tu kitni masoom hai episode 13 by aymen nauman
بشر حجاب کے پیچھے پیچھے کمرے میں آیا۔۔۔
حجاب ڈریسنگ ٹیبل کے پاس کھڑی خود کو آئینے میں دیکھتی نہ جانے کس بات پر غوروفکر فرما رہی تھی ۔۔۔۔
بشرآہستہ سے اس کے قریب گیا اور اپنی تھوڑی اس کے کندھے پر ٹکا دی۔۔۔
"بہت پیاری لگ رہی ہو "۔۔۔
بشر جذبات سے چور لہجے میں بولا ۔۔۔۔
حجاب اتنے قریب سے بشر کی آواز سن کر اچھل پڑی اس کی محویت اچانک ٹوٹی تھی ۔۔۔
ہاتھ میں تھاماکرسٹل کا پرفیوم ۔۔
زمین بوس ہو گیا ۔۔
کانچ کے کے ٹکڑےکرچی کرچی ہو کر زمین پہ بکھر گئے۔ ۔۔
"یہ سب آپ کی وجہ سے ہوا ہے."....
" اسی لیے تو میں نے آپ کا نام ہٹلر رکھا ہے "۔۔۔
"جب آتے ہیں کچھ نہ کچھ الٹا ہی ہوجاتا ہے "۔۔۔
اس کو اپنی کلائ پر بندھی بینڈیج دیکھ دیکھ کر
بشرکے اوپر تاؤ آ رہا تھا ۔۔۔۔
اوپر سے یہ نئی افتاد اس کا پسندیدہ پرفیوم اپنی آخری سانسیں بھی صحیح سے گن نہ سکا اور اس دنیاءِ فانی سے کو چ کر گیا۔ ۔۔
حجاب نے فوراً الزام تراشی شروع کی۔۔
"کیوں میری وجہ سے کیوں؟؟؟؟؟"۔۔
" آپ نے مجھے ڈرایا تھا "۔۔
"ہیں ۔۔۔ں۔ ۔ں ڈرایا تھا ؟؟؟؟؟"
وہ صدمے سے بولا "۔۔۔۔
حجاب نیں اسکے رومینس کو ڈرانے کا نام جو دے دیا تھا ۔۔۔
حجاب بغیر سلیپر کے فرش پہ کھڑی تھی ۔۔
بشر نے جیسے ہی کانچ اٹھانے کے لئے فرش کو دیکھا اس کی نظر حجاب کے پیر وں پر پڑی۔ ۔۔
اس کے حسین و خوبصورت گلابی پاؤں ۔۔
حجاب کانچ سےبس کچھ ہی فاصلے پر تھے ایسے جیسے وہ اگر زرا سا بھی قدم بڑھا تی کانچ اس کے نازک پاؤں میں چبھ جاتا ۔۔۔
بشر نے آگے بڑھ کر حجاب اپنے دونوں بازوں میں اٹھا لیا ۔۔
"یہ کیا کررہے ہیں چھوڑو مجھے ؟؟؟؟"۔۔
"تم کچھ کرنے دوں گی تو کروں گا نا "۔۔۔
بشراس کی احمقانہ بات سن کر بھنا گیا ۔۔
ایک تو وہ اس کے چوٹ نہ لگنے کے خیال سے اس کو اپنی بانہوں میں اٹھا کر صوفے پہ بیٹھا رہا تھا۔۔۔
" اس پر محترمہ کے الزامات تو سنو ذرا "۔۔۔
"میں نے اپ کو کچھ کب کرنے کے لئے منع کیا ہے "۔۔
حجاب تڑپ کر بولی ۔
"آپ ہی ہر وقت میرے سر پر آندھی طوفان کی طرح نازل رہتے ہیں"_
"اپنے کام کیا کریں سب"۔۔۔
حجاب کی زبان کینچی کی طرح چلنا اسٹارٹ ہو چکی تھی ۔۔
وہ ابھی بھی بشر کی بانہوں میں جھول رہی تھی ۔
بشر اس پر تھوڑا جھکا اور حجاب کے بے لگام چلتےلبوں پہ اپنے لب رکھ دیے ۔۔۔
گویا لگام ڈالنے کی کوشش کی گئی ہو ۔۔
حجاب کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ ۔
یہاں کچھ ہوتا نہیں اور اگر ہونے لگے
لمحہ بھر میں وہ بشر کی بانہوں کے تنگ ہوتےحصارمیں کانپ کر رہ گئی ۔۔۔
"ٹھک۔۔۔ ٹھٹھک ۔ ٹھٹھک "۔۔
ماحول میں تعاری فسوں خیذی کو دروازے پر ہونے والے دستک نے توڑا ۔۔۔
"اوف۔۔۔۔ اسی وقت ہی یہ دروازہ بجنا تھا "۔۔۔
بشر کو ان لمحات میں مداخلت تو تپآ گئی ۔۔۔
"ایک تو ویسےہی کچھ نہیں ہوپا رہا اور اگر کچھ ہونے لگے تو یہ لوگوں اپنی لاڈلی کی اذت بچانے تھانے دار بن کر نازل ہوجاتے ہیں"۔۔۔
جیسے میں اس کو شوہر نہیں کوئی لٹیرا ہوں ۔۔۔
وہ جھنجھلا کر بڑبڑا رہا تھا اس انتظار میں کہ شاید دروازہ بچانے والا خود ہی تھک ہار کر چلا جائے ۔۔۔
جب دستک بند نہ ہوئی تو اس نے ناچار دروازہ کھول ہی دیا ۔۔۔
"خبردار جو کوئی اوٹ پٹانگ بات کی کسی سے بھی"۔۔۔
وہ دروازہ کھولنے سے پہلے مڑا اور حجاب کو سختی سے ہی وارننگ دی ۔۔۔
حجاب تو پہلے والی افتاد پہ ہی ابھی تک سمبھل نہیں پائی تھی جب کمرے کے باہر بھی کوئی تشریف فرما ہو گیا تھا ۔۔
ماما بشر کے دروازہ کھولنے کے بعد روم میں آئیں۔ ۔
پہلی نظر ان کی حجاب پر گئ اور دوسری فرش پہ بکھرے کانچھ پے۔۔۔
حجاب کا بکھر اک روز دیکھ کے وہ اس وقت کمرے میں آنے پر سٹپٹا سی گئیں ۔
جبکہ بشر خجل سہ ہوکر کانچ اٹھانے لگا ۔۔۔
"بھائی بنا لیتی مجھے شادی کی ضرورت ہی کیاپڑی تھی "۔۔۔۔
""ا_ف نہ جانے کب میری اکلوتی بیگم بڑی ہو گی"؟؟؟
💕💕💕💕💕💕💕
اریج واش روم سے بہت دیر بعد جان بوجھ کر باہر نکلی ۔۔
وہ اپنے تئیں یہ سوچ رہی تھی کہ شاید وہ دونوں "عذاب" اب تک ٹل چکے ہوں گےاس کے کمرے سے۔۔۔۔۔۔۔
اور وہ ان کی غیر موجودگی کا فائدہ اٹھا کر فوراً دروازہ اندر سے لاک کرکے بیٹھ جائے گی ۔۔ ۔
"اس شکر سویٹ ہارٹ تم بہار تو نکلیں"
"۔ مجھےتو لگا میں بھری جوانی میں بیٹھے بیٹھے ہی ضائع ہو جاؤں گا "۔۔۔
زوار کمینگی سے بولا ۔۔
اس کے چہرے پے ہاؤس ہی ہوس تھی ۔۔۔
جو شکاری کے چہرے پر اپنا شکار دیکھ کر پھوٹی پڑتی ہے ۔۔۔
"تم یہاں سے چلے جاؤ ابھی اور اسی وقت نہیں تو میں ڈیڈ سے کہوں گی"۔۔۔
اریج نے گویا اس کو دھمکایا ۔۔۔
"جانے من اگر مجھے جانا ہی ہوتا تو یہاں آتا ہی کیوں؟؟؟؟؟"
" صرف تمہارے دیدار سے اپنی پیاس ھی تو بجھانے تھی"۔۔۔
اریج اتنی گھٹیا قسم کی گفتگو سن کر کانوں کی لو تک سرخ پڑ گئی ۔۔۔
وہ کمرے کا دروازہ لاک کر کے اریج کی طرف بڑھا۔ ۔
اریج نے آؤ دیکھا نہ تاؤ ٹیبل لیمپ اس خبیث کے گٹکے بھرےغلیظ منہ پہ کھینچ کے دےمارآ۔۔۔
اور تیزی سے کمرے کا دروازہ کھول کر باہر نکل کے دوسرے کمرے میں بند ہو گئ۔ ۔۔
دروازے کو اچھی طرح لوک کرنے کے بعد وہ فرش پے دوزانو بیٹھ گئی ۔۔
اس کو اب دہشت سی ہو رہی تھی ۔۔۔
"نہ جانے اب رات میں ڈیڈمیراکیا حشر کریں گے "؟؟؟؟
اس کو پچھلی دفعہ کی باپ کی مار یاد آگئی ۔۔
وہ تصور میں بھی نہیں سوچ سکتی تھی کہ اس کا اتنا پیار کرنے والا باپ اس طرح کا سلوک کرے گا اپنی چہیتی بیٹی کے ساتھ۔۔۔
شاید ماں کے انتقال کے بعد اس کے باپ کی محبت کابھی جنا زہ نکل چکا تھا اس کے لئے ۔۔۔
اس نے سوچا وہ اپنے بھائی کو حالات بتائیں گی جو اس کے ساتھ گزر رہے تھے ۔۔
اریج سبحان کا خیال آنے کے بعد خود کو تھوڑا ریلیکس محسوس کرنے لگی جیسے زندگی میں روشنی کی ایک کرن پھوٹ پڑی ہو ۔۔
وہ اور سبحان دو بہن بھائی ہی تھے ۔۔۔
سبحان اپنی اسٹڈیز کے سلسلے میں اب روڈ میں تھا۔۔۔
اس نے سوچا جیسے ہی وہ موت کا فرشتہ کمرے سے نکلے گا۔۔۔
وہ خود اپنے کمرے میں جاکر
بھا ئ کو فون کر کے اپنے ہر ہر دکھ کہہ سنائی گئی۔۔۔۔
💕💕💕💕💕
"یہ کیا کیا تم نے"؟؟؟؟؟
سمیر پتھرائی ہوئی آواز میں فرح پرچیخا۔ ۔۔۔
"کیا کیا ہے میں نے"؟؟؟؟؟
" یہ رپورٹ بھی پڑھی ہیں تمنے؟ ؟؟؟؟"۔۔
"تم جانتی بھی ہو میری نظروں میں یہ صرف ایک رپورٹ ہی نہیں تھی بلکہ میری زندگی کی سب سے بڑی خواشی تھی"۔۔۔
سمیر ہم سے چور لہجے میں بولا
"مگر میرے لئے ایسا کچھ بھی نہیں تھا "۔۔۔
"یہ بچہ میرے نزدیک سوائے پاؤں میں بندھی زنجیر سے زیادہ کچھ نہیں ہے "۔۔۔
" تم نے مجھے دھوکا دیا ہے"۔۔۔۔
"کونسا دھوکا کیا ہے میں نے تمہارے ساتھ؟؟؟!!! " ت "بولو ۔"۔۔۔۔
"جواب دوں ہے کوئی جواب تمہارے پاس "؟؟؟؟
سمیر بھی اسی کی ٹون میں چیخا۔۔۔
" تم سے پہ میں نے پہلی رات ہی یہ بات واضح کردی تھی کہ ابھی مجھے کچھ سال تک اس جھنجھٹ میں نہیں پڑنا"۔۔۔۔۔
فرح بیزاری سے بولی ۔۔۔
" دیکھو فرح یہ سب چیزیں انسان کے اختیار سے باہر ہے"۔۔۔۔
۔۔۔" اللہ جس کو چاہتا ہے نوازتا ہے اور جس کو چاہتا ہے نواز کر بھی چھین لیتا ہے۔"۔۔۔
سمیر نیں اب نرمی سے کام لینا چاہا ۔۔۔۔۔
"میں کچھ بھی نہیں جانتی"۔۔۔
" مجھے بس اتنا پتا ہے تم نے یہ سب جان کر کیا ہے""""۔۔۔
" تم مجھے پنجرے میں قید کرنا چاہتے ہو "۔۔
"فرح میری بات تو سنو "۔۔۔
"تم زندگی ہومیری" ۔۔۔۔
" یہ بچہ ہمیں مزید کریب کرے گا ہماری زندگی کو مکمل کر دے گا "۔۔۔
"بس کرو اپنی اس قسم کی بکواس ماما ٹھیک ہی کہتی تھیں"۔۔۔
تم جیسے کنزرویٹو مرد عورت کو صرف اور صرف اپنے پاؤں کی جوتی سمجھتے ہیں"۔۔
" تم نے جو کرنا تھا کر چکے "۔۔۔
"اب آگے کے فیصلے کے لئے میں خود مختار ہو ں"۔۔۔/
" یہ بات تم اچھے سے سمجھ لو" ۔۔۔
"اور اس کو اپنے ذہن میں بٹھا لو"
۔۔۔
💕💕💕💕💕
اسرا کے جسم سے کسی نے روح کیھنچ لی تھی۔۔۔۔
اس کو لگ رہا تھا کسی نے اس کے پیروں تلے سے زمین کھینچ لی ہو ۔۔۔۔
حمدان بھی سکتے میں کھڑا تھا ۔۔۔
وہ اپنی تلاش۔۔۔
اپنا جنون۔۔۔۔
آپ نے بالکل سامنے دیکھ کر کچھ دیر کے لئے ساکت سا ہو گیا ۔۔۔۔
ااسراء نےہاتھ چھڑانا چاہا ۔۔۔۔
جب حمدان نے اس کی کلائی اور مضبوطی سے پکڑ لی ۔۔۔
جیسے اگر آج اس نےہاتھ چہوڑ دیا ۔۔۔۔
تو زندگی میں کبھی بھی اس کودوبارہ نہیں چھو سکے گا ۔۔۔۔
💕💕💕💕💕💕
جاری ہے ۔۔۔

0 comments:
Post a Comment