Monday, December 10, 2018

tu kitni masoom hai episode 15 by aymen nauman

tu kitni masoom hai episode 15 by aymen nauman


حجاب مرتے کیا نہ کرتے کے مصداق مڑتی ہے اور جگ کو اٹھانے کے لئے جیسی ھی جھکتی  ھے۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔  

بشر ایک بھی لمحہ ضائع کیے بغیر حجاب کاہاتھ  کھینچ کر خودپہ گرا لیتا ہے ۔۔۔

حجاب نے آؤ دیکھا نہ تاؤ بوکھلاہٹ میں پانی کا بھرا ہوا جگ بشر کے اوپر انڈیل دیا ۔۔۔

بشر اتنی ٹھنڈ میں اپنے اوپر پڑنے والی اتنی تھنڈی افتاد پہ بوکھلا گیا ۔۔۔

"یہ کیا کیا تم نے جنگلی بلی "۔۔۔۔

"سارے رومینس پہ ٹریکٹر چلادیا"۔ ۔۔

"ہاں توں آپ بھی تو پتہ نہیں کیا کیا" ۔۔۔۔۔
"کر کر کے مجھے ڈراتے رہتے ہیں "۔۔۔

بشر کو ایسا لگا جیسے یہ پانی حجاب نے اس کے اوپر  نہیں۔۔۔۔۔
 بلکہ اس کے دہکتے ہوئے جذبات پہ پوری بالٹی پانی و برف کی بھر کر انڈیل دیا ہو۔
۔۔

"ہاں تو پھر تمہارے ساتھ اس قسم کی حرکتیں نہیں کروں گا "۔۔۔۔"
"تو کیا پھر اس کے لئے بھی کوئ گرل فرینڈ دھونڈنی  ہوگی "۔۔۔۔
 "اوراس سے کہونگا میری بیوی کو اس طرح کی حرکتوں سے الرجی ہوجاتی یے مجھ سے۔ ۔۔

حجاب منہ کھولے اسکی بات سن رہی تھی۔۔۔
'مم۔ ۔۔مم میراہی مطلب نہیں تھا"۔ ۔
وہ من منائی۔۔۔
بشر تو گویا سن ہی نہیں رہا تھا کچھ۔ ۔۔۔
وہ مزید بولا۔ ۔۔

"اس لئے آپ میرے ساتھ چلیں اور پھر میں اپنی بیوی کے سامنے جو کے مجھے اپنا بڑا بھائ سمجھ بیٹھی ہے"۔ ۔۔

" آپ کےساتھ اس قسم کی حرکتیں کروں تو شاید ان محترمہ کا بھی دماغ کچھ ٹھکانے پہ آجائے "۔۔۔۔۔

بشرصحیح معنوں میں تب چکا تھا ۔۔۔

شروع شروع میں تو وہ پھر بھی اگنور کر دیتا تھا۔۔
 مگر اب جبکہ وہ حجاب کے اندر آنے والی تبدیلیوں کو دیکھ رہا تھا اس کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ

حجاب اس کے اور اپنے درمیان خوبصورت رشتے کے تقاضوں کو کیوں نہیں سمجھ پا رہی تھی ۔۔۔۔
؟؟؟؟؟

ایسا ہرگز نہیں تھا کہ وہ مرا جا رھا تھا اس کی قربت کے لئے ۔۔
 وہ اس کی بیوی تھی۔۔۔
حجاب پر اس کا جائز حق تھا وہ کبھی بھی کسی طرح کے افیئر اور اس طرح کی دوسری دلچسپیوں میں نہیں پڑھا مگر حجاب جب پہلی دفعہ اس کی دلہن بن کر اس کمرے میں آئی ۔۔۔

بشر نے اسے دن اپنے پاکیزہ اور کھرے جذبات دل وجان سے حجاب کے نام کر دیے تھے ۔۔۔۔

وہ اس کو دونوں بازو سے پکڑ کر اپنے سامنے بیڈ پر بیٹھا تا ہے ۔۔
"ایک بات میری حجاب کان کھول کر سن لو"۔۔۔۔۔۔۔

" جس دن میرا دماغ گھوم گیا "۔۔۔

" اس دن میں تمہاری ایک بھی نہیں چلنے دوں گا ۔۔"

'اور جس چیز سے تم بھاگ رہی ہو یا نظریں چرا رہی ہوں "۔۔۔

'زیادہ دن تم اپنی من مانی نہیں کر سکوں گی "۔۔۔

اور یہ کہہ کر وہ وہاں وار ڈراپ سے شرٹ نکال کر چینج کر کے ڈیرس میں چلا گیا ۔۔

💕💕💕💕

وہ ایسی ہی تھی معصوم اس کی کچھ فرینڈ ایک دفعہ گھر آئی۔۔
 جب کسی دوست نیں کوئی مووی کا بیہودہ
سین سنا تے واقت عمران ہاشمی کا ذکر کیا۔۔۔
 حجاب اس وقت بڑی دلچسبی سے ان کی باتیں سن رہی تھی ۔۔۔

سامنے سے ماما آگئی اور انہوں نے تمام باتیں سننے کے بعد اسکی دوستوں کو چلتا کیا اور خوب اس کی بھی چھترول کی ۔۔

اس دن کے بعد سے پہلے جو وہ تھوڑا بہت موویز یا سونگ سن لیا کرتی تھی وہ بھی ماما نے بند کردیئے اور ٹی وی بھی اپنے سامنے دیکھآتیں۔ ۔۔

یہی نہیں اس کی تمام دوستوں کے گھر فون کر کے ان کی اماں ابا سے بھی خوب کٹ لگوئی تھی سب لڑکیوں کی ۔۔

ان کو یہ بات بالکل بھی پسند نہیں تھیں کہ لڑکیاں اپنی عمر سے پہلے وہ سب باتیں جان جائیں جو ان کی معصومیت کو تباہ کرنے کے لئے کافی ہوں ۔۔۔
یہی وجہ تھی اس کے چہرے کی معصومیت اور نور ابھی تک برقرار تھا ۔۔۔

💕💕💕💕

گھر آکر اسرا پورا ٹائم پریشان اور خوفزدہ رہی۔۔۔۔

چڑیا جیسا دل تھا اس کا ۔
حمدان کی سرخی مائل گہری آنکھیں اس کو بہت کچھ باور کرا چکی تھیں۔۔

 وہ جو سوچ رہی تھی خلاع کے لئے ۔۔۔
اب اس کو خالویہ خانہ سے اس سلسلے میں بات کرنا مناسب نہیں لگ رہا تھا ۔۔۔

"اب کیا ہوگا اللہ میرا"۔۔۔

" حمدان تو کسی بھی صورت مجھے نہیں چھوڑے گا"۔۔۔۔
 وہ تکیے پر سر رکھے  بے آواز رو رہی تھی۔۔۔

 اور اب اس گھر کے علاوہ میرے پاس کوئی جگہ بھی نہیں ۔۔۔

تنہا اسلام آباد والے گھر میں رہنے کا مجھ میں حوصلہ  نہیں ہے "۔۔۔

"اور ۔۔۔۔۔۔اور اگر وہ مجھے دعوت میں سے یہاں واپس ہی نہیں آنے دے تو پھر کیا ہوگا ؟؟؟؟"۔۔۔

اس خوفناک خیال کے آتے ہی وہ
لیٹےسے اٹھ بیٹھی ۔۔۔۔

اتنی سردی میں بھی اس کے چہرے سے پسینہ پھوٹ پڑا ۔۔۔۔۔
 یہ خوفناک سوچ اس کے پورے جسم ک
سے کسی چوڑیل کی طرح چمٹ گئی تھی ۔۔۔

💕💕💕💕💕
"السلام علیکم بابا "

"وعلیکم اسلام بیٹا "۔۔
خیر خیریت پوچھنے کے بعد وہ بولے۔ ۔

"اسراء ٹھیک ہے بیٹے؟؟؟"۔۔

"جی  ٹھیک ہے بشر کے گھر پہ ہے"۔۔۔

" بشر اس کا خالہ زاد ہے "۔۔۔

"وہ بیٹا ایک بات میری سنو "۔۔۔۔

بابا نے تمہید باندھی۔۔

"جی بابا کئہے؟؟؟؟
 اس کو بابا کچھ پریشان لگے ۔۔۔

"بیٹا تمہارا نکاح نامہ میں نے تمہاری دادی سے مانگا تھا "۔۔۔
"جی بابا آپ نے بھیجا نہیں وہ" ۔۔

"بیٹا ان کا کہنا ہے کہ  نکاح نامہ وہ بہت پہلے ہی غصے میں پھا ڑ چکی ہیں" ۔۔۔
 بشر نے حیرانی سے بابا کی بات سنی جیسے یقین نہ آ رہا ہو ۔۔۔۔
 کہ آخربابا نے کیا کہا ہے؟؟؟؟

" بابا یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ"۔۔

 اس کے بغیر میں کیسے اس کو گھر لے کر آؤں گا؟؟!؟!؟

بابا کی طرف گہری خاموشی تھی۔۔۔

" باقی  دو اور کاپی بھی تو ہیں "۔۔۔۔

"بیٹا ایک ک پی ا سرا کے پاس ہوگی کیونکہ وہ بھرجائی کو میں نے دی تھینکاح کے بعد" ۔۔۔

"ہوں۔۔۔۔۔ اور تیسری کاپی "۔۔۔

اس کو ابھی بھی ایک موہوم سی امید باقی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔
"
 بیٹا تیسرے کاپی نکاح خواں رجسٹرار کے پاس ہوتی ہے ان کو بھی میں ڈھونڈ رہا ہوں مگر ابھی تک ان کا کچھ اتا پتا نہیں مل رہا۔۔۔"

 بابا بھوجل لہجے میں بولے۔ ۔
"
 ٹھیک ہے آپ پرپیشان نہ ہوں میں دیکھ لوں گا "۔۔

اس نے باپ کی طبیعت کے خیال سے ان کو تسلی دے کر فون بند کردیا ۔۔۔
پریشانی حمدان  کے چہرے پہ حویدہ تھی ۔۔۔

💕💕💕💕💕💕

دوسرے دن اس کی آنکھ پہلے کھلی ۔۔
 بشرابھی سو رہا تھا ۔۔۔
۔
بشرکاسر حجاب  کے بازو پہ تھا اور ایک ہاتھ سینے سے تھوڑا نیچے  حجاب کے۔ ۔۔

وہ اس کی نیند کے خیال سے اٹھنے لگی جب بشر نے مزید اسکو کو  جکڑ لیا ۔۔۔

"ہٹلر نے مجھے اپنا گاؤں تکیہ ہی سمجھ لیا ہے کیا ۔۔۔۔؟؟؟؟"

"اپنا یہ دو سو کیلو کا وجود لے کر چڑھ گئے ہیں "۔۔۔۔۔۔
وہ بڑبڑائی۔۔۔

"چڑھا ہوا نہیں ہوں جملہ درست کرو" ۔۔۔۔

بشر اس کے بالوں میں گھسا کر بڑ بڑایا ۔۔۔

"تو گویا آپ اٹھے ہوئے ہیں "۔۔۔

'تمہارے قریب کوئی پاگل ہی ہو گا جو سو سکتا ہے"۔۔۔۔۔

وہ خمار آلود لہجے میں بولا۔۔
 اسکا رات  کا غصہ ٹھنڈا ہو چکا تھا ۔۔۔۔
وہ اسی کی تھی یہ سوچ کر وہ پرسکون ہوگیا تھا۔ 

"بات سنیں زرا میری"۔

حجاب نے خود کو چھڑانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا ۔۔۔۔
"بس تم سنوتی رہو میں سنتا رہونگا" ۔۔

بشیر نے اس کے کان پر ہلکا سا کاٹا ۔۔۔۔
حجاب تو اس کی اس حرکت سے بلبلا اٹھے
آپ پہلے برش کرلیں منہ سے سمیل آ رہی ہے
بشر نے ایک جھٹکے سے ایجاد کچھ چھوڑا
نیند کا خمار بھک سے اڑ گیا
وہ آنکھیں پھاڑے
حجاب کو تھوڑا ترچھا اٹھ کے دیکھ رہا تھا
حجاب موقع کا فائدہ اٹھا کر وہ شروع جاچکی تھی
صوفیہ لڑکی سارے رومینس پہ زور زور سے ہتھوڑے برسا دیتی ہے
اللہ ابھی 16 کی ‏t20 تک کی ہونے تک مجھے شادی شدہ ہو کے بھی
ایشوز کی طرح ہی رہنا پڑے گا کیا
سمیر کے بچے تو نے میرا اتنا بڑا بھلا کیا ہے گی تو سوچ بھی نہیں سکتا ۔۔
💕💕💕💕

رات میں سب حمد ان کے ہاں جانے کے لئے تیار تھے جب ما ما نیں آسرا کو آواز دی ۔۔

"جی خالہ"۔۔۔
" بیٹا آپ ابھی تک تیار نہیں ہوئی؟؟؟؟؟"

خالہ میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے سر میں درد ہے "۔۔۔
"ارے بچہ خیر تو میں رک جا تا ہوں"۔ ۔

"نہیں خالوآپ پریشان نہ ہو"۔۔

"آپ لوگ جائیں "۔۔

"میری فکر نہ کریں میں ابھی ٹیبلٹ کھا کے سو جاؤں گی "
"ارے سر میں درد ہے ۔۔۔
تو مجھے بولا ہو تا میڈیسن  ہی دے دیتا "۔۔۔
بشڑنے پریشانی سے کہا ۔۔۔

سیڑھیوں سے آتی حجاب نے بشر کا جملہ سن لیا ،۔ ۔

"ہٹلر آپ کے منہ میں ہی نہ ثھونس دوں کافور کی گولیاں"۔۔۔۔

حجاب نے جل کر سوچ اور جلدی سے ان کے قریب جا کر بولی ۔۔۔

"آرے اسراء تو پھر تم آرام کرو "۔۔

"ہاں حجاب ٹھیک کہہ رہی ہے تم ریسٹ کرو بیٹا
اور گھبرانا نہیں گھر میں بوا ہے"۔۔

"میں اس کو کہہ دونگی تمہارا خیال رکھنے کا "

" خالہ آپ لوگ جائیں پریشان نہ ہوں"۔۔۔

 یہ کہہ کر اسراء واپس اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی

💕💕💕💕💕💕💕

جاری ہے۔ ۔۔

0 comments:

Post a Comment