Wednesday, May 29, 2019

sitamgar ko hum aziz by aymen nauman episode 3


#ستمگر_کو_ہم_عزیز
#ایمن_نعمان 📝
قسط 3
شفاء اندر سے سہم کے رہ گئی تھی وہ جانتی تھی اب حمزہ اس کے اتنا دیدہ دلیری سے جھوٹ بولنے پر بہت بری طرح پیش آئے گا۔ ۔۔۔۔
مگر وہ خوش بھی تھی اس کو ہمزہ سے ایک عجیب سی چڑ ھ ہوچکی تھی۔۔۔
جبکہ عمر سے وہ اتنی ہی محبت کرتی تھی۔۔
اس کو اپنے والد صاحب کا ہمزہ کی ہر جائز و ناجائز بات پر سپورٹ کرنا کچھ عجیب لگتا۔ ۔۔
وہ چاروں انہی کی اولادیں ہی تو ٹھیں ۔۔۔۔
مگر پھر ایک بھائی کی طرف جھکاؤ کیوں اس قدر آخر؟؟؟؟
کیا ہم ان کی اولاد نہیں ہے ؟؟؟؟
وہ ابھی سوچ ہی رہی تھی جب اسکے روم کا دروازہ دھاڑ سے کھلا تھا۔ ۔۔
شفا نے پلٹ کے دیکھا تو وہ سٹپٹا کر رہ گئی سامنے دروازے کے بیچوں بیچ حمزہ خوفناک طیور لیے موجود تھا ۔۔۔۔
💕
دوسری طرف آئمہ پانی کا گلاس کام والی کو تھما کر رحمان سب کو دینے کا کہہ کر حمزہ کے کمرے کی طرف بڑھی تھی ۔۔۔۔۔
💕
تمہاری اوقات ہے کہ میں تم سے بات بھی کرو ں؟ ؟؟؟
فجر کلاس لے کر یونیورسٹی کے کینٹین میں آ کر بیٹھ گئی تھی۔۔۔۔
آج شفا نیورسٹی نہیں آئی تھی ۔۔۔۔
کیوں تم سے بات کرنے کے لیے کیا مجھے عمران خان سے اجازت لینی ہوگی؟¿¿
باقر نے فجر کی بات کو برامنائے بغیر مزاک کا رنگ دیتے ہوئے جواب دیا ۔۔۔
دیکھو مسٹر حد ادب مجھ سے زیادہ فری ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔
اگر کوئی کام ہے تو کہو ۔۔۔
نہیں تو اپنا راستہ ناپو۔ ۔۔۔
فجر نے رکھائی سے کہا وہ یونیورسٹی میں مغرور حسینہ کے نام سے جانی جاتی تھی کیونکہ وہ کسی بھی لڑکے تو کیا لڑکی سے بھی بات کرنا تو دور کی بات ایک نظر بھی ڈالنا پسند نہیں کرتی تھی۔۔۔۔۔
بس اپنے کام سے کام رکھنا اس کی فطرت میں تھا ۔۔۔
میرے سارے راستے تو اب تم تک ھی آتے ہیں ۔۔
باقر نے ایک جذب کے عالم میں کہا۔۔۔
اس کے لہجے میں سچائی پنہاں تھی ۔۔۔
مگر میرے راستے قطعی بھی تم تک نہیں آتے میری منزل کوئی اور ہے ۔۔۔۔
وہ سفاکی سے کہتی اٹھ کھڑی ہو ئی تھی ۔۔۔
وہ خود بھی نہیں جانتی تھی کہ اسکی منزل کہاں ہےاور کس حال میں ہے ۔۔۔؟؟؟
فجر دل میں سوچ کے رہ گئی ۔۔۔
جبکہ باقر رضا کا چہرہ دھواں دھواں سا ہو کر رہ گیا تھا ۔۔۔
اس نے بھی تو فجر سے محبت کی تھی پھر وہ کیسے نہ پڑھ پاتا فجر کے چہرے کے رنگ۔۔۔۔۔
جدھر کسی اور کا سایہ بہت خوبصورتی سے جگمگارہا تھا۔
_____
شہر کراچی جہاں راتیں جا گا کرتی ہیں ۔۔
ڈیفنس میں واقع جلال اپنےدوست انوار جتوئی کے بنگلے میں موجود تھا جہاں پر ہونے والی پارٹی اپنے عروج پر تھی شراب و شباب کا خاص انتظام رکھا گیا تھا ۔۔۔۔
پارٹی میں آنے والے ہر ایک نامی گرامی شخص شریف النفس ۔۔۔۔
سیاستدان، معروف صنعت کار،بیوروکریٹ ،جاگیردار اور افسران اعلیٰ شراب و شباب کے نشے میں دھت سرعام دا دعیش میں مصروف تھے ۔۔
جلال ہر فکر و فاقہ سے بیگانہ وہاں موجود ایک ڈانسر کے ساتھ واھیات قسم کا رقص کرنے میں مشغول تھا۔۔۔۔
اس کو یہ تک فکر نہ تھی کہ اس کی حاملہ بیوی بری طرح سے تکلیف میں تڑپ رہی ہے ۔۔۔۔
اس کو بار بار فون پر فون کیے جا رہی ہے۔۔۔
مگر وہ تو اپنی عیاشیوں میں اس قدر کھویا ہوا تھا کہ اپنی بیوی تو کیا اولاد تک کی فکر نہ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔
💞
جلال فون اٹھاو ۔۔۔۔
آئمہ در د سے بری طرح تڑپتی، زاروقطار روتے ہوئے بار بار جلال کو فون پر فون کیے جا رہی تھی ۔۔۔۔۔
رات کے تین بجے کا وقت تھا آئمہ کی طبیعت شام سے ہی گڑبڑ تھی ۔۔۔
مگر جلال تھا کہ کچھ سننے کو تیار تک نہ تھا ۔۔
اس نے تو گویا قسم کھا لی تھی فون نہ اٹھانے کی ۔۔۔
ساس بھی گھر پر موجود نہ تھیں۔ وہ اپنی بیٹی کے پاس اسلام آباد گئی ہوئی تھی اس خیال کے تحت کے ابھی ائمہ کی ڈلیوری میں پورا ایک مہینہ باقی ہے ۔۔۔
آج صبح ہی کی بات تھی۔۔
جب آئمہ نے جلال کو آفس کے لئے تیارہوتا دیکھ کر کہا ۔۔
آپ گھر کب آئیں گے ؟؟؟
آئمہ نے ڈرتے ڈرتے پوچھ ہی لیا ۔۔۔۔۔
کیوں تمہیں کیا کرنا جاھل عورت؟؟
میں کب آونگا اور کب جاو نگا۔۔۔
وہ غلاظت بکنے پر اتر آیا تھا ۔۔۔
میں صرف اس لیے پوچھ رہی تھی کیونکہ آج ڈاکٹر کے پاس میرا اپوائنمنٹ تھا ۔۔۔
ائمہ نے لڑکھڑاتی آواز میں جواب دیا ۔۔۔
اپوائنمنٹ تیرا ہے نا؟؟؟؟
جج جیییی ۔۔۔۔۔
پھرمیں کیا کروں گا تیرے ساتھ جاکر؟ ؟؟؟
آپنے اس عشق کے پاس جا۔۔۔
جس کی یہ اولاد تو پیدا کرنے کو ہے ۔۔۔
میرا اس سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔۔۔۔۔۔
اتنی بڑی بات کہے گیا تھا۔ ۔۔
یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں جلال۔۔۔
یہ آپ ہی کی اولاد ہے ۔۔آپ ایسا کیسے؟ ؟؟ ۔۔۔
ائمہ کو لگا اس کے منہ پہ جلال نے بری طرح سے طمانچہ دے مارا ہو ۔۔۔
اس پہ تو گویا جیسے آسمان ہی ٹوٹ پڑا تھا ۔۔۔
مجھ سے زبان چلائے گی تیری اتنی ہمت؟؟؟؟؟
زبان دراز عورت ۔۔۔۔
وہ بری طرح اشتعال میں آ چکا تھا اور ائمہ کو ایک ہاتھ سے زور سے دھکا دے کر اپنے سامنے سے ہٹاتے ہوئے گالیاں بکتا کمرے سے چلا گیا۔ ۔۔۔۔
یہ دیکھے بغیر کہ آئمہ اوندھے منہ بیڈ پہ بری طرح سے گری ہے ۔۔۔۔
اس وقت تو وہ ہمت کرکے جیسے تیسے اٹھ ہی گئی تھی ۔۔۔
مگر پھر کچھ گھنٹے بعد اس کی طبیعت بگڑنا شروع ہونے لگی تھی ۔۔۔
ماں باپ کو بھی فون کر کے بتانے کا حوصلہ نہ رہا تھا ۔۔۔
وہ لوگ عائشہ کے رشتے کے سلسلے میں گاؤں گئے ہوئے تھے۔۔۔۔
آئمہ نے ہمت کرکے ایک بڑی سی شال الماری سے نکالی اور خود کو اچھی طرح ڈھانپ کر گھر سے باہر نکل آئی ۔۔۔۔
💞
عائشہ مغرب کے بعد چہل قدمی کرنے کے خیال سے حویلی کے وسیع لان میں آئی تھی۔۔۔
وہ امی اور بابا کے ساتھ خالہ کے خوص اصرار کرنے پر ان کے گاؤں آئی ہوئی تھی ۔۔۔
خالوگاؤں کے نامور وڈیرے تھے ۔۔
یہ خالو کی خواہش تھی کہ وہ شادی سے پہلے ایک دفعہ یہاں آئے اور ان کا رہن سہن دیکھے۔ ۔۔
ایسا نہیں تھا کہ وہ پہلی دفعہ حویلی آئی تھی۔۔
مگر اس سے پہلے وہ لوگ کبھی بھی رکنے نہ آئے تھے ۔۔۔
صبح آتے اور شام میں واپسی کی راہ لے لیتے ۔۔۔
مغرب کے فوراً بعد کھانا کھا لیا گیا تھا۔ ۔۔
سب اپنے اپنے کمروں کی طرف رخ کر چکے تھے ۔۔
وہ اتنی جلدی سونے کی عادی ہی کہاں تھی؟؟
اسی لیے سناٹے سے گھبرا کر لان میں نکل آئی تھی ۔۔۔
یار تم نے پوری حویلی دیکھ لی۔۔۔
دیکھا نہ تو صرف اپنے ہونے والے شوہر کا بیڈ روم ہی نہ دیکھا ۔۔۔۔
داؤد نے ایک جھٹکے سے اس کی کلائی کو تھام کر اس کا رخ اپنی طرف کیا تھا ۔۔۔
عائشہ اس اچانک افتاد کیلئے تیار نہ تھی ۔۔۔
وہ داود کے چوڑے سینے سے جالگی تھی۔۔۔
اس نے جھٹ سے خود کو سنبھالا تھا اور تیزی سے داود سے فاصلہ قائم کرنا چاہا ۔۔۔
مگر ہائے قسمت ۔۔۔۔
پلیز داود یہ کیا بچوں جیسی حرکت ہے؟ ؟؟
عائشہ کے گلے میں موجود پینڈینٹ داود کے کرتے میں پھنس گیا تھا ۔۔۔۔
او ہیلو۔ ۔۔۔
میں نے کونسی بچوں جیسی حرکت کی ہے ؟؟؟؟
یہ تو تمہارے اس پینڈنٹ کا کمال ہے جو ہمیں رات کے اس پہر اتنے پر فسوں ماحول میں ایک دوجے کے اتنا قریب کھینچ لایا ہے۔۔۔
وہ معنی خیزی سے کہتا جان بوجھ کر اس کے تھوڑا اور قریب ہوا تھا ۔۔
ویسے اگر یہ بچوں جیسی حرکت ہے تو ۔۔۔۔
جان داود کہو تو بڑوں جیسی حرکت کر گزروں؟ ؟؟
داود نے اس کے کان کے بہت قریب ہو کر سرگوشی کی تھی ۔۔۔
اتنا کہ عائشہ کو اس کی گرم گرم سانسیں بری طرح جھسا گئی تھی ۔۔
عائشہ بوکھلا کر یکدم آدم دور ہوئی تھی ۔۔
جسکی وجہ سے اسکا پینڈینٹ چین سمیت داؤد کے کرتے میں ہی ٹوٹ کر رہ گیا تھا ۔۔۔
آہ۔ ۔۔
یک دم وہ کررہ اٹھی تھی۔۔۔
کیا ہوا ؟؟؟؟
داود نے پریشانی سے استفسار کیا ۔۔عائشہ کے چہرے پر تکلیف کے آثار رقم تھے ۔۔۔
کچھ نہیں شاید تیزی سے پیچھے ہٹنے کی وجہ سےچین کی رگڑ لگ گئی ہے گردن پہ۔۔
عائشہ نے جلدی سے کہا۔۔ وہ جلد از جلد وہاں سے جانا چاہ رہی تھی ۔۔۔
ایک منٹ دکھاؤ تو صحیح ۔۔۔
داود نے زبردستی مگراحتیاط سے گردن کو دیکھا جہاں رگڑلگنے سے گردن چھل جانے کی وجہ سے ہلکی سی خون کی لکیر بن گئی تھی ۔۔۔
یہ زخم تمہیں ہمیشہ میرے لمس کا احساس دلائے گا ۔۔
داود نے بہت احتیاط سے اپنی انگشت شہادت اس کی گردن پر رکھ کر خون اپنی انگلی میں جسب کرلیا ۔۔۔
وہ بہت غور سے عائشہ کے بلش کرتے چہرے کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
پتا ہے میں اس وقت کیا سوچ رہا ہوں؟؟؟؟
نہیں مجھے نہیں پتا اور نہ ہی مجھے جاننا ہے ۔۔۔
وہ اپنی تمام تر ہمتوں کو یکجا کرکے بولی تھی ۔۔
مگر پلکیں جھکی جھکی سی لرز رہی تھی۔۔ ہمت ہی نہ تھی کہ داود کی والہانہ نظروں کا سامنا کر سکتی ۔۔۔
چلو میں خود ہی بتا دیتا ہوں۔۔۔۔
داود بھی اپنے نام کا ایک ہی تھا۔۔
اس کو پزل ہوئی حیاء سے چور وہ بہت پیاری لگ رہی تھی ۔۔
سیدھا دل میں اتر گئ تھی۔ ۔۔
جلدی کریں پلیز مجھے سونا ہے ۔۔
عائشہ نے گھنیری پلکوں کی چلمن اٹھاتے گراتے کہا۔۔۔ ۔۔
یہی کہ کاش اگر میں آئمہ کی شادی میں ہی اپنا اور تمہارا نکاح پڑھوا لیتا تو۔۔۔۔۔۔
تو؟ ؟؟؟؟
آئشہ نے جلدی سے جان چڑھوانے کو کہا۔ ۔ ۔
تو۔۔!وہ رکا اور پھر لبوں پہ آئی معنے خیز مسکراہٹ چھپائے بغیر دیدہ دلیری سے گویا ہوا۔ ۔۔
آج ہم دونوں بھی ماما اور بابا کے رتبے پر فائز ہونے والے ہوتے۔۔۔۔۔۔
وہ اپنی بات کہہ کر اب بڑے مزے سے آئشہ کے چہرے کے بدلتے تاآثرات سے محضوض ہونے لگا۔ ۔ ۔
مجھے نہیں کرنی اپ سے شادی خانہ بربادی۔ ۔
میں ابھی جا کر امی کو کہہ دیتی ہوں کہ آپ مجھے تنگ کر رہے تھے ۔۔۔
اس نے اپنے نازک سے ہاتھ کا مکہ بناکر داود کے سینے پر ہلکا سا رسید کیا تھا ۔۔۔
بس اتنی جلدی ڈرگئیں ؟؟؟؟
چچ۔ ۔۔چچ ۔۔۔۔۔
جان من ابھی تو ایسے بہت بڑے بڑے امتحان تمہارے منتظر ہیں اپنی پلکیں بچھائے۔ ۔۔۔۔
ابھی وہ اس کو مزید ستاتا جب حویلی کا بڑا سا داخلی دروازہ کھلا تھا اور حماد کی پجیرواندر آکر اپنی مخصوص جگہ پر رک گئی تھی۔۔۔۔
باوردی گارڑنے معودب ہو کر ہما د کی سعیڈ کا دروازہ کھولا تھا ۔۔۔۔
جبکہ سات سالہ ارمغان کسی کا بھی انتظار کیے بغیر گاڑی سے افراتفری میں اتر کر بھاگتا ہوا عائشہ اورداؤد کی طرف آیا تھا ۔۔۔
چاچو شکر ہے آپ سوئے نہیں ورنہ آج پھر آپ اپنا وعدہ بھول جاتے۔۔
ارمغان داود کی توجہ اپنی طرف مبذول کر چکا تھا ۔۔۔۔
جبکہ عائشہ اب غزل (ہماد کی بیوی) سے باتوں میں مصروف ہو چکی تھی ۔۔۔۔۔
💞
آپ یہاں؟؟؟؟
شفا نے پریشانی سے پوچھا ۔۔
ہاں میں یہاں ۔۔۔۔
کیوں کیا ہوا ؟؟
میں نہیں آسکتا ۔۔۔۔؟؟
نہیں میں نے یہ تو نہیں کہا۔۔۔
پھر کیا کہا؟ ؟
جب عمر آتا ہے تو اس کو بھی ایسےہی ٹریٹ کرتی ہو؟
حمزہ کے تاثرات نہ فہم تھے جن کی وجہ سے شفا کو اپنی شامت آتی محسوس ہوئی ۔۔
عمر بھائی کی بات الگ ہے۔۔۔۔
شفا نے ہمت کر کے کہہ دیا ۔۔
ورنہ اس جیسے مغرور شخص کے سامنے کسی کو شوق نہ تھا اپنے ہاتھوں اپنی ہی بےعزتی کروانے کا ۔۔
صحیح کہا عمر کی بات الگ ہے ۔۔۔۔
وہ تم پر اندھا اعتماد جو کرتا ہے۔۔
حمزہ کی آنکھیں قہر برسا رہی تھیں۔۔۔
ویسے کیا بکواس کی ہے تم نے باہر ابھی؟۔۔
کہ میں جھوٹ بول رہا ہوں ۔۔
تم بہت پارسہ ہو ۔۔۔
کچھ دیر پہلے آب زمزم سے ہی تو غسل رنجہ فرماکر آئی ہو۔ ۔۔۔۔وہ شدید تپ کر غرایا۔ ۔
ابھی تک تم نے میرا جو چہرہ دیکھا ہے وہ بہت اچھا تھا ۔۔
مگر اب جو چہرہ شفاء رحمان میرا تمہارے سامنے آئے گانا ۔۔۔
وہ شاید تمہارے لئے قابل قبول نہ ہو اور اس کی ایک جھلک میں تمہیں بہت جلدی ہی دکھانے والا ہو۔۔۔۔۔
وہ وارننگ دینے کے انداز میں بولا تھا ۔۔
حیرت ہےآپ بھائی ہو کر اپنی چھوٹی بہن کو ڈرا دھمکا رہے ہیں ؟۔۔
شفا نے طنزیہ کہا تھا اس کا ضبط کا جواب دے دیا تھا ۔۔۔۔
اگر میری بہن جھوٹ بولتی نہ تو میں اس کے منہ پہ ابھی کئی تھپڑ جڑ چکا ہوتا ۔۔۔۔
مگر خیر ۔۔۔
تم کیا سمجھو ان سب چیزوں کو ۔۔۔
حمزہ کے چہرے پر عجیب سخت گرم تاثر تھا ۔۔
آج سے پہلے بھائی ہی تھا مگر آج کے بعد جو میں تمہیں بن کر دکھاؤں گا نہ۔۔
تم جیسی جھوٹی اور مکار لڑکی اسی کے قابل ہے۔۔۔۔
ھمزہ نےشفا کو خود سے قریب کر کے اس کا چہرہ اپنے ہاتھ میں دبوچنے کے انداز میں جکڑا ۔
اگر بھائی آپ کے جیسے ہوتے ہیں تو میں ایسے شخص سے کلام بھی کرنا پسند نہ کرو ں۔۔۔
وہ ہتک آمیز لہجے۔ میں بولی۔
آپ بھی آج ایک بات سن لیں میری۔ ۔۔۔
میرا صرف آج سے ایک ہی بھائی ہے اور وہ ہے عمر ۔۔۔اور یہ جو آپ مجھ پہ۔ اپنی دھونس جمانے کی کوشش کر رہے ہےنا۔ ۔۔
یہ اور سب کیلئے باعث خوف اور وحشت ہو سکتا ہے مگر میں زرا اور ٹائپ کی ہو۔ ۔۔۔وہ اسکو دھکا دینے کی کوشش کرتے ہوئے بولی۔ ۔۔
بالکل ٹھیک کہا تم نے ۔۔۔
اب دیکھو میں تمہیں کس طرح بھائ سے شوہر بن کر دکھاؤں گا۔۔۔۔
اس نے ایک جھٹکے سے شفا کو اپنی وحشیانہ گرفت سے آزاد کیا تھا ۔۔۔۔
اور ہاں ایک بات آخر میں۔۔۔۔۔
واقعی تمہارا بھائی نہیں ہوں ۔۔
آج تم نے خود گڑھا کھودا ہے گرنے کے لیےاور ساتھ ہی میرے عتاب کو تم نے بہت زور سے آواز دی ہے۔۔۔
یاد رکھنا آج ایک جھوٹ تم نے بولا ہے۔۔۔۔
آج کے بعد میں ایک بھی جھوٹ تمہارے منہ سے نکلتا ہوا برداشت نہیں کروں گا ۔۔۔
یہ کہہ کر وہ روکا نہیں تھا لمبے لمبے ڈگ بھرتا وہاں سے جا چکا تھا ۔۔۔۔
مجھے اپنا زرخرید غلام مت سمجھے میں آپ سے ڈرنے والوں میں سے نہیں۔ ۔۔۔۔۔
وہ زور سے چلائی۔ اتنا کہ حمزا کے کان تک اسکی یہ سدہ با آسانہ پہنچ چکی تھی۔

0 comments:

Post a Comment