔۔
یا شاید اس کو الجھا رہا تھا خود میں ۔۔

ذرا کی زرا نظریں اٹھا کے لائبہ نےاس مہرباں کے چہرے کو دیکھا تھا ۔۔۔۔

عمر کی آنکھوں میں کچھ اور ہی کہانی رقم تھی۔۔۔۔۔۔
 وہ واپس نظریں جھکاگئ۔ ۔ 

کہیں۔ ۔۔۔۔۔!!!
آپکو اجازت طلب کرنا چچتا نہیں مجھ سے۔ ۔۔۔
لڑکھڑاہٹ واضح تھی اسکی آواز میں۔ ۔۔
یا شاید عمر کو لگی تھی۔ ۔

خود کو نڈر ظاہر کرنے کی اپنی سی کوشش کی گئی۔۔۔۔۔
 جی کہیں۔۔۔۔

 بہت مشکل لبوں کا قفل ٹوٹا تھا۔ ۔۔
دھیمے سے سے کہا گیا تھا۔۔

 مگر نہ جانے کیوں وہ چاہ کر بھی خود کو عمر کی بانہوں میں  سے آزاد نہیں کروا رہی تھی۔۔

 لگ رہا تھا جیسے تمام مزاحمت خود بخود دم توڑ بیٹھی ہیں ۔۔۔

محبت ایک عجیب عادت ہے ۔۔۔۔وہ جزباب سے چور لہجے میں گویا ہوا تھا۔ ۔۔

خاصی بھولی بھالی ہوتی ہے محبت۔۔
 خود سے بے پروا۔۔
 بے بہرہ۔۔
 ہر ایک کی پروا میں گھلتی ۔۔۔
بے جا فقروں میں الجھتی ہوئی ۔
راز داری نبھاتی ہوئی۔
 لا پروائی میں اس کو بہت سی باتوں کا ہوش کہاں رہتا ہے۔۔۔۔
 کئی باتوں پر غور نہیں کر پاتی۔۔۔
محبت  بس ان کہے لفظوں میں اک راز ہے گہرا۔ ۔۔

گھمبیر لہجے میں کہا گیا تھا ۔۔
کچھ نہ کہتے ہوئے بھی وہ ڈھکے چھپے لفظوں میں بہت کچھ آشکار کر گیا تھا ۔۔

آنکھوں میں جذبات کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر موجزن تھا ۔
ذومعنی انداز میں لائبہ کو شاید وہ اپنا حال دل سمجھانے میں کامیاب ہوا تھا ۔۔

اگر محبت اپنا اپ منوانا جانتی ہے تو ۔۔
محبت کو راز بنا کر دل کے تہہ خانوں میں قید کرلینا ہی عقلمندی ہے۔ ۔
 گر جو محبت خالص ہوئی تو چیخ چیخ کہ اپنا آپ منوا ہی لے گئی ۔۔!!!

لفظ تھے یا کوئی سحر تھا وہ کھو سا گیا تھا لائبہ کی کہی ان کہی میں ۔۔۔


تو کیا میں یہ سمجھوں کہ تم بھی اسی کشتی کی سوار ہو ۔۔۔؟؟؟
جس میں بہت پہلے سے میں سفر پر نکلا ہوا ہو ۔۔۔!!!!

تھک چکی ہوں بہت سفر کرتے کرتے۔ ۔۔۔!
لمبی گہری۔ نیند سونا چاہتی ہو بسس۔ ۔۔۔۔۔۔

ٹھک۔ ۔۔۔۔ٹھک۔ ۔۔۔۔!!
 دروازہ زور سے بچا تھا بیڈ روم کا ۔۔۔
ایک طلسم سہ تھا جو یکدم ٹوٹا تھا ۔۔۔

عمر نے بہت تیزی سے مگر احتیاط سے لائبہ کو اپنی مضبوط گرفت سے آزاد کیا تھا۔۔۔

 وہ اس کو اس کے قدموں پر کھڑا کرکہ اس سے دور فاصلہ قائم کر گیا تھا۔۔۔۔

 جی کون؟
 بیٹا جرنیٹر آن کو دو۔۔۔
 تمہارے بابا کہہ رہے ہیں۔۔۔۔۔!!
 ائمہ نے کہا۔۔۔

 وہ کافی دیر سے دروازہ بجا رہی تھی ۔۔
جب کافی دیر تک نہیں کھولا گیا تو مجبورا اس نےدروازہ دونوں ہاتھوں سے زور زور سے پیٹا۔۔۔۔



ان دونوں کے حویلی میں پہلا قدم رکھتے ہی ایک تیز ہوا کا جھو نکہ ارمغان اور فجر کے گرد چکر کاٹتا محسوس ہوا تھا جیسے نہ جانے کب سے ان دونوں کا انتظار کیا جا رہا ہو۔۔۔

 فجر اپنا ہاتھ چھڑواکہ ایسے پوری حویلی میں گھوم رہی تھی جیسے ایک ایک چپکے چپکے سے حویلی کے واقفیت رکھتی ہو۔

 وہ تھوڑا حیران ضرور ہوا تھا مگر پھر یہ سوچ کے اپنا وہم سمجھ جان کہ دماغ کو الجھنے سے روکا کہ شاید وہ خوشی میں اس طرح سے ری ایکٹ کر رہی ہے ۔۔

وہ ہر ایک چیز کو چھو چھو کر دیکھ رہی تھی محسوس کر رہی تھی ۔۔۔
حویلی کی خوشبو کو اپنے اندر اتار رہی تھی۔۔۔۔!

 آؤ میں تمہیں حویلی کے پچھلی طرف پائیں باغ میں لے کر چلو۔۔
 جہاں میں اور میری گڑیا اکثر چل چلاتی ہوئی دوپہر میں بھی نیم کے درخت کے نیچے جھولا جھولا کرتے تھے ۔۔۔

‏فجر اسکے  قدم بڑھانے سے پہلے ہی باغ کی طرف نکل چکی تھی۔۔۔۔
ارمغان کو بہت تعجب ہوا تھا ۔۔۔
وہ کس طرح اس بھولبلییا حویلی کے راستوں سے واقفیت رکھ دکتی تھی ؟؟؟؟

 عنآیہ۔ ۔۔۔۔۔!
 وہ دیکھیں عنایہ جھولا جھول رہی ہے ۔۔۔"

وہ جھولے کی طرف اشارہ کرکہ بولی تھی ۔۔
جس پہ  نیم کہ درخت کے نیچے وہ دونوں جھولا جھولتے تھے۔۔۔۔
 جو مانی نے اس کی خواہش پہ خود لکڑی کے تختے پر رسی ڈال کے بنایا تھا ۔۔۔

عنایہ۔ ۔۔۔۔!
 وہ دیکھیئے عنایت ہری فراک پہنے کتنی اچھی لگ رہی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"

فجر بھاگتی ہوئی درخت سے بندھے جھولے کے پاس گئی تھی اور جھولے کو ہلکے  سے ہلانے لگی تھی۔۔
جیسے واقعی جھولے پہ عنایا بیٹھی ہو اور وہ اس کو جھولا جھلا رہی ہو ۔۔۔۔۔۔

بڑے بھیا آونا ۔۔۔۔۔!
اب آپ بھی عنایا کو جھولا دو ۔۔۔۔۔۔۔"

مانی وحشت زدہ سہ فجر  کی عجیب و غریب گفتگو کو سن کہ  سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔
 مگر ایک بات بھی اس کے دماغ کو پلےنہیں پڑ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کچھ سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ یہ سب کیا ہے؟؟؟
 فجر کیوں اس طرح کا برتاؤ کر رہی ہے۔۔۔۔۔؟؟
 کیا سمجھانا چاہ رہی تھی وہ اس کو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟

وہ صحیح معنوں میں بھونچکا رہ گیا تھا ۔۔

مان دیکھو بھیا نہیں آرہے ہیں ۔۔۔۔۔"
وہ چھوٹے بھائیا کے ساتھ ہی کھیل رہے ہیں اور دیکھیں میں نے کہا تو مجھے نہیں کھلا رہے دونوں۔۔۔۔۔۔ !!
 اکیلے ہی فٹبال سے کھیلے چلے جا رہے ہیں۔۔۔"
 مجھے بھی کھیلنا ہے دونوں کے ساتھ ۔۔۔"""

 اور آپ کیسے فرینڈ ہو نہ عنایہ کے کیوں ڈانٹ نہیں لگاتے انکی۔ ۔۔۔۔۔؟؟؟؟
میں جارہی ہوں ماما کے پاس آپ تینوں کی شکایت لگانے ۔۔۔۔"

ماما ۔۔۔۔۔ماما۔۔۔ !
 دیکھو بھائی میرے ساتھ نہیں کھیل رہے ہیں ۔۔۔۔۔!
پلیز جلدی آو نام مما باہر ۔۔۔۔

فجر کیا ہوگیا ہے ۔۔۔۔۔؟؟؟
تم کیا کہہ رہی ہو ۔۔۔۔۔؟؟؟؟
مجھے تمہاری کسی بات کی سمجھ  نہیں  رہی ۔۔۔!!

وہ الجھا تھا ۔۔۔
"کہیں واقعی حویلی میں موجود آسیب  فجر پہ حاوی تو نہیں ہو گئے ۔۔۔۔۔؟؟؟
اس سے آگے جیسے وہ  سوچ ہی نہیں سکا تھا۔۔۔۔۔۔۔ چہرے پہ ننھی ننھہ پسینے کی بوندیں پھوٹ پڑی تھیں ۔۔۔

مجھے امی اور دادی کی بات مان لینی چاہیے تھی فجر کا یہاں آنا ٹھیک نہیں تھا۔۔۔۔۔"

 مجھے یہاں اس کو لانا ہی نہیں چاہیے تھا ۔۔۔۔۔!

چلو فجر بہت دیر ہو رہی ہے۔۔۔
 نہیں ابھی تو ہم آئے ہیں مشکل سے دو گھنٹے بھی نہیں گزرے اور آپ کہہ رہے ہیں کہ چلو ۔۔۔۔۔"

آپ کو پتہ ہے میں کتنی تڑپتی ہو اس جگہ آنے کے لئے۔ ۔ ۔ ۔  ۔۔۔۔؟؟؟

 یہ میری حویلی ہے۔۔
 یہ عنایہ کی حویلی ہے ۔۔۔۔"
میں یہاں سے کہیں نہیں جاونگی آپ جائیں میں آپ کو جانے دیتی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔  !!

مگر میں کہیں نہیں جاونگی ۔۔۔۔"

لہجہ یکدم ضدی ہوا ۔۔۔

اور اگر آپ نے مجھ سے زبردستی کی تو میں  بابا سے شکایت کر دوں گی آپ کی۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔"

ہونہہ۔ ۔۔۔۔۔۔۔ !!!
 وہ ضدی پن سے کہہ رہی تھی۔۔۔۔
جیسے کوئی نو سے دس سال کی بچی ہو ۔۔۔۔۔۔"

وہ ہنکارہ بھرتی بھاگتی ہوئی واپس حویلی کے اندر چلی گئی۔۔۔
 مانی کو لگا تھا جیسے وہ اپنے اپنے آپ میں نہ تھی ۔۔۔۔

میرے بابا ماما کو مت لے کر جاو مجھ سے دور پلیز۔۔۔۔۔ ۔  "
 چھوڑ دو میرے پاس میرے بھائیوں کو ۔۔۔!
کیوں لے کر جا رہے ہو تم لوگ۔ ۔۔۔۔۔
وہ اپنے ماں باپ اور بھائیوں کا جنازہ جس جگہ بڑے سے ہال کمرے میں لایا گیا تھا اس جگہ زمین پر بیٹھ کے زور زور سے چیخ رہی تھی بین کر رہی تھی ۔۔۔۔
انکل مجھے جانے دو ۔۔۔
مجھے دیکھنا ہے۔۔۔
 مجھے اپنے مما بابا کوآخری دفعہ دیکھنا ہے۔۔۔۔۔"
  ۔۔۔۔
میں اپنے ماں بابا اور بھائیوں کا آخری دیدار کرنا چاہتی ہوں۔۔۔۔۔۔۔""
 آپ نے مجھے کیوں یہاں بند کر رکھا ہے ۔۔۔۔؟؟
وہ دیکھیں وہ وہاں  سےلوگ اٹھا رہے ہیں میرے بابا کو کندھوں پر اپنے ۔۔۔۔"

نہیں بیٹا یہ مناسب نہیں ہے بس تم خاموش رہو اور اپنے سر سے چادر مت ہٹانا ۔۔۔۔۔۔۔!!

زید فجر کا خیال رکھنا ۔۔۔"

مگر بابا یہ توعنایہ ہے پھر آپ نے ان کو فجر کیوں کہا ۔۔۔۔۔۔؟؟
زید کی آنکھوں میں حیرت ابھری تھی جبکہ عنایہ تو جیسے ہوش میں ہی نہ تھی۔
 اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ کسی طرح اپنے ماں باپ کے پاس چلی جائے ۔۔

بیٹا آج سے یہ فجر ہے آپ کی بہن انا یہ آگ میں جل کے مر چکی ہے۔۔۔۔"
 یہ بات یاد رکھنا اور فجر کو ادھر سے باہر مت نکلنے دینا۔۔۔۔!!
 میں بس ابھی آیا کچھ ضروری کاغذات لے کر ۔۔۔۔"

جی بابا ٹھیک ہے ۔۔۔۔۔"
فجر بیٹی آپ یہ دودھ پی لو ۔۔۔

انہوں نے اس کے دودھ میں نیند کی دوا ملا کر دی تھی تاکہ وہ گہری نیند سو سکے ۔۔

وہ اس کے بابا کے دوست تھے اور انھی سے ملنے آئے تھے مگر نہ جانے کیا ایسا ہوا تھا کہ ان کو فجر کی حفاظت کرنا پڑگئی تھی اور دنیا سے چھپا کر رکھنا ان کے لیے لازم اور ملزوم ہو گیا تھا اسکو ۔۔۔

عنایہ کو نیند کی دوا ملا کے دودھ میں اسی لئے دی گئی تھی تاکہ وہ شور نہ کرے۔ ۔۔

انہیں ڈر تھا کہ اس کی آواز سن کہ کوئی اس طرف نہ نکل آئے ۔۔۔

💞💞💞💞
فجر کیا ہوگیا ہے۔۔۔۔؟!
 تم اس طرح کی باتیں کیوں کر رہی ہو ۔۔۔؟؟؟

وہ دیوار پہ آویزاں اپنے ماں باپ کی شادی کے دن کی بڑی سی فریم شدہ تصویر کو دیکھ کہ سسک رہی۔ ۔۔۔
 اس کو چھو کے محسوس کرنے لگی ۔

اس طرح جیسے اپنے ماں باپ کو محسوس کر رہی ہو۔۔
 دیکھئے میں آ گئی بابا۔۔۔۔۔عنایہ آگئ۔ ۔۔۔!!
 دیکھیں مما آپ کی عنایا آگئی۔۔۔۔

 اب میں آپ کو چھوڑ کر کہیں نہیں جاؤں گی بھائی آپ کہاں ہو ۔۔۔۔۔؟؟
وہ اب دوسری فریم شدہ تصویر میں موجود اپنے بھائی سے مخاطب تھی۔ ۔۔۔
اس کی سسکیاں پوری حویلی میں گونج رہی تھی ۔۔۔

ارمغان نے ایک۔ جھٹکے سے اسکا رخ اپنی طرف پھیرا تھا ۔۔۔۔۔
کون ہو تم۔ ۔۔؟؟؟
گڑیا ۔۔۔۔۔!!
آپکی گڑیا ۔۔۔"
مان کی گڑیا۔ ۔۔۔۔۔۔"

وہ نہیں جانتی تھی جس راز کی حفاظت اسکے انکل نے اپنی جان سے بڑھ کر کی تھی ۔۔۔
وہ راز وہ لمحے میں فاش کر گئی ہے اپنی بد حواسی کی بنا پر ۔۔۔۔
___
کہا تھا نہ مجھے تم اس طرح
 سوتے ہوئے مت چھوڑ کر جانا
مجھے بے شک جگا دینا ،بتا دینا
 محبت کے سفر میں
 ساتھ میرے چل نہیں سکتی
جدائی میں ہجر میں
ساتھ میرے چل نہیں سکتی
تمہیں رستہ بدلناتھا
میری حد سے نکلنا تھا
تمہیں کس بات کا ڈر تھا
 تمہیں جانے نہیں دیتا
 کہیں پہ قید کر لیتا
ارے پگلی
 محبت کی طبیعت میں
 زبردستی نہیں ہوتی
❤❤❤
آپ پکا وعدہ کریں کہ مجھ سے دوبارہ سے ملنے کے لئے آئیں گے۔۔۔۔۔۔۔"
لہجہ افسردگی لیے ہوئے تھا ۔۔۔۔۔آنکھوں میں نمی بھری ہوئی تھی ۔۔۔۔۔۔چند ہی گھنٹوں میں وہ مصطفی کو بہت کملائی ہوئی سی لگی تھی جیسے کسی اپنے سے بچھڑنے کا دکھ برداشت کرنے سے قاصر ہو۔ ۔۔۔۔یا پھر جیسے اپنی سانسوں کی ڈوری ٹوٹنے کے ڈر سے خوفزدہ ہو۔ ۔۔۔۔!!!!!

دل تو اندر سے اسکا بھی ڈوب رہا تھا مگر ابھی وہ کوئی ایسا حق نہیں رکھتا تھا کہ اس کو خود سے باندھ کہ لے جاسکتا ۔۔۔۔۔۔
ہا۔ ۔۔۔۔۔ !!
مگر یہ مجبوریاں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"
وہ گہرا سانس بھر کے رہ گیا ۔۔۔۔

مصطفی چاہ کر بھی اس کو بغیر کسی رشتے کے اپنے ساتھ لے کر نہیں جاسکتا تھا اس کے لئے اس کو ایک جائز رشتے کی مضبوط دور باندھنے کی اشد ضرورت تھی ۔۔۔۔

 میں اپنی دھڑکن کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔۔۔۔۔" تمہارے دم سے میرے سینے میں موجود دل حرکت کرتا ہے ۔۔۔۔۔۔"
میں مطمئن ہوں کہ میرے وعدے اور دعوے بالکل کھرے ہیں ۔۔۔۔"
کسی بھی قسم کے کھوٹ اور فریب سے پاک ۔۔۔۔۔"
میں نے تم سے کسی بھی قسم کا جھوٹا وعدہ نہیں کیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔"
مصطفی کا لہجہ مضبوط تھا۔۔ سچائی کی آمیزش لیے ہوئے ۔۔۔۔۔
آپ کو جانا ہے میری طرف سے اجازت ہے آپ جاسکتے ہیں مگر ایک شرط ہے میری بے ضرر سی ۔۔۔۔۔"
بہت ٹھہر ٹھہر کے بولا گیا تھا لہجہ اپنی بات منوانے کا عزم لیے ہوئے بہت گہرا تھا ۔۔۔

تمہاری شرط تو کیا تمہاری کہی ہر ایک بات میرے لئے حکم کا رتبہ رکھتی ہے۔۔۔۔۔"

 کہو کیا مانگنا چاہتی ہو۔۔۔؟؟
تمہارے لئے میری جان بھی حاضر ہے ۔۔۔۔۔"
ابھی اور اسی وقت تمہارے حوالے کرنے کو تیار ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔"

آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کچھ اس طرح کہا تھا کہ سوہا کی روح تک کانپ کے رہ گئی تھی ۔۔۔

وہ بری طرح سے لرز گئی تھی مصطفی سے بچھڑنا اور اس کے بغیر زندگی کا تصور بھی اب اس کے لیے سوہانِ روح تھا ۔۔۔۔

وہ اپنی زندگی تو تیاگ سکتی تھی مگر مصطفی کی جان کے نذرانے کے طور پہ۔  ۔۔۔۔۔!!

میری شرط اگرچہ بہت معمولی سی ہے مگر میرے لیے یہ زندگی اور موت کے برابر ہے ۔۔۔۔۔۔۔!!
وہ دھیمے سے بولی تھی ذرا کی ذرا نظر اٹھا کے مصطفی کو بھی دیکھا تھا ۔۔
پلکوں میں سے ایک آنسو ٹوٹ کے گرا تھا جو مصطفی کے ہاتھ کی پشت پہ جذب ہو گیا ۔

مصطفی کا ہاتھ اب بھی سوہا کے مرمریں گداز مخروطی ہاتھ  کے اوپرہی دھرا تھا۔ ۔۔۔

تم نہیں جانتیں تمہارا یہ ایک آنسو مجھے کس قدر تکلیف پہنچا رہا ہے ۔۔۔۔۔

اپنے آپ کو سنبھالو میرے لیے واپسی کا سفر مزید دشوار نہ بناو۔۔۔
 مجھے ابھی کچھ اور دن تم سے دوری برداشت کرنی ہے ۔۔۔
مصطفی کا لہجہ اور آنکھیں اداسی میں ڈوبی ہوئی تھی ۔۔۔
جاتے ہیں بے شک جائے۔۔۔"
جانے والے کو نہ کبھی کوئی روک سکا ہے اور نہ کبھی کوئی روک پائے گا ۔۔"
 مگر بس میری ذرا سی شرط ہے کہ مجھ سے وعدہ کرکے جائیں کہ بہت جلد لوٹ کر آئیں گے اور ایک بات کا تو مجھے یقین دلا دیں کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 یہ جدائی تو پل کی ہے یا پھر۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"

یہ کہیں عمر بھر کا بچھڑنا تو نہیں ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟؟

بچھڑ کے میں تم سے جاؤں گا تو جاؤں گا کہاں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟
ہاں ایک ٹھکانہ ہے میرے پاس اور وہ ہے میری آخری آرام گاہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"
میرا وعدہ ہے کہ بہت جلد میں تمہیں اپنا بنا کے لے کر جاؤں گا پورا استحکاق کے ساتھ۔۔۔۔۔۔۔!!!

 سوہا کے نازک ہاتھ کونرمی سے دبا کہ اپنی وفاؤں کا یقین دلارہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔ 

 اپنےسچے موتی کے مانند جذبات سے آگاہی فراہم کر ارہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔!!

 وہ گھر کے سبہی افراد سے ملکر جیسے ہی جانے کو تھا ابھی اس نے گاڑی سٹارٹ ہی کی تھی( جو کہ عمر اس روز لے کر آیا تھا جب لائبہ کو اپنے ساتھ بائےر وڈ لے کر کراچی پہنچاتھا )۔۔

سوہا بھاگتی ہوئی آئی تھی وہ فرنٹ سی کا دروازہ کھول کے آنکھوں میں آنسو لیے گاڑی میں ڈرائیونگ سیٹ کے برابر والی نشست پہ بیٹھ گئی ۔۔۔

مصطفی نے بغور اس کا چہرہ دیکھا تھا جہاں ایک خوف تھا جیسے اس کا دل اندر سے سوکھے پتے کی طرح لرز رہا ہو۔۔۔۔۔

 اپنی محبت کو کھو دینے کے ڈر سے ۔۔
وہ اس کو کھونا نہیں چاہتی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔
 اس سے دور ہو کہ رہنا نہیں چاہتی تھی ۔۔۔۔۔!!

وہ بے چین سا ہو گیاسوہا کے چہرے کی زردی دیکھ کے ۔۔

اس کی آنکھوں میں رقم ویرانی مصطفی کو اندر تک سہما گئی تھی ۔۔۔

وہ چھوٹی سی لڑکی اس کی محبت میں جیسے تڑپ رہی تھی بے بسی سے ۔۔۔۔

ابھی کچھ دیر پہلے وہ کس قدر مطمعین سہ اندر سے آیا تھا ۔
لائبہ کو اپنے گھر میں آباد دیکھ کہ ۔۔۔
ماموں سے اس کو پتہ چلا تھا کہ ان کی اچانک خرابی طبیعت کے باعث لائبہ کا نکاح عمر سے کردیا گیا تھا ۔۔۔

 رحمان صاحب نے مصطفی سے کہا تھا کہ لائبہ کو اپنے گھر کی رونق بنے دیکھنا ان کی دلی خواہش تھی اور جب ان کی طبیعت بگڑ گئی تب انہوں نے بہت سے خدشات کے تحت عمر کو لائبہ کے ساتھ منسوب کر دیا ۔۔۔اور پھر آناً فانن نکاح خواں  کو بلا کہ نکاح بھی کرا دیا گیا تھا ان دونوں کا ۔۔

وہ اپنی یہ خواہش پوری ہوتے دیکھ لینا چاہتے تھے اپنی زندگی میں ۔۔۔
وہ مطمئن تھا یہ بڑوں کے فیصلے تھے جن میں مان تھا اپنائیت تھی۔ سب سے بڑی بات اس کی بہن من چاہی بہو بنی تھی ۔

تھوڑا دل میں ملال ضرور پیدا ہوا تھا کہ کتنے ارمان تھے اس کے دل میں اپنی اکلوتی بہن کی شادی کو لے کر ۔۔۔۔۔۔!

اس بات کا برملا اظہار اس نے ماموں کے سامنے بھی کرڈالا تھا جس کے جواب میں انہوں نے بڑی شفقت سے کہا تھا کہ جب تمہارے اماں باوا حج کرکے آئینگے تب  ولیمہ کا فنکشن بہت بڑے پیمانے پر کرینگے ۔۔۔
وہ خاموش ہو گیا بڑوں کی عزت کرنا اس پر فرض تھا اور لازم اور ملزوم بھی ۔۔

کچھ دیر بیٹھ کر وہ سب سے علودہ لے کر جانے کے لیے اٹھ کھڑا ہوا تھا۔۔

 لائبہ اس سے ملی تھی اور سینے سے لگ کے بہت بری طرح سے سسک اٹھی تھی۔ ۔۔
مصطفی نے  اس سے پوچھا تھا کہ۔۔۔
 کیا تم بڑوں کے اس فیصلے سے مطمئن ہو؟؟؟

وہ اپنی آنکھوں میں موجود نمی کو جلدی سے ہاتھ کی پشت سے صاف کرکے بولی تھی۔۔

" بھائی، عمر کی شریک حیات بن نہ میرے لئیے قابل فخرہے ۔۔۔۔۔۔۔"

لائبہ کا لہجہ اور اس کی آنکھیں اس بات کی گواہی دے رہی تھی کہ وہ عمر کی ہمراہی میں بہت خوش اور مطمئن زندگی بسر کر رہی ہے ۔۔

اپنی پیاری اکلوتی بہن کو خوش اور خرم دیکھ کر وہ اندر تک پرسکون ہو گیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!

وہ خود بھی کچھ دیر تک تھکا ہارا سہ ڈرائیونگ  سیٹ پہ بیٹھا رہا ٹیک لگا کہ۔ ۔
 دل تھا کہ اپنی کل متاع کو دیکھنے کے لئے مچل رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔!!
جانے سے پہلے آخری دیدار کرنے کو بے چین تھا ۔۔۔۔۔!

شاید اللہ نے اس کی سن لی تھی اور وہ ٹھیک دس منٹ بعد جب سب لوگ واپس اندر جا چکے تھے خداحافظ کرکے اس کو۔۔۔
 تب وہ پثمردہ سی چال چلتی ہوئی گاڑی تک آئی تھی آنکھوں میں ویرانی اور افسردگی پنہاں تھی ۔۔۔

گر بچھڑنا ہے تو پھر عہد وفا سوچ کے باندھ
ابھی آغازِ محبت ہے گیا کچھ بھی نہیں ۔۔۔!!
💕💕💕
مصطفی کتنا اچھا بچہ ہے ماشااللہ ماں باپ کی تربیت اس کے ہر ہر انداز سے جھلکتی ہے ۔۔۔

سمیرا نے جائےنماز طے کرتے ہوئے رحمان صاحب سے کہا ۔
وہ ابھی ابھی عشاء کی نماز پڑھ کے اٹھی تھی ۔

ہاں ماشااللہ بہت پیارا بچہ ہے نیک سیرت نیک فطرت ہماری بچی کا کتنا خیال رکھا اس نے ۔۔۔۔۔
رحمان صاحب نے موبائل پہ کسی کا نمبر ڈائل کرتے ہوئے جواب دیا ۔۔۔۔۔
آپ فون پر بات کرلیں پھر میں آپ سے کچھ بات کرنا چاہتی ہوں ضروری ۔۔۔

کہوں کیا کہنا ہے فون میں بعد میں کر لوں گا ۔۔۔؟

رہمان صاحب ٹھٹکے تھے کیونکہ سمیرا کبھی بھی بلا وجہ ان کو کسی کام سے نہیں روکتی تھی یا پھر تمہید نہیں باندھا کرتی تھی وہ بے دھڑک اپنی بات کرنے کی عادی تھی ۔۔۔۔

وہ اچھی طرح جانتے تھے یہ اس کا انداز تھا جب وہ کوئی بہت اہم بات کرنا چاہتی تو اسی طرح سے بات کا آغاز کرتی۔ ۔
زینب آپی نے حج پہ جانے سے پہلے ایک بات کہی تھی جو میں آپ کو بتانا بہت دنوں سے چاہ رہی ہوں مگر کوئی نہ کوئی ایسی بات ہو جاتی ہے کہ پھر زینب آپی کی بات ہی بیچ میں رہ جاتی ہے ۔۔۔۔

کیا ہوا سب خیریت تو ہے ؟؟؟

وہ الجھے تھے کیونکہ آج تک اتنے سالوں میں ان کی دونوں بیویوں میں سے کسی نے بھی زینب کی کوئی برائی نہیں تھی کیونکہ زینب کی عادت میں ہی کسی سے لڑنا جھگڑنا نہیں تھا ۔۔۔
ہاں ہاں سب خیریت ہے بلکہ آپی نے ہماری سوہا کا رشتہ مانگا ہے مصطفی کے لیے ۔۔۔

منع کر دو پہلی فرصت میں بنا کر دو ،۔!
بلکہ رہنے تو میں خود زینب سے بات کروں گا ۔۔۔

مگر مصطفی ہرلحاظ سے سوہا کے لئے بہت اچھا لائف پارٹنر ثابت ہوگا ۔

مجھے نہیں لگتا کہ ہمیں اتنی جلدی کسی بھی فیصلے پر پہنچنا چاہیے۔۔۔۔۔

سمیرا نے پریشانی سے کہا کیونکہ وہ مصطفی کے لئےسوہاکی آنکھوں میں پسندیدگی دیکھ چکی تھی اور پھر سوہا کی واپسی کے بعد سے بدلے بدلے انداز یہ چیخ چیخ کے بتا رہے تھے کہ وہ مصطفی اس کو چاہنے لگی ہے ۔
اور ایک ماں تو اپنے بچوں کے ہر ہر انداز سے واقفیت رکھتی ہے ۔۔۔۔

مصطفی میں کوئی برائی نہیں ہے مگر میں سوہا کیلئے اپنے بچپن کے بہترین  دوست امجد گوندل کے بیٹے خزیمہ گوندل کے لیے زبان دے چکا ہوں ۔۔
اور مجھے پتہ ہے سوہا خزیمہ کے ساتھ بہت اچھی زندگی بسر کرے گی ۔۔۔

امجد گوندل وہی نہ جو ملک کے بڑے بڑے بزنس ٹائیکون میں شمار ہوتے ہیں ۔؟
ہاں وہی ۔
 تمہیں یاد نہ ہو شاید کچھ عرصے پہلے میں تمہیں ایک دعوت میں لے کر گیا تھا جہاں میں نے تمہیں خزیمہ سے بھی ملوایا تھا ۔۔۔۔۔

چلیں ٹھیک ہے مگر مجھے ابھی یاد نہیں آ رہا ۔۔
جیسا آپ مناسب سمجھیں ۔۔۔
مگر پھر بھی  کسی بھی قسم کا فیصلہ کرنے سے پہلے سوہا سے اس کی مرضی ضرور پوچھئے گا ۔۔۔

میں جانتا ہوں اپنی بیٹی کو وہ کبھی بھی اپنے بڑوں کے فیصلے سے اختلاف نہیں کرے گی اور پھر میں اپنی زبان دے چکا ہوں ۔۔
اب سے نہیں پچھلے 6 مہینے پہلے سے ہی۔ ۔۔۔۔۔"
زبان سے پیچھے ہٹ نے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا میرا ۔۔۔۔۔  "
رحمان صاحب نے جیسے بات ہی ختم کی تھی وہ اب واپس اپنے موبائل میں کسی کو نمبر ملانے میں مصروف ہوگئے تھے ۔۔۔

مگر سمیرا کی تو گویا جیسے راتوں کی نیند ہی اڑ چکی تھی




#ستمگر_کوہم_عزیز

#ایمن_نعمان 📝

قسط 43
وہ سمیرا کے ساتھ لان میں بیٹھی تھی ۔۔۔۔
 تم خوش نہیں ہوں ؟؟؟
اب بھی ۔۔۔؟
اب تو سب کچھ ٹھیک ہو چکا ہے۔۔۔۔!

 سمیرا نے اس کو غیر مرعی نقطے پر غور و فکر کرتا دیکھ کر ٹوکا تھا۔۔۔

 ماما میرے لیے فی الحال خوشی کا کوئی مفہوم نہیں ہے۔۔
 شاید ہوسکتا ہے کچھ عرصے میں مختلف ہو جائے میری رائے مگر ابھی میں نہیں جانتی خوشی کسے کہتے ہیں۔۔۔؟
 وہ صاف گوئی سے بولی تھی ۔۔۔

میں مانتی ہوں حمزہ نے بہت غلط کیا ہے مگر وہ پشیمان ہے ۔۔۔
میں نہیں چاہتی کہ تم بھی تکلیف میں رہو اور وہ بھی۔۔
 میں تم دونوں کو ہی دکھی نہیں دیکھنا چاہتی ۔۔۔
تم دونوں ہی مجھے عزیز ہو مگر تمہارے معاملے میں میرا دل بہت کمزور ہے ۔۔۔!

سمیرا نے اس کا ہاتھ تھاما تھا۔۔

 آپ کو ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے ماما۔ ۔۔
میں خود میں اتنی ہمت پیدا کر چکی ہوں کہ ہر قسم کے حالات کا سامنا ڈٹ کے کر سکوں۔۔۔

 وہ ماں کو مطمئن کرنے کو مسکرائی تھی ۔۔۔

میری فکر نہ کریں آپ بس بابا کا خیال رکھے اس وقت ان کو آپ لوگوں کی اشد ضرورت ہے ۔۔!!

وہ کہہ کے اٹھ کھڑی ہوئی مزید اگر ماں کے ساتھ بیٹھتی تو رو دیتی ۔۔۔

شفاء طھ دیر پہلے ہی تو آکے بیٹھی تھی حمزہ کا سارا سامان اس نے واپس حمزہ کے کمرے میں رکھوا دیا تھا۔۔۔ 

 وہ اس کی چیزیں تو دور کی بات اس کی موجودگی تک برداشت نہیں کر سکتی تھی اپنے اردگرد ۔۔

مگر مجبوری ایسی تھی کہ اس کو اب اس کے ساتھ ایک ہی چھت کے نیچے رہنا تھا اور اس کا  سامنا بھی کرنا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!؛

💞💞💞💞

یار پلیز چائے کا ایک کپ بنا دو میرے لئے سر میں بہت درد ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔!

وہ لاونج سے گزر رہی تھی جب حمزہ نے اپنےدکھتے سر کو دباتے ہوئے کہا ۔۔
وہ ابھی ابھی آفس سے آیا تھا ۔۔
ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کر کے شرٹ کے اوپری دو بٹن کھولے وہ صوفہ پہ نیم دراز تھا ۔۔۔۔

معذرت لیکن میں آپ کی یہ خدمت کرنے سے قاصر ہوں ۔۔۔  ۔ ۔  "

وہ کہہ کر آگے بڑھنے کو تھی جب عاشیر بھی آفس سے واپس گھر آ چکا تھا اور اپنے کمرے میں فریش ہونے کے لئے بڑہی رہا تھا۔۔

 جب ان دونوں کو الجھتا دیکھ کہ اس کے لبوں پہ شریر سی مسکراہٹ کوندی تھی ۔۔

یار آج میرا تھکن سے بہت برا حال ہے ۔۔
چائے کی شدید طلب ہو رہی ہے (جب کہ وہ اس وقت چائے نہیں پیتا تھا)

 آپ فرش ہوجائیےمیں آپ کے روم میں بھیجتی ہوچائے اور ساتھ کچھ کھانے کے لئے بھی ۔۔۔۔۔"

وہ کن آنکھیوں سے حمزہ کو دیکھتی ہوئی مسکرا کہ عاشیر کو گھر کے اندر  ویلکم کرتے ہوئے بولی ۔۔۔۔

اوکے بہت شکریہ ۔۔۔"
تم بہت اچھی لڑکی ہو او یار میرا ایک کام کر دو تھوڑا سا میرے پروجیکٹ پہ ورکنگ کروا لو کچھ گراف کملپیٹ کرنے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔!

وہ بہت اچھی طرح جانتا تھا کہ وہ گرافس بنانے میں بہت ماہر ہے اس لئے جان کہ جاتے جاتے فقرہ اچھالا تھا ۔۔۔۔

حمزہ نے خشمگین نظروں سے پہلے عاشیر کو پھر شفاء کو گھورا تھا  ۔

ٹھیک ہے ابھی آئی وہ کہہ کے چلی گئی جبکہ عاشیر حمزہ کے غیض وغضب سے پر چہرے پہ ایک چڑھانے والی مسکراہٹ اچھالتا جاچکا تھا ۔۔۔۔

 وہ بہت اچھی طرح جانتا تھا کہ شفاء تو کیا اب چائے بھی نہیں آئے گی ۔۔۔

وہاں کیا دیکھ رہی ہو۔۔۔۔؟؟
 میں یہاں ہوں تمہارے پیچھے وہ جا چکا ہے۔۔۔۔۔۔ چبا چباکے جتایا گیا ۔۔۔۔

آپ چاہے پورے گھر میں دندناتے پھریں مجھے کوئی غرض نہیں ہے اس سے ۔۔۔۔"

وہ پلٹ کے کچن میں جانے کو تھی جب حمزہ نے اس کا بازو وحشیانہ انداز میں اپنی گرفت میں لیا تھا اور اس کو اپنے ساتھ لیے تھوڑا ہی فاصلے پر کوریڈور عبور کرکے اپنے کمرے میں لے آیا تھا ۔۔۔۔۔

یہ کیا بدتمیزی ہے ۔۔۔۔؟؟؟

کمرے کا دروازہ دھاڑ کی آواز سے بند کرکے لاک لگانے کے بعد وہ واپس اس کی طرف بڑھا تھا ۔۔۔۔

شفا جو الٹے قدموں پیچھے ہونے کو تھی یکدم اس کا ہاتھ پکڑ کہ دونوں کیکلائیوں کو جکڑ کے شفا کی پشت کی طرف لے جا کے اپنے سخت ہاتھوں سے تالا لگا دیا تھا  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ کیا بیہودگی ہے اپنی ٹھر ک کہی اور نکالیں۔ ۔۔۔۔۔!
 وہ روب میں آئے بغیر مری طرح سے چنگھاڑی۔ ۔

آواز نیچے کرو ورنہ بند میں خود کر دوں گا آواز کو تمہاری ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"
دوسرے ہاتھ سے اس کے لبوں پہ بھی تالا لگا دیا گیا ۔۔۔۔۔
 آواز بلند کرنا مجھے بھی آتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔"

حمزہ کی گرفت بہت سخت تھی وہ پوری طرح اس کے حصار میں تھی ۔  ۔ ۔۔

اب کہوں کیا کہہ رہی تھی ۔۔۔۔؟؟؟

بہت تڑ تڑزبان چل رہی تھی نہ باہر۔۔۔۔۔۔"
 تم کیا سمجھتی ہوکہ بھرا پورا گھر ہونے کے باعث تم مجھ سے بچ سکتی ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔؟؟۔

 بھول ہے تمہاری۔۔"

 شوہر ہوں تمہارا ۔۔۔۔۔!

اپنی ہر چیز کی حفاظت کرنا مجھے بہت اچھی طرح سے آتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"

میں کوئی چیز نہیں ہوں جیتی جاگتی انسان ہوں۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔  !

 مزید آپ کو اپنے اب سے کھیلنے نہیں دوں گی ۔۔۔
ایک دفعہ فریب کھا چکی ہوں۔۔۔۔۔۔۔"

شٹ اپ ۔۔!
بہت ہوگئی بکواس منہ بند رکھو اپنا ۔۔۔"

لگتا ہے بہت شوق ہے تمہیں پروجیکٹس پر کام کرنے کا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہونہہ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!

 آنکھوں میں غصہ لیے وہ اس کو مزید خود سے قریب کر گیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہاں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔!
 تو پھر۔۔۔۔۔۔؟؟؟
 پھاڑ کھانے والے لہجے میں خود سری سے جواب موصول ہوا ۔۔۔

یعنی عاشیر صاحب تمہیں کافی پسند ہے ۔۔۔۔؟؟؟
انٹرسٹنگ۔ ۔۔۔۔۔!!!

لہجہ آگ برسا رہا تھا ۔آنکھوں میں سے شرارے پھوٹے پڑھ رہے تھے ۔۔۔

وہ ٹھٹکی تھی اور بہت غور سےحمزہ کے چہرے کو دیکھا تھا ۔۔۔۔

تو کیا وہ مجھ پہ شک کر رہا تھا ؟؟؟؟؟

ہاں ہے مجھے پسند۔۔۔۔۔  !

 آپ کو اس سے کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
 وہ ایسے بولی جیدے حمزہ کے جذبات اور اس کے احساسات کی رتی برابر بھی فکر نہ تھی ۔۔۔۔

اس لمحے اس کو حمزہ نے ناگواری سے دیکھا تھا جیسے خود پہ بہت مشکل سے ضبط کر رہا ہوں ورنہ اس طرح دیدہ دلیری سے غیر مرد کا نام لینا اور پسندیدگی ظاہر کرنے پر اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ سیدھے ہاتھ کا ایک تھپڑ جڑ دے اس کے من موہنے چہرے پہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مگر وہ عورت کے اوپر ہاتھ اٹھانے کا قائل نہیں تھا ۔۔۔

شفاء حمزہ جلال!
 مجھے بے ایمانی پسند نہیں ہے۔۔۔۔۔"
 وہ اس ایک چھوٹے سے جملے میں بہت کچھ واضح کر گیا تھا ۔۔۔

اگر تم کوئی کھیل کھیل رہی ہو تو۔۔۔۔۔۔۔!
 کسی بھی چال کے لئے تیار رہو میری ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"
کھیل میں سب کچھ جائز ہے ۔۔۔۔!

وہ کب کا اس کے لبوں پر سے اپنا ہاتھ ہٹا چکا تھا ابھی وہ مزید کچھ کہنے کو تھی تھوڑے سے لب پھڑپھڑائے ہی جب ہمزہ نےاچانک اس کے لبوں پر اپنے لب رکھ دئے تھے ۔۔۔۔۔۔

میرا خیال ہے اس کے بعد تمہیں کچھ اور مزید سمجھانے کی ضرورت تو نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔ "

وہ اس کی لوگوں کو آزاد کر کے معنی خیز لہجے میں پوچھ رہا تھا ۔۔۔۔

وہ بہت اچھی طرح سمجھ رہی تھی کہ ھمزہ اس وقت سلگتے انگاروں کی لپیٹ میں آچکا ہے ۔

یہ اختیار آپ مجھ سے واپس مانگ چکے ہیں لیکن میں اس اختیار کو  آپ کو واپس لوٹادینے کے لئے تیار نہیں ہوں ۔۔۔۔۔!!
میں فیصلہ کرچکی ہوں اور اب اپنے فیصلے سے ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹونگی ۔۔۔۔۔۔"

اس کو چڑا کے صحیح معنوں میں شفا کے دل میں ٹھنڈ سی پڑ گئی تھی ۔۔
ہوسکتا ہے ۔۔۔۔۔۔ 
ایک دفعہ پھر جیت میرا مقدر ٹھہرے ۔۔۔!
وہ تمسخرانہ  لہجے میں بولا ۔۔۔

اور یہ بھی تو ہوسکتا ہے اس دفعہ ہآر آپ کا مقدر بنے اور جیت کا تاج میرےسر پر چڑھے ۔۔۔۔""

وہ بے خوفی سے بولی تھی ۔۔۔

مجھے بے ایمانی اور کھوٹ سے نفرت ہے مسز حمزہ!!
 چاہے وہ کھیل میں ہی کیوں نہ ہو۔۔۔۔۔"

 حمزہ کی آنکھیں سرد مہری لیے ہوئے تھی۔۔
 ان دونوں کی بے تکلفی اسکو بے طرح کھلی تھی ۔۔۔

تم مجھے مت اکسائو بار بار کہ میں ایک دفعہ پھر اپنی ضرورتوں کا پیٹارا لے کے تمہارے پاس آ ن پہنچوں اور تمہیں بے بس کر ڈالو ۔۔۔!!

میں اکسارہی ہوں آپ کو۔۔۔۔؟؟؟

 وہ دھاڑی۔۔۔

آپ کیوں اپنے تمام   الزام مجھ پہ لگانے پہ ہردم بضد رہتے ہیں ۔۔۔؟
کیا کوئی پچھتاوا ستاتا ہے آپ کو ۔۔۔؟
یا پھر کوئی ملال سونے نہیں دیتا۔۔۔؟
 ہر رات آپ رتجگے کرتے ہیں ۔۔۔۔؟؟

وہ بضد ہوئی جیسے آج حمزہ کے اندر کی بھڑاس نکالتے ہی دم لے گی ۔۔۔

جب کہ وہ خاموشی سے اس کو اپنی نظروں میں قید کرتا رہا اور پھر بہت دلفریب مسکراہٹ لبوں پہ سجاکہ بولا۔۔۔

تم۔۔۔۔۔ ۔  "
 تم مجھے رات بھر سونے نہیں دیتی ہو ۔۔۔!!
میرے ہوا سوں پہ بس تم ہر لمحہ طاری رہتی ہو۔۔۔" رتجگے کرنے پر تم نے مجھے مجبور کر دیا ہے ۔۔۔۔!

ٹھہرے ہوئے لہجے میں عجب اقرار تھا ۔۔۔۔

بس کریں حمزہ اب میں آپ کے کسی بھی دھوکے کی متمنی نہیں ہوں ۔۔۔!

وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ وہ اس سے مزاق کررہا تھا یا پھر ایک دفعہ پھر اس کو شیشے میں اتارنے کے لیے مضبوط جال بننے کو تھا ۔۔۔۔۔۔؟؟

وہ اس کو محبت سے دیکھتے ہوئے مسکرا دیا ۔۔۔

اتنی حیران اور خوفزدہ کیوں ہو ۔۔۔۔؟؟
بندہ بشر ہوں ۔۔!
اور پھر تم بیوی  ہو میری جائز ۔۔
تمہارے تمام تر جملہ حقوق محفوظ رکھوا چکا ہوں اپنے نام پہ۔۔۔۔

وہ ٹھہر ٹھہر کہ کہتا ہوں اس کی پیشانی پر بوسہ دے گیا ۔۔۔

اس کے لبوں کی حدت۔۔۔
 لمس کی تپش ایسی تھی کہ وہ اس کی طرف ایک نظر اٹھا کہ دیکھ  ہی نہ سکی ۔۔۔۔

وہ اس کو چاروں شانے چت کر گیا تھا۔۔۔۔
 شفا کا سارا اعتماد لمحوں میں ہوا ہوا۔ ۔۔۔

عاشیر سے زیادہ فری ہونے کی ضرورت نہیں ہے انڈراسٹڈ۔ ۔۔  !
 تم صرف مجھے سوچا کرو اور میرے سامنے ہی زیادہ سے زیادہ رہا کرو۔۔۔۔۔۔"

 وہ واپس جیسے اپنی اصل موضوع پہ آیا تھا ۔۔۔

آپ شک کی نظر سے مجھے دیکھتے ہوئے ذرا سی شرم نہیں آئی ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟

آپ کو مجھ پہ شک  ہے ۔۔۔؟؟؟؟
وہ اندر سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوئی ۔۔۔۔

کیوں دو ں میں آپ کو خوامخواہ کی وضاحتیں ۔۔۔؟؟؟

کیا مجھے اس لئے یہاں کھینچ کر لائے تھے۔ ۔۔؟؟؟

میں شک نہیں کر رہا تم پہ ۔۔۔۔"
نہ میں تم سے کبھی شک کرسکتا ہوں ۔۔!!

میرا مقصد تمہیں صرف یہ سمجھانا ہے کہ کم سے کم اس کے سامنے جایا کرو ۔۔۔۔۔"

 میں تو تمہیں تب سے جانتا ہوں جب تم کو اس دنیا میں آئے ہوئے دو منٹ بھی نہیں گزرے تھے ۔۔۔"

تو پھر تم پہ شک کرنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔۔۔"

ہاں مگر ایک بات میں تمہیں بہت واضح انداز میں سمجھا دینا چاہتا ہوں اور اس کو اپنی ننھی سی عقل میں بٹھا لو ۔۔۔۔۔۔!

 تم میری بیوی ہوں اور میں اپنی بیوی کا ایک نامحرم سے خوامخواہ میں بات چیت کرنا پسند نہیں کروں گا ۔۔۔۔۔۔!!!!

اور رہی بات تمھاری کہ میں تمہیں یہاں کیونکر  لایا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔؟

 تو تمہارے بہت سے ایسے کام ہیں جو میرے تم ادھوری چھوڑ کے بڑے مزے سے ادھر سے ادھر دندناتی پھر رہی ہو۔۔۔۔۔"

بس اسی لئے سوچا کہ کیوں نہ آج تمام حساب بےباک کرلیا جائے ۔۔۔!!!

میرا بیڈ روم۔۔۔
 ہمارا گھر اور یہ تنہائی ۔  ۔۔!!

کیا خیال ہے ۔۔؟؟؟
وہ اپنی شرٹ کے بٹن کھولتے ہوئے خمار آلود لہجے میں کہہ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔

💞💞💞💞

تنہا دل ہے تنہا یادوں میں
 اب تو تنہائیاں بھی
 دل کو اچھی لگتی ہیں ۔۔۔

وہ بھاگتی ہوئی آئی تھی واشروم سے ابھی تو وہ اٹھی تھی سو کہ۔ ۔

 ساری رات بھر کروٹیں بدلتی رہی نیند تھی کہ اس کے اوپر اپنے مہربان پروں کو پھیلانے سے انکاری تھی ۔۔

بڑی مشکل سے اس کی آنکھ کھلی تھی !!فجر کے وقت ہی تو وہ خواب  خرگوش کی وادیوں میں گم ہوئی تھی ۔دن چڑھ آیا تھا دوپہر کے ساڑھے بارہ بجے کا وقت ہو رہا تھا۔ جس وقت وہ سوکہ اٹھی تھی ۔۔۔
ہلکے آسمانی پردوں سے چھنتی روشنی نے اس کی نیند میں خلل پیدا کیا ۔۔۔

سوہا ایک بھرپور انگڑائی لے کر اٹھی تھی ۔۔

کچھ دیرتک  تو جیسے اس کا دماغ ہی سن سہ رہا۔۔ وہ ابھی بھی یہی تصور کر رہی تھی جیسے وہ مصطفی کے ساتھ اس کے ریسٹ ہاؤس میں موجود ہو ۔۔۔۔

کچھ لمحوں بعد اس کے حواس بیدار ہوئے تھے تب اس کو اندازہ ہوا کہ وہ واپس اپنے گھر آ چکی ہے دل یکایک اداس ہوا ۔۔۔!

وہ تیزی سے اٹھی اور بیٹھ گئی۔۔۔۔
 سائیڈ ٹیبل کو کھول کے دیکھا تھا جہاں رات کو اس نے مصطفی کی رسٹ واچ رکھی تھی ۔۔۔۔

گھڑی اپنی آب و تاب سے چمک رہی تھی ۔۔۔
اس کے لبوں پہ پیاری سی مسکان بکری تھی ۔۔

چہرےپہ کئی خوبصورت رنگ رقصاں ہوئے تھے ۔۔۔

اپنی انگلیوں کی پوروں سے اس نے گھڑی کو چھوا  تھا اور پھر فوری دراز بھی بند کر ڈالی تھی جیسے گھڑی کے ڈائل میں سے مصطفی کی گھوریاں موصول ہوئی ہو ۔۔

مسکرا کے اٹھی تھی اور فریش ہونے کے لیے  شام کا رخ کر گئی تھی۔۔۔

 ابھی وہ چہرے پر فیس واش لگائے خوب اچھی طرح سے صاف بھی نہیں کرپائی تھی جب اس کا فون بج اٹھا ۔۔

مصطفی کا  چہرہ یکایک اس کی نظروں میں جھلملایا تھا۔ وہ جلدی سے بغیر فیس واش ھٹائے چہرے سے دوڑتی ہوئی بھاگی تھی۔اور صوفے پر رکھا اپنا موبائل جھپٹنے کے انداز میں اٹھایا ۔۔۔

ہیلو ۔۔۔"
پھولی ہوئی سانسوں کے درمیان جلدی سے کہا گیا ۔۔

مصطفی کا ہی فون تھا اس نے موبائل سکرین پر اسکا نمبر جگمگاتا دیکھ جھٹ سے کال ریسیو کی۔۔۔۔

ارے ارے نہ سلام نہ دعا بس سر جھاڑ منہ پھاڑ ہیلو۔۔۔ ۔ ۔  !

 دوسری طرف سے خوب عزت افزائی کی گئی  ۔۔

السلام علیکم!!
 کیسے ہیں آپ ۔۔۔۔؟
زبان دانتوں تلے دبا کے کہا گیا ۔۔۔

وعلیکم السلام۔۔۔  !
 بالکل ٹھیک بس اپنی ایک کولیگ کے ساتھ ابھی لنچ کرکے فارغ ہوا ہوں ۔۔۔"

وہ اپنی پرزوردے کے بولا ۔۔
اوکے اللہ حافظ ۔۔۔۔!

وہ تپ ہی تو گئی تھی ۔۔
کیسے مزے سے وہ کسی اور کے ساتھ لنچ سے لطف اندوز ہو کے بیٹھا تھا ۔۔۔؟؟

غصے میں کھٹ سے کال ڈسٹرکٹ کی گئی ۔۔۔

دو سے تین بار فون بچا تھا مگر وہ ہر بار کاٹتی رہی تنگ آکے مصطفی نے ٹیکس کیا۔۔
 اگر فون نہیں اٹھایا تو اس کے بعد دوبارہ مجھ سے بات کرنے کی کوشش مت کرنا ۔"
دھمکی کارگر ثابت ہوئی ۔۔۔۔
 جھٹ سے فون ریسیو کیا ۔۔۔

جی فرما ئیں ویسے میں آپ کی بات تفصیل سے سن چکی ہوں اور اس نتیجے پر پہنچی ہوں کہ آپ انتہائی دل پھینک ہو ۔۔۔!!

لہجہ پھاڑ کھانے والا تھا ۔۔

اوہو یار اتنا سستا مذاق ۔۔۔!!

وہ کچھ اس انداز میں بولا تھا کہ سوہا مزید تب گئی ۔۔

ویسے کوئی مشکل تھوڑی ہے پہلی تم سے کر لونگا شادی ۔۔
دوسری اپنی کولیگ سے ۔۔
اس طرح تم کو ہی فائدہ ہوگا۔۔
 تم اس سے اپنے سب کام کروانا ۔
حکم چلانا اور میں اور تم خوب گھوما پھرا کریں گے ۔۔۔۔

کیسا لگا تمہیں میرا آئندہ کا لائحہ عمل ترتیب دیا ہوا ۔۔۔؟؟؟

ٹھر کی حضرات دوسری شادی پر ایسے زور دیتے ہیں جیسے دوسری شادی اجازت نہیں بلکہ ان پر فرض قرار دی گئی ہو ۔۔۔!!
ھونہہ۔ ۔۔

ّوہ کونسا کم تھی پورا طیارہ تھی اینٹ کا جواب پتھر سے دینا اس کو بہت اچھی طرح آتا تھا ۔۔۔

یار میں تو مذاق کر رہا تھا تم تو ایسے ہی چڑھ گئی۔۔۔۔۔۔

 آپ اب قسمیں کھائیں یا زہر۔۔۔۔۔۔
 ائی ڈونٹ کیئر ۔۔
ارے ارےلڑکی بات تو سنو۔ ۔۔۔۔۔۔۔"

میں اب جارہی ہوں ۔۔۔!

آپ کے ساتھ دل لگانے سے بہتر تھا کہ میں ۔۔۔۔۔

اس کا جملہ منہ میں رہ گیا ۔۔۔

جب رحمان صاحب آیمہ  اور سمیرا کے ساتھ اس کے بیڈروم میں داخل ہوئے تھے ۔۔۔

سوہانے جلد بازی میں موبائل بیڈ کے اوپر پھینکا تھا یہ دیکھے بغیر کہ وہ بند ہے یا نہیں۔۔۔
 کال ابھی تک جاری تھی ۔۔۔

سمیرا نے ایک بے بس سی نظر اپنی لاڈلی چہیتی بیٹی کے کھلتے چہرے پر ڈالی اوراس کے پاس ہی بیٹھ گئی ۔۔۔

جب کہ ائمہ اور رحمان صاحب صوفے پر برجمان ہوچکے تھے ۔۔۔

کوئی کام تھا تو مجھے بتا دیا ہوتا ۔ ۔  مین آجاتی ۔۔۔
وہ تھوڑا گھبرا کہ بولی تھی ۔۔

جبکہ سمیرا کی نظر سوہا کے فون پر پڑی تھی جہاں مصطفی ابھی بھی کال پہ ہی موجود تھا سمیرا سب کچھ بھانپ گئی چند ہی لمحوں میں ۔۔۔

ہاں بیٹا وہ ہم آپ سے کچھ اہم بات کرنے آئے ہیں ۔۔
وہ جان کر زور سے بولی۔ ۔۔

دوسری طرف مصطفی جو کہ فون رکھنے والا تھا یکدم سمیرا کی کہی بات پہ رکا تھا ۔۔۔

بیٹا میں نے آپ کا رشتہ طے کر دیا ہے۔۔۔
 رحمان صاحب نے بات کا آغاز کیا سمیرا نے نہ محسوس انداز میں فون کا رخ رحمان صاحب کی سمت کیا تھا تاکہ مصطفی ہر ایک بات بآسانی سن سکے ۔۔۔

پوچھو گی نہیں کس سے۔۔۔؟
 آئمہ نے بھی محبت سے پوچھا تھا جبکہ سوہا کا چہرہ گلنار ہوا ۔۔۔
وہ یہی سمجھی تھی کہ پھپو کا دیا گیا پرپوزل ایکسیپٹ کر لیا گیا ہے ۔۔۔
دوسری طرف مصطفی بھی خوشی سے جھوم اٹھا

تمہارے پاپا کے دوست ہیں بہت پرانے ان کے بیٹے خزیمہ سے تمہارا رشتہ پکا ہو چکا ہے ۔۔۔

سمیرا نے جلدی سے بولا تھا مبادا کہیں مصطفی فون ہی نہ بند کر دے ۔۔۔۔

سوہا کا نام کسی اور سے جڑتا سن کے مصطفی کیے دماغ کی رگیں تنگ گئی تھی۔۔۔۔
 بمھٹیاں سختی سے بھینچی تھی۔
 بس نہیں چل رہا تھا کہ اسکو دنیا کی نظروں سے چھپا کے لے جائے ۔۔۔۔۔

15 دن بعد لائبہ اور عمر کے ولیمے کے دن ہیں تمہاری رخصتی خزیمہ کے ساتھ طے پائی ہے ۔۔۔۔۔

💞💞💞💞

وہ واپس فجر کو حویلی لے کر آ گیا تھا رات ہونے کی وجہ سے کسی سے بھی ملنا مناسب نہیں سمجھا اور دونوں اپنے کمرے میں چلے گئے ۔۔۔

تم بہت خاموش ہو طبیعت ٹھیک ہے تمہاری ؟؟مانی اس کا سر اپنی گود میں رکھ کے سرسہلا رہا تھا ۔۔

وہ بس خاموش ر ہی جیسے کسی بہت گہری سوچ میں ہو۔۔۔
نہیں میری طبیعت بالکل ٹھیک ہے بس کچھ دل عجیب سا ہو رہا ہے،

 تم نہیں جانتی ہو آج میں کتنا خوش ہوں ۔
یہ جان کر کے تم وہی ہو میری زندگی میری گڑیا ۔
لہجے میں خوشی کا واضع عنصر موجود تھا ۔۔۔

میں بھی بہت خوش ہوں یہ جان کر کہ آپ ہی میرے مان ہو۔
 وہ کھوئی کوئے سے لہجے میں گویا کوئی مگر میں ایک بات نہیں سمجھ پا رہا ہوں ابھی تک کہ تم ہم سب کو کیوں نہیں پہچانیں ۔۔۔؟؟

کیا چار سے پانچ سال کی بچی لمبے عرصے بعد خود سے بچھڑے اپنوں کو پہچان سکتی ہے ۔۔؟؟؟
دھیرے سے کہا گیا ۔۔۔

میں بس حویلی جا کہ جیسے ایک دفعہ پھر سےجی اٹھی تھی حویلی کا ایک ایک حصہ جیسے مجھے جھنجوڑ گیا تھا اندر تک ۔۔۔

میں اب سمجھا۔۔۔
 تمہارا میری زندگی میں آنا ۔۔
آگ سے خوف زدہ ہونا ۔۔
حویلی جانے کی ضد لگانا ۔۔۔
یہ سب یوں ہی تو نہیں تھا ۔  ۔۔۔!!!

مطلب ۔۔۔۔۔؟؟؟
آ۔ ۔۔۔آپ۔۔ککک۔ ۔۔۔۔ کیا کہنا چاہتے ؟؟؟؟
ہیں ۔۔۔؟؟
وہ لیٹے سے اٹھ بیٹھی تھی ۔۔۔

تو کیا اس نے اپنے ہی ہاتھوں سےسب برباد کردیا تھا ۔۔۔۔۔؟؟
تو کیا اتنے عرصے کی محنت پر پانی پھر چکا تھا۔۔۔۔؟؟؟



یہ کس طرح ممکن ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟
وہ کس طرح سے کسی اور کی ہو سکتی ہے ۔۔۔۔؟
سوہا صرف اور صرف میری ہے۔۔۔۔۔۔"
 وہ کسی اور کی ہرگز نہیں ہوسکتی۔ ۔۔۔۔"
سوال ہی نہیں پیداہوتا۔ ۔۔۔۔"
میں اسکو کسی اور کا ہونے دوں گا ۔۔۔۔
ناممکن۔ ۔۔۔۔
وہ  فلائٹ پہ تھا کراچی سے کینیڈا کی فلائٹ تھی اس کی ۔ 
مگر دل تھا کہ کسی طور سکون نہیں لینے دے رہا تھا ۔
سو ہاسے جدائی کا سوچ سوچ کہ اس کا دماغ شل ہو چکا تھا ۔
کئی دفعہ اس کے کو پائلٹ ولی نے اس کو ٹوکا تھا کہ ۔۔۔۔
"سرآپ سگنلز کو فالو نہیں کررہے ٹھیک سے "۔۔
اور وہ تھا کہ بس ہوں ہاں میں جواب دے رہا تھا ۔۔۔

کل رات امی اور بابا آ جائیں گے۔۔
 میں بس پھر اس معاملے کو سمجھاتا ہوں۔
 وہ بار بار صرف اور صرف خود کو کوئی نہ کوئی بہانہ تلاش کر کے مطمئن کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔۔۔۔
 اپنے تئیں وہ کئی دفعہ اس مسئلہ کا حل نکالنے کی کوشش کر چکا تھا ۔۔۔۔۔۔
🌷🌷🌷
آج عمر اور لائبہ کی شادی کو ایک ماہ سے زیادہ کا وقت گزر چکا تھا دونوں کے درمیان دوستی کا خوبصورت رشتہ آہستہ آہستہ پروان چڑھاتا۔۔
وہ اس کو کافی حد تک سنبھال چکا تھا۔۔
لائبہ سنبھل چکی تھی ۔
آہستہ آہستہ بھول رہی تھی خود کے ساتھ ہوئی زیادتی کو ۔۔

اس میں بہت بڑا ہاتھ صرف اور صرف عمر کا تھا جو اس کو کسی مہرباں کی طرح ہر قدم قدم پر تھامنے کو تیار کھڑا ملتا تھا ۔۔

کل سے وہ بہت خوش تھی جب اس کو پتا چلا تھا کہ پندرہ دن کے بعد ان دونوں کے ولیمے کی تقریب منعقد کی گئی ہے۔

 اس کا دل اندر تک پرسکون ہو گیا تھا اس نے بہت چپکے سے عمر کو اپنے دل کا مالک بنا ڈالا تھا ۔۔

دل نے عمر کے حق میں خود بہ خود فیصلہ دے ڈالا جبکہ لائبہ نے ولیمے کی رات اپنا تن من دھن سب کچھ عمرکو سونپنے کاخود سے عہد کیا تھا ۔۔۔۔

وہ بہت مطمئن تھی۔۔
 خوش خوش رہنے لگی تھی ۔۔
پہلے کی طرح اب خوب شرارتیں کرتی پورا گھر اسکی کھلکھلاہٹوں اور شرارتوں سے گونجتا رہتا ۔۔۔۔

عمر نے ایک روز جب وہ دونوں فجر کی نماز کے بعد صبح کی ٹھنڈی ہوا اپنے اندر اتارنے کی غرض سے گھر سے تھوڑا فاصلے پر موجود پارک میں چلے آئے تھے۔۔۔۔
 لائبہ اب  اس کو خوب تنگ  بھی کرتی ۔اس کے ساتھ ہنستی بولتی ۔۔۔
وہ  بہت شرارتیں کرتی عمر کی ناک میں دم کرکے رکھ دیاکرتی۔۔۔۔
  خوش رہتی ایک دفعہ پھر سے جینے لگی تھی ۔۔۔
شاید صرف اور صرف عمر کے لیے ۔۔۔
عمر اس کی زندگی کا واحد مقصد تھا جس کی وجہ سے اس کی سانسیں چل رہی تھی ۔۔۔

دھڑکنوں کی رفتار ایک دفعہ پھر سے اپنے معمول پہ آئی تھی ماند پڑتے پڑتے ۔۔۔۔

عمر کیا میں آپ سے ایک بات کہہ سکتی ہوں۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟
پلیز اگر کوئی ڈھنگ کی بات کرنا چاہتی ہو تو کرو ورنہ تمہارا یہ خوبصورت چہرہ بولنے سے پہلے بہت دلکش لگتا ہے مگر جیسے ہی تم بولنے پہ کمر کستی  ہو تو پوری چنڈالن لگتی ہو ۔۔۔

وہ تیز تیز وہ چلتےہوئے بول رہا تھا جبکہ لائبہ اتنا تیز" بھاگنے "سے بری طرح ہانپ  رہی تھی پھر بھی اس کا ساتھ نہیں دے پا رہی تھی قدموں کی رفتار میں ۔۔۔

"اب تو جیسی بھی ہو  آپ کی ہی ہو ں !!چاہے تو جان کہئے یا پھر وبال ِجان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"
"Who care"....

لائبہ لاپروائی سے ایک ادائے دلربا نہ سے شانے اچکا کہ کہتی کھلکھلا کے ہنسی تھی ۔

عمر نے اس کو مڑ کے دیکھا تھا جو اس کے کچھ فاصلے پر چل رہی تھی ۔اس کے ایک دم پلٹ کے رکنے سے وہ اس کے چوڑے سینے سے جا ٹکرائی تھی۔۔۔۔۔

"ا وہ عمر آپ تو کوئی لوہے کا کھمبا ہیں شاید!! اتنی بری طرح سے میری پیشانی پر لگی ہے آپ سے ٹکرانے کی وجہ سے کہ بیاں تک نہیں کرپارہی۔ ۔۔۔۔" اففففففف۔ ۔۔۔۔!!

 وہ اپنا سر تھام کے جاگنگ ٹریک سے ہٹ کے گراس پہ جا کے بیٹھ چکی تھی دھڑام سے ۔۔۔

"ہاں اتنی زور سے لگی ہے کہ خون کی ندیاں بہنے لگ گئی ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔"
میں تو جیسے کوئی چٹان ہونا !!جس سے ٹکرانے سے تم اپنی یاداشت کھو بیٹھو گی ۔۔۔۔۔۔۔۔"

عمر نے بجائے ہمدردی جتانے کے لائبہ کو مزید جلا ڈالا ۔۔

بجائے میری چوٹ پہ مرہم لگانے کے آپ نمک چھڑک رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔"
وہ بار بار پیشانی کو ایسے چھو رہی تھی جیسے پیشانی پھٹنے کا خدشہ ہو ۔۔

اگر آپ کا محبوب آپ کو محبت دے ۔۔
آپ کی فکر کرے تو آپ ایسے ہی ہو جاتے ہیں مغرور،  نخرے دکھانے لگتے ہیں !!مگر صرف اور صرف خودکو چاہنے والوں کو ،جان نچھاور کرنے والوں کو ۔۔۔۔"
اور شاید ٹوٹکے محبت دینے والے کو ۔۔۔"

لائبہ کے ساتھ کےبھی قسمت نےاگر ظلم کیا تھا تو اللہ نے اس کے صبرکا پھل اور عمر کو ایک مہربان کی طرح لائبہ کوسنبھالنے پر ایک دوسرے کے دل میں محبت ڈالی تھی۔  ۔۔۔
 ایک دوسرے کا ساتھ عطا کیا تھا اور بے شک وہ اگر ایک در بند کرتا ہے تو کئی در کھول بھی دیتا ہے ۔۔۔۔۔۔
"اللہ تعالی کے ہاں دیر ہے اندھیر نہی"۔۔۔

بس یہ ہم انسان ہی ہے جو اس کی مصالحت کو سمجھ نہیں پاتے۔۔
بے شک اعمال کا دارومدار نیتوں پہ ہے ۔۔۔۔"
ہمممممم۔ ۔۔۔۔۔
 صحیح کہا ۔۔۔۔
چلو ایک کام کرو یہ دل تم رکھ لو ویسے بھی اسے ہر دم تمہاری ہی فکر ستاتی رہتی ہے۔۔۔۔۔
 صبح کے وقت پارک میں اکا دکا لوگ ہی تھے عمر نے ایک نظر اردگردپہ ڈالی تھی اور پھر بہت محبت سے لائبہ کے روٹھے روٹھے چہرے کو دیکھ کے دل پہ ہاتھ رکھ کے کہنے لگا ۔۔
اور اگر اس کے بعد بھی میری وفاؤں کا یقین نہ آیا تمہیں تو بے شک دل چیر کےدیکھ لینا صرف تمہارا ہی نام لکھا جگمگ کرتا نظر آئے گا تمہیں ۔۔۔۔۔
ڈائیلاگس بہت اچھے ازبر ہیں آپ کو لگتا ہے کسی رائٹر کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا ہے آپ کا آج کل ۔۔۔۔"

وہ کھل کے مسکرائی تھی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا روح اور وجود کو اندر تک پرسکون کر گئی تھی ۔۔
صبح کا سماں اعصاب پہ بہت اچھا اثر ڈال رہا تھا جبکہ  چہچہاتے چرند پرندشاید ان دونوں کے لیے کوئی خوبصورت سی دھن پہ گنگنا رہے تھے ۔۔۔

ہا۔ ۔۔۔  !!
 ظالم حسینہ جانتی بھی ہے کہ مجھے اوروں سے کیا لینا دینابھلا۔  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟بڑبڑایا

 مجھے تو صرف تم اور تمھارا محبت بھرا ساتھ چاہیے ۔۔۔۔۔
 وہ جیسے اقرار چاہتا تھا۔۔۔۔۔

 میرے لیے محبت میں شدت معنی نہیں رکھتی عمر!! بلکہ میرے نزدیک محبت میں عزت معنی رکھتی ہے۔۔۔۔۔۔"
"جو آپ نے مجھے دی ہے ۔۔۔"

کیا خوبصورت انداز تھا اقرار کا ۔۔۔کتنی خوبصورتی سے اس نے اپنی بات کہہ ڈالی تھی۔۔
 عمر جیسے فدا ہو گیا تھا۔۔
 حیا کے اندر لپٹی شرمگیں لہجے میں ادا ہوئی چھوٹی سی بات اپنے اندر بہت گہرے معنی رکھتی تھی ۔۔۔
لائبہ کا یہ انداز عمر کو اندر تک شاداں کر گیا تھا ۔۔

اللہ تیرا شکر ہے کہ تو نے مجھے میری تمام تر کوششوں میں کامیاب کیا ۔۔۔۔۔۔"
وہ دل ہی دل میں خدا کا شکر بجا لایا تھا ۔۔

صحیح کہا تم نے بالکل ۔۔"
تمہاری بات سے اتفاق کرتا ہوں میں اور بے شک محبت کرنا انسان کے بس میں نہیں ہوتا مگر محبت کو سنبھالنا انسان کہ اختیار میں ضرور ہوتا ہے ۔۔۔۔"
مائی لیڈی۔ ۔۔۔"

بس عمر اب میں مزید بھوکی نہیں رہ سکتی مجھے شدید بھوک لگی ہے اور پیاس بھی۔۔۔۔"

 وہ ہاتھ جھاڑ کے اٹھ کھڑی ہوئی تھی ۔۔۔۔
عمر آہستہ آہستہ پٹری سے اتر رہا تھا۔۔۔۔ عمر کی محبت بری باتوں سے وہ کانوں کی لو ہ تک سرخ ہو چکی تھی ۔۔۔

ٹھیک ہے جو حکم آپ کا ۔۔۔"
ہم تو آپ کے احکام پہ سر تسلیم خم کرنے والے خادموں سے میں سے ہیں ۔۔"
انداز شاعرانہ ہوا۔ ۔۔

یار خود تو تم دھان پان سی ہو آرام سے اٹھ گئیں۔
۔۔۔" مجھے بھی تو اٹھاؤ نہ۔ ۔۔"
آپ کو اٹھانے کے لئے بلڈوزر منگوانا چاہیے میرے
ناتواں کندھے اس کو ہم کو کرنے سے انکاری ہیں۔۔۔۔۔ ۔  ۔  "

 وہ اس کے اونچے لمبے ڈیل ڈول پہ چوٹ کرتے ہوئے مزے سے کہتی ہاتھ دے بیٹھی اسے۔۔۔۔۔
جیسے عمری کی ذات پہ احسان عظیم کر ڈالا ہو ۔۔۔
ظالم حسینہ ۔۔۔۔۔!
نہ دن میں ہتھے چڑھتی ہے اور نہ ہی رات کو۔۔۔۔۔" مغرب کے بعد تو لگتا ہے جیسے کوئی آسیب چمٹ جاتا ہے مجھے ۔۔۔۔"
جو تم مجھے دیکھ کہ ایسے فرار کے راستے ڈھونڈتی ہو جیسے میں اس تم چمٹ ہی جاؤں گا ۔۔۔۔۔۔۔"
وہ جان کے اونچا کہہ رہا تھا البتہ انداز بڑبڑاہٹ والا تھا ۔۔۔
لائبہ نے ایسے ظاہر کیا جیسے اس کے کانوں میں روئیاں ٹھو نسی ہوئی ہو ۔۔۔
عمر کی کہی ایک بات یا بربراہٹ اس کے گوش نہ گزری ہو ۔۔۔
پتہ ہے مجھے تم اوت تمہارے کان بہت تیز ہے مائکروفون فٹ ہوا وا ہے ان میں۔۔۔۔
 مگر جس دن واقعی میں چمٹ گیا نہ تو پھر اپنی خیر منانا ۔۔۔۔۔۔۔۔"
میرا شمار تو اس جن میں ہوتا ہے جو ایک دفعہ چمٹ جائے تو پھر اپنی مرضی سے ہہی فاصلہ پہ ہوتا۔ ۔۔۔۔۔۔"
وہ خفا خفا سہ پھولے ہوئے منہ سے بولتا لائبہ کو بہت پیارا اور اپنا اپنا سا لگا ۔۔۔
میرا عقیدہ
میری عقیدت
میری چاہت
 میری محبت
 جو لفظ دیکھو تو ہزار ہے
اور اگر سمیٹ دو تو
صرف تم ۔۔۔
🌷🌷🌷🌷🌷
تہجد کےوقت آج وہ پہلی دفعہ اٹھی تھی ہمیشہ اس نے اپنے بڑوں سے ایک بات سنی تھی کہ اگر تہجد کے وقت اللہ تعالی سے جو بھی کچھ مانگا جاتا ہے وہ ضرور ملتا ہے ۔۔۔

اور آج تو پھر شب معراج تھی ایک گھنٹے کی نیند لے کر وہ اٹھ بیٹھی تھی سونے کا تو اس کا کوئی ارادہ نہ تھا مگر مصطفی کو سوچتےسوچتے کب آنکھ لگ گئی کچھ خبر ہی نہ ہوئی۔ ایک گھنٹے بعد وہ ہڑبڑا کے بیٹھی تھی ۔۔۔

وضو بنایا اور فریش ہو کہ الماری میں سے نیا جوڑا نکال کے زیب تن کیا اور پھر جائے نماز فرش پہ بچھا کہ وہ عبادت میں مشغول ہو چکی تھی ۔۔۔

سلام پھیر کے یا" رحمان یا رحیم "کی تسبیح پڑھی اور پھر وہی سفید دانوں والی تسبیح لئے ھاتھوں کو جوڑ کہ ہتھیلیوں کا پیالہ بنائے وہ جائےنماز پہ بیٹھی سسک اٹھی تھی۔۔۔
 ہلکے گلابی رنگ کے دوپٹے کو نماز کے انداز میں باندھے بہت کمزور مگر پر نورلگ رہی تھی۔

 بھیگی پلکیں لیے وہ بس اپنے اللہ تعالی کے حضور گڑگڑا رہی تھی ۔۔۔

اے میرے رب تمام جہانوں کے مالک !!میں  تجھ سے تیری نعمتوں کا شکر ادا  کرتی ہو۔
میں اس قابل ہی  نہیں کہ شکوا کروں۔  میں جانتی ہوں کہ اگر تو نے میرے دل میں مصطفی کے لیے محبت ڈالی ہے تو میرے مالک تیری اس میں بھی میرے لئے کوئی نہ کوئی بہتری  ہو گی ۔۔۔

میں یہ نہیں کہوں گی تو مجھے میری محبت مصطفی کو دے دے ۔۔۔
میں جانتی ہوں تو نے جو میرے لئے فیصلہ کیا ہوگا وہ سب سے بہترین ہو گا اور میرے حق میں تیرے اس فیصلے میں بے شک بھلائی پوشیدہ ہے ۔۔۔۔

بس میرے اللہ میں تجھسے مصطفی کا ساتھ مانگتی ہوں ۔۔
"اگر جو تو میرے حق میں بہترھو "۔۔

 سوہاکے زاروقطار بہتےاشک رخساروں کو بھگا رہے تھے۔ ۔  ۔۔۔ پلکوں کی باڑ توڑ توڑ کے دوپٹےمیں جذب ہونے لگے ۔۔۔
میں چاہوں بھی تو اپنے الفاظوں میں بیان نہ کر پاؤ میرے رب کہ کتنی محبت ہے مجھے مصطفی سے۔۔۔۔ ۔  "

 آخر میں سجدے میں جا کہ گری تھی ۔۔۔۔۔

 کتنے خوبصورت انداز میں اس نے اپنا فیصلہ اپنے خدا کے سپرد کر ڈالا تھا نہ شکری نہیں ہوئی تھی اپنے اللہ کے سامنے ۔۔۔۔۔۔
کوئی شکوہ نہیں کیا تھا ۔"

لبوں پہ ایک گزارش تھی کچھ اس طرح کہ۔۔۔ 

" میرے رب تو جو میرے حق میں بہتر سمجے"  کتنا پیارا انداز تھا اس کا اپنے رب کے حضور فرمائش کرنے کا ۔۔۔۔۔
🌷🌷🌷🌷🌷
چھوڑو مجھے حمزہ جلال میں تمہاری ملکیت نہیں ہوں ۔۔۔۔"
نہ جانے کہاں سے اس میں اتنی طاقت اور ہمت آ گئی تھی کہ وہ اپنا آپ اسکی مضبوط گرفت سے کسی زخمی شیرنی کی طرح اسے چھڑوا گئی تھی ۔۔۔

حمزہ نء اس کے گلابی چہرے کو دیکھا تھا جو اس وقت شدید اشتعال سے مزید سرخ ہو چکا تھا۔۔۔

 بیٹھو ادھر اور سکون سے تحمل کے ساتھ میری سنو! !
 کچھ باتیں ہیں جو میں تم سے کرنا چاہتا ہوں میرے دل پہ بہت بوجھ بڑھ چکا ہے پلیز شفا میری بات سن لو۔۔۔
 میں اندر ہی اندر بہت ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکا ہوں ۔۔"

وہ اس کو شانوں سے تھام کے بہت گھمبیر اور بکھرے بکھرے لہجے میں بولا تھا ۔۔
شفا لمحے کے لیے خاموش ہوئی تھی مگر وہ غصہ ابھی بھی اپنی جگہ برقرار تھا ۔۔۔

مجھے آپ کی کوئی بات نہیں سننی ہے۔۔"
 برائے مہربانی میرا رادتہ چھوڑیں اور مجھے جانے دیں ۔۔"

آپ کی عین نوازش ہوگی۔۔۔۔۔۔!!

 مجھ پہ یہ بہت بڑا احسان ہوگا آپ کایہ۔ ۔۔۔۔"

 تم جانتی ہو میں تمہارے بغیر جی نہیں سکتا ہوں پلیز شفا مجھ پہ ایک احسآن کر دو کہ میری عادت بدلنے تک میرے ساتھ رہ جاؤ ۔۔۔"

سائیڈ سے ہوکے نکلتی شفا کی ہتھیلی تھام کے کہا جبکہ رخ دونوں کا ہی ایک دوسرے کی سمت نہ تھا ۔۔۔۔

I'm sorry
I know I hurt you....
 but, I really want  you  to know this ....
"i love you"......
I really really do...

معافی طلبکی گئی تھی ۔۔ساتھ ہی حال دِل۔ بھی کہ ڈالا ۔۔۔
یہ جو لمحہ ہوتا ہے نا جس میں تم ٹوٹ کر بکھر رہے ہوتےہو۔۔۔۔۔""
  یہ صرف چند لمحوں کا کھیل ہوتا ہے اس کے بعد تم واپس اپنے اوپر خول چڑھا بیٹھتے ہو اور تمہیں پتا ہےتمہارےساتھ مسئلہ  ہے کیا ۔۔۔؟؟؟

 میں بتاتی ہو۔ ۔۔۔۔"
تم بے حس انسان ہو چکے ہوں دوسروں کے احساسات سمجھنے کی صلاحیت تم میں ناپید ہو کے رہ گئی ہے ۔۔۔"
وہ چلائی۔ ۔

اگر مجھے احساس نہ ہوتا تو کیا میں تمہارے سامنے کھڑا ہوتا۔۔۔؟؟؟
 تمہارے پاس لوٹتا ۔۔۔۔؟؟؟
لہجہ کرب میں ڈوبہ۔ ۔۔

کہوں کیا کہنا چاہتے ۔۔؟؟
ہو پندرہ منٹ کا وقت ہے تمہارے پاس ۔۔!!

یہاں نہیں پلیز میں تم سے گھر میں کچھ بات نہیں کرنا چاہتا ہوں۔۔۔۔
 میں کہیں اور تنہا گوشے میں جاکے تمہیں بہت کچھ بتانا چاہتا ہوں۔۔۔۔"
میں تمہارے ساتھ کسی تنہا گوشے میں جانا پسند نہیں کرتی اور نہ تمہارے ساتھ کہیں باہر جانے کی میری کوئی تمنا ہے ۔۔۔۔۔۔"
تمہارا ایک منٹ ختم ہو چکا ہے 14 منٹ ہے بس اب تمہارے پاس۔۔۔۔۔۔"
 ٹھیک ہے کیاہم ٹیرس میں چل کے سکون سے بات کر سکتے ہیں ۔۔؟؟؟

وہ  شفا کے آگے چاروں شانے چت ہو چکا تھا ۔۔۔۔

وہ اٹھی تھی اور بغیر کچھ کہے ٹیرس میں موجودکرسی گھسیٹ کے بیٹھ گئی ۔۔۔۔۔

 شفا ہماری شادی کی پہلی رات جو سب کچھ تم نے سمجھا اور جو سب کچھ میں نے تمہیں دکھایا وہ صرف اور صرف ایک ڈرامہ تھا۔۔۔۔

 جو کہ تمہاری نظر کا فریب تھا۔
سچ وہ نہیں تھا جو سب تم سمجھیں۔ ۔۔"

 کیا تھا سچ پھر۔ ۔۔"
لہجے میں سرد مہری واضح تھی شفا کے۔ ۔ ۔  ۔۔

 میں نے تمہیں اس رات کونہیں چھوا تھا۔۔
اپنا حق استعمال کرتے ہوئے تمہارے بھیگے کپڑے ضرور تبدیل کروائے تھے ۔۔۔۔ "
پھر۔  ۔۔۔؟؟؟
روکھائ سےسوال ہوا تھا۔۔
 اس رات میرا اور تمہارا کوئی ریلیشن نہیں بنا تھا وہ سب صرف اور صرف ایک ڈرامہ تھا تمہیں اپنی دسترس میں رکھنے کے لیے۔۔۔ ورنہ تم چلی جاتی مجھے چھوڑ کہ۔ ۔ 
 میں نے تمہارا لباس ضرور بدلہ تھا کیونکہ اس رات بارش کی وجہ سے تم پوری بھیگی ہوئی تھیں اسلئے لباس  تمہاری مرضی کے بغیر تبدیل کرنا میری مجبوری تھی ۔۔
پشیمان تھا۔ ۔۔۔۔۔
ہرف ہرف سچ کہہ رہاتھا۔ ۔۔۔
تم یقین نہیں کرو گی جب جب میں نے تمہیں تکلیف دینا چاہا تب تب میں نے خود کو بے بس پایا میں چاہ کر بھی تمہیں تکلیف نہیں دے سکتا تھا اور نہ کبھی تمہیں دکھ دینے کی سوچ دکتا ہوں۔ ۔۔۔
مجھے معاف کر دو میں تمہارے ساتھ کیے گئے ناروا سلوک سے بہت شرمندہ ہوں۔۔۔۔۔
 اس کے ہاتھ کو نرمی سے تھام کے معافی طلب کی گئی تھی ۔۔
_______
میں نے تمہیں معاف کیا ۔۔۔۔
حمزہ جلال شفا نے آج تمہیں معاف کیا ۔۔۔۔
بس یا پھر اور بھی کچھ چاہتے ہو مجھ سے ۔۔۔؟؟؟
اگر تمہاری بات پوری ہوگئی ہے تو میں جاؤ ۔۔۔۔؟؟

چہرے کے نقوش میں اب بھی تیکھا پن موجود تھا۔۔۔۔

 شفا کیا تم پہلے کی طرح مجھ سے محبت ۔۔۔۔۔۔۔؟؟

نہیں۔۔۔۔!

 تم نے معافی مانگی میں نے تمہیں پورے دل سے معاف کر دیا کیونکہ معاف کر دینے والا میرے خدا کو عزیز ہے ۔۔۔۔"

میں دلوں میں بغض رکھ کہ جینے کی قائل نہیں ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔"

ہاں مگر اب مزید پلیز حمزہ مجھ سے کچھ اور کی امید مت رکھنا ۔۔۔۔۔۔۔!!!

وہ اپنی بات کہہ کے اٹھ کھڑی ہوئی تھی لہجے میں کچھ دیر قبل والی تشنگی نے اب خفگی کی چادر اوڑھ لی ۔۔۔

ہاتھ چھوڑو میرا اب کیا چاھتے ہو مزید مجھ سے۔۔۔؟؟؟

 حمزہ نے اس کا ہاتھ جارحانہ انداز میں پکڑا تھا تاکہ وہ کمرے سے جانہ سکے۔۔۔۔۔۔

 بس شفا بہت ہوگیا ۔۔۔۔۔  !!
اب مزید کی گنجائش نہیں۔ ۔۔۔۔"
یہ مت بھولو کہ تم اب بھی میرے نکاح میں ہو۔۔۔۔۔۔" پورا پورا حق ہے مجھے تم پہ اور تمہارے وجود پہ۔۔۔۔۔۔۔"

شفا کو لگا تھا جیسے حمزہ کی نگاہیں اس کے وجود کے آرپار ہو رہی تھی ۔۔۔وہ حمزہ کے اس طرح سے جتانے اور بولتی نظروں  کو محسوس کرکہ کلس کر رہ گئی ۔۔۔۔۔۔۔
شفا کی سنگدلی پہ حمزہ کو اب غصہ آیا تھا ایک دفعہ پھر سے وہ شدید اشتعال کی زد میں آچکا تھا ۔آنکھیں سرخ ہوئی تھیں جب کہ لب غصے کی وجہ سے بھینچ چکے تھے ۔۔۔۔۔۔۔
یہی چیز مسٹر حمزہ جلال !!
بس یہی ۔۔۔۔۔۔۔"
جو مجھے تم سے دوری برقرار رکھنے پر اکسا رہی ہے ۔۔۔۔"
مجھے تمہارے قریب آنے سے روک رہی ہے۔۔۔۔"
 میں خود سے تم تک کا فاصلہ طے کرنے سے ہچکچا رہی ہو ں۔ ۔۔۔۔۔۔  "

کچھ لمحوں قبل جو تمہارے اوپر افسردگی اور محبت کا خول چڑھا تھا نہ۔۔۔۔۔۔؟
 جانتے ہوں وہ اب ایک دفعہ پھر سے ہمیشہ کی طرح اتر چکا ہے۔۔۔



ایسے ہی نہیں میں نے تم کو بے حس کہا تھا ۔۔۔۔۔!!!
یونہی نہیں میں تمہاری پناہوں میں آنے سے خوفزدہ ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔"

اور رہی بات تمہارے نکاح میں ہونے کی تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 اختیارات قانون نے مجھے بھی دیے ہیں۔۔۔۔۔۔"

 وہ ایک ایک لفظ چپا چپا  کہ کہتی  جھٹکے سے اپنا ہاتھ چھڑواکہ حمزہ کے کمرے سے باہر نکلتی چلی گئی ۔۔۔۔ ۔ 

قانون مائی فٹ ۔۔۔۔۔!!!
تم اس طرح سے باز نہیں آؤں گی ۔۔۔۔۔۔"

وہ اٹھا تھا اور ٹیبل پر رکھا گلاس اس نے ایک ہاتھ سے پرے اچھالا پھینکا ۔
گلاس چھناکے سے ٹوٹ کے کرچی کرچی ہوگیا ۔۔۔۔حمزہ کے دل اور احساسات کی طرح ۔۔۔
💔
حمزہ یہ سب کیا ہے۔۔۔؟؟؟؟
 کیوں اس قدر وحشی ہو رہے ہو آخر تم۔۔۔۔؟؟؟؟

 شور کی آواز سن کہ ائمہ بھاگتی ہوئی بیٹے کے کمرے میں دوڑی چلی آئی تھی ۔۔۔۔۔
وہ چند منٹ پہلے شفا کو ہمزہ کے کمرے سے روتا ہوا جاتا دیکھ چکی تھی ۔۔۔۔۔۔

ہاں ھوں میں وحشی۔۔۔۔۔۔"
 بے حس ہو چکا ہوں میں ۔۔۔۔۔۔۔۔!!
صحیح کہہ رہی ہیں آپ ۔۔۔۔۔۔۔"
میرے سینے میں دل کی جگہ پتھر ہے پتھر ۔۔۔۔۔۔۔۔"
پتھر  دھڑکتا ہے میرے اندر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!

بیٹا ۔۔۔۔۔؟؟؟۔"
بس۔۔۔۔۔۔!
 نہیں میرا بچہ اس طرح نہیں کہتے ۔۔۔۔۔"

آئمہ  نے اس کا سر اپنے سینے سے لگا کہ اس کو صوفہ پر بٹھایا تھا۔۔۔۔۔
 ماں کے گلے سے لگا وہ جیسے بالکل چھوٹا سا حمزہ بن چکا تھا ۔۔
۔جو روتے ہوئے شکایت کر رہا تھا اس سے ۔۔۔۔۔۔۔!

شفاء سے کوئی ناراضگی ہوئی ہے ۔۔۔۔؟؟

ائمہ نے اس کے سر میں  نرمی سے انگلیاں چلاتے ہوئے دریافت کیا ۔حمزہ کا دل ہلکا کرنا بہت ضروری تھا اسکے لئے۔ ۔۔
 دوستی کب ہوئی تھی ۔۔؟
جو اب ناراضگی ہوگی۔۔۔
وہ منہ بسور کے بولا جیسے چھوٹا سا بچہ اپنی بیسٹ فرینڈ سے ناراض ہو کہ اداسی سے کہتا ہے اور اس سے دوستی کرنے کے لیے مچلتا ہے ۔۔۔۔۔

 آئمہ کو اس پل حمزہ پر ٹوٹ کہ  پیار آیا تھا ۔واقعی اولاد چاہے جتنی بھی بڑی ہی کیوں نہ ہو جائے ماں باپ کے سینے سے لگ کہ وہ واپس بچپن میں چلی جاتی ہے ۔۔۔۔
"بے شک ماں باپ کا نعم البدل اس دنیا میں کوئی نہیں ہے "۔۔
سمجھ گئی ۔۔۔!
لگتا ہے میرے بیٹے کو محبت ہو گئی ہے اپنی شریک حیات سے کوئی طوفانی قسم کی ۔۔۔۔۔۔؟؟

 آئمہ معنی خیزی سے کہتی لہجے کو شریر بناتے ہوئے گویا ہوئیں ۔۔۔۔

وہ مجھ سے ناراض ہے پر مجھے معاف بھی کر چکی ہے ۔۔۔۔۔"
پھر بھی مجھ سے خفا ہے!!
 میں کچھ سمجھ نہیں پا رہا ہوں کہ آخر وہ چاہتی کیا ہے ۔۔۔؟؟
مگر اماں جان میں آپ کو ایک بات بتا رہا ہوں میں شفا کے بغیر نہیں جی سکتا ۔۔۔!!
یہ سوچ بھی میرے لئے سوھان روح ھے ۔۔۔
شفاء صرف اور صرف میری ہے وہ حمزہ کی شفا ہے بس ۔۔۔۔
وہ معصوم روٹھے روٹھے لہجے میں کسی چھوٹے سے بچے کی طرح ماں سے ضد لگا رہا تھا ۔۔۔۔

وہ کیا چاہتی ہے۔۔۔۔۔؟؟؟
 ائمہ نے جیسے کچھ سوچتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔
 وہ مجھے بے بس اور لاچار کردینا چاہتی ہے ۔۔۔۔۔"
مجھے کہہ کہ گئی ہے کہ میں بے حس ہو ں اور بھی نا جانے کیا کیا سمجھتی ہے وہ مجھے ۔۔۔۔۔۔؟؟
پھولے پھولے منہ سے جواب دیا گیا ۔۔۔
ہمممم۔ ۔۔۔۔۔"
صحیح اس کا ایک حل ہے تو میرے پاس ۔۔۔۔۔۔"
مگر میری ایک شرط ہے ۔ ۔  !!!

شرط کو گولی ماریں یہ بتائیں کیا ہے ھل آپ کے پاس جلدی سے ۔۔۔۔؟؟؟؟

حمزہ جلدی سے ہشاش بشاش ہوا اور آئمہ سے تھوڑا دور ہٹ کے بولا آنکھو ں میں بہت پیاری سی چمک تھی اس لمحے اس کی ۔۔۔۔۔۔

ائمہ نے بیٹے کے ایک دفعہ پھر سے خوشی سے چہکتے چہرے کو مامتا سے دیکھا تھا وہ صدقے واری ہوئی تھی ۔۔۔۔دل چاہا تھا کہ دنیا بھر کی خوشیاں اپنے بیٹے کے قدموں میں لا کر بچھا دے ۔۔۔
ورنہ اپنے لخت جگر کو دلبرداشتہ دیکھ اس کا دل خود بھی اداس ہو گیا تھا ۔۔۔۔

تم ایسا کیوں نہیں کرتے کہ جو وہ تمہیں سمجھتی ہے تم اس کے بر عکس بن کے دکھاؤ۔۔۔۔
 مطلب ۔۔۔۔۔  ؟؟۔
حمزہ اس سے آگے تم سمجھ دارہو بچے نہیں ہوتم۔ ۔۔
 وہ اب اٹھ کے اس کا بکھرا کمرہ سمیٹ رہی تھی جب کہ حمزہ کے لیے کئی سوچوں کے در وا ہوئے تھے ۔۔۔۔
اب عمل کی باتیں تھی۔۔۔۔۔!

کیا ہوا آپی۔۔۔۔۔؟؟؟
 حمزہ کیوں برہم ہو رہا تھا ۔۔۔۔۔؟؟
سمیرا جو کہ باہر بے صبری سے ٹہل رہی تھی ائمہ کے انتظار میں !! اس کے آتے ہی پریشانی سے استفسار کر بیٹھیں۔۔۔
 وہ دونوں چلتی ہوئی کچن میں ہی آ گئیں تھیں رات کے کھانے کا وقت ہو چلا تھا ۔۔۔
کھانے کی ذمہ داری دونوں نے اپنے ذمے لے رکھی تھی ۔۔۔کچن کا ہر ایک کام روٹی برتن سے لے کہ ہر چھوٹا بڑا کام دونوں خود ہی سرانجام دیا کرتیں جبکہ گھر میں دو کل وقتی ملازمائیں بھی موجود تھیں مگر دونوں خواتین کچن خود ہی سنبھالا کرتی دونوں ہی سلیقے مند تھیں ملازماؤں سے کچن کا کام کروانا دونوں کو ہی گوارا نہ تھا ۔۔۔۔
کیا ہو سکتا ہے وہی ٹوم اینڈ جیری کے فسادات اور
کیا۔۔۔۔۔۔
ائمہ نے روٹی کا پیڑا بناتے ہوئے جواب دیا ۔۔۔

آئمہ روٹی بیلتی تو سمیرا اسے سیکھتی ۔۔۔۔۔دونوں مل جھل کے بغیر ماتھے پر بل لائے ایک دوسرے کا ہاتھ بٹاتی نظر آیا کرتی ہر ایک گھر کے کاموں میں ۔۔۔۔۔

کیا کیا جائے آپی ان دونوں کا۔۔۔۔؟؟
 کبھی ٹام اینڈ جیری کی بھی دشمنی دوستی میں بدلی ہے بھلا۔۔۔۔۔؟؟؟
 میں تو تنگ آ چکی ہوں ان دونوں کی اس آئے دن کی طوفان بدتمیزی سے ۔  ۔۔۔۔۔!!

اپنے ساتھ ساتھ ان دونوں نے تو جیسے ہماری زندگیاں بھی مشکل ترین بنا دی ہیں ۔۔۔۔۔۔!
ایک پل جو سکون کا نصیب ہو لینے دیں یہ لوگ ۔۔۔۔۔"

سمیرا نے روٹی کو سیکھتے ہوئے دل کے پھپولے بھی پھوڑ ڈالے توے پہ۔۔۔
یہی تو ۔۔۔۔۔
ایک ٹھیک ہوتا ہے تو دوسرا ٹیڑھا ہو جاتا ہے دل چاہتا ہے جیسے بچپن میں ہماری مائیں ہمیں چمٹا دکھا کے ڈر آیا کرتی تھی نا ایسے ہی ان دونوں کو گرم گرم کیمپ لگائے جائیں ایسی جگہوں پہ کے نہ چھپا سکے اور نہ دکھا سکے ۔۔۔۔۔
ائمہ غصہ ہوتے  ہوئے بولی تھی۔۔۔۔۔
 بس نہیں چل رہا تھا اس کا کہ ایک ایک چمٹا واقعی دونوں کے چپکا ہی دے۔ ۔۔۔

مجھے لگتا ہے اب ان دونوں کا ہمیں ہی کچھ نہ کچھ کرنا ہوگا ۔۔۔۔

حمزہ کچھ حد تک سیدھا ہو چکا ہے مگر اس لڑکے کا غصہ اس کو ہمیشہ نقصان پہنچاتا ہے ۔

آپی کیوں نہ ہم ایک کام کریں ان دونوں کو ہنی مون پر بھیج دیا جائے  ۔۔۔۔؟؟؟

سمیرا نے کچھ سوچتے ہوئے تجویز پیش کی ۔۔۔
غلط ایک دم غلط چھوٹی ۔۔۔؟!!

ہنی مون مت بولو بلکہ جنگی مون کہو! !

 ان دونوں کو تو جنگی مون پہ تلواریں لیکر بھیج دینا چاہیے ۔۔۔۔۔"
ائمہ نے سلگ کے کچھ اس طرح کہا تھا کہ دونوں کا فلک شگاف کہ کا کچن میں گونجا تھا ۔۔۔

ویسے اگر آپ دونوں چاہیں تو میں بھی آپ کی ٹھیک ٹھاک مدد کر سکتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔!!!
ٹام اینڈ جیری کو" لو بڈ' بنانے میں ۔۔۔۔۔۔۔۔

یک دم دونوں کے سروں کے بیچ میں سے آ شیر کا سر نمودار ہوا تھا۔۔۔۔
ا وہ عاشیر تم نے تو ڈرا ہی ڈالا۔۔۔

 سمیرہ نے گرم گرم چمٹا اس کی طرف بڑھایا۔۔۔

 آپی کیا خیال ہے آپنے نادر خیالات کو عملی جامہ پہنا دیا جائے ۔۔۔۔۔؟؟؟

وہ ائمہ کو معنی خیز نظروں سے دیکھ کہ بولی تھی جیسے ابھی کے ابھی شفا اور حمزہ کے بجائے اس عاشیر کو ہی چمٹا لگانے کی تیاری میں ہوں ۔۔۔۔
آرے نہ بابا۔۔۔۔
 میں تو چلا یہاں سے میری دال گلنے والی نہیں ہےن۔ ۔۔۔۔
 عا شیر چہرے پر مصنوعی بوکھلاہٹ طاری کر کچن سے رفوچکر ہو چکا تھا ۔۔۔۔
💖
یہ بیگ بیچ میں رکھنا ضروری ہے کیا؟ ؟؟
جان حمزہ۔۔۔۔!
وہ محبت لٹاتے لہجے میں بولا ۔۔۔

 مجھ سے زیادہ فری ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔" فضول میں میرے منہ مت لگو۔۔۔۔۔!

 یار میں تو بہت کوشش میں ہوں تمہارے منہ لگنے کہ مگر تم ہو کہ ہونٹوں کے قریب ہی اب اپنے۔ ۔۔۔۔۔۔

بےھودہ انسان ۔۔۔۔!!
وہ کڑتے ہوئے سوچ کے رہ گئی اور پھر ایک ایک لفظ کو چبا چبا کے گویا ہوئی حمزہ سے۔۔

 اب آپ اپنی لمٹس کراس کر رہے ہیں ھمزھ جلال۔۔۔۔۔"
 وہ تو میں کب کی کر اس پر چکا ہوں۔۔۔۔۔۔!!
 اب تو تمغائے جرات ملنا باقی ہے ۔۔۔۔۔"
وہ بھی 11 بچوں کی صورت میں ۔۔۔۔۔۔"

بھرپور انداز میں
بتیسی کی نمائش کی گئی ۔۔

بے شرم انسان ۔۔۔!
بےھودہ ہی باتیں کرتا ہے ۔۔۔۔۔۔"
شرم بھی نہیں آتی مجھ سے ایسی باتیں کرتے ہوئے ۔۔۔۔۔۔"
وہ شرم و حیا ء سے سرخ پڑ گئی۔۔
 جھنجلا کے بولی تھی۔ ۔

تو یار تم سے ہی کرونگا یا برابر میں بیٹھی اس حسین دوشیزہ کا ہاتھ پکڑ کے اپنی معصوم سی خواہش کا اظہار کرنے سے تو رہا ۔۔۔"

ویسے اگر تم کہو گی تو میں تمہیں دو منٹ میں اس کو گھیر کے بھی دکھا سکتا ہوں ۔۔۔"

شٹ اپ حمزہ اب بہت ہوگیا میں یہاں سے اٹھ کر چلی جاؤں گی ۔۔۔۔۔۔۔۔!!

اور میں تمہارے پیچھے پیچھے چلا آونگا ۔۔۔۔۔۔۔۔"
ت"م جہاں تمہارا حمزہ ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔""
ڈھٹائی سے جواب دیا ۔۔۔۔

افففففف۔ ۔۔۔!!
اف نہیں حمزہ۔۔۔۔۔
 حمزہ جلال ۔۔۔۔!!!
اور تم شفا حمزہ جلال ۔۔۔"

حمزہ اب اگر تم نے کسی بھی قسم کی گوہرافشانی کہ تو میں تمہارا سر پھاڑ دوں گی ۔۔۔۔
وہ غرائی دونوں ایک دوسرے سے ایسے بڑھ رہے تھے جیسے جہاز میں نہیں بلکہ اپنے بیڈ روم میں موجود ہوں اردگرکے کئی لوگ متوجہ ہوکہ ان دونوں کو دبی دبی مسکراہٹوں کے ساتھ دیکھنے میں مصروف تھے اور وہ دونوں اس بات سے بے خبر ۔۔۔۔

سر کیا چیز ہے ۔۔۔
ناچیز جان دینے کو بھی تیار ہے ۔۔
جانے من ۔۔۔!
حمزہ تم یہ اپنا ٹپوری والا انداز میرے سامنے بند کرو ۔۔۔۔"
نہیں تو۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نہیں تو تم بھی میرے ساتھ ٹپوری بن جاؤں گی ۔۔۔۔۔"
ہے نا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟
پھر ہم دونوں مل کے" راج گرو"(گٹکا) دانتوں میں دبائیں گے ۔۔۔۔۔""""
اسٹوپڈ ۔۔۔۔"وہ چڑھ کے بولی
تمہارا "کیوپڈ" ۔۔۔۔۔۔۔۔وہ مزید چھوڑ کے گویا ہوا اور سلگانے والی مسکراہٹ شفا کے اوپر اچھالی ۔۔۔
💕
ان دونوں کو رحمان صاحب نے سمیرا اور ائمہ کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے بجائے ہنی مون پہ بھیجنے کے عمرے کے لیے را ضی کر لیا تھا ۔۔۔

گھر والوں سے ان دونوں کے مابین وابستہ تلخ تعلقات کوئی ڈھکے چھپے نہ تھے۔۔۔

 حمزہ اپنے کمرے میں مجنو کا بھی ریکارڈ توڑتا افسردہ گھومتا نظر آتا تھا جب کہ شفا نے تو شاید ہٹلر سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کر لی تھی۔ ۔۔۔

 وہ اپنےارد گرد حمزہ کی موجودگی تو دور کی بات پرچھائی تک کو پہنچنے نہیں دے رہی تھی۔ ۔۔۔۔ احتیاطی تدابیر کرچکی تھی ۔۔۔

بارہاں حمزہ نے اس کو منایا کئی دفعہ اپنے کئے کی تلافی بھی کی !!معافی تک طلب کر ڈالی جب کہ اللہ کے علاوہ وہ کسی سے بھی معافی مانگنا اپنی شان کے خلاف سمجھتا تھا ۔۔۔۔

 شفا کی محبت نے اس کو سراپا بدل ڈالا تھا دل نرم ہو چکا تھا اس کا کافی حد تک۔۔۔۔۔

 رحمان صاحب نے دونوں کو بلا کہ ایسے کڑک و روبدار لہجے میں حکم صادر کیا تھا جانے کے لیے کہ حمزہ تو خوشی سے جھوم اٹھا تھا جبکہ شفا تلملا کر رہ گئی ۔۔۔

وہ دونوں کراچی سے سعودی ائیرلائن میں مکہ کے لیے روانہ ہوئے تھے۔۔۔

 جہاز میں میقات آنے پہ دونوں نے احرام باندھا تھا اور پھر مکہ منورہ جا کہ سب سے پہلے عمرہ کی ادائیگی کرنا تھی ۔۔

اور اب جہاز میں بیٹھنے کے بعد سے حمزہ اس کو مستقل  کسی نہ کسی بات پر بری طرح سے زچ کئے جا رہا تھا ۔۔۔۔

حمزہ کی پیاری سی شرارتوں پر شفاء حیران ضرور تھی مگر ظاہر نہ کر رہی تھی ۔۔۔
اس نے کہا ں دیکھا تھا حمزہ کا یہ شریر چلبلا سہ روپ ۔۔۔۔۔!!

گھر سے جب وہ نکلی تھی تبھی وہ دل سے حمزہ کے لئے ساری کدورت دھوکہ دل کو بالکل شفاف کر کے عمرے کے سفر کے لیے روانہ ہوئی تھی ۔۔۔

خدا کے گھر جا رہے تھے وہ دونوں اس سے زیادہ خوش نصیبی کی بات کیا ہوسکتی ہے ایک مسلمان کے لئے!! مگر حمزہ کے سامنے ابھی کچھ وقت اور کمزور نہیں پڑنا چاہتی تھی۔۔۔

  اس کی بھرپور کوشش تھی کہ وہ اس کے اندر موجود ایک نر م خو شخص کو پہلے باہر نکالے۔۔۔۔۔

 حمزہ پورے سفر میں اس کا ہر طرح سے خیال رکھ رہا تھا نہ جانے کہاں کہاں کہ قصے اس وقت اس کو سناکہ اس کا سر کھا رہا تھا ۔۔۔۔

کئی دفعہ تو شفا نے اس کو خطرناک گھوریوں سے بھی نوازا تھا۔ ۔۔۔

شفا کو لگ رہا تھا کہ اب وہ مزید خود پہ ضبط نہیں کرسکے گی اپنی ہنسی پہ مگر پھر بھی وہ بہت مشکل سے اپنے اوپر کنٹرول کررہی تھی۔۔۔۔

 کچھ وقت تک اس کو بہت مضبوط ثابت ہونا تھا ۔۔۔

 پہنچ کر ان دونوں نے خدا کا شکر ادا کیا تھا ۔اللہ نے ان کو اس قابل سمجھا تھا کہ اپنے گھر بلایا ۔۔۔۔

وضوع کرلو ادھر خواتین کا حمام ہے۔۔

مم۔ ۔۔۔۔۔۔۔مگر میں اکیلی ۔۔۔۔۔۔"
میرا مطلب ہے میں اکیلی ہی اندر جا کے کیا کرو گی ۔۔۔۔۔۔؟؟؟
آپ بھی چلیں نہ اندر میرے ساتھ۔۔۔۔۔۔"

 وہ تنہا جانے سے گھبرائی۔۔۔ ۔ 

یار یہ اب فاول ہے جب میں اندر آنا چاہتا ہوں تمہارے روم میں تب تو تم مجھے آنے نہیں دیتی ہو۔  ۔۔۔۔ "

 جہاں میں آ نہیں سکتا وہاں تم مجھے گھسیٹ گھسیٹ کے لے کر جانا چاہتی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!

تو اس کا مطلب آپ میرے ساتھ نہیں چلیں گے ۔۔۔۔۔؟؟
نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔!!!
چاہ کر بھی نہیں جا سکتا ۔۔۔۔۔!!!
کیوں۔  ۔۔۔؟تنہا جانے کا سوچ کے شفا کے حواس گم ہو رہے تھے ۔۔۔۔۔

کیوں تم خود کو بھری جوانی میں بیوہ کرنا چاہتی ہوں خدا کا خوف کرو یار۔ ۔۔۔۔۔!!

  ظاہری سی بات ہے خواتین کے حصے میں!! میں تو تمہارے ساتھ نہیں جا سکتا نہ۔ ۔۔۔۔۔۔!!

اور اگر تم اپنا انتقام لینا مجھ سے چاہتی ہو!! تو مجھے  اپنا عبایہ پہناکے لے جاؤ ۔۔۔۔۔۔"

پھر بھی مجھے ڈنڈے پڑیں گے امید پوری ہے اس بات کی کیونکہ تم اندر جا کے اعلانیہ کہوں گی کہ یہ آدمی ہے عورت نہیں اس کو خوب مارو پیٹو  اور ایک ڈنڈا اتنی زور سے پڑے گا کہ میں بتا بھی نہیں سکتا ۔۔۔۔۔۔۔۔
ہائے۔ ۔۔۔۔ !!

تم تو میری خدمت بھی نہیں کروں گی ۔۔۔۔

خدمت کروانے کے لیے پھر مجھے دوسری شادی کرنی پڑے گی ۔۔۔
میری دوسری شادی ہوتے دیکھ تم جلن حسد سے پاگل ہو جاؤں گی پھر اپنا عورتوں والا دماغ چلاؤں گی میری بیوی اور مجھے ستانے کی پ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ سب کو کرنے سے پہلے اگر تم میرے ہاتھوں زندہ بچوگہ  تو نہ۔ ۔۔۔۔ تب تم اس تمام عمل کر سکو گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"
وہ ایک دفعہ پھر اپنی ہاتھ میں میں مصروف ہو چکا تھا ۔۔۔۔جب شفا نے بیچ میں ہی اس کے بعد کاٹی تھی وہ ویسے ہی پریشان تھی اکیلے جانے کی وجہ سے ادھر حمزہ  پھر ایک دفعہ شروع ہو چکا تھا ۔  ۔

 اگر کوئی مشکل درپیش آئے تو تمہارے پاس عمرہ کے طریقہ کی کتاب موجود ہے اس میں دیکھ لینا ۔۔۔۔۔"

میں تمہیں یہی ملونگا اور اگر دیر لگ جائے مجھے تو تم مجھے یہیں کھڑی ملنا ادھر ادھر مت ہو جانا۔۔۔۔۔۔  "

 نرمی سے کہتے ہوئے حمزہ اس کے سر پر پیار بھری چپت لگا کے آگے بڑھ گیا ۔۔۔۔

جدہ سے مکہ کا راستہ ایک گھنٹے کا تھا رات میں ہی ان کا عمرے کا ارادہ تھا تقریبا ایک سے ڈیڑھ بجے کے درمیان ۔۔۔ 
اس دوران رش کم ہوتا ہے حرم میں شفا کا رویہ احرام باندھنے کے بعد کافی حد تک نرم پڑ چکا تھا وہ پہلے کی طرح اس کی باتوں  پہ چڑ چڑھانے کے بجائے ہلکے پھلکے انداز میں جواب دے رہی تھی ۔۔۔

مزاجی خدا کو ناراض کرکے بھلا وہ اپنے حقیقی خدا کو کیسے راضی کر سکتی تھی ؟؟حمزہ کافی حد تک شفاء کا بہتر سلوک دیکھ کے مطمئن ہوا دل پہ جیسے بھاری سل کی مانند بوجھ اترا تھا۔۔۔۔۔

 زم زم ٹاور کے روم نمبر 634 جو کہ 26 ویں منزل پر تھا ۔۔۔کمرے کی کشادہ شیشے سے بنی خوبصورت کھڑکی سے حرم کا احاطہ نظر آرہا تھا بہت خوبصورت کمرہ تھا اور کمرے سے نظر آتا حرم۔۔۔۔۔۔

 اللہ اکبر !!
دونوں نے بس روم میں سامان رکھا تھا اور فوری حرم کے لیے روانہ ہوگئے رش کم تھانہ بہت زیادہ رات کے پونے دو کا وقت ہو چکا تھا حمزہ اور شفا کی نظریں حرم کے فرش پہ تھی جبکہ آنکھیں نم اور پورے جسم کا رواں رواں کھڑا ہو رہا تھا ،کپکپاہٹ تاری تھی جیسے جیسے وہ دونوں کعبہ شریف کی طرف بڑھ رہے تھے دونوں کی کیفیات ناقابل بیان تھی۔۔۔
 وہ شفاء کا ہاتھ تھاما ہوا تھا سختی سے ۔۔
لبوں پہ بس ایک ہی صدا تھی۔

" لبیک اللہم لبیک لبیک لا شریک لک لبیک" ۔

شفاء نظریں اونچی کر کے دیکھو سامنے۔۔۔۔۔۔"

 حمزہ کی آواز میں نمی تھی لہجے میں خوشی جبکہ چہرہ خدا تعالیٰ کے گھر کا دیدار کر کے نور سے دمک اٹھا تھا۔۔۔

آشفاء جیسے ہی فرش سے نظریں اونچی کر کے دیکھا سامنے "خانہ کعبہ " تھا ۔۔۔
"سبحان اللہ "دونوں کے منہ سے بے اختیار نکلا تھا ۔۔۔۔

حاجی کعبہ کا طواف کر رہے تھے کانوں میں لبیک کی صدائیں رس گھول رہی تھی شفا کے پورے وجود میں جیسے کپکپی سی طاری ہوئی اور وہ وہیں سیڑھیاں اترنے سے پہلے آخری سرے پر بیٹھ گئی سجدے میں جا کے وہ بری طرح سے سسک  تھی حمزہ کی بھی کیفیت شفا کے ہی جیسی تھی ۔۔

دونوں کعبہ کے عین سامنے اللہ تعالی کے حضور سجدہ ریز تھے۔ ۔۔

ان دونوں نے ہی  خانہ کعبہ کو دیکھ کے پہلی نظر پڑتے ہی ڈھیر ساری دعائیں مانگی تھی۔ ۔۔۔

" اے میرے پروردگار تمام جہانوں کے مالک مجھے اور میرے خاندان سے چلنے والی نسلوں کو نیک صلح اور دین اسلام کی پیروی کرنے والا سچا مومن مسلمان بنا دے ۔۔۔میرے تمام جہانوں کے مالک  تو غفور الرحیم ہے بخشنے والا مہربان ہے۔۔۔ میرے اللہ  تو ہمیں معاف کردے ۔۔۔۔۔اےمیرے اللہ میرےگناہِ کبیرہ اور صغیرہ گناہوں کو بخش دے ۔۔۔۔۔میرے اللہ تو مہربان ہے میرے رب تو میرے  شریک حیات کے دل میں میری محبت ڈال دے  اور مجھے ہمیشہ اس کی عزت اور محبت کرنے والا بہترین ہمسفر بنا دے۔۔۔۔۔۔۔۔۔"

 حمزہ نے اللہ سے ہاتھ اٹھا کے گڑگڑا گڑگڑا کہ دل ہی دل میں  دعا کی تھی ۔۔۔

طواف کرنے کے بعد ہمزہ شفا کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ کے انتہائی رش میں حجرے اسود تک لے کے گیا تھا پہلے شفا نے حجر اسود کو بوسہ دیا تھا پھر ہمزہ نے۔۔۔۔۔
اس قدر بھیڑ  ہونےکے باوجود بھی وہ شفا کو لے کے حجرے اسود تک آخر کار  پہنچ ہی گیا تھا۔۔۔

 وہ اس کی ممنون ہوئی ورنہ تو اس قدر بھیڑ میں وہ تصور بھی نہیں کرسکتی تھی حجرہ اسود تک پہنچنے کا ۔۔

سات دفعہ صفا سے مروہ تک چکر مکمل کر کے صحیح کا اختتام ہوا تھا پھر دونوں نے دو دو نفل شکرانے کے ادا کیے تھے ۔۔۔

"تھکی تو نہیں ہونا"؟؟؟
 حمزہ نے محبت سے دھیمے لہجے میں استفسار کیا بالکل بھی نہیں ایسا لگ رہا ہے جیسے میرا وجود بہت ہلکا پھلکا ہو گیا ہو گناہوںسے پاک۔ ۔۔۔۔۔۔۔"
وہ حمزہ کے پرنور چہرے کو دیکھ کے بولی تھی جو ابھی ابھی گنجہ ہوکہ بالوں کا دم دیکے آیا تھا ۔۔۔۔۔

 مبارک ہو تمہیں ہمارا عمرہ مکمل ہوا ۔۔۔"

 اللہ پاک قبول فرما دے۔۔۔
 آمین !!
دونوں نے ایک ساتھ مل کے آمین کہا تھا ۔۔



ایسے ہی نہیں میں نے تم کو بے حس کہا تھا ۔۔۔۔۔!!!
یونہی نہیں میں تمہاری پناہوں میں آنے سے خوفزدہ ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔"

اور رہی بات تمہارے نکاح میں ہونے کی تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 اختیارات قانون نے مجھے بھی دیے ہیں۔۔۔۔۔۔"

 وہ ایک ایک لفظ چپا چپا  کہ کہتی  جھٹکے سے اپنا ہاتھ چھڑواکہ حمزہ کے کمرے سے باہر نکلتی چلی گئی ۔۔۔۔ ۔ 

قانون مائی فٹ ۔۔۔۔۔!!!
تم اس طرح سے باز نہیں آؤں گی ۔۔۔۔۔۔"

وہ اٹھا تھا اور ٹیبل پر رکھا گلاس اس نے ایک ہاتھ سے پرے اچھالا پھینکا ۔
گلاس چھناکے سے ٹوٹ کے کرچی کرچی ہوگیا ۔۔۔۔حمزہ کے دل اور احساسات کی طرح ۔۔۔
💔
حمزہ یہ سب کیا ہے۔۔۔؟؟؟؟
 کیوں اس قدر وحشی ہو رہے ہو آخر تم۔۔۔۔؟؟؟؟

 شور کی آواز سن کہ ائمہ بھاگتی ہوئی بیٹے کے کمرے میں دوڑی چلی آئی تھی ۔۔۔۔۔
وہ چند منٹ پہلے شفا کو ہمزہ کے کمرے سے روتا ہوا جاتا دیکھ چکی تھی ۔۔۔۔۔۔

ہاں ھوں میں وحشی۔۔۔۔۔۔"
 بے حس ہو چکا ہوں میں ۔۔۔۔۔۔۔۔!!
صحیح کہہ رہی ہیں آپ ۔۔۔۔۔۔۔"
میرے سینے میں دل کی جگہ پتھر ہے پتھر ۔۔۔۔۔۔۔۔"
پتھر  دھڑکتا ہے میرے اندر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!

بیٹا ۔۔۔۔۔؟؟؟۔"
بس۔۔۔۔۔۔!
 نہیں میرا بچہ اس طرح نہیں کہتے ۔۔۔۔۔"

آئمہ  نے اس کا سر اپنے سینے سے لگا کہ اس کو صوفہ پر بٹھایا تھا۔۔۔۔۔
 ماں کے گلے سے لگا وہ جیسے بالکل چھوٹا سا حمزہ بن چکا تھا ۔۔
۔جو روتے ہوئے شکایت کر رہا تھا اس سے ۔۔۔۔۔۔۔!

شفاء سے کوئی ناراضگی ہوئی ہے ۔۔۔۔؟؟

ائمہ نے اس کے سر میں  نرمی سے انگلیاں چلاتے ہوئے دریافت کیا ۔حمزہ کا دل ہلکا کرنا بہت ضروری تھا اسکے لئے۔ ۔۔
 دوستی کب ہوئی تھی ۔۔؟
جو اب ناراضگی ہوگی۔۔۔
وہ منہ بسور کے بولا جیسے چھوٹا سا بچہ اپنی بیسٹ فرینڈ سے ناراض ہو کہ اداسی سے کہتا ہے اور اس سے دوستی کرنے کے لیے مچلتا ہے ۔۔۔۔۔

 آئمہ کو اس پل حمزہ پر ٹوٹ کہ  پیار آیا تھا ۔واقعی اولاد چاہے جتنی بھی بڑی ہی کیوں نہ ہو جائے ماں باپ کے سینے سے لگ کہ وہ واپس بچپن میں چلی جاتی ہے ۔۔۔۔
"بے شک ماں باپ کا نعم البدل اس دنیا میں کوئی نہیں ہے "۔۔
سمجھ گئی ۔۔۔!
لگتا ہے میرے بیٹے کو محبت ہو گئی ہے اپنی شریک حیات سے کوئی طوفانی قسم کی ۔۔۔۔۔۔؟؟

 آئمہ معنی خیزی سے کہتی لہجے کو شریر بناتے ہوئے گویا ہوئیں ۔۔۔۔

وہ مجھ سے ناراض ہے پر مجھے معاف بھی کر چکی ہے ۔۔۔۔۔"
پھر بھی مجھ سے خفا ہے!!
 میں کچھ سمجھ نہیں پا رہا ہوں کہ آخر وہ چاہتی کیا ہے ۔۔۔؟؟
مگر اماں جان میں آپ کو ایک بات بتا رہا ہوں میں شفا کے بغیر نہیں جی سکتا ۔۔۔!!
یہ سوچ بھی میرے لئے سوھان روح ھے ۔۔۔
شفاء صرف اور صرف میری ہے وہ حمزہ کی شفا ہے بس ۔۔۔۔
وہ معصوم روٹھے روٹھے لہجے میں کسی چھوٹے سے بچے کی طرح ماں سے ضد لگا رہا تھا ۔۔۔۔

وہ کیا چاہتی ہے۔۔۔۔۔؟؟؟
 ائمہ نے جیسے کچھ سوچتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔
 وہ مجھے بے بس اور لاچار کردینا چاہتی ہے ۔۔۔۔۔"
مجھے کہہ کہ گئی ہے کہ میں بے حس ہو ں اور بھی نا جانے کیا کیا سمجھتی ہے وہ مجھے ۔۔۔۔۔۔؟؟
پھولے پھولے منہ سے جواب دیا گیا ۔۔۔
ہمممم۔ ۔۔۔۔۔"
صحیح اس کا ایک حل ہے تو میرے پاس ۔۔۔۔۔۔"
مگر میری ایک شرط ہے ۔ ۔  !!!

شرط کو گولی ماریں یہ بتائیں کیا ہے ھل آپ کے پاس جلدی سے ۔۔۔۔؟؟؟؟

حمزہ جلدی سے ہشاش بشاش ہوا اور آئمہ سے تھوڑا دور ہٹ کے بولا آنکھو ں میں بہت پیاری سی چمک تھی اس لمحے اس کی ۔۔۔۔۔۔

ائمہ نے بیٹے کے ایک دفعہ پھر سے خوشی سے چہکتے چہرے کو مامتا سے دیکھا تھا وہ صدقے واری ہوئی تھی ۔۔۔۔دل چاہا تھا کہ دنیا بھر کی خوشیاں اپنے بیٹے کے قدموں میں لا کر بچھا دے ۔۔۔
ورنہ اپنے لخت جگر کو دلبرداشتہ دیکھ اس کا دل خود بھی اداس ہو گیا تھا ۔۔۔۔

تم ایسا کیوں نہیں کرتے کہ جو وہ تمہیں سمجھتی ہے تم اس کے بر عکس بن کے دکھاؤ۔۔۔۔
 مطلب ۔۔۔۔۔  ؟؟۔
حمزہ اس سے آگے تم سمجھ دارہو بچے نہیں ہوتم۔ ۔۔
 وہ اب اٹھ کے اس کا بکھرا کمرہ سمیٹ رہی تھی جب کہ حمزہ کے لیے کئی سوچوں کے در وا ہوئے تھے ۔۔۔۔
اب عمل کی باتیں تھی۔۔۔۔۔!

کیا ہوا آپی۔۔۔۔۔؟؟؟
 حمزہ کیوں برہم ہو رہا تھا ۔۔۔۔۔؟؟
سمیرا جو کہ باہر بے صبری سے ٹہل رہی تھی ائمہ کے انتظار میں !! اس کے آتے ہی پریشانی سے استفسار کر بیٹھیں۔۔۔
 وہ دونوں چلتی ہوئی کچن میں ہی آ گئیں تھیں رات کے کھانے کا وقت ہو چلا تھا ۔۔۔
کھانے کی ذمہ داری دونوں نے اپنے ذمے لے رکھی تھی ۔۔۔کچن کا ہر ایک کام روٹی برتن سے لے کہ ہر چھوٹا بڑا کام دونوں خود ہی سرانجام دیا کرتیں جبکہ گھر میں دو کل وقتی ملازمائیں بھی موجود تھیں مگر دونوں خواتین کچن خود ہی سنبھالا کرتی دونوں ہی سلیقے مند تھیں ملازماؤں سے کچن کا کام کروانا دونوں کو ہی گوارا نہ تھا ۔۔۔۔
کیا ہو سکتا ہے وہی ٹوم اینڈ جیری کے فسادات اور
کیا۔۔۔۔۔۔
ائمہ نے روٹی کا پیڑا بناتے ہوئے جواب دیا ۔۔۔

آئمہ روٹی بیلتی تو سمیرا اسے سیکھتی ۔۔۔۔۔دونوں مل جھل کے بغیر ماتھے پر بل لائے ایک دوسرے کا ہاتھ بٹاتی نظر آیا کرتی ہر ایک گھر کے کاموں میں ۔۔۔۔۔

کیا کیا جائے آپی ان دونوں کا۔۔۔۔؟؟
 کبھی ٹام اینڈ جیری کی بھی دشمنی دوستی میں بدلی ہے بھلا۔۔۔۔۔؟؟؟
 میں تو تنگ آ چکی ہوں ان دونوں کی اس آئے دن کی طوفان بدتمیزی سے ۔  ۔۔۔۔۔!!

اپنے ساتھ ساتھ ان دونوں نے تو جیسے ہماری زندگیاں بھی مشکل ترین بنا دی ہیں ۔۔۔۔۔۔!
ایک پل جو سکون کا نصیب ہو لینے دیں یہ لوگ ۔۔۔۔۔"

سمیرا نے روٹی کو سیکھتے ہوئے دل کے پھپولے بھی پھوڑ ڈالے توے پہ۔۔۔
یہی تو ۔۔۔۔۔
ایک ٹھیک ہوتا ہے تو دوسرا ٹیڑھا ہو جاتا ہے دل چاہتا ہے جیسے بچپن میں ہماری مائیں ہمیں چمٹا دکھا کے ڈر آیا کرتی تھی نا ایسے ہی ان دونوں کو گرم گرم کیمپ لگائے جائیں ایسی جگہوں پہ کے نہ چھپا سکے اور نہ دکھا سکے ۔۔۔۔۔
ائمہ غصہ ہوتے  ہوئے بولی تھی۔۔۔۔۔
 بس نہیں چل رہا تھا اس کا کہ ایک ایک چمٹا واقعی دونوں کے چپکا ہی دے۔ ۔۔۔

مجھے لگتا ہے اب ان دونوں کا ہمیں ہی کچھ نہ کچھ کرنا ہوگا ۔۔۔۔

حمزہ کچھ حد تک سیدھا ہو چکا ہے مگر اس لڑکے کا غصہ اس کو ہمیشہ نقصان پہنچاتا ہے ۔

آپی کیوں نہ ہم ایک کام کریں ان دونوں کو ہنی مون پر بھیج دیا جائے  ۔۔۔۔؟؟؟

سمیرا نے کچھ سوچتے ہوئے تجویز پیش کی ۔۔۔
غلط ایک دم غلط چھوٹی ۔۔۔؟!!

ہنی مون مت بولو بلکہ جنگی مون کہو! !

 ان دونوں کو تو جنگی مون پہ تلواریں لیکر بھیج دینا چاہیے ۔۔۔۔۔"
ائمہ نے سلگ کے کچھ اس طرح کہا تھا کہ دونوں کا فلک شگاف کہ کا کچن میں گونجا تھا ۔۔۔

ویسے اگر آپ دونوں چاہیں تو میں بھی آپ کی ٹھیک ٹھاک مدد کر سکتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔!!!
ٹام اینڈ جیری کو" لو بڈ' بنانے میں ۔۔۔۔۔۔۔۔

یک دم دونوں کے سروں کے بیچ میں سے آ شیر کا سر نمودار ہوا تھا۔۔۔۔
ا وہ عاشیر تم نے تو ڈرا ہی ڈالا۔۔۔

 سمیرہ نے گرم گرم چمٹا اس کی طرف بڑھایا۔۔۔

 آپی کیا خیال ہے آپنے نادر خیالات کو عملی جامہ پہنا دیا جائے ۔۔۔۔۔؟؟؟

وہ ائمہ کو معنی خیز نظروں سے دیکھ کہ بولی تھی جیسے ابھی کے ابھی شفا اور حمزہ کے بجائے اس عاشیر کو ہی چمٹا لگانے کی تیاری میں ہوں ۔۔۔۔
آرے نہ بابا۔۔۔۔
 میں تو چلا یہاں سے میری دال گلنے والی نہیں ہےن۔ ۔۔۔۔
 عا شیر چہرے پر مصنوعی بوکھلاہٹ طاری کر کچن سے رفوچکر ہو چکا تھا ۔۔۔۔
💖
یہ بیگ بیچ میں رکھنا ضروری ہے کیا؟ ؟؟
جان حمزہ۔۔۔۔!
وہ محبت لٹاتے لہجے میں بولا ۔۔۔

 مجھ سے زیادہ فری ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔" فضول میں میرے منہ مت لگو۔۔۔۔۔!

 یار میں تو بہت کوشش میں ہوں تمہارے منہ لگنے کہ مگر تم ہو کہ ہونٹوں کے قریب ہی اب اپنے۔ ۔۔۔۔۔۔

بےھودہ انسان ۔۔۔۔!!
وہ کڑتے ہوئے سوچ کے رہ گئی اور پھر ایک ایک لفظ کو چبا چبا کے گویا ہوئی حمزہ سے۔۔

 اب آپ اپنی لمٹس کراس کر رہے ہیں ھمزھ جلال۔۔۔۔۔"
 وہ تو میں کب کی کر اس پر چکا ہوں۔۔۔۔۔۔!!
 اب تو تمغائے جرات ملنا باقی ہے ۔۔۔۔۔"
وہ بھی 11 بچوں کی صورت میں ۔۔۔۔۔۔"

بھرپور انداز میں
بتیسی کی نمائش کی گئی ۔۔

بے شرم انسان ۔۔۔!
بےھودہ ہی باتیں کرتا ہے ۔۔۔۔۔۔"
شرم بھی نہیں آتی مجھ سے ایسی باتیں کرتے ہوئے ۔۔۔۔۔۔"
وہ شرم و حیا ء سے سرخ پڑ گئی۔۔
 جھنجلا کے بولی تھی۔ ۔

تو یار تم سے ہی کرونگا یا برابر میں بیٹھی اس حسین دوشیزہ کا ہاتھ پکڑ کے اپنی معصوم سی خواہش کا اظہار کرنے سے تو رہا ۔۔۔"

ویسے اگر تم کہو گی تو میں تمہیں دو منٹ میں اس کو گھیر کے بھی دکھا سکتا ہوں ۔۔۔"

شٹ اپ حمزہ اب بہت ہوگیا میں یہاں سے اٹھ کر چلی جاؤں گی ۔۔۔۔۔۔۔۔!!

اور میں تمہارے پیچھے پیچھے چلا آونگا ۔۔۔۔۔۔۔۔"
ت"م جہاں تمہارا حمزہ ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔""
ڈھٹائی سے جواب دیا ۔۔۔۔

افففففف۔ ۔۔۔!!
اف نہیں حمزہ۔۔۔۔۔
 حمزہ جلال ۔۔۔۔!!!
اور تم شفا حمزہ جلال ۔۔۔"

حمزہ اب اگر تم نے کسی بھی قسم کی گوہرافشانی کہ تو میں تمہارا سر پھاڑ دوں گی ۔۔۔۔
وہ غرائی دونوں ایک دوسرے سے ایسے بڑھ رہے تھے جیسے جہاز میں نہیں بلکہ اپنے بیڈ روم میں موجود ہوں اردگرکے کئی لوگ متوجہ ہوکہ ان دونوں کو دبی دبی مسکراہٹوں کے ساتھ دیکھنے میں مصروف تھے اور وہ دونوں اس بات سے بے خبر ۔۔۔۔

سر کیا چیز ہے ۔۔۔
ناچیز جان دینے کو بھی تیار ہے ۔۔
جانے من ۔۔۔!
حمزہ تم یہ اپنا ٹپوری والا انداز میرے سامنے بند کرو ۔۔۔۔"
نہیں تو۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نہیں تو تم بھی میرے ساتھ ٹپوری بن جاؤں گی ۔۔۔۔۔"
ہے نا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟
پھر ہم دونوں مل کے" راج گرو"(گٹکا) دانتوں میں دبائیں گے ۔۔۔۔۔""""
اسٹوپڈ ۔۔۔۔"وہ چڑھ کے بولی
تمہارا "کیوپڈ" ۔۔۔۔۔۔۔۔وہ مزید چھوڑ کے گویا ہوا اور سلگانے والی مسکراہٹ شفا کے اوپر اچھالی ۔۔۔
💕
ان دونوں کو رحمان صاحب نے سمیرا اور ائمہ کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے بجائے ہنی مون پہ بھیجنے کے عمرے کے لیے را ضی کر لیا تھا ۔۔۔

گھر والوں سے ان دونوں کے مابین وابستہ تلخ تعلقات کوئی ڈھکے چھپے نہ تھے۔۔۔

 حمزہ اپنے کمرے میں مجنو کا بھی ریکارڈ توڑتا افسردہ گھومتا نظر آتا تھا جب کہ شفا نے تو شاید ہٹلر سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کر لی تھی۔ ۔۔۔

 وہ اپنےارد گرد حمزہ کی موجودگی تو دور کی بات پرچھائی تک کو پہنچنے نہیں دے رہی تھی۔ ۔۔۔۔ احتیاطی تدابیر کرچکی تھی ۔۔۔

بارہاں حمزہ نے اس کو منایا کئی دفعہ اپنے کئے کی تلافی بھی کی !!معافی تک طلب کر ڈالی جب کہ اللہ کے علاوہ وہ کسی سے بھی معافی مانگنا اپنی شان کے خلاف سمجھتا تھا ۔۔۔۔

 شفا کی محبت نے اس کو سراپا بدل ڈالا تھا دل نرم ہو چکا تھا اس کا کافی حد تک۔۔۔۔۔

 رحمان صاحب نے دونوں کو بلا کہ ایسے کڑک و روبدار لہجے میں حکم صادر کیا تھا جانے کے لیے کہ حمزہ تو خوشی سے جھوم اٹھا تھا جبکہ شفا تلملا کر رہ گئی ۔۔۔

وہ دونوں کراچی سے سعودی ائیرلائن میں مکہ کے لیے روانہ ہوئے تھے۔۔۔

 جہاز میں میقات آنے پہ دونوں نے احرام باندھا تھا اور پھر مکہ منورہ جا کہ سب سے پہلے عمرہ کی ادائیگی کرنا تھی ۔۔

اور اب جہاز میں بیٹھنے کے بعد سے حمزہ اس کو مستقل  کسی نہ کسی بات پر بری طرح سے زچ کئے جا رہا تھا ۔۔۔۔

حمزہ کی پیاری سی شرارتوں پر شفاء حیران ضرور تھی مگر ظاہر نہ کر رہی تھی ۔۔۔
اس نے کہا ں دیکھا تھا حمزہ کا یہ شریر چلبلا سہ روپ ۔۔۔۔۔!!

گھر سے جب وہ نکلی تھی تبھی وہ دل سے حمزہ کے لئے ساری کدورت دھوکہ دل کو بالکل شفاف کر کے عمرے کے سفر کے لیے روانہ ہوئی تھی ۔۔۔

خدا کے گھر جا رہے تھے وہ دونوں اس سے زیادہ خوش نصیبی کی بات کیا ہوسکتی ہے ایک مسلمان کے لئے!! مگر حمزہ کے سامنے ابھی کچھ وقت اور کمزور نہیں پڑنا چاہتی تھی۔۔۔

  اس کی بھرپور کوشش تھی کہ وہ اس کے اندر موجود ایک نر م خو شخص کو پہلے باہر نکالے۔۔۔۔۔

 حمزہ پورے سفر میں اس کا ہر طرح سے خیال رکھ رہا تھا نہ جانے کہاں کہاں کہ قصے اس وقت اس کو سناکہ اس کا سر کھا رہا تھا ۔۔۔۔

کئی دفعہ تو شفا نے اس کو خطرناک گھوریوں سے بھی نوازا تھا۔ ۔۔۔

شفا کو لگ رہا تھا کہ اب وہ مزید خود پہ ضبط نہیں کرسکے گی اپنی ہنسی پہ مگر پھر بھی وہ بہت مشکل سے اپنے اوپر کنٹرول کررہی تھی۔۔۔۔

 کچھ وقت تک اس کو بہت مضبوط ثابت ہونا تھا ۔۔۔

 پہنچ کر ان دونوں نے خدا کا شکر ادا کیا تھا ۔اللہ نے ان کو اس قابل سمجھا تھا کہ اپنے گھر بلایا ۔۔۔۔

وضوع کرلو ادھر خواتین کا حمام ہے۔۔

مم۔ ۔۔۔۔۔۔۔مگر میں اکیلی ۔۔۔۔۔۔"
میرا مطلب ہے میں اکیلی ہی اندر جا کے کیا کرو گی ۔۔۔۔۔۔؟؟؟
آپ بھی چلیں نہ اندر میرے ساتھ۔۔۔۔۔۔"

 وہ تنہا جانے سے گھبرائی۔۔۔ ۔ 

یار یہ اب فاول ہے جب میں اندر آنا چاہتا ہوں تمہارے روم میں تب تو تم مجھے آنے نہیں دیتی ہو۔  ۔۔۔۔ "

 جہاں میں آ نہیں سکتا وہاں تم مجھے گھسیٹ گھسیٹ کے لے کر جانا چاہتی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!

تو اس کا مطلب آپ میرے ساتھ نہیں چلیں گے ۔۔۔۔۔؟؟
نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔!!!
چاہ کر بھی نہیں جا سکتا ۔۔۔۔۔!!!
کیوں۔  ۔۔۔؟تنہا جانے کا سوچ کے شفا کے حواس گم ہو رہے تھے ۔۔۔۔۔

کیوں تم خود کو بھری جوانی میں بیوہ کرنا چاہتی ہوں خدا کا خوف کرو یار۔ ۔۔۔۔۔!!

  ظاہری سی بات ہے خواتین کے حصے میں!! میں تو تمہارے ساتھ نہیں جا سکتا نہ۔ ۔۔۔۔۔۔!!

اور اگر تم اپنا انتقام لینا مجھ سے چاہتی ہو!! تو مجھے  اپنا عبایہ پہناکے لے جاؤ ۔۔۔۔۔۔"

پھر بھی مجھے ڈنڈے پڑیں گے امید پوری ہے اس بات کی کیونکہ تم اندر جا کے اعلانیہ کہوں گی کہ یہ آدمی ہے عورت نہیں اس کو خوب مارو پیٹو  اور ایک ڈنڈا اتنی زور سے پڑے گا کہ میں بتا بھی نہیں سکتا ۔۔۔۔۔۔۔۔
ہائے۔ ۔۔۔۔ !!

تم تو میری خدمت بھی نہیں کروں گی ۔۔۔۔

خدمت کروانے کے لیے پھر مجھے دوسری شادی کرنی پڑے گی ۔۔۔
میری دوسری شادی ہوتے دیکھ تم جلن حسد سے پاگل ہو جاؤں گی پھر اپنا عورتوں والا دماغ چلاؤں گی میری بیوی اور مجھے ستانے کی پ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ سب کو کرنے سے پہلے اگر تم میرے ہاتھوں زندہ بچوگہ  تو نہ۔ ۔۔۔۔ تب تم اس تمام عمل کر سکو گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"
وہ ایک دفعہ پھر اپنی ہاتھ میں میں مصروف ہو چکا تھا ۔۔۔۔جب شفا نے بیچ میں ہی اس کے بعد کاٹی تھی وہ ویسے ہی پریشان تھی اکیلے جانے کی وجہ سے ادھر حمزہ  پھر ایک دفعہ شروع ہو چکا تھا ۔  ۔

 اگر کوئی مشکل درپیش آئے تو تمہارے پاس عمرہ کے طریقہ کی کتاب موجود ہے اس میں دیکھ لینا ۔۔۔۔۔"

میں تمہیں یہی ملونگا اور اگر دیر لگ جائے مجھے تو تم مجھے یہیں کھڑی ملنا ادھر ادھر مت ہو جانا۔۔۔۔۔۔  "

 نرمی سے کہتے ہوئے حمزہ اس کے سر پر پیار بھری چپت لگا کے آگے بڑھ گیا ۔۔۔۔

جدہ سے مکہ کا راستہ ایک گھنٹے کا تھا رات میں ہی ان کا عمرے کا ارادہ تھا تقریبا ایک سے ڈیڑھ بجے کے درمیان ۔۔۔ 
اس دوران رش کم ہوتا ہے حرم میں شفا کا رویہ احرام باندھنے کے بعد کافی حد تک نرم پڑ چکا تھا وہ پہلے کی طرح اس کی باتوں  پہ چڑ چڑھانے کے بجائے ہلکے پھلکے انداز میں جواب دے رہی تھی ۔۔۔

مزاجی خدا کو ناراض کرکے بھلا وہ اپنے حقیقی خدا کو کیسے راضی کر سکتی تھی ؟؟حمزہ کافی حد تک شفاء کا بہتر سلوک دیکھ کے مطمئن ہوا دل پہ جیسے بھاری سل کی مانند بوجھ اترا تھا۔۔۔۔۔

 زم زم ٹاور کے روم نمبر 634 جو کہ 26 ویں منزل پر تھا ۔۔۔کمرے کی کشادہ شیشے سے بنی خوبصورت کھڑکی سے حرم کا احاطہ نظر آرہا تھا بہت خوبصورت کمرہ تھا اور کمرے سے نظر آتا حرم۔۔۔۔۔۔

 اللہ اکبر !!
دونوں نے بس روم میں سامان رکھا تھا اور فوری حرم کے لیے روانہ ہوگئے رش کم تھانہ بہت زیادہ رات کے پونے دو کا وقت ہو چکا تھا حمزہ اور شفا کی نظریں حرم کے فرش پہ تھی جبکہ آنکھیں نم اور پورے جسم کا رواں رواں کھڑا ہو رہا تھا ،کپکپاہٹ تاری تھی جیسے جیسے وہ دونوں کعبہ شریف کی طرف بڑھ رہے تھے دونوں کی کیفیات ناقابل بیان تھی۔۔۔
 وہ شفاء کا ہاتھ تھاما ہوا تھا سختی سے ۔۔
لبوں پہ بس ایک ہی صدا تھی۔

" لبیک اللہم لبیک لبیک لا شریک لک لبیک" ۔

شفاء نظریں اونچی کر کے دیکھو سامنے۔۔۔۔۔۔"

 حمزہ کی آواز میں نمی تھی لہجے میں خوشی جبکہ چہرہ خدا تعالیٰ کے گھر کا دیدار کر کے نور سے دمک اٹھا تھا۔۔۔

آشفاء جیسے ہی فرش سے نظریں اونچی کر کے دیکھا سامنے "خانہ کعبہ " تھا ۔۔۔
"سبحان اللہ "دونوں کے منہ سے بے اختیار نکلا تھا ۔۔۔۔

حاجی کعبہ کا طواف کر رہے تھے کانوں میں لبیک کی صدائیں رس گھول رہی تھی شفا کے پورے وجود میں جیسے کپکپی سی طاری ہوئی اور وہ وہیں سیڑھیاں اترنے سے پہلے آخری سرے پر بیٹھ گئی سجدے میں جا کے وہ بری طرح سے سسک  تھی حمزہ کی بھی کیفیت شفا کے ہی جیسی تھی ۔۔

دونوں کعبہ کے عین سامنے اللہ تعالی کے حضور سجدہ ریز تھے۔ ۔۔

ان دونوں نے ہی  خانہ کعبہ کو دیکھ کے پہلی نظر پڑتے ہی ڈھیر ساری دعائیں مانگی تھی۔ ۔۔۔

" اے میرے پروردگار تمام جہانوں کے مالک مجھے اور میرے خاندان سے چلنے والی نسلوں کو نیک صلح اور دین اسلام کی پیروی کرنے والا سچا مومن مسلمان بنا دے ۔۔۔میرے تمام جہانوں کے مالک  تو غفور الرحیم ہے بخشنے والا مہربان ہے۔۔۔ میرے اللہ  تو ہمیں معاف کردے ۔۔۔۔۔اےمیرے اللہ میرےگناہِ کبیرہ اور صغیرہ گناہوں کو بخش دے ۔۔۔۔۔میرے اللہ تو مہربان ہے میرے رب تو میرے  شریک حیات کے دل میں میری محبت ڈال دے  اور مجھے ہمیشہ اس کی عزت اور محبت کرنے والا بہترین ہمسفر بنا دے۔۔۔۔۔۔۔۔۔"

 حمزہ نے اللہ سے ہاتھ اٹھا کے گڑگڑا گڑگڑا کہ دل ہی دل میں  دعا کی تھی ۔۔۔

طواف کرنے کے بعد ہمزہ شفا کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ کے انتہائی رش میں حجرے اسود تک لے کے گیا تھا پہلے شفا نے حجر اسود کو بوسہ دیا تھا پھر ہمزہ نے۔۔۔۔۔
اس قدر بھیڑ  ہونےکے باوجود بھی وہ شفا کو لے کے حجرے اسود تک آخر کار  پہنچ ہی گیا تھا۔۔۔

 وہ اس کی ممنون ہوئی ورنہ تو اس قدر بھیڑ میں وہ تصور بھی نہیں کرسکتی تھی حجرہ اسود تک پہنچنے کا ۔۔

سات دفعہ صفا سے مروہ تک چکر مکمل کر کے صحیح کا اختتام ہوا تھا پھر دونوں نے دو دو نفل شکرانے کے ادا کیے تھے ۔۔۔

"تھکی تو نہیں ہونا"؟؟؟
 حمزہ نے محبت سے دھیمے لہجے میں استفسار کیا بالکل بھی نہیں ایسا لگ رہا ہے جیسے میرا وجود بہت ہلکا پھلکا ہو گیا ہو گناہوںسے پاک۔ ۔۔۔۔۔۔۔"
وہ حمزہ کے پرنور چہرے کو دیکھ کے بولی تھی جو ابھی ابھی گنجہ ہوکہ بالوں کا دم دیکے آیا تھا ۔۔۔۔۔

 مبارک ہو تمہیں ہمارا عمرہ مکمل ہوا ۔۔۔"

 اللہ پاک قبول فرما دے۔۔۔
 آمین !!
دونوں نے ایک ساتھ مل کے آمین کہا تھا ۔۔

0 comments:

Post a Comment