Wednesday, May 29, 2019

sitamgar ko hum aziz by aymen nauman episode 5


قسط 5
تمہیں کیا ضرورت تھی سب کے سامنے شفاء کو غلط ثابت کرنے کی وہ تمھاری بہن ہے ؟؟؟؟
ائمہ رات کے وقت حمزہ کی کمرے میں آئی تھی وہ اچھی طرح جانتی تھی کہ وہ غصے میں ہے اور کبھی بھی خود نہیں آئے گا اس کے پاس ۔۔۔۔
ماماجان اگر آپ کو کسی اور ٹوپک پر بات کرنی ہے تو میں بالکل فری ہوں!! اور ویسے بھی میرا کوئی بہن بھائی نہیں ہے وہ تینوں صرف اور صرف رحمان صاحب کی اولاد یں ہے ۔۔۔
حمزہ بری بات ہے ایسا مت کہو اپنے باپ کے بارے میں ۔۔۔
اماں جان وہ شخص میرا باپ نہیں ہے۔۔۔
حمزہ نے ماں کے ہاتھوں کو عقیدت سے تھام کر اپنی آنکھوں سے چومتے ہوئے کہا ۔۔۔۔
وہ اپنی ماں کے لئے ایک بالکل ہی مختلف شخص تھا۔۔
جو اس حمزہ سے بہت مختلف تھا جو سب کو نظر آتا تھا ۔۔۔۔۔
وہ ائمہ کے ساتھ بالکل ایک دوست کی طرح رہتا تھا ۔۔۔
حمزہ میں اس وقت بہت ناراض ہوں اور میرا قطعی اس وقت مذاق کا ارادہ نہیں ہے ۔۔۔۔۔
ائمہ شدید خفا تھی ۔۔۔۔
تم جو یہ سب کچھ کرتے پھر رہے ہو نہ تمہیں پتہ بھی ہے اس سے صرف اور صرف میری تربیت پر حرف آئے گا۔۔
جب کہ میں نے تمہاری تربیت تو میرے بچے ایسی ہرگز نہ کی ہے۔ ۔۔۔۔
آئمہ کا لہجہ بھیگا ہوا تھا ۔۔۔۔
آپ نے میری تربیت میں بے شک کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے !!مگر اب وہ وقت آگیا ہے جب میں کچھ لوگوں کی تربیت بہت بہتر انداز میں کروں گا۔۔۔۔
وہ بھی کچھ نئے نئے حربے استعمال کر کے ۔۔۔
آئمہ کو اس کی آنکھوں میں عجیب سی چبھن اور انتقام کی شدید آگ دہکتی ہوئی نظر آئی تھی ۔۔۔۔
وہ سہم سی گئی تھی۔۔
اس کو اپنے بیٹے کے ارادوں سے خوف آ رہا تھا!! جیسے وہ کوئی بہت بڑا انتہائی قدم اٹھا کر اس پر عمل درآمد کرنے والا تھا۔۔۔۔۔۔
حمزہ اگر تم اپنی ماں سے ذرا سی بھی محبت کرتے ہوتو!! تم کچھ بھی ایسا غلط نہیں کرو گے۔۔۔
ائمہ نے پریشان ہو کر بیٹے کو باز رکھنا چاہا ۔۔۔۔
ماما جان بس یہ سمجھ لیں یہ میری محبت کی انتہا ہے جو میں اپنی ماں سے کرتا ہوں ۔۔
اور کسی کی بربادی کی ابتدا !!
اورمیری نفرت کی انتہا سمجھ لیں اس کو ۔۔۔
اب وقت ایک دفعہ پھر اپنے آپ کو دہرائے گا !!
مگر اب کی دفع تڑپ انوکھی ہوگی۔۔۔۔۔
حمزہ مجھے یقین نہیں آ رہا کہ تم اب اس عمر میں میرے سر میں خاک ڈالو آؤ گے؟؟؟
وہ اپنی آنکھوں میں آئے آنسو دوپٹے سے پوچھتے ہوئے بولی ۔۔۔۔
اوہ میری پیاری ماما جانی اب یہ سب چھوڑ یں کل میرے ساتھ شام کو چلیے گا پلاٹ پہ!! اب بس تھوڑا سا ہی کام بچا ہے ہمارےگھر کو مکمل ہونے میں ۔۔۔
چھن۔۔۔۔۔!!!
وہ دونوں ماں بیٹے ابھی بات ہی کر رہے تھے جب زور دار چھناکہ کی آواز کمرے کے باہر سے سنائی دی تھی۔۔۔۔۔
آئمہ اور حمزہ دونوں نے ایک دوسرے کو چونک کر دیکھا۔۔۔۔
حمزہ تیزی سے اٹھ کر کھلے دروازے کے باہر دیکھنے کے لئے اٹھا تھا۔۔۔
جہاں شفا ءبت بنی کھڑی ہوئی تھی ۔۔
کافی کا مگ اس کے ہاتھ سے زمین بوس ہو کر چکنا چور ہو گیا تھا ۔۔۔۔
حمزہ بغیر کچھ کہے سنے شفا کو گھسیٹنے کے انداز میں اس کے کمرے کی طرف بڑھا تھا بغیر ائمہ کو کچھ بھی بتائے ۔۔۔
💕
عصر مغرب کے درمیان آج اسکا اور داؤد کا نکاح پڑھوایا گیا تھا ۔۔۔
کہنے کو تو یہ بس نکاح تھا۔ ۔۔۔
مگر بہت بڑے پیمانے پر تقریب منعقد کی گئی تھی۔۔۔
آئمہ کو بھی فون کر کے آنے کا کہا گیا تھا مگر اس نے آنے سے انکار کردیا تھا بچے کی پیدائش کی وجہ سے ۔۔۔۔۔
سعیدہ بیگم نے خوب لتے لیے تھے بیٹی کے۔ ۔
کہ کیوں اس قدر نازک وقت میں ماں باپ کو نہ بتانا حتیٰ کہ خبر تک نہ ہونے دی۔۔۔
اب انہوں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ نکاح ابھی ہوگا اور رخصتی ائمہ کے سوا مہینے کے بعد ۔۔۔۔
ساتھ ہی انہوں نے خالہ کو بھی بتا دیا تھا کہ وہ کل صبح ہوتے ہی واپس کراچی چلےجائیں گے۔۔۔۔
پہلی خوشی تھی نانی نانا بننے کی ۔۔۔۔
صبر ہی نہیں ہو رہا تھا نواسہ سے ملنے کے لیے بے تاب تھے ۔۔
وہ کمرے میں آکر بیڈ پہ گرنے کے انداز میں نیم دراز ہو گئی تھی۔۔
اس کا دل ہی نہ کر رہا تھا اپنے سچے سنورے روپ کو دیکھ کر ڈریس اور جیولری تبدیل کرنے کا۔۔
وہ نکاح کے بعد مستقل داود کے بارے میں سوچ رہی تھی۔۔۔
اس کا موبائل بج اٹھا تھا ۔۔۔۔
موبائل پر جگمگاتا نمبر داؤد کا تھا ۔۔
عائشہ نے نمبر کو دیکھ کر جھٹ سے کال رسیو کر کے فون کان سے لگایا ۔۔۔۔
ابھی وہ ہیلو بھی کہ نہیں پائی تھی کہ داؤد کی کراہتی ہوئی آواز سنائی دی ۔۔۔
پلیز جلدی سے میرے روم میں آو میرے پیر پہ کانچ چبھ گیا ہے اور بہت زیادہ خون بہہ رہا ہے۔۔۔۔۔
داود کی کہی بات پے آئمہ کا ی تو مانوں دل سکڑ کر حلق میں آگیا تھا ۔۔۔
وہ بغیر اپنےدلہناپہ کی پرواہ کیے!! شرارہ اپنی مٹھیوں میں جھکڑے بھاگتی ہوئی داود کے کمرے میں جا پہنچی تھی۔۔۔۔
کمرے کا دروازہ چاک دیکھ کر وہ تیزی سے کمرے میں گھس گئی ۔۔۔
اور اب ہونقوں کی طرح ادھر سے ادھر دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
کمرے میں داود کو تلاش کرنے لگی ۔۔۔۔
کھٹ۔۔۔۔
کھت کی آواز کے ساتھ کمرے کا دروازہ بند ہوا تھا۔۔۔ عائشہ نے چونک کر دیکھا تھا پلٹ کر۔ ۔
داود بیڈروم کا دروازہ لاک کرکے اس کی طرف پلٹا تھا۔۔۔۔۔۔
آنکھوں میں شرارت ناچ رہی تھی ۔۔۔
یہ کیا ہے سب؟؟؟؟؟
عائشہ نے حیرت سے داود کو دروازہ لاک کر کے خود کی طرف بڑھتے دیکھ جلدی سے پوچھا۔۔
اس کا پورا وجود بری طرح کانپ اٹھا تھا . .
رشتہ تبدیل ہونے سے احساسات بھی تبدیل ہو چکے تھے۔۔۔!!
کیا کیا؟؟!؟!
دروازہ ہی تو لاک کیا ہے !!!اور ویسے بھی محترمہ آج تو ہماری گولڈن نائٹ ہے ۔۔۔۔
داود نے سنجیدگی سے کہا ۔۔۔۔وہ ائمہ کی آنکھوں میں واضح خوف کی تحریریں پڑھ سکتا تھا ۔۔
یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں ؟؟؟
آج تو بس ہمارا نکاح ہوا ہے رخصتی نہیں ہوئی ہے ۔۔۔
آئمہ کو داود کی دماغی حالت پر شبہ سا گزرا ۔۔۔
محترمہ نکاح کا مطلب تو یہی ہے کہ آپ کے تمام تر جملہ حقوق میرے نام لکھ دیے گئے ہیں ۔۔۔۔
تو اس حساب سے تو اب آپ میری بیوی ہیں کوئی نہ ؟؟؟!؟
اور میرے حساب سے تم اب اتنی چھوٹی ننھی منی بچی بھی نہیں ہو!!کہ ہماری اس خوبصورت ریلیشن کے تقاضوں کو سمجھ ہی نہ سکو۔۔۔
اس کا مطلب آپ نے مجھ سے جھوٹ بول کے کمرے میں بلایا ہے میں آپ کو ایسا نہیں سمجھتی تھی ۔۔۔۔
آپ کے پیر میں کوئی چوٹ نہیں لگی نہ ؟؟؟؟
اس نے داود کے بالکل صحیح سلامت پیر پہ نظر ڈالتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔
جہاں کسی بھی قسم کے چوٹ کے آثار تک موجود نہ تھے۔ ۔۔۔
تو میں نے کب کہا میرے چوٹ نہیں لگی ہے ۔۔۔
کیا میں نے تم سے کہا کہ میری چوٹ نہیں لگی ؟؟؟؟
وہ اب الٹا عائشہ کی وحشت زدہ آنکھوں میں اپنی آنچ دیتی آنکھیں ڈال کر پوچھ رہا تھا ۔۔۔۔۔
عائشہ کی تو گویا بولتی ہی بند ہو گئی تھی ۔۔۔
پیار کیا بتاؤں ؟؟
بہت زور کی لگی ہے بہت گہری!!
زخم اتنا گہرا ہے کہ ۔۔۔
صرف تمہارے ہی ان نرم اور گداز ہاتھوں سےمرہم لگانے سے بھر سکے گا۔ ۔۔۔۔!!!
کک۔ ۔۔۔۔ کہاں لگی ہے ؟؟؟
جلدی بتائیں مجھے باہر جانا ہے ۔۔۔۔
وہ گھڑی کی طرف دیکھ کر ایک نظر لاک لگے دروازے پر ڈال کر بوکھلا کر بولی۔۔۔
رات کے گیارہ بجنے کو تھے مگر حویلی میں لگ رہا تھا جیسے آدھی رات بھی ہو چکی ہے ۔۔۔۔
بتا دوں؟ ؟!
سوچ لو مرہم لگا سکوں گی ؟؟؟
شدید گہرے زخم ہیں۔ ۔۔۔
دیکھنے کی سکت رکھتی ہو؟؟؟
وہ اس کو ایک جھٹکے سے اپنے قریب کر کے بولا۔۔۔ کمر کے گرد حصار بہت تنگ تھا۔۔۔
عائشہ کو لگا جیسے اس کے برف جیسے سرد وجود کے گرد!! داود نے اپنا دہکتا ہوئے انگارے کی مانند گھیرا مزید تنگ کیاہو ۔۔۔۔۔
پلیز مجھے جانے دیں ۔۔
آپ بہت خراب ہیں ۔۔۔۔
وہ بن پانی کی مچھلی کی طرح اس کی بانہوں میں مچل رہی تھی ۔۔۔
یار اگر خراب کہوگی تو پھر میں پورا خراب ہو کر دکھاؤں گا ۔۔۔۔۔۔
داود کے لہجے میں استحقاق بول رہا تھا۔۔۔
ارے میں تو بھول ہی گیا اپنی چوٹ تمہیں د کھانا۔۔۔
داؤد نے اس کی پیشانی سے لبوں تک اپنی انگشتِ شہادت سے لکیر کھینچی تھی ۔۔۔
نننن۔ ۔۔۔نہیں مجھے نہیں جاننا ۔۔۔۔۔
وہ بری طرح لرز رہی تھی!! اس کی مضبوط بانہو کی گرفت میں۔۔۔۔
لیکن مجھے تو پتہ ہے کہ ۔۔۔۔۔
میرے یہاں۔۔۔۔
ادھر دیکھو میری طرف۔۔۔۔۔وہ اس کی تھوڑی اونچی کر کے گویا ہوا ۔۔۔
یہاں بہت زور سے چوٹ لگی ہے ۔۔۔۔
داود نے اس کا سرخ گلاب جیسا چہرہ دیکھتے ہوئے!! اسکے مرمریں نازک ہاتھ کواپنے مضبوط ہاتھ میں تھاما تھا اواپنے چوڑے سینے پر رکھا ۔۔۔
آپ بہت بہت خراب ہیں ۔۔۔۔۔
بہت زیادہ ۔۔۔۔
عائشہ کی آنکھوں میں یخلقت نمی اتر آئی تھی۔۔۔۔ داود مسکرایا اور اس کا رخ ڈریسنگ ٹیبل سنگ کی طرف موڑا ۔۔۔۔
یہ دیکھو کہ تم اور میں ایک ساتھ کتنے مکمل لگ رہے ۔۔۔
تمہارا اور میرا عکس اس سے شیشے میں کیا کیا اسرار نہیں کر رہا ۔۔۔۔
داؤد کا لہجہ جذبات سے چور تھا ۔۔۔
اس نے داود کی بڑھتی ہوئی گستاخیوں پہ ذرا سی نظریں اٹھائیں اور پھر جھکآلیں ۔۔۔۔
کیا ؟؟؟؟
نظریں مت جھکاؤ اور مجھے اور اپنے آپ کو سامنے آئینے میں دیکھو ۔۔۔۔تمہیں میری نظروں میں کیا کچھ اپنے لیے نظر آئے گا ۔۔۔۔
صرف تمہارے محسوس کرنے پر ہے۔۔۔
میں آج اس بات کا اقرار کرتا ہوں کہ میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں۔۔۔
کب سے یہ میں بھی نہیں جانتا ۔۔
داود کا لہجہ آنچ دے رہا تھا۔۔
اس نے بہت محبت سے اس کو دیکھتے ہوئے اس کا دوپٹہ!! جو کہ پن کی مدد سے سر پر ٹکایا گیا تھا۔۔۔۔ احتیاط سے اس کے سر میں لگی اس واحد بال پن کو نکال کر دوپٹہ ڈریسنگ ٹیبل پر رکھا ۔۔۔۔
یہ ۔۔۔۔یہ آپ کیا کر رہے ہیں ۔۔۔؟؟؟
عائشہ صحیح معنوں میں خوفزدہ ہوگئی تھی اس کو اپنی روح فنا ہوتی محسوس ہوئی ۔۔۔۔۔
💞
تو ابھی تک یہیں ھے؟ ؟؟؟
دفع ہوجا میرے گھر سے ۔۔۔
میں تو سمجھا کہ بڑی غیرت والی ہوگی تو۔ ۔
اب تک میرے گھر سے جاچکی ہوگی۔۔
مگر تو تو بڑی ہی بےغیرت نکلی ۔۔۔
جلال چھٹے دن گھر آیا تھا اور ائمہ کو لاونج میں ننھے گل گوتھنے کے ساتھ مگن دیکھ کر آگ بگولا ہو بیٹھا تھا ۔۔
اور یہ غلاظت کا ڈھیر بھی میری نظروں کے سامنے سے ہٹا دے ۔۔۔
نہیں تو تیرے ساتھ ساتھ اس کو بھی لمحہ نہیں لگاؤں گا زمین میں دفن کرنے میں ۔۔
وہ سنگدلی سے بولا تھا۔۔۔
گھر کی ایک ڈبلی کیٹ چابی ہمیشہ اس کے پاس رہا کرتی تھی۔۔
اور آج تووہ اکیلا نہیں تھا ۔۔۔
اس کے ساتھ ایک انتہائی ماڈرن سی لڑکی بھی آئی تھی جو کہ آئمہ کو تمسخرانہ نظروں سے دیکھتے ہوئے مسکرائے جا رہی تھی ۔۔۔
یہ۔۔۔
وہ اپنے بیٹے کو ہاتھ میں لیتے ہوئے بولی ۔۔
تم اس کو گالی مت دو۔۔
یہ تم بھی بہت اچھی طرح جانتے ہو کہ یہ میرا اور تمہارا جائز خون ہے۔۔۔
ہماری ہی اولاد ہے ۔۔
تم اتنے سنگدل کیسے ہو سکتے ہو کہ اتنی بڑی بات اپنی ہی اولاد کے لئے کہہ رہے ہو ۔۔۔؟؟
اس میں نہ جانے کہاں سے اتنی ہمت آ گئی تھی کہ وہ جلال کے سامنے ڈٹ کے مقابلہ کرنے کو کھڑی ہو چکی تھی۔۔
نکل جا تو میرے گھر سے گھٹیا عورت۔۔۔
میں تجھے طلاق دیتا ہوں۔۔۔
طلاق ۔۔۔۔
طلاق۔ ۔
تمہارا بہت بہت شکریہ!!!
جو تم نے مجھے اس رشتے کی نام نہاد زنجیروں سے آزاد کردیا ۔۔
ورنہ میں خود تم سے خلع لے لیتی ۔۔۔
دفعہ ہو جاؤ میری نظروں سے۔۔
نہیں تو میں تمہیں دھکے دے کر باہر نکال دوں گا۔۔۔۔
تم کیا نکالو گے جلال میں خود جا رہی ہوں۔۔۔۔
آج کے بعد تم میرے اور میرے بیٹے کے کچھ نہیں لگتے ۔۔۔
وہ جاتے جاتے پلٹی اور ایک دفعہ پھر سے جلال کو خونخوار نظروں سے دیکھتی ہوئی گویا ہوئی ۔۔۔۔
جلال میری بد دعا ہے تمہارے لئے کہ اب تم خود موت کے لئے دعا مانگو گے اور تمہیں موت تک نصیب نہ ہوگی ۔۔۔
نکل بہت دیکھی ہیں اسی بددعائیں میں نے۔۔۔۔
تو اور تیری بد دعا تیرے پاس ہی رہے ۔۔۔۔۔۔
وہ حسینہ بولی تھی ۔۔
اور تم جو اتنے بڑے بڑے دعوے کررہی ہوں نہ میری ایک بات یاد رکھنا جو اپنی اولاد کا نہیں ہو سکا وہ کبھی کسی کا نہیں ہوگا ۔۔۔
تم تو پھر اس کے لئے صرف کچھ ہی دنوں کی عیاشی کا ذریعہ ہوں ۔۔۔
میں اس جیسے شخص پہ تھوکنا بھی پسند نہ کرو ۔۔۔۔
وہ کہہ کر بغیر ایک بھی نظر جلال پہ ڈالے گھر سے جا چکی تھی ۔۔۔!!!!
____
کیا کر رہا ہوں کیا مطلب ؟؟؟؟
یار نکاح کے بعد اپنی ایک اکلوتی بیوی سے رومانس فرما رہا ہوں ۔۔۔۔۔
اتنا تو کرہی سکتا ہوں نہ؟؟؟
داودکا لہجہ شرارتی ہوا۔۔۔۔۔
امی کو بتاؤں گی میں کہ آپ نے میرے ساتھ رات میں بہت برا کیا ۔۔۔۔۔۔
وہ کہہ تو گئی مگر پھر خود ہی زبان کو بریک لگانے پڑے۔ ۔۔۔۔
وہ ا سے آنکھوں میں بھرتے ہوئے !!!
اپنے کرتے کی جیب میں سے کچھ ٹٹولتے ہوئے بولا تھا ۔۔۔۔۔۔
کیا فرما رہی تھی تم ابھی؟؟؟
کہ رات کو میں نے تمہارےساتھ بہت برا کیا ہے ۔۔۔
ہاں تو ٹھیک ہے کہہ دو خالہ سے اور جب خالہ مجھ سے پوچھیں گی تو میں ان کو بڑے فخر سے بتاؤں گا ۔۔۔۔۔
کہ میں نے زیادہ کچھ نہیں بس اپنی محبت کا اقرار ہلکی پھلکی جسا رتوں کے ساتھ کیا ہے۔۔۔۔۔
ویسے راز کی بات بتاؤں ایک؟ ؟؟
میں بھی یہی چاہتا ہوں کہ تم خالہ کو بتاؤ !!تاکہ خالہ کل ہی تمہیں رخصت کروا کے میرے کمرے میں سیج سجانے کے لئے میری دلہن بنا کر بھیج دیں .۔
داود بھی عائشہ کو ستانے کے لیے گویا ماسٹرز کی ڈگری لے کر آیا تھا۔۔۔۔
عائشہ اب کافی حد تک سنبھل چکی تھی۔۔
اس کو کچھ کچھ اندازہ ہو چکا تھا کہ سب کچھ داود اس کو تنگ کرنے کیلئے کہہ اور کررہا ہے ۔۔۔
اب آپ دیکھنا کہ میں آپ کو کس طرح ناکوں چنے چبھ واتی ہوں ۔۔۔۔
عائشہ نے خونخوار لہجے میں اس کو دھمکایا ۔۔۔
منظور ہے ۔۔۔
مگر میرا بھی ایک چیلنج ہے۔۔
کہ مجھ سے زیادہ رومنٹک انداز میں !!مجھے اپنے لبوں سے چنے چبوانا ہونگے؟ ؟
بولو منظور ہے ؟؟
وہ شرارت سے بولا اور ساتھ ہی ایک مخملی کیس کھول کر اس میں سے سونے کا ایک نازک سہ پینڈنٹ نکال کر بہت مان سے عائشہ کی صراحی دار گردن میں پہنایا ۔۔
عائشہ دنگ سی رہ گئی تھی ۔۔۔
یہ۔۔۔۔؟؟
وہ صرف اتنا ہی کہہ سکی۔۔۔
ہاں یہ۔۔۔۔۔!!!
اس کو پہنانے کے لیے ہی میں نے تمہیں یہاں بلایا تھا ۔۔۔
یہ میری طرف سے نکاح کا ادنیٰ سہ تحفہ ہے ۔۔
وہ اس کی گردن کی پشت پہ بوسہ دیتے ہوئے بولا۔۔۔۔
پلیز داود ایسا نہ کریں۔۔۔۔۔۔۔
وہ تڑپ اٹھی تھی۔۔
داود نے اس کو اپنے بازئووں میں بھر کر احتیاط سے اس کے کمرے (جہاں وہ ٹھہری ہوئی تھی) میں چھوڑنے کے لئے بڑھ گیا ۔۔۔
بیڈ پہ اس کو احتیاط سے بٹھا کر اس نے عائشہ کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں قید کرلئے اور نظر بھر کر اس کو دیکھنے کے بعد بولا۔۔۔۔
مانا کہ اب تم میری ہو مگر ۔۔!!
جب تک تم خود مجھے اپنا آپ نہیں سونپوں گی!! میں تم سے کبھی بھی اپنا حق زبردستی نہیں وصول کروں گا ۔۔۔۔۔۔
چاہے میری عمر ہی کیوں نہ بیت جائے ۔۔۔۔
میں زبردستی کا قائل ہرگز نہیں ہوں ۔۔۔۔۔۔!!!
کیونکہ میں بہت اچھی طرح جانتا ہوں کہ تمہارا تن اور من صرف اور صرف میرے ہی ہیں ۔۔۔
وہ کہہ کےکمرے سے جا بھی چکا تھا جبکہ عائشہ ابھی تک اس کے گھمبیر لہجے میں کھوئی ہوئی تھی

0 comments:

Post a Comment