Monday, December 10, 2018

tu kitni masoom hai episode 14 by aymen nauman

tu kitni masoom hai episode 14 by aymen nauman

"بیٹا میں نے آپ کا ہاتھ ابھی دیکھا تھا "جب آپ اپنے روم کی طرف جارہی تھیں "۔۔۔۔

وہ اس کی ناراضگی دور کرنے آئی تھیں۔۔۔۔
جوان لوگوں کے ہنسنے کی وجہ سے ہوئ تھی۔۔۔

مگر کمرے کی صورتحال نے اور حجاب کے ہاتھ پر بندھی پٹی نے ان کو  موضوع بدلنے پر مجبور کر دیا۔۔۔۔

حجاب ابھی بھی غائب دماغ سی  تھی ۔۔۔
ماما اس کی کیفیت بہت گہری نظر سے نوٹ کر رہی تھیں۔۔
" بیٹا آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے "۔۔۔

"آپ رئیسٹ کرو میں کچن میں جا رہی ہوں "۔۔۔۔

"آپ کے بابا نے آج بریانی کھانی ہے"۔۔۔

" نہیں ماما میں ٹھیک ہوں"۔۔

" آپ بیٹھے نہ "۔۔
حجاب  شرم سےلرزتی پلکیں ذرا سی اٹھا کر بولی۔۔۔۔۔۔
ان کو اس پہ ٹوٹ کے پیار آیا۔ ۔۔

 ماما کو آج حجاب اپنی عمر سے کہیں زیادہ بڑی لگی ۔۔
حیاء کے حسین رنگوں سے سرخ ہوتا چہرہ ۔۔۔
نہ سمجھیں اور کم سنی سے بھرپور کانپتا ہوا وجود۔۔۔

بیتے لمحے ہو ئی اس پر پیاء ملن کی انہو کھی  کہانی سنا رہا تھا ۔۔۔

"نہیں بیٹا اسراءاور تمہارے پاپا بازار گئے ہیں"۔۔

"وہ آسرا ءکا دھیان بٹانے کے خیال سے اس کو زبردستی باہر لے کر گئے ہیں "۔۔۔

"اور تم جانتی ہو آتے ہی کھانے کا شور مچائیں گے "۔۔۔

انہیں مناسب نہیں لگ رہا تھا اس وقت وہاں ٹھہرنا اس لئے بات بنا کر اٹھ گئیں۔۔
 حجاب بھی ان کے ساتھ اٹھ کر کمرے سے فرار ہونے لگی جب ماما نے ٹوک دیا ۔۔۔

"بیٹا آپ ریسٹ کرو بالکل کسی قسم کی اچھل کود کرنے کی ضرورت نہیں ہے"۔۔

 ماما اس کی فرار کی وجہ اچھی طرح سمجھ رہی تھیں۔ ۔۔

حجاب کی بغیر کچھ بھی سنے وہ کمرے سے باہر نکل گئیں ۔۔۔
 حجاب جلدی سے کمفرٹر منہ تک تان کر بشر کے کمرے میں آنے کے خیال سے خود کو سوتا ظاہر کرنے لگی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

💕💕💕💕💕💕💕

حمدان اس کا ہاتھ کیھنچ کر اس کو اپنے ساتھ لے جانے ہی والا تھا جب سامنے سے اسراء کو تلاش کرتے بشر کے بابا نے اس کو منجمندکردیا۔ ۔۔

" اسرا بیٹا کہاں تھی بچہ؟؟؟"

" میں آپ کو کب سے ڈھونڈ رہا ہوں"۔۔۔۔

 حمدان نہ نے بشر کے والد کو دیکھ کر اسراءکا ہاتھ ناچار چھوڑا اور نہ سمجھیں سے اس کی طرف دیکھا۔۔۔۔۔۔
 اسراء نے اس کے دیکھنے پر اپنا رخ خالو کی طرف موڑا ۔۔۔۔
گویا اس سے نظر چرا رہی ہو۔ ۔۔
وہ حمدان کو اپنے سامنے یوں دیکھ کر ڈر گئ تھی۔ ۔
اس لگ رہا تھا جیسے اب ایک زبردست
قسم کی قیامت برپہ ہونے کو ہے۔ ۔۔۔
جسم سے روح کس طرح جدہ ہوتی وہ اس کا مزہ چکھ چکی تھی۔ ۔۔

"اللہ رحم کر مجھ پر"۔۔۔۔

"میں اس بندے کو اپنی زندگی سے دور کرنے کے لیے جتن کر رہی ہوں اور تو باربار اس کو میرے سامنے لاکھڑا کرتا ہے"۔۔ ۔
اسراء کےدل میں ڈر اور آنکھوں میں سراسیمگی اتر آئ  تھی۔۔۔

"السلام علیکم انکل"۔۔۔۔۔۔
 حمدان  نے ان کو سلام کیا ۔۔۔

"وعلیکم اسلام بچہ" ۔۔۔
 کہاں ہو؟؟؟
 کیسے ہو ؟؟
کہاں غائب ہو ؟؟!؟
"لگتا ہے انکل کو بھول گئے "۔۔۔۔

بابا اس کواتنے ٹائم کے بعد دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔ ۔۔
"نہیں۔۔۔۔۔۔ نہیں انکل بس تھوڑا بزی تھا "۔۔۔

"اچھا۔۔۔۔ اچھا  اور بتاؤ بیوی بچے امی ابو سب کیسے ہیں؟؟؟؟"۔۔۔
" ارے انکل امی ابو تو ٹھیک ہے مگر بیوی بچے"۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 اس نے اسراء کی طرف دیکھ کر   جملہ ادھورا چھوڑا ۔۔۔۔

اسراء شرم سے سرخ پڑ گئی۔۔۔۔۔

" ارے کوئی نہیں اللہ دیگا اولاد بھی۔۔۔۔"
" اس کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں "۔۔۔۔

وہ اس کی بات کو  اپنے ہی مائنوں میں کہاں سے کہاں لے گئے ۔۔۔

اسراء خالو کی پشت کے پیچھے چھپ گئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

"ارے نہیں نہیں انکل ابھی تو نکاح ہوا ہے رخصتی باقی ہے"۔۔۔۔۔
" لو دیکھو ذرا میں بھی کہاں سے کہاں لے گیا بات کو "۔۔۔۔
بابا نے سر پہ ہاتھ مارا "۔۔۔۔

"اور کراچی آئے ہوئے ہو؟؟؟؟"

"جی اب تو یہیں رہنا ہے"۔۔۔
حمدان کا لہجہ چوٹ کرتا ہوا تھا۔ ۔۔

اس نے ایک سخت نظر اسراہ پر ڈال کر کہا ۔۔۔۔۔
جیسے اس کو وارن کرہا ہو۔ ۔

دل تو کر رہا تھا دو تھپڑ مار کر ابھی اور اسی وقت اس کو اپنے ساتھ لے جائے مگر بشر کے بابا اوپر سے اسراء کے خالو نکلے۔۔۔
 اس کو یہ بالکل بھی مناسب نہ لگا اور بڑوں کی عزت کرنا جانتا تھا۔۔۔۔
 اس کے باپ نے اس کو بڑے چھوٹے کا احترام کرنا سکھایا تھا۔۔۔۔
 وہ ان کی تربیت پہ کیسے کوئ حرف آنے دیتا۔ ۔۔
وہ بشر کے بابا کےسامنے وہ کیسے اس طرح پیش آسکتا تھا۔۔۔۔

تھی تو وہ اس کی بیوی اور وہ بغیر کسی کی اجازت اور پرواہ کئے بھی اس کو اپنے ساتھ گھسیٹ کر لے جا سکتا تھا مگر نہ جانے کیو اس کو یہ مناسب نہ لگا ۔۔۔
اس کو سکون اس بات سے ملا تھا کہ وہ کسی انجان کے پاس نہیں ہے محفوظ لوگوں میں ہے اور دوسرا اس کا دماغ دوسری طرف چل رہا تھا ۔۔۔۔

 اس کی سوچ کے تانے بانے بہت دور لمحوں میں پرواز کرچکے تھے۔۔۔

"چلیں خالو"۔۔۔
 اسراء کی آواز کی آواز  سے وہ  واپس ہوش کی دنیا میں لوٹا۔ ۔۔۔
 
"انکل آپ کی رہائش کدھر ہے؟؟؟؟"۔۔۔

 حمدان نے بہت سوچ کر یہ سوال کیا۔۔۔
 اس نے اسراء کو اپنی آنکھوں کے سرخ  ڈیروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا ۔۔۔۔۔۔

'بیٹا میں ڈفینس فیس 5 میں ہوں" ۔۔۔

انہوں نے لمہوں میں اس پورا ایڈریس سمجھا دیا۔ ۔۔
اسراء کی تو روح ہی فنا ہوگئ۔ ۔۔

"کاش کہ خالو اس کو پتہ نہ بتاتے"۔۔۔
مگر اب تو تیر کمان سے نکل چکا تھا۔ ۔۔۔

" ارے انکل یہ تو بہت اچھا ہو گیا ہے میں  وہی فیس 8 میں ہوں۔ ۔۔

"تھوڑے فاصلے پر ہی ہو ں میں آپ لوگوں سے "۔۔۔

وہ غور سے اسرا کےلٹھے کی مانند سفید چہرے کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
 اسراء کو اس کی نظریں اپنے جسم کےآر پار ہوتی   محسوس ہو رہی تھیں۔ ۔۔۔

 " تم یہاں تنہا ہو اور جب تمہارے انکل موجود ہیں تمہیں بالکل پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے "۔۔۔۔
"جب جی چاہےبچہ آجانا"۔۔۔۔

"جی انکل میں بھی بہت تنگ آگیا ہوں اکیلا رہ رہ کر اب تو"۔۔۔۔
"شدت سے کسی کی ضرورت محسوس ہوتی ہے "۔۔۔

وہ معنی خیزی سے بولا۔۔۔۔۔۔
 اسراء مزید خود میں سمٹ سی گئی۔۔۔۔

" چلو بس پھر تم گھر پے آنا"۔ ۔۔

'بشر اور تمہاری سویٹ آنٹ بہت خوش ہوں گی"۔/۔۔

 وہ بشر کی ماما کو سویٹ آنٹ کہتا تھا شروع سے ۔۔۔۔۔۔
"جی انکل مگر کل آپ سب کو میرے گھر ڈینر پر آنا ہوگا اور بشر اور آنٹی کو یہ مت بتائے گا کہ میرے گھر آنا ہے"۔۔۔۔
" میں ان کو سرپرائز دینا چاہتا ہوں"۔۔۔۔

"اچھا چلو ٹھیک ہے بیٹا"۔۔۔۔
" اچھا بچہ کل ملتے ہیں"۔۔۔

 خالو نے گھڑی کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔۔

" ٹھیک ہے انکل کل تفصیلی ملاقات ہوگی "۔۔

اسراء کی ہتھیلیوں میں میں پسینہ پھوٹ پڑا۔۔۔۔۔۔۔

 وہ دونوں اپنا بل کلیئر کر کے کاؤنٹر سے سامان اٹھا کر اس کی نظروں سے اوجھل ہو چکے تھے۔ ۔۔

"اب تم دیکھو کیسے میں تمہیں تل تل تڑپ آوں گا"۔۔۔۔۔۔
" تم کو خود اپنےنکاح کا اعلان کرو گی"۔۔۔۔۔

" اور مجھ سے خود رخصتی کے لئے کہنے اوگی"۔۔۔۔۔۔۔
 وہ  جذبات کے بجائے دماغ سے کام لے رہا تھا ۔۔۔۔۔

'بابا آپ میرانکاح نامہ کسی کے ہاتھ فوراؑ کراچی  بھجوائیں "۔۔۔۔۔۔
اس نے جیب سے فون نکال کر بابا کو کال ملائی۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔ 

💕💕💕💕💕💕💕

"دروازہ کھولو اریج نہیں تو میں توڑ دوں گا"۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 دروازے کے باہر سے ڈیڈی کی چنگھاڑتی ہوئی آواز آئی۔۔۔۔۔۔۔
 آریج کانپ  کر رہ گئی ۔۔۔۔۔

تو گویا امتحان کا وقت آن کھڑا ہوا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ کہ کانپتی ٹانگوں سے اٹھی اور دروازہ کھول کر سائٹ پر کھڑی ہو گئی ۔۔۔۔۔۔۔

"تیری ہمت کیسے ہوئی اتنے' شریف انسان' کو زخمی کرنے کی "۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈیڈی نے جھٹ اس کے بال اپنی مٹھی میں جکڑ کر دو تھپڑ رسید کیے ۔۔۔۔۔۔۔

بھائ صاحب میں تو بس اس سے یہی کہہ رہا تھا کہ اس طرح میرا تمہارے کمرے میں آنا مناسب نہیں ہے۔۔۔۔ ۔  
آریج نے  لال دانت پان اور پیک سے بھرے منہ والے  ٹکلے  زوار کوحیرت سے دیکھا۔۔۔

"نہ۔ ۔نن۔ ۔۔نہیں ڈیڈی یہ جھوٹ بول رہا ہے"۔۔۔۔۔۔

"حسن تو پہلے اس  سے سن لیں   سچ کیا ہے "۔۔۔

دلآویز  چہرے پہ اریج کیلئے فکر مندی طاری کر کے بولی۔ ۔۔۔

دلآویز بیگم نے ایک ادا سے حسن صاحب کے شانے پہ ہاتھ رکھ کر کہا ۔۔۔۔

"سچ کی بچی "۔۔۔۔۔۔
"  میں بتاؤں تجھے سچ کیا ہے "۔۔۔۔۔۔۔

حسن صاحب نے بے دردی سے اس کی تھوڑی کو دبوچا ۔۔۔۔۔۔
"جب میں نے اس کو منع کیا تو یہ میرے قریب آکر" ۔۔۔
اف مجھ سے تو بیان بھی نہیں ہو رہا ہے۔ ۔۔۔۔

زوار نے ہاتھ کی پشت سے منہ سے باہر نکلی لال پیک صاف کرتے ہوئے کہا۔ ۔۔۔

 میں نے اپنی عزت کے خیال سے اس کو دور کرا تو ۔۔۔۔۔
" تو۔۔۔۔۔ اس نیں نشے میں میرے سر پر لیمپ دے مارا"۔۔۔۔۔۔
وہ خباثت سے بولا ۔۔۔۔۔

"بس اریج اب ایک بات غور سے سن لو زوار تمہارا ہونے والا شوہر ہے اور بہت جلد میں تمھاری شادی کرنے والا ہو اس سے "۔۔۔۔۔۔

وہ اس کو روتا بلکتا چھوڑ کر چلے گئے تینوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔
ان کے جانے کے آدھے گھنٹے بعد اس کا موبائل بجا وہ گرتی پڑتی تکلیف سے اٹھی اور زمین سے موبائل اٹھا کر  دیکھا ۔۔۔۔۔۔

سبحان کا فون تھا ۔۔۔۔۔
وہ وقت اپنے ماں جائے کا نمبر دیکھ کر مزید بکھر گئی۔ ۔ 
" ہیلو بھائی آپ پلیز مجھے اپنے پاس بلالیں یا خود آجائے ڈیڈی مجھے بہت مارتے ہیں "۔۔۔۔
۔ 
وہ فون اٹھاتے اس کو خود پہ ہونے والے ظلم کی بابت رورو کر بتا گئ۔ ۔۔۔

"شٹ آب بند کرو اپنی یہ دو کوڑی کی بکواس" ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

" تم جیسی بےشرم بدکردار بہن ہونے سے تو بہتر تھا کہ میں اکیلا ہی ہوتا "۔۔۔۔۔۔۔۔
"میں آکر یہاں"۔۔۔
"یا پھر  تمہیں یہاں بلا کر اپنا منہ کالا نہیں کرسکتا"۔۔۔۔۔۔
 اریج ساکت سی اس کی باتیں سن رہی تھی وہ تو سمجھ رہی تھی کہ وہ اس کے ساتھ اس کے غم میں شریک ہوگا ۔۔۔۔۔
اس کو دلاسہ دے گا مگر۔۔۔۔۔۔

 یہ کیا بھائی نے بھی آنکھیں پھیر لیں بدگمانی کی سیاہ چادر اوڑھلی ۔۔۔۔۔۔

"ڈیڈی نے مجھے سب بتا دیا ہے اور میری ایک بات کان کھول کر سن لو زوار اچھا لڑکا ہے اور تم بھی اس کو پسند کرتی ہو"۔۔۔۔۔۔

"صبر سے رہو اور یہ بے غیرتو والی حرکتیں مت کرو" ۔۔۔۔۔

"اور تم کیا چاہتی ہو ڈیڈی  سے"؟؟؟؟؟

" جس کو تم پسند کرتی ہوں اسی سے تو تمہاری شادی کی جا رہی ہے"۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟

وہ اپنے بھائی کے منہ سے خود کو دی جانے والی گالی پہ پتھرا سی گئی تھی۔۔۔۔۔

" جی بھائی میں یہ ہی چاہتی تھی"۔۔۔

 میں نے  یہ سب زوار سے شادی کرنے کے لئے ہی تو کیا تھا"۔۔۔۔
 میں تیار ہوں شادی کے لئے"۔۔۔
" بہت خوش ہوں"۔۔۔۔۔

 یہ کہہ کر اس نے کھڑاک سے فون بند کر دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

💕💕💕💕💕💕

رات بشر کمرے میں کھانے سے فارغ ہو کے جلدی آ کر لیٹ گیا تھا ۔۔۔۔

لائٹ سی سینڈوشرٹ اور لونگ شارٹ پہنے وہ لیٹ کر ٹی وی پرچینل سر چنگ میں مصروف تھا ۔۔۔۔

جب" ایچ۔۔ بی ۔۔او" سے آتی "ففٹی شیڈز آف گرے" پہ آکر اس نے ٹی وی کا والیوم بڑھا کر لائٹ آف کر دی ۔۔

اس کو ایکشن، مرڈر، رومینس، سسپنس والی  موویز بہت پسند تھیں  ۔۔

حجاب ابھی تک باہر ہی تھی آج وہ کچھ زیادہ ہی ماما کے ساتھ کام کروانے کی ناکام کوشش کر رہی تھی۔۔۔۔۔۔
 آسرا کو اس نے کام کو ہاتھ بھی نہ لگانے دیا بشر کو اس کی یہ تبدیلی بہت اچھی لگ رہی تھی۔۔۔۔۔

 حجاب کمرے میں جیسے ہی آئی سامنے
ٹی وی پہ چلتے انتہائی بولڈ سین کو دیکھ کر گھبرا گئ ۔۔۔۔۔

اور جلدی سے واش روم کی طرف بڑھ گئی ۔۔۔۔۔
بشر اسکی بوکھلاہٹ دیکھ چکا تھا جان کر والیم مزید بڑھا دی۔ ۔۔۔

وہ کافی دیر کے بعد واش روم سے باہر نکلیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مووی میں ابھی انتہائ رومانٹک  بولڈ سین جاری تھا۔۔۔۔۔
ا وہ جلد سے جلد باہر نکل نے لگیں کمرے سے ۔۔۔۔۔

"بے ہودا انسان "۔۔/۔۔

ماما تو کبھی مجھے موویز تو کیا ٹی وی بھی بہت کم دیکھنے دیتی تھی اور اس کو دیکھو ذرا عمران ہاشمی کا بڑا بھائی نہ ہو تو "۔۔۔۔۔۔۔

وہ بڑبڑا کر باہر نکلنے لگی جب بشر کی آواز نے اس کو پاوُں  جکڑلیے ۔۔۔۔

"سنو ذرا پانی دینا ""۔۔۔۔۔

وہ مرتے کیا نہ کرتے کے مزداق اس کی سائیڈ ٹیبل کی طرف جگ سے نکالنے کے لئے بڑھی"۔۔۔۔۔۔۔۔
💕💕💕💕💕💕

جاری ہے۔ ۔۔

0 comments:

Post a Comment