#ستمگر_کو_ہم_عزیز
#ایمن_نعمان 📝
قسط 4
آئمہ کو ہاسپٹل سے آئے ہوئے پورے 24 گھنٹے گزر چکے تھے ۔۔
جلال کو نہ آنا تھا نہ وہ آیا تھا ۔۔
اس کو گھر سے گئے ہوئے پورے چار دن ہوچکے تھے مگر اس نے پلٹ کر نہ ہی آئمہ کی کسی کال کا جواب دیا تھا اور نہ ہی گھر پہ چکر لگایا تھا ۔۔۔
ائمہ تڑپتی ہوئی خود ہاسپٹل پہنچی تھی رکشہ کر کے !!اس کے پاس ہاسپٹل میں جمع کروانے تک کے پیسے نہ تھے ۔۔
اور شوہر تھا کہ اپنی ہی اولاد کو ناجائز قرار دے کر غائب تھا ۔۔۔
ائمہ سے کچھ بندوبست نہ ہوا تو اس نے اپنے گلے میں پہنی سونے کی چین اور ہاتھ میں نازک سی انگوٹھی!! جو کہ اس کے ماں باپ کے گھر سے ہی وہ پہن کے آئی تھی اور ہر وقت پہنے رکھتی تھی۔۔۔۔۔
وہ پیسوں کی جگہ ہوسپٹل نظامیہ کو دے دی تھی۔۔۔۔۔۔
جس کے بعد پھر اس کا کیس کیا گیا تھا ۔۔
آئمہ کو اللہ تعالی نے خوبصورت سے بیٹے سے نوازا تھا ۔ ۔۔
کیسی قسمت پائی تھی اس نے؟؟
کہ جب ایک عورت کو سب سے زیادہ اپنے شوہر کی ضرورت ہوتی ہے۔۔۔۔
اس وقت اس کا شوہر ہی اس کے پاس نہ تھا وہ تن تنہا اس مشکل مراحل سے گزری تھی۔ ۔۔۔۔
جس طرح خود سے ہسپتال گئی تھی اسی طرح خود ہی ہسپتال سے واپس بھی آ گئی تھی ۔۔۔۔۔
بس فرک صرف اتنا تھا کہ ۔۔
پہلے وہ تنہا گئی تھی اب وہ ایک نئے وجود کو اپنے ہاتھوں میں تھام کر لوٹی تھی ۔۔۔
میں تمہارا۔۔۔
جلال شدت سے انتظار کررہی ہوں۔۔
کیوں کہ میں جانتی ہوں کہ جب تم اپنی اولاد کو میرے ہاتھوں میں دیکھو گے تو۔ ۔۔۔
تمہاری ساری تشنگی و بے اعتنائی مجھے لے کر۔ ۔۔
جو بھی تمہارے دل میں ہے وہ سب دور ہو جائے گی !!اور تم صرف اور صرف اپنے اس پیارے سے بیٹے میں کھو جاؤ گے ۔۔
میرا دل تمہاری لیے بالکل کانچ کی طرح شفاف ہے میں نے تمہیں تمہاری کی گئی آج تک کی تمام زیادتیوں کے لئے معاف کیا ۔۔
وہ دل میں سوچ رہی تھی اور چہرے پہ مسکراہٹ بکھری تھی۔۔۔۔ وہ اب خود کو ہلکا پھلکا سا سنوار کر شدت سے جلال کا انتظار کر رہی تھی ۔۔۔۔
❤
شفا کو تو جیسے اپنی بصارتوں پر یقین ہی نہیں آرہا تھا ۔۔۔۔۔
حمزہ اس قدر گھٹیا گفتگو بھی کرسکتا ہے؟؟؟؟
وہ بھی صرف اس قدر معمولی بات کو انا کا مسئلہ بنا کہ ۔۔
وہ بے یقینی کی کیفیت میں تھی۔۔
بہت بری طرح سے الجھ چکی تھی ۔۔۔
وہ اسی الجھی ہوئی تھی۔ ۔۔۔
اس پیچیدہ سی گتھی کو سمجھنے کے لئے کوئی بھی سرا ہاتھ نہیں لگ رہا تھا۔۔۔۔۔۔
حمزہ اتنی بڑی بات کیسے کہہ گیا ؟؟؟؟
کہ وہ اس کا بھائی نہیں ہے ۔۔۔
مگر یہ کیسے ممکن تھا کہ وہ اس کا بھائی ہی نہ ہو ؟؟؟؟
کیا حقیقت تھی آخر؟ ؟؟؟
کیا راز تھا ؟؟؟؟جو وہ اور باقی بہن بھائی نہیں جانتے تھے اب تک ۔
سوچ کر شفاء کا دماغ سن ہورہا تھا۔ ۔۔۔
وہ الجھی الجھی سی عمر کے پاس جا بیٹھی تھی جو بڑے مزے سے لاؤنج میں ٹی وی دیکھ نے میں مصروف تھا۔۔۔
اتوار ہونےکی وجہ سے آج وہ گھر پہ ہی نظر آ رہا تھا ۔۔۔
وہ بھی کا ئوچ گھسیٹ کے صوفے سے تھوڑا کریب کھسکا کر وہیں بیٹھ گئی ۔۔
کیا بات ہے آج اس چہچہاتی چڑیا کے چہرے پہ بارہ کیوں بجھ رہے ہیں؟؟؟؟
عمر نے شفاء کا مجھایاچہرہ دیکھ کر فکر مندی سے پوچھا ۔۔
کچھ نہیں بھائی بس ویسے ہی دل عجیب سا ہو رہا ہے ۔۔۔۔
سچ بھی نہیں بتا سکتی تھی اگر سب کچھ ٹھیک ٹھیک عمر کے گوش گزار دیتی تو خود بھی بری طرح پھنستی کیونکہ اس نے بہت دیدہ دلیری سے سب بڑوں کے سامنے حمزہ کو جھوٹا کرار جو دے دیا تھا ۔۔۔
تو کیا خیال ہے آئسکریم کھانے چلے؟؟؟
مجھے ایسا کیوں لگ رہا ہے کہ یہ جو دل اداس ہو رہا ہے نا!!یہ آئسکریم اور شاپنگ کے لیے ہی ہورہا ہے۔۔۔۔۔۔۔
عمر نے اس کا موڈ بحال کرنے کے لئے چھیڑتے ہوئےجھٹ پلین ترتیب دیا ۔۔۔
وہ اپنی دونوں بہنوں سے جان چھڑکتا تھا ۔۔۔
ایسا نہیں تھا کہ وہ حمزہ سے محبت نہیں کرتا تھا مگر ہمزہ کا لیادیا اوراکھڑا اکھڑا سا رویہ۔۔۔
اس کو حمزہ سے ہمیشہ دور رکھتا۔۔۔
کبھی بھی وہ دونوں بھائی عمر کو یاد نہیں پڑتا تھا کہ خوش دلی سے ایک ساتھ کھیلیں ہونگے ۔۔۔
نہیں بھائی بس میرا دل نہیں کر رہا ۔۔۔۔۔
حیرت کی بات ہے تمہارا باہر آوٹنگ پر جانے کا دل نہیں کر رہا ؟؟؟؟
عمر نے حیرت سے شفا کو دیکھا !!جو آؤٹنگ کے لیے ہر دم تیار رہا کرتی۔۔۔
کسی کے بھی کہنے کی دیر ہوتی کہ ساتھ چلو اور وہ سر جھاڑ منہ پھاڑ جانے کو سب سے پہلے تیار باہر کھڑی ملتی ۔۔۔۔۔
چلو میرے پاس ایک گڈ نیوز ہے تمہارے لئے ۔۔
جس کو سننے کے بعد تمہارا موڈ خود بخود اچھا نہیں بلکہ بہت اچھا ہو جائے گا ۔۔۔
کیا جلدی کہیں ؟۔؟؟؟؟
شفا نے جھٹ بولا کیوں کہ عمر کے پاس کوئی ایسی ویسی نیوز نہیں ہوتی تھی۔۔
بقول سوہا کے پیٹ میں داڑھی لے کر پیدا ہوئے ہیں ۔۔۔
تمہارا بیسٹ فرینڈ ارمغان آرہا ہے ایک ہفتے کے لئے ۔۔۔۔
کب؟ ؟؟؟؟؟
کل شام۔ ۔۔۔ !!!
کیا واقعی؟؟؟؟
شفا خوشی سے کھل اٹھی تھی ارمغان کا سن کر !!وہ اسکی سگی خالہ غزل کا بیٹا تھا اور اس کا سب سے اچھا دوست ۔۔۔۔۔!
مگر وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ کوئی بہت ہی غیض و غضب آنکھوں میں لئے۔۔
اس کو خونخوار نظروں سے دیکھ رہا ہے ۔۔۔
شفاء رحمان ۔۔۔۔۔!!
میں تمہارے چہرے سے یہ ہنسی نوچ لوں گا ۔۔۔
رحمان صاحب اب وہ دن دور نہیں جب تمہاری بربادی میرے ہاتھوں شروع ہوگی اور تم کچھ بھی نہ کر سکو گے ۔۔۔
وہ سوچ کر رہ گیا ۔۔۔۔!
❤
سب لوگ ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھے دوپہر کا کھانا کھانے میں مصروف تھے ۔۔۔۔
جی بیٹا جی تو کیسا لگا آپ کو ان چند دنوں میں ہمارے گھر کا ماحول ؟؟؟؟
خالو نے شفیق نظروں سے عائشہ کو دیکھتے ہوئے پوچھا ۔۔۔۔
جج۔ ۔۔۔۔جی جی خالو بہت اچھا ۔۔
وہ رک رک کے بولی تھی ۔۔
اس کو امید نہ تھی کہ خالویو اچانک اس طرح اس کو سب کے بیچ میں مخاطب کر لیں گے ۔۔
غزل بیٹا آپ یو ں کرنا کہ آج عائشہ کو اپنے ساتھ لے جا کر ذرا یہاں کا بازار اور کھیت وغیرہ کی سیر کروا الانا ۔۔۔
جی ابو میں کروالونگی۔۔۔۔!
مگر پہلے داود سے پوچھلیں کہ وہ مجھے عائشہ کے ساتھ جانے دے گانا ۔۔؟؟
غزل نے شریر نظروں سے داؤد کو دیکھتے ہوئے بولا جو بڑے مزے سے عائشہ کو دیکھنے میں ہی مصروف تھا ۔۔۔۔
عائشہ اس کی نظروں سے بری طرح پزل ہو رہی تھی۔
مگر داود کو کہاں کسی کی پرواہ تھی؟؟؟
وہ تو بس عائشہ کو تنگ کرنے کا اور سراسیمہ کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے ہی کہا دیتا تھا۔۔۔۔
اور اب تو باقاعدہ وہ اس سے منسلک ہو چکی تھی۔۔۔۔۔۔
اس کے نام کی انگوٹھی پہن چکی تھی ۔۔۔۔
بھابھی اب آپ کو خود ہی کباب میں ہڈی بننے کا شوق ہے۔۔۔۔۔
ویسے مجھے پتا ہے میری بھابھی بہت عقلمند ہیں۔ ۔۔ ۔۔۔
غزل کے آنکھیں دکھانے پر داود نے جلدی سے پینترا بدل کر بٹرنگ شروع کی ۔۔۔
جبکہ باقی سب ہلکی پھلکی دیور اور بھابھی کی نوک جھونک سے محظوظ ہوتے کھانے سے انصاف کر رہے تھے ۔۔۔
نہیں مما نہیں جا سکتی آج عائشہ چاچی کو سیرکروانے۔ ۔۔۔۔۔
کیوں کہ آج آپ نے وعدہ کیا تھا کہ آج آپ مجھے نانو کی طرف لے کر جائیں گی ۔۔۔۔
وہاں سمیرا خالہ نے میرے لئے بہت سارے پریزیڈنٹس لے کر رکھے ہوئے ہیں ۔۔۔۔۔
ارمغان گویا داود کی مشکل آسان کی۔ ۔
یہ چیز میرے چیمپ تو ہی میرا پکاپکا والا دوست ہے ۔۔۔
داود نے چٹا چٹا ارمغان کے پھولے پھولے گالوں پر کئ دفعہ بوسہ دے ڈالا ۔۔۔
چاچو اسکی میں الگ سے فیس لونگا ۔۔۔
ارمغان نے سرگوشیانہ انداز میں داود سے اپنی ننھی منھی سی رشوت کا مطالبہ بھی کر ڈالا تھا ۔ ۔ ۔۔۔
داؤد نے بہت آہستہ سے ارمغان کے کان میں کھسر پھسر کی تھی۔۔۔۔
جسکا جواب اس نے بھی بہت آہستہ سے ہی اسی کے انداز میں رشوت طلب کرکے دے دیا تھا ۔۔۔۔
کھانے کے بعد سب لوگ کچھ دیر بیٹھ کے باتیں کرتے رہے ادھر آدھر کی۔ ۔
پھر تین بجے کے قریب اٹھ کر اپنے اپنے کمروں میں قیلولہ کرنے کی غرض سے چلے گئے تھے ۔۔۔
جبکہ غزل ،عائشہ اور داود وہیں ٹیبل پر بیٹھے خوش ہلکی پھلکی نوک جھوک میں مصروف تھے ۔۔۔۔
چلو بھئی اب میں تو جا رہی ہو۔۔۔۔
اس سے پہلے تمہارے بھائی کا پارہ ہآئی ہو اور مجھے ڈانٹ پڑے ۔۔
ابھی تو ان کو جاکر تیار کرنا ہے۔ ۔۔
اتنے بڑے بھائ ہوگئے ہیں !! آپ پھر بھی ان کو تیار کریں گی؟؟؟
داؤد نے مصنوعی حیرت سے آنکھیں پٹپٹا کر غزل سے پوچھا ۔۔۔
داود میرے ہاتھ سے کسی دن ضائع ہو جاؤ گے کتنی دفعہ کہا ہے بھابھی ہوں تمھاری حد میں رہ کے مذاق کیا کرو ۔۔۔
غزل نے داود کا کان کھینچا ۔۔۔
اچھا ۔۔۔ ۔ اچھا بھابھی ۔۔،
سوری سوری معاف کردو ۔۔۔
عائشہ بڑے مزے سے دونوں کی نوک جھونک دیکھ رہی تھی اس کو خالہ کے گھر کا گھلاملا ماحول بہت اچھا لگنے لگا تھا ۔۔۔
میں جا رہی ہوں اور ویسے تمہارے بھائی کو مجھے شام میں امی کے جانے کے لئے بھی تیار کرنا ہے۔۔۔
کیونکہ ابھی جو تمہارا چہیتہ آرڈر دے کر گیا ہے نہ پہلے تو وہ ذرا تمہارے بھائی صاحب کے گوش گزار کر دو ۔۔۔۔۔
اوکے آئشہ پھر کل ملاقات ہو گی کیونکہ اب ارمغان جا رہا ہے تو!!رات میں رکے گا ضرور۔ ۔۔۔
کل پھر انشاءاللہ دوپہر میں ملتے ہیں ۔۔۔
غزل آئشہ سے مصافحہ کرکے اپنے کمرے کی طرف جا چکی تھی ۔۔۔
اچھا میں بھی چلتی ہوں۔۔۔۔!
عائشہ نے جھٹ غزل کے جاتے ہی خود بھی فرار ہونا چاہا اورکرسی دھکیل کر اٹھ گئی تھی ۔۔۔۔
یار رکو تو سہی مجھے ایک کام ہے بہت ضروری تم سے ۔۔۔۔۔
ککک۔۔۔۔۔۔ کیسا کام۔ ۔۔؟؟؟
عائشہ داود کی لوہ دیتی نظروں سے کترانے لگی تھی ۔۔۔۔
اس سے چھپنے لگی تھی ۔۔۔
وہ حتہ ا مکان کوشش کرتی کہ کم سے کم داود کے سامنے آئے۔۔
مگر داود اس کی تمام ترکوششوں پر پانی پھیر دیتا ۔۔۔۔۔
کیسا کام ؟؟؟
مجھ سے محبت کرو بالکل میری طرح اور پھر دیکھو ۔۔
کہ میری آنکھیں تمہیں کون سی کہانیاں سنانا چاہتی ہیں ؟؟؟
میرا لمس تمہیں کیا کیا نہیں چتلانا چاہتا ۔۔۔؟؟؟؟
اب داود اسے تنگ کرنے پر اتر آیا تھا ۔۔۔
بہت خراب ہے آپ ۔۔۔
پلیز میرا ہاتھ چھوڑے مجھے جانے دیں ۔۔۔۔
وہ اپنی کلائی داود کی گرفت سے چھڑوانے کی کوشش کرنے لگی ۔۔۔
پلیز مجھے جانے دیں اگر کسی کام سے امی باہر آگئی تو کیا سوچیں گی؟ ؟؟
کیا سوچیں گی مطلب ؟؟؟
یہی سوچیں گی کہ بھانجا اپنی ہونے والی بیوی سے عشق فرما رہا ہے وہ بھی چوری چھپے ۔۔۔
آپ جائے پلیز یہاں سے ۔۔۔
چلا جاؤں گا بس میرے ایک سوال کا جواب تو دے دو ۔۔۔۔
کیا جلدی کہیں؟ ؟؟؟
یہی کہ مجھ سے میرے جیسا عشق کب فرماؤ گی؟؟؟؟!
شادی کے بعد۔۔۔۔!
اس کی زبان سے ایک دم پھسلا تھا۔۔۔
تو پھر کیا ارادہ ہے کل ہی برات لے آؤ ؟؟؟؟
وہ جاتے جاتے ایڑھی کے بل پلٹا ۔۔۔۔
پلیز مجھسے اس طرح کی باتیں مت کیا کریں ۔۔۔
چلو پھر اس طرح کی باتوں کو میں شادی کی رات کیلئے ادھار رجھ چھوڑتا ہو۔ ۔۔
میں پھرشادی کے بعد کروں گا ایسی پیار بھری باتیں۔ ۔۔۔ ۔
وہ اس پر معنی خیز مسکراہٹ اچھالتا چلا گیا ۔۔،۔۔۔۔۔۔
❤
ارمغان حویلی کے ایک وفا شعار ملازم کو لے کر قبرستان آیا تھا ۔۔۔۔
وہ فاتحہ پڑھ رہا تھا جب اس کو احساس ہوا کہ کوئی بری طرح سے سسک رہا ہے ۔۔۔
اس نے چونک کر آس پاس دیکھا تو کوئی بھی نہ تھا ۔۔۔۔
وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ اس کو اتنا چاہنے والے!! اس طرح اس کو اکیلا چھوڑ کر چلے جائیں گے ۔۔۔۔۔۔۔
وہ کتنا قریب تھا ان سے کس طرح اپنی ایک ایک فرمائش پوری کرواتا تھا ۔۔۔۔
جو دادا دادی اور ماما بابا بھی پوری کرنے کے لئے راضی نہ ہوتے تھے ۔۔۔۔۔۔
اس کے دل میں ایک کسک سی رہ گئی تھی کہ کاش وہ آخری دفعہ اپنے عزیز از جان کو دیکھ سکتا ۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ چاروں کی قبروں پہ فاتح پڑھ کر افسردہ سہ واپس آ کے گاڑی میں بیٹھا تھا ۔۔
کالی سیاہ رات ہر سو اپنے پر پھیلا چکی تھی ۔۔۔۔
قبرستان کی دیوار کے پار اس کی گاڑی پارک تھی ۔۔۔
اس نےڈیپر دیکر ملازم کو اشارے سے بلانا چاہا مگر وہ آس پاس کہیں بھی نظر نہ آیا ۔۔۔۔
ارمغان نے وقت ضائع کئے بغیر اس کو فون کرنے کا سوچا اور اپنا موبائل اٹھا کر اس کے نمبر پر کال ملائی۔۔۔
مگر یہ کیا ۔۔۔؟؟؟؟
اس کا موبائل بالکل گاڑی کی پچھلی سیٹ پر ہی بج رہا تھا ار مغان نے چونک کر بیک ویو مرر میں دیکھا ۔۔
❤
یار کیا ہوا تمہیں ؟؟؟
اتنے دنوں سے یونی کیوں نہیں آ رہی ہو ؟؟؟
فجر نے تیسرے دن پریشان ہو کر آخر کار شفا کے موبائل پر فون کر ہی لیا تھا ۔۔۔۔
یار میری طبیعت بہت خراب ہے بہت زیادہ سر میں درد ہے ۔۔۔
تین دن سے میں بتا نہیں سکتی امی کا کہنا ہے کہ سردی میں شام کو نہانے سے دماغ میں ٹھنڈ بیٹھ گئی ہے ۔۔۔۔۔۔
تمہیں پتا بھی ہے کتنا کم جمع ہو گیا ہے ؟؟؟
اور میم ساجدہ نے تو چار پانچ پریکٹیکلز کروا بھی دئے ہے ۔۔۔
ً ۔۔۔
اب کیا کرو ؟؟
شفاء صحیح معنوں میں پریشان ہوں بیٹھی تھی ۔۔۔۔۔۔
سر میں اس کے واقعی درد تھا شام والے تمام واقعے کو لے کر ۔۔
مگر پچھلے تین دن سے وہ خوامخواہ ہی چھٹی کئے جا رہی تھی ۔۔
اس کو ٹھنڈ بھی کچھ زیادہ ہی لگا کرتی تھی ۔۔
جیسے ہی ٹھنڈ آ تی تھی۔ ۔
اس کی قلفی جمنا شروع ہو جاتی وہ اسی طرح یونیورسٹی سے کئی کئی دن غائب رہتی ۔۔۔۔
سب کی ڈانٹیں سن کر زبردستی پھر جایا کرتی۔ ۔۔۔
فجر میری تو ہمت ہی نہیں ہے میں کس طرح اسائمنٹ کمپلیٹ کرونگی؟؟؟
تم ایک کام کرو تم کل میرے گھر آ سکتی ہو تو آ جاؤ۔۔۔۔
۔۔۔
شفا نے دکھتے سر کو تھامتے ہوئے کہا ۔۔۔
فجر نے کچھ لمحے سوچا اور پھر ہاں کردی کیونکہ وہ تکلیف میں اپنی دوست کو اس طرح تنہا بھی نہیں چھوڑ سکتی تھی مدد کیے بغیر ۔۔۔۔۔۔💕
❤
رحمان صاحب تم دیکھنا میں تمہیں اب کس طرح سے تڑپاؤ گا ۔۔۔۔
میں تمہیں پچھلے وقت میں لے کے جاؤں گا ۔۔۔
تم سے ایک ایک بدلہ لونگا وہ بھی تمہاری بیٹی کے ذریعے ۔۔۔۔
میں ان مردوں میں سے نہیں ہوں جو اپنے ساتھ کی گئی زیادتیوں کو بھول جاتے ہیں۔۔۔۔
یہ تو پھر میری ماں کا معملہ ہے۔ ۔۔۔
میں کسی بھی زیادتی کو نہیں بھولا ۔۔۔۔
تم دیکھنا اب میں تمہارے سامنے رہتے ہوئے وہ کچھ کر کے دکھاؤں گا ۔۔۔
جو تم نیں کبھی سوچا بھی نہیں ہوگا اور تم کچھ بھی نہیں کر سکو گے ۔۔۔۔
دیکھو میں تمہاری لاڈلی اکلوتی بیٹی کے ذریعے کیا کرتا ہوں تمہارا حال ۔۔
بس اب الٹی گنتی گننا شروع کردو۔
#ایمن_نعمان 📝
قسط 4
آئمہ کو ہاسپٹل سے آئے ہوئے پورے 24 گھنٹے گزر چکے تھے ۔۔
جلال کو نہ آنا تھا نہ وہ آیا تھا ۔۔
اس کو گھر سے گئے ہوئے پورے چار دن ہوچکے تھے مگر اس نے پلٹ کر نہ ہی آئمہ کی کسی کال کا جواب دیا تھا اور نہ ہی گھر پہ چکر لگایا تھا ۔۔۔
ائمہ تڑپتی ہوئی خود ہاسپٹل پہنچی تھی رکشہ کر کے !!اس کے پاس ہاسپٹل میں جمع کروانے تک کے پیسے نہ تھے ۔۔
اور شوہر تھا کہ اپنی ہی اولاد کو ناجائز قرار دے کر غائب تھا ۔۔۔
ائمہ سے کچھ بندوبست نہ ہوا تو اس نے اپنے گلے میں پہنی سونے کی چین اور ہاتھ میں نازک سی انگوٹھی!! جو کہ اس کے ماں باپ کے گھر سے ہی وہ پہن کے آئی تھی اور ہر وقت پہنے رکھتی تھی۔۔۔۔۔
وہ پیسوں کی جگہ ہوسپٹل نظامیہ کو دے دی تھی۔۔۔۔۔۔
جس کے بعد پھر اس کا کیس کیا گیا تھا ۔۔
آئمہ کو اللہ تعالی نے خوبصورت سے بیٹے سے نوازا تھا ۔ ۔۔
کیسی قسمت پائی تھی اس نے؟؟
کہ جب ایک عورت کو سب سے زیادہ اپنے شوہر کی ضرورت ہوتی ہے۔۔۔۔
اس وقت اس کا شوہر ہی اس کے پاس نہ تھا وہ تن تنہا اس مشکل مراحل سے گزری تھی۔ ۔۔۔۔
جس طرح خود سے ہسپتال گئی تھی اسی طرح خود ہی ہسپتال سے واپس بھی آ گئی تھی ۔۔۔۔۔
بس فرک صرف اتنا تھا کہ ۔۔
پہلے وہ تنہا گئی تھی اب وہ ایک نئے وجود کو اپنے ہاتھوں میں تھام کر لوٹی تھی ۔۔۔
میں تمہارا۔۔۔
جلال شدت سے انتظار کررہی ہوں۔۔
کیوں کہ میں جانتی ہوں کہ جب تم اپنی اولاد کو میرے ہاتھوں میں دیکھو گے تو۔ ۔۔۔
تمہاری ساری تشنگی و بے اعتنائی مجھے لے کر۔ ۔۔
جو بھی تمہارے دل میں ہے وہ سب دور ہو جائے گی !!اور تم صرف اور صرف اپنے اس پیارے سے بیٹے میں کھو جاؤ گے ۔۔
میرا دل تمہاری لیے بالکل کانچ کی طرح شفاف ہے میں نے تمہیں تمہاری کی گئی آج تک کی تمام زیادتیوں کے لئے معاف کیا ۔۔
وہ دل میں سوچ رہی تھی اور چہرے پہ مسکراہٹ بکھری تھی۔۔۔۔ وہ اب خود کو ہلکا پھلکا سا سنوار کر شدت سے جلال کا انتظار کر رہی تھی ۔۔۔۔
❤
شفا کو تو جیسے اپنی بصارتوں پر یقین ہی نہیں آرہا تھا ۔۔۔۔۔
حمزہ اس قدر گھٹیا گفتگو بھی کرسکتا ہے؟؟؟؟
وہ بھی صرف اس قدر معمولی بات کو انا کا مسئلہ بنا کہ ۔۔
وہ بے یقینی کی کیفیت میں تھی۔۔
بہت بری طرح سے الجھ چکی تھی ۔۔۔
وہ اسی الجھی ہوئی تھی۔ ۔۔۔
اس پیچیدہ سی گتھی کو سمجھنے کے لئے کوئی بھی سرا ہاتھ نہیں لگ رہا تھا۔۔۔۔۔۔
حمزہ اتنی بڑی بات کیسے کہہ گیا ؟؟؟؟
کہ وہ اس کا بھائی نہیں ہے ۔۔۔
مگر یہ کیسے ممکن تھا کہ وہ اس کا بھائی ہی نہ ہو ؟؟؟؟
کیا حقیقت تھی آخر؟ ؟؟؟
کیا راز تھا ؟؟؟؟جو وہ اور باقی بہن بھائی نہیں جانتے تھے اب تک ۔
سوچ کر شفاء کا دماغ سن ہورہا تھا۔ ۔۔۔
وہ الجھی الجھی سی عمر کے پاس جا بیٹھی تھی جو بڑے مزے سے لاؤنج میں ٹی وی دیکھ نے میں مصروف تھا۔۔۔
اتوار ہونےکی وجہ سے آج وہ گھر پہ ہی نظر آ رہا تھا ۔۔۔
وہ بھی کا ئوچ گھسیٹ کے صوفے سے تھوڑا کریب کھسکا کر وہیں بیٹھ گئی ۔۔
کیا بات ہے آج اس چہچہاتی چڑیا کے چہرے پہ بارہ کیوں بجھ رہے ہیں؟؟؟؟
عمر نے شفاء کا مجھایاچہرہ دیکھ کر فکر مندی سے پوچھا ۔۔
کچھ نہیں بھائی بس ویسے ہی دل عجیب سا ہو رہا ہے ۔۔۔۔
سچ بھی نہیں بتا سکتی تھی اگر سب کچھ ٹھیک ٹھیک عمر کے گوش گزار دیتی تو خود بھی بری طرح پھنستی کیونکہ اس نے بہت دیدہ دلیری سے سب بڑوں کے سامنے حمزہ کو جھوٹا کرار جو دے دیا تھا ۔۔۔
تو کیا خیال ہے آئسکریم کھانے چلے؟؟؟
مجھے ایسا کیوں لگ رہا ہے کہ یہ جو دل اداس ہو رہا ہے نا!!یہ آئسکریم اور شاپنگ کے لیے ہی ہورہا ہے۔۔۔۔۔۔۔
عمر نے اس کا موڈ بحال کرنے کے لئے چھیڑتے ہوئےجھٹ پلین ترتیب دیا ۔۔۔
وہ اپنی دونوں بہنوں سے جان چھڑکتا تھا ۔۔۔
ایسا نہیں تھا کہ وہ حمزہ سے محبت نہیں کرتا تھا مگر ہمزہ کا لیادیا اوراکھڑا اکھڑا سا رویہ۔۔۔
اس کو حمزہ سے ہمیشہ دور رکھتا۔۔۔
کبھی بھی وہ دونوں بھائی عمر کو یاد نہیں پڑتا تھا کہ خوش دلی سے ایک ساتھ کھیلیں ہونگے ۔۔۔
نہیں بھائی بس میرا دل نہیں کر رہا ۔۔۔۔۔
حیرت کی بات ہے تمہارا باہر آوٹنگ پر جانے کا دل نہیں کر رہا ؟؟؟؟
عمر نے حیرت سے شفا کو دیکھا !!جو آؤٹنگ کے لیے ہر دم تیار رہا کرتی۔۔۔
کسی کے بھی کہنے کی دیر ہوتی کہ ساتھ چلو اور وہ سر جھاڑ منہ پھاڑ جانے کو سب سے پہلے تیار باہر کھڑی ملتی ۔۔۔۔۔
چلو میرے پاس ایک گڈ نیوز ہے تمہارے لئے ۔۔
جس کو سننے کے بعد تمہارا موڈ خود بخود اچھا نہیں بلکہ بہت اچھا ہو جائے گا ۔۔۔
کیا جلدی کہیں ؟۔؟؟؟؟
شفا نے جھٹ بولا کیوں کہ عمر کے پاس کوئی ایسی ویسی نیوز نہیں ہوتی تھی۔۔
بقول سوہا کے پیٹ میں داڑھی لے کر پیدا ہوئے ہیں ۔۔۔
تمہارا بیسٹ فرینڈ ارمغان آرہا ہے ایک ہفتے کے لئے ۔۔۔۔
کب؟ ؟؟؟؟؟
کل شام۔ ۔۔۔ !!!
کیا واقعی؟؟؟؟
شفا خوشی سے کھل اٹھی تھی ارمغان کا سن کر !!وہ اسکی سگی خالہ غزل کا بیٹا تھا اور اس کا سب سے اچھا دوست ۔۔۔۔۔!
مگر وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ کوئی بہت ہی غیض و غضب آنکھوں میں لئے۔۔
اس کو خونخوار نظروں سے دیکھ رہا ہے ۔۔۔
شفاء رحمان ۔۔۔۔۔!!
میں تمہارے چہرے سے یہ ہنسی نوچ لوں گا ۔۔۔
رحمان صاحب اب وہ دن دور نہیں جب تمہاری بربادی میرے ہاتھوں شروع ہوگی اور تم کچھ بھی نہ کر سکو گے ۔۔۔
وہ سوچ کر رہ گیا ۔۔۔۔!
❤
سب لوگ ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھے دوپہر کا کھانا کھانے میں مصروف تھے ۔۔۔۔
جی بیٹا جی تو کیسا لگا آپ کو ان چند دنوں میں ہمارے گھر کا ماحول ؟؟؟؟
خالو نے شفیق نظروں سے عائشہ کو دیکھتے ہوئے پوچھا ۔۔۔۔
جج۔ ۔۔۔۔جی جی خالو بہت اچھا ۔۔
وہ رک رک کے بولی تھی ۔۔
اس کو امید نہ تھی کہ خالویو اچانک اس طرح اس کو سب کے بیچ میں مخاطب کر لیں گے ۔۔
غزل بیٹا آپ یو ں کرنا کہ آج عائشہ کو اپنے ساتھ لے جا کر ذرا یہاں کا بازار اور کھیت وغیرہ کی سیر کروا الانا ۔۔۔
جی ابو میں کروالونگی۔۔۔۔!
مگر پہلے داود سے پوچھلیں کہ وہ مجھے عائشہ کے ساتھ جانے دے گانا ۔۔؟؟
غزل نے شریر نظروں سے داؤد کو دیکھتے ہوئے بولا جو بڑے مزے سے عائشہ کو دیکھنے میں ہی مصروف تھا ۔۔۔۔
عائشہ اس کی نظروں سے بری طرح پزل ہو رہی تھی۔
مگر داود کو کہاں کسی کی پرواہ تھی؟؟؟
وہ تو بس عائشہ کو تنگ کرنے کا اور سراسیمہ کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے ہی کہا دیتا تھا۔۔۔۔
اور اب تو باقاعدہ وہ اس سے منسلک ہو چکی تھی۔۔۔۔۔۔
اس کے نام کی انگوٹھی پہن چکی تھی ۔۔۔۔
بھابھی اب آپ کو خود ہی کباب میں ہڈی بننے کا شوق ہے۔۔۔۔۔
ویسے مجھے پتا ہے میری بھابھی بہت عقلمند ہیں۔ ۔۔ ۔۔۔
غزل کے آنکھیں دکھانے پر داود نے جلدی سے پینترا بدل کر بٹرنگ شروع کی ۔۔۔
جبکہ باقی سب ہلکی پھلکی دیور اور بھابھی کی نوک جھونک سے محظوظ ہوتے کھانے سے انصاف کر رہے تھے ۔۔۔
نہیں مما نہیں جا سکتی آج عائشہ چاچی کو سیرکروانے۔ ۔۔۔۔۔
کیوں کہ آج آپ نے وعدہ کیا تھا کہ آج آپ مجھے نانو کی طرف لے کر جائیں گی ۔۔۔۔
وہاں سمیرا خالہ نے میرے لئے بہت سارے پریزیڈنٹس لے کر رکھے ہوئے ہیں ۔۔۔۔۔
ارمغان گویا داود کی مشکل آسان کی۔ ۔
یہ چیز میرے چیمپ تو ہی میرا پکاپکا والا دوست ہے ۔۔۔
داود نے چٹا چٹا ارمغان کے پھولے پھولے گالوں پر کئ دفعہ بوسہ دے ڈالا ۔۔۔
چاچو اسکی میں الگ سے فیس لونگا ۔۔۔
ارمغان نے سرگوشیانہ انداز میں داود سے اپنی ننھی منھی سی رشوت کا مطالبہ بھی کر ڈالا تھا ۔ ۔ ۔۔۔
داؤد نے بہت آہستہ سے ارمغان کے کان میں کھسر پھسر کی تھی۔۔۔۔
جسکا جواب اس نے بھی بہت آہستہ سے ہی اسی کے انداز میں رشوت طلب کرکے دے دیا تھا ۔۔۔۔
کھانے کے بعد سب لوگ کچھ دیر بیٹھ کے باتیں کرتے رہے ادھر آدھر کی۔ ۔
پھر تین بجے کے قریب اٹھ کر اپنے اپنے کمروں میں قیلولہ کرنے کی غرض سے چلے گئے تھے ۔۔۔
جبکہ غزل ،عائشہ اور داود وہیں ٹیبل پر بیٹھے خوش ہلکی پھلکی نوک جھوک میں مصروف تھے ۔۔۔۔
چلو بھئی اب میں تو جا رہی ہو۔۔۔۔
اس سے پہلے تمہارے بھائی کا پارہ ہآئی ہو اور مجھے ڈانٹ پڑے ۔۔
ابھی تو ان کو جاکر تیار کرنا ہے۔ ۔۔
اتنے بڑے بھائ ہوگئے ہیں !! آپ پھر بھی ان کو تیار کریں گی؟؟؟
داؤد نے مصنوعی حیرت سے آنکھیں پٹپٹا کر غزل سے پوچھا ۔۔۔
داود میرے ہاتھ سے کسی دن ضائع ہو جاؤ گے کتنی دفعہ کہا ہے بھابھی ہوں تمھاری حد میں رہ کے مذاق کیا کرو ۔۔۔
غزل نے داود کا کان کھینچا ۔۔۔
اچھا ۔۔۔ ۔ اچھا بھابھی ۔۔،
سوری سوری معاف کردو ۔۔۔
عائشہ بڑے مزے سے دونوں کی نوک جھونک دیکھ رہی تھی اس کو خالہ کے گھر کا گھلاملا ماحول بہت اچھا لگنے لگا تھا ۔۔۔
میں جا رہی ہوں اور ویسے تمہارے بھائی کو مجھے شام میں امی کے جانے کے لئے بھی تیار کرنا ہے۔۔۔
کیونکہ ابھی جو تمہارا چہیتہ آرڈر دے کر گیا ہے نہ پہلے تو وہ ذرا تمہارے بھائی صاحب کے گوش گزار کر دو ۔۔۔۔۔
اوکے آئشہ پھر کل ملاقات ہو گی کیونکہ اب ارمغان جا رہا ہے تو!!رات میں رکے گا ضرور۔ ۔۔۔
کل پھر انشاءاللہ دوپہر میں ملتے ہیں ۔۔۔
غزل آئشہ سے مصافحہ کرکے اپنے کمرے کی طرف جا چکی تھی ۔۔۔
اچھا میں بھی چلتی ہوں۔۔۔۔!
عائشہ نے جھٹ غزل کے جاتے ہی خود بھی فرار ہونا چاہا اورکرسی دھکیل کر اٹھ گئی تھی ۔۔۔۔
یار رکو تو سہی مجھے ایک کام ہے بہت ضروری تم سے ۔۔۔۔۔
ککک۔۔۔۔۔۔ کیسا کام۔ ۔۔؟؟؟
عائشہ داود کی لوہ دیتی نظروں سے کترانے لگی تھی ۔۔۔۔
اس سے چھپنے لگی تھی ۔۔۔
وہ حتہ ا مکان کوشش کرتی کہ کم سے کم داود کے سامنے آئے۔۔
مگر داود اس کی تمام ترکوششوں پر پانی پھیر دیتا ۔۔۔۔۔
کیسا کام ؟؟؟
مجھ سے محبت کرو بالکل میری طرح اور پھر دیکھو ۔۔
کہ میری آنکھیں تمہیں کون سی کہانیاں سنانا چاہتی ہیں ؟؟؟
میرا لمس تمہیں کیا کیا نہیں چتلانا چاہتا ۔۔۔؟؟؟؟
اب داود اسے تنگ کرنے پر اتر آیا تھا ۔۔۔
بہت خراب ہے آپ ۔۔۔
پلیز میرا ہاتھ چھوڑے مجھے جانے دیں ۔۔۔۔
وہ اپنی کلائی داود کی گرفت سے چھڑوانے کی کوشش کرنے لگی ۔۔۔
پلیز مجھے جانے دیں اگر کسی کام سے امی باہر آگئی تو کیا سوچیں گی؟ ؟؟
کیا سوچیں گی مطلب ؟؟؟
یہی سوچیں گی کہ بھانجا اپنی ہونے والی بیوی سے عشق فرما رہا ہے وہ بھی چوری چھپے ۔۔۔
آپ جائے پلیز یہاں سے ۔۔۔
چلا جاؤں گا بس میرے ایک سوال کا جواب تو دے دو ۔۔۔۔
کیا جلدی کہیں؟ ؟؟؟
یہی کہ مجھ سے میرے جیسا عشق کب فرماؤ گی؟؟؟؟!
شادی کے بعد۔۔۔۔!
اس کی زبان سے ایک دم پھسلا تھا۔۔۔
تو پھر کیا ارادہ ہے کل ہی برات لے آؤ ؟؟؟؟
وہ جاتے جاتے ایڑھی کے بل پلٹا ۔۔۔۔
پلیز مجھسے اس طرح کی باتیں مت کیا کریں ۔۔۔
چلو پھر اس طرح کی باتوں کو میں شادی کی رات کیلئے ادھار رجھ چھوڑتا ہو۔ ۔۔
میں پھرشادی کے بعد کروں گا ایسی پیار بھری باتیں۔ ۔۔۔ ۔
وہ اس پر معنی خیز مسکراہٹ اچھالتا چلا گیا ۔۔،۔۔۔۔۔۔
❤
ارمغان حویلی کے ایک وفا شعار ملازم کو لے کر قبرستان آیا تھا ۔۔۔۔
وہ فاتحہ پڑھ رہا تھا جب اس کو احساس ہوا کہ کوئی بری طرح سے سسک رہا ہے ۔۔۔
اس نے چونک کر آس پاس دیکھا تو کوئی بھی نہ تھا ۔۔۔۔
وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ اس کو اتنا چاہنے والے!! اس طرح اس کو اکیلا چھوڑ کر چلے جائیں گے ۔۔۔۔۔۔۔
وہ کتنا قریب تھا ان سے کس طرح اپنی ایک ایک فرمائش پوری کرواتا تھا ۔۔۔۔
جو دادا دادی اور ماما بابا بھی پوری کرنے کے لئے راضی نہ ہوتے تھے ۔۔۔۔۔۔
اس کے دل میں ایک کسک سی رہ گئی تھی کہ کاش وہ آخری دفعہ اپنے عزیز از جان کو دیکھ سکتا ۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ چاروں کی قبروں پہ فاتح پڑھ کر افسردہ سہ واپس آ کے گاڑی میں بیٹھا تھا ۔۔
کالی سیاہ رات ہر سو اپنے پر پھیلا چکی تھی ۔۔۔۔
قبرستان کی دیوار کے پار اس کی گاڑی پارک تھی ۔۔۔
اس نےڈیپر دیکر ملازم کو اشارے سے بلانا چاہا مگر وہ آس پاس کہیں بھی نظر نہ آیا ۔۔۔۔
ارمغان نے وقت ضائع کئے بغیر اس کو فون کرنے کا سوچا اور اپنا موبائل اٹھا کر اس کے نمبر پر کال ملائی۔۔۔
مگر یہ کیا ۔۔۔؟؟؟؟
اس کا موبائل بالکل گاڑی کی پچھلی سیٹ پر ہی بج رہا تھا ار مغان نے چونک کر بیک ویو مرر میں دیکھا ۔۔
❤
یار کیا ہوا تمہیں ؟؟؟
اتنے دنوں سے یونی کیوں نہیں آ رہی ہو ؟؟؟
فجر نے تیسرے دن پریشان ہو کر آخر کار شفا کے موبائل پر فون کر ہی لیا تھا ۔۔۔۔
یار میری طبیعت بہت خراب ہے بہت زیادہ سر میں درد ہے ۔۔۔
تین دن سے میں بتا نہیں سکتی امی کا کہنا ہے کہ سردی میں شام کو نہانے سے دماغ میں ٹھنڈ بیٹھ گئی ہے ۔۔۔۔۔۔
تمہیں پتا بھی ہے کتنا کم جمع ہو گیا ہے ؟؟؟
اور میم ساجدہ نے تو چار پانچ پریکٹیکلز کروا بھی دئے ہے ۔۔۔
ً ۔۔۔
اب کیا کرو ؟؟
شفاء صحیح معنوں میں پریشان ہوں بیٹھی تھی ۔۔۔۔۔۔
سر میں اس کے واقعی درد تھا شام والے تمام واقعے کو لے کر ۔۔
مگر پچھلے تین دن سے وہ خوامخواہ ہی چھٹی کئے جا رہی تھی ۔۔
اس کو ٹھنڈ بھی کچھ زیادہ ہی لگا کرتی تھی ۔۔
جیسے ہی ٹھنڈ آ تی تھی۔ ۔
اس کی قلفی جمنا شروع ہو جاتی وہ اسی طرح یونیورسٹی سے کئی کئی دن غائب رہتی ۔۔۔۔
سب کی ڈانٹیں سن کر زبردستی پھر جایا کرتی۔ ۔۔۔
فجر میری تو ہمت ہی نہیں ہے میں کس طرح اسائمنٹ کمپلیٹ کرونگی؟؟؟
تم ایک کام کرو تم کل میرے گھر آ سکتی ہو تو آ جاؤ۔۔۔۔
۔۔۔
شفا نے دکھتے سر کو تھامتے ہوئے کہا ۔۔۔
فجر نے کچھ لمحے سوچا اور پھر ہاں کردی کیونکہ وہ تکلیف میں اپنی دوست کو اس طرح تنہا بھی نہیں چھوڑ سکتی تھی مدد کیے بغیر ۔۔۔۔۔۔💕
❤
رحمان صاحب تم دیکھنا میں تمہیں اب کس طرح سے تڑپاؤ گا ۔۔۔۔
میں تمہیں پچھلے وقت میں لے کے جاؤں گا ۔۔۔
تم سے ایک ایک بدلہ لونگا وہ بھی تمہاری بیٹی کے ذریعے ۔۔۔۔
میں ان مردوں میں سے نہیں ہوں جو اپنے ساتھ کی گئی زیادتیوں کو بھول جاتے ہیں۔۔۔۔
یہ تو پھر میری ماں کا معملہ ہے۔ ۔۔۔
میں کسی بھی زیادتی کو نہیں بھولا ۔۔۔۔
تم دیکھنا اب میں تمہارے سامنے رہتے ہوئے وہ کچھ کر کے دکھاؤں گا ۔۔۔
جو تم نیں کبھی سوچا بھی نہیں ہوگا اور تم کچھ بھی نہیں کر سکو گے ۔۔۔۔
دیکھو میں تمہاری لاڈلی اکلوتی بیٹی کے ذریعے کیا کرتا ہوں تمہارا حال ۔۔
بس اب الٹی گنتی گننا شروع کردو۔


0 comments:
Post a Comment