#ستمگر_کو_ہم_عزیز
#ایمن_نعمان 📝
قسط 2
آپ ۔۔۔۔
آپ کی ہمت کیسے ہوئی مجھے چھونے کی ؟؟؟؟
حال یہ تھا کہ وہ اس کی باہوں کے حصار میں اس کے کرتے کو سختی سے مٹھیوں میں جھکڑے خود کو گرنے سے بچا بھی رہی تھی اور چیخ۔چلا بھی رہی تھی ۔۔۔۔
ارے ارے محترمہ کسی خوش فہمی میں مت رہنا میں نے تمہیں گرنے سے بچایا ہے ۔۔۔
اور ذرا غور فرماؤ تو اس وقت تم میرے سینے کے کئی بال اپنی جانگلوس والی گرفت سے شہید کر چکی ہو۔۔
داود نے تیوری چڑھا کر بتایا اور کہتے کے ساتھ ہی اسکی نازک سی کمر پر سے اپنے مضبوط بازوؤں کا حصار توڑ دیا ۔۔۔
اس کے جتانے پر عائشہ سٹپٹائی تھی اور سوچے سمجھے دھیان دیئے بغیر کہ۔۔
وہ اب داود کے مضبوط حصار سے رہا ہو چکی ہے۔۔۔۔
اس نے اس کا گریبان جھٹ اپنی مٹھیوں کی قید سے آزاد کیا تھا ۔۔۔۔
ابھی وہ ایک بار پھر دھڑام ہونے کو تھی ۔۔۔
جب داور نے لمحہ زایہ کئے بغیراس کو تھاما تھا ۔۔۔۔
پھر آہستہ سے سرگوشی کرتے ہوئے تھوڑا اس پہ جھکتے ہوئے بولا۔۔۔
دیکھ لو اس دفعہ پھر تم گرنے کو تھی۔۔
مجھے مجبور تاً تمہیں چھونا پڑا ۔۔۔
داود کی آنکھوں میں نجانے کیا تھا کہ عائشہ سے مزید اپنی پلکیں اٹھائی نہ گئیں اور وہ اسے اپنی نظریں چرا گئی تھی ۔۔۔۔۔
💕
ابو یہ حمزہ کا کیا دماغ خراب ہو گیا ہے؟؟؟؟
عمر دندناتا ہوا شام کی چائے پیتے رحمان صاحب کے پاس آیا تھا مگر ادب کا دامن نہ چھوڑا تھا ۔۔۔
کیوں کیا ہوا بیٹا؟۔۔
یہ تم اس طرح کیوں کہہ رہے ہو؟؟
بڑا بھائی ہے تمہارا وہ۔۔
سمیرا نے بیٹے کو تمبیہی انداز میں ٹو کا۔۔۔
ا می بھائی ایسے نہیں ہوتے۔۔
آپ کو پتہ ھے آج انہوں نے مجھے کتنا شرمندہ کروایا ہے آفس میں ۔۔۔۔؟؟؟
عمر نے اب کی دفعہ قدرے دھیمی مگر ناراضگی سے پر لہجے میں جواب دیا۔۔
ایک منٹ پتہ بھی تو چلے کہ آخر ہوا کیا آفس میں ایسا ؟؟؟
رحمان صاحب نے بیٹے کے بگڑے تاثرات کو جانچتے ہوئے کہا۔۔
وہ سمجھ تو چکے تھے کہ ان کا اتنا نرم خو بیٹا کسی معمولی بات پہ اتنا بر ہم کبھی بھی نہیں ہوا کرتا تھا ،۔
معاملہ کچھ زیادہ ہی بگڑا ہوا لگا تھا ان کو ۔۔۔
دوسری طرف آئمہ رحمان صاحب کے لئے پانی لے کر آرہی تھی ۔۔۔
وہ لان کے کھلنے والے دروازے کی اوٹ میں ہوتی وہی رک گئی۔۔۔
حمزہ کا ذکر سن کر اس کو وہیں تھم نا پڑا تھا ۔۔۔
آفس میں آج میٹنگ کے دوران حمزہ نے کلائنٹس کے سامنے مجھے دو کوڑی کا کر کے رکھ دیا ہے ابو ۔۔۔
عمر نے ابھی ابھی اپنی بات شروع ہی کی تھی جب حمزہ کی گاڑی مین گیٹ سے اندر آکر رکی کار پورچ میں اور وہ جارحانہ انداز میں شفا کو دوسری سائیڈ سے اتار کے کلائی سے تھامے گھسیٹنے کے انداز میں ان تینوں کے سامنے لایا اور ایک زور دار جھٹکے اسکو چھوڑا ۔۔۔
شفا اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکی اور عمر کے چوڑے سینے سے جا لگی ۔۔۔۔۔
یہ کون سا انداز ہے؟؟؟
عمر نے بہن کو اپنے حصار میں لے کر اس کے سر پہ ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا ۔۔۔
غصے سے عمر کا دماغ گھوم گیا تھا ۔۔۔
رحمان صاحب اور سمرا بھی بوکھلا کر اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔۔۔
جبکہ دروازے کی اوٹ میں کھڑی آئمہ بری طرح لرز رہی تھی ۔
مجھ سے پوچھنے کے بجائے اپنی چہیتی بیٹی سے پوچھیں کہ یہ اس وقت کہاں تھی؟؟؟؟
حمزہ نے عمر کو بالکل اگنور کرکے سمیرا اور رحمان کو مخاطب کیا ۔۔۔
جیسے عمر کی اس کی نظروں میں کوئی اہمیت ہی نہ ہو ۔۔۔
شفاء بری طرح اسے عمر سے لی گئی سسکنے لگی تھی ۔۔۔
💕
تم کب تک آؤ گے بیٹا ؟؟؟؟
ارمغان سے ماں نے پوچھا ۔۔
پتہ نہیں ۔۔۔
وہ حویلی میں اس وقت بالکل تنہا تھا رات کے نو بجنے والے تھے۔۔۔
کیا مطلب پتا نہیں؟؟؟؟
تہمینہ بگڑ کر غصے میں بولیں ۔
امی میں کچھ دن کے لئے ہربکھیڑے سے دور حویلی آیا ہوں دماغ کو پرسکون کرنے۔۔۔
پلیز مجھے کچھ دن تک پرسکون رہنے دیں کوئی سوال نہ کریں ۔۔
میں نے تم سے کہا بھی تھا کہ تم کراچی میں رحمان بھائی کے گھر چلے جانا ۔۔۔
مگر تم وہاں بھی نہ گئے ۔
امی میں وہاں بھی جاؤں گا۔۔
مگر ابھی میں کچھ دن کے لئے یہاں حویلی میں ہی ہوں۔۔۔
ادھر سے ان کے گھر ہی جاؤں گا ۔۔۔۔
بے فکر رہیں وہاں پہنچ کے آپ کو انفارم بھی کردوں گا ۔۔
تہمینہ کچھ چپ سی رہ گئی تھیں۔۔
پھر گہرا سانس لے کر ایک دفعہ پھر گویا ہوئیں۔۔۔
تم جانتے بھی ہو اس حویلی سے کس طرح طرح کی باتیں منسوب ہیں؟؟؟
تم پھر بھی اس بند ویران حویلی میں تنہا جا پہنچے ہو۔۔۔
اماں مجھے اب خوف سے بھی خوف نہیں آتا ۔۔۔
یہ کہہ کر اس نے خاموشی سے خداحافظ کرکے فون بند کردیا ۔۔۔
ابھی اس نے اپنی آنکھیں بند ہی کی تھیں ۔۔۔
وہ روکنگ چئیر پر بیٹھا اپنے اعصاب کو پرسکون کرنے کی کوشش کر رہا تھا کہ تھنڈی ہوا کا جھو نکہ اس کو بہت قریب سے چھو کر گزرا تھا ۔۔۔
اس نے چونک کر اپنی آنکھیں فوراً کھولی تھیں ۔۔۔۔
💕
ابا آج کیا پکائوں رات کے کھانے میں؟؟؟؟
فجر نے پوچھا ۔۔
بیٹا کچھ بھی بنا لو یا پھرایسا کرو رات میں مٹر پلاؤ بنالو تمہیں اور زید(بیٹا) دونوں کو بہت پسند ہے ۔۔۔۔
بابا نے شفقت سے کہا اور دروازہ کھول کر گھر سے باہر نکل گئے مسجد جانے کے لئے ۔۔
فجر نے ایک نظر اپنے اردگرد دوڑائی۔۔
یہ ایک چھوٹا سا گھر تھا نوے گز پہ مشتمل۔۔۔۔
زندگی بہت پرسکون گزر ہی گزر رہی تھی۔۔۔۔
مگر پھر بھی فجر کے دل میں کہیں نہ کہیں ایک خلاء سہ تھا۔۔
______
یہ سب تو کیوں اتار رہی ہے ؟؟؟
یہ سب کچھ تو میں اپنے ان بڑے بڑے ہاتھوں سے اتارو گانا ۔۔۔۔
جلال کمرے میں آکر آئمہ کو جیولری اتارتے دیکھ کر بولا تھا ۔۔۔۔۔
میرے قریب مت آنا مجھے گھن آ رہی ہے تم سے ۔۔
ائمہ نے نفرت سے جلال کو دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔۔
وہ بری طرح سے نشے میں دھت تھا ۔۔۔
مجھ سے گھن آتی ہےتجھے؟؟؟
اپنے شوہر سے؟؟؟؟
دو کیسی عورت ہے؟؟؟؟؟
بلکہ نہیں تو ابھی عورت کہاں ہے ۔۔۔
چل پگلی۔۔۔۔
تو ابھی لڑکی ہے ۔۔۔۔۔
وہ جھومتے ہوئے بے ربط سےجملے ڈگمگاتے لہجے میں بولتا اس سے چند قدم کے فاصلے پر تھا ۔۔
آئمہ الٹے قدموں دیوار سے جا لگی تھی۔۔۔
کل کی پوری رات بھی اس نے جلال سے خوفزدہ ہو کر باتھ روم میں بند رہ کر گزار دی تھی ۔۔۔۔
اپنے ساتھ کی گئ اسکی قسمت کی ستم ظریفی پہ اس کے اشک رواں تھے ۔۔۔۔۔
وہ برباد ہو چکی تھی۔ دل تو بہت کیا تھا اس کا کہ وہ اپنے ماں باپ کو سب کچھ سچ بتا دے۔۔۔
بتادے کہ اس کا شوہر کس قماش کا ہے ۔۔۔
مگر پھر ماں باپ کی نصیحت یاد آگئی۔۔۔۔
بیٹا اب شوہر کا گھر ہی تمھارا گھر ہے۔۔
میکہ صرف پیار محبت کے لئے ہی آباد ہوتے ہیں لڑکیوں کے ۔۔۔
شوہر کے گھر کو اپنا گھر سمجھنا اور اچھی طرح سے نباہ کرنا۔۔۔
تمہارے آگے ابھی تمہاری چھوٹی بہن بھی ہے ۔۔۔
بس ماں کی یہ باتیں اس کے قدموں کو زنجیروں سے جگڑ گئی تھیں ۔۔۔
ہائے بیچاری عورت کیا کیا برداشت نہیں کرنا پڑتا ؟؟؟
پیچھے کنو آ آگے کھائی۔۔
ہر سو اندھیرا ۔۔
جائے تو جائے کہاں ؟؟؟
بہت خوبصورت ہے تو ۔۔۔
تیرے حسن کو خراج بھی تو کل رات تونے نہیں بخش نے دیا ۔۔۔
بہت غزور ہے تجھے اپنے اس خوبصورت مکھڑے پرنا ۔
وہ اس کے چہرے کو اپنے ہاتھ کی پشت سے چھوتے ہوئے بےدردی سے اس کے گلے کا ہار نوچ کے پھینک چکا تھا اور اپنے منہ زور ہوتے جذبات سےآئمہ کے وجود کو چھلنی کرنے لگا ۔۔۔۔
میں خود کو ختم کردوں گی مگر تم جیسے ناپاک شخص کو اپنا آپ ہرگز بھی نہیں سونپو نگی چاہے تم مجھے جان سے ہی کیوں نہ مار دو ۔۔۔
آئمہ میں نجانے کہاں سے اتنی ہمت آ گئی تھی کہ وہ ڈٹ گئی تھی ایک مرد کے سامنے ۔۔۔
یہی حرکت آئمہ کی جلال کو بھڑکا گئی تھی وہ اپنے آپے میں ہوتا تو کچھ سوچتا سمجھتا بھی ۔۔۔
مگر وہ اس وقت کچھ بھی سوچنے سمجھنے کی حالت میں تھا ہی کہا ں۔ ۔۔؟
مار دینا جان سے بھی مار دینا مگر پہلے مجھے اپنی روح کو سیراب کرنے دے تو۔ ۔۔
اپنے اس دلنشین سراپہ سے ۔۔۔
اس کی اس قدر فہاش گفتگو کرنے پہ آئمہ کا دل چاہا کہ وہ زمین پھٹے اور اس میں سما جائے۔۔۔
کیا ایسے ہوتے ہیں زندگی کے ساتھی ؟؟؟؟
اس نے بےدردی سے آئمہ کے تن سے لباس کو جدہ کیا تھا ۔۔
آئمہ کو اس شخص کا وجود اور اس کی جسارتیں زندہ درگور کر دینے کے لئے کافی تھی ۔۔۔
جلال نے آئمہ کی تمام فرار کی راہیں بند کر دیں اور اس کے چہرے پر جابجا اپنے ہونٹوں سے تکلیف پہنچانے لگا ۔۔۔
اس نازک سی لڑکی کو اس شخص کا وجود اور اس کی جسارتیں کسی گرم دہکتی ہوئی سلاخوں کی طرح اپنے وجود میں پیوست ہوتی محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔۔۔
وہ ایک کمزور سی لڑکی تھی کہاں تک اس ہوس کے مارے شخص سے مقابلہ کر سکتی تھی ۔۔۔۔!!!
کچھ دیر بعد وہ اپنی ہوس مٹا کے سوبھی چکا تھا۔۔۔۔۔
جبکہ آئمہ اپنا سر گھٹنوں میں دیئے بے آواز رو رہی تھی۔۔۔۔
آج اس کو صحیح معنوں میں اندازہ ہوا تھا کہ۔۔
کیوں والدین بیٹی کی پیدائش پر اس کے اچھے نصیب کی دعا کیا کرتے ہیں؟؟؟؟
اور شاید اس کے ماں باپ کی گئی یہ دعا ئیں شاید اس کے لئے قبول ہی نہ ہوئی تھیں ۔۔۔
💞
مجھے نہیں کرنی سمی آپ کے اس اکڑوقسم کے بھانجے سے شادی وادی۔۔۔۔
عائشہ نے منہ بسور کر کہا۔۔۔
وہ رات کے وقت سونے سے پہلے سعیدہ کو اپنے کمرے میں کھینچ لائی تھی۔۔۔
ائمہ کے جانے کے بعد اس کا دل نہیں لگتا تھا تنہا اکیلے کمرے میں ۔۔
وہ دونوں بہنیں رات میں کتنی دیر تک ایک دوسرے سے لڑتی جھگڑتیں۔۔
مستیاں کیا کرتی پھر جا کے کہیں نیند کو گلے لگاتیں۔۔۔
کیوں کیا برائی ہے میرے اتنے اچھے بہانجے میں ؟؟؟۔۔
سعیدہ نے برا منایا۔۔۔
امی جان بھانجے میں کوئی ایک برائی کیا ۔۔
اتنی برائیاں ہیں کہ ایک ہو تو گنواؤ بھی۔۔۔۔
وہ ماں کی گود میں سر رکھ کر دراز ہو چکی تھی بستر پہ ۔۔۔۔
بھئی میں کچھ نہیں جانتی ۔۔۔
مجھے اور تمہارے بابا کو بھی یہ رشتہ تمہارے لحاظ سے بالکل مناسب لگ رہا ہے۔۔۔۔
امی آپ یہ بھی تو دیکھیں نہ میں کیسے گاؤں میں رہ سکتی ہوں ؟؟؟؟
میں کس طرح اس ماحول میں ایڈجسٹ کرونگی ۔۔؟؟؟؟
۔
میں نے تو آنکھ ہی شہر میں کھولی ہے ۔۔
کس طرح کا کیا مطلب ہے تمہارا ؟؟!؟
کیا حماد(داود کا بڑا بھائی ) کی بیوی نہیں رہ رہی وہ تو پھر ڈاکٹر ہے ۔۔
وہ بھی تو اسی شہر میں رہنے والی تھی نہ دیکھو کیسے پوری حویلی میں اپنا ایک مقام بنایا ہے اس نے۔۔۔۔
لگتا ہی نہیں کہ وہ غیروں میں سے آئی ہوئی بچی ہے ۔۔۔
سیدہ نے بیٹی کو محبت سے سمجھایا اور تب تک اس کے پاس ہی بیٹھی رہی جب تک وہ نیم رضامند نہ ہو گئی ۔۔۔۔
💞
کہاں سے آ رہی ہو تم شفا اس وقت ؟؟؟
تم تو پاک تک گئی تھیں نہ ؟؟؟
سمیرا نے سختی سے روتی ہوئی شفا سے پوچھا ۔۔۔۔
امی میں تو پارک میں ہی گئی تھی۔۔۔
پھر نہ جانے کیا ہوا ؟؟
بھائی وہاں سے گزرے اور مجھے وہاں سے کھینچتے ہوئے گھر لے کر آئے ۔۔۔
یہ دیکھیں کتنی زور سے بھائی نے میری کلائی کو مروڑا ہے کہ نشان بھی پڑگیا۔۔۔
شفا نے بڑی صفائی سے جھوٹ کو سچ کے لبادے میں لپیٹا تھا ۔۔۔
سمیرا خاموش ہوگئی تھی ۔۔
جانتی تھی اب شفا کے سچ بتانے کے باوجود بھی حمزہ کو کچھ بھی نہیں کہہ سکتی تھی ۔۔۔
رحمان صاحب نے کسی کو بھی اتنا حق نہ دیا تھا کہ حمزہ کو کوئی کچھ کہہ سکتا حتیٰ کہ رحمان صاحب نے خود بھی کبھی بھی حمزہ کو سخت لہجے میں مخاطب تک نہ کیا تھا اور نہ ہی کسی کو سخت لہجے میں حمزہ کو ڈانٹنے ڈپٹنے کی اجازت تھی ۔۔۔
یہی وجہ تھی کہ حمزہ کسی ایک کی بھی نہ سنتا ۔۔
رحمان صاحب کو اپنے چاروں بچوں میں حمزہ
( سمیرا کی نظروں میں) کچھ زیادہ ہی ان کو عزیز تھا ۔۔۔۔
اب کیا کہوں گے؟؟؟؟
عمر نے برہمی سے حمزہ کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔
میں نے تم سے رائے نہیں مانگی اور تم کیا کہہ رہی ہوں کہ تم پارک میں تھی ۔۔۔
وہ شدید غصے میں شفاء سے مخاطب تھا۔ ۔۔
شاباش صحیح جارہی ہوں بالکل۔۔۔
بہت اچھی تربیت کی گئی ہے تمہاری ۔۔۔
اس نے ایک کہرآلود نظر سمیرا پہ ڈالی تھی جبکہ وہ مخاطب شفا سے تھا ۔۔۔
ایک منٹ شفا ءمجھے کچھ نہیں سننا اور عمر یہ مت بھولو کہ حمزہ تمہارا بڑا بھائی ہے۔۔۔
اس لئے اپنی حد میں رہ کر بات کرو اس سے ۔۔۔
رحمان صاحب نے سنجیدہ مگر سخت لہجے میں عمر کو باز رکھنا چاہا ۔۔۔
اور میں یہ جانتا ہوں کہ حمزہ کبھی بھی کچھ بھی غلط نہ کہہ سکتا ہے اور نہ کر سکتا ہے۔۔۔۔۔
رحمان صاحب نے گویا بات ہی ختم کردی تھی ۔۔۔
۔
عمر نے شکوہ کناں نظر ماں اور باپ پر ڈالی تھی ۔۔۔
ہمیشہ یہی تو ہوا تھا کہ حمزہ کے آگے اس کو بالکل ہی کوئی اہمیت نہیں دی جاتی تھی ۔۔۔
عمر ابھی بھی شدید طیش کے عالم میں ہمزہ کو گھور رہا تھا ۔۔۔
جو بڑے مزے سے طنزیہ مسکرایٹ لبوں پہ سجاکر جانے لگا تھا مگر پھر کچھ یاد آنے پر رکا تھا اور پلٹ کر کہر برساتی نظروں سے شفا کو گھورتے ہوئے بولا ۔۔۔۔
ایک بات میری ذہن میں بٹھا لو اپ نے۔۔۔۔
یہ کہ جس کلائ پہ تم چوٹ لگنے کا کہہ رہی ہوں نا میری وجہ سے۔۔۔۔۔
وہ چوٹ ابھی تو فی الحال میں نے نہیں پہنچائی ہے۔۔۔
مگر آئندہ کی کوئی گارنٹی نہیں ہے ۔۔۔۔
اور ہاں ابوشفاء آج سے اکیلے باہر نہیں جائے گی ۔۔۔۔
اگر میں نے اس کو اکیلے کہیں بھی آتا جاتا دیکھا میں اس کا یونیورسٹی تو کیا گھر میں بھی نا کہ بند کروا دوں گا ۔۔۔۔
وہ اپنی کہہ کر شفا ء پہ ایک اچٹتی سی نظر ڈالتا وہاں سے یہ جا وہ جا ۔۔۔
#ایمن_نعمان 📝
قسط 2
آپ ۔۔۔۔
آپ کی ہمت کیسے ہوئی مجھے چھونے کی ؟؟؟؟
حال یہ تھا کہ وہ اس کی باہوں کے حصار میں اس کے کرتے کو سختی سے مٹھیوں میں جھکڑے خود کو گرنے سے بچا بھی رہی تھی اور چیخ۔چلا بھی رہی تھی ۔۔۔۔
ارے ارے محترمہ کسی خوش فہمی میں مت رہنا میں نے تمہیں گرنے سے بچایا ہے ۔۔۔
اور ذرا غور فرماؤ تو اس وقت تم میرے سینے کے کئی بال اپنی جانگلوس والی گرفت سے شہید کر چکی ہو۔۔
داود نے تیوری چڑھا کر بتایا اور کہتے کے ساتھ ہی اسکی نازک سی کمر پر سے اپنے مضبوط بازوؤں کا حصار توڑ دیا ۔۔۔
اس کے جتانے پر عائشہ سٹپٹائی تھی اور سوچے سمجھے دھیان دیئے بغیر کہ۔۔
وہ اب داود کے مضبوط حصار سے رہا ہو چکی ہے۔۔۔۔
اس نے اس کا گریبان جھٹ اپنی مٹھیوں کی قید سے آزاد کیا تھا ۔۔۔۔
ابھی وہ ایک بار پھر دھڑام ہونے کو تھی ۔۔۔
جب داور نے لمحہ زایہ کئے بغیراس کو تھاما تھا ۔۔۔۔
پھر آہستہ سے سرگوشی کرتے ہوئے تھوڑا اس پہ جھکتے ہوئے بولا۔۔۔
دیکھ لو اس دفعہ پھر تم گرنے کو تھی۔۔
مجھے مجبور تاً تمہیں چھونا پڑا ۔۔۔
داود کی آنکھوں میں نجانے کیا تھا کہ عائشہ سے مزید اپنی پلکیں اٹھائی نہ گئیں اور وہ اسے اپنی نظریں چرا گئی تھی ۔۔۔۔۔
💕
ابو یہ حمزہ کا کیا دماغ خراب ہو گیا ہے؟؟؟؟
عمر دندناتا ہوا شام کی چائے پیتے رحمان صاحب کے پاس آیا تھا مگر ادب کا دامن نہ چھوڑا تھا ۔۔۔
کیوں کیا ہوا بیٹا؟۔۔
یہ تم اس طرح کیوں کہہ رہے ہو؟؟
بڑا بھائی ہے تمہارا وہ۔۔
سمیرا نے بیٹے کو تمبیہی انداز میں ٹو کا۔۔۔
ا می بھائی ایسے نہیں ہوتے۔۔
آپ کو پتہ ھے آج انہوں نے مجھے کتنا شرمندہ کروایا ہے آفس میں ۔۔۔۔؟؟؟
عمر نے اب کی دفعہ قدرے دھیمی مگر ناراضگی سے پر لہجے میں جواب دیا۔۔
ایک منٹ پتہ بھی تو چلے کہ آخر ہوا کیا آفس میں ایسا ؟؟؟
رحمان صاحب نے بیٹے کے بگڑے تاثرات کو جانچتے ہوئے کہا۔۔
وہ سمجھ تو چکے تھے کہ ان کا اتنا نرم خو بیٹا کسی معمولی بات پہ اتنا بر ہم کبھی بھی نہیں ہوا کرتا تھا ،۔
معاملہ کچھ زیادہ ہی بگڑا ہوا لگا تھا ان کو ۔۔۔
دوسری طرف آئمہ رحمان صاحب کے لئے پانی لے کر آرہی تھی ۔۔۔
وہ لان کے کھلنے والے دروازے کی اوٹ میں ہوتی وہی رک گئی۔۔۔
حمزہ کا ذکر سن کر اس کو وہیں تھم نا پڑا تھا ۔۔۔
آفس میں آج میٹنگ کے دوران حمزہ نے کلائنٹس کے سامنے مجھے دو کوڑی کا کر کے رکھ دیا ہے ابو ۔۔۔
عمر نے ابھی ابھی اپنی بات شروع ہی کی تھی جب حمزہ کی گاڑی مین گیٹ سے اندر آکر رکی کار پورچ میں اور وہ جارحانہ انداز میں شفا کو دوسری سائیڈ سے اتار کے کلائی سے تھامے گھسیٹنے کے انداز میں ان تینوں کے سامنے لایا اور ایک زور دار جھٹکے اسکو چھوڑا ۔۔۔
شفا اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکی اور عمر کے چوڑے سینے سے جا لگی ۔۔۔۔۔
یہ کون سا انداز ہے؟؟؟
عمر نے بہن کو اپنے حصار میں لے کر اس کے سر پہ ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا ۔۔۔
غصے سے عمر کا دماغ گھوم گیا تھا ۔۔۔
رحمان صاحب اور سمرا بھی بوکھلا کر اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔۔۔
جبکہ دروازے کی اوٹ میں کھڑی آئمہ بری طرح لرز رہی تھی ۔
مجھ سے پوچھنے کے بجائے اپنی چہیتی بیٹی سے پوچھیں کہ یہ اس وقت کہاں تھی؟؟؟؟
حمزہ نے عمر کو بالکل اگنور کرکے سمیرا اور رحمان کو مخاطب کیا ۔۔۔
جیسے عمر کی اس کی نظروں میں کوئی اہمیت ہی نہ ہو ۔۔۔
شفاء بری طرح اسے عمر سے لی گئی سسکنے لگی تھی ۔۔۔
💕
تم کب تک آؤ گے بیٹا ؟؟؟؟
ارمغان سے ماں نے پوچھا ۔۔
پتہ نہیں ۔۔۔
وہ حویلی میں اس وقت بالکل تنہا تھا رات کے نو بجنے والے تھے۔۔۔
کیا مطلب پتا نہیں؟؟؟؟
تہمینہ بگڑ کر غصے میں بولیں ۔
امی میں کچھ دن کے لئے ہربکھیڑے سے دور حویلی آیا ہوں دماغ کو پرسکون کرنے۔۔۔
پلیز مجھے کچھ دن تک پرسکون رہنے دیں کوئی سوال نہ کریں ۔۔
میں نے تم سے کہا بھی تھا کہ تم کراچی میں رحمان بھائی کے گھر چلے جانا ۔۔۔
مگر تم وہاں بھی نہ گئے ۔
امی میں وہاں بھی جاؤں گا۔۔
مگر ابھی میں کچھ دن کے لئے یہاں حویلی میں ہی ہوں۔۔۔
ادھر سے ان کے گھر ہی جاؤں گا ۔۔۔۔
بے فکر رہیں وہاں پہنچ کے آپ کو انفارم بھی کردوں گا ۔۔
تہمینہ کچھ چپ سی رہ گئی تھیں۔۔
پھر گہرا سانس لے کر ایک دفعہ پھر گویا ہوئیں۔۔۔
تم جانتے بھی ہو اس حویلی سے کس طرح طرح کی باتیں منسوب ہیں؟؟؟
تم پھر بھی اس بند ویران حویلی میں تنہا جا پہنچے ہو۔۔۔
اماں مجھے اب خوف سے بھی خوف نہیں آتا ۔۔۔
یہ کہہ کر اس نے خاموشی سے خداحافظ کرکے فون بند کردیا ۔۔۔
ابھی اس نے اپنی آنکھیں بند ہی کی تھیں ۔۔۔
وہ روکنگ چئیر پر بیٹھا اپنے اعصاب کو پرسکون کرنے کی کوشش کر رہا تھا کہ تھنڈی ہوا کا جھو نکہ اس کو بہت قریب سے چھو کر گزرا تھا ۔۔۔
اس نے چونک کر اپنی آنکھیں فوراً کھولی تھیں ۔۔۔۔
💕
ابا آج کیا پکائوں رات کے کھانے میں؟؟؟؟
فجر نے پوچھا ۔۔
بیٹا کچھ بھی بنا لو یا پھرایسا کرو رات میں مٹر پلاؤ بنالو تمہیں اور زید(بیٹا) دونوں کو بہت پسند ہے ۔۔۔۔
بابا نے شفقت سے کہا اور دروازہ کھول کر گھر سے باہر نکل گئے مسجد جانے کے لئے ۔۔
فجر نے ایک نظر اپنے اردگرد دوڑائی۔۔
یہ ایک چھوٹا سا گھر تھا نوے گز پہ مشتمل۔۔۔۔
زندگی بہت پرسکون گزر ہی گزر رہی تھی۔۔۔۔
مگر پھر بھی فجر کے دل میں کہیں نہ کہیں ایک خلاء سہ تھا۔۔
______
یہ سب تو کیوں اتار رہی ہے ؟؟؟
یہ سب کچھ تو میں اپنے ان بڑے بڑے ہاتھوں سے اتارو گانا ۔۔۔۔
جلال کمرے میں آکر آئمہ کو جیولری اتارتے دیکھ کر بولا تھا ۔۔۔۔۔
میرے قریب مت آنا مجھے گھن آ رہی ہے تم سے ۔۔
ائمہ نے نفرت سے جلال کو دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔۔
وہ بری طرح سے نشے میں دھت تھا ۔۔۔
مجھ سے گھن آتی ہےتجھے؟؟؟
اپنے شوہر سے؟؟؟؟
دو کیسی عورت ہے؟؟؟؟؟
بلکہ نہیں تو ابھی عورت کہاں ہے ۔۔۔
چل پگلی۔۔۔۔
تو ابھی لڑکی ہے ۔۔۔۔۔
وہ جھومتے ہوئے بے ربط سےجملے ڈگمگاتے لہجے میں بولتا اس سے چند قدم کے فاصلے پر تھا ۔۔
آئمہ الٹے قدموں دیوار سے جا لگی تھی۔۔۔
کل کی پوری رات بھی اس نے جلال سے خوفزدہ ہو کر باتھ روم میں بند رہ کر گزار دی تھی ۔۔۔۔
اپنے ساتھ کی گئ اسکی قسمت کی ستم ظریفی پہ اس کے اشک رواں تھے ۔۔۔۔۔
وہ برباد ہو چکی تھی۔ دل تو بہت کیا تھا اس کا کہ وہ اپنے ماں باپ کو سب کچھ سچ بتا دے۔۔۔
بتادے کہ اس کا شوہر کس قماش کا ہے ۔۔۔
مگر پھر ماں باپ کی نصیحت یاد آگئی۔۔۔۔
بیٹا اب شوہر کا گھر ہی تمھارا گھر ہے۔۔
میکہ صرف پیار محبت کے لئے ہی آباد ہوتے ہیں لڑکیوں کے ۔۔۔
شوہر کے گھر کو اپنا گھر سمجھنا اور اچھی طرح سے نباہ کرنا۔۔۔
تمہارے آگے ابھی تمہاری چھوٹی بہن بھی ہے ۔۔۔
بس ماں کی یہ باتیں اس کے قدموں کو زنجیروں سے جگڑ گئی تھیں ۔۔۔
ہائے بیچاری عورت کیا کیا برداشت نہیں کرنا پڑتا ؟؟؟
پیچھے کنو آ آگے کھائی۔۔
ہر سو اندھیرا ۔۔
جائے تو جائے کہاں ؟؟؟
بہت خوبصورت ہے تو ۔۔۔
تیرے حسن کو خراج بھی تو کل رات تونے نہیں بخش نے دیا ۔۔۔
بہت غزور ہے تجھے اپنے اس خوبصورت مکھڑے پرنا ۔
وہ اس کے چہرے کو اپنے ہاتھ کی پشت سے چھوتے ہوئے بےدردی سے اس کے گلے کا ہار نوچ کے پھینک چکا تھا اور اپنے منہ زور ہوتے جذبات سےآئمہ کے وجود کو چھلنی کرنے لگا ۔۔۔۔
میں خود کو ختم کردوں گی مگر تم جیسے ناپاک شخص کو اپنا آپ ہرگز بھی نہیں سونپو نگی چاہے تم مجھے جان سے ہی کیوں نہ مار دو ۔۔۔
آئمہ میں نجانے کہاں سے اتنی ہمت آ گئی تھی کہ وہ ڈٹ گئی تھی ایک مرد کے سامنے ۔۔۔
یہی حرکت آئمہ کی جلال کو بھڑکا گئی تھی وہ اپنے آپے میں ہوتا تو کچھ سوچتا سمجھتا بھی ۔۔۔
مگر وہ اس وقت کچھ بھی سوچنے سمجھنے کی حالت میں تھا ہی کہا ں۔ ۔۔؟
مار دینا جان سے بھی مار دینا مگر پہلے مجھے اپنی روح کو سیراب کرنے دے تو۔ ۔۔
اپنے اس دلنشین سراپہ سے ۔۔۔
اس کی اس قدر فہاش گفتگو کرنے پہ آئمہ کا دل چاہا کہ وہ زمین پھٹے اور اس میں سما جائے۔۔۔
کیا ایسے ہوتے ہیں زندگی کے ساتھی ؟؟؟؟
اس نے بےدردی سے آئمہ کے تن سے لباس کو جدہ کیا تھا ۔۔
آئمہ کو اس شخص کا وجود اور اس کی جسارتیں زندہ درگور کر دینے کے لئے کافی تھی ۔۔۔
جلال نے آئمہ کی تمام فرار کی راہیں بند کر دیں اور اس کے چہرے پر جابجا اپنے ہونٹوں سے تکلیف پہنچانے لگا ۔۔۔
اس نازک سی لڑکی کو اس شخص کا وجود اور اس کی جسارتیں کسی گرم دہکتی ہوئی سلاخوں کی طرح اپنے وجود میں پیوست ہوتی محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔۔۔
وہ ایک کمزور سی لڑکی تھی کہاں تک اس ہوس کے مارے شخص سے مقابلہ کر سکتی تھی ۔۔۔۔!!!
کچھ دیر بعد وہ اپنی ہوس مٹا کے سوبھی چکا تھا۔۔۔۔۔
جبکہ آئمہ اپنا سر گھٹنوں میں دیئے بے آواز رو رہی تھی۔۔۔۔
آج اس کو صحیح معنوں میں اندازہ ہوا تھا کہ۔۔
کیوں والدین بیٹی کی پیدائش پر اس کے اچھے نصیب کی دعا کیا کرتے ہیں؟؟؟؟
اور شاید اس کے ماں باپ کی گئی یہ دعا ئیں شاید اس کے لئے قبول ہی نہ ہوئی تھیں ۔۔۔
💞
مجھے نہیں کرنی سمی آپ کے اس اکڑوقسم کے بھانجے سے شادی وادی۔۔۔۔
عائشہ نے منہ بسور کر کہا۔۔۔
وہ رات کے وقت سونے سے پہلے سعیدہ کو اپنے کمرے میں کھینچ لائی تھی۔۔۔
ائمہ کے جانے کے بعد اس کا دل نہیں لگتا تھا تنہا اکیلے کمرے میں ۔۔
وہ دونوں بہنیں رات میں کتنی دیر تک ایک دوسرے سے لڑتی جھگڑتیں۔۔
مستیاں کیا کرتی پھر جا کے کہیں نیند کو گلے لگاتیں۔۔۔
کیوں کیا برائی ہے میرے اتنے اچھے بہانجے میں ؟؟؟۔۔
سعیدہ نے برا منایا۔۔۔
امی جان بھانجے میں کوئی ایک برائی کیا ۔۔
اتنی برائیاں ہیں کہ ایک ہو تو گنواؤ بھی۔۔۔۔
وہ ماں کی گود میں سر رکھ کر دراز ہو چکی تھی بستر پہ ۔۔۔۔
بھئی میں کچھ نہیں جانتی ۔۔۔
مجھے اور تمہارے بابا کو بھی یہ رشتہ تمہارے لحاظ سے بالکل مناسب لگ رہا ہے۔۔۔۔
امی آپ یہ بھی تو دیکھیں نہ میں کیسے گاؤں میں رہ سکتی ہوں ؟؟؟؟
میں کس طرح اس ماحول میں ایڈجسٹ کرونگی ۔۔؟؟؟؟
۔
میں نے تو آنکھ ہی شہر میں کھولی ہے ۔۔
کس طرح کا کیا مطلب ہے تمہارا ؟؟!؟
کیا حماد(داود کا بڑا بھائی ) کی بیوی نہیں رہ رہی وہ تو پھر ڈاکٹر ہے ۔۔
وہ بھی تو اسی شہر میں رہنے والی تھی نہ دیکھو کیسے پوری حویلی میں اپنا ایک مقام بنایا ہے اس نے۔۔۔۔
لگتا ہی نہیں کہ وہ غیروں میں سے آئی ہوئی بچی ہے ۔۔۔
سیدہ نے بیٹی کو محبت سے سمجھایا اور تب تک اس کے پاس ہی بیٹھی رہی جب تک وہ نیم رضامند نہ ہو گئی ۔۔۔۔
💞
کہاں سے آ رہی ہو تم شفا اس وقت ؟؟؟
تم تو پاک تک گئی تھیں نہ ؟؟؟
سمیرا نے سختی سے روتی ہوئی شفا سے پوچھا ۔۔۔۔
امی میں تو پارک میں ہی گئی تھی۔۔۔
پھر نہ جانے کیا ہوا ؟؟
بھائی وہاں سے گزرے اور مجھے وہاں سے کھینچتے ہوئے گھر لے کر آئے ۔۔۔
یہ دیکھیں کتنی زور سے بھائی نے میری کلائی کو مروڑا ہے کہ نشان بھی پڑگیا۔۔۔
شفا نے بڑی صفائی سے جھوٹ کو سچ کے لبادے میں لپیٹا تھا ۔۔۔
سمیرا خاموش ہوگئی تھی ۔۔
جانتی تھی اب شفا کے سچ بتانے کے باوجود بھی حمزہ کو کچھ بھی نہیں کہہ سکتی تھی ۔۔۔
رحمان صاحب نے کسی کو بھی اتنا حق نہ دیا تھا کہ حمزہ کو کوئی کچھ کہہ سکتا حتیٰ کہ رحمان صاحب نے خود بھی کبھی بھی حمزہ کو سخت لہجے میں مخاطب تک نہ کیا تھا اور نہ ہی کسی کو سخت لہجے میں حمزہ کو ڈانٹنے ڈپٹنے کی اجازت تھی ۔۔۔
یہی وجہ تھی کہ حمزہ کسی ایک کی بھی نہ سنتا ۔۔
رحمان صاحب کو اپنے چاروں بچوں میں حمزہ
( سمیرا کی نظروں میں) کچھ زیادہ ہی ان کو عزیز تھا ۔۔۔۔
اب کیا کہوں گے؟؟؟؟
عمر نے برہمی سے حمزہ کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔
میں نے تم سے رائے نہیں مانگی اور تم کیا کہہ رہی ہوں کہ تم پارک میں تھی ۔۔۔
وہ شدید غصے میں شفاء سے مخاطب تھا۔ ۔۔
شاباش صحیح جارہی ہوں بالکل۔۔۔
بہت اچھی تربیت کی گئی ہے تمہاری ۔۔۔
اس نے ایک کہرآلود نظر سمیرا پہ ڈالی تھی جبکہ وہ مخاطب شفا سے تھا ۔۔۔
ایک منٹ شفا ءمجھے کچھ نہیں سننا اور عمر یہ مت بھولو کہ حمزہ تمہارا بڑا بھائی ہے۔۔۔
اس لئے اپنی حد میں رہ کر بات کرو اس سے ۔۔۔
رحمان صاحب نے سنجیدہ مگر سخت لہجے میں عمر کو باز رکھنا چاہا ۔۔۔
اور میں یہ جانتا ہوں کہ حمزہ کبھی بھی کچھ بھی غلط نہ کہہ سکتا ہے اور نہ کر سکتا ہے۔۔۔۔۔
رحمان صاحب نے گویا بات ہی ختم کردی تھی ۔۔۔
۔
عمر نے شکوہ کناں نظر ماں اور باپ پر ڈالی تھی ۔۔۔
ہمیشہ یہی تو ہوا تھا کہ حمزہ کے آگے اس کو بالکل ہی کوئی اہمیت نہیں دی جاتی تھی ۔۔۔
عمر ابھی بھی شدید طیش کے عالم میں ہمزہ کو گھور رہا تھا ۔۔۔
جو بڑے مزے سے طنزیہ مسکرایٹ لبوں پہ سجاکر جانے لگا تھا مگر پھر کچھ یاد آنے پر رکا تھا اور پلٹ کر کہر برساتی نظروں سے شفا کو گھورتے ہوئے بولا ۔۔۔۔
ایک بات میری ذہن میں بٹھا لو اپ نے۔۔۔۔
یہ کہ جس کلائ پہ تم چوٹ لگنے کا کہہ رہی ہوں نا میری وجہ سے۔۔۔۔۔
وہ چوٹ ابھی تو فی الحال میں نے نہیں پہنچائی ہے۔۔۔
مگر آئندہ کی کوئی گارنٹی نہیں ہے ۔۔۔۔
اور ہاں ابوشفاء آج سے اکیلے باہر نہیں جائے گی ۔۔۔۔
اگر میں نے اس کو اکیلے کہیں بھی آتا جاتا دیکھا میں اس کا یونیورسٹی تو کیا گھر میں بھی نا کہ بند کروا دوں گا ۔۔۔۔
وہ اپنی کہہ کر شفا ء پہ ایک اچٹتی سی نظر ڈالتا وہاں سے یہ جا وہ جا ۔۔۔


0 comments:
Post a Comment