tu kitni masoom hai episode 10 by aymen nauman
بشر کے کمرے سے جانے کے بعد حجاب زاروقطار رو پڑتی ہے۔۔۔۔
نظر اپنی کلائی پر ڈالتی ہے اس پر ابھی بھی بشر کی انگلیوں کے نشان موجود تھے۔۔ ۔۔
درد کی شدت اتنی تھی کے کلائی موو بھی نہیں ہو پا رہی تھی۔۔
حجا ب نے غصے میں ملازمہ کو بلا کر اپنا کچھ ضروری سامان لےجاکے بشر کے برابر میں بنے روم میں رکھوالیا ۔۔۔۔۔
آج اس کو اپنے ماں باپ بہت شدت سے یاد آ رہے تھے ۔۔۔۔
"ماما بابا آپ مجھے کیوں تنہا کر گئے ؟؟؟"
"بھائی بھی مجھے چھوڑ کر چلا گیا"۔۔۔
بشر اچھے ہیں مگر ۔۔۔
اور اس مگر کے آگے وہ کچھ سوچ نہیں پا رہی تھی۔۔۔۔
آنسو تھے کہ موتیوں کی ٹوٹی ہوئی لڑی کی طرح گر رہے تھے۔۔۔
وہ اب کمرے میں تنہا بیٹھ کر و زار و قطار رو رہی تھی ۔۔
💕💕💕💕💕
بشر ایئرپورٹ کے لئے نکل چکا تھا اور پورا راستہ ڈرائیو کرتے ہوئے اس کو کبھی حجاب پر غصہ آتا تو کبھی خود پہ ۔۔۔
وہ بار بار حجاب کے تکلیف دہ چہرے کو سوچ کر افسردہ ہو رہا تھا ۔۔۔
"مجھے حجاب کے ساتھ تھوڑی نرمی برتنی چاہیے۔"۔۔۔۔
" میں بار بار کیوں یہ بات بھول جاتا ہوں کہ اس ریلیشن کے لئے ابھی اس کو وقت کے ساتھ ساتھ میری توجہ اور محبت بھی درکار ہے"۔۔
"اور پھر وہ ہے ہی کتنی بڑی"۔۔
" اس عمر میں تو لڑکیاں خواب دیکھنا شروع کرتی ہیں" ۔۔۔
" ہوسکتا ہے وہ مجھے ایز اے لائف پارٹنر کبھی قبول نہ کر پا رہی ہوں ؟۔۔
اس کے اندر ایک جنگ جل رہی تھی۔ ۔
"مگر۔۔۔ مگر میں نے اس کی آنکھیں پڑھی ہیں۔۔۔
وہ کسی کو پسند دور کی بات دوستی بھی نہ کر نے والی تھی ۔۔۔
وہ صرف میری حجاب ہے معصوم اور انچھوئ۔ ۔
وہ حجاب سے محبت کی منزلیں طے کر چکا تھا۔۔۔
بشرآج سب سے اونچائی پر تھا۔۔۔
وہ اپنی سوچوں کو جھٹک کر ایئرپورٹ کے پارکنگ ایریا میں کار پار ک کرکے بہار اتر آیا ۔۔
💕💕💕💕💕💕
"آجاوُ بیٹا"۔۔۔
خالو نے گم سم گھڑی اسراء کو کہا۔۔۔
" جی خالو اسرا ء"۔۔
وہ کچھ گھبراہٹ کا شکار تھی ۔۔۔
وہ تھی بھی ایسی ہی ڈرپوک شرمیلی حالات سے فوراً گھبرا کر رو دے نے والی۔۔۔۔
ابھی بھی بار بار اپنا دوپٹہ سر پہ برابر کر رہی تھی۔۔۔۔
خالہ نے اس کی بوکھلاہٹ محسوس کرلی۔ ۔
انہوں نے آگے بڑھ کر اس کا ہاتھ پکڑلیا۔ ۔
گویا مضبوط سہارا ہی چاہیے تھا۔ ۔۔
وہ اب تھوڑی پرسکون سی تھی ۔۔۔
بابا نے بشر کو سامنے دیکھ کر آواز دی۔۔۔
بشر ان لوگوں کی طرف بڑھا اور اسرا ء کو دیکھ کر بس سلام کرکے ان کو گاڑی کی طرف لے آیا ۔۔۔
اسراء کو لگا شاید بشر کو اس کا آنا کچھ خاص پسند نہ آیا ہو۔ ۔
وہ ابھی کوئی بھی سوال اسراءکے سامنے نہیں کرنا چاہتا تھا ۔۔۔
وہ اس کو ویسے ہی بہت زیادہ افسردہ اور گھبرائی ہوئی لگ رہی تھی ۔۔۔
البتہ بابا اور وہ پورے راستے ایک دوسرے سے کسی نہ کسی ٹوپک پر بات کرتے رہے تھے ۔۔
گھر آ چکا تھ۔۔۔۔
بشر نے ہارن دے کر چوکیدار سے گیٹ کھلوایا ۔۔
اور گاڑی پارک کر کے فورا گاڑی سے اترا اور ادھر ادھر دیکھنے لگا ۔۔۔
پریشانی اسکے چہرے سے ہویدا تھی ۔۔
کافی دیر تک وہ اس کو کہیں بھی نظر نہیں آئ۔ ۔۔
" حجاب۔۔۔۔ حجاب"۔۔۔
" بیٹا "۔۔۔۔
ما ما نےاندر آتے ہی حجاب کو پکارا۔ ۔۔
"ماما شاید روم میں ہوگی"۔۔۔
" میں دیکھتا ہوں"۔۔۔
اسراء کو ماما نے فریش ہونے کے لئے اس کا کمرہ دکھانے کے لئے لے گئی ۔۔
بشرنی شکر کا سانس لیا کہ ابھی دوپہر کے دو ہی بج رہے تھے اور دوپہر میں ماما عموماً ریسٹ کرتی تھیں تھوڑی دیر۔۔۔۔
وہ نہیں چاہتا تھا کہ گھر میں کوئ بھی کچھ جانے۔ ۔
بابا آفس میں ہوتے بشر کے ساتھ مگر اتوار ہونے کی وجہ سے بابا بھی ریسٙٹ کرنے کے لئے روم میں ہوں لیے۔۔۔
وہ سیدھا اس دشمن جا ں کو دیکھنے اپنے کمرے کی طرف بڑھا ۔۔۔
کمرے میں جاکر دیکھا تو وہ وہاں بھی نہیں تھی موبائل پر کال کی ۔۔۔
وہ بہی سائیڈ ٹیبل پر ہی بج اٹھا کمرہ کی۔ ۔
بشر اب صحیح معنوں میں پریشان ہو گیا تھا۔۔۔
وہ کمرے سے باہر نکل کر ابھی نیچے کی سیڑیاں اتر ہی رہا تھا۔۔۔
جب برابر والے کمرے میں سے اسکو سسکیاں آتی سنائی دیں۔ ۔
وہ اس کمرے کی طرف بڑھا۔ ۔
ہاتھ بڑھا کے کمرے کا دروازہ کھولا وہ لا ک نہیں تھا۔۔
بشر کمرے کے اندر داخل ہوا ۔۔۔
سامنے حجاب بیڈ پہ بیٹھی گھٹنوں میں سر دیے رو رہی تھی ۔۔
بشر اس کے پاس گیا اور آہستہ سے رو تی ہوئ حجاب کی تھوڑی اوپر کی ۔۔
وہ ابتر حالت میں تھی نائٹی ابھی تک اس کا جسم کی زینت بنی ہوئی تھی۔۔۔
شرکی نظر چہرے سے ہوتی ہوئی بازوُں پہ گئی ۔۔
اس نے آہستہ سے حجاب کی نائیٹی کے ڈھلکے ہوئے اسٹیپ کو اوپر کیا۔ ۔۔
حجاب نے اس کے چھونے سے فوراً اپنا کندھا ناراضگی سے پیچھے کیا ۔۔
"جائیں آپ یہاں سے"
" مجھے میرے گھر جانا ہے" ۔۔
"اچھا مجھے بتاؤ میں کہاں جاؤں ؟؟؟"۔۔
"یہ آپ کا گھر ہے آپ کہیں بھی چلے جائیں "۔۔۔۔
حجاب کے لہجے میں پہلی والی کھنک اور اکڑ نہیں تھی۔۔۔
بشر کو لگا جیسے وہ اس سے خوفزدہ سی ہے۔
اچھا بس چلو اپنے کمرے میں اور ہولیہ درست کرو ماما بابا آ گئے ہیں ۔۔
سی ۔۔
حجاب کی کلائی کو جیسے ہی بشر نے پکڑ کر اس کو اٹھانا چاہا۔۔۔
حجاب تکلیف سے تڑپ و کراہ اٹھی ۔۔
💕💕💕💕💕💕
اسراء کمرے میں صوفے پہ بیٹھ کر آنکھیں موند لیتی ہے۔۔۔
جیسے اتنے دنوں کی تھکن مٹانا چاہتی ہو۔۔۔
"حمدان دیکھ لو تم نے مجھ سے آج ہی کے دن کہا تھا نہ کہ :
"میں تمہاری سیج سجاؤں گی۔۔
اب تم مجھے ڈھونڈتے رہ جاو گے۔۔
سیج تو دور کی بات میری پرچھائیں تک بھی تمہیں میں پہنچنے نہیں دوں گی" ۔۔
جاب وہ قدسیہ کے کہنے پہ پہلے ہی چھوڑ چکی تھی۔۔۔
مگر جب حمدان اس کو دھمکا کر گیا تھا۔۔۔
اس وقت اسرا نے ضد میں آکر اس کو نہیں بتایا تھا کہ قدسیہ بیگم نے اسراء کا وہ دھمکیوں والا خط پڑھ لیا تھا اور وہ بضد ہوگیئں کے وہ جاب کو ریزائن کردے جلدازجلد ۔۔
"میں خالہ پر بوجھ نہیں بنوں گی اور جلدی کوئی جاب کر لوں گی ان شاءاللہ" ۔۔۔
اسراء کی رگوں میں قدسیہ کی دی ہوئ تربیت رچی ہوئ تھی۔۔
جب اس کی ماں نے پوری زندگی کسی کا احسان نہیں لیا تو پھر وہ کیوں اور کیسے لے لیتی ۔۔۔
💕💕💕💕💕
جاری ہے۔ ۔۔۔

0 comments:
Post a Comment