tu kitni masoom hai episode 11 by aymen nauman
ڈونٹ کاپی پیسٹ وید اوڈ مائی پرمیشن ۔۔۔۔💕
بشر نیں زبردستی حجاب کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں
لیا۔۔۔۔
تو اس کو اندازہ ہوا کہ جو ائنٹ میں شاید فیکچر ہوا ہے۔۔۔
بشر کو بہت افسوس ہوا۔۔۔
اس کی وجہ سے آج وہ اتنی تکلیف میں تھی ۔۔۔۔
بشر نے فرسٹ ایڈ باکس لاکر جوائنٹ پہ سمپل پلاسٹر باندھ دیا۔۔
حجاب اس دوران کچھ بھی بولنے کے بجائے بس ناراض سی منہ دوسری طرف کئے روتی رہی ۔۔۔۔۔ ۔
"چلو اٹھو کمرے میں واپس چلو "
"میں نے نہیں جانا تک بھی آپ سے میں یہی رہوں گی "
حجاب ضدی لہجے میں بولی
بشر نے آؤ دیکھا نہ تاؤ اور اس کو اپنی گود میں اٹھا کر اپنےکمرے کی طرف بڑھ گیا ۔۔۔
نہ جانے کیوں حجاب کو حیاسی محسوس ہورہی تھی اس وقت بشر سے ۔
"اتارے مجھے میں خود چلی جاؤں گی نہیں کر رہی میں ضد کوئی "۔۔۔
"سوچ لو اگر ابھی چھوڑ دیا تو شادی کے دوسرے دن کی طرح زمین پر بیٹھی مجھے ہی آواز یں دو گی "
"اگر زمین پہ کیا آسمان پہ بھی گری نہ تو آپ کو آواز نہیں دو گی"
وہ ظالم حسینہ روٹھی روٹھی اور بھی دلکش اور حسین لگ رہی تھی ۔۔۔
بشر کا دل چاہا ایک شوخ سی شرارت کرنے کا مگر پھر وہ حجاب کا موڈ دیکھ کے اپنی یہ خواہش دل ہی میں دبا کر رہ گیا ۔۔۔
بشر اس کو گود میں اٹھائے دروازہ کھول کر اپنے کمرے کے اندر داخل ھو گیا۔۔۔
واش روم میں لے جاکر اس کا منہ ہاتھ خود واش کرا یا ۔۔۔۔
پھر اپنے بازو کے گھیرے میں لے کر واپس صوفے پہ بٹھا کر خود اس کی وارڈ ڈروپ کی طرف بڑھ گیا وارڈ روپ میں سے۔۔۔۔
ایک مہرون اور اوف وائیٹ کلر کا سوٹ نکال کےواپس وفا کی طرف آیا ۔۔۔۔
یہ دیکھو یہ میں خود لے کے آیا تھا۔۔۔
حجاب نیں ایک نظر اس سوٹ پہ ڈالی ۔۔۔
مہرون شارٹ کرتی کے ساتھ اوف وائٹ بوٹ کٹ ٹراوزر اور مہرون اور آف وائٹ امتزاج کا کرش کا دوپٹہ ۔۔
اس کو دل ہی دل میں وہ سوٹ بہت اچھا لگا مگر ظاہر کیے بغیر بولی ۔۔
"
مجھے یہ سب پہننے کی عادت نہیں ہے "۔۔۔
"مائی ڈئیر وائف تو عادت ڈال لو"۔۔۔
"مجھے نہیں ڈالنی ایسی کوئی بھی عادت وادت"۔۔
"خیر میں تو تمہارے فائدے کی بات کر رہا تھا "۔۔
حجاب کے ماتھے پے آئے بالوں کو اپنی انگلیوں کی پوروں سے ہٹاکر وہ مزید گویا ہوا۔۔
" لویہ پہن کر جلدی سے باہر آو"۔۔۔۔
" میں نہیں پہننا کہہ دیا نا آپ سے ایک دفعہ "۔۔۔۔
حجاب نروٹھےپن سے بولی ۔۔۔
منہ مزید کچھ اور پھول گیا۔ ۔ ۔۔۔
بشر کو ہنسی آئی۔۔
وہ کوئی چھوٹی سی بچی کی طرح منہ پھلا کر خاموشی سے کسی روبوٹ کی طرح اس کی ہر بات کی نہیں نہیں کر رہی تھی ۔۔۔
بشر کو اس کی اتنی خاموشی کچھ زیادہ ہضم نہیں ہورہی تھی ۔۔
ایک دفعہ تو اس نے سوچا ک۔۔۔
" یہ خاموشی کسی بڑے طوفان کے آنے سے پہلے والی خاموشی تو نہیں ہے ؟؟؟"
پھر اپنی سوچ پر خود ہی سر جھٹک دیا۔۔
" میں نے نہیں چینج کرنا"۔۔۔۔
" ٹھیک ہے میں تیار ہو چینج کروانے کے لئے"۔۔۔
نہ۔ ۔۔۔۔۔نہ۔ ۔۔۔۔ نہیں میں کر لوں گی۔۔۔
مبادا کہیں وہ واقعی اس کو چینج نہ کروانے پر جائے وہ ڈر گئی۔۔۔۔
" آپ جائیں"۔۔۔
بشر کا تیر ٹھیک نشانے پر لگا تھا ۔۔۔
"ٹھیک ہے پھر جلدی سے نیچے آو تیار ہو کر تمہارے پاس صرف آدھا گھنٹہ ہے"۔۔۔
بشر اس کو مزید ستائے یہ کہہ کر کمرے سے باہر نکل گیا ۔۔۔
💕💕💕💕💕
اریج کمرے میں بیٹھی اپنا اسائمنٹ بنا رہی تھی۔۔۔۔
جب کمرے کا دروازہ دھاڑ کی آواز کے ساتھ کھلا اور اس کی نئی "نویلی" ماں اپنے آوارہ بھائی کے ساتھ بغیر کوئی دستک دیے کمرے میں داخل ہوئی ۔۔۔۔۔
"سنو۔۔۔اریج جا نو"
"جاؤ جلدی سے فریش ہو کر آؤ"۔۔
" اور یہ کپڑے چینج کرو فوراً" ۔۔
"جی ماما خیریت ؟؟؟"۔۔
"ہاں ہاں تمہیں یہ لیکر جائے گا شمی اپنے ساتھ مال"۔۔۔
" مگر ماما میں نے اپنا اسائمنڈ بنانا ہے "۔۔۔
"وہ گھبرا کر بولی اسائمنٹ وغیرہ بعد میں بن جائے گا"۔۔۔
" ڈرلنگ میرے ساتھ چلو"۔۔۔
" تیار ہو فوراً "۔۔
ماما کے بجائے اب ان کا چھچور ابھائ بولا ۔۔
اریج نے ایک نظر ان دونوں کو دیکھا اور آنکھوں میں آئے آنسوؤں کو واپس دھکیلنے کی کوشش کی۔۔۔۔۔
میک اپ سے لودھڑا چہرہ ۔۔
سلک کی بلیک کرتی سگریٹ پینٹ ک ساتھ پہنے۔۔
دوپٹے کو لینے کی زحمت ہی محسوس نہیں کی گئی تھی۔ ۔ ۔
دلاویز بیگم پچاس سال کی ہوکر خود کو کم عمر حسینہ ظاہر کرنے کی پوری کوشش کر رہی تھیں۔ ۔۔۔ ۔ ۔
اریج کو ان کی ان مصنوعی لگاوٹی لہجے سے چڑ تھی۔۔۔
مگر باپ کی وجہ سے چپ رہتی تھی۔۔
اس کو اچھی طرح سے یاد تھا جب شروع میں اس نے ایک دفعہ ۔۔۔
دلآویز کے منتیں کر کے کھانے کے لئے بلانے پر( بقول دلاویز کے )وہ نہیں آئی۔۔
تو بابا نے دل آویز کے ساتھ کمرے میں آکر اس کو۔۔۔
اس عورت کے سامنے دھون کے رکھ دیا تھا ۔۔
اور وہ عورت چہرے پر مصنوعی ہمدرد گی تاریی کئے ۔۔۔
بس یہی کہتی رہی کہ ۔۔
"ارے بچی ہے جانےدیں چھوڑدیں" ۔۔۔
پھر وہ دونوں اس کو روتا بلکتا چھوڑ کر کمرے سے نکل گئے ۔۔۔
اریج کو اس دن اپنی اوقات اس گھر میں اچھی طرح پتہ چل گئی تھی۔۔۔۔
وہ دن تھا اور آج کا دن تھا دلآویز کو تو گویا کھلی چھٹی مل گئی تھی۔۔۔
اس نے اپنے ساتھ اپنے آوارہ بھائی کو بھی گھر میں رکھ لیا تھا۔۔۔
اریج کو اس کی غلیظ نظروں سے چڑ تھی ۔۔۔
وہ چھوٹی ضرور تھی مگر اچھی اور بری نظر کو بہت اچھے طریقے سے سمجھتی تھی ۔۔
💕💕💕💕💕
حمدان نیں بابا کو گاؤں چھوڑا اور صرف بابا کوہی بتا کر واپس کراچی روانہ ہوگیا۔۔۔
کراچی پہنچ کر وہ اپنے اسی بنگلے میں واپس آیا۔۔۔۔۔
جہاں وہ بابا کے ساتھ پہلے بس کچھ گھنٹے یا کچھ ہی دن رہا کرتا تھا ۔۔۔
مگر اس دفعہ وہ یہ قسم کھا کر آیا تھا کہ۔۔۔
،" جب تک وہ اسرا کو ڈھونڈ نہیں لے گا"۔۔۔
وہ اب یہاں سے ہلے گا بھی نہیں۔۔۔
آسرا اس کا" جنون "بن چکی تھی ۔۔۔۔
"میری سیج تو تم ہی سجاوُ گی" ۔۔۔
"اور میں اپنا حق بھی بڑی شان سے تم سے وصولونگا "۔۔۔
مگر اب طریقہ دوسرا ہوگا ۔۔۔۔۔
وہ سگریٹ سلگاتے ہوئے سوچ رہا تھا۔
💕💕💕💕💕
"مبارک ہو فرح تمہیں بہت بہت تم نہیں جانتیں میں کتنا خوش ہوں آج "۔۔۔
فرح اور سمیر کی شادی کو تین ماہ ہوچکے تھے ۔۔۔۔
جب رات میں سمیر اپنے کمرے میں آیا اور موبائل چارجنگ پر لگانے کے لئے اٹھی فرح کو اپنی باہوں کے گھیرے میں لے لیا ۔۔۔
"ہٹو سمیر میری طبیعت پہلے ہی ٹھیک نہیں ہے اوپر سے یہ تنہائی" ۔۔۔۔
وہ بیزاریت سے بولی ۔۔
سمیر نے شادی کے دس دن بعد ہی دو کمروں کا اپارٹمنٹ رینٹ پر لیا تھا ۔۔۔
اور جب فرح نے شور کیا تو سمیر نے اس کو یہ کہہ کر چپ کروا دیا کہ۔۔۔
" تمہارا شوہر کوئی گیا گزرا نہیں جب میں افورڈ کر سکتا ہوں تو میں ضرور الگ رہوں گا "۔۔۔
"جلدی میں یہی ملا ابھی فی الحال اس میں رہو میں ایک جگہ بات کر رہا ہوں"۔۔۔
" وہ تمہاری امی کے گھر کے قریب اور ون یونٹ ہاؤس ہے "۔۔۔
اس وقت نئے نئے دنوں کا خمار طاری تھا فرح چپ کر گئی۔۔۔
مگر آج وہ ہر چیز سے اکتائی ہوئی تھی ۔۔۔
"تم اگر میری گڈ نیوز سن لو گی تو تمہاری بیزاری ہوا ہو جائے گی"۔۔۔
"ایسا کیا ہے ؟؟؟؟"
فرح نے اپنی سائیڈ کا لیمپ بند کر کے کہا ۔۔۔
بیزاری ہنوز قائم تھی۔۔۔
"ارے میری جان میں پاپا بننے والا ہوں اور تم ماما
کے رتبے پر فائز ہونے والی ہوں "۔۔۔
"کیا کہہ رہے ہو؟ ؟؟؟؟؟"
"پھر سے بولو یہ تم نے کیا کہا ؟؟؟؟"
فرح کا لہجہ تھوڑا تیز لگا سمیر کو۔۔۔
"یہ دیکھو تمہاری رپورٹس"۔۔
سمیر نیں ہاتھ میں پکڑی رپورٹ خوشی سے فرع کی طرف بڑھائیں۔۔۔
"میرے لئے یہ خوشی نہیں بلکہ میرے پاؤں کی زنجیر ہے "۔۔۔۔
"مگر فرح "۔۔۔
اس نے کچھ بھی سنے بغیر رپورٹ کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے۔۔۔۔
سمیر کا چہرہ دھواں دھواں ہو گیا ۔۔
۔💕💕💕💕
جاری ہے۔ ۔۔۔

0 comments:
Post a Comment