Thursday, May 30, 2019

sitamgar ko hum aziz by aymen nauman episode 6


#ستمگر_کو_ہم_عزیز

#ایمن_نعمان  📝

قسط 6
تم میرا منہ بند نہیں کرواسکتے ۔۔۔۔۔

 شفا بے بسی سے چیخیں  تھی!! اس کو لگ رہا تھا جیسے سارا منظر دھندلا گیا ہوں۔۔۔۔۔

 کیا بتاؤں گی؟؟؟

 کیا ثبوت ہے تمہارے پاس اور تمھاری بات پر یقین ہی کون کرے گا ؟؟؟

شفا رحمان ۔۔۔۔۔!!!

حمزہ نے اس کو کمرے میں لاکر زور سے بیڈ پہ دھکیلا تھا اور دروازہ مرکز لاک کر کے واپس پلٹا ۔۔۔۔

میرے باپ کے ٹکڑوں پہ پلنے والے ہو تم اور میرے باپ کو ہی تباہ برباد کرنے کی پلاننگ کر رہے ہو ۔۔۔؟؟؟؟

شفاء آگ بگولا ہوئی تھی اس کی طرف کسی جنگلی بلی کی طرح لپکی تھی ۔۔۔

شفاء میں کہتا ہوں اپنی حد میں رہو!!!
 ورنہ دیر نہیں لگے گی مجھے تمہارا غرور اور طنطنہ  چکنا چور کرنے میں ۔۔۔

شفا نے اس کا گریبان دبوچا ہوا تھا ۔۔
جس کی وجہ سے اس کی شرٹ کے اوپری دو بٹن ٹوٹ گئے تھے ۔۔۔۔۔

تم میرے ذریعے میرے باپ کو برباد کرو گے ؟؟؟؟
وہ اس سے تھوڑا فاصلہ قائم کرکے بولی ۔۔۔

چلو ویسے یہ اچھا ہی ہوا میرے حق میں ۔۔۔
کہ تم سب کچھ جان گئی ہو خود ہی! !! ورنہ میرے ارادے بہت خطرناک تھے ۔۔۔۔
جو شاید تمہاری سوچ سے باہر ہو۔.

تم جیسا مرد اور کر بھی کیا سکتا ہے ؟؟؟
مجھے نفرت ہو رہی ہے تم سے ۔۔۔۔
بے انتہا نفرت ۔۔۔!!!

 تم دیکھو ابھی میں کیا کچھ نہیں کرتی!؟؟

 یہ جو تم بہت ا کڑتے پھر رہے ہو نہ؟؟؟
 تمہارا یہ نام نہاد  غرور اور دبدبہ میں اسی وقت ریت کر دوں گی۔۔۔۔  !!

 شفا باہر جانے کے لئے مڑی۔۔۔

 ہا ں میری طرف سے خوشی سے کرو مجھے سب کے سامنے بے نقاب !! مگر یاد رکھنا شفا رحمان ۔۔!!

جیسے ہی یہ دروازہ کھلے گا ویسے ہی تمہارے دامن کو سیاہی کے چھینٹے اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔۔۔۔۔۔۔

 کیونکہ میں سب کو وہ کچھ بتاؤں گاجو تم سوچنا بھی دور کی بات!! تصور بھی نہیں کر سکتی ہو۔۔۔۔۔

 اس کے بعد تم گھر والوں تو کیا !!کسی کو بھی منہ دکھانے کے قابل نہیں رہو گی۔ ۔۔۔۔۔

 تم اس قدر گھٹیا ہو سکتے ہو؟؟؟
 یہ میرے وہم و گمان میں نہ تھا ۔۔۔۔۔!!!

وہ  ہر ادب و لحاظ بھول چکی تھی ۔۔
یاد تھا تو اتنا کہ وہ شخص اس کا بھائی نہیں اور اس کے ذریعے اس کے باپ کو کسی بہت ہی عظیم نقصان سے دوچار کرنے والا ہے ۔۔۔۔
جلدہی۔۔۔  !!!

 ٹھیک ہے تم میری ذات سے ہی میرے باپ کو تڑپاؤ گے نہ؟؟؟؟

 وہ ہذیانی انداز میں کہتی ڈریسنگ ٹیبل سے پرفیوم کی شیشی اٹھا کر دھاڑ سے دیوار سے مارکیٹ چکنا چور کر چکی تھی۔۔۔۔

 حمزہ چہرے پہ اطمینان لیے اس کی کاروائی ملاحظہ فرما رہا تھا ۔۔

جب میں ہی نہیں رہوں گی تو پھر تم اور تمہارا انتقام گیا تیل لینے۔ ۔۔۔۔۔

اس کا لہجہ کسی بھی قسم کی رعایت سے عاری تھا۔۔۔
 کہتے کے ساتھ ہی شفا نے زمین سے ایک کانچ کا ٹکڑا اٹھایا اور اپنی شہہ رگ پہ رکھ دیا ۔۔۔۔

خودکشی کرنی ہے شوق سے کرنا مگر۔۔۔
 اس سے پہلے ذرا ایک بار۔۔۔
" میری ہو جاؤ" ۔۔۔

"ایک دفعہ میرے اختیار میں آجاؤ ۔۔۔"

اس کے بعد تم ہر پل جیوگی اور پل پل مرو گی۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!سفاکی سے کہا گیا۔ ۔۔

 وہ اس کے ہاتھوں سے کانچ لینے کی کوشش کر رہا تھا مگر شفا میں تو گویا بجلی سی بھر گئی تھی وہ اپنے آپے میں ہی کہآں رہی تھی ۔۔۔۔۔

وہ یکدم تڑپ اٹھی تھی کانچ کی چھینا جھپٹی میں اس کا ہاتھ کچھ زخمی ہوچکا تھا۔۔۔۔۔۔
ٹھٹھک۔۔۔۔ ٹھٹھک۔۔۔ ٹھٹھک ۔۔ٹھٹھک ۔۔۔!!

 دروازہ کھولو ۔۔۔

باہر سے اب بری طرح دروازہ بجا یاجا رہا تھا ۔۔۔۔۔

شفا یہ کیا بچپنا ہے؟؟؟

 تم کم از کم اپنے اور میرے رشتے کا ہی خیال کر لو۔۔۔۔۔۔۔

 وہ اپنی شرٹ بیدردی سے پھاڑھتے ہوئے کہہ رہا تھا۔۔ ۔ ۔ ۔

 اس کے علاوہ اس کو زیادہ محنت نہیں کرنی پڑی تھی کیونکہ شفا کے ناخنوں کے نشان جا بجا اس کے بازوؤں اور سینے پر موجود تھے ۔۔۔ ۔

وہ بے یقینی سے اس کی تمام تر کارروائی دیکھ رہی تھی ۔۔
اس کی سوچنے سمجھنے کی تمام صلاحیت مفقود ہو کر رہ گئی تھی ۔۔۔۔۔

بے فکر رہو آج اس  کانچ سے تمہارا ہاتھ زخمی ہوا ھے بس ۔۔
تھوڑا انتظار کرو اس کانچ سے تمہاری شہہ رگ زخمی میں خود کروں گا ۔۔۔

سویٹ ہارٹ تمہارا ہرایک شوق اب میں ہی پورا کرونگا ۔۔۔۔۔

 باہر اب بہت بری طرح دروازہ پیٹا جارہا تھا ۔۔۔۔۔۔

چھوڑو شفا مجھے ۔۔۔۔!!

اپنی اور میری عزت کا خیال نہیں ہے  تو کم از کم  اپنے باپ کی عزت کا ہی خیال کر لو۔۔۔۔۔

 وہ شفا کو خود سے نزدیک کرتے ہوئے بولا ۔۔۔
شفا بس پھٹی پھٹی آنکھوں سےکبھی دروازے کو تو کبھی حمزہ کی عجیب وغریب  حرکتوں وگفتگو کو سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔۔۔

"تمہیں تمہاری پہلی ہار مبارک ہو بے" ۔۔۔۔۔

بےفکر رہو ایسے بہت سے تحفے ابھی میں تمہیں وقتً فوقتً دیتا رہوں گا۔۔۔۔۔۔

 وہ اس کی ڈریسنگ  سے لپ اسٹک اٹھا کر اس کے لبوں پر  بیدردی سے لگا کر واپس بند کر کے ترتیب سے رکھ چکا تھا۔ ۔
 اور بغیر شفا کو سمجھنے کا موقع دیئے اپنے انگوٹھے سے اس کی لپسٹک لبوں سے پھیلائی ۔۔۔
وہ  شفا کو معنی خیز نظروں سے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔۔
اپنے انگوٹھے پر موجود لپسٹک اس نے بڑی مہارت سے شاطرانہ انداز میں اپنے ہی لبوں پر مسل ڈالی تھی  ۔۔۔۔۔
جیسےشفا نے اس کے ساتھ یہ سب کچھ زبردستی کرنے کی کوشش کی ہو ۔۔۔۔
عمر دروازہ توڑ کےکمرے میں داخل ہوا تو اس کے پیچھے کئی اور چہرے بھی نمودار ہوئے تھے۔ ۔۔۔
💕
کیا ہوا ہے ائمہ تم اس طرح کیوں رورہی ہو ؟؟؟؟
سعیدا بیٹی کی  اجڑی حالت دیکھ کر چکرا گئی تھیں ۔۔۔
جب کہ ننھی منی روئی کے گولے جیسے وجود کو  عائشہ نے اپنے بازوؤں میں بھر لیا تھا ۔۔۔
سب کچھ ختم ہو گیا امی۔ ۔۔۔
 آپ کی بیٹی بر باد ہو کر آپ کی دہلیز پہ ایک دفعہ پھر آ پہنچی ہے ۔۔
کیا اول فول بک رہی ہو؟؟
  ٹھیک سے بتاؤ کیا ہوا ایسا ؟؟؟

سعیدہ نے اس کے نڈھال وجود کو کانپتے ہوئے صوفے پر بیٹھا یا تھا ۔۔

وہ ان ماؤں میں سے تھی جو اپنی بیٹیوں کی ڈھال بن جایا کرتی ہے۔۔۔
 ہر دکھ سکھ میں انکو سہارا دینے کے لئے تیار رہتی ہے ۔۔

اس کو پانی پلاتے ہوئے بہت مشکل سے خود کو سنبھالتے ہوئے بولی تھیں۔ ۔
 عائشہ تم اندر جاؤ بچے کو لے کر۔۔۔
 سیدہ نے اپنے سرخ و سفید نو اسے پہ ایک افسردہ نظر ڈال کر عائشہ سے کہا ۔۔
جی امی۔۔۔۔
 عائشہ چپ چاپ اپنے کمرے میں جا چکی تھی۔۔۔

 اب بتاؤ مجھے سب کچھ ٹھیک ٹھیک اور اپنی ماں سے کچھ چھپانا میری بچی۔۔

 آئمہ تڑپ کر ماں سے لپٹ گئی تھی اور پھر اپنے ساتھ گزری تمام تر داستان اپنی ہمدرد ماں کو کہہ سنائی۔۔۔
 سعید جیسے پتھرا سی گئی اپنی نازوں پلی بچی پہ اتنے بڑے بڑے مظالم کی داستان سن کر اس کا دل پھٹ سا گیا تھا  ۔۔۔
💕
غزل بیگم صاحبزادے کہاں ہیں ہمارے؟ ؟؟؟
 حمادنے جاگنگ سے آکر غزل سے فریش جوس کا گلاس لیتے ہوئے استفسار کیا ۔۔۔۔
آج حویلی سے آپی کی طرف جائے گا شام تک۔۔۔
 حماد صاحب کا ہاتھ لمحے بھر کو رکا تھا۔۔۔
 حویلی کیا کرنے گیا ہے ؟؟؟
اس کو کتنی دفعہ منع کیا ہے کہ وہاں مت جایا کرے وہ ایک آسیب زدہ حویلی ہے ۔۔۔
وہ بیٹے کے لئے پریشان تھے ۔۔۔
آپ کو کیا لگتا ہے کہ میں نے اس کو خوشی سے بھیجا ہوگا حویلی؟؟
 غزل خفگی سے گویا ہوئی۔۔۔۔
 میں یہ نہیں کہہ رہا مگر تم اس کو سمجھا بھی تو سکتی ہو نا۔
 گڑھیا کے معاملے میں بالکل  بے بس ہو اسکی میں۔۔۔۔
 غزل کی آنکھوں میں کی ہنستی بستی کئ یادوں کے سائے لہرائے تھے ۔۔۔
حماد نے اس کی آنکھوں میں نمی تیرتی دیکھیں ۔۔۔
_______
کیا ہورہا ہے؟؟؟؟

 رحمان صاحب روتی ہوئی ائمہ کے اوپر چلا کر بولے تھے۔۔۔۔

 مجھے نہیں پتا یہ سب کیا ہو رہا ہے۔۔۔۔
 ائمہ نے سہم کر جواب دیا تھا۔۔۔۔۔۔

آپی  پھر اندر شفا کے کمرے سے حمزہ کی آوازیں کیوں آ رہی ہیں دھاڑنے کی اتنی زور زور سے؟؟؟؟

جنکہ غزل نے نرمی سے آئمہ سے دریافت کیا ۔۔۔۔۔

پتا نہیں سمیرا میں تو خود حمزہ کے کمرے میں گئی تھی!! اس سے بات ہی کر رہی تھی جب اچانک باہر کچھ گر کر ٹوٹنے کی آواز آئی تھی۔۔۔
 تب حمزہ بھاگا تھا باہر!!
 جب تک میں اٹھی اور کمرے کے باہر پہنچی تب تک حمزہ اپنے کمرے کے باہر نہیں تھا ۔۔۔۔۔

بس ایک کپ ٹوٹا پڑا تھا ۔۔۔
جب کہ شور کی آوازیں زور رو سے شفا کے کمرے سے آرہی تھی ۔۔۔۔
 ایمانداری سے سچ سچ بتا گئی۔۔۔۔۔

مگر وہ  دل ہی دل میں سہم کر رہ گئی تھی ۔۔
کہیں حمزہ نے اپنی بات پر عملدرآمد تو نہیں کر لیا؟؟؟؟
 کہیں اس نے شفاء کے ساتھ کچھ غلط تو نہیں کر دیا؟؟؟؟

 آپنے بدلے کی آگ میں کہیں وہ ایک معصوم لڑکی کی نازوک عزت کو تار تار تو نہیں کر بیٹھا تھا  ۔۔؟؟؟؟

ائمہ کے دل میں کئی خدشات جنم لے رہے تھے ۔۔
اس کے ذہن میں کئی خوفناک سوچیں کسی زہریلے ناگ کی طرح ڈس رہی تھیں ۔۔۔

عمر حواس باختہ ساہو کر اپنے کمرے سے نکلا تھا اور باہر کی صورتحال دیکھ کر بھو نچکا رہ گیا۔۔۔۔

 وہ پریشان سہ بہن کے بیڈ روم کے دروازے کی طرف دوڑا تھا ۔۔۔۔

اس نے دروازہ زور سے پکڑ کر کھینچا بھی مگر دروازہ ھلا تک نہ اپنی جگہ سے ،۔۔

ماما دروازہ اندر سے لاکڈ ہے ۔۔
عمر نے ماتھے پہ آیا پسینہ اپنے بازو سے پوچھا ۔۔

میں دروازہ بچاتا ہوں ۔۔۔۔
رحمان صاحب پریشانی کے عالم میں بولے۔۔۔

 نہیں آپ اس کی ایکسٹرا چابی لیکر آئیے جب تک میں دروازہ کھولو آنے کی کوشش کرتا ہوں۔۔۔۔

 عمر کے چہرے پہ موجود پریشانی کی جگہ اب غصے اور اشتعال نے لے لی تھی۔۔۔۔
 اندر سے آتی  آواز وں سے اس کو بہت کچھ سمجھ آ گئی تھی ۔۔۔۔

چند منٹ دروازہ بجانے کے باوجود بھی جب اندر سے دروازہ نہ کھلا تو باہر موجود وہ دونوں خواتین  کھڑی مزید خوفزدہ ہو گئیں تھیں۔ ۔۔

سمیرا اور ائمہ کو اس نازک صورتحال کا بہت اچھے سے اندازہ ہو رہا تھا ۔۔۔نن
جسکا اب ان لوگوں نے کچھ دیر بعد سامنا کرنا
تھا ۔۔۔
عمر نے اپنی پوری طاقت صرف کرکے دروازہ آخرکار کھول ہی لیا تھا۔۔۔۔

 سامنے منظر اس کے لئے تو کیا کسی بھی عزت اور غیرت کے مارے بھائی کے لئے ناقابل برداشت تھا۔ ۔۔

عمر کی آنکھوں میں خون اتر آیا تھا ۔۔۔۔۔

شفا نے وحشت زدہ نظروں سے باپ بھائی کے شعلے برساتے چہروں کو دیکھا تھا ۔۔

انرجی سیور کی روشنی بھی اس کے چہرے کی زردی کو نمایاں ہونے سے نہ بچاسکی تھی۔۔۔۔

 کیا تماشہ ہے یہ سب ؟؟؟؟
عمر نے چنگھاڑتے ہوئے حمزہ کا گریبان پکڑ ا ۔۔

مجھ سے کیا پوچھتے ہو ۔۔؟؟؟
یہ اپنی بہن سے پوچھو ۔۔۔۔

ھمزہ نے طیش کے عالم میں آگ بگولا ہوئے عمر کے ہاتھ جھٹکے تھے اور اس سے بھی زیادہ تیز آواز میں   دھاڑا۔۔

جبکہ باقی سب نفوسوں کو گویا سانپ سونگ گیا تھا۔۔۔۔
 آئمہ کا چہرہ لٹھے کی مانند سفید پڑ چکا تھا جبکہ غزل خود بھی زلزلوں کی زد میں تھیں۔۔۔

 رحمان صاحب کو لگا جیسے آج کئی پوشیدہ باتیں جو اتنے عرصے سے راز تھی وہ آشکار ہونے کو ہے ۔۔

اس بات کا کیا مطلب ہے کہ یہ میری بہن ہے ؟؟؟
 تم بھی اس کے بھائی ہو ۔۔۔

عمر کا بس نہیں چل رہا تھا کہ ہر طرف آگ لگا دے۔۔۔۔
 پہلی بات یہ کہ یہ میری بہن نہیں ہے اور دوسری بات یہ کہ اگر بہنیں اس جیسی ہوتی ہیں تو میں اکلوتا ہی ٹھیک ہوں ۔۔۔۔۔
اس نے اکلوتے لفظ پہ زور دے کے بولا ۔۔

ہاں نہیں ہے یہ میرا بھائی اور یہی سچ تو میں جان گی تھی ۔۔۔
جس کی وجہ سے یہ شخص میرے ساتھ اس حد تک ۔۔۔۔
شفا سسکتے ہوئے اپنی صفائی پیش کرنے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔۔۔

یہ تم کیا کہہ رہے ہو جانتے بھی ہو کیا خرافات اپنی منہ سے بک رہے ہو ؟؟
اب کی دفعہ ائمہ نے حمزہ کو آڑے ہاتھوں لیا تھا ۔۔۔

ماما جان یہ بات آپ مجھ سے نہیں یہ بات آپ رحمان صاحب سے پوچھا۔۔۔
 کیوں بابا میں ٹھیک کہہ رہا ہوناکہ میں اکلوتا ہوں ؟؟؟؟؟
 یہ لوگ میرے بہن بھائی نہیں ہے نا ؟؟؟؟

اس نے ائمہ کے جواب دینے کے ساتھ ساتھ رحمان صاحب کو بھی مخاطب کر ڈالا تھا ۔۔۔

رحمان صاحب حمزہ کے اس قدر سفاک سوال پہ حق دق رہ گئے تھے ان کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت یخلقت مفقود ہو کر رہ گئی تھی .
بابا میں نے کچھ نہیں کیا۔۔۔۔
 یہ سب جھوٹ ہے ۔۔۔۔۔
شفا نے ایک دفعہ پھر اپنی صفائی پیش کرنا چاہی۔۔۔

تم بالکل ٹھیک کہہ رہی ہو۔۔۔
آپ دیکھ لیں اس نے کچھ بھی تو نہیں کیا ۔۔۔۔
یہ تو بہت شریف سیدھی سادھی لڑکی ہے کچھ کر ہی نہیں سکتی ۔۔۔۔

حمزہ نے طنزیہ کہا اور اپنی طرف اشارہ کیا جیسے کہہ رہا ہو ۔۔۔

میری حالت اور اپنی بیٹی کی حالت کو دیکھ کر خود ہی فیصلہ کرلیں ۔۔
۔کون کتنے پانی میں ہے ۔۔

رحمان صاحب اور ائمہ کو تو گویا جیسے سناٹوں نے آن گھیرا تھا ۔۔
جس رازکی حفاظت ان دونوں نے اتنے عرصے سے کی تھی وہ آج اس طرح سے فاش ہوگیا تھا بچوں کے سامنے ۔۔
بھائی آپ تو یقین کریں۔۔۔۔
 آپ تو میری بات پر یقین رکھتے ہیں نہ ؟؟؟؟
یہ شخص جھوٹ بول رہا ہے میں تو کوریڈور  سے گزر رہی تھی جب اچانک ۔۔۔
چٹا خ۔ ۔۔
بس اب ایک لفظ اور نہیں ۔۔
شفا کی بات ادھوری رہ گئی تھی جب سمیرا  نے آگے بڑھ کر بیٹی کے چہرے پر زور سے زناٹے دار چماٹا  جڑ دیا تھا

0 comments:

Post a Comment