Monday, December 10, 2018

tu kitni masoom hai episode 12 by aymen nauman


tu kitni masoom hai episode 12 by aymen nauman
"ادھر ہی آ جاؤ "۔۔۔

ماما بشر کو اوپر سے آتا دیکھ کر بولیں۔ ۔

" جی ماما میں آپ سب کے پاس ہی آیا تھا" ۔۔۔

وہ کین کی چیز گھسیٹ کر ماما اور بابا کے برابر میں ہی بیٹھ گیا ۔۔

"کیسی ہیں آپ اسراء؟؟؟؟"۔۔
,بشر نے پوچھا۔۔۔

اسراء نے بشر کو دیکھ کر فوری دوپٹہ مزید ماتھے کے اوپر کیا۔۔۔۔

" جی میں ٹھیک ہوں "۔۔

۔اسراہ ٹھہر ٹھہر کر آہستہ آہستہ بولی۔۔۔

 بشر کو اسراء کےمزاج کی سنجیدگی اور سادگی نیں بہت اٹریکٹ کیا۔۔۔۔

"بیٹا آپ اسرا کو یہاں کراچی یونیورسٹی میں ایڈمیشن کروا دو "۔۔
"جلد جب تم کو سہولت ہو "۔۔۔

بابا نے ماحول میں تاری سنجیدگی کو دور کرنے کے لئے  ٹوپک چھیڑا۔۔
۔
"ارے بیٹا ویسے حجاب کے کیا ارادے ہیں"۔۔۔۔۔

 ماما نے کچھ یاد آنے پر جیسے یکدم پوچھا اس بارے میں۔۔۔
"کس بارے مے ماما "۔۔؟؟؟
بشر نے نا سمجھی سے استفسار کیا ۔۔۔

 "بیٹا اس کا ایڈمیشن تو میرے خیال سے ہوا ہے کالج میں "۔۔۔۔
بابا بھی بولے ۔

"جی بابا ہوا وا ہے"۔۔۔

" تو پھر تم اس کو سٹڈیز کیوں نہیں کمپلیٹ کرنے دے رہے ہو ؟؟"

ماما نے کچھ مشکوک نظروں سے بشر کو دیکھا ۔۔۔

گویا وہ یہ سمجھ رہی تھیں کہ بشر نے شاید اس کو منع کردیا ہے۔ ۔۔۔
 بشر اسراء  کے سامنے ان کے یوں اس طرح بولنے پر تھوڑا خفط دزہ ہوا ۔۔۔

"ماما میں تو اس کو کتنا کہہ رہا ہوں کے اسٹڈیز کنٹینیو کرو مگر وہی""
 ۔۔
بشر نے جان کر جملہ ادھورا چھو ڑا۔ ۔۔۔۔

اس نے باہر آتی حجاب کا ڈوپٹہ شیشے کی کھرکی سے دیکھ لیا تھا۔ ۔۔

"ارے لو میری بیٹی بھی آگی "۔۔۔

بابا حجاب کو دیکھ کر خوشی سے کھل اٹھے۔ ۔

 حجاب ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک بن چکی تھی ۔۔۔

بابا کو حجاب کے روپ میں قدرت نے ایک بیٹی سے نوازا تھا ۔۔
وہ پہلے اکثر اپنے رب سے بیٹی نہ ہونے کا شکوہ کیا کرتے تھے اور حجاب جب سے  گھر میں بہو بن کرآئ تھی۔۔
 وہ ایک باپ کی طرح اس کو ہر خوشی دینے کی کوشش کرتے۔۔
 بشر کے حق پر ہونے کے باوجود بھی وہ اپنے بیٹے ہی کی ڈانٹ لگاتے۔ ۔۔

"السلام و علیکم"۔۔۔!

 اسرار نے اپنی کرسی سے اٹھ کر فوری حجاب کو سلام کیا۔۔۔
 بشر نے بھی مڑ کر اس کو دیکھا اس کے دیئے ہوئے سوٹ میں وہ دوپٹے سے الجھتی بالکل کوئی چھو ٹی سی گڑیا ہی لگ رہی تھی ۔۔۔

بشر کی نظریں گویا پلٹنا ہی بھول گئیں۔ ۔۔
بشر کی محویت کو حجاب کی آواز نے توڑا۔ ۔

"وعلیکم سلام"۔۔۔

 اسرا کے سلام کے جواب کے بعد حجاب نے کچھ نہ سمجھیں سے بابا کو دیکھا جیسے تعرف جارہی ہو۔۔۔۔۔
" حجاب بچہ یہ ہماری بہت پیاری بھانجی اسرا ءہے"۔۔۔۔
 بابا نے تعرف کا مرحلہ آسان کیا۔۔۔
" اور اسراہ یہ ہماری بہو پلس پیاری سی بیٹی حجاب ہے "۔۔۔

"آپ سے مل کر خوشی ہوئی "۔۔۔
اسرءانےحجاب مسکرا کر کہا ۔۔۔

"جی شکریہ "۔۔
حجاب نے بس اتنا ہی کہا۔۔۔۔

" حجاب آج میرا آپ کے ہاتھ کی چائے پینے کا دل کر رہا ہے ۔۔۔"

ماما بولیںں
۔۔
وہ ایکدم منع کرنے ہی والی تھی کہ  ۔۔۔۔۔

مگر یہاں تو اسرا ءکے سامنے عزت کا سوال آگیا تھا۔۔۔
"جی جی ماما بس ابھی لائی"۔۔۔
 حجاب  یہ کہتی مرتے کیا نہ کرتے کے مصداق کچن کی طرف بڑھ گئی۔۔۔

" بڑی فرمانبرداری کا مظاہرہ ہو رہا ہے"۔۔۔۔

 بشر نےدل میں سوچا اور مسکرا کر دوبارہ سب سے باتوں میں مشغول ہو گیا۔۔۔
 اسراء کو وہ اپنے رویے سے نارمل کرنا چاہ رہا تھا۔۔

وہ اس کی اجنبیت دورکرنے کی کوشش کر رہا تھا ۔۔۔

وہ چاہ رہا تھا وہ بالکل ریلیکس ہوکر اس گھر میں اپنے آپ کو ایک فرد کی اہمیت دے اور سب میں جلد از جلد گھل مل جائے ۔۔۔۔

بشر اپنی اس کوشش میں کافی حد تک کامیاب بھی ہوگیا تھا ۔۔۔
وہ ماما بابا کے ساتھ ساتھ بشر سے بھی گھل مل رہی تھی ۔۔۔
" اللہ جی کہاں پھنس گئی "۔

اس نے جیسے تیسے یوٹیوب سے دیکھ کر چائے بنا لی اور چپس بسکٹ وغیرہ ٹرےمیں رکھ کے لان کی طرف لے کر آئی ۔۔۔
اس کی پوری کوشش تھی خود کو سلیقہ شعار ثابت کرنے کی ۔۔۔۔

"لائیں مجھے دے دیں" ۔۔

 اسرا نے فورا ًاس کی مدد کرنا چاہی اور کرسی سے اٹھ کر اس کی طرف بڑھی۔۔۔

" نہیں آپ بیٹھی ر ہے میں صرف کرتی ہوں"۔۔۔
حجاب ترخ کے بولی۔ ۔۔۔
 اسراہ کو نہ جانے کیوں حجاب کے لہجے میں خود کے لئے ایک سرد مہری سی محسوس ہو رہی تھی۔۔۔۔۔۔
 اسراء خاموشی سے دوبارہ اپنی نشست پر براجمان ہو گئی۔۔۔
 ماما بابا کو چائے صرف کرنے کے بعد اس نے بشر کو چائے دی ۔
اور آخر میں آسرا کو دے کر ۔۔۔
چیئر گسیٹھ کر  بشر کے برابر میں پلکل چپک کے بیٹھ گئ۔ ۔۔

بشر کو تھوڑی ٹھنڈی چائے پینے کی عادت تھی اس لئے پہلے پلیٹ میں نکال کر چپس کھانے لگا ۔۔۔۔

بابا بہت آرام سے چائے پی رہے تھے گویا اس وقت ایک خاص مشن پر ہوں ۔۔

ماما نے جیسے ہی چائے پی ان کو گرم مصالحہ اور دارچینی کی خوشبو و ذائقہ محسوس ہوا ۔۔۔

"کہیں حجاب نے۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟"
 اس سے آگے کچھ بھی سوچنے سے پہلے وہ حجاب سے پوچھے بغیر نہ رہ سکیں۔ ۔۔

" بیٹا یہ چائے کس چیز سے بنائی ہے "؟؟؟؟

بشر اسراء سے باتوں میں مصروف تھا۔۔۔
 ماما کی بات پر یقدم چونکا ۔۔
اور پھر اپنی چائے کو جلدی سے ہونٹوں سے لگا لیا۔۔۔۔۔
"تھوووو۔۔"۔۔۔۔

  بشر کو لگا جیسے اس کے منہ میں گرم مصالحہ نمک بھر گیا ہو۔۔۔۔
 ماما نے ایک دم گھبرا کر اسرا کو پانی لینے بھیجا۔۔۔۔ ۔
 اسراء بے چاری بڑے ظرف سے آدھا کپ اس گرم مصالحہ اور نمک کی عمدہ ترین چائے کو زہر مار کر چکی تھی ۔۔۔
وہ تو انتظار میں تھی فورا ًبھاگی بشر کو پانی دے کر جلدی سے واش روم میں گئی الٹی کرکے باہر نکل کر۔۔۔
 اس نے اپنی سانس کچھ بحال ہوتی محسوس کی ۔۔ ۔
پھر اس کو واپس لان میں اس وقت جانا کچھ مناسب نہ لگا تو کچن میں آگئی اور بہت سوچنے کے بعد چائے کے لئے پانی چڑھا دیا۔۔۔۔
 اس کو اچھا تو نہیں لگ رہا تھا اس طرح پہلے ہی دن کچن میں گھسنہ مگر ایک تو اتنے دنوں کی  ٹینشن اور پھر کچھ تھکن ۔۔۔
اس نے اپنے ساتھ ساتھ باقی سب کے لئےبھی  چائے بنالی اور باہر لان میں لےکر آگئ۔ ۔

 "بیٹا آپ نے کیا ڈالا ہے چائے میں"؟؟؟؟؟

" ماما وہ ریڈ جار میں پتی تھی وہ اور اس کے ساتھ جو گرے جار تھا اس میں سے چینی لی"۔۔۔

 اس کی بات سن کر ماما کا فلک شگاف کہہکہ نکھ
لا۔۔۔
جبکہ بشر بابا کی وجہ سے کچھ نہیں بولا۔۔۔

 وہ پہلے ہی آج اتنا رو چکی تھی۔۔

بشر خاموشی سے برے برے منہ بناتا رہا منہ کا ذائقہ جو بگڑ چکا تھا۔۔۔

بابا بھی بس اپنی ہنسی اور نہیں روک سکے ۔۔۔

"یہ چائے پلیز"۔۔

اسراء ان کی طرف بڑھی اور چائے سب دےکر بیٹھ گئی ۔۔۔

"حجاب میری بچی وہ جو ریڈ جار میں تھا وہ گرم مصالحہ تھا اور جو گرین جار میں تھا وہ نمک تھا۔۔۔۔
" اور بیٹا دودھ کہاں سے لیا تھا؟""""""
بابا نے بھی ٹکڑا لگایا ۔۔۔

"دودھ "۔۔
"وہ جو پاؤڈر ملک رکھاتھا نہ بلیو  جارمیں"۔۔
'وہی یوز کیا یے"۔ ۔

حجاب نے پوری ریسیپی بڑے فخر سے  سب کے گوش گزارکی۔۔۔

ماما کا توسن کہ وہ حالت ہوئ کہ ہنس ہنس کےپیٹ ہی دکھ گیا ۔۔۔۔

"بابا چپ تھے "۔۔۔

"ارے میری جان کی ٹکڑی اس میں کورن فلور تھا "

اسراء کو مزید اپنی ہنسی روکنا مشکل لگ رہا تھا وہ کپڑے چینج کرنے کا بہانہ بناکر وہاں سے کھسک لی ۔۔۔
اسراا کے جانے کے بعد بشر بھی ہنس ہنس کے لوٹ پوٹ ہو گیا۔۔
" ماما اب اس چائے کو چھوڑیے یہ لیں"۔

" آپ کی دوسری بیٹی نے بہترین قسم کی واقعی چائے ہی بنائی ہے "۔۔/
اس نے کھلے دل سے اسراءکی چائے کی تعریف کی۔۔۔۔۔
 بابا حجاب کی آنکھوں کی نمی دیکھ چکے تھے۔۔

" بھئی مجھے تو وہی چائے اچھی لگی یہ تو بس حجاب بیٹا میں اسرا کا دل رکھنے کے لئے ہی پی رہا ہوں"۔۔
 حجاب ان تینوں کے ہسنے پے روتی ہوئی کمرے میں بھاگ گئی
بشر کو نا جانے کیوں افسوس ہوا۔ ۔۔اسکے ہنستےہوئےلب سکڑ گئے۔ ۔

💕💕💕💕💕💕💕

حمدان نے کراچی آکر اپنے کچھ لوگوں کو اسرا کو ڈھونڈنے میں لگا دیا تھا۔۔
وہ خود بھی کراچی میں جہاں جہاں اس کی موجودگی ہو سکتی وہ اس کو تلاش کر رہا تھا ۔۔۔

"تم دوسرے ملک بھی فرار کیوں نہ ہو جاتیں میں تمہیں وہاں سے بھی نکال لیتا۔۔۔
 یہ تو پھر ایک شہر ہے۔۔۔۔

 اس نے ایک اور حل بھی ذہن میں سوچ کر رکھا تھا اس کو خالدہ کی باتوں پر یقین نہیں آ رہا تھا ۔۔۔

حمدان کو نہ جانے کیوں لگ رہا تھا کہ خالدہ اسرا کی رہائش کے متعلق اس سے غلط بیانی کر گئی ہے۔۔۔۔
 اس نے سوچ لیا تھا کہ ۔۔
اگر آسرا اس کو نہ مل سکی تو وہ خالدہ سے دوسرے طریقے سے اگل والے گا۔۔۔

 وہ بہت خودغرض ہو کے سوچ رہا تھا۔ ۔ ۔

" بیٹا یہ سگریٹ اب اگر میں نے تیرے لبوں کو لگی دیکھی تو تیری خیر نہیں"۔۔۔

بی اماں نے غصے سے کہا ۔۔۔

بی اماں کے احترام میں اس نے فوراً سگریٹ ایش ٹرے میں مسل دی۔۔۔

بی اماں کو بابا نے گاؤں سے کل ہی بھیجا تھا اس کے تنہائی کے خیال سے  ۔۔
بی اماں کو بابا نے اپنی منہ بولی بہن بنایا ہوا تھا ان کے شوہر کے انتقال کے بعد سے وہ حویلی میں رہتی تھیں۔ ۔۔

"چل اٹھ پتر میں نے کھانا لگا دیا ہے"۔۔۔۔

"پھر میں نے نماز پڑھ کر سونا بھی ہے"۔۔۔

 حمدان ان کے ساتھ کھانا کھانے کے لئے اٹھ گیا۔۔۔

 " بیٹا میں تجھے کچھ چیزوں کی لسٹ ڈونگی وہ لے کر آنا بازار سے "۔۔۔
"جی بہتر"۔۔۔ کل۔ لے آونگا۔ ۔
💕💕💕💕💕💕

 دوسرے دن حمدان اماں کی تھمائی ہوئی گروسری کی لسٹ لے کر ھائپر اسٹار کے لئے نکل جاتا ہے۔۔

 وہاں پر وہ اپنی ٹرولی لے کر دوسری طرف گروسری  ایریا میں جاکر ٹرالی میں چیزیں رکھ رہا تھا۔۔ ۔

 جب بے دیہانی کے عالم  میں olive oil کی بوتل  اٹھاتے ہوئے اس کا ہاتھ کسی صنف نازک  سے ٹکرایا۔۔۔۔
 سامنے والا فریک پہلے ہی  اسی بوتل کو لینے کے لئے ہاتھ  بڑھا چکا تھا۔۔۔
 جب حمدان نے بے دھیانی میں اسکا نازک ہاتھ اپنی گرفت میں لے لیا ۔۔
کسی کے ہاتھ کا لمس محسوس کرکے اس نے فورا گردن گھما کر اس کی طرف دیکھا۔ ۔۔۔
 البتہ ہاتھ ابھی بھی حمدان کی بھاری گرفت میں ہی تھا۔۔۔۔

💕💕💕💕💕

جاری ہے ۔۔۔💕

0 comments:

Post a Comment