Thursday, May 30, 2019

kabhi toh pass mere ao by aymen nauman episode 1


کبھی تو پاس میرے آو💕
تحریر ایمن نعمان
قسط نمبر ١
Dont copy paste without my permission 🌱🌱🌱🌱🌱🌱🌱


خود کو کالی چادر میں اچھی طرح سے ڈھانپے ایک ہیولا سہ برگت کے درخت کی اوڑھ سے نمودار ہوا تھا۔
 ہاتھ میں ٹارچ مضبوطی سے تھام کر وہ بہت محتاط انداز میں اپنی مطلوبہ قبر کی نشاندہی کر نےلگا۔ ٹارچ کی مدہم دودھیا روشنی میں دو چار قبروں کی خاک چھاننے کے بعد آخر کار اس کو اپنی مطلوبہ قبر مل ہی گئی تھی ۔۔

"ہاں یہی ہے "
"اسی کی تو مجھے تلاش تھی بالکل"
"ہاں ہاں آج میری تلاش پوری ہوئی  "
"ہاں یہی ہے وہ ۔۔"

قبر کا خطبہ ہٹانے کی مسلسل کوشش میں رات کے دوسرے پہر سے اب رات کا آخری پہر شروع ہو چکا تھا ۔۔۔

"وقت بہت مختصر بچا ہے اب میرے پاس صبح کی پہلی کرن پھوٹنے سے پہلے پہلے مجھے اپنا کام مکمل کرنا ہے"
" ہر صورت آج یہ کام ہو جانا چاہیےلازمی"

 ادھر سے ادھر نظر دوڑانے کے بعد آخر کار اس کو تھوڑا فاصلے پر رکھا ایک بیلچا نظر آیا۔ وہ وجود بھاگتا ہوا اس کی طرف لپکا تھا۔ آدھے گھنٹے کی انتھک کوشش کے بعد وہ ہیولہ اپنی کوشش میں کامیاب ہو ہی گیا۔اسنے بہت تیزی سے آگے بڑھ کر قبرکاخطبہ اپنی جگہ سے اکھاڑ کے  دور پھینکا ۔

خطبہ رکھنے کے چند لمحوں بعد ہی یکدم قبر میں سے ایک روشنی پھوٹی تھی اور وہ  قبر چاک ہوتی چلی گئی۔ چادر میں لپٹے وجود کے چہرے پر ایک دم ایک فاتحانہ مسکراہٹ ابھری تھی۔۔۔۔۔

🌹🌹🌹🌹

"جاؤ جا کر دیکھو دلہن کی تیاری کہاں تک پہنچی ہے۔۔۔۔۔"
 دادی بیگم نے بڑی بہو  مزنا کو حکم صادر کیا ۔۔۔۔۔
جی اماں بیگم مزنا نے فوری ساس کے حکم کی بجا آوری کی تھی بھلا ساس کے صادر کردہ حکم کی تعمیل  میں دیر کر کے وہ اپنی شامت بلانے سے تو رہی تھیں۔ ۔۔۔

آج حویلی کو کسی دلہن کی طرح سجایا سنوارا گیا تھا آخر کو "خان "گھرانے کی شادی تھی پورا علاقہ روشنیوں  سے سجنے کی وجہ سے جگمگ کر رہا تھا ۔برات کی تقریب کا انتظام حویلی کے بڑے سارے لان میں ہی منعقد کیا گیا تھا یہ خان خاندان کی روایت تھی آج تک جتنی بھی شادیاں انجام پائی تھیں اس گھرانے کی وہ سب حویلی کی چار دیواری کے اندر ہی منعقد کی گئی تھیں ۔۔۔

اسٹیج پہ دلہن دولہا کے لئے خان خاندان کا اس اہم موقع پہ نسل در نسل استعمال ہونے والا روایتی جھولہا دلہن دلہا کیلئے گلاب اور گیندے کے پھولوں سے سجایا گیا تھا جبکہ جھولے کے دونوں طرف اردگرد تخت رکھے گئے تھے جن پہ دبیز لال اور ہرےرہگ کےکارپٹ بچھا کر گاؤتکھیے لگائے گئے تھے۔

دلہن دلہا کے استقبال کیلئے گلاب کی پتیاں اسٹیج کے فرش پہ بچھانے سے اس کی زینت میں مزیدچار چاند لگ گئے تھے۔ ایک تخت پہ دادی بیگم سفید  رنگ کا گوٹا اور کرن لگاغرارہ پہنے اور اسکےکرتے کے گلے پہ پانچ تولے کے سونے کے بٹن لگائے چاندی کے پاندان کو کھولے تنفر سے برجمان تھیں غرور حاکمیت انکے ہرہر انداز سے جھلک رہا تھا ۔ جبکہ دوسرے تخت پہ گھر کے خاص مردوں کے بیٹھنے کا انتظام کیا گیا تھا بڑی تائ بیگم ثروت فلحال اسکرین سے غائب تھیں حیرت انگیز طور پر ۔۔۔۔!!

"اماں  بیگم"
"اا۔۔اماں بیگم "
مزنا کے چہرے کی ہوایاں اڑی ہوئی تھیں وہ ہانپتی کانپتی  ساس تک پہنچی تھیں ۔۔

"اے بہوکیا ہوا تمہارے چہرے کا رنگ کیوں اڑا ہوا ہے؟"
" خدا کا واسطہ ہے بہو کوئی اچھی خبر ہی سنانامنحوس پیغام نہ سنانا ام کو تم ۔"
۔
بہوکے لٹھے کی مانند سفید پڑاچہرہ دیکھ نفیسہ بیگم ٹھٹکی تھیں۔ دماغ میں خطرے کی گھنٹیاں بج اٹھی تھی آخر کو جہاندیدہ عورت تھیں ۔

" اماں بیگم دلہن کمرے میں نہیں ہے ام(ہم) نے ہر اک جگا دیکھ لیا حویلی کا اک اک  چپا  گھنگال آئ ام۔۔۔۔"
"تو پھر کہا ہے؟"
" جانتی بھی ہو کیا خرافات تم ام سے بکتا ہے؟؟؟؟"
" یا پھر تم شاید یہ بھول بیٹھا ہے کہ کس سے مخاطب ہے تم اس وقت ۔۔"
اماں بیگم نے اپنے خاص پختون والے انداز میں بپھر کے استفسار کیابہو سے۔۔۔
"اگر یہ مذاق ہے تو یہ سمجھ لو کہ تم  ۔۔۔"
"اماں بیگم میں سچ کہہ رہی ہوں میرا یقین کیجئیے میری کیا مجال کہ میں آپ سے غلط بیانی کروں ۔۔۔"
"کیا ثبوت ہے تمہارے پاس اور اگر تمہاری بات جھوٹی نکلی تو جانتی ہو نا تمہاری سزا کیا ہوگی؟؟۔۔"
نفیسہ بیگم نے کرختگی سے کہتے ہوئے اپنی لاٹھی کو  پکڑا اور اشتعال میں اٹھ کھڑی ہوئیں۔ چہرے پہ ناقابل بیان تاثرات رقم تھے جو وہاں موجود  سب ہی نفوسوں کو تنبیہی کرنے کے لئے کافی تھےکہ اگر یہ حقیقت ہوئی تو قیامت آجائے گی سر قلم کردئے جائینگے ۔۔۔

"آپ کے ہر سوال کا جواب اس خط  میں ہی ہے"
مزہ نے جلدی سے دلہن کے کمرے سے ملنے والا خط ساس کو تھمایا ۔۔۔۔۔۔۔۔
🌹🌹🌹🌹🌹


"امی پلیز ابا کو سمجھآئیں کہ وہ مجھے آگے بھی پڑھنے دیں۔"
 مہمل باپ کے سامنے منمنائ اور ماں کو گھٹی گھٹی آواز میں اپنا وکیل بنانا چاہا جیسے ماں کے سامنے اپنی دلی خواہش ظاہر کی تھی معصوم سی ۔۔۔

"سمجھا دو اس منہوس کو کہ بس اب بہت پڑھ لیا بارہویں جماعت تک پڑھا دیا اس کو مزید آگے میں پڑھنے کی قطعی اجازت نہیں دوں گا "

"میں کیا سمجھاوں تعلیم تو عورت کا زیور ہے جی اور پھر جس طرح اب تک ہماری بیٹی نے پڑھا ہے ویسے ہی اگلی دو جماعتوں کو اور پڑھلے گی ۔۔"

مفیدہ سے بیٹی کے چہرے کا پھیکا پڑتا رنگ دیکھا نہ گیا ہمت کرکے آخر کو شوہر کے سامنے جی کڑا کر کہ بول ہی گئی تھی ۔۔

"اؤ کرم جلی تو تو اپنی زبان بند رکھ "
" زیادہ نہ بول میرے سامنے پہلے بھی کامل آغا کے کہنے پر 12 جماعت پڑھائی ہے اس کلموہی کومگر اب نہیں "
کرختگی سے کہتا سلیمان(مہمل کا باپ) چارپائی کے ساتھ رکھے حکے کو قریب کرکہ لمبا سہ  کش لیا اورسر پہ بندھا پیلا سافہ چارپائی پہ دور فاصلے پر پھیکنے کے انداز میں اچھالا ۔۔۔

سلیمان ابھی کچھ دیر پہلے ہی گھر لوٹا تھا ۔۔۔محمل کو اپنے کورس کی کتابیں تھامے دیکھ اس کا پارہ آسمان کو چھو گیا تھا ۔۔

"مگر ابو  میری بات تو سن لیں میں تو پرائیویٹ پیپر  دونگی جس طرح پہلے دیتی رہیں ہو اسطرح  مشکل نہیں ہوگی کوئی"
 وہ بہت ہمت کر کے گویا ہوئی۔

" زبان چلائے گی تو مجھ سے؟؟
اپنے باپ سے تن کر مقابلہ کرنا چاہتی ہے ؟؟
"تو بول بےغیرت!! تیرےتو  دیدو کی شرم خاک ہو گئی ہے آج تو دیکھنا میں تیری سدھ بدھ واپس ٹھکانے کیسے لگاتا ہوں کملی ۔۔"

سلیمان جارحانہ انداز میں مہمل کی طرف بڑھا تھا اور گھماکہ زوردار پوری قوت سے تھپڑ اس کے چہرے پرجڑ ڈالا تھا۔
 دھان پان سی نازک سراپہ کی مالک مہمل باپ کے بھاری ہاتھ سے پڑنے والے تھپڑ کی تاب نہ لاسکی اور چکراتی ہوئی فرش پہ گرنے کو تھی جب کسی کے مضبوط ہاتھوں نے اس کو شانےسے تھاما تھا۔

 مہمل کویکدم احساس ہوا تھا جیسے وہ کسی کی مضبوط پناہوں میں آ گئی تھی۔ نظر اٹھا کہ دیکھنا چاہا تھا مگر جیسے ہی نظر کامل پہ پڑی وہ شرمندگی کے احساس تلے دوبارہ سے نظر نہ اٹھا سکی ۔
"بعض اوقات اپنے ہی ہماری ڈھال بنتے ہیں اور ہمارا سر فخر سے بلند کرنے میں پیش پیش ہوتے ہیں اور بعض اوقات اپنے ہی ہمیں شرمندگی اور ذلت کی اتھاہ گہرائیوں میں دھکیل دیتے ہیں وہ بھی بڑے فخر سے  ۔"
وہ شرمندگی سے چور فرش پہ نظریں گاڑھے سوچ کہ رہ گئ۔۔
"عورت پہ ہاتھ اٹھانے والا مرد نہیں کہلاتا سلیمان۔۔۔"
"کک۔۔کا۔۔۔ کامل آغا آپ ؟؟"
سلیمان کا کچھ دیر قبل والا غصہ کامل کو دیکھ کر جھاگ کی طرح بیٹھ گیا تھا حد یہ تھی کہ وہ کامل کے سامنے گھگھیا کر بات کر رہا تھا ۔

"عورت کی عزت کرنا ایک نیک اورعزت دار مرد کی نشانی ہے اور پھر مہمل تو آپ کی سگی بیٹی ہے نہ؟؟
کامل نے اسکو شرم دلانی چاہی۔

" افسوس کی بات ہے بہت یہ تم کیسے باپ ہوجو نا حق اپنی بیٹی پہ ہاتھ اٹھارہے ہو کاکا۔"

"آغا یہ لڑکی مجھ سے بدزبانی کر رہی تھی اور باپ ہونے کے حساب سے مجھے اس کا دماغ درست کرنا ہی پڑا"
 سلیمان نے بیوی کو اشارہ کیا آنکھوں سے کہ مہمل کو منظر سے غائب کرے مگر کامل کی زیرک نگاہ سے اسکا یہ اشارہ مخفی نہ رہ سکا ۔سلیمان کی ڈھٹائی دیکھ کر اس کا خون اندر تک کھول اٹھا تھا ۔۔

"کون بدزبانی کر رہا تھا اور کون بدسلوکی میں سب جانتا ہوں !!میرے سامنےکسی بھی قسم کی صفائی پیش کرنے کی ضرورت نہیں ہے کسی کو بھی ۔۔"

وہ اپنی تین سالا بیٹی جاناں کو تلاش کرتا ہوا آیا تھا کیونکہ وہ اکثر اور بیشتر مہمل کے ساتھ ہی اٹھکیلیاں کرتی ہوئی  نظر آتی تھی ۔

سلیمان کی غصے میں باہر تک آتی چیخ و پکار کو سن کر وہ خود کو روک نہ سکا اور کوارٹر کے پہلے سے کھلے دروازے کو دیکھ بغیر اجازت اندر بڑھایا تھا۔ سلیمان کا اپنی بیٹی پہ ہاتھ اٹھانا کا مل کے صبرکے پیمانے کو لبریز کر گیا تھا وہ عورت پر جبر کا قائل ہرگز نہ تھا ۔

"ایک لڑکی جب تک کمزور ہوتی ہے تب ہی تک وہ روتی ہے ۔جس دن وہ رونا ترک کر دیتی ہے سلمان کاکا یاد رکھنا اس دن ان کو رونا پڑتا ہے جنہوں نے اس کو رلایا تھا"

" چلو مہمل  اب تم یہاں نہیں رہوگی حویلی میں تم جاناں کے ساتھ رہا کرو گی اور ہاں آخری بات سلیمان کاکا تعلیم حاصل کرنا اس کا حق ہے اور یہ حق میں اس کو دلواؤں گا ۔۔"

یہ کہہ کر وہ رکا نہیں تھا سراسیمہ سی مہمل کا ہاتھ مضبوطی سے اپنے ہاتھ میں جکڑے وہ کوارٹر کا داخلی دروازہ عبور کرباہر نکلتا چلا گیا سلیمان اور اس کی بیوی دم بخود رہ گئے تھے اس ناگہانی  افتاد پہ ۔۔۔۔۔۔۔
۔🌹🌹🌹🌹🌹🌹

جاری ہے۔

0 comments:

Post a Comment