tu kitni masoom hai episode 9 by aymen nauman
حجاب ڈریسنگ روم میں آکر ادھر ادھر دیکھتی ہے کہ شاید کچھہلکا پھلکا رات کو پہننےکے لئے مل جائے ۔۔۔۔۔
مگر اسے و ہاں ادھر ادھر ڈھونڈنے پر بھی کچھ ایسا نہیں مل سکا ۔۔
سوائے ماما کے دیے ہوئے "نائٹ ڈریس "کے۔۔۔۔۔۔۔
حجاب نے شکر کا سانس لیا۔۔۔۔
" اب آئے گا مزا اب دیکھو میں کیا کرتی ہو "۔۔۔
حجاب کچھ سوچ کے بڑبڑائ۔ ۔۔
آ دیکھیں زرا۔۔۔
کس میں کتنا ہے دم ۔۔۔
وہ اب باقاعدہ گنگنا رہی تھی ۔۔۔
حجاب نائٹی اٹھاکر چینج کرنے چلی گئی۔۔۔
ہجاب جب چینج کر کے باہر آئ اس وقت بشر واش روم میں تھا ۔۔۔۔۔
وہ بڑی خاموشی و شرافت سے اپنی سائیڈ پر آ کر لیٹ گئی اور کمفرٹر سر تک ڈھانپ لیا ۔۔۔۔۔
"مائے سویٹ ہارٹ صبح آپ کو بہت فخر ہوگا
میرے کپڑےاتنے بہترین ڈیزائن کرنے پر "۔۔۔
"چھوڑنے والی تو میں بھی نہیں ہوں آپ کو بس اب صبح کا انتظار ہے "۔۔۔
"بشر فریش ہو کر کمرے میں آیا"۔۔
سوتی ہوئ حجاب کو دیکھا ۔۔۔
وہ سر سے پیر تک خود کوکمفرٹرسے چھپائے شاید سورچکی تھی۔ ۔۔
بشر لبوں پہپیاری سی مسکراہٹ بکھر گئ۔ ۔
" لگتا ہے بن بتوڑی کا دماغ ٹھکانے پرآنا شروع ہو گیا ہے"۔۔
تیرا ہونے لگا ہوں۔ ۔۔
کھونے لگا ہوں۔ ۔۔
بشر نے سیٹی بجاتے ہوئے شوخ سی دھن گنگنائی ۔۔
"چلو زیادہ محنت نہیں کرنی پڑے گی"۔۔۔
۔ بشر مزید حجاب کو تنگ کرنے کا ارادہ ترک کرکے خاموشی سے آکر اپنی جگہ پر لیٹ گیا
💫💫💫💫💫💫
صبح بشرکی آنکھ پہلے کھل گئ۔ ۔۔
اس نے اٹھ کر ٹائم دیکھا۔۔۔
گھڑی صبح کے دس بجا رہی تھی ۔۔۔
حجاب پہ نظر ڈالی وہ کمفرٹر میں گھسی خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہی تھی ۔۔۔
ابھی وہ فریش ہونے کے لئے اٹھ رہا تھا جب
اس کا موبائل بج اٹھا ۔۔۔
اسکرین پر بابا کا نمبر دیکھ کر اس نے فوری کال ریسیو کی ۔۔۔
"السلام علیکم بابا"۔۔۔
" وعلیکم اسلام بچہ"۔۔۔
"سب خیریت ہے بچہ "۔۔
"جی بابا سب خیر ہے"۔۔۔
"کل ماما سے بات ہوئی تھی آپ سو رہے تھے اس وقت"۔۔۔
"جی بچہ ماما نے بتایا تھا آپ کی صبح "۔۔
"حجاب کہاں ہے؟
" لاؤ بات کراوُ اس سے میری"۔۔
" با با حجاب سو رہی ہے"۔۔
" اٹھتی ہے تو کال کرواتا ہوں"۔۔
"اچھا بچہ اب ہم لوگ ناشتہ کر کے 12بجے تک ائیر رپورٹ کیلئے روانہ ہوں گے"۔۔
" ٹھیک ہے بابا میں ر سیو کر لوں گا آپ لوگوں کو"۔ ۔۔۔۔۔
"چلو اب آپ بھی ناشتہ کرو"۔
" فی امان اللہ بیٹا"۔۔۔
" فی امان اللّہ بابا "۔۔
بشر نے بات ختم ہونے کے بعد فون بند کیا ۔۔۔
وہ حجاب کو سوتا سمجھ کر روم سے باہر نکل جاتا ہے۔ ۔
دل تو کیا کہ اٹھا دے ساتھ ناشتے کے لیے مگر پھر ایک خیال ذہن میں کوندا۔۔
" شہد کی مکھی سے فلحال دور ہی رہنا چاہیے۔"۔۔۔ "ابھی تو وہ زخمی شیرنی بنی ہوئی ہوگی"۔۔
بشر ایک نظر حجاب پر ڈالتا کمرے سے باہر نکل گیا۔۔
بشر کے جاتے ہی حجاب فوراً اٹھ کے بیٹھ گئی۔۔۔
وہ اس کے جانےکا ہی تو انتظار کر رہی تھی ۔۔۔
ورنہ اٹھ تو وہ تبھی گئی تھی جب بشر بابا سے بات کر رہا تھا ۔۔۔۔
جلدی جلدی فریش ہو کر برات والا نائٹ ڈریس (نائٹی) بغیر تبدیل کیے وہ کمرے سے باہرنکل گئ۔۔
"میرے پیارے 'hubby' اب تم اپنی جیب خالی کرنے کے لئے تیار ہو جاؤ شلوار قمیض میں نہیں پہنتی"۔۔۔
" تم نے میری اتنی پیاری پیاری ٹی شرٹس کاٹ دیں" ۔۔۔
حجاب کو رہ رہ کر افسوس ہو رہا تھا ۔۔۔۔
"ہیلو میرے پیارے ہٹلر "۔۔
حجاب بشر کے سامنے کھڑی بہت دلکش انداز اورایک ادا کھڑی صبح کا سلام پیش کر رہی تھی۔۔۔۔
بلکل کوئ فلم کی ہیروئن کی طرح ۔۔۔
بشر نے جواب دینے کے لئے جیسے اس کو دیکھا ۔۔۔
بشر کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا ایساب میں ایکدم اشتعال سا بھر گیا۔۔۔
" یہ کیا پہن کر نکلی ہو ؟؟؟؟"۔۔۔
بشر کا دماغ بھک سے اڑ گیا اس کو نائٹی میں باہر دیکھ کر ۔۔۔۔۔
"کیوں کیا ہوا؟؟؟؟"۔۔۔۔
حجاب نے شرارتی لہجے میں آنکھیں پٹ پٹا پٹا کر معصومیت سے کہا ۔۔۔۔
ملازمہ جو ابھی ابھی ڈرائنگ روم ناشتہ لے کر داخل ہوئی تھی حجاب کو دیکھ کر پوری بتیسی کی نمائش اس نے مفت میں کر ڈالی ۔ ۔۔۔
بشر شرمندگی اور غصے کی اتھاہ گہرائیوں میں تھا۔۔۔۔
" تم جاؤ یہاں سے اور اپنی یہ بتیسی اندر کرو "۔۔۔۔
وہ ملازمہ پہ دھارا۔۔۔
ملازمہ اپنی ہنسی بامشکل ضبط کرتی وہاں سے کھسک گئی ۔۔۔۔
بشر اپنی کرسی سے اٹھا اور حجاب کا ہاتھ سختی سے پکڑ کےکمرے میں کھینچتا ہوا لے کر آیا۔۔۔۔
"تم یہ کیا بیہودہ لباس پہن کر باہر آئی ہو" ۔۔۔
"کونسا بیہودہ لباس ؟؟؟
"میں نے تو نائٹ ڈریس پہنا ہے "۔۔۔
حجاب نیں معصومیت کے تمام ریکارڈ توڑ ڈالے۔ ۔۔۔
" میں بتاؤں کیا ہے اس میں؟ ؟؟؟؟"۔۔
بشر طیش کے عالم میں حجاب کی طرف بڑھا۔۔۔۔ وہ آج شدید زچ ہو چکا تھا۔۔۔
حجاب اس کے تاثرات دیکھ کر الٹے قدموں پیچھے دیوار سے جا لگی ۔۔۔۔
حجاب کی آنکھیں خوف سے پھیل گئیں۔ ۔۔
بشر نے اس کی کلائی پکڑ کر اسکا منہ دیوار کی طرف کیا اور اپنی تھوڑی اس کے کندھے پر رکھ کر
کلائی سختی سے مروڑی ۔۔۔
کلائی بشر کے ہاتھوں حجاب کی کمر پر سختی سے مڑی ہوئ تھی ۔۔۔
"پلیز چھوڑیں مجھے ۔۔۔
درد سے اس کی آنکھوں میں نمی بھر گئی ۔۔۔
"اس لباس میں تمہیں دیکھنے کا حق صرف اور صرف میراہے "۔۔۔
"میرے علاوہ چاہے کوئی بھی ہو میں یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ اس کی نظر تمہارے جسم کےنشیب و فراز پر پڑے"۔۔ ۔۔۔
میں نےتمہیں اگر ڈھیل دی ہوئی ہے۔۔
اس کا ہر گز بھی یہ مطلب نہیں ہے کہ تم اپنی من مانی کر"۔۔
وہ آج پہلی دفعہ اس سے خائف ہوئی تھی۔۔۔
وہ تو سمجھ رہی تھی کہ وہ اپنی غلطی پر پچھتائے گا مگر یہ کیا ۔۔۔
بشر اس کی نمی سے بھری آنکھوں کو دیکھ کر ایک جھٹکے سے اسے چھوڑ کے کمرے سے نکل گیا ۔۔۔۔
💫💫💫💫💫💫💫💫
کراچی سے آنے کے بعد شام میں جب حمدان اور مقیم صاحب قدسیہ کے گھر پہنچے تو دونوں سکتے میں آ گئے ۔۔۔
برابر میں خالدہ سے پتہ چلا کہ قدسیہ کا 4 دن پہلے انتقال ہوگیاہے۔۔
اور اسراء آج ہی اپنی خالہ کے ساتھ کراچی چلی گئی ہے ۔۔۔۔
ؓمکیم صاحب صدمے کی حالت میں کچھ کہے اور سن ہی نہیں پائے ۔۔۔۔
"آپ کے پاس ایڈریس ہے کوئی انکا"۔۔۔؟؟؟
" نہیں بیٹا میرے پاس تو کوئی اتا پتا نہیں ہے"۔۔
ہاں بس مجھے اتنا پتا ہے کہ قدسیہ نے اپنی زندگی میں اسرا کو کہا تھا کہ کوئی بھی اس کے بعد برا وقت آئے تو وہ اپنی خالہ سے رابطہ کرے" ۔۔
حمدان اور بہت کچھ پوچھنا چاہتا تھا مگر اسراء نے اس کو دو کوڑی کا کردیا تھا اس کی خود کی نظروں میں۔ ۔۔
اپنے شوہر پر ہی بھروسہ نہیں کیا ۔۔۔
"میں تمہیں دنیا کے کسی بھی کونے سے ڈھونڈ نکالوں گا "۔۔۔۔
"تم میری امانت ہو اور میں اپنی امانت میں خیانت نہیں برداشت کروں گا "۔۔۔
حمدان کے دماغ کی رگ غصے سے تن گئی۔۔
اسرار نے انجانے میں حمدان کے غصے کو ہوادے ڈالی تھی ۔۔۔
"حاصل تو میں اب تمہیں کر کے رہوں گا "۔۔
"سیدھے طریقے سے تو تم باز نہیں آئیں اب تم دیکھو اورالٹی گنتی شروع کر دو"۔۔۔۔
محبت کی جگہ طیش اور غصے نے لے لی تھی۔۔۔
حمدان پہ گویا اسر اء کو حاصل کرنے کا جنون سوار ہو گیا تھا ۔۔
💫💫💫💫💫💫💫
سمیر نے آخرکار فرح کی محبت میں ہتھیار ڈال دیے تھے۔۔۔۔۔
اور آج فرح اس کی سیج سجائے۔۔
اس کے انتظار میں بیٹھی تھی ۔۔
سمیر آہستہ سے اندر آیا ۔۔
پورا کمرہ گلابوں اور موتیوں کی خوشبو سے مہک رہا تھا۔ ۔
وہ حسین تو پہلے ہی تھی مگر آج تو آسمان سے اتری کوئ اپسرا ء لگ رہی تھی۔۔۔
سمیر نے فرح کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا۔۔۔
" آج میں بہت خوش ہوں میری محبت مجھے مل گئی"۔۔
سمیرنے اس کے ہاتھ پہ بوسہ دیا ۔۔۔
فرح نے بھی اس کی محبت کا جواب محبت سے دیا اور ایک حسین محبت بھری رات اپنے اختتام کو پہنچی ۔۔۔۔۔
💕💕💕💕💕💕💕
جاری ہے ۔۔۔۔

0 comments:
Post a Comment